Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 4
Tawaif by Hamna Tanveer
“لو جی، یہ بتاؤ تمہیں اپنا آپ معلوم ہوتا ہے یا نہیں۔۔۔۔۔” وہ آنکھیں چھوٹی کیے بولی۔
“ظاہر سی بات ہے معلوم ہوتا۔۔۔۔۔”
حرم شانے اچکا کر بولی۔
اور سب سے بڑی بات ازلان شاہ ریس میں حصہ لے رہا ہے۔۔۔۔۔”
ذوناش کمرے میں قدم رکھتی ہوئی چلائی۔
“اووہ ذونی کیا اینٹری ماری ہے۔۔۔۔۔”
آمنہ اس کے گلے لگتی ہوئی بولی۔
ذوناش بائیں آنکھ دباتی مسکرانے لگی۔
“تمہیں سب معلوم ہوتا ہے ہاں۔۔۔۔”
حرم اس سے ملتی ہوئی بولی۔
“بلکل تم بھول گئی بی بی سی نیوز ہوں میں۔۔۔۔۔”
وہ شرارت سے بولی۔
“تمہاری ماما کی طبیعت کیسی ہے اب۔۔۔۔۔”
آمنہ بیڈ پر بیٹھتی ہوئی بولی۔
“ہاں اب بہتر ہے اس لئے آ گئی۔۔۔۔۔”
وہ ہینڈ بیگ رکھتی ہوئی بولی۔
“یار ذوناش صبح آ جاتی اتنی جلدی کس بات کی تھی تمہارے کون سا بچے رو رہے تھے یہاں؟۔۔۔۔۔”
آمنہ شرارت سے بولی۔
“تم سب میرے بچے ہی تو ہو۔۔۔۔۔”
وہ لب دباےُ مسکراتی ہوئی بولی۔
“ذونی تمہیں کس نے بتایا کہ ازلان ریس میں حصہ لے رہا ہے؟۔۔۔۔۔”
حرم حیرت سے بولی۔
“تم لوگ یونی میں رہ کر بھی موجود نہیں ہوتے اور میں یونی میں نہ ہو کر بھی موجود ہوتی ہوں۔۔۔۔۔”
وہ شرٹ کی کالر کھڑی کرتی ہوئی بولی۔
سب مسکرانے لگیں۔
“ہاں بھئی تم تو ذوناش ہو۔۔۔۔۔” انشرح الماری سے سر باہر نکالتی ہوئی بولی۔
“اچھا سب چھوڑو یہ بتاؤ تم لوگ کیا پہن رہے ہو کل؟۔۔۔۔۔”
وہ بالوں کا جوڑا بناتی ہوئی بولی۔
“میں سوچ رہی تھی سپورٹس ڈے ہے تو پھر سپورٹس سے متعلقہ کپڑے ہوں۔۔۔۔۔” آمنہ کہ کر سب کو دیکھنے لگی۔
“یار پلیز دعا کرنا کل میرا کرش مجھے دیکھ لے۔۔۔۔” انشرح آہ بھرتی ہوئی بولی۔
“آمین ثم آمین یا رب العالمین۔۔۔۔۔” ذوناش جھٹ سے بولی۔
ذوناش کی بات پر سب مسکرانے لگیں۔
“حرم تم کیا پہنو گی؟۔۔۔۔۔”
ذوناش اس کی جان رخ موڑتی ہوئی بولی جو خاموش بیٹھی تھی۔
“میں کوئی بھی پہن لوں گی جیسے روز پہن کر جاتی ہوں۔۔۔۔۔”
“حرم تم کل بھی شلوار قمیص پہنوں گی نو۔۔۔۔۔”
ذوناش نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔
“پھر۔۔۔۔”
حرم پریشانی سے بولی۔
“تم بھی ہمارے جیسی ڈریسنگ کرو گی میں سب کے لئے شرٹس لائیں ہوں جینز تو سب کے پاس ہے نہ؟۔۔۔۔۔”
ذوناش اونچی آواز میں بولی تاکہ الماری میں سر دئیے انشرح بھی سن لے۔
“لیکن ذونی میرے پاس تو جینز بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔”
