Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 12
Tawaif by Hamna Tanveer
سورج کی گرم نرم کرنیں کمرے میں آ رہیں تھیں۔
شاہ نے آنکھیں کھولیں،چہرہ موڑ کر مہر کو دیکھنے لگا جو آنکھیں موندے بے خبر سو رہی تھی۔
شاہ نے ہاتھ بڑھا کر مہر کی پیشانی پر منتشر بالوں کو سمیٹا۔
شاہ کے لمس پر مہر کی آنکھ کھل گئی۔
مہر آنکھیں جھپکاتی شاہ کو دیکھنے لگی۔
شاہ کے لبوں پر نرم سی مسکراہٹ تھی۔
مہر اس کے ہاتھ ہٹاتی اٹھ بیٹھی۔
روشن پیشانی پر تین لکریں نمایاں تھیں۔
“گلدان تم نے توڑا تھا؟۔۔۔۔۔”
شاہ یاد آنے پر بولا۔
“کیوں تمہارے جہیز کا تھا؟۔۔۔۔۔”
مہر بیزاری سے بولی۔
“تمہاری زبان ضرورت سے زیادہ چلتی ہے۔۔۔۔۔۔”
شاہ کے چہرے کے تاثرات سخت ہو گئے۔
“تم بھی تو اپنی حد سے باہر نکلتے ہو۔۔۔۔۔”
مہر بیڈ سے اترتی ہوئی بولی۔
“جا کر صاف کرو جو گند پھیلا رکھا ہے۔۔۔۔”
شاہ قہر برساتی نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔
“ملازم نہیں ہوں تمہاری اپنی حویلی سے دو چار ملازم لے آؤ۔۔۔۔۔”
مہر الماری کی جانب بڑھتی ہوئی بولی۔
شاہ برہمی سے دیکھتا اس کے پاس آیا۔
“ایک طوائف ہو کر تم میرے آگے زبان چلاتی ہو کسی میں اتنی جرأت نہیں کہ میرے آگے جواب دے۔۔۔۔۔”
شاہ طیش میں چلایا۔
“میں مہر ماہ ہوں میرا موازنہ دوسروں سے کرنے کی کوتاہی مت کرنا۔۔۔۔۔”
مہر چبا چبا کر بولی۔
“تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو اب تک میں اس کی زبان کٹوا چکا ہوتا۔۔۔۔۔۔”
شاہ اس کے بال دبوچتا ہوا بولا۔
تمہارے سامنے کوئی اور نہیں مہر ماہ کھڑی ہے۔۔۔۔۔”
مہر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی ہوئی بولی۔
شاہ کلس کر مہر کو دیکھنے لگا جو نڈر سی کھڑی تھی۔
جھٹکے سے اس کے بال آزاد کرتا پیچھے ہو گیا۔
“ملازم کب بھیجو گے۔۔۔۔۔”
مہر الماری میں کپڑے دیکھتی ہوئی بولی۔
“ملکہ نہیں ہو تم جو ملازم آئیں گے خود کرو سارے کام۔۔۔۔۔”
شاہ ہنکار بھرتا باہر نکل گیا۔
مہر نفی میں سر ہلاتی چلنے لگی۔
****///////****
حرم کلاس میں کھڑی اپنی چیزیں سمیٹ رہی تھی۔
ازلان نے اندر جھانکا حرم کو دیکھ کر صبح والا واقعہ یاد آ گیا۔
تاؤ کھاتا ہوا حرم کے عقب میں کھڑا ہو گیا۔
حرم کو کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو فوراً چہرہ موڑ کر دیکھنے لگی۔
ازلان کو دیکھ کر حلق خشک ہو گیا۔
“صبح میں بول رہا تھا اور تم بھاگ گئی۔۔۔۔۔”
ازلان اس کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔
حرم پیچھے ہٹنے لگی۔
“نہیں وہ مجھے جانا تھا۔۔۔۔۔”
حرم سنبھل کر بولی۔
“کون سے تمہارے بچے رو رہے تھے بتاؤ ذرا مجھے بھی۔۔۔۔۔”
ازلان تیوری چڑھا کر بولا۔
ازلان اس کی جانب بڑھتا جا رہا تھا اور حرم الٹے قدم اٹھاتی جا رہی تھی۔
“مجھے کلاس ہاں کلاس لینی تھی۔۔۔۔۔۔”
حرم سوچتی ہوئی بولی۔
“میرا خیال ہے میری کلاس بھی تمہارے ساتھ ہوتی ہے یا سر تمہیں اکیلی کو پڑھاتے ہیں۔۔۔۔”
