Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 24
Tawaif by Hamna Tanveer
“سچی مچی کا کیا مطلب؟ جو گاؤں میں دکھائی دیتیں وہ بھینس نہیں؟”
حرم آبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگی۔
“نہیں نہ تمہیں اصلی والی بھینس دکھاتا ہوں۔ وہ دیکھو سامنے جو کھڑی ہے طوطا بن کر۔ پیرٹ کلر میں۔۔۔”
ازلان انگلی سے سامنے ندا کی جانب اشارہ کرتا ہوا بولا۔
پہلے حرم مسکرانے لگی پھر خفگی سے اسے دیکھنے لگی۔
“پتہ ہے میرے سامنے دو امیدوار تھے؟ بھینس یا مرغی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔۔۔”
ازلان شریر لہجے میں بولا۔
“پھر تم نے کس کا کیا؟”
حرم بےصبری سے بولی۔
“بھینس سے کرتا تو پھر میرا اللہ ہی حافظ ہونا تھا اس لئے میں نے مرغی کا انتخاب کیا۔۔۔”
ازلان دو قدم آگے پھر دو قدم پیچھے اٹھاتا ہوا بولا۔
حرم چہرہ جھکاےُ مسکرانے لگی۔
“بہت خوشی ہو رہی ہے مرغی بن کر؟”
ازلان بغور اس کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا۔
“نہیں تو میں تو ویسے ہی ہنس رہی تھی۔۔۔”
حرم سنبھل کر بولی۔
“ہاں مجھے سب معلوم ہے تم جو ویسے ہی ہنستی ہو نہ۔۔۔”
ازلان آگے کو ہوتا گھور کر بولا۔
“ازلان سب کھڑے ہیں۔۔۔”
حرم اس کے سینے پر ہاتھ رکھتی دور کرتی ہوئی بولی۔
“تمہیں کھیر کھلا کھلا کر دیکھنا ندا جیسی بھینس بنا دوں گا۔۔۔”
ازلان منہ بناتا ہوا چل دیا۔
حرم اس کے تبصرے پر مسکرانے لگی۔
“اکیلی کیوں مسکرا رہی ہو؟”
ماریہ جانچتی نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
حرم کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔
“نہیں مجھے یونی کی کوئی بات یاد آ گئی تھی۔۔۔”
حرم خود کو نارمل کرنے کی سعی کرنے لگی جس میں وہ بری طرح ناکام ہو رہی تھی۔
“اچھا مجھے تو کچھ اور ہی لگتا ہے۔۔۔”
ماریہ منہ بناتی اس کے ہمراہ کھڑی ہو گئی۔
ازلان کچھ مسافت پر کھڑا حرم کو دیکھ رہا تھا لیکن ماریہ کو دیکھ کر چہرے پر ناگواری در آئی۔
“بندہ پوچھے اپنے شوق پورے کر لئے ہیں اب ہمیں تو کرنے دو۔۔۔”
ازلان جل بھن کر دوسری جانب دیکھنے لگا۔
مہر دوائی لے کر سو چکی تھی لیکن اس کی آنکھ کھل گئی۔
چہرہ موڑ کر دیکھا تو شاہ پہلو میں سو رہا تھا۔
نیم تاریکی میں بھی شاہ کے چہرے پر چھایا سکون دکھائی دے رہا تھا۔
مہر نے فون اٹھایا اور ٹائم دیکھنے لگی۔
“ابھی تو گیارہ بجے ہیں کیا کروں گی ساری رات۔۔۔”
مہر فکرمندی سے بولی۔
“شاہ بھی سو گئے ہیں۔۔۔”
مہر تاسف سے بولتی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔
کافی دیر گزر گئی۔
مہر کے چہرے پر بیزاری تھی۔
“شاہ؟”
مہر اس کا بازو ہلاتی ہوئی بولی۔
شاہ نے فوراً آنکھیں کھول دیں۔
“کیا ہوا؟”
شاہ اسے دیکھتا ہوا اٹھ بیٹھا۔
“ہوا کچھ نہیں ہے دراصل مجھے۔۔۔۔”
مہر رک کر اسے دیکھنے لگی۔
شاہ جمائی روکتا بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔
“بولو بھی؟”
مہر کو خاموش پا کر شاہ اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“شاہ مجھے گول گپے کھانے ہیں؟”
مہر افسردگی سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“ابھی؟”
شاہ آبرو اچکا کر بولا۔
مہر لب کاٹتی اثبات میں سر ہلانے لگی۔
شاہ لمحہ بھر کو رکا پھر لحاف پرے کرتا بیڈ سے اتر گیا۔
“آؤ چلتے ہیں۔۔۔”
شاہ اس کی جانب نرم مسکراہٹ اچھالتا ہوا بولا۔
“لیکن میں نے آپ کی نیند خراب کر دی۔۔۔”
مہر تاسف سے بولی۔
“جب تم دونوں جاگ رہے ہو تو میں سو کر کیا کروں گا؟”
شاہ اس کی ناک دباتا ہوا بولا۔
مہر مسکراتی ہوئی سلیپر پہننے لگی۔
شاہ نے لائٹ آن کر دی اور خود واش روم کا رخ کیا۔
حویلی سے نکلتے ہوئے انہیں کسی نے نہیں دیکھا۔
مہر چادر ٹھیک کرتی دل ہی دل میں شکر ادا کر رہی تھی۔
مہر خود پر رشک کرتی شاہ کو دیکھ رہی تھی جو ہشاش بشاش سا ڈرائیونگ کر رہا تھا۔
کچھ ہی دیر میں ان کی گاڑی ایک پھیری والے کے پاس کھڑی تھی۔
شاہ نے گول گپے گاڑی میں ہی منگوا لیے۔
مہر کے منہ میں پانی آ رہا تھا۔
“یہ لو بھئی آپ کے گول گپے۔۔۔”
شاہ مہر کی جانب پلیٹ بڑھاتا ہوا بولا۔
مہر خشک لبوں پر زبان پھیرتی کھانے لگی۔
شاہ محبت پاش نظروں سے مہر کو دیکھ رہا تھا۔
“آپ نہیں کھائیں گے؟”
مہر پلیٹ اس کی جانب کرتی ہوئی بولی۔
“نہیں۔ تمہارے سونے کے بعد میں نے کھیر کھائی تھی۔۔۔”
شاہ نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا۔
“ٹیسٹ ہی کر لیں؟”
مہر بےچارگی سے بولی۔
“اچھا جی ٹیسٹ کر لیتا ہوں۔۔۔”
شاہ پلیٹ پکڑتا ہوا بولا۔
مہر مسکراتے ہوۓ اسے دیکھنے لگی۔
“مہر وہ سامنے شرٹ دیکھو کیسی لگ رہی ہے؟”
شاہ شیشے کے پار اشارہ کرتا ہوا بولا۔
“کون سی شرٹ؟”
مہر آگے ہو کر دیکھتی ہوئی بولی۔
“یار وہ جو پنک کلر کی شرٹ ہے غور سے دیکھو۔۔۔”
شاہ انگلی سے اشارہ کرتا ہوا بولا۔
“بہت پیاری لگ رہی ہے شاہ۔۔۔”
مہر کی نظروں میں ستائش تھی۔
شاہ گاڑی دکان کے سامنے لے آیا۔
“آپ خریدنے والے ہیں؟”
مہر ششدر سی بولی۔
“ظاہر سی بات ہے اتنی اچھی لگ رہی ہے چھوڑ جاؤں؟”
شاہ گاڑی سے باہر نکلتا ہوا بولا۔
“شاہ ہم نے پہلے ہی اتنا سب لے لیا ہے۔۔۔”
مہر بولتی ہوئی باہر نکل آئی۔
“پھر کیا ہوا؟ میرے ارمان بہت ہیں۔۔۔”
شاہ کی آنکھیں چمک رہیں تھیں۔
“لیکن شاہ وہ تو دکان بند کر رہے ہیں؟”
مہر انہیں لائٹ آف کرتے دیکھ کر بولی۔
شاہ مہر کو جواب دئیے بنا تیزی سے آگے بڑھا۔
“ایک منٹ پلیز مجھے وہ سوٹ خریدنا ہے۔۔”
شاہ لڑکے کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
“سوری سر دکان بند ہو چکی ہے۔ آج ویسے بھی ہمیں لیٹ ہو گیا آپ کل آ جائیے گا۔۔۔”
وہ معذرت خواہانہ نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔
“نہیں اگر کل میرے آنے سے پہلے کوئی اور لے گیا پھر مجھے ابھی چائیے پلیز میں ڈبل پے کر دوں گا۔۔۔”
شاہ التجائیہ انداز میں بول رہا تھا۔
مہر متحیر سی شاہ کو دیکھ رہی تھی۔
یہ شاہ اس شاہ سے بلکل مختلف تھا جس کے سامنے سب خاموش رہتے وہ آج ایک ملازم کے سامنے منت کر رہا تھا۔
اولاد انسان کو کیا سے کیا بنا دیتی ہے۔
یہ نعمت ہی ایسی ہے انسان کو خود بھی معلوم نہیں ہوتا۔ اولاد کی محبت بہت زور آور ہوتی ہے وہ سب کروا لیتی ہے جو کبھی تصور بھی نہیں کر سکتے۔
“سر آپ مالک سے بات کر لیں اگر وہ اجازت دیں تو ہم آپ کے لئے شاپ دوبارہ کھول دیں گے۔۔۔”
وہ شاہ کی جانب فون بڑھاتا ہوا بولا۔
“دیکھیں پلیز مجھے یہ شرٹ بہت پسند آئی ہے آپ انہیں کہیں دوبارہ دکان کھول لیں۔۔۔”
مہر جتنا حیران ہوتی اتنا کم تھا۔
“میں ڈبل پے کر دوں گا اگر آپ بولیں گے تو لیکن پلیز مجھے یہ لے کر جانا ہے۔ آپ کے بھی بچے ہوں گے آپ سمجھ سکتے ہیں پلیز انکار مت کریں۔۔۔۔”
شاہ ضدی اور التجائیہ انداز میں بولا۔
یکدم شاہ کے لب مسکرانے لگے۔
شاہ نے فون لڑکے کی جانب بڑھا دیا۔
“جی مالک ٹھیک ہے۔۔۔”
اسنے فون جیب میں ڈالا اور اندر موجود دوسرے لڑکے کو آواز دی۔
مہر نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
شاہ نے اسے آنے کا اشارہ کیا۔
“مہر یہ دیکھو اس کے ساتھ شوز بھی ہیں۔۔۔”
شاہ چھوٹے چھوٹے پنک کلر کے شوز ہاتھ میں پکڑتا ہوا بولا۔
“بہت اچھے ہیں۔۔۔”
مہر آگے آتی ہوئی بولی۔
“ایسا کریں یہ بھی پیک کر دیں اور بل بنا دیں۔۔۔”
شاہ والٹ نکالتا ہوا بولا۔
مہر شاپر ہاتھ میں پکڑے شاہ کے ہمراہ باہر نکل آئی۔
“بہت شکریہ۔۔۔”
شاہ لڑکے سے ہاتھ ملاتا ہوا بولا۔
“شاہ آپ مجھ سے اتنی محبت کرتے ہیں؟”
مہر حویلی میں قدم رکھتی ہوئی بولی۔
“میں خود بھی نہیں جانتا کہ تم سے کتنی محبت ہے۔۔۔”
وہ شانے اچکاتا ہوا بولا۔
کچن سے نکلتی ضوفشاں بیگم نے ان دونوں کو دیکھ لیا۔
“کہاں سے آ رہے ہو تم دونوں؟”
ماتھے پر بل ڈالتی ہوئی بولیں۔
“مہر کو لے کر گیا تھا گول گپے کھانے تھے اسے۔۔۔”
شاہ رک کر انہیں دیکھتا ہوا بولا۔
“شادی میں جاتے وقت اس کی طبیعت خراب تھی اور اب آدھی رات کو سیر سپاٹے یاد آ رہے ہیں؟”
وہ تیکھے تیور لئے گویا ہوئیں۔
“امی میں کس زبان میں آپ کو سمجھاؤں آج مجھے بتا دیں؟ کیوں مہر اور میرے بچے کے پیچھے پڑیں ہیں؟”
شاہ اکتا کر بولا۔
“اب بیوی آ گئی ہے نہ ماں بری لگنے لگی ہے دشمن بنا رہی ہے مجھے تمہارا یہ دو ٹکے کی۔۔۔”
“بہت ہو گیا امی اگر مزید ایک لفظ کہا تو میں برداشت نہیں کروں گا۔۔۔”
شاہ چلا رہا تھا۔
ضوفشاں بیگم تلملا اٹھیں۔
مہر سہم کر دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
ایک پل کی خوشی کے عوض کتنے پل حقارت اور نفرت کے تیرونشتر برداشت کرنے پڑتے۔
صرف اسی لئے کیونکہ وہ ایک طوائف تھی۔
اور ایک طوائف کو عزت اور خوش رہنے کا حق حاصل نہیں۔
“آئیندہ اگر آپ نے میری بیوی کے خلاف کوئی ایسی بات کی تو میں ہر گز لحاظ نہیں کروں گا آخری بار مطلع کر رہا ہوں۔۔۔۔”
شاہ نے غراتے ہوۓ مہر کا ہاتھ تھاما اور زینے چڑھنے لگا۔
مہر کسی خوفزدہ بچے کی مانند شاہ کے ہمراہ چلنے لگی۔
دونوں کا موڈ آف ہو چکا تھا۔
شاہ کشمکش میں مبتلا ہو گیا تھا۔
مہر کو دیکھتا تو مزید پریشان ہو جاتا۔
مہر سر جھکاےُ بیڈ کے کنارے پر ٹکی تھی۔
شاہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا ٹہل رہا تھا۔
بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔
پریشانی غصے میں تبدیل ہوتی جا رہی تھی۔
کچھ سوچ کر شاہ مہر کے سامنے آیا گھٹنے زمین پر رکھے اور مہر کو دیکھنے لگا۔
“آئم سوری مہر۔۔۔”
شاہ نادم سا بولا۔
“آپ کیوں معافی مانگ رہے ہیں؟”
مہر تڑپ کر اسے دیکھنے لگی۔
“میں تمہیں ایک نارمل زندگی نہیں دے پا رہا۔۔۔”
شاہ تاسف سے بولا۔
“نہیں شاہ۔۔۔”
مہر نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔
“میں کوشش کرتا ہوں تمہیں یہاں سے لے جاؤں تاکہ تم خوش رہ سکو۔۔۔”
شاہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔
“شاہ میں خوش ہوں۔ آپ میرے لیے جتنا کرتے ہیں کوئی بھی نہیں کر سکتا۔۔۔”
مہر اس کی مشکور تھی۔
“مہر میری بات سنو تم میری اجازت کے بغیر گھر والوں کے ساتھ کہیں نہیں جاؤ گی چاہے وہ تمہیں رشتہ دار کے گھر جانے کا بولیں تم میرے بغیر نہیں جاؤ گی لڑنا پڑے تو لڑ جانا لیکن میں کسی پر اعتماد نہیں کر سکتا۔۔۔”
شاہ بے یقینی کا شکار تھا۔
“ٹھیک ہے شاہ اگر ایسا کوئی موقع آیا تو میں آپ کو کال کر دوں گی۔۔۔”
مہر جبراً مسکرائی۔
“اور یہ بتاؤ کھانا تم ملازمہ سے چیک کروا کے کھاتی ہو نہ؟”
شاہ زمین پر بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔
مہر نفی میں سر ہلانے لگی۔
“مہر تم بیوقوف ہو کیا؟”
شاہ پیشانی پر ہاتھ مارتا ہوا بولا۔
“میں نے تمہیں بولا بھی تھا۔۔۔
شاہ تاسف سے بولا۔
“شاہ مجھے نہیں یاد۔۔”
مہر بےچارگی سے بولی۔
“مہر شہریار کی شادی مجھ سے پہلے ہوئی لیکن اس کی ابھی تک کوئی اولاد نہیں میری شادی اب ہوئی ہے اور ماشاءاللہ سے بہت جلد ہمارا بچہ ہماری گود میں ہو گا۔ یہ گاؤں ہے یہاں یہ باتیں بہت نوٹ کی جاتی ہیں اور عورت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ شہریار پر مجھے خود سے بھی زیادہ بھروسہ ہے لیکن عورت فتنہ و فساد برپا کرنے والی ہوتی ہے اس لئے تم محتاط رہنا۔۔۔”
“ٹھیک ہے شاہ میں احتیاط کروں گی اب۔۔۔”
“اب تم سو جاؤ ورنہ صبح نماز کے لیے نہیں اٹھ پاؤ گی۔۔۔”
شاہ مسکراتا ہوا کھڑا ہو گیا۔
مہر مسکرا کر اثبات میں سر ہلانے لگی۔
****////////****
“آپی مجھے کچھ بات کرنی ہے آپ سے؟”
حرائمہ مہر کے کمرے میں آتی ہوئی بولی۔
“اس میں پوچھنے کی کیا ضرورت ہے آ جاؤ اندر۔۔۔”
مہر جو صوفے کے ساتھ کھڑی تھی مسکراتی ہوئی بولی۔
“آپی میں سوچ رہی تھی جاب کر لوں اس طرح مصطفیٰ بھائی کے گھر فارغ رہنا عجیب لگ رہا ہے وقت بھی نہیں گزرتا۔۔۔”
حرائمہ جھنجھلا کر بولی۔
“ٹھیک ہے میں شاہ سے بات کروں گی۔ لیکن شہر میں تمہارا اکیلے رہنا شاہ کو مناسب نہیں لگے گا۔۔۔”
مہر فکرمندی سے بولی۔
“آپ بات تو کر کے دیکھیں یوں مفت کی روٹیاں توڑنا مجھے مناسب نہیں لگ رہا۔۔۔”
وہ مہر کے ہاتھ تھامتی التجائیہ انداز میں بولی۔
مہر کو اس کی خودداری پسند آئی۔
“میں پوری کوشش کروں گی شاہ کو منانے کی۔۔۔”
مہر اس کے ہاتھ پر زور دیتی ہوئی بولی۔
حرائمہ دھیرے سے مسکرانے لگی۔
“یہ دیکھو کل رات شاہ نے پسند کئے تھے۔۔۔”
مہر اسے گزشتہ رات خریدی گئی اشیاء دکھانے لگی۔
حرائمہ پسندیدگی سے دیکھنے لگی۔
****////////****
“پھوپھو بھابھی کو تیار کر دیا ہے پارلر والی نے۔۔۔”
حرم کمرے سے باہر نکلتی ہوئی بولی۔
“اچھا میں صفیہ کو بھیجتی ہوں اس کے ساتھ باہر بھیج دینا۔۔۔”
وہ مسکراتی ہوئی چلی گئیں۔
“کہاں چھپ کر بیٹھی ہو؟”
حرم کمرے میں آتی ازلان کا میسج پڑھنے لگی۔
لب دم بخود مسکرانے لگے۔
“بھابھی کے ساتھ ہوں۔۔۔”
میسج بھیج کر حرم صوفے پر بیٹھ گئی۔
دلہن بیڈ پر بیٹھی تھی۔
“میں بھی آ جاؤں؟”
ازلان آنکھوں میں شرارت لئے لکھنے لگا۔
“آ جاؤ اگر مار پڑ گئی مصطفیٰ بھائی سے تو مجھے مت کہنا بتایا نہیں۔۔۔”