حرم کی پیشانی پر تین لکریں ابھریں۔
“تم فکر مت کرو میں نے تمہارا انتظام کر لیا ہے۔۔۔۔” ذونی نرمی سے مسکراتی ہوئی بولی۔
“لیکن میں نے کبھی نہیں پہنی۔۔۔۔۔”
حرم فکرمندی سے بولی۔
“تو کیا ہوا ویسے بھی تمہارے لئے میں نے شرٹ تھوڑی سے لانگ لی ہے اس لئے تمہیں بھی عجیب نہیں لگے گا اب ہم سب سیم پہنے گے میں کچھ نہیں سنوں گی۔۔۔۔۔”
ذوناش حتمی انداز میں بولی۔
حرم متفکر سی لب دباےُ سب کو دیکھنے لگی۔
****///////****
مہر منہ اندھیرے کمرے سے نکلی۔
راہداری میں خاموشی کا راج تھا عموماً اس وقت سب سو رہے ہوتے ہیں۔
وہ راہداری میں سیدھا چلنے لگی۔
پھر دائیں جانب مڑ کر ریلنگ پر ہاتھ رکھے نیچے دیکھنے لگی جہاں روزانہ وہ مجرا کرتی۔
خاموشی میں دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی۔
مہر نے چہرہ موڑ کر دیکھا تو اس کے عقب میں جو کمرہ تھا وہاں سے رانی نکلتی دکھائی دی،
نازیبا لباس دوسرے لفظوں میں نائٹی پہنے جس کا گلا ضرورت سے زیادہ گہرا تھا وہ قہقہ لگاتی آ رہی تھی۔
مہر نے سانس خارج کر کے چہرہ موڑ لیا۔
مہر اس وقت ٹراؤذر کے ساتھ ٹی شرٹ پہنے ہوۓ تھی۔
ایک وہی تھی اس کوٹھے پر جس کا لباس باقی سب سے منفرد ہوتا۔
مہر ہمیشہ کی مانند ننگے پاؤں چل رہی تھی پائیل شور پیدا کر رہی تھی۔
اس کوٹھے میں صرف اس کی پائیل کی آواز سنائی دیتی تھی کیونکہ باقی سب گھنگھرو پہنتی تھیں اور مہر نے کبھی گھنگھرو نہیں پہنے تھے۔
وہ اپنی مرضی کی مالک تھی اور اپنی ہی مرضی مسلط کرتی تھی۔
“بانی۔۔۔۔”
بانی جو نیچے تھی سر اٹھا کر مہر کو دیکھنے لگی۔
“جی مہر بی بی۔۔۔۔۔”
“مجھے پارلر جانا ہے کلر کروانے گاڑی تیار کروا دینا۔۔۔۔۔”
“جی ٹھیک ہے بی بی جی۔۔۔۔۔”
بانی سر ہلاتی باہر نکل گئ۔
بھوری لٹیں مہر کے رخسار پر بوسے دے رہیں تھیں۔
مومل جیسی انگلیوں سے انہیں پرے کرتی چلنے لگی۔
****////////****
“آمنہ مجھے بہت عجیب لگ رہا ہے۔۔۔۔۔”
حرم خود کو آئینے میں دیکھتی ہوئی بولی۔
ڈائر وولوز کے نام کی آدھی آستین والی ٹی شرٹ پہنے جس پر بنا آستین والی شرگ پہن رکھی تھی جو گھٹنوں تک آ رہی تھی۔
“کچھ بھی عجیب نہیں لگے رہا بلکہ تم تو بہت اچھی لگ رہی ہو, ذونی دیکھو ذرا اسے۔۔۔۔۔”
آمنہ حرم کا رخ ذوناش کی جانب موڑتی ہوئی بولی۔
“واہ حرم کمال لگ رہی ہو۔۔۔۔۔” ذوناش کی آنکھوں میں ستائش تھی۔
سیاہ سٹیپ میں کٹے بالوں کو ٹیل پونی کی شکل میں مقید کر رکھا تھا میک اپ کے نام پر صرف پنک کلر کی لپ اسٹک لگا رکھی تھی جو اس کے گندمی رنگ کو پرکشش بنا رہی تھی۔
اپنی تمام تر معصومیت لئے وہ دلکش لگ رہی تھی۔
“مجھے تو اچھا نہیں لگ رہا یہ۔۔۔۔۔”
وہ شرٹ پکڑتی ہوئی بولی۔
“میں چینج کرنے جا رہی ہوں۔۔۔۔۔۔”
حرم الماری کی جانب بڑھتی ہوئی بولی۔
“خبردار اگر تم نے چینج کرنے کا نام لیا تو۔۔۔۔۔”
انشرح اس کی راہ میں آتی ہوئی بولی۔
حرم بےچارگی سے اسے دیکھنے لگی۔
“اتنی پیاری لگ رہی ہو فضول میں ناشکری کرتی ہو۔۔۔۔۔”
وہ خفگی سے بولی۔
“ہاسٹل سے نکلنا ہے بھی یا نہیں۔۔۔۔”
ذوناش دروازے میں کھڑی ہو کر بولی۔
حرم جو منہ بسورے کھڑی تھی آمنہ اس کا بازو پکڑ کر دروازے کی جانب چلنے لگی۔
وسیع و عریض گراؤنڈ میں ایک جانب سٹیج بنایا ہوا تھا تو اس کے دائیں جانب بیٹھنے کی جگہ تھی جس کے سامنے ریس کے لئے ٹریک بنایا گیا تھا۔
دوسری سمت میں سیک ریس کا انتظام کیا گیا تھا۔
حرم خود میں سمٹ کر چل رہی تھی۔
“ایسا لگ رہا ہے سب مجھے ہی دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔”
وہ گلے میں سکارف ڈالتی ہوئی بولی۔
“تم پاگل ہو حرم، ہم اپنی ٹیم کو سپورٹ کرنے آئیں ہیں۔۔۔۔”
آمنہ آہستہ آواز میں بولی۔
نگاہوں کے عین مقابل ازلان اور اس کا گروپ کھڑا تھا۔
وہ سب بھی ڈائر وولوز کے نام کی ٹی شرٹس پہنے ہوۓ تھے۔
ازلان کچھ بول رہا تھا جب اس کی نظر ان سب پر پڑی۔
حرم وسط میں تھی دائیں جانب ذوناش اور بائیں جانب آمنہ تھی۔
انشرح ان کے عقب میں اپنے کرش کی تلاش میں اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی۔
ازلان دلچسپی سے دیکھنے لگا اس کی آنکھوں میں ستائش تھی،پسندیدگی تھی اور خوشی بھی۔
لب دھیرے سے مسکراےُ اور اس نے نظروں کا زاویہ موڑ لیا ذوناش بھی مسکرا رہی تھی۔
وہ سب آ کر بیٹھ گئیں۔
سب سے پہلے ریس کا آغاز ہوا۔
ازلان مغرور چال چلتا ہوا آ رہا تھا۔
تمام سٹوڈنٹس جو ریس میں حصہ لے رہے تھے اپنی اپنی ٹیم کے نام کی شرٹس زیب تن کئے ہوۓ تھے۔
ازلان اس سرخ اور سیاہ رنگ کی ٹی شرٹ میں دلنشیں لگ رہا تھا اس پر اس کا غرور چار چاند لگا دیتا۔
ریس میں شریک سٹوڈنٹس نے ہاتھ زمین پر رکھے۔
سیٹی کی آواز گونجی اور سب بھاگنے لگے۔
سب اپنی اپنی ٹیم کے ممبر کو پکار رہے تھے۔
آوازیں ہی آوازیں سنائی دے رہیں تھیں۔
حرم چہرے پر سنجیدگی سجاےُ ازلان کو دیکھ رہی تھی جو سب سے آگے نکل رہا تھا۔
اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ اختتامی لائن تک آ گیا۔
دونوں ہاتھ کھولے وہ آگے آیا اور ربن نیچے گر گیا۔
نعرے سنائی دینے لگے،
شور پہلے سے کئی گنا بڑھ گیا۔
ازلان کے گروپ نے اسے کندھے پر اٹھا لیا اور اس کی گردن فخر سے مزید تن گئی۔
لاشعوری طور پر ازلان کی نظر حرم کے گروپ پر گئ۔
ذوناش مسکرا رہی تھی،
ازلان بھی مسکرانے لگا۔
حرم جو ازلان کو دیکھ رہی تھی اس کی نظریں محسوس کر کے سٹپٹا گئ۔
سب آ کر اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے۔
اب باری آئی رسہ کشی کی۔
ایک طرف سینیر تو دوسری جانب جونیئر،
مقابلہ برابری کا تھا دونوں ہی سر توڑ کوشش کر رہے تھے جیتنے کی۔
جونیئر کا پلہ بھاری ہوا۔
انہوں نے جھٹکے سے رسی کھینچی اور تمام سینیر لائن پار کر کے ان کی جانب آ گرے۔
گراؤنڈ میں پھر سے شور سنائی دینے لگا۔
نعرے بازی ہونے لگی۔
مانو جنگ کا میدان بنا رکھا تھا۔
“اب چلتے ہیں سیک ریس کی طرف۔۔۔۔۔”
پروفیسر مائیک کے سامنے کھڑے بول رہے تھے۔
ریس میں شریک طالبات نے بوری میں پاؤں ڈالے اور ناف تک لا کر بوری اوپر سے باندھ لیا۔
سیٹی کی آواز گونجی اور وہ سب چھلانگیں لگانے لگے۔
جونیئرز کا ایک کھلاڑی منہ کے بل زمین پر جا گرا باقی سب اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھے۔
شاید جونیئرز کی قسمت اچھی تھی اس ریس کے فاتح بھی وہی کہلاےُ۔
“ذونی چلو کچھ کھانے چلتے ہیں۔۔۔۔۔”
حرم پروفیسر کو دیکھتی ہوئی بولی جو فاتح کو چیخ چیخ کر پکار رہے تھے۔
“بھوک تو مجھے بھی لگی ہے چلو چلتے ہیں۔۔۔۔۔”
ذوناش کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔
“یار جلدی چلو نہ میرا کرش بھی کیفے کی جانب گیا ہے۔۔۔۔۔۔”
انشرح سب سے آگے نکلتی ہوئی بولی۔
“سچی یہ اویس کے پیچھے پاگل ہے۔۔۔۔۔”
آمنہ نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔
حرم اور ذوناش دونوں مسکرانے لگیں۔
اتفاق سے ازلان کا گروپ بھی کیفے میں ہی براجمان تھا۔
“آج میں کچھ لینے نہیں جاؤں گی۔۔۔۔۔”
جونہی حرم کی نظر ازلان سے ٹکرائی وہ فوراً بول پڑی۔
آمنہ نے چہرے کا زاویہ موڑا اور ازلان دکھائی دیا تو بےساختہ قہقہ لگاتی حرم کو دیکھنے لگی جو حونق زدہ سی کھڑی تھی۔
“یار انسان ہی ہے وہ۔۔۔۔۔” ذوناش کہتی ہوئی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئ۔
“مجھ پر تو کسی آتش فشاں پہاڑ کی مانند پھٹا ہے۔۔۔۔۔۔”
حرم منہ بناتی بیٹھ گئ۔
انشرح بے چینی نے اویس کو دیکھ رہی تھی۔
“یار یہ لڑکی کون ہے اس کے ساتھ۔۔۔۔۔”
وہ آنکھیں چھوٹے کئے بولی۔