ازلان چبا چبا کر بولا۔
حرم ڈیسک سے ٹکرائی اور بمشکل گرنے سے بچی۔
“میں تو کچھ بھی نہیں کرتی تم کیوں میرے پیچھے پڑے رہتے ہو۔۔۔۔۔”
حرم رونے والی شکل بناتی ہوئی بولی۔
“یہ تو وہی بات ہوئی الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ خود میرے پیچھے پڑی ہو اور مجھ پر الزام لگا رہی ہو۔۔۔۔۔”
ازلان آگے ہوتا گھورنے لگا۔
“می میں نے کیا کیا؟۔۔۔۔۔۔”
حرم معصومیت سے بولی۔
“صبح مجھے پین کس نے مارا تھا۔۔۔۔۔”
ازلان گھور کر بولا۔
“وہ تو ہوا نے مارا تھا میں نے تو نہیں۔۔۔۔۔”
حرم صاف مکر گئی۔
“سیفی بلا رہا ہے تمہیں۔۔۔۔۔”
حرم اس کے عقب میں دیکھتی ہوئی بولی۔
ازلان نے چہرہ موڑ کر عقب میں دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا۔
حرم مضبوطی سے بیگ پکڑے سائیڈ سے نکل گئی۔
ازلان مسکراتا ہوا نفی میں سر ہلانے لگا۔
“ذوناش میں نے سنا ہے حرم اور ازلان کا افئیر چل رہا ہے۔۔۔۔۔”
ذوناش کلاس میں بیٹھی تھی جب اس کے عقب میں بیٹھی لڑکی رازداری سے بولی۔
“ان دونوں کا نکاح ہوا پڑا ہے۔۔۔۔۔”
ذوناش بیزاری سے بولی۔
“اووہ اچھا اچھا میں سمجھ گئی۔
نجانے کتنے لوگوں کو ذوناش جواب دے چکی تھی اور ابھی بھی بہت سے پوچھ رہے تھے۔
****///////****
“اسے تیار کر آج یہ مجرا کرے گی۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم حرائمہ کو خونخوار نظروں سے گھورتی ہوئیں بولیں۔
“مہ میں کیسے؟۔۔۔۔۔۔”
حرائمہ بوکھلا گئی۔
“زیادہ بکواس کی تو ابھی دو چار آدمیوں کے سامنے ڈال دوں گی۔۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا۔
حرائمہ لب کاٹتی انہیں دیکھنے لگی۔
“بانی تیار کر اسے۔۔۔۔”
وہ حکم صادر کر کے باہر نکل گئیں۔
حرائمہ اشک بہاتی نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
بانی ہنکار بھرتی اس کے پاس آئی۔
حرائمہ التجائیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“مجھ سے کسی رحم کی توقع مت رکھنا جتنی جلدی اس ماحول میں خود کو سیٹ کر لو گی بہتر ہو گا کیونکہ بیگم صاحبہ ترس کھانے والوں میں سے نہیں۔۔۔۔۔”
بانی بولتی ہوئی کپڑے نکالنے لگی۔
حرائمہ کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔
کچھ ہی دیر میں بانی اسے تیار کرنے لگی۔
حرائمہ جو زندگی میں میک اپ کے نام پر آج تک صرف لپ اسٹک لگاتی آئی تھی اتنا ہیوی میک اپ پھر جیولری وہ کوئی اور حرائمہ لگ رہی تھی۔
حرائمہ نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا تو خود کو پہچاننے سے انکاری ہو گئی۔
“یہ گھنگھرو پہنو اب۔۔۔۔۔”
بانی سنگھار میز کے پر گھنگھرو پھینکنے کے سے انداز میں رکھتی ہوئی بولی۔
حرائمہ نم آنکھوں سے گھنگھرو پہننے لگی۔
اس کا ظاہر مکمل طور پر تبدیل کر دیا گیا تھا اور اس وقت وہ ایک طوائف معلوم ہو رہی تھی۔
“اگر کوئی الٹی سیدھی حرکت کی تو بیگم صاحبہ چھوڑیں گیں نہیں یاد رکھنا یہ جو آدمی بیٹھے ہیں نہ کتوں کی مانند پڑ جائیں گے تمہیں۔۔۔۔۔”
