577.9K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tawaif Episode 37

Tawaif by Hamna Tanveer

“آئمہ تم یہاں کیا کر رہی ہو؟”

حرم حیران ہوۓ بنا نہ رہ سکی۔

“میں یہاں قریب ہی آئی تھی تو سوچا تم سے مل لوں۔۔۔”

آئمہ مسکراتی ہوئی اس کے گلے لگ گئی۔

حرم چاہ کر بھی مسکرا نہ پائی۔

“دراصل میری ایک دوست کو تمہاری یونی میں ایڈمیشن لینا تھا اسی لئے اس نے مجھے کہہ دیا کہ میں معلومات فراہم کر دوں اسے۔۔۔”

آئمہ مسکراتی ہوئی بولی۔

“اچھا کون سا کورس کرنا ہے تمہاری دوست نے؟”

حرم اس کے ہمراہ چلتی ہوئی بولی۔

“بی ایس کہہ رہی تھی۔۔۔”

آئمہ کے جو منہ میں آیا بول دیا۔

“بی ایس کس میں؟ میرا مطلب انگلش میں یا پھر کسی اور سبجیکٹ میں؟”

حرم اسے دیکھتی ہوئی بولی۔

“ایک منٹ میں یہ کال لے لوں پھر تم سے بات کرتی ہوں۔۔۔”

آئمہ کہتی ہوئی سائیڈ پر ہو گئی۔

حرم کی نظروں سے بچ کر وہ دوسری سائیڈ پر نکل گئی۔

حرم آئمہ کی منتظر تھی۔ حرم دائیں بائیں گردن موڑے آئمہ کو ڈھونڈ رہی تھی لیکن وہ دکھائی نہ دی۔

“پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے؟”

حرم بولتی ہوئی چلنے لگی۔

****/////////****

“کیا ہو گیا؟”

ضوفشاں بیگم مہر کا ستا ہوا چہرہ دیکھ کر بولیں۔

“ماناب پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے۔۔۔”

مہر ہاتھ مسلتی ہوئی بولی۔

وہ ضبط کی انتہا پر تھی۔

دل درد برداشت کرنے سے انکاری ہو رہا تھا۔

اس کی جان کا ٹکڑا نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا تو کیسے وہ ضبط کرتی۔

نگاہیں اپنی جان کو دیکھنے کے لیے ترس رہی تھیں۔

مہر کو شاہ کی ضرورت تھی جو اس کا واحد سہارا تھا۔

“ایسے کیسے گم ہو سکتی ہے؟”

وہ پریشانی سے گویا ہوئیں۔

“بھابھی پریشان نہ ہوں مل جاےُ گی۔۔۔”

عافیہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔

مہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔

اسے معلوم تھا اگر وہ بول پڑی تو آنسو بھی چھلک جائیں گے۔

مہر کی نظریں دروازے پر ٹکی تھیں۔

وہ شاہ کی منتظر تھی۔

چند ثانیوں بعد شاہ نمودار ہوا۔

مہر اس کی جانب لپکی۔

“شاہ ماناب وہ وہ مل نہیں رہی مجھے کب سے۔۔۔”

مہر اس کے مقابل آتی ہوئی بولی۔

“مہر سنبھالو خود کو۔مل جاےُ گی کہاں جا سکتی ہے وہ؟”

شاہ اس بازوؤں سے پکڑتا ہوا بولا۔

“نہیں شاہ میں صبح سے اسے ڈھونڈ رہی ہوں وہ نہیں مل رہی مجھے۔شاہ مجھے میری بیٹی لا کر دیں میں کچھ نہیں جانتی۔۔۔”

مہر اشک بہاتی اونچی آواز میں بول رہی تھی۔

مہر کی حالت دیکھ کر عافیہ کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔

“مہر ریلیکس میں ڈھونڈتا ہوں اسے۔۔۔”

شاہ نم آنکھوں سے دیکھتا ہوا بولا۔

“میری بیٹی کو کچھ نہیں ہونا چائیے شاہ اسے صحیح سلامت لے کر آئیں بس۔۔۔”

مہر اسے دیکھتی ہوئی بولی۔

“کچھ نہیں ہو گا ہماری بیٹی کو۔۔۔”

شاہ اس کا چہرہ صاف کرتا ہوا بولا۔

“اب تم بیٹھ جاؤ یہاں میں ڈھونڈتا ہوں ماناب کو۔۔۔”

شاہ اسے صوفے پر بٹھاتا ہوا بولا۔

مہر التجائیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

شاہ کے لئے وہاں رکنا محال ہو گیا۔

وہ مہر کے ہاتھ سے اپنے ہاتھ نکالتا باہر نکل گیا۔

مہر منہ پر ہاتھ رکھے دروازے کو دیکھنے لگی۔

عافیہ اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔

“حوصلہ کریں بھابھی۔۔۔”

وہ مہر کی پشت پر تھپکی دیتی ہوئی بولی۔

“ایسے کہاں چلی گئی؟”

ضوفشاں بیگم بولتی ہوئی بیٹھ گئیں۔

مہر کے کان کچھ بھی سننے سے انکاری ہو گئے تھے۔

لب ہل رہے تھے اور بس اپنی بیٹی کے لئے دعا گو تھے۔

ایک گھنٹہ پھر دوسرا گھنٹہ بھی گزر گیا لیکن شاہ نہیں آیا۔

“شاہ ابھی تک آےُ کیوں نہیں؟”

مہر کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔

دل کسی انہونی کی ردا سنا رہا تھا۔

“یا اللہ میری بچی کی حفاظت کرنا۔۔۔”

مہر کے لب اور دل سے ایک ہی صدا نکل رہی تھی۔

آنکھیں نمکین پانیوں سے لبریز تھیں جو ہر پانچ منٹ بعد رم جھم شروع کر دیتیں۔

آنکھیں سرخ انگارہ بن چکی تھیں جیسے کسی پر ستم کی انتہا کر دی گئی ہو۔

مہر کی حالت اس وقت اس پنچھی کی مانند تھے جو طوفان میں اپنا گھر لٹنے پر بےحال تھا۔

بچوں کی جدائی تو جانوروں کو بھی ہلکان کر دیتی ہے وہ تو پھر انسان تھی۔

ایک بچے کا سب سے مضبوط رشتہ اس کی ماں سے ہوتا ہے۔

جسے دیکھ کر مہر کی آنکھوں کو ڈھنڈک ملتی تھی آج اس کے اوجھل ہونے پر وہی آنکھیں خود پر بیتی دردناک کہانی بیان کر رہی تھی۔

درد،تکلیف مہر کے چہرے سے عیاں تھی۔

کوئی اس وقت مہر سے اس کا حال پوچھتا تو وہ بتاتی کہ اس کی تو دنیا ہی اجڑ گئی تھی۔

شاہ کو دیکھ کر مہر کھڑی ہو گئی۔

کسرتی وجود رکھنے والا وہ فولادی انسان ٹوٹا اور بکھرا بکھرا سا دکھائی دے رہا تھا۔

مہر شاہ کی جانب لپکی۔

“شاہ ماناب ماناب کہاں ہے؟ آپ ایسے کیوں آ گئے؟”

مہر اس کے عقب میں دیکھتی ہوئی بولی۔

شاہ کی سرخ ناک اور آنکھیں اس کے رونے کی چغلی کھا رہی تھیں۔

مرد تھا سب کے سامنے رو نہیں سکتا تھا۔

“شاہ آپ بتا کیوں نہیں رہے؟ کہاں ہے ہماری بیٹی؟”

مہر اسے جھنجھوڑتی ہوئی بولی۔

“نہیں ملی مجھے ماناب۔۔۔”

شاہ شکست خور سا بولا۔

“کیا مطلب ہے آپ کا؟”

مہر ششدر سی اسے دیکھنے لگی۔

“مہر میری بات سنو۔۔۔”

شاہ کے لئے خود کو سنبھالنے سے زیادہ مشکل مہر کو سنبھالنا تھا۔

“میں ڈھونڈ کر لاؤں گی اپنی بیٹی کو۔۔۔”

مہر کہتی ہوئی قدم بڑھانے لگی۔

“شاہ نے اس کی کلائی پکڑ کر اپنے سامنے کیا۔

“شاہ مجھے جانا ہے۔میری بیٹی وہ رو رہی ہو گی مجھے پکار رہی ہو گی۔۔۔”

مہر اشک بہاتی اسے کی گرفت سے نکلنے کی سعی کرنے لگی۔

شاہ نے اسے دونوں بازو پکڑ رکھا تھا۔

“مہر میری بات سنو پلیز۔۔۔”

شاہ بکھر رہا تھا۔

ریزہ ریزہ ہو رہا تھا۔

مہر اس کی گرفت سے نکلتی جا رہی تھی۔

مہر کو قابو کرنا شاہ کو ناممکن دکھائی دے رہا تھا۔

“مہر میری بات سنو تحمل سے۔۔۔”

شاہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتا ہوا بولا۔

“شاہ وہ مجھے بلا رہی ہے مجھے جانا ہے۔۔۔”

مہر اشک بہاتی اسے دیکھتی ہوئی بولی۔

“ہم دونوں جائیں گے اسے لینے تم چلو میرے ساتھ آؤ۔۔۔”

شاہ اسے اپنے ساتھ لگاےُ چلنے لگا۔

“شاہ اندر کہاں؟ باہر جانا ہے۔۔۔”

مہر رک کر اسے دیکھنے لگی۔

“باہر بھی جائیں گے پہلے میری بات سنو گی تم ٹھیک ہے نہ؟”

شاہ بچوں کی مانند اسے بہلا رہا تھا۔

“نہ نہیں پہلے ہم ماناب کو لینے جائیں گے۔۔۔”

مہر نفی میں سر ہلاتی ہذیانی انداز میں بول رہی تھی۔

عافیہ اور شاہ ویز دونوں دکھ سے انہیں دیکھ رہے تھے۔

ماناب کے غائب ہونے کا دکھ انہیں بھی تھا لیکن جن کی وہ دنیا تھا ان کے دکھ کا اندازہ وہ نہیں لگا سکتے تھے۔

“شاہ وہ صبح سے بھوکی ہو گی۔۔۔”

مہر بولتی جا رہی تھی اور شاہ کی تکلیف میں بھی اضافہ مرتی جا رہی تھی۔

شاہ اس کے گرد بازو رکھے اسے اپنے ساتھ لئے چل رہا تھا۔

“شاہ مجھے ماناب کے پاس جانا ہے آپ کیوں نہیں سمجھ رہے؟”

مہر اشک بہاتی مسلسل بول رہی تھی۔

شاہ تیز تیز قدم اٹھاتا اسے کمرے میں لے آیا اور دروازہ لاک کر لیا۔

“آ آپ نے دروازہ کیوں بند کر دیا؟”

مہر خوفزدہ سی بولی۔

“مہر بس کر دو۔۔۔”

شاہ اسے شانوں سے تھامتا ہوا بولا۔

“کیا مطلب بس کر دوں؟ شاہ میری بیٹی وہ صبح سے غائب ہے آپ کو احساس ہے؟ اسے بھوک لگی ہو گی۔ شاہ وہ رو رہی ہو گی۔۔۔”

متواتر آنسو مہر کے چہرے کو بھگو رہے تھے۔

“خود کو ہلکان مت کرو مہر۔صبح سے رو رو کر حال برا کر لیا ہے۔تمہارے آنسو ابھی تک خشک نہیں ہوےُ؟”

شاہ خفگی سے بولا۔

بولتے بولتے دو آنسو شاہ کے رخسار پر آ گرے۔

شاہ نے آنکھیں بند کر کے لب آپس میں مبسوط کر لیے۔

مہر کے سامنے وہ رونا نہیں چاہتا تھا۔

وہ اسے مزید کمزور نہیں کرنا چاہتا تھا۔

“شاہ میں نے یہاں یہاں سلایا تھا ماناب کو پھر جب اسے دیکھنے آئی وہ یہاں تھی ہی نہیں۔۔۔”

مہر بیڈ کی جانب اشارہ کرتی ہوئی بولی۔

شاہ نے اسے سینے سے لگا لیا۔

اس کے پاس وہ الفاظ نہیں تھے جن سے وہ مہر کو تسلی دیتا۔

بعض اوقات الفاظ کی بجاےُ احساسات یہ کام بخوبی کرتے ہیں۔

شاہ بھی چاہتا تھا وہ اس کے بنا کہے سمجھ جاےُ۔

وہ بھی اس دکھ میں برابر کا شریک تھا۔

مہر پیشانی اس کے سینے سے لگاےُ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

شاہ کے آنسو مہر کے بالوں میں جذب ہو رہے تھے۔

“شاہ میری بچی۔مجھے لے جائیں اس کے پاس۔وہ میرے بغیر نہیں رہ سکتی شاہ۔وہ مجھے بلا رہی ہو گی۔۔۔”

مہر کے ہاتھ شاہ کے سینے پر تھے۔

شاہ اس وقت بولنے کی حالت میں نہیں تھا۔

شاہ کی جانب سے جواب نہ پا کر مہر خاموش ہو گئی۔

نیم تاریکی میں خاموشی ڈیرے جماےُ ہوۓ تھے۔

اس خاموشی میں مہر کی سسکیاں گونج رہی تھیں۔

مہر کی آہ و زاری اس خاموشی کو چیرنے کی سعی کر رہی تھی۔جبکہ شاہ بے آواز رو رہا تھا۔

تکلیف حد سے سوا تھی لیکن اسے مہر کو سنبھالنا تھا اس لئے خود کو مضبوط بنانے کی سعی کر رہا تھا جس میں وہ مکمل طور پر ناکام ہو رہا تھا۔

مہر نڈھال سی اس کی بازوؤں میں جھول گئی۔

“مہر؟”

شاہ مہر کے بے جان وجود کو دیکھتا ہوا بولا۔

مہر؟”

شاہ اس کا منہ تھپتھپاتا رہا تھا لیکن مہر ہوش سے بیگانہ ہو چکی تھی۔

شاہ نے اسے بیڈ پر لٹایا اور پانی سے چھینٹے مارنے لگا۔

مہر کی پلکوں میں جنبش ہوئی۔

شاہ اس کا ہاتھ مسل رہا تھا۔

مہر کے ہاتھ برف کی مانند ڈھنڈے ہو رہے تھے۔

“شاہ؟ ماناب۔۔۔”

مہر ہوش میں آتی ماناب کا نام پکارنے لگی۔

شاہ کرب سے اسے دیکھنے لگا۔

“پولیس میں رپورٹ کرانی تھی۔۔۔”

ضوفشاں بیگم پریشانی سے گویا ہوئیں۔

“امی پولیس والے چوبیس گھنٹے سے پہلے رپورٹ درج نہیں کرتے۔۔۔”

شاہ ویز مایوسی سے بولا۔

“لو بھلا یہ کیا بات ہوئی اتنی دیر میں ہماری بچی نجانے کہاں سے کہاں چلی جاےُ۔۔۔”

وہ خفگی سے بولیں۔

کمال صاحب سر تھامے بیٹھے تھے۔

شہریار اپنے طور پر کوشش کر رہا تھا لیکن کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا گھر سے کیسے جا سکتی ہے اتنی چھوٹی بچی ایسی صورت میں جب نہ کوئی باہر سے آیا نہ کوئی گیا۔

“بھابھی نے صبح سے کچھ کھایا بھی نہیں ہے۔۔۔”

عافیہ فکرمندی سے بولی۔

“جاؤ عافیہ دونوں کو کھانا دے آؤ۔شاہ بھی بھوکا ہو گا۔۔۔”

کمال صاحب تشویش سے بولے۔

عافیہ سر ہلاتی چلی گئی۔

“خدا جانے ہمارے بچے کے نصیب میں کیا لکھا ہے؟”

کمال صاحب آہ بھرتے ہوۓ بولے۔

“مہر اب تم بلکل نہیں بولوں گی سمجھی۔۔۔”

شاہ برہمی سے بولا۔

“شاہ؟”

مہر سسکتے ہوۓ بولی۔

“میں جانتا ہوں مہر تم تکلیف میں ہو لیکن یہ بھی تو سوچو میں بھی اسی کرب سے گزر رہا ہوں وہ ہم دونوں کی بیٹی تھی ہم دونوں کی جان تھی۔۔۔”

شاہ کی آنکھیں اشک بار تھیں۔

شاہ نے انہیں روکا نہیں اور بہنے دیا وہ بھی ضبط کرتا تھک چکا تھا۔

“جتنی تکلیف تمہیں ہو رہی ہے مجھے بھی اتنی ہی تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔تم کیوں نہیں سمجھتی؟ میں کہاں ڈھونڈوں اسے؟ کوئی کچھ نہیں جانتا۔کسی نے نہیں دیکھا اسے۔۔۔”

شاہ کا چہرہ بھیگ رہا تھا۔

چہرہ تکلیف کی عکاسی کر رہا تھا۔

اور زبان حال درد بیان کر رہی تھی۔

مہر بےبسی سے اسے دیکھنے لگی۔

“تم جس کیفیت میں گھری ہو میں بھی اسی کیفیت میں مبتلا ہوں۔۔۔”

شاہ ٹوٹ چکا تھا۔

اپنی ذات کے ٹکڑے سمیٹتا وہ بپھر گیا تھا۔

مہر نے اپنے سرد ہاتھوں سے اس کے گرم ہاتھ تھام لیے۔

“آئم سوری شاہ۔میں اپنے غم میں اتنی اندھی ہو گئی کہ آپ کی تکلیف، آپ کا درد نہ سمجھ سکی۔۔۔”

گرم سیال مادہ مہر کے رخسار کو بھگو رہا تھا۔

شاہ نفی میں سر ہلانے لگا۔

دروازے پر دستک سنائی دی تو شاہ اس کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ نکالتا دروازے کی جانب چلنے لگا۔

“بھائی کھانا لائی تھی میں۔بھابھی نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔۔۔”

عافیہ ہچکچاتی ہوئی بولی۔

شاہ نے اثبات میں گردن ہلاتے ہوۓ ٹرے پکڑ لی۔

“شکریہ۔۔۔”