“یار دھواں اٹھ رہا ہے نہیں۔۔۔۔۔”
آمنہ شرارت سے بولی۔
“منہ توڑ دینا ہے میں نے کوئی فضول گوئی کی تو، اب بتاؤ یہ لڑکی کون ہے۔۔۔۔۔”
انشرح خونخوار نظروں سے گھورتی ہوئی بولی۔
“بہن تیری سوتن ہے۔۔۔۔۔”
انشرح نے لقمہ دیا۔
“نا کر یار۔۔۔۔۔”
انشرح مظلومیت سے بولی۔
“کیوں نہ کروں۔۔۔۔” ذوناش قہقہ لگاتی ہوئی بولی۔
ازلان لب دباےُ انہیں دیکھ رہا تھا نا جانے کیوں آج نگاہ بار بار اِدھر اٹھ رہی تھی۔
“بھائی پیار ویار تو نہیں ہو گیا۔۔۔۔۔”
سیفی اس کی نظروں کا تعاقب کرتا ہوا بولا۔
“ہاں بلکل تیری بیٹی سے جو کچھ ہی دن میں اس دنیا میں آےُ گی۔۔۔۔۔”
ازلان جل کر بولا۔
“بے غیرت ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔”
سیفی معصومیت سے بولا۔
“جلدی کر پھر میں انتظار کر رہا ہوں تیری بیٹی کا۔۔۔۔۔”
ازلان بائیں آنکھ دباتا ہوا بولا۔
“لعنت ہو کمینے۔۔۔۔۔” سیفی جی بھر کر بدمزہ ہوا۔
اسے دیکھ کر سب قہقہے لگانے لگے۔
“ذونی تو نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا اس چڑیل بلو باندری کا۔۔۔۔۔”
انشرح جل بھن کر بولی۔
“امی کا فون آ رہا ہے، میں ابھی آئی۔۔۔۔۔”
حرم کہتی ہوئی چلی گئ۔
ازلان کی نظر ذوناش سے ہوتی حرم پر گئ۔
“کدھر بھائی۔۔۔۔۔” وکی کھڑا ہوتا دیکھ کر بولا۔
“حساب چکتا کرنے۔۔۔۔۔”
ازلان کہتا ہوا چل دیا۔
چہرے پر سنجیدگی طاری تھی۔
“یار میں نے سوچا تمہارا دل ٹوٹ جاےُ گا اگر میں تمہیں بتا دوں کہ اویس کی گرل فرینڈ ہے۔۔۔۔۔”
ذوناش ازلان کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“تو پھر اب کیوں بتایا؟ نہ بتاتی مجھے لاعلم ہی رہنے دیتی۔۔۔۔”
وہ چہرہ ٹیبل پر گراتی دہائی دیتی ہوئی بولی۔
“اب تو دل میں دراڑ آ گئی تو میں نے سوچا ٹوٹ ہی جاےُ۔۔۔۔۔”
ذوناش قہقہ لگاتی ہوئی بولی۔
آمنہ بھی لب دباےُ مسکرا رہی تھی۔
“ہاےُ کمینہ دیکھ ہی نہیں رہا۔۔۔۔۔”
انشرح اویس کو دیکھتی ہوئی بولی جو اب تنہا بیٹھا تھا۔
“اور وہ کمینہ جو دیکھ رہا ہے اس کا کیا؟۔۔۔۔۔”
آمنہ بائیں جانب بیٹھے لڑکے کی جانب اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
انشرح اور ذوناش دونوں نے بیک وقت اس سمت میں دیکھا مقابل نے بھرپور انداز میں دانتوں کی نمائش کی۔
“بےغیرت کیسے دیکھ رہا گٹر میں گرے میری بلا سے۔۔۔۔۔”
انشرح بولتی ہوئی پھر سے اویس کو دیکھنے لگا۔
****///////****
“شاہ صاحب آپ اس وقت۔۔۔۔”
زلیخا بیگم دوپہر میں انہیں یہاں دیکھ کر گھبرا گئیں۔
“بلکل میں نے سوچا بہت وقت برباد کر لیا اب مزید نہ کیا جاےُ۔۔۔۔”
شاہ ٹانگ پے ٹانگ چڑھاےُ آرام دہ انداز میں بیٹھا تھا صوفے کی پشت سے ٹیک لگاےُ بازو صوفے کی پشت پر رکھے زلیخا بیگم کو دیکھتا ہوا بولا۔
“میں سمجھ رہی ہوں آپ کی بات۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم نے مسکرانے کی سعی کی لیکن مسکرا نہ سکی۔
مہر ماہ جو ابھی پارلر سے واپس آئی تھی شاہ کو زلیخا کے کمرے میں جاتے ہوۓ دیکھ چکی تھی۔
چادر کمرے میں پھینک کر وہ زلیخا بیگم کے کمرے کی جانب چلنے لگی۔
“یہ چیک خالی ہے جتنی چاہیں رقم لکھیں مہرماہ میری ہے اب۔۔۔۔”
شاہ دو ٹوک انداز میں بولا۔
“حضور کچھ تو رحم کریں مجھ غریب پر۔۔۔۔” وہ شاہ کے ہاتھ میں لہراتا ہوا چیک دیکھ کر بولی۔
شاہ تیکھے تیور لئے اسے گھورنے لگا۔
“تم ہو کون میری قیمت لگانے والے۔۔۔” مہرماہ دھاڑ سے دروازہ کھول کر اندر آئی۔
شاہ مصطفی کمال نے ایک اچٹتی نظر اس پر ڈالی۔
“مہرماہ تم باہر جاؤ ہم بات کر رہے ہیں نہ۔۔۔” زلیخا بیگم نے بات سنبھالنی چاہی۔
“بتاؤ مجھے تم کیا سمجھتے ہو خود کو جو میرا سودا کر رہے ہو۔۔۔۔”
مہرماہ اس کے عین مقابل آ گئی۔
شاہ کھڑا ہو گیا۔
“تمہیں تو خوش ہونا چائیے اس ذلت سے نجات دلا رہا ہوں.۔۔۔۔”وہ چبا چبا کر بولا۔
“مجھے آزادی دلوا کر تم کیا ثابت کرنا چاہتے ہو بہت اچھے انسان ہو ہممم, اتنے ہی پاکباز ہو تو یہاں کیا کرنے آتے ہو,تم جیسے مردوں کو ہم طوائف سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔۔۔۔”
چہرے پر تلخی اور لفظوں میں حقارت, شاہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔
“تم ایک طوائف ہو کر مجھ سے اس لہجے میں بات کر رہی ہو۔۔۔۔” وہ غرایا۔
“یہ تمہارے باپ کی ملکیت نہیں نہ ہی مہرماہ تمہاری جاگیر ہے جس کا سودا تم کرو۔۔۔۔”
مہرماہ کی آواز بھی دیواروں کو پھلانگنے لگی۔
زلیخا بیگم حیران پریشان سی ان دونوں کو دیکھ رہیں تھیں۔
“سودا تو تمہارا ہو گا بلکہ ہو چکا ہے,جاؤ گی تم میرے ساتھ ہی۔۔۔۔” شاہ اس کی بازو دبوچتا ہوا بولا۔
وہ نازک حسن کا سراپا, اس کی مضبوط گرفت پر بھی اف نہ کر سکی, بلا کی سختی تھی۔
“زلیخا بیگم یہ چیک جب دل چاہے کیش کروائیں, اپنی چیز میں لے جا رہا ہوں۔۔۔۔”
وہ چیک ٹیبل پر پھینکتا زہر آلود نظروں سے مہرماہ کو دیکھتا ہوا بولا۔
“تم جیسے مردوں۔۔۔۔”
“بہت بول لیا اب مزید ایک لفظ نہیں ۔۔۔۔”
شاہ نے اس کی کلائی پکڑی اور باہر کی جانب قدم بڑھانے لگا۔