بانی اسے ساتھ لئے چل رہی تھی۔
حرائمہ کی آنکھوں میں خوف تیرنے لگا۔
اتنے آدمیوں کے سامنے مجرا کرنا خود پر لعنت ڈالنے کے مترادف لگ رہا تھا۔
وہ غریب تھی لیکن عزت دار تھی۔
لیکن اس کا حسن ہی اس کے گلے کا طوق بن گیا۔
کچھ لوگ گلہ کرتے ہیں کہ ہمیں فلاں جیسا حسین کیوں نہیں بنایا فلاں جیسے بال فلاں جیسی ناک فلاں جسا رنگ کیوں نہیں دیا انہیں شکر کرنا چائیے کہ اللہ نے جیسا بنایا بہت خوبصورت بنایا ہے ورنہ آج حرائمہ کی حالت دیکھ لیں جو اپنی خوبصورتی پر شکوے شکایتیں کر رہی تھی،
نہ اس کے پاس یہ رنگ روپ ہوتا نہ زندگی اس پر تنگ ہوتی۔
اللہ بہتر کرتا ہے لیکن انسان سمجھنے سے قاصر ہے۔
حرائمہ خود کو لعنت ملامت کرتی چلتی جا رہی تھی۔
حرائمہ کو لگ رہا تھا اس کا جنازہ نکلنے والا ہے کیونکہ مر وہ تو اسی دن گئی تھی جس دن زلیخا بیگم نے اسے اعجاز کے سپرد کر دیا تھا بس اس جسم کا مٹی میں دفن ہونا باقی تھا آج یہ رسم بھی ہونے والی تھی۔
مدھم مدھم روشنیاں جل رہیں تھیں۔
حرائمہ وسط میں آ کر کھڑی ہو گئی کیونکہ رانی اسے سیکھا چکی تھی رقص۔
حرم نے اپنے ضمیر کا جنازہ پڑھا۔
آنکھیں بند کیں موسیقی سنائی دے رہی تھی۔
تمام عزت دار افراد بےصبری سے اس نئی بے حیا دوشیزہ کو دیکھ رہے تھے۔
حرائمہ اردگرد سے بیگانہ ہو گئی وہ تھی اور موسیقی کی دھن۔
نظر جو تیری لاگی میں دیوانی ہو گئ
دیوانی ہاں دیوانی، دیوانی ہو گئی
مشہور میرے عشق کی کہانی ہو گئی
جو جگ نے نہ مانی تو میں نے بھی ٹھانی
کہاں تھی میں دیکھو کہاں چلی آئی
کہتے ہیں دیوانی مستانی ہو گئی
مشہور میرے عشق کی کہانی ہو گئی
جو جگ نے نہ مانی تو میں نے بھی ٹھانی
کہاں تھی میں دیکھو کہاں چلی آئی
کہتے ہیں دیوانی مستانی ہو گئی
دیوانی ہاں دیوانی ، دیوانی ہو گئی
حرائمہ کے رخسار آنسوؤں سے تر ہو چکے تھے۔
وہ سب کچھ بھول کر رقص کر رہی تھی۔
کسی کی جان نکل رہی تھی اور کسی کو لطف آ رہا تھا۔
ان کی تفریح کے عوض ایک جان موت کے گھاٹ اتار دی گئی۔
حرائمہ خود پر غلیظ نظریں محسوس کر رہی تھی جو خود کو عزت دار کہلواتے تھے جبکہ بے غیرت تو وہی تھے۔
حرائمہ گھوم رہی تھی اور گھومتی گھومتی زمین پر گر گئی۔
وہاں بیٹھے افراد سمجھ رہے تھے کہ شاید وہ خود بیٹھی ہے۔
بانی گھبرا کر اس کے پاس آئی اور اسے اپنے ساتھ لگاےُ چلنے لگی۔
موسیقی بند ہو چکی تھی۔
گھنگھرو کی آواز بھی دم توڑ چکی تھی۔
اور شاید حرائمہ بھی۔
“بیگم صاحبہ ڈاکٹرنی کو بلائیں مر ور تو نہیں گئی یہ۔۔۔۔۔”
بانی حرائمہ کے بے جان وجود کو بیڈ پر گراتی ہوئی بولی۔
“ہاےُ ہاےُ کمبخت ایسا کیا کروا لیا ایک مجرا ہی کیا ہے۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم منہ بناتی ہوئیں بولیں۔
بانی ان کا فون لے آئی اور وہ نمبر ملانے لگیں۔
****///////****
“شاہ ویز آئم رئیلی سوری پلیز اب تو معاف کر دو۔۔۔۔۔”
عینی کان پکڑے کھڑی تھی اور شاہ ویز رخ موڑے ہوۓ تھا۔
“عینی وہ میرے بڑے بھائی ہیں اور مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں میں ان کے خلاف ایک بھی لفظ برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔”
شاہ ویز سختی سے بولا۔
“اوکے بےبی آئی پرامس کبھی ایسا نہیں ہو گا۔۔۔۔۔”
عینی اس کے ہاتھ تھامتی ہوئی بولی۔
عینی شاہ ویز نے سینے سے لگی ہوئی تھی۔
شاہ ویز کے لب دھیرے سے مسکراےُ۔
دونوں بازو عینی کے گرد حائل کر کے شاہ ویز نے آنکھیں بند کر لیں۔
عینی بھی مسکرانے لگی۔
“تمہاری وجہ سے مجھے اتنی ڈانٹ پڑی جانتے ہو؟۔۔۔۔۔”
عینی خفگی سے بولی۔
شاہ ویز گاڑی سے ٹیک لگا کر اسے دیکھنے لگا۔
“غلطی بھی تو تمہاری تھی پھر سزا تو ملنی ہی تھی۔۔۔۔۔”
وہ شانے اچکاتا ہوا بولا۔
“اب دیکھو آج بھی کتنا لیٹ ہو گئی میں وہ چوکیدار سو سوال کرتا ہے کہاں گئی تھی، کیوں گئی تھی، کس کے ساتھ گئی تھی۔۔۔۔۔”
“تم کہ دیا کرو اپنی جان سے ملنی گئی تھی۔۔۔۔۔” شاہ ویز اسے اپنی جانب کھینچتا ہوا بولا۔
“ہاں تاکہ میرے گھر والوں کو بلا کر مجھے ہاسٹل سے نکال دے وہ۔۔۔۔۔۔”
عینی منہ بسورتی ہوئی بولی۔
شاہ ویز نے اس کے رخسار پر اپنے لب رکھے اور سیدھا ہو گیا۔
“چلو تمہیں ڈراپ کر دوں۔۔۔۔۔”
عینی مسکراتی ہوئی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئ۔
حرم کھڑکی میں کھڑی تھی جب اس کی نظر اس سیاہ گاڑی پر پڑی۔
“یہ گاڑی تو شاہ ویز بھائی کی ہے، بھائی مجھ سے ملنے آےُ ہیں کیا۔۔۔۔۔۔”
حرم خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو گئی۔
لیکن جونہی نظر گاڑی کے اندر بیٹھے نفوس پر پڑی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
“عینی چھوٹے بھائی کے ساتھ۔۔۔۔۔” حرم کے لب پھڑپھراےُ۔
“کیا بولے جا رہی ہو۔۔۔۔۔”
انشرح کتاب کو گھورتی ہوئی بولی۔
“نہیں کچھ نہیں۔۔۔۔۔”
حرم سنبھل کر بولی۔
“ہاں عینی ہی ہے مطلب عینی چھوٹے بھائی کے ساتھ۔۔۔۔۔”
حرم بے یقینی کی کیفیت میں بول رہی تھی۔
“اب سمجھ میں آیا شعیب نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا۔۔۔۔۔”
بولتے بولتے حرم کی آنکھیں چھلک پڑیں۔
“سہی کہتے ہیں اگر کوئی لڑکا کسی لڑکی کے ساتھ برا کرتا ہے تو اس کا بدلہ اس کی بہن کو چکانا پڑتا ہے چھوٹے بھائی کی غلطیوں کی سزا مجھے بھگتنی پڑی وہ بد تمیز میری عصمت کو تار تار کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔”
حرم دل ہی دل میں بولتی بے آواز رو رہی تھی۔
“مصطفیٰ بھائ کو علم ہوا تو کتنا دکھ ہو گا انہیں چھوٹے بھائی ایسے تو نہیں تھے۔۔۔۔۔”
حرم آنسو بہاتی کھڑکی سے پار دیکھ رہی تھی۔
“اچھا نہیں کیا آپ نے بھائی۔۔۔۔۔”
حرم چہرہ رگڑتی ہوئی بولی۔
“حرم کس کے ساتھ باتیں کر رہی ہو؟۔۔۔۔۔”
اب کی بار آمنہ بولی۔
“کسی کے ساتھ بھی نہیں بس ایسے ہی۔۔۔۔۔”
حرم جبراً مسکرائی۔
“ازلان کو فون کرو کوئی اسے بتاؤ اس کی بیگم اس کی یاد میں رو رہی ہے۔۔۔۔۔۔”
ذوناش طنزیہ بولی۔
حرم چہرہ جھکاےُ اپنے بیڈ کی جانب چلنے لگی۔
ذوناش اور حرم کے بیچ ایک تلخی سی پیدا ہو گئی تھی۔
****///////****
مہر آئینے کے سامنے کھڑی سرخ لپ اسٹک سے ہونٹوں کو پوشیدہ کر رہی تھی۔
وہ جانتی تھی شاہ ضرور آےُ گا۔
بال کھول کر ان میں برش چلانے لگی۔
وہ حسن کی ملکہ شاہ کو تباہ کرنے کی غرض سے ہتھیاروں سے لیس ہو رہی تھی۔
مہر ننگے پاؤں زمین پر کھڑی تھی۔
وہ اپنے گورے ملائم پیروں کو دیکھ رہی تھی جن پر سرخ نیل پالش غضب ڈھا رہی تھی ہاتھوں پر بھی سرخ رنگ کی نیل پالش لگا کر ان کی زینت بڑھ رکھی تھی۔
مہر کو قدموں کی چاپ سنائی دی لب دم بخود مسکرانے لگے۔
جس کی وہ منتظر تھی وہ آ ہی گیا تھا۔
شاہ اندر آیا تو مہر کو دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔
“کیا ہوا پہچان میں نہیں آ رہی کیا؟۔۔۔۔۔”
مہر چلتی ہوئی اس کے مقابل آ گئی۔
خاموشی میں پائیل کی آواز گونجنے لگی تھی۔
شاہ سر تا پیر اس کا جائزہ لے رہا تھا۔
“کافی دنوں بعد یہ روپ دیکھا ہے نہ تبھی۔۔۔۔۔”
شاہ نے ہاتھ بڑھا کر مہر کے چہرے کو چھونا چاہا لیکن مہر نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
“تمہیں چھونے کا حق نہیں دیا۔۔۔۔۔۔”
مہر پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی بولی۔
“سئیرئسلی؟۔۔۔۔۔”
شاہ استہزائیہ ہنسا، اس کا اشارہ گزشتہ رات کی جانب تھا۔
“ہوں۔۔۔۔۔”مہر نے سر جھٹکا۔
“میں تمہیں فون دوں گا اس میں تم وہ بیان سننا جس میں شوہر کے حقوق بیان کیے جائیں۔۔۔۔۔”
شاہ اسے نظروں کے حصار میں لیتا ہوا بولا۔
“اور تم وہ بیان سننا جس میں شوہر کے فرائض بیان کیے جائیں۔۔۔۔۔۔”مہر تنک کر بولی۔
“شاہ تمہارے حسن کا اسیر ہے لیکن جب تم یہ زبان چلاتی ہو نہ بخدا زہر لگتی ہو۔۔۔۔۔”
شاہ اس کی بازو پکڑتا ہوا بولا۔
مہر نے ہنسنے پر اکتفا کیا۔
“چلو آؤ باہر چلتے ہیں۔۔۔۔۔” شاہ باہر کی جانب قدم بڑھاتا ہوا بولا۔
“مجھے کہیں نہیں جانا تمہارے ساتھ۔۔۔۔”
مہر اس کا ہاتھ ہٹاتی ہوئی بولی۔
“تم وہی کرو گی جو میں بولوں گا بھولوں مت خرید کر لایا ہوں تمہیں۔۔۔۔۔”
شاہ چہرہ موڑ کر بولا۔
چہرے پر سختی نمایاں تھی۔
“میں نے اپنی قیمت نہیں لگوائی تھی سمجھے, تم مجھے زبردستی لاےُ ہو۔۔۔۔۔”
مہر دانت پیستی ہوئی بولی۔
“واٹ ایور جیسے بھی آئی ملکیت تم میری ہو۔۔۔۔۔”
شاہ لاپرواہی سے کہتا قدم بڑھانے لگا۔
مہر نا چاہتے ہوۓ بھی اس کے ساتھ چل دی۔
“ویسے اس تیاری کی وجہ؟۔۔۔۔۔”
شاہ آبرو اچکا کر بولا۔
“بتانا ضروری نہیں سمجھتی میں۔۔۔۔۔”
مہر تپ کر بولی۔
“تم میرا دماغ خراب کر دیتی ہو۔۔۔۔۔۔”
شاہ غصے سے دیکھتا اسے اپنی جانب کھینچتا ہوا بولا۔
“تو میں کیا کروں علاج کرواؤ جا کر اپنا۔۔۔۔۔”
مہر شاہ کے بے حد نزدیک تھی۔
“علاج بھی تمہارے پاس ہی ہے۔۔۔۔۔۔”
شاہ وارفتگی سے دیکھتا ہوا بولا۔
“دور ہٹو مجھ سے۔۔۔۔۔”
مہر اس کے سینے پر اپنے دودھیا ہاتھ رکھ کر پرے دھکیلتی ہوئی بولی۔
