Hala By Umme Hania Readelle50346 Hala (Episode 24)
No Download Link
Rate this Novel
Hala (Episode 24)
Hala By Umme Hania
آئتل ہوا کیا ہے یار کچھ بتاو گی بھی یا یوں ہی آنسو بہا بہا کر مجھے پریشان کرو گئ۔۔۔ آئتل کی پریشان کن آواز سن کر عمران اپنی میٹنگ چھوڑ چھاڑ کر آدھے گھنٹے کے اندر اندر وہاں پہنچا تھا۔۔۔ آئتل بنا کسی سے ملے اسکی گاڑی کا ہارن سنتے ہی باہر بھاگی ۔۔ مروتاً بھی اسے اندر آنے کا کہے بغیر وہ گاڑی کی پیسنجر سیٹ کا دروازہ وا کرتی اندر بیٹھی اور تب سے ہی وہ بنا عمران سے کوئی بات کئے محض زوئی کی باتیں یاد کرتی رو رو کر ہلکان ہو رہی تھی۔۔ عمران کے بارہا اصرار پر بھی وہ کچھ بتانے پر آمادہ نہ تھی جس سے اب عمران کو چڑ ہونے لگی تھی اور وہ خاصا جھنجھلایا ہوا لگ رہا تھا۔۔
عمران اللہ تعالی نے ابھی تک ہمیں اولاد کی نعمت سے محروم کیوں رکھا ہے مجھے بھی بے بی چاہیے۔۔۔ آپ اللہ تعالی سے کہیں نا وہ ہمیں بھی ایک بے بی دے دے۔۔۔ بے طرح روتی وہ عمران کی جانب دیکھتی اپنی خواہش کا اظہار کر رہی تھی۔۔۔ اسکی بات سن کر عمران کئ لمحوں تک ساکت رہ گیا تھا۔۔۔اس بات کا بھلا یہاں کیا ذکر۔۔۔ کیا نور کے رونے کے پیچھے ایسی کوئی بات تھی۔۔۔۔ اولاد کی کمی تو اسے بھی محسوس ہوتی تھی مگر اسنے کبھی آئتل کی دل آزاری کے خیال سے اس کے سامنے ایسی کوئی بات نہیں کی تھی اور آئتل نے بھی تو خود کبھی آج سے پہلی اس محرومی اور تشنگی کا اسکے سامنے ذکر نا کیا تھا۔۔۔ وہ دونوں تو رب کی رضا میں شاکروصابر ایک دوسرے کی سنگت میں اچھی زندگی گزار رہے تھے تو پھر اب۔۔۔
اس وقت اس غیر متوقع بات کا مقصد۔۔۔ عمران لب بھینچے گویا بات کی تہہ تک جانا چاہ رہا تھا۔۔۔
عمران زوئی کہتی ہے میں بانجھ ہوں۔۔۔ میری جھولی کبھی نہیں بھرے گی۔۔۔ عمران میں بانجھ نہیں ہوں۔۔۔ نہیں ہوں نا نہ عمران۔۔۔ اللہ ہمیں بھی بے بی دے گا نا۔۔۔ لبا لب بھرے نین کٹوروں سے وہ آس و نراس کی کیفیت میں گھری کپکپاتے لبوں سمیت چھوٹے بچوں کی مانند ناجانے اسے بتا رہی تھی یا پوچھ رہی تھی مگر اسکی یہ حالت عمران کے دل پر نشتر چلا رہی تھی اسنے آئتل کو بازو کے حصار میں لیتے خود میں شدت سے بھینچا اور آنکھیں بند کر کے اسکے سر پر لب رکھ دیئے۔۔۔۔
وہ بھی سہارا پاتی اسکے سینے میں چہرا چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ بکواس کرتی ہے وہ۔۔۔ اور تم کیسے اسکی باتوں کا یقین کر سکتی ہو۔۔۔ تم نے سبھی رپورٹس خود پڑھی ہیں نا ڈاکٹرز کے مطابق ہم دونوں میں کوئی کمی نہیں ہےبس یہ اللہ کی طرف سے دیر ہے۔۔۔ انشااللہ اللہ ہمیں بھی جلد ہی اولاد کی نعمت سے نوازے گا۔۔۔ عمران نے ونڈ سکرین پر نظریں جمائے گاڑی ڈرائیو کرتے اسکے سر کو تھپتھپاتے اسے تحفظ کا احساس دلانا چاہا۔۔۔
