Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 8
Tawaif by Hamna Tanveer
مولوی صاحب نے ہاتھ اٹھاےُ اور اونچی آواز میں دعا مانگنے لگے۔
مہر کے اشک اس کی ہتھیلیوں کو بھگو رہے تھے۔
دل تھا کہ بے قابو ہوتا جا رہا تھا۔
اس لمحے مہر کو کیا کیا نہ یاد آیا۔
وہ کرب میں تھی۔
تکلیف حد سے سوا تھی۔
“مہر تم کمرے میں جاؤ۔۔۔۔۔”
شاہ اس کے قریب ہوتا سرگوشی کرنے لگا۔
مہر بنا کچھ بولے کھڑی ہوئی اور کمرے میں چلی گئ۔
مہر کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا ناک اور آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔
میک سے عاری چہرہ دلنشیں لگ رہا تھا۔
مہر زمین پر بیٹھ گئی۔
شاید وہ اپنی اوقات فراموش نہیں کرنا چاہتی تھی۔
مہر بلک بلک کر رو رہی تھی۔
شاہ اندر آیا تو ناگواری سے مہر کو دیکھنے لگا۔
“کون مر گیا ہے جو ایسے رو رہی ہو؟۔۔۔۔۔”
شاہ اس کے مقابل آتا ہوا بولا۔
شاہ کی موجودگی کا احساس ہوا تو مہر نے اپنا چہرہ صاف کیا اور کھڑی ہو گئی۔
شاہ بغور اس کے نقش دیکھ رہا تھا وہ معمول سے زیادہ حسین لگ رہی تھی یا شاید شاہ کو ایسا لگ رہا تھا۔
مہر اس کے سامنے آ گئی۔
“فائنلی مجھے اپنی قیمت وصول کرنے کا موقع ملا۔
شاہ اس کی جانب قدم بڑھاتا ہوا بولا۔
مہر الٹے قدم اٹھانے لگی۔
“اگر تم میرے قریب آےُ تو انجام بہت برا ہو گا۔۔۔۔۔”
مہر قہر برساتی نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
شاہ استہزائیہ ہنسا۔
“تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں چھو نہیں سکوں گا وہ بھی اس صورت میں کہ میں تمہیں اپنے نکاح میں لے چکا ہوں۔۔۔۔۔”
شاہ محظوظ ہوتا اس کی جانب بڑھ رہا تھا۔
مہر رک کر اسے دیکھنے لگی۔
“تم نے مجھے ہاتھ لگایا تو نتیجے کے ذمہ دار تم خود ہو گے۔۔۔۔۔”
مہر کی آنکھوں کی چمک نے شاہ کو ٹھٹھکنے پر مجبور کر دیا۔
شاہ نے اس کی بائیں بازو پکڑی اور اپنی جانب کھینچا۔
مہر کسی مقناطیسی کشش کی مانند اس کی جانب کھینچی آئی۔
مہر کی آنکھوں میں شعلے اٹھ رہے تھے۔
جونہی شاہ نے مہر کے بال ہٹانے چاہے مہر نے اس کی بازو میں شیشہ گھونپ دیا۔
شاہ کراہ کر اسے دیکھنے لگی۔
“جاہل عورت۔۔۔۔”
شاہ پیچ و تاب کھا کر اسے دیکھنے لگا۔
“میں آگ ہوں قریب آؤ گے تو بھسم ہو جاؤ گے۔۔۔۔۔”
مہر اس پر نظریں گاڑھتی ہوئی غرائی۔
شاہ نے بائیں ہاتھ سے شیشہ باہر نکالا۔
یقیناً شیشے کا یہ ٹکڑا گلاس ٹوٹنے کے باعث مہر کے پاس آیا تھا۔
“تمہیں میں بخشوں گا نہیں۔۔۔۔۔”
