Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 9
Tawaif by Hamna Tanveer
مہر صبح سے سو سو کر تھک چکی تھی۔
بھوک کا احساس ہوا تو کمرے سے باہر نکل آئی۔
“پتہ نہیں کچن میں کچھ ہے بھی یا نہیں نجانے اب شاہ واپس آےُ گا یا نہیں۔۔۔۔۔۔”
مہر فکرمندی سے بولتی ہوئی چلنے لگی۔
راہداری میں چلتے ہوۓ بائیں جانب اسے کچن دکھائی دیا۔
مہر اندر آئی اور بورڈ پر ہاتھ مار کر روشنی جلا دی۔
کچن روشنی میں نہا گیا۔
وسیع و عریض کچن جس کی تین دیواروں کے ساتھ سلیب تھی۔
مہر آگے آئی کیبن کھول کر دیکھنے لگی۔
“چاول، دال، انہیں پکانے میں تو بہت وقت لگے گا۔۔۔۔۔۔۔”
مہر پیٹ پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔
پھر چلتی ہوئی فریج کے پاس آ گئی۔
بریڈ اور انڈوں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔
مہر نے بریڈ اور انڈے نکالے اور چولہے کے پاس آ گئی۔
فرائی پین نکالا اور انڈے بنانے لگی۔
کھڑکی سے باہر اندھیری رات جھانک رہی تھی۔
“اس ٹائم بھی کوئی یہ کھاتا ہے۔۔۔۔۔۔”
وہ منہ بناتی ہوئی بریڈ کے سلائس نکالنے لگی۔
****///////****
“بھائی آپ کو معلوم ہے ہمیں ہمدانی کا کانٹریکٹ مل گیا۔۔۔۔۔۔”
شہریار مسرور سا بولا۔
“بہت خوب۔۔۔۔۔۔”
شاہ دھیرے سے مسکرایا۔
“یہ جان کر آپ کو مزید خوشی ہو گی کہ چھوٹے نے یہ کانٹریکٹ لیا ہے۔۔۔۔۔۔”
شہریار شاہ ویز کو جانب اشارہ کرتا ہوا بولا جو لاتعلق سا بیٹھا تھا۔
“شکر کے آج تم بھی گھر پر نظر آےُ۔۔۔۔۔”
شاہ اسے دیکھتا ہوا بولا۔
شاہ ویز چونک کر شاہ کو دیکھنے لگا۔
“مجھے کچھ کہا؟۔۔۔۔۔۔”
“جی ہاں بہت خوشی ہوئی کہ تم بزنس میں دل لگا کر کام کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔”
شاہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔
شاہ ویز مسکرانے لگا۔
“یہ بتاؤ آج پھر تم برہان سے ملنے گئے تھے؟۔۔۔۔۔”
شاہ ایک لمحے میں پھر سے پہلے والا شاہ بن گیا۔
“بھائی قسم لے لیں اگر میں نے برہان کی شکل بھی دیکھی ہو آج۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اس کی جانب دیکھتا ہوا بولا۔
“تمہارا دشمن نہیں ہوں جو کہتا ہوں تمہارے بھلے کے لئے کہتا ہوں سمجھے۔۔۔۔۔۔”
شاہ خفگی سے بولا۔
“جی بھائی۔۔۔۔۔۔۔”
شاہ ویز سعادت مندی سے بولا۔
“شاہ میں سوچ رہی ہوں اب چھوٹے کو بھی بیاہ دیں۔۔۔۔۔۔”
ضوفشاں بیگم شاہ کے سامنے والے صوفے پر براجمان ہوتی ہوئیں بولیں۔
“دیکھ لیں مجھے کیا اعتراض ہونا ہے۔۔۔۔۔۔”
شاہ فون نکالتا ہوا بولا۔
“چھوٹے کی بھی ہو جاےُ گی اور تمہاری کب ہو ۔۔۔۔۔۔”
کیا کیا کہا آپ نے؟۔۔۔۔۔۔۔”
ضوفشاں بیگم کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی شاہ تیوری چڑھا کر بولا۔
وہ ہڑبڑا کر شاہ کو دیکھنے لگیں۔
“مجھے لگتا ہے آپ شاید بھول گئیں ہیں۔۔۔۔۔”
شاہ پیشانی پر بل ڈالتا ہوا بولا۔
سب خاموش تھے کیونکہ شاہ کے معاملات میں دخل اندازی کی اجازت کسی کو بھی نہیں تھی۔
“نہیں وہ بس میرے منہ سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔”وہ سنبھل کر بولیں۔
“آگے سے خیال رکھیے گا کہ غلطی سے بھی یہ غلطی نہ ہو۔۔۔۔۔۔”
شاہ چبا چبا کر کہتا چل دیا۔
“بس ایسی نیش۔۔۔۔۔۔”
“آپ پھر سے شروع ہو رہیں ہیں بھائی کا غصہ جانتی ہیں نہ۔۔۔۔۔”
شہریار خفگی سے بولا۔
“لو بھئ بند کر لیا منہ۔۔۔۔۔”
وہ برا مان گئیں۔
“اور میری مانیں تو ابھی چھوٹے کی بھی رہنے دیں ابھی اس نے بزنس شروع کیا تھوڑا سیٹ ہو جاےُ پھر سوچئے گا۔۔۔۔۔۔۔”
“لو بھلا اس گھر میں کھانے پینے کی کمی ہے کیا؟۔۔۔۔۔۔”
وہ منہ بناتی ہوئیں بولیں۔
“آپ بات کیوں نہیں سمجھتیں یہی مسئلہ ہے وہ ابھی چھوٹا ہے کچھ وقت گزر جاےُ گا تو سمجھدار ہو جاےُ گا ابھی بیاہ دیں کل کلاں کو کوئی اونچ نیچ ہو گئی پھر ہمیں مت کہیے گا۔۔۔۔۔۔۔”
شہریار خفگی سے بولا۔
“نہیں کرتی ابھی خوش ہو جاؤ۔۔۔۔۔”
وہ خفا خفا سی بولیں۔
شاہ ویز بیٹھا لطف لے رہا تھا۔
شہریار نفی میں سر ہلاتا کھڑا ہو گیا۔
“ماریہ، ماریہ میرا سوٹ تیار کروا دیا ہے؟۔۔۔۔۔”
شہریار بولتا ہوا چلنے لگا۔
“چھوٹے تو بتا۔۔۔۔۔۔”
کمان اب شاہ ویز کی جانب کر دی۔
“اماں جی ابھی سکون کریں مجھے میری زندگی جینے دیں کیا بیوی کے چکر میں پھنسا رہیں۔۔۔۔۔۔”
وہ منہ بناتا ہوا بولا۔
وہ منہ بناتی ہوئیں اٹھیں اور اپنے کمرے کی جانب چلنے لگیں۔
****///////****
ٹپ ٹپ برسا پانی
پانی نے آگ لگائی
آگ لگی دل میں تو
دل کو تیری یاد آئی
تیری یاد آئی تو
جل اٹھا میرا بھیگا بدن
اب تو ہی بتاؤ سجن
میں کیا کروں
حرائمہ ریلنگ پر ہاتھ رکھے اس مجرے کو دیکھ رہی تھی۔
مدہوشی میں ڈولتے شرابی اور ان کے وسط میں رقص کرتی دوشیزائیں جو اپنی اداؤں سے وہاں موجود لوگوں کو لبھا رہیں تھیں۔
نوٹوں کی برسات ہو رہی تھی۔
مدھم مدھم روشنی میں حرائمہ یہ منظر دیکھ رہی تھی۔
رانی وسط میں تھی اور ایک آدمی اس کے سامنے تھا۔
وہ آدمی جگہ جگہ رانی کو چھو رہا تھا اور وہ لطف لیتی اپنے رقص میں مشغول تھی۔
حرائمہ کا دل کانپ اٹھا۔
وہ مرے مرے قدم اٹھاتی واپس کمرے میں آ گئی۔
“کیا مجھے بھی یہ سب کرنا پڑے گا؟۔۔۔۔۔”
وہ منہ ہاتھ رکھے خود کو رونے سے باز رکھتی ہوئی بولی۔
“امی پتہ نہیں ٹھیک ہوں گیں بھی یا نہیں۔۔۔۔۔”حرائمہ کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا۔
“پلیز اللہ پاک مجھے یہاں سے نکال دیں، میری زندگی تو تباہ کر ہی چکے ہیں یہ لوگ اب مجھے میری امی کے پاس جانے دیں۔۔۔۔۔”
حرائمہ سسکتی ہوئی بول رہی تھی۔
“بس مجھے میری امی کے پاس لے جائیں میں یہ سب نہیں کر سکتی پلیز مجھے یہاں سے باہر نکال دیں۔۔۔۔۔”
وہ خود کو لحاف میں پوشیدہ کئے بلک رہی تھی۔
حرائمہ کو قدموں کی آہٹ سنائی دی تو منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی سسکیاں دبانے لگی۔
****///////****
“یہاں کون ہو سکتا ہے؟۔۔۔۔۔۔”
ازلان سوچتا ہوا کلاس کے دروازے کی جانب بڑھنے لگا۔
جونہی وہ اندر آیا سامنے کا منظر دیکھ کر دماغ گھوم گیا۔
ازلان نے اسے عقب سے پکڑا اور زمین پر پھینک دیا۔
حرم پیچھے ہوتی خود میں سمٹ گئی۔
ازلان نے دو چار مکے اس کے چہرے پر مارے پھر کھڑا ہو گیا۔
“تو رک ابھی پروفیسر کو بلاتا ہوں۔۔۔۔۔۔”
ازلان خونخوار نظروں سے گھورتا ہوا فون نکالنے لگا۔
خطرہ بھانپ کر وہ بھاگ نکلا ازلان اس کے پیچھے لپکا لیکن پھر حرم کے خیال سے واپس آ گیا۔
ازلان کو اس پر ترس آ رہا تھا۔
حرم سر جھکاےُ آنسو بہا رہی تھی۔
ازلان شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔
جیسے ہی حرم کی نظر شرٹ اتارتے ازلان پر پڑی اس کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔
وہ دو قدم پیچھے ہٹی۔
آنکھیں زور سے میچ رکھی تھیں۔
“فکر مت کرو درندہ نہیں ہوں میں۔۔۔۔۔۔”
ازلان اس کی گھبراہٹ کا مفہوم سمجھتا ہوا بولا۔
پھر آگے آیا اور حرم کی جانب اپنی شرٹ بڑھا دی۔
“اسے پہن لو۔۔۔۔۔۔”
ازلان حرم کے پھٹے ہوۓ آستین دیکھ چکا تھا۔
حرم والی شرٹ نجانے کہاں گر گئی تھی جس کے باعث اس نے اپنی شرٹ اسے دے دی۔
حرم نے کانپتے ہاتھوں سے شرٹ تھام لی۔
ازلان چہرہ موڑ کر کھڑا ہو گیا۔
حرم نے اشک بہاتے ازلان کی شرٹ پہن لی،
ازلان کی خوشبو اس کے نتھنوں سے اندر اترنے لگی۔
ازلان کے بدن پر سیاہ رنگ کی بنا آستین والی بنیان تھی۔
“آجاؤ۔۔۔۔۔۔”
ازلان اسے دیکھتا ہوا بولا۔
ازلان فکرمند سا چل رہا تھا نا وہ اسے ہاسٹل لے کر جا سکتا تھا نہ ہی پارٹی میں۔
ازلان ذوناش کا نمبر ملانے لگا لیکن بزی جا رہا تھا۔
“شٹ۔۔۔۔۔۔”
وہ تاسف سے بولا۔
گرد و پیش میں سٹوڈنٹس دکھائی دینے لگے تو سب کی متحیر نگاہیں ان پر اٹھیں۔
حرم کو اپنا آپ گنہگار معلوم ہو رہا تھا۔
حرم ازلان کی شرٹ زیب تن کئے ہوئے تھی جو کئی سوالوں کو جنم دے رہی تھی پھر ازلان کا یوں بنا شرٹ کے اس کے ہمراہ چلنا۔
آہستہ آہستہ چہ میگوئیاں شروع ہونے لگیں۔
“حرم تم یہیں رکو میں اندر سے آمنہ یا ذوناش کو بلاتا ہوں۔۔۔۔۔” ازلان اس کی جانب دیکھتا ہوا بولا۔
“می میں اکیلی یہاں کیسے؟۔۔۔۔۔”
حرم نظریں اٹھا کر اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
حرم کی آنکھوں میں خوف تیرتا دکھائ دے رہا تھا۔
“حرم میں جلد از جلد تمہیں تمہارے گروپ کے سپرد کر دینا چاہتا ہوں دیکھو سب ہمیں ہی دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔”
ازلان دائیں بائیں دیکھتا ہوا بولا۔
“اگر وہ پھر سے آ گیا۔۔۔۔۔”
بولتے بولتے حرم کی آنکھوں سے دو اشک ٹوٹ کر گرے۔
ازلان کو وہ اس وقت کسی معصوم پنچھی کی مانند لگ رہی تھی جو طوفان میں اپنا گھر لٹنے پر بےحال تھی۔
“یہاں بہت سے لوگ ہیں وہ واپس نہیں آےُ گا اب ٹرسٹ می۔۔۔۔۔”
ازلان اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا مان سے بولا۔
حرم نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
ازلان اس پر ایک نظر ڈالتا اندر چل دیا۔
حرم سب کی نظریں خود پر محسوس کر رہی تھی۔
“مجھے تو پہلے ہی شک تھا ان دونوں پر دیکھو ذرا کیا گل کھلا کر آ رہے ہیں دیکھنے میں تو کتنی معصوم لگتی ہے۔۔۔۔۔۔”
حرم کی سماعت سے آوازیں ٹکرائیں۔
“لوگوں کو تو خوف ہی نہیں رہا یونی ہی رہ گئی تھی کیا اس کام کے لیے۔۔۔۔۔”
حرم زمین میں گڑھتی جا رہی تھی۔
ازلان ان تینوں کے ہمراہ نمودار ہوا۔
حرم کی جان میں جان آئی۔
وہ تینوں کبھی حرم کو دیکھتی تو کبھی ازلان کو۔
“حرم تم نے ازلان کی شرٹ کیوں پہن رکھی ہے اور کہاں سے آ رہے ہو تم دونوں؟۔۔۔۔۔۔”
ذوناش پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتا ہوا بولا۔
“ذوناش یہ وقت ابھی پوچھ گچھ کا نہیں ہے ابھی تم لوگ حرم کو ہاسٹل لے جاؤ۔۔۔۔۔”
ازلان کو خود سے زیادہ حرم کی عصمت کی فکر تھی۔
“کیسے لے جائیں ہم اسے اپنے ساتھ،، ہاسٹل میں جانے ہی نہیں دیں گے ہمیں اس کا حال دیکھا ہے تم نے۔۔۔۔۔۔”
ذوناش پھٹ پڑی۔
انشرح اور آمنہ صدمے سے حرم کو دیکھ رہیں تھیں جو مجرموں کی مانند سر جھکاےُ کھڑی تھی۔
اندھیرے میں حرم کے آنسو دکھائی نہیں دے رہے تھے۔
“ذوناش تم پاگل تو نہیں ہو گئی۔۔۔۔۔۔”
ازلان غیظ سے گویا ہوا۔
“میں تو نہیں جاؤ گی اسے لے کر مجھے اس یونی اور ہاسٹل میں رہنا ہے اس کے باعث ہم پر بھی حرف آےُ گا۔۔۔۔۔”
ذوناش ہاتھ کھڑے کرتی ہوئی بولی۔
تماشہ دیکھنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔
حرم کو لگ رہا تھا وہ مر چکی ہے اتنی تضحیک اتنے بھتان اس نے کبھی زندگی میں نہیں سوچا تھا ایسا وقت بھی کبھی آےُ گا۔
“نہیں ذوناش حرم ایسی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔”
آمنہ نفی میں سر ہلاتی حرم کی جانب قدم بڑھانے لگی۔
“تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے نظر نہیں آ رہا ازلان کی شرٹ پہن رکھی ہے اس نے اور کب سے دونوں غائب ہیں اگر تم دونوں نے اسے ساتھ لے جانے کا سوچا تو واپس میرے پاس کبھی مت آنا, ہاسٹل میں سب کو تمہی جواب دینا اور دیکھنا اس کے گھر والوں کے ساتھ ساتھ ہمارے گھر والوں کو بھی بلائیں گے۔۔۔۔۔۔”
ذوناش طیش میں بولتی جا رہی تھی۔
آمنہ کے بڑھتے قدم تھم گئے۔
حرم کرب سے آمنہ کو دیکھنے لگی۔
کوئی اس پر بھروسہ نہیں کر رہا تھا کیسے وہ اپنے کردار کی گواہی دیتی۔
ذوناش تن فن کرتی اندر چلی گئی۔
آمنہ اور انشرح بےبسی سے حرم کو دیکھتی اندر کی جانب قدم بڑھانے لگیں۔
حرم نے یقینی سے انہیں جاتا دیکھنے لگی۔
ازلان اپنی جگہ ششدہ تھا۔
حرم کا جسم کپکپا رہا تھا۔
ان کے گرد ہجوم بڑھتا جا رہا تھا۔
“کیا تماشہ لگا ہوا ہے یہاں۔۔۔۔۔”
ازلان چہرہ موڑ کر چلایا۔
سب ہچکچاتے ہوۓ اپنے اپنے کام کو چل دئیے۔
حرم نفی میں سر ہلاتی اشک بہا رہی تھی۔
“حرم۔۔۔۔۔”
ازلان نے ابھی اسے پکارا ہی تھا کہ وہ اندھا دھند بھاگنے لگی۔
“حرم میری بات سنو۔۔۔۔۔۔”
ازلان اس کے پیچھے لپکا۔
حرم چہرہ رگڑتی بھاگتی جا رہی تھی۔
“ہیلو زین کہاں ہے؟۔۔۔۔۔”
ازلان فون کان سے لگاےُ حرم کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔
“یار جلدی سے گاڑی کا انتظام کروا وقت نہیں ہے ابھی کہ ابھی۔۔۔۔۔”
ازلان حرم کی پشت دیکھتا ہوا بول رہا تھا۔
“ٹھیک ہے جلدی کر میں انتظار کر رہا ہوں۔۔۔۔۔”
“حرم میری بات سنو کہاں جا رہی ہو تم اس وقت؟۔۔۔۔۔”
ازلان اس کا ہمقدم ہوتا ہوا بولا۔
حرم نے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا وہ آنسو بہاتی تیز تیز چلنے لگی۔
“تم کیوں میرا تعاقب کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔”
حرم غرائی۔
ازلان نے پہلی بار اس کی اتنی اونچی آواز سنی تھی۔
“اس وقت کہاں جاؤ گی تم؟۔۔۔۔۔”
ازلان رک کر اسے دیکھنے لگا۔
دونوں کا تنفس تیز ہو چکا تھا۔
حرم تیز تیز سانس لے رہی تھی۔
“کہیں بھی جاؤں تمہیں کیا مسئلہ ہے جنہیں فرق پڑنا چائیے تھا انہیں تو فرق نہیں پڑ رہا تو تمہیں کیوں فرق پڑ رہا ہے۔۔۔۔۔” حرم آنسو بہاتی ہوئی چلا رہی تھی۔
“میں گواہ ہوں تمہاری پاکدامنی کا۔۔۔۔۔۔”
ازلان کی نظریں ہنوز اس کے چہرے پر تھیں۔
حرم نفی میں سر ہلانے لگی۔
“تمہاری گواہی سے فرق نہیں پڑتا میں اب وہاں واپس نہیں جا سکتی۔۔۔۔۔”
حرم بولتی ہوئی پھر سے چلنے لگی۔
اندھیری رات کے تاریک راستوں پر وہ بنا سوچے سمجھے چلتی جا رہی تھی۔
یہ یونی شہر سے ذرا ہٹ کر تھی جس کے باعث یہاں ویرانی ہی ویرانی تھی۔
حرم کو مطلوبہ جگہ دکھائی دی گئی۔
یہ ہیڈ محمد تھا۔
ویران سڑک اور نیچے رفتار میں بہتا پانی۔
ازلان زین سے فون پر بات کر رہا تھا۔
حرم پل پر آئی۔
بہتے پانی کو دیکھنے لگی۔
آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں دل رنج و الم کی شدت سے پھٹنے کو تھا۔
حرم نے ہاتھ کی پشت سے چہرہ رگڑا۔
“مصطفیٰ بھائی تو مجھے جان سے مار دیں گے۔۔۔۔۔۔”
حرم بولتی ہوئی پل کے دہانے پر چڑھ گئی۔
ازلان اس کا ارادہ بھانپ کر اس کی جانب بھاگنے لگا۔
“شہریار بھائی شاہ ویز بھائی امی بابا سائیں معاف کر دینا مجھے۔۔۔۔۔۔”
حرم نے بولتے ہوۓ آنکھیں بند کر لیں عین اسی لمحے ازلان نے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا اور وہ ازلان کے سینے سے جا ٹکرائی۔
حرم آنکھیں کھول کر ازلان کو طیش میں دیکھنے لگی۔
ازلان پیشانی پر بل ڈالے اسے دیکھ رہا تھا۔
حرم پیچھے ہوئی اور اپنی بازو اس کی گرفت سے آزاد کروانے کی سعی کرنے لگی۔
“میں بلکل ٹھیک کہتا تھا تمہارے پاس دماغ ہے ہی نہ۔۔۔۔۔”
ازلان کے چہرے پر خفگی تھی۔
“تم کیوں مجھے تنگ کر رہے ہو۔۔۔۔۔”
حرم اکتا کر بولی۔
ازلان اس کی بازو پکڑے بغور اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
“اب تم خاموش ہو کر میری بات سنو گی اور اگر ایک بھی لفظ منہ سے نکالا تو جو تھپڑ شعیب کو مارے تھے وہی تمہیں بھی ماروں گا۔۔۔۔۔۔”
ازلان خونخوار نظروں سے گھورتا ہوا بولا۔
حرم نے نا چاہتے ہوۓ لب مبسوط کر لیے۔
“یہ سب میری شرٹ کے باعث ہو رہا ہے سو مجھے ہی کچھ کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔”
ازلان پرسوچ دکھائی دے رہا تھا۔
