Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 8)

Hala By Umme Hania

اسلام علیکم نانا کیسے ہیں آپ ۔۔۔ دروازہ کھٹکنے کی آواز پر صحن میں بیٹھے نانا دروازہ کھولنے کے لئے اٹھے تھے۔۔۔ پاس ہی تخت پر بیٹھی آئتل سبزی کاٹ رہی تھی ساتھ ساتھ ممانی سے باتیں بھی جاری تھیں۔۔۔ آج ممانی کی کچھ طبیعت ٹھیک تھی اس لئے وہ بھی خوشگوار موڈ میں انکے ساتھ بیٹھی تھیں۔۔۔دروازہ کھٹکنے کی آواز پر وہ دونوں بھی اپنی سرگرمیاں روکے دروازے کی جانب متوجہ ہوئیں تھیں۔۔۔دروازہ کھلنے پر سامنے ہاتھ میں سفری بیگ تھامے کھڑی زوئی پرجوش انداز میں بیگ نیچے پھینکتے دونوں بازو پھلاتے نانا سے ملی تھی۔۔۔۔

واعلیکم اسلام میرا بچہ۔۔۔ کیسی ہو۔۔۔ سفر کیسا گزرا۔۔۔۔ نانا بھی خوشدلی سے اس سے ملتے مخاطب ہوئے۔۔۔ ایے ون نانا۔۔۔۔ پاپا تو مجھے ڈرائیور کیساتھ گاڑی میں بھیجنا چاہتے تھے مگر میں نے ضد کر کے ٹرین کا سفر کیا۔۔۔ نانااااا۔۔ کیا بتاوں آپکو کتنا مزہ آیا مجھے۔۔۔ اپنا بیگ اٹھاتی نانا کے ساتھ ہی اندر آتی وہ بچوں سے اشتیاق سمیت نانا کو بتا رہی تھی۔۔۔

ممانی ی ی ۔۔۔۔ کیسی ہیں آپ۔۔۔ زوئی کی آواز سنتے ممانی اور آئتل بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئیں تھیں۔۔۔ ممانی پر نظر پڑتے ہی وہ بیگ وہیں پھینکتی بھاگ کر انکی جانب لپکتی ان سے جا گلے ملی۔۔۔۔

گرین سرخ کھلے ٹراوزر پر سرخ ایمبرائڈری گھٹنوں تک آتی شرٹ پہنے بالوں کو ٹیل پونی میں مقید کئے گلے میں سکارف ڈالے ہلکا سا میک آپ کئے چلبلی سی زوئی ممانی سے ملنے کے بعد اب آئتل سے مل رہی تھی۔۔۔

آئتل فوراً سے چیزیں سمیٹتی اس کے لئے شربت کا انتظام کرنے کچن کی جانب بڑھی تو زوئی وہیں ممانی کے پاس تخت پر بیٹھ گئ۔۔۔

کچن کے کھلے دروازے سے شربت بناتی آئتل غیر ارادی طور پر اپنا اور زوئی کا موازنہ کر رہی تھی۔۔۔ وہ سادگی کا پیکر ایک نوخیز کلی تھی جس نے پوری زندگی ممانی کے سائے تلے یوسف کے سنگ گزاری تھی ۔ سکول و کالج میں دوستیں بھی اسی کی طرح کی چند ایک تھیں۔۔۔ جو ممانی نے لا کر دیا پہن لیا۔۔۔ کچھ حالات اجازت نا دیتے تھے اور کچھ وہ بہت حساس تھی اس لئے اپنے حالات کو مد نظر رکھتے وہ بے جد خواہشات نہیں کرتی تھی مگر آج اپنے سے ہٹ کر بنی سنوری لڑکی کو دیکھ کر نجانے وہ کیسے احساسات کا شکار ہو رہی تھی کہ خود ہی اپنے احساسات سمجھنے سے قاصر تھی۔۔۔

رات کو یوسف واپس گھر آیا تو محفل الگ رعفران کا رنگ پیش کر رہی تھی۔۔۔ یوسف کو دو ماہ کے کانٹریکٹ پر نوکری ملی تھی جس سے آج کل اسکا موڈ بھی خاصا خوشگوار تھا۔۔۔

*****

ٹھیک پندرہ دن بعد کی زرش کی شادی کی تاریخ

فکس ہوئی تھی۔۔۔۔ گھر بھر میں شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔۔۔۔ صبح و شام بازار کے چکر لگ رہے تھے۔۔۔۔ ارے دریاب بیٹا کہاں جا رہے ہو زرا ادھر تو آو۔۔۔۔ دریاب نک سک سے تیار باعجلت سیڑھیاں اترتا باہر نکل رہا تھا جب زہرا بیگم کی آواز پر یکدم اسکے قدموں کو بریک لگی اور وہ انکی جانب پلٹا ۔۔۔جو لاوئنح میں موجود صوفے پر بیٹھیں ایک نفیس سا سیٹ زرش کے گلے میں پہنا کر دیکھ رہی تھیں۔۔۔ جبکہ سامنے میز پر جابجا شفون اور سلک کے کپڑے اور چند ایک جیولری باکس پڑے تھے۔۔۔

دریاب ایک سرسری نگاہ ان تمام چیزوں پر ڈالتا ماں سے مخاطب ہوا۔۔۔

جی امی۔۔۔ بیٹا اگر فارغ ہو تو ہمیں ایک بازار کا چکر لگوا لاو زہرہ بیگم نے وہ سیٹ واپس باکس میں رکھتے اسے بند کیا۔۔۔ امی میں حدید سے ملنے جا رہا تھا وہ میرا انتظار کر رہا ہے اگر آپ مجھے کچھ دیر پہلے اپنے پروگرام سے آگاہ کر دیتی تو میں حدید کو ہاں نا کہتا۔۔۔ میں آپکو شام میں لیجاوں گا بازار ورنہ اگر جانا ضروری ہے تو آپ ڈرائیور کیساتھ چلی جائیں۔۔۔ شش وپنج میں مبتلا ہوتے اسنے ماں کے سامنے حل پیش کیا۔

اچھا چلو دیکھ لیتے ہیں حدید کو بھی گھر بلا لینا کافی عرصہ ہو گیا اس سے بھی ملے ہوئے اور ہاں یاد سے اسے زرش کی شادی کا کارڈ بھی دے دینا۔۔۔ زہرا بیگم بھی بیٹے کی بات سمجھتی لمحوں میں رضا مند ہوئی تھیں۔۔۔ ملازمہ کو آواز دیتیں اب وہ اس سے سامان اکھٹا کروا رہی تھیں۔۔

جی ٹھیک امی۔۔۔

*****

کیسا رہا تمہارا ٹور۔۔۔ دریاب ویٹر کو آرڈر لکھوانے کے بعد اپنے سامنے براجمان حدید سے گویا ہوا تھا۔۔ ۔ اچھا رہا۔۔۔ کلائنٹ مطمئن ہوگئے۔۔۔ اب تم بتاو ایسی کیا بات ہے جس نے تمہیں پچھلے کئ دنوں سے ڈسٹرب کر رکھا ہے۔۔۔ حدید نے اسے نگاہوں کے حصار میں رکھتے استفسار کیا گویا وہ اسکے چہرے کے تاثرات سے بات کی جڑ تک پہنچ جانا چاہتا ہو۔۔۔

دونوں بچپن کے دوست تھے ایک دوسرے کی آواز سے اندر کا حال جان لیتے تھے۔۔۔۔ امی تمہیں یاد کر رہی تھیں۔۔۔۔ ویٹر کھانا سرو کر کے گیا تو دریاب بنا اسکی جانب دیکھے کھانا پلیٹ میں نکالنے لگا۔۔۔۔

میں ان سے بھی مل لوں گا لیکن فلحال تم بات بدل رہے ہو اور یہ تمہاری بھول ہے کہ میں تم سے بات جانے بنا تمہاری جان چھوڑ دوں گا۔۔۔ حدید کے بات کاٹ کر تیزی سے گویا ہونے پر دریاب گہرا سانس خارج کرتا سر سیٹ کی پشت سے ٹکا گیا۔۔۔ شاید اسے بھی ایک جذباتی سہارے کی ضرورت تھی اسی لئے ماں کی خواہش سے لے کر نور سے نکاح اور کمال صاحب کے رخصتی پر زور دینے تک وہ اسے سب بتاتا چلا گیا۔۔۔ البتہ ہالہ کے بارے میں اپنے جذبات تک وہ حذف کر گیا تھا۔۔۔ ہالہ اسکے لئے بہت قابل احترام تھی ایک ایسی لڑکی جسکی عزت کرنے کو خودبخود دل چاہتا تھا جسکے بارے میں وہ خود سے بھی اظہار محبت کرنے سے ڈرتا تھا۔۔۔ واحد چیز جو آج تک اسنے اپنے جگری دوست سے بھی چھپائی تھی کیونکہ اس سے کسی دوسرے کی عزت مشروط تھی اور اسے وہ ہستی بہت پیاری تھی۔۔۔

تم فکر مت کرو دریاب اللہ کوئی نا کوئی سبب بنا ہی دے گا بس تمہیں ماں اور بیوی کے رشتے میں توازن قائم رکھنا ہے بس اتنی سی کوشیش کرنی ہے کہ کسی ایک کی وجہ سے دوسرے کی حق تلفی نا ہو۔۔۔ دریاب خاموشی سے اسے سن رہا تھا کیونکہ اسے یہ ہی کام دنیا کا مشکل ترین کام لگ رہا تھا۔۔۔

کھانا کھانے کے بعد وہ وہاں سے سیدھا اپنے فلیٹ میں گیا تھا ارادہ وہاں ہر چیز سے بے نیاز ہو کر کچھ دیر آرام کرنے کا تھا ۔۔۔ موبائل بپ پر وہ اسکی جانب متوجہ ہوا جہاں ہالہ کے واٹس ایپ میسجیز آ رہے تھے وہ اسے نئے پراجیکٹ کے حوالے سے نئے ڈیزائن بھیج رہی تھی۔۔۔ دریاب ایک دفعہ پھر سے اسکی ذہانت اور اسکے کام کا قائل ہو اٹھا تھا۔۔ وہ اسکی سوچ جو ہوبہو کاغذ پر اتار دیتی تھی۔۔۔ تم ہر بار مجھے متاثر کر چھوڑتی ہو ہالہ۔۔۔ اور یہ صرف تم ہی کر سکتی یو۔۔۔ میسج ٹائپ کر کے ہالہ کو سینڈ کیا ۔۔۔

نظر کا کمال ہے ورنہ ہم میں کیا خاص ہے۔۔۔ برجستہ جواب پر وہ مسکرائے بنا نہ رہ سکا تھا مجال تھی جو وہ کبھی سیدھے طریقے سے ہاتھ آ جاتی۔

******

نور ابھی ابھی شاور لے کر نکلی تھی۔۔۔ لیپ ٹاپ پر کام کرتے چائے کی طلب ہونے پر وہ اٹھ کر کچن میں چائے بنانے گی کیونکہ شبو گروسری کرنے مارکیٹ تک گئ تھی ورنہ بصورت دیگر یہ سب کام شبو باخوشی سرانجام دیتی تھی جب تک نور اپنی پڑھائی میں مصروف ہوتی وہ اسے وقتاً فوقتاً کچھ نا کچھ بنا کر دیتی رہتی تھی۔۔۔