شاہ کہہ کر اندر آ گیا۔

“مہر کھانا کھا لو۔۔۔”

شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔

“شاہ مجھے نہیں کھانا۔۔۔”

مہر دھیمی آواز میں بولی۔

“مہر تم شاہ کو تنگ کرنا چاہتی ہو کیا؟”

شاہ اس کے سامنے بیٹھتا ہوا استفسار کرنے لگا۔

مہر اشک بہاتی نفی میں سر ہلانے لگی۔

“پھر کھانا کھاؤ۔میں تمہیں اپنے ہاتھ سے کھلاؤں گا۔۔۔”

شاہ اس کا دل رکھنے کی خاطر بولا۔

“شاہ مجھ سے نہیں کھایا جاےُ گا۔۔۔”

مہر اس کا ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی۔

شاہ تڑپ کر اسے دیکھنے لگا۔

“میری بات نہیں مانو گی؟”

شاہ التجائیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

شاہ اتنی محبت اتنے مان سے کہے اور مہر انکار کر دے ممکن نہیں۔

مہر ہاتھ کی پشت سے رخسار رگڑتی کھانے لگی۔

“آپ نے بھی تو کچھ نہیں کھایا۔۔۔”

مہر فکرمندی سے گویا ہوئی۔

“نہیں میں نے آفس میں کھا لیا تھا۔۔۔”

شاہ بہانہ بناتا ہوا بولا۔

“جھوٹ بول رہے ہیں نہ آپ؟”

مہر اس کا چہرہ حرف بہ حرف پڑھ رہی تھی۔

“نہیں جھوٹ کیوں بولوں گا۔۔۔”

شاہ مہر کے سامنے نوالہ لے جاتا ہوا بولا۔

“آپ کھائیں گے تو میں بھی کھاؤں گی۔۔۔”

مہر اس کا ہاتھ نیچے کرتی ہوئی بولی۔

“مہر ضد مت کرو۔۔۔”

شاہ بمشکل بول پایا۔

مہر نے نوالہ توڑا اور شاہ کے سامنے کیا۔

شاہ نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھنے لگا۔

مہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔

شاہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر نوالہ منہ میں ڈال لیا۔

حرائمہ پریشانی سے چکر لگا رہی تھی۔

بار بار فون کو دیکھ رہی تھی جو خاموش تھا۔

“کیا کروں میں؟”

حرائمہ متفکر سی ٹہل رہی تھی۔

“نظریں دروازے پر ٹکی تھیں۔

“آپی کو فون کر کے پوچھوں؟”

حرائمہ خود کلامی کر رہی تھی۔

“نہیں۔۔۔”

وہ خود ہی اپنی نفی کرنے لگی۔

“رات ہو رہی ہے حرم کہاں چلی گئی؟”

حرائمہ کے دل میں برے برے خیال آ رہے تھے۔

“اللہ کرے وہ صحیح سلامت ہو۔لیکن پہلے کبھی اتنی دیر نہیں ہوئی۔فون بھی بند جا رہا ہے۔بھائی کو فون کرتی ہوں۔۔۔”

حرائمہ سوچتی ہوئی نمبر ملانے لگی۔

مہر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاےُ بیٹھی تھی شاہ بھی خاموش اس کے ہمراہ بیٹھا تھا۔

فون کی رنگ ٹون نے اس طلسم کو توڑا۔

خاموشی میں ارتعاش پیدا ہوا۔

شاہ نے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھایا اور بنا دیکھے کان سے لگا لیا۔

“بھائی؟”

حرائمہ کی آواز سے گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی۔

“کیا ہوا حرائمہ؟”

“بھائی وہ حرم ابھی تک گھر نہیں آئی میں کب سے انتظار کر رہی ہوں اس کا۔نمبر بھی بند جا رہا ہے۔۔۔”

حرائمہ نے ایک ہی سانس میں سب کہہ ڈالا۔

“واٹ؟ کہاں گئی وہ؟”

شاہ آگے کو ہو گیا۔

مہر تعجب سے اسے دیکھنے لگی۔

“پتہ نہیں بھائی مجھے خود اس کی فکر ہو رہی ہے۔۔۔”

حرائمہ کے حواس جواب دیتے جا رہے تھے۔

“تم دروازے کو لاک رکھنا کسی کے لیے بھی مت کھولنا ٹھیک ہے نہ؟”

شاہ کو خطرہ لاحق ہوا۔

“جی بھائی ٹھیک ہے۔۔۔”

شاہ کے الفاظ پر حرائمہ پر خوف طاری ہو گیا۔