577.9K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tawaif Episode 25

Tawaif by Hamna Tanveer

برہان اندر آیا تو نظر شاہ سے ٹکرائی جو کرسی پر ہاتھ رکھے نیچے جھکا ہوا تھا۔

غالباً وہ نیچے جھک کر مقابل کو سن رہا تھا۔

مقابل کوئی اور نہیں بلکہ مہر تھی۔

برہان قدم روک کر مہر کا جائزہ لینے لگا۔

“اس کو نجانے کہاں ہے ایسی لڑکیاں مل جاتی ہیں؟”

وہ تاسف سے بولا۔

“شاہ وہ جو آپ کی ممانی ہیں نہ؟”

مہر چہرہ اوپر اٹھاےُ بول رہی تھی۔

“ہمممم۔۔۔”

شاہ اثبات میں سر ہلاتا ہوا بولا۔

“وہ کہہ رہیں تھیں یہاں سے ہم ان کی طرف آ جائیں۔۔۔”

مہر رک کر اسے دیکھنے لگی۔

“پھر کیا کہا تم نے؟”

شاہ سوالیہ نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔

“میں نے کہہ دیا کہ شاہ سے پوچھ کر بتاؤں گی۔۔۔”

مہر معصومیت سے بولی۔

شاہ کے لب مسکرانے لگے۔

“بہت اچھا کیا۔۔۔”

شاہ بولتا ہوا سیدھا ہوا گیا۔

“آپ بیٹھ جائیں نہ۔۔۔”

مہر خالی کرسی کی جانب اشارہ کرتی ہوئی بولی۔

“نہیں۔خواتین میں بیٹھنا اچھا نہیں لگتا۔۔۔”

شاہ نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا۔

“پھر ایسے کھڑے رہیں گے؟”

مہر اس کی جانب دیکھتی ہوئی بولی۔

“ہاں میں ایزی ہوں۔۔۔”

شاہ کا فون رنگ کرنے لگا تو وہ سائیڈ پر آ گیا۔

“ہاں عدیل بول؟”

“یار وہ جو بچے کے اغوا کی رپورٹنگ کر رہی تھی نہ اسماء؟”

“ہاں کیا ہوا اسے؟”

شاہ کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔

“وہ غائب ہو گئی ہے۔ وہی تھی جو اس کیس کے پیچھے پڑی تھی۔۔۔”

اوہ!”

شاہ تاسف سے بولا۔

“تیری ان کے گھر والوں سے بات ہوئی ہے؟”

شاہ دو انگلیوں سے پیشانی مسلتا ہوا بولا۔

“ابھی تک تو نہیں ہوئی نمبر نہیں مل رہا ان کا۔لگتا ہے گھر جانا پڑے گا۔۔۔”

عدیل فکرمندی سے بولا۔

“عدیل ایسا کر تو زرا دیکھ لے یہ سب میں شادی پر ہوں پھر مہر کو چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔۔۔”

شاہ کی پیشانی پر شکنیں ابھریں۔

“چل ٹھیک ہے میں دیکھتا ہوں اگر زیادہ مسئلہ ہوا تو کال کروں گا۔۔۔”

عدیل نے کہہ کر فون رکھ دیا۔

****////////****

“مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی دونوں ایک ساتھ چلی جاؤ گی تو کون سی قیامت آ جاےُ گی؟”

زلیخا بیگم حیران پریشان سی بولیں۔

“مجھے نہیں جانا اس آئمہ کے ساتھ۔۔۔”

زنیرہ منہ بناتی ہوئی بولی۔

“میں تو جیسے مری جا رہی ہوں نہ تمہارے ساتھ جانے کے لیے۔۔۔”

آئمہ تنک کر بولی۔

“توبہ میری کیا کھاتی ہو دونوں ایسے لڑتی ہو۔۔۔”

زلیخا بیگم کانوں کو ہاتھ لگاتی ہوئی بولیں۔

“ہاں تو آپ بھی ناانصافی کرتی ہیں جب حیدر آیا تھا آپ نے زنیرہ کو بھیج دیا اس کے پاس مجھے کیوں نہیں بھیجا؟”

آئمہ بل کھاتی ہوئی بولی۔

زنیرہ استہزائیہ ہنسی۔

“جو جس قابل ہو اسے اسی جگہ پر رکھا جاتا ہے۔۔۔”

زنیرہ جلانے والی مسکراہٹ آئمہ کی جانب اچھالتی ہوئی بولی۔

آئمہ تلملا اٹھی۔

“دیکھ رہیں ہیں آپ اس کی زبان اور نخرہ؟”

آئمہ تپ کر بولی۔

“دونوں ہی ایک برابر ہو میں کسی کو نہیں کہتی۔۔۔”

زلیخا بیگم ہاتھ اٹھاتی ہوئی بولیں۔

زنیرہ کے چہرے پر مسکراہٹ تھی جبکہ آئمہ کلس کر رہ گئی۔

“تم دونوں الگ لگ جاؤ تو بہتر ہے ویسے بھی الگ الگ اداروں میں جانا ہے۔۔۔”

وہ اکتا کر بولیں۔

“زنیرہ اپنا بیگ سنبھالتی چل دی۔

آئمہ پیر پٹختی اپنے کمرے میں چلی گئی۔

“نجانے کیا رقابت ہے ان دونوں کو ایک دوسرے سے۔۔۔”

زلیخا بیگم بولتی ہوئی چلنے لگیں۔

****///////****

“عینی کیا مصیبت ہے تمہیں؟”

شاہ ویز اکتا کر بولا۔

“شاہ ویز تم مجھ سے ایسے کیوں بات کر رہے ہو؟ اتنے وقت سے میری کالز اٹینڈ نہیں کر رہے اور آج اگر کر ہی لی تو۔۔۔۔”

عینی نے روتے ہوۓ بات ادھوری چھوڑ دی۔

شاہ ویز مٹھی بھینچے سامنے دیکھنے لگا۔

بیزاری اور تلخی چہرے سے عیاں تھیں۔

“تمہیں ہزار بار بتا چکا ہوں ہماری فیملی میں مسائل در پیش ہیں مجھے تنگ مت کیا کرو۔۔۔”

شاہ ویز ضبط کرتا ہوا بولا۔

“میں تمہیں تنگ کرتی ہوں؟ شاہ ویز میں؟”

عینی سسکتے ہوۓ بولی۔

“ہاں تم۔۔۔”

شاہ ویز چبا چبا کر بولا۔

“عینی آنسو بہاتی اسکرین کو دیکھنے لگی۔

“شاہ ویز تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟”

عینی کو خطرہ لاحق ہوا۔

“کس زبان میں سمجھاؤں بتاؤ مجھے؟”

شاہ ویز کڑے تیور لئے بولا۔

عینی لب بھینچ کر رہ گئی۔

“اچھا میری بات سنو تم واپس آؤ گی تو ہاسٹل مت جانا میں بکنگ کروا دوں گا ہوٹل میں کچھ دن ساتھ گزاریں گے ٹھیک ہے؟”

شاہ ویز بالوں میں ہاتھ پھیرتا نرمی سے بولا۔

“تم مجھ سے محبت کرتے ہو نہ؟”

“ہاں میں تم سے ہی محبت کرتا ہوں۔ خوش ہو اب؟”

شاہ ویز اسے بہلا رہا تھا۔

“بہت خوش بس تم جلدی سے بکنگ کروا دو جب کہو گے میں آ جاؤں گی۔۔۔”

عینی خوشی سے چہکی۔

“میں پتہ کرواتا ہوں آج۔ اب جاؤں میں؟”

“دل تو نہیں چاہ رہا لیکن ٹھیک ہے جاؤ اب جب ملیں گے تو اتنی آسانی سے تمہیں جانے نہیں دوں گی۔۔۔”

عینی خفا خفا سی بولی۔

“ٹھیک ہے۔۔۔”

شاہ ویز مسکراتا ہوا بولا۔

عینی کچھ بول رہی تھی لیکن شاہ ویز نے فون بند کر دیا۔

نظر سب پر سے ہو کر مہر پر ٹھر گئی۔

وہ کوئی ساحرہ تھی جو ہر کسی کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی بس پھر گھائل ہونا طے تھا۔

شاہ ویز بھی اس کے ہاتھوں گھائل ہوا تھا۔

اس کے سحر کا یہ اثر تھا کہ وہ چاہ کر بھی اس سے چھٹکارہ حاصل نہیں کر پا رہا تھا۔

“نظر کے سامنے تو ہوتی ہو کبھی دل کے پاس بھی آ جاؤ تو کیا ہی بات ہے۔۔۔”

شاہ ویز مہر کو دیکھتا ہوا بولا۔

شاہ کی نظر شاہ ویز پر اٹھی تو شاہ ویز گڑبڑا کر دوسری سمت میں دیکھنے لگا۔

شاہ اچنبھے سے شاہ ویز کو دیکھنے لگا۔

اس کی نظر کا دھوکہ تھا یا سچ میں ایسا ہی تھا۔

وہ بھائی تھا شاہ نے توجہ نہ دی۔

دروازے پر دستک سنائی دی تو حرم حواس باختہ ہو کر ازلان کو دیکھنے لگی۔

ازلان لب دباےُ دماغ چلا رہا تھا۔

“میں نے تمہیں کہا تھا نہ؟”

حرم رونے والی شکل بناتی ہوئی ہولے سے بولی۔

ازلان نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے گھورا۔

حرم تھوک نگلتی اسے دیکھنے لگی۔

“میں واش روم میں جا رہا ہوں تم کہہ دینا بھابھی ہیں جاؤ اب۔۔۔”

ازلان واش روم میں جاتا ہوا بولا۔

حرم حواس بحال کرتی دروازے کے پاس آئی۔

“دروازہ کیوں بند کیا تھا؟”

ندا آبرو اچکا کر بولی۔

“وہ می میری بھابھی واش روم میں ہیں اس لیے۔۔۔”

حرم نے کہتے ہوۓ اسے راستہ دیا۔

ازلان منہ پر ہاتھ رکھے خود کو ہنسنے سے باز رکھ رہا تھا۔

“عجیب لوگ ہیں۔۔۔”

ندا بڑبڑاتی ہوئی سنگھار میز کے پاس آ گئی۔

حرم کا سانس اٹکا ہوا تھا۔

وہ اپنے تاثرات نارمل کرنے کی بھرپور سعی کر رہی تھی۔

مطلوبہ شے لے کر ندا ایک نظر حرم پر ڈالتی باہر نکل گئی۔

حرم سانس خارج کرتی دروازہ بند کرنے لگی۔

ازلان نے واش روم کا دروازہ کھولا اور ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔ہاتھ سینے پر باندھ لیے۔

آبرو اچکا کر حرم کو دیکھنے لگا جس کا رنگ سفید پڑ گیا تھا۔

حرم نے گھورنے پر اکتفا کیا۔

“اب تم میری بھابھی بن کر اندر ہی بیٹھے رہو میں جا رہی ہوں اس سے قبل کہ کوئی اور آےُ۔۔۔”

حرم دروازہ کھولتی ہوئی بولی۔

“سنو تو۔۔۔”

ازلان نے اسے پکارا لیکن وہ سنی ان سنی کرتی چلی گئی۔

ازلان نفی میں سر ہلاتا فون چیک کرنے لگا۔

“بھائی میں سوچ رہی تھی کل واپس چلی جاؤں۔۔۔”

حرم ہچکچاتے ہوۓ بولی۔

شاہ نے بیک مرر سے ایک نظر حرم پر ڈالی۔

“جلدی نہیں؟”

شاہ نگاہیں سڑک پر مرکوز کرتا ہوا بولا۔

“وہ بھائی پھر مجھے بعد میں مسئلہ ہوتا ہے کور کرنے میں ویسے بھی کلاس تو کل سے شروع ہو جاےُ گی۔۔۔”

حرم نے بہانہ بنایا۔

“لے جائیں نہ پڑھائی کا حرج ہو گا یہاں بھی سارا دن فارغ ہی ہوتی ہے حرم۔۔۔”

مہر نے مداخلت کی۔

شاہ اثبات میں سر ہلانے لگا۔

حرم کا چہرہ کھل اٹھا۔

مہر کے باعث شاہ فوراً مان گیا۔

“واہ بھابھی آپ گریٹ ہو۔۔۔”

حرم دل ہی دل میں مہر کو سراہنے لگی۔

****////////****

حرم متلاشی نگاہوں سے اردگرد دیکھ رہی تھی۔

“مجھے بلا کر خود کہاں غائب ہو گیا ہے؟”

حرم بولتی ہوئی چلتی جا رہی تھی۔

“حرم کلاس لینے چلیں؟”

آمنہ اس کے عقب سے نمودار ہوئی۔

“ہاں چلو۔۔۔”

حرم ازلان کو ڈھونڈنے کا ارادہ ترک کرتی کلاس کی جانب چلنے لگی۔

ازلان اسے پہلی نشست پر دکھائی دے گیا۔

بے ساختہ لب مسکرانے لگے۔

نظروں کا تبادلہ ہوا تو حرم سر جھکاےُ آگے نکل گئی۔

ازلان چہرہ موڑے اسے دیکھنے لگا جو اب آمنہ کے ساتھ محو گفتگو تھی۔

اسے آج یونی میں دیکھ کر ازلان کو خوشی ہوئی۔

پروفیسر کلاس میں داخل ہوۓ تو سب سیدھے ہو گئے۔

لیکچر گزارنا دونوں کے لیے محال تھا۔

جیسے تیسے کر کے لیکچر ختم ہوا حرم کلاس سے باہر نکل گئی۔

ازلان بھی اس کے پیچھے لپکا۔

“ازلان تیرا بیگ؟”

وکی نے اسے آواز دی لیکن وہ سنی ان سنی کرتا چل دیا۔

“او معصوم بلی کہاں بھاگی جا رہی ہو؟”

ازلان اس کا دوپٹہ پکڑتا ہوا بولا۔

حرم چہرہ موڑے خفگی سے اسے دیکھنے لگی۔

“تمہیں بھی غصہ آتا ہے؟”

ازلان اس کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔

“یہ کیا بدتمیزی ہے میرا دوپٹہ چھوڑو۔۔۔”

حرم پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی بولی۔ نظر گرد و نواح میں تھی۔

“اور اگر میں نہ چھوڑوں پھر؟”

ازلان دوپٹہ ہاتھ پر لپیٹتا ہوا بولا۔

“تم کیا چاہتے ہو سب ہمیں دیکھ لیں؟”

حرم بازو سینے پر باندھتی ہوئی بولی۔

“بلکل۔۔۔”

ازلان تائیدی انداز میں گردن جھکاتا ہوا بولا۔

“ازلان مجھے لائبریری جانا ہے پلیز چھوڑ دو نہ۔۔۔”

حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔

“چھوڑ دیتا ہوں پہلے میری بات سن لو۔۔۔”

ازلان اس کے عین مقابل آ گیا۔

“کیا؟”

حرم اس کی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھتی ہوئی بولی۔

“اوے ہوۓ یہاں تو پوری فلم چل رہی ہے۔۔۔”

