Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 16
Tawaif by Hamna Tanveer
مہر اس کی آنکھوں میں دیکھتی پلیٹ پرے کرتی چلی گئی۔
“نخرے تو ایسے دکھاتی ہو جیسے ملکہ ہو۔۔۔”
شاہ بولتا ہوا اس کے پیچھے چل دیا۔
اس سے پہلے شاہ کمرے میں قدم رکھتا مہر نے اس کے منہ پر دروازہ بند کر دیا۔
شاہ ناک رگڑتا پیچھے ہو گیا۔
“مہر دروازہ کھولو۔۔۔۔”
شاہ دروازہ بجاتا ہوا بولا۔
مہر کی جانب سے کوئی جواب موصول نہ ہوا۔
“مہر تمہیں سنائی نہیں دے رہا دروازہ کھولو۔۔۔۔۔”
شاہ تاؤ کھاتا ہوا بولا۔
مہر نے اب بھی کوئی جواب نہیں دیا۔
نا چار شاہ کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔
“اچھا یار نکال لینا اسے باہر اب کھولو دروازہ۔۔۔۔”
شاہ کے کہنے کی دیر تھی کہ مہر نے دروازہ کھول دیا۔
شاہ اسے گھورتا ہوا اندر آ گیا۔
****////////****
گناہوں کی اندھیری رات ڈھلی تو صبح کا اجالا چاروں سمت پھیلنے لگا۔
اپنی کرنوں سے ہر شے کو روشن کرنے لگا۔
حرائمہ جو سویرے کی منتظر تھی اپنی ذات کے ٹکڑے سمیٹتی اپنے کمرے کی جانب چل دی۔
موت سے پہلے نجانے کتنی بار اسے مرنا تھا۔
“روز روز مرنے سے تو بہتر ہے میں ایک ہی بار مر جاؤں کم از کم اس دلدل سے تو نکل سکوں گی۔۔۔۔”
حرائمہ بپھر گئ۔
تکلیف ایسی تھی جس کا کوئی مداوا نہیں کیا جا سکتا۔
روح پر لگے گھاؤ کبھی مندمل نہیں ہوتے۔
یہ ہماری سوچ ہوتی ہے کہ وقت کے ساتھ یہ بھر جائیں گے لیکن سالوں بعد بھی ان سے ویسے ہی خون رستا ہے جیسے پہلی بار بہ رہا تھا۔
****///////****
شاہ ہاتھ صاف کر رہا تھا جب شاہ ویز آیا۔
“کل رات کہاں تھے تم؟”
لہجے میں تمس ، چہرے پر سختی،
وہ چہرے موڑے شاہ ویز کو دیکھ رہا تھا۔
“کہیں بھی نہیں بھائی۔۔۔۔”
شاہ ویز اِدھر اُدھر دیکھتا ہوا بولا۔
“اب تم جھوٹ بھی بولوں گے مجھ سے؟”
شاہ غرایا۔
“بھائی میں سچ بول رہا ہوں۔۔۔۔۔”
شاہ ویز چہرے پر معصومیت طاری کئے اپنی بات پر قائم رہا۔
“دیکھ لو شاہ تمہاری شہ پر کتنا بگڑ گیا ہے یہ۔۔۔۔”
کمال صاحب طیش میں بولے۔
“تم کل برہان کے ساتھ نہیں تھے؟”
شاہ اس کا گریبان پکڑتا ہوا بولا۔
“جی بھائی۔۔۔۔۔”
شاہ ویز سر جھکاتا ہوا بولا۔
“کن الفاظ میں کہوں جن میں تمہیں سمجھ آ جاےُ؟”
شاہ اسے گریبان سے جھنجھوڑتا ہوا بولا۔
“بھائی آپ کیوں مجھے منع کرتے ہیں بتائیں آج مجھے؟ برہان اتنا اچھا ہے پھر آپ کیوں اس کے مخالف ہیں تو وہ آپ کے بارے میں بھی اچھا بولتا ہے۔۔۔۔”
شاہ ویز ضدی انداز میں بولا۔
“نکلو دوبارہ اپنی شکل مت دکھانا۔۔۔۔”
شاہ اسے دروازے کی جانب دیکھتا ہوا بولا۔
“بھائی آپ ٹھیک نہیں کر رہے۔۔۔۔”
شاہ ویز چہرہ موڑ کر بولا۔
“شاہ اسے گھر سے تو مت نکالو۔۔۔۔”
ضوفشاں بیگم ان کی آوازیں سن کر اِدھر کