Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 27)

Hala By Umme Hania

میں نور کو طلاق۔۔۔۔۔ طلاق نہیں دے سکتا امی۔۔۔ وہ ماں کے سامنے نظریں جھکائے بے بس سا گویا ہوا۔۔۔نور نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا دل کو کچھ ڈھارس ملی تھی۔۔۔ جبکہ زہرا بیگم کی نگاہوں میں بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔۔۔۔

تم اسے طلاق نہیں دو گئے۔۔ تم اسے اس گھر سے نہیں نکالو گئے۔۔۔ بے یقینی سے چھڑی پکڑے ہاتھ پر گرفت کمزور ہوئی تھی وہ تاسف زدہ نگاہوں سے اپنے فرمابردار بیٹے کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔

امی میں اسے گھر سے نہیں نکال سکتا کیوں بابا نے اس گھر کا ایک چوتھائی حصہ نور کے نام کروا دیا ہے قانونی طور پر اب یہ اس گھر کے ایک چوتھائی حصےکی مالکن ہے میں تو کیا اسے کوئی بھی اس گھر سے نہیں نکال سکتا۔۔۔ دریاب کے اس انکشاف پر جہاں نور پر حیرتوں کے پہاڑ گرے تھے وہیں حیرت کی زیادتی سے زہرا کے ہاتھ میں تھامی چھڑی اسکے ہاتھ سے پھسلتی نیچے جا گری تھی ۔۔۔۔

یہ ۔۔۔ یہ کیا کیا کمال نے۔۔۔ میرے بچوں کا حق اس لڑکی کے نام کر دیا وہ خود کلامی کے سے انداز میں گویا ہوئیں۔۔۔ سارا گھر نہیں صرف ایک چوتھائی حصہ امی دریاب ماں کی خود کلامی سن چکا تھا اسی لئے توصیح کرنے کو گویا ہوا۔۔۔۔

ٹھیک ہے اگر کمال ایسا چاہتے ہیں تو ایسا ہی صحیح۔۔۔ یہ لڑکی یہیں اسی گھر میں رہے مگر بنا کسی رشتے کے۔۔۔ میں اسے تمہاری بیوی کی حیثیت سے یہاں اس گھر میں قطعاً نہیں رہنے دوں گئ۔۔۔ تم فوراً طلاق دو اسے ۔۔۔ اور پھر یہ بے غیرت مان کی بے غیرت بیٹی رہے اس گھر میں بنا کسی رشتے کے۔۔۔۔ زہرا بیگم کے لہجے میں اتنی حقارت و تپش تھی کہ نور کو اپنا آپ جھلستا ہوا محسوس ہوا۔۔۔ پہلے سے ہی سوجی اور سرخ آنکھوں میں مزید سرخی کے ڈورے ابھر آئے تھے۔۔۔ سر یکدم ہی مزید بھاری ہونے لگا تھا۔۔۔

دو طلاق اسے۔۔۔ زہرا بیگم پھنکاری۔۔۔

امی میں اسے طلاق بھی نہیں دے سکتا کیونکہ۔۔۔۔ کیونکہ بابا کی وصیت کے مطابق اگر میں نور کو طلاق دیتا ہوں یا کسی بھی طرح ہماری علیحدگی کی کوئی صورت بنتی ہے تو بابا کی ساری جائیداد نور کے نام ہو جائے گئ اور ایسا محض ہماری علیحدگی کی صورت ہی ہوگا۔۔۔۔ دریاب نے لبوں پر زبان پھیرتے ماں پر نیا انکشاف کرتے گویا دھماکہ کیا تھا۔۔۔ زہرا بیگم کو اپنے ارد گرد دھماکے ہوتے محسوس ہوئے۔۔۔ مطلب کمال صاحب جاتے جاتے بھی نور کی اس گھر سے وابستگی کے سبھی انتظامات پکے کر کے گئے تھے۔۔۔ یکدم ہی انہیں اپنی نگاہوں کے سامنے زمین و آسمان گھومتے دیکھائی دیئے۔۔۔ اپنے چکراتے سر کو تھامتی زہرا وہیں ڈھیر ہو گئ تھی۔۔۔