اب بھی وہ بضد تھی نور کو ساتھ ہی لیجانے پر مگر نور اسائمنٹس بنانے کیخاطر اسکے ساتھ جانے سے انکار کر گئ تھی۔۔۔ اب بھی وہ کچن میں چولہے پر چائے بننی رکھ کر باہر لاوئنج میں بکھری اپنی کتابوں کے پاس آئی۔۔۔ کمال انکل کی باتوں کا اسنے کافی اثر لیا تھا۔۔۔ اب وہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اپنی پڑھائی کرنے میں گزارتی تھی۔۔۔ کمال انکل ہی کی بدولت اسکی مائیگریشن یہاں ہو گئ تھی۔۔۔ اسے اس فیز سے نکالنے میں کمال انکل کا گہرا تعلق تھا جو صبح شام اس سے ٹیلیفونک رابطہ رکھے ہوئے تھے اور جیسے ہی انہیں وقت ملتا وہ اس کے پاس بھی چکر لگاتے رہتے تھے۔۔۔

دروازہ کھلنے کی آواز پر بھی وہ بنا پلٹے لیپ ٹاپ پر اپنی اسائمنٹ مکمل کر کے جرنل پر پوائنٹ نوٹ کرنے لگی تھی کیونکہ وہ اچھے سے جانتی تغی کہ باہر شبو ہی ہو گئ۔۔۔

ہالہ سے بات کر کے دریاب کا موڈ کافی حد تک خوشگوار ہو گیا تھا ۔۔۔ اپنی ہی دھن میں وہ فلیٹ کا دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا لیکن اندر داخل ہوتے ہی اسے ٹھٹھک کر رکنا پڑا سامنے ہی ایک دوشیزہ ہر چیز سے بے نیاز ہاتھ میں کچھ تھامے کچھ کر رہی تھی۔۔۔ اسکی پشت دریاب کی جانب تھی جس پر کمر سے نیچے تک جاتے سنہری گھنے بال پھیلے ہوئے تھے جن سے ٹپکتا پانی اس بات کی نشاندہی کر رہ تھا جیسے وہ ابھی ابھی نہا کے نکلی ہو۔۔۔ دریاب کے ماتھے پر جابجا شکنوں کا جال بچھا۔۔۔

ایکسکیوز می۔۔۔۔ وہ الجھتا ہوا گویا ہوا۔۔۔ غیر متوقع مردانہ آواز پر یکدم نور کے ہاتھ میں تھاما جرنل نیچے گرا اور وہ جھٹکے سے پیچھے مڑی۔۔۔۔ جھٹکا لگنے سے اسکے کھلے پشت پر لہراتے بال جابجا آگے آئے تھے۔۔۔ گہری جھیل سی آنکھوں میں یکدم ہی ہراس ہلکورے لینے لگا تھا۔۔۔

جھیل سی گہری آنکھوں کے نیچے ستواں ناک باریک پنکھری سے لب ملائی سی رنگت میں پھولے گال اس پر اسکی معصومیت۔۔۔ کئ لمحوں تک اسے دیکھتا دریاب مسمرائز ہو گیا تھا ۔۔ آنچل سے بے نیاز اسکا سانچے میں ڈھلا سراپا اسے عجیب طرح کے احساسات سے دوچار کر گیا تھا۔۔۔ اتنا مکمل مشرقی حسن شاید دریاب نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا یا شاید یہ اسکی نظروں کا کمال تھا۔۔ دریاب کی نگاہیں خود پر ٹکی پا کر نور نے باعجلت اپنا آنچل تلاشنا چاہا جو اسکے لیپ ٹاپ کے پاس ہی صوفے پر پڑا تھا۔۔۔ اسنے لپک کر آنچل اٹھاتے خود پر اوڑھا۔۔

دریاب جیسے ٹرانس کی کیفیت سے باہر نکلا تھا۔۔۔ یہ محض وقتی کیفیت تھی جس سے وہ باہر نکل چکا تھا۔۔۔ یہ لڑکی یقیناً نور تھی کیونکہ کمال صاحب نے نور کی فلیٹ میں شفٹنگ کے بارے میں اسے بتایا تھا لیکن آج اسکے ذہن سے یہ بات مکمل طور پر نکل گئ تھی۔۔۔ سامنے کھڑی لڑکی ابھی تک اسے دیکھ کر شش و پنج میں مبتلا تھی جیسے اسکے لئے دریاب کی وہاں آمد غیر متوقع تھی۔

*****