حرم مسکراتی ہوئی ٹائپ کرنے لگی۔
“تمہارا وہ ہٹلر بھائی؟ اچھا میں اندر ہوں تم باہر نکلو کمرے سے۔۔۔۔”
حرم فکرمندی سے دروازے کو دیکھنے لگی۔
عین اسی لمحے دروازہ کھلا حرم کا دل مٹھی میں قید ہو گیا لیکن صفیہ کو دیکھ کر سانس خارج کرتی پرسکون ہو گئی۔
صفیہ دلہن کو لے کر گئی تو ازلان اندر آ گیا۔
“ازلان تم کیوں آ گئے؟ اگر کوئی آ گیا تو؟”
حرم پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔
ازلان اس کی بات پر کان دھرے بنا اس کی جانب چلنے لگا۔
ازلان سر تا پیر اس کا جائزہ لے رہا تھا۔
جامنی رنگ میں وہ بجلیاں گرا رہیں تھی۔
“تم نے مجھے زیر کرنے کے تمام ہتھیار اٹھا رکھے ہیں؟”
ازلان لب دباےُ اسے دیکھنے لگا۔
“ازلان میں جا رہی ہوں۔۔۔”
حرم کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا تھا۔
اس نے دروازے کی جانب بڑھنا چاہا لیکن کلائی ازلان کے ہاتھ میں آ چکی تھی۔
“میری چھوٹی سی بات سن لو۔۔۔”
ازلان نرمی سے گویا ہوا۔
حرم لب کاٹتی کبھی ازلان کو دیکھتی تو کبھی دروازے کو۔
ازلان نے اس کی گھبراہٹ دیکھتے ہوۓ دروازے کی جانب قدم بڑھانے لگا اور لاک لگا دیا۔
حرم کا دل اچھل کر باہر نکل آیا۔
“ازلان کیا کر رہے ہو؟”
حرم حونق زدہ سی اسے دیکھنے لگی۔
“کل میں جا رہا ہوں ہاسٹل اور غور سے سن لو تم بھی کل واپس جا رہی ہو۔۔۔”
ازلان حکم صادر کر رہا تھا۔
“ازلان میں نے گھر میں کسی سے بات نہیں کی ابھی واپس جانے کی۔۔۔”
حرم افسردگی سے اسے دیکھنے لگی۔
“میرا مسئلہ نہیں ہے تم کل واپس جا رہی ہو بات ختم اور اگر تم مجھے کل یونی میں دکھائی نہ دی تو۔۔۔۔”
ازلان انگلی اٹھاےُ بول رہا تھا۔
“کیوں مجھے ٹینشن دے رہے ہو؟”
حرم رونے والی شکل بناتی ہوئی بولی۔
“ایک نیا طریقہ میں نے سوچا ہے تم بدلہ لینے کا۔۔۔”
ازلان شرارت سے بولا۔
“کون سا؟”
حرم آنکھوں کی پتلیاں سکیڑے اسے دیکھنے لگی۔
“چوہے مار دوائی سنا ہے بہت کارآمد ہے۔۔۔”
ازلان داڑھی کھجاتا ہوا بولا۔
حرم منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔
“ایسے کون بدلہ لیتا ہے؟”
حرم متحیر سی بولی۔
“تمہارا شوہر۔۔۔”
ازلان اس کی ناک دباتا ہوا بولا۔
“اب سوچ لینا اگر تم نہ آئی تو میں۔۔۔”
ازلان بات ادھوری چھوڑ کر حرم کو دیکھتا الٹے قدم اٹھانے لگا۔
ازلان ابھی دروازے سے چند قدم کی دوری پر تھا جب انہیں دستک سنائی دی۔
حرم کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے ازلان کو دیکھنے لگی۔
ازلان کبھی حرم کو دیکھتا تو کبھی دروازے کو۔