امی ی ی ۔۔۔ زہرا کو نیچے گرتا دیکھ دریاب بھاگ کر انکی جانب لپکا۔۔۔

*****

آئتل کی پرسکون زندگی میں ہلچل تب مچی جب ایک روز گھر واپسی پر عمران کا بری طرح کار ایکسیڈینٹ ہوا۔۔۔ اکیلی آئتل دس سالہ نور کے ساتھ ان حالات میں بے طرح گھبرا گئ تھی۔۔۔ کیونکہ پچھلے دس سالوں میں عمران کی ماں کیساتھ ساتھ ممانی بھی اپنے خالق حقیقی سے جا ملی تھی۔۔۔ اس ایکسیڈنٹ میں عمران نے اپنی دونوں ٹانگیں کھو دیں تھیں۔۔ وقت اور حالات کی یہ گردش آئتل کے اعصاب بے طرح جھنجھوڑ گئ تھی۔۔۔ تب گاوں سے عمران کا بھائی امداد اپنی بیوی اور سترہ سالہ بیٹے فہد کے ہمراہ بھائی کی بیمار پرسی کو آیا اور پھر بھائی کی معذوری دیکھتے وہیں کا ہو کر رہ گیا۔۔۔ جلد ہی آئتل اور عمران کو یہ بات سمجھ میں آنے لگی کہ اسکے بھائی کو عمران سے کوئی ہمدردی نا تھی بلکہ وہ عمران کے قائم کئے بزنس پر اجارہ داری قائم کرنا چاہتا تھا۔۔۔اور عمران کی محتاجی کے باعث اب یہ اس کے لئے کچھ مشکل بھی نا تھا۔۔۔۔ عمران بے بسی سے سب ہاتھوں سے پھسلتا دیکھ رہا تھا مگر معذوری کے باعث کچھ کرنے سے قاصر تھا کیونکہ رفتہ رفتہ امداد اسکے سبھی مخلص اور پرانے ورکرز کو کام سے نکال کر انکی جگہ نئے ورکز کام پر لگا چکا تھا بڑی ہوشیاری سے وہ دن بہ دن عمران کے گرد گھیرا تنگ کر رہا تھا۔۔۔ دن بہ دن عمران کی طبیعت سمبھلنے کی بجائے مزید خراب ہوتی جا رہی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے امداد اور فہد اسکے پورے بزنس پر یوں قابض ہوئے تھے کہ اب آئتل کو گھر کے خرچ اور عمران کی دوائیوں کے خرچے کے لئے بھی انکے سامنے ہاتھ پھیلانے پڑتے تھے۔۔۔پورے گھر پر فرحین کی حکومت تھی۔۔ آئتل اور نور اپنے ہی گھر پر محکوموں سی زندگی بسر کرنے لگے تھے۔۔۔ آئتل تو وقت کے تقاضوں کو نبھاتی خاموشی اختیار کئے ہوئے تھی مگر نور نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہر مصلحت بالائے طاق رکھتی سارا حساب بے باک کر ڈالتی تھی۔۔ یہ ساری صورتحال دیکھ کر ایک دن عمران نے خاموشی سے یہ گھر اور اپنا سب کچھ وکیل کے مشورے سے نور کے نام کروا دیا اور آئتل کو سختی سے اسے صیغہ راز میں رکھنے کی تاکید کی۔۔۔۔

اب صورتحال یہ تھی کہ سب کچھ نور کے نام تھا مگر سارا حساب کتاب ان باپ بیٹے کے ہاتھ میں تھا۔۔۔ وہ جب تک چاہتے اس دولت سے مستفید تو ہو سکتے تھے مگر اس پڑاپڑتی کو آگے بیچ نہیں سکتے تھے۔۔۔ حالات مزید سے مزید خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے تھے جب ایک روز عمران خاموشی سے بیٹی کی ذمہ داری آئتل کے ناتواں کندھوں پر ڈالتا خود ہر بوجھ سے آزاد ہو کر اپنے دائمی سفر پر چل دیا۔۔۔

وہ دن آئتل کی زندگی کا سب سے بھیانک دن تھا جس کے بعد اس پر اور نور پر زندگی کے دروازے مزید تنگ ہوگئے۔۔۔

*****

نور اپنے بے جان ہوتے وجود کو گھسیٹتی کمرے میں آئی اور صوفے پر ڈھیر ہو گئ۔۔۔۔ گرم سیال مائع آنکھوں سے لگاتار بہہ رہا تھا۔۔۔

کیا تھے کمال انکل اسکے لئے کوئی محسن یا کوئی فرشتہ۔۔۔۔ کیا کوئی پرایا کسی کے لئے اتنا بھی کرتا ہے۔۔۔ مگر نہیں انہوں نے تو نور کو بیٹی کہا تھا وہ تو باپ کا کردار ادا کر گئے تھے۔۔۔اسکے پھوڑے کی مانند دکھتے دل سے آہیں نکل رہی تھی۔۔۔ وہ اس فرشتہ صفت انسان کو یاد کرتی مزید شدت سے رودی۔۔۔ انکل بہت جلدی چھوڑ گئے مجھے۔۔۔

نقاہت اور کمزوری سے اسکے چکر آ رہے تھے۔۔۔ رات سے اگلی شام ہونے کو تھی مگر اسنے کچھ کھانا تو دور ایک گھونٹ پانی تک نا پیا تھا مزید پے در پے صدمات نے ساری طاقت نچوڑ لی تھی۔۔۔ رات سے رو رو کر وہ ادھ موئی ہوئی پڑی تھی۔۔۔