شاہ غیظ و غضب سے مہر کو گھورتا ہوا بولا۔
خون فوارے کی مانند تیزی سے نکل رہا تھا۔
لیکن مہر کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔
شاہ نے باہر کی جانب قدم بڑھا دئیے۔
مہر سانس خارج کرتی مطمئن سی کپڑے نکالنے لگی۔
“اگلی بار سوچ کر ہی میرے پاس آؤ گے تم۔۔۔۔۔”
مہر ہنکار بھرتی ہوئی بولی۔
****////////****
“بھائی کا فون کیوں نہیں مل رہا؟۔۔۔۔۔”
حرم پریشانی سے اسکرین کو دیکھتی ہوئی بولی۔
کچھ سوچ کر وہ واپس کمرے میں آ گئی۔
“میرے لئے شرٹ لے کر آنا۔۔۔۔۔”
حرم تعجب سے اس میسج کو پڑھنے لگی۔
نمبر انجان تھا اس لئے وہ جواب دینے میں ہچکچا رہی تھی پھر دماغ نے کام کیا تو ازلان کا نام لبوں سے پھسلا۔
“ہاں شرٹ تو اسی کو دینی ہے میں نے۔۔۔۔۔”
حرم بڑبڑاتی ہوئی اپنے بیڈ پر بیٹھ گئی۔
انشرح ہمیشہ کی مانند گیم کھیلنے میں محو تھی آمنہ اور ذوناش مووی دیکھنے میں مگن تھیں۔
“لیکن ازلان کے پاس میرا نمبر کیسے آیا؟۔۔۔۔۔”
سوچتے ہوۓ حرم کی پیشانی پر تین لکریں ابھریں۔
“کیسے چلا گیا اس کے پاس میرا نمبر؟۔۔۔۔۔”
حرم فکرمند دکھائی دینے لگی۔
“میسج کی ٹون نے حرم کو اس کی سوچوں کے محور سے باہر نکالا۔
حرم ان لاک کرتی میسج پڑھنے لگی۔
“پرسوں پارٹی ہے اور کل تم مجھے شرٹ لا کر دو گی جو میں پارٹی میں پہنوں گا۔۔۔۔۔”
حرم پریشان سی اسکرین کو دیکھنے لگی۔
“یار آمنہ ازلان شرٹ کا مطالبہ کر رہا ہے۔۔۔۔۔”
حرم مووی بند کرتی ہوئی بولی۔
“کیوں۔۔۔۔۔”
آمنہ کی بجاےُ ذوناش بولی۔
“یار دوبارہ سے اس کی شرٹ خراب کر دی تھی اب وہ کہہ رہا ہے کہ مجھے شرٹ لا کر دو۔۔۔۔۔”
حرم بول کر انہیں دیکھنے لگی۔
“حیرت کی بات ہے وہ بندہ ایسا ہے تو نہیں۔۔۔۔۔”
ذوناش ششدہ سی بولی۔
“میرا تو دل کر رہا ہیں ازلان کو بول دوں کہ یونی کے گیٹ میں بیٹھ کر بھیک مانگنا شروع کر دے۔۔۔۔۔۔۔”
انشرح منہ بسورتی ہوئی بولی۔
“ایسا کرتے ہیں کل یونی سے واپسی پر پہلے مارکیٹ چلے جائیں گے پھر ہاسٹل آ جائیں گے ٹھیک ہے؟۔۔۔۔۔”
آمنہ حل پیش کرتی ہوئی بولی۔
حرم اثبات میں سر ہلانے لگی۔
****///////****
شاہ عدیل کے ہمراہ قریبی کلینک چلا گیا۔
“یار یہ لڑکی پاگل ہے کیا۔۔۔۔”
عدیل ڈرائیو کرتا ہوا بولا۔
“پہلے تو شبہ تھا لیکن آج یقین ہو گیا مجھے بھی۔۔۔۔۔”
شاہ کا چہرہ ضبط کے مارے سرخ ہو چکا تھا۔
“کہاں چلوں؟۔۔۔۔۔”
“ابھی گھر لے جا چھوٹے کی وجہ سے بابا سائیں پریشان رہتے ہیں میں بھی غائب ہو گیا تو تشویش کریں گے اس کو تو میں صبح دیکھ لوں گا۔۔۔۔۔۔۔”
شاہ تیوری چڑھا کر بولا۔