پر وہ زوئی۔۔۔ بہار میں گئ زوئی ۔۔۔ میں دوبارہ اس بے حس عورت کا نام تک نہیں سننا چاہتا۔۔۔ یہ تمہارا اس گھر میں آخری چکر تھا نور میں دوبارہ تمہیں کبھی اس گھر میں جانے کی اجازت نہیں دوں گا جہاں دوسروں کے احساسات مجروح کئے جاتے ہوں۔۔۔ اللہ تو فرماتا ہے کہ دوسروں کی کمیوں کا انکے سامنے ذکر تک نا کرو تا کے انکی دل آزاری نا ہو سکے۔۔۔ مگر۔۔۔ آئتل کی بات درشتی سے کاٹ کر وہ غصے سے گویا ہوا مگر درمیان میں ہی بات ادھوری چھوڑتا لب بھینچ گیا۔۔۔
بس اب کچھ بھی فضول سوچنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ فضولیات وسوسوں میں ڈالتی ہیں اور وسوسے شک و شبہات میں مبتلا کرتے ہیں اور جہاں پختہ یقین نا رہے اور یقین میں شک و شبہات کی ڈراریں ڈل جائیں وہاں ایمان کا درجہ کمزور ہو جاتا ہے۔۔۔ اور کمزور ایمان و یقین سے مانگی گئ دعا کبھی قبول نہیں ہوتی۔۔۔ جبکہ یقین کامل اور دل کی گہرائیوں سے مانگی گئ دعا ڈائریکٹ عرش معلہ پر پہنچتی ہے۔۔۔ اس لئے فضول سوچوں کو جھٹک کر مایوسی سے نکلو کیونکہ مایوسی گناہ ہے کفر ہے ۔۔۔۔اللہ تعالی سے کبھی امید اور آس ختم نہیں کرنی چاہیے کیونکہ وہ وہاں سے عطا کرتا ہے جہاں انسان کا وہم و گمان تک نہیں ہوتا۔۔ اس لئے امید و آس کا دیا لے کر کامل یقین سے اسکے حضور حاضر ہو وہ کبھی اس دیئے کو بجھنے نہیں دے گا کیونکہ بے شک وہ سنتا ہے اور صرف وہی سنتا ہے۔۔۔اور جہاں ہم بے بس ہو جائیں وہاں معاملہ اللہ کے سپرد کرتے اس سے بہتری کی دعا کرنی چاہیے۔۔۔ کیونکہ دعا وہ واحد چیز ہے جو آپکا نصیب بدل دیتی ہیں۔۔۔ اب کی بار عمران کا لہجہ نرم تھا۔۔۔ کچھ تو تھی اسکے لفظوں میں تاثیر جو آئتل کے بے قرار دل کو کچھ سکون ملا تھا وہ عمران کی باتوں کو ہی سوچتی آنکھیں موندتی سر سیٹ کی پشت سے ٹکا گئ۔۔۔
*******
لائٹ پنک کلر کی پاوِں کو چھوتی دیدہ زیب میکسی میں ماہر بیوٹیشن کے ہاتھوں کئے گئےمیک آپ میں زرش واقعی پریستان سے آئی کوئی پری ہی لگ رہی تھی۔۔۔ آج اس پر کل سے بھی زیادہ روپ آیا تھا۔۔ مکمل تیار ہونے کے بعد جب اسنے آئینے میں اپنا عکس دیکھا تو کئ لمحوں تک مبہوت رہ گئ۔۔ اسکی اپنی نگاہیں ہی اسکے عکس پر سے نہیں ہٹ رہی تھیں۔۔۔ ناجانے کیسے بدذوق شخص سے شادی ہو گئ ہے۔۔۔ تعریف کرنا تو جانتے ہی نہیں ۔۔۔ پتہ نہیں ان کے لئے خوبصورتی کا معیار کیا ہے۔۔۔ وہ منہ بناتی محض سوچ کر ہی رہ گئ کیونکہ اسکے سامنے یہ سوال کرنے کی تو اس میں ہمت نا تھی۔۔۔ ہال میں ان دونوں کی جوڑی کو بہت سراہا گیا تھا۔۔۔ اسکے پہلو میں براجماں حدید سب سے مسکراتے ہوئے نہایت خوش اخلاقی سے مل رہا تھا جبکہ زرش حیرت سے اسے مسکراتا ہوا دیکھ رہی تھی۔۔۔ یہ کھروس مسکراتے بھی ہیں وہ محض سوچ کر رہ گئ۔۔۔ اپنے ماں باپ سے ملتی انکے گلے لگ کر وہ کتنی ہی دیر تک انہیں محسوس کرتی رہی تھی۔۔۔
وہ اسٹیج پر ماں کے ساتھ بیٹھی مسکراتی ہوئی ان سے باتیں کر رہی تھی۔۔۔ دور ایک کارنر ٹیبل پر تنہا بیٹھی نور نے اداسی سے یہ منظر دیکھتے اپنی نم آنکھیںں صاف کئیں۔۔۔ وہ نارنجی رنگ کے جدید تراش خراش کے لباس میں ملبوس آنچل کندھوں پر پھیلائے پشت پر بال کھلے چھوڑے ہلکا پھلکا میک آپ کئے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے اداسی سے محض سٹیج کی جانب ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
آہمممم۔۔۔۔۔ دریاب کافی دیر سے نور کو الگ تھلک اکیلے ایک ٹیبل پر بیٹھا نوٹ کر رہا تھا اب اسے ٹکٹکی باندھے اسٹیج کی جانب متوجہ دیکھ اسکی ٹیبل تک آیا ۔۔۔ آواز پر فورا نور اسکی جانب متوجہ ہوئی اور اسے اپنے سامنے ہی کرسی کھینچ کر بیٹھتا دیکھ کر سمبھل کر بیٹھی۔۔۔ بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس وہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہی جازب نظر لگ رہا تھا سلیقے سے سیٹ کئے گھنے بال اور ہلکی بڑھی نفاست سے تراشیدہ شیو نور کی نظریں بار بار اس ہر بھٹکا رہی تھیں۔۔۔ لمحوں میں وہ اپنی ہی اندرونی بنتی بگرتی کیفیت سے گھبرا اٹھی تھی۔۔ وہ اپنے ہی جذبات و احساسات سمجھنے سے قاصر تھی۔۔۔۔ اسے اس وقت دریاب سے نظریں ہٹانا دنیا کا سب سے مشکل کام لگا کیونکہ باوجود کوشیش کے بھی اسکی نگاہیں بھٹک بھٹک کر اسی کا طواف کر رہی تھیں۔۔۔ شاید وہ تھا ہی اتنا مکمل اتنا ہنڈسم یا شاید یہ اسی کی نظروں کا کمال تھا۔۔۔
نور۔۔۔ اسنے آہستگی سے میز پر دھرا اسکا مومی ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھاما تو گویا نور کا دل اچھل کر ہلق میں آگیا۔۔۔ دل کی دھرکن اسے اپنے کانوں میں سنائی دینے لگی تھی۔۔۔۔ اس لمس سے وہ آج زندگی میں پہلی مرتبہ آشنا ہوئی تھی۔۔۔ اسنے شدت سے خواہش کی کہ یہ وقت یہیں تھم جائے۔۔۔ یہ لمحات یہیں امر ہو جائیں۔۔۔
آج صبح جو بھی ہوا نور اسکے لئے امی کی طرف سے میں تم سے معذرت خواہ ہوں۔۔۔۔ پلیز تم۔۔ وہ اسکے ہاتھ کی پشت کو انگھوٹھے سے سہلاتا پشیمانی سے بول رہا تھا جب نور نے سرعت سے اسکی بات کاٹی۔۔۔
صبح جو بھی ہوا اس میں آپکا تو کوئی قصور نہیں پھر آپ کیوں ایکسکیوز کر رہے ہیں۔۔۔
بلاشبہ اس میں میرا قصور نہیں مگر تم صبح ہرٹ ہوئی ہو۔۔۔ دریاب نے براہراست اسکی آنکھوں میں جھانکا۔۔ نور کو اپنا آپ ان آنکھوں میں ڈوبتا محسوس ہوا۔۔۔ کیا آپکو میرے ہرٹ ہونے سے فرق پڑتا ہے۔۔۔ ناجانے وہ کیسے لمحات تھے جن میں بہہ کر وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی شکوہ کناں ہوئی تھی۔۔۔
کیا مجھے فرق پڑنا چاہیے یا نہیں۔۔۔ ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے وہ اسے مضحمے میں ڈال گیا تھا۔۔۔ نور کے لئے مزید اسکی آنکھوں میں دیکھنا دشوار ہو گیا اسی لئے آہستگی سے پلکوں کی چلمن گرا گئ۔۔۔
تم میری شرعی اور قانونی بیوی ہو نور۔۔۔ تمہاری خوشیاں تمہارے غم براہ راست مجھ پر اثرانداز ہوتے ہیں۔۔۔ وہ مرد تھا اس لئے دھرلے سے یہ سب بول رہا تھا جبکہ نور کو کچھ پل لگے تھے خود کو کمپوز کرتے۔۔۔ مگر آپ تو اپنی کولیگ میں انٹرسٹڈ ہیں نا پھر۔۔۔۔ دل میں کلبلاتا سوال وہ زبان پر لانے سے روک نا پائی تھی۔۔۔ آنسو کو آنکھوں سے بہنے کا رستہ نا دینے کے باعث ہر آنسو دل پر گر رہا تھا۔۔۔ اسنے آنکھیں بند کر کے گہرا سانس خارج کرتے خود کو کمپوز کیا۔۔۔
آہ۔۔ وہ ایک الگ مسلہ ہے نور یکدم ہی جیسے وہ اس ٹرانس سے نکلا تھا لب بھینچے وہ اسکا ہاتھ چھوڑ کر کرسی کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔۔۔۔ نور کو یکدم ہی اپنا آپ خالی خالی سا محسوس ہوا اسکے ہاتھ کی پشت پر اسے ابھی تک دریاب کا لمس محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ دل کے معاملوں میں زور نہیں چلتا لیکن میں کوشیش کروں گا کہ اس رشتے کو بھرپور ایمانداری سے نبھا سکوں۔۔۔۔ دور خلاوں میں گھورتا وہ جیسے بہت مشکل میں آ گیا تھا۔۔۔
ایک بات پوچھوں۔۔۔ ناجانے اسے بھی خود کو تکلیف سے دوچار کر کے مزہ آ رہا تھا جو اپنے دل میں پنپتے سبھی سوال پوچھ ڈالنا چاہتی تھی۔۔۔
ہممم۔۔۔ دریاب چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔۔ اگر کبھی قسمت آپکو اسے پانے کا موقع دے اور آپکو اس میں سے اور مجھ میں سے کسی ایک کو چننا ہو تو آپ کسے چنیں گے۔۔۔ روتے کرلاتے دل کو پاوں تلے بے دردی سے کچلتے اسنے دریاب سے یہ سوال پوچھا تھا اور اب سانس تک روکے اسکے جواب کی منتظر تھی۔۔۔ دریاب گم صم سا یک ٹک اسے دیکھے گیا۔۔۔ وقت کی ساعتیں گزرتی جا رہی تھیں ۔ مگر اسکی جانب سے دبیز خاموشی تھی۔۔۔ نور کو اپنی سانسیں اٹکتی محسوس ہوئیں۔۔۔
کھانا کھل گیا ہے نور آرام سے کھانا کھاو۔ ۔ وہ اسکی توجہ کھانے کی جانب مبذول کرواتا کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ ایک تلخ مسکراہٹ نے نور کے لبوں کا احاطہ کیا۔۔۔۔
وہ ستم گر دل رکھنے کے گر سے بھی آشنا تھا۔۔۔
******
حدید ابھی ابھی کیٹرنگ کا سارا انتظام چیک کر کے واپس ہال میں آیا تھا۔۔۔ مینجر کے ہوتے ہوئے بھی وہ ایک نظر خود سارے انتظامات دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ صبح ہوئی زرش سے جھرپ کے بعد دونوں میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی مگر وہ گاہے بگاہے اٹھتی زرش کی نارض نگاہیں خود پر محسوس کر رہا تھا۔۔۔ یہاں کیا کر رہے ہو یار وہ سنجیدگی سے کچھ سوچتا زرش کو دیکھ رہا تھا جب دریاب نے اسکے پاس آتے اسکے کندِھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔ وہ دونوں اس وقت اسٹیج سے کچھ دور ہال کے ایک کونے میں کھڑے تھے۔۔۔۔
کچھ نہیں بس زرا کیٹرنگ کے انتظامات دیکھنے گیا تھا۔۔۔۔ وہ مسکرا کر دریاب کی جانب پلٹا۔۔۔ کوئی بات ہے کیا حدید جو تمہیں دسٹرب کر رہی ہے۔۔۔ اسے نظروں کے حصار میں لئے دریاب سنجیدگی سے گویا ہوا۔کیونکہ وہ اسکا الجھا الجھا سا رویہ نوٹ کر چکا تھا۔۔۔۔ خدارا اب یہ تو کہنا ہی مت کہ ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔ بچپن کا یارانہ ہے ہمارا۔۔۔ اتنا تو تمہیں جانتا ہی ہوں۔۔۔ دریاب نے اسے تردید میں منہ کھولتے دیکھ سرعت سے حد بندی متعیں کی جس پر وہ دل سے مسکرا دیا۔۔۔ کوئی شک نہیں تھا کہ دونوں کی دوستی لازوال تھی مگر اس نئے جڑنے والے رشتے کے حوالے سے وہ اپنے دوست سے کچھ دور ہو گیا تھا۔۔۔۔ کاش زرش دریاب کی بہن نا ہوتی تو وہ کھل کر دریاب سے اپنا مسلہ شیئر کر پاتا۔۔۔ اب وہ اسکی بہن کے حوالے سے اپنے دل میں پنپتے شک و شبہات اسی سے تو ڈسکس کرنے سے رہا تھا۔۔۔
ہاں ہے مسلہ لیکن معذرت میں وہ تم سے شیئر نہیں کر سکتا۔۔۔ اسنے ترتید کرنے کی بجائے مسکراتے ہوئے تائید کی کیونکہ جانتا تھا تردید کی صورت اسکی جان خلاصی نہیں ہونے والی تھی۔۔۔
ایسی کونسی بات ہے جسکی مجھ سے پردہ داری ہے دریاب الجھا۔۔۔بس ہے کوئی بات حدید نے ادھر ادھر دیکھتے بات ٹالنی چاہی۔۔۔ کہیں بات زرش کے حوالے سے تو نہیں۔۔۔ آخر بچپن کا یارانہ تھا کیسے نا بات کی جڑ تک پہنچتا۔۔۔ چونک کر حدید سے پوچھا وہ مکمل طور پر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
شاید۔۔ حدید ہلکا سا قہقہ لگاتا محظوظ ہوا۔۔۔ دریاب کو سمجھ نا آیا کہ وہ آگے کیا کہے۔۔۔ وہ اسکے گریز کی وجہ اب سمجھا تھا۔۔۔ حدید وہ بہت معصوم ہے دریاب کے کہنے پر اسکی آنکھوں کے سامنے سے اسکا صبح والا شعلہ جوالہ بنا روپ کر لہرایا۔۔۔ ضرورت سے کچھ زیادہ ہی وہ بڑبڑا کر رہ گیا۔۔ اور تھوڑی سی بے وقوف بھی۔۔۔ اگر وہ نادنی میں کوئی غلطی کر دے تو تم درگزر کر دینا۔۔۔ وہ بڑے بھائی کی طرح بہن کو دیفینڈ کر رہا تھا۔۔۔ حدید کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔۔ چلو یاری دوستی میں یہ کڑوا گھونٹ تو پینا ہی پڑے گا۔۔۔ بکواس نا کر اب وہ اتنی بھی بری نہیں۔۔۔۔ میری بہن شہزادی ہے میری دریاب نے اسکے مذاق پر اسکی کمر میں ایک دھموکہ جڑا۔۔۔۔ آہ ظالم انسان جیسے تم ویسی تمہاری بہن۔۔۔ حدید کراہا اور دونوں بے ساختہ ہس دیئے۔۔۔ ہستے ہستے بھی حدید نے پرسوچ نگاہوں سے زرش کو دیکھا جو آج واقعی شہزادی لگ رہی تھی۔۔۔ لیکن وہ بات کی تہہ تک جائے بغیر سکون سے نہیں بیٹھ سکتا تھا۔۔۔
******