زینے اترتے ہوۓ لڑکے نے انہیں دیکھ کر ہانک لگائی۔

ازلان سلگتی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔

“واپس میرے ساتھ جاؤ گی تم اور اب جاؤ۔۔۔”

ازلان اس کا دوپٹہ آزاد کرتا اس لڑکے کی جانب بڑھنے لگا۔

“ازلان۔۔۔۔”

حرم نے اسے روکنا چاہا۔

“میں نے کہا جاؤ۔۔۔”

ازلان اس کی بات کاٹتا حلق کے بل چلایا۔

حرم سہم کر دو قدم پیچھے ہٹی، تیز تیز قدم اٹھاتی اس سے دور ہو گئی۔

“کیا بکواس کر رہا تھا؟”

ازلان اس کا گریبان پکڑتا ہوا چلایا۔

ازلان کے چلانے کے باعث آس پاس سے گزرتے سٹوڈنٹس انہیں دیکھنے لگے۔

“تمیز سے ازلان میں بھی غنڈہ گردی پر اتر سکتا ہوں۔۔۔”

وہ ازلان کے ہاتھ جھٹکتا ہوا بولا۔

ازلان نے ایک قہر آلود نظر اس پر ڈالی۔

“ازلان ریلیکس۔۔۔”

وکی اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔

ازلان نے ایک مکہ اس کے منہ پر جھڑ دیا۔

وہ دو قدم پیچھے ہٹا۔

منہ پر ہاتھ رکھ کر خون دیکھنے لگا۔

ہونٹ سے خون رسنے لگا تھا۔

“کیا ہو رہا ہے یہاں؟”

پروفیسر آصف بھیڑ دیکھ کر اِدھر آ نکلے۔

“کچھ نہیں سر مذاق کر رہے تھے ہیں نہ عارف؟”

ازلان جلانے والی مسکراہٹ اچھالتا ہوا بولا۔

“جی سر۔۔۔”

وہ ہونٹ پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔

ازلان تمسخرانہ انداز میں ہنستا وہاں سے چل دیا۔

****////////****

مہر حرائمہ کے ہمراہ باتیں کرتی ہوئی چل رہی تھی۔

“میں نے بات کی تھی شاہ سے۔ وہ کہہ رہے تھے غور کروں گا۔۔۔”

مہر اسے دیکھتی ہوئی بول رہی تھی۔

حرائمہ کی نظر سیڑھیوں پر پڑی تو پیشانی پر بل پڑ گئے۔

سیڑھیاں چمک رہیں تھیں۔

“آپی ایک منٹ۔۔۔”

مہر جو زینے پر پاؤں رکھنے والی تھی حرائمہ کی آواز پر اس کا پاؤں ہوا میں معلق رہ گیا۔

“کیا ہوا؟”

مہر تعجب سے اسے دیکھنے لگی۔

حرائمہ نے اس کی بازو پکڑ کر پیچھے کیا۔

“کیا ہو گیا حرائمہ؟”

مہر فکرمندی سے اسے دیکھنے لگی۔

“آپی یہ دیکھیں۔۔۔”

حرائمہ گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھی اور زینے پر انگلی پھیر کر اسے دکھانے لگی۔

“کیا مطلب؟”

مہر کی پیشانی پر شکنیں ابھریں۔

“آپی یہ تیل گرایا گیا ہے دیکھیں۔۔۔”

حرائمہ کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔

مہر منہ کھولے سیڑھیاں دیکھنے لگیں۔

“کس کا کام ہو سکتا ہے یہ؟”

مہر ششدر سی بولی۔

“پتہ نہیں آپی۔آپ ابھی کمرے میں چلی جائیں میں اپنی موجودگی میں ملازمہ سے صاف کرواتی ہوں پھر آپ نیچے جانا۔۔۔”

حرائمہ پریشانی سے گویا ہوئی۔

مہر غائب دماغی سے اثبات میں سر ہلاتی چل دی۔

“مطلب شاہ ٹھیک کہہ رہے تھے مجھے محتاط رہنا ہو گا۔۔۔”

مہر ہاتھ مسلتی ہوئی بولی۔

حرائمہ ملازمہ سے صاف کروا رہی تھی جب ماریہ کی نظر اس پر پڑی۔

چہرے پر ناگواری در آئی۔

ماریہ ایک اچٹتی نظر حرائمہ پر ڈالتی چل دی۔

“آپ کو کیک بنانا آتا ہے؟”

حرائمہ مہر کو دیکھتی ہوئی بولی۔

“تجربہ تو نہیں ہے لیکن امید ہے اچھا بن جاےُ گا۔۔۔”

مہر انڈے توڑتی ہوئی بولی۔

حرائمہ مسکراتی ہوئی باہر نکل گئی۔

مہر اپنے کام میں محو تھی جب پاؤں کی چاپ سنائی دینے لگی۔

مہر کیک پر کریم لگا رہی تھی چہرہ نیچے جھکا ہوا تھا وہ انہماک سے اپنا کام کر رہی تھی۔

شاہ ویز چلتا ہوا اس کے عین مقابل آ گیا۔

مہر کا چلتا ہوا ہاتھ رک گیا۔

مہر کی کلائی شاہ ویز کے ہاتھ میں تھی۔

مہر کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔

دانت پیستی ہوئی اس کی جانب متوجہ ہوئی۔

شاہ ویز کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔

مہر کو اس کی مسکراہٹ اندر تک جلا گئی۔

جھٹکے سے اپنی کلائی آزاد کروائی اور وہی ہاتھ اس کے منہ پر جھڑ دیا۔

شاہ ویز منہ کھولے مہر کو دیکھنے لگا۔

“آئیندہ اگر ایسا سوچا بھی تو اس سے برا پیش آؤں گی۔۔۔”

مہر انگلی اٹھاےُ شعلہ بار نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔

شاہ ویز لب بھینچے اسے دیکھنے لگا۔

اگلے لمحے وہ تیز تیز قدم اٹھاتا نکل گیا۔

مہر نے غصے سے مٹھی بھینچ لی۔

“شرم نہیں آتی اس بے غیرت کو اپنی بھابھی کو۔۔۔۔”

مہر نے سر جھٹکتے ہوۓ بات ادھوری چھوڑ دی۔

****///////****

حرم کے چہرے پر پریشانی کی لکریں تھیں اس کے برعکس ازلان پرسکون سا بیٹھ تھا۔

پروفیسر بول رہے تھے اور حرم غائب دماغی سے سن رہی تھی۔

کلاس ختم ہوئی تو آہستہ آہستہ سب منتشر ہونے لگے۔

حرم سر جھکاےُ بیٹھی تھی۔

ازلان بغور اسے دیکھ رہا تھا۔

تقریباً سب جا چکے تو ازلان حرم کے پاس آیا۔

“کیا ہوا تمہیں؟”

ازلان متحیر سا بولا۔

“ازلان تم نے کیوں اس کے ساتھ لڑائی کی؟”

حرم خوف کے زیر اثر بولی۔

“تم کیوں ڈر رہی ہو؟ ایسے لوگوں کا منہ بند کروانا پڑتا ہے۔۔۔”

ازلان اسے دیکھتا ہوا بولا۔

حرم نفی میں سر ہلانے لگی۔

“اچھا چھوڑو اسے آؤ چلتے ہیں۔۔۔”

ازلان اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔

حرم اپنا ہاتھ چھڑواتی کھڑی ہو گئی۔

“اپنا منہ سیدھا کر لو ورنہ میں کر دوں گا۔۔۔”

ازلان خفگی سے بولتا ہوا چلنے لگا۔

حرم نے کوئی جواب نہیں دیا۔

دونوں چلتے یونیورسٹی کی حدود سے باہر نکل آےُ۔