چڑڑڑ کی آواز سے دروازہ کھلا اور پھر بند ہوا مگر وہ ٹس سے مس نا ہوئی ہمت ہی نا تھی کہ اٹھ کر دیکھتی ۔۔ وہ ہنوز گھٹری بنی اپنے کپکپاتے بدن کی لرزش پر قابو پانے کی کوشیش میں ہلکان ہو رہی تھی۔۔۔ آج تو اسے خود پر سختی اور بء حسی کے وہ خول چڑھانے کا بھی یاد نہیں رہا تھا جو وہ ہمہ وقت خود پر چڑھائے رکھتی تھی۔۔۔ ہاں وہ آج اتنی ہی ٹوٹی بکھری تھی کہ اسے کسی چیز کا ہوش تک نا رہا تھا۔۔۔

نور ادھر دیکھو میری طرف۔۔۔ خاموش ہو جاو۔۔۔ بالکل خاموش۔۔۔ چلو شاباش پہلے کچھ کھا لو پھر یہ سیشن ہم یہیں سے کنٹینیو کریں گئے۔۔۔ دریاب نے اسکی دیوانوں سے حالت دیکھتے ہاتھ میں تھامی کھانے کی پلیٹ سامنے میز پر رکھی اور خود اسکے پاس ہی صوفے پر براجمان ہوتا محبت سے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتا اسے بچوں کی طرح پچکارنے لگا۔۔۔۔

نور نے ایک شکستہ نگاہ اٹھا کر اس ستمگر کو دیکھ۔۔۔

رو رو کر سوجی اور سرخی مائل آنکھیں بکھرے بال سرخ ٹماٹر ہوئی ناک کپکپاتے لب لرزتا بدن۔۔۔۔ اسکا یوں ٹوٹا بکھرا روپ دیکھ دریاب کے دل پر شدت سے وار ہوئے تھے ضمیر نے خوب جھنجھوڑ کر جگایا تھا۔۔۔ اسکے لئے ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ اسکی بیوی اسکے ہوتے خود کو بے یارو مددگار تصور کر رہی تھی۔۔۔ ہر مصلحت بالائے طاق رکھتے اسنے پوری شدت سے نور کو اپنے ساتھ لگاتے خود میں بھینچا اور اسکے بالوں پر لب رکھ دیئے۔۔۔

بس۔۔۔ بس کردو نور۔۔۔ مت خود کو ہلکان کرو۔۔۔ وہ اسکی کمر سہلاتا اسکے کان کے پاس سرگوشی کر رہا تھا۔۔۔ سہارا پاتےنور مزید شدت سے رو دی تھی۔۔۔

دریاب نے جیب سے رومال نکال کر اسکے آنسو صاف کئے اور رومال اسے ہی پکڑا دیا۔۔۔ اب وہ سنجیدگی سے اسے بازو کے حلقے میں لئے دوسرے ہاتھ سے نوالے بنا کر اسے کھلا رہا تھا وہ بھی بنا پس و پشت کے اسکے کندھے سے سر ٹکائے کھا رہی تھی کیونکہ فلحال نقاہت اور بھوک اسے بحث کرنے کی بھی اجازت نا دے رہی تھی۔۔۔

دونوں کے بیچ خاموشی کا ایک وقفہ در آیا تِھا۔۔۔ دریاب خاموشی سے اسے کھلا رہا تھا اور نور خاموشی سے کھا رہی تھی۔۔۔۔

کھانا ختم کروا کر دریاب نے اسےزبردستی پانی کے ساتھ نیند کی گولی کھلائی۔۔۔

مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا دریاب کہ۔۔۔ شششش۔۔۔۔ کھانا کھانے کے بعد کچھ توانائی بحال ہوئی تو نور ہمت پکڑتی کچھ بولنے لگی جب دریاب نے اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھتے اسے خاموش رہنے کا کہا۔۔۔۔

تم میری ذمہ داری ہو نور۔۔۔ فکر مت کرو ۔۔ انشااللہ میں سب سیٹ کردوں گا بس مجھ پر یقین رکھنا۔۔۔ اور اب ہر طرح کی فضول سوچ کو دماغ سے جھٹک دو اور چل کر کچھ دیر آرام کر لو۔۔۔باقی اس موضوع پر ہم کل صبح بات کریں گئے۔۔۔ دریاب نے اسے یک ٹک ساکت نگاہوں سے خود کو تکتا پا کر اسے اٹھایا اور بیڈ پر لٹا کر اس پر لحاف اوڑھ کر کمرے کی لائٹ بند کی۔۔۔ وہ بھی خاموشی سے لیٹ کر لحاف سر تک تان گئ کہ ابھی طبیعت کے پیش نظروہ کسی بھی قسم کی بحث افورڈ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ نیند کی گولی کے باعث وہ جلد ہی نیند کی وادیوں میں اتر گئ۔۔

اسکے سونے کا تعین کر لینے کے بعد دریاب کچھ سوچتا ہوا اٹھا ۔۔۔۔ اب اسکا رخ ماں کے کمرے کی جانب تِھا۔۔۔ ماں اور بیوی کے درمیان وہ اچھا پس رہا تھا

______