“اچھے سے دماغ درست کرنا اس کا۔۔۔۔۔”
عدیل اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
شاہ ہنکار بھرتا باہر دیکھنے لگا۔
****//////****
منہ اندھیرے شاہ تیار ہو کر نکل گیا۔
رات نجانے کیسے اس نے کاٹی تھی۔
اس کے تن بدن میں آگ لگی ہوئی تھی۔
شاہ دروازہ کھول کر اندر آیا تو مہرماہ بےخبر سو رہی تھی۔
“میری نیند حرام کر کے خود سکون سے سو رہی ہے۔۔۔۔۔”
شاہ اس پر سے لحاف کھینچتا ہوا بولا۔
مہر اس افتاد پر بوکھلا گئی۔
“کیا بدتمیزی ہے یہ۔۔۔۔۔”
وہ حلق کے بل چلائی۔
“کیا سمجھتی ہو تم خود کو ہاں۔۔۔۔۔۔”
شاہ اس کا منہ دبوچتا ہوا بولا۔
مہر اس کا ہاتھ ہٹانے کی سعی کرنے لگی۔
“دل تو چاہ رہا ہے تمہیں جلتے انگاروں پر چلاؤں۔۔۔۔”
شاہ خونخوار نظروں سے گھورتا ہوا بولا۔
مہرماہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔
شاہ نے ہاتھ ہٹایا اور اس کی بازو پکڑ کر بیڈ سے نیچے اتارا۔
“کہاں لے جا رہے ہو مجھے؟ چھوڑو مجھے جنگلی انسان۔۔۔۔۔۔۔”
مہر کے الفاظ پر شاہ آگ بگولہ ہو گیا۔
مہر کو جھٹکے سے سامنے کیا اور ایک زور دار تھپڑ اس کے رخسار کی زینت بنا دیا۔
مہر دائیں ہاتھ رخسار پر رکھے پھٹی پھٹی آنکھوں سے شاہ کو دیکھنے لگی۔
“اگر دوبارہ کبھی تم نے میری شان میں گستاخی کی تو انجام اس سے بھیانک ہو گا دفعہ ہو جاؤ کمرے میں۔۔۔۔۔”
شاہ اسے دھکا دیتا ہوا چلایا۔
مہر دور زمین پر جا گری۔
وہ زمین بوس ہو چکی تھی لیکن شاہ کو کوئی فرق نہیں پڑا۔
شاہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔
مہرماہ کبھی تاسف سے تو کبھی طیش میں دروازے کو گھورنے لگی۔
“تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا شاہ مصطفیٰ کمال۔۔۔۔۔”مہر غرائی۔
فرش پر دونوں ہاتھ رکھتی کھڑی ہوئی اور میز پر پڑے گلدان کو ہاتھ مارا تو وہ زمین بوس ہو گیا۔
چھن کر ٹوٹنے کی آواز گونجی۔
مہرماہ کلس کر اندر کی جانب چل دی۔
****///////****
“یہ ابھی تک صحیح کیوں نہیں ہوئی؟۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم تلملا کر بولیں۔
“بیگم صاحبہ نہ کچھ کھاتی ہے نہ پیتی ہے پھر صحت یاب کیسے ہو گی۔۔۔۔۔”
بانی فکرمندی سے بولی۔
“ہوں,, ایک تو ان کے نخرے ختم نہیں ہوتے اُدھر سے مطالبے آ رہے ہیں کہاں سے لے آؤں میں نئی لڑکیاں۔۔۔۔۔”
وہ کوفت سے بولیں۔
“بیگم صاحبہ میں سوچ رہی تھی دوبارہ سے ڈاکٹر صاحبہ کو چیک کروا لیتے۔۔۔۔۔۔”
بانی متفکر سی بولی۔
“امی، امی، میں آ رہی ہوں، امی۔۔۔۔۔۔”
حرائمہ غنودگی میں بول رہی تھی۔
“ہاں بلا لو ڈاکٹر کو مجھے تو فکر ہو رہی ہے لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔۔۔۔۔”
وہ حرائمہ پر نگاہ ڈالتی ہوئیں بولیں۔
****//////****
“امی جان شاہ ویز کہاں ہے؟۔۔۔۔۔”
ماریہ صوفے پر بیٹھتی ہوئی بولی۔
“شہریار کے ساتھ آفس کے لیے نکلا ہے۔۔۔۔۔”
وہ چاےُ کا کپ لبوں سے ہٹاتی ہوئیں بولیں۔
“جی اچھا۔۔۔۔۔۔”
ماریہ کہہ کر فون کو دیکھنے لگی۔
“کوئی کام تھا؟۔۔۔۔۔”
وہ آبرو اچکا کر بولیں۔
“جی وہ گھر سے زارا کو پک کرنا تھا۔۔۔۔۔”
“ابھی کل تو تم چلی آ رہی ہو۔۔۔۔۔۔”
ضوفشاں بیگم تیوری چڑھا کر بولیں۔
“آپ کو بتایا تھا نہ کہ مہوش کی شادی ہے بس اسی کی تیاری کرنی ہے۔۔۔۔۔”
ماریہ سنبھل کر بولی۔
“اپنے شوہر کے ساتھ جایا کرو جہاں جانا ہو یہی مناسب ہے۔۔۔۔۔”
وہ خفگی سے بولیں۔
“جی ٹھیک ہے امی جان۔۔۔۔۔”
ماریہ سعادت مندی سے بولی۔
“جیرو کہاں مر گئی ہے پچھلے دس منٹ سے آواز لگا رہی ہوں۔۔۔۔۔”
ضوفشاں بیگم چلا کر بولیں۔
“بیگم صاحبہ جیرو چھت پر کپڑے سکھانے گئی ہے۔۔۔۔۔”
ملازمہ ان کے عتاب سے بچنے کے عوض جلدی سے باہر نکل کر بولی۔
“جو کام شروع کر لیں واپس ہی نہیں آتیں بہت سست ہو گئی ہو سب کی سب۔۔۔۔۔”
وہ پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی بولیں۔
“کپڑے سکھا کر آےُ تو میرے کمرے میں بھیجنا اور اگر دیر ہوئی تو تم سب کی خیر نہیں۔۔۔۔۔”وہ بولتی ہوئیں چلنے لگیں۔
ان کے بال سفید ہو گئے تھے لیکن آواز آج بھی گرج دار تھی۔
حویلی کے ملازم ایک آواز پر سیدھے ہو جاتے کیونکہ سب ان کے جلال سے واقف تھے۔
****//////****
“شاہ ویز تم آؤ گے یا نہیں؟۔۔۔۔۔”
عینی فون کان سے لگاےُ کھڑا تھی۔
“یار عینی پلیز سمجھو میں بھائی کے خلاف نہیں جا سکتا وہ پہلے ہی مجھ سے خفا ہیں اب اگر رات تمہارے پاس رک گیا تو جو براےُ نام مجھ سے بات کرتے ہیں وہ بھی ترک کر دیں گے۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کرسی گھماتا ہوا بولا۔
“تمہارا بھائی ہے یا جن جو تم اتنا ڈرتے ہو میرے سامنے لاؤ ایک منٹ میں طبیعت درست کر دوں گی۔۔۔۔۔”
“عینی زبان سنبھال کر وہ میرے بڑے بھائی ہیں بے شک وہ مجھے روکتے ہیں لیکن میں ان کی بہت عزت کرتا ہوں اور تم بھی ان کی عزت کرو گی تو یہی بہتر ہو گا۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کا انداز جتانے والا تھا۔
“ایسا کیا کہ دیا ہے میں نے تمہارے بھائی کو جو مجھ پر برس رہے ہو وہ جو خواہ مخواہ میں رعب ڈالتا ہے نجانے کیا سمجھتا ہے خود کو۔۔۔۔۔۔”
عینی کوفت سے بولی۔
“جب تمہاری عقل ٹھکانے آ جاےُ تب کال کرنا اور میری بلا سے تم جہاں مرضی رہو ہاسٹل میں یا ہوٹل میں۔۔۔۔۔۔”
شاہ ویز نے کہ کر فون بند کر دیا۔
“مصطفیٰ بھائی کو کچھ بھی کہا تو چھوڑوں گا نہیں۔۔۔۔۔”
شاہ ویز موبائل ٹیبل پر پھینکتا ہوا بولا۔
****///////****
“سر آج ہماری ٹیم سروے کے لئے گئی تھی رپورٹ آپ دیکھ لیں پھر اس کے بعد ہم نیوز چلائیں گے۔۔۔۔۔”
وہ شاہ کی جانب فائل بڑھاتی ہوئی بولی۔
شاہ نے فائل پکڑ لی اور اسے جانے کا اشارہ کیا۔
دو انگلیوں سے پیشانی مسلتا وہ فائل کو کھول کر دیکھنے لگا جس میں بچوں کے اغوا کاری کی تفصیل تھی۔
“نظروں کے سامنے صبح والا منظر گھوم گیا۔
چہرے کے تاثرات مزید سخت ہو گئے۔
گردن کی رگیں تن گئیں۔
میز سے گلاس اٹھایا اور دائیں جانب دیوار پر دے مارا۔
فائل زمین پر پھینک دی۔
وہ مٹھیاں بھینچ کر خود کو پرسکون کرنے کی سعی کرنے لگا جس میں وہ مکمل طور پر ناکام ہو رہا تھا۔
“مہرماہ۔۔۔۔۔” شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔
بالوں میں ہاتھ پھیرتا کھڑکی کے سامنے آ گیا اور اس پار دیکھنے لگا۔
ٹریفک اور لوگوں کی گہما گہمی سب اپنی اپنی زندگی میں مصروف تھے۔
****///////****
حرم متلاشی نگاہوں سے آس پاس دیکھتی ہوئی چلتی جا رہی تھی۔
ہاتھ میں شاپر پکڑ رکھا تھا جس میں ازلان کے لئے شرٹ تھی۔
حرم راہداری میں چل رہی تھی پارٹی کے باعث اس سمت میں کوئی بھی نہیں تھا۔
اچانک ازلان بائیں جانب سے نمودار ہوا۔
حرم گھبرا کر پیچھے ہو گئی۔
دل کی دھڑکن معمول سے تیز ہو گئی۔
وہ سینے پر ہاتھ رکھے ازلان کو دیکھنے لگی۔
“یہ کون سا طریقہ ہے آنے کا۔۔۔۔۔۔”
حرم خفگی سے بولی۔
“تم مجھے کہہ رہی ہو۔۔۔۔۔”
ازلان خطرناک تیور لئے اس کی جانب بڑھا۔
“یہ شرٹ۔۔۔۔۔”
حرم نے جھٹ شاپر آگے کر دیا۔
ازلان اس کے خوف پر مسکرا دیا۔
آبرو اچکا کر اس کے ہاتھ سے شاپر لیا۔
“لنڈے سے تو نہیں لی؟۔۔۔۔۔۔”
وہ شرٹ باہر نکال کر دیکھنے لگا۔
حرم منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔
“میں آپ کو لنڈے سے خریدنے والی لگتی ہوں؟۔۔۔۔۔۔”
“کسی کے منہ پر تو نہیں لکھا ہوتا نہ۔۔۔۔۔۔”
ازلان گھورتا ہوا بولا۔
“بلکل جیسے تمہارے منہ پر نہیں لکھا کہ تم دماغی مریض ہو۔۔۔۔۔۔”
حرم تپ کر بولی۔
“کیا کہا تم نے۔۔۔۔۔۔”
ازلان اس کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔
“نہیں تو کچھ بھی نہیں میں جا رہی تھی بس۔۔۔۔۔۔”
کہنے ساتھ ہی حرم واپس چل دی وہ تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی کہیں ازلان نہ آ جاےُ۔
ازلان نے فون نکالا اور ذوناش کا نمبر ملانے لگا۔
حرم سمت کا تعین کئے بنا چل رہی تھی جب کسی نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اندر کھینچ لیا۔
حرم اس افتاد پر بوکھلا گئی۔
مقابل نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کی آواز دبا دی۔
حرم پھٹی پھٹی نگاہوں سے اس لڑکے کو دیکھنے لگی جو ان کا سینئر تھا۔
حرم اس کا ہاتھ ہٹانے لگی۔
“شش۔۔۔۔۔۔”
وہ اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتا ہوا بولا۔
حرم کو روح نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔
خطرہ دکھائی دے رہا تھا۔
اس لڑکے نے حرم کے منہ پر ٹیپ لگا دی اور حرم کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے۔
حرم مزاحمت کر رہی تھی لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔
دیکھتے ہی دیکھتے اس نے حرم کے ہاتھ باندھ دئیے۔
حرم آنسو بہاتی نفی میں سر ہلا رہی تھی لیکن مقابل پر شیطانیت سوار تھی۔
“آج ہاتھ آئی ہو کیسے جانے دوں۔۔۔۔۔۔”
وہ کمینگی سے دیکھتا ہوا بولا۔
حرم اپنے ہاتھ کھولنے کی سعی کر رہی تھی جس میں وہ مکمل طور پر ناکام ہو رہی تھی۔
اس لڑکے نے حرم کو اپنے قریب کیا اور اس کی آستین پھاڑ دیں۔
حرم کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
“پلیز اللہ پاک مجھے بچا لیں۔۔۔۔۔”
حرم دل ہی دل میں دعا گو تھی۔
حرم کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی وہ انسان نہیں وحشی درندہ تھا جو حرم کو آدھ موا کر کے ہی چھوڑنے کا قصد کئے ہوۓ تھا۔
حرم اس سے دور ہونے کی سعی کر رہی تھی لیکن اس کی گرفت بہت مضبوط تھی۔
حرم کو پاؤں کی آہٹ سنائی دی۔
حرم نے اس کے پاؤں پر اپنی ہیل رکھ دی۔
“آہ۔۔۔۔۔۔”
وہ کراہ کر دو قدم پیچھے ہٹا۔
حرم کے ہاتھ پیچھے لے جا کر باندھ رکھے تھے۔
اس نے کرسی کو پاؤں مارا اور وہ زمین بوس ہو گئی۔
کمرے میں نیم تاریکی تھی۔
چاند کی روشنی کھڑکی سے چھن کر اندر آ رہی تھی جو اندھیرے کو چیرنے کی سعی کر رہی تھی۔
قدموں کی آہٹ بند ہو گئی۔
“یقیناً جو بھی ہو گا وہ ٹھٹھکا ہو گا۔۔۔۔۔۔”
حرم کے دماغ میں جھماکا ہوا۔
اس نے مزید دو کرسیاں گرائیں۔
“تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا؟۔۔۔۔۔”
وہ بولتا ہوا حرم کے مقابل آیا۔
پاؤں کی چاپ پھر سے سنائی دینے لگی حرم پر امید تھی کہ اللہ نے اسے بچانے کے لئے کسی مسیحہ کو بھیجا ہے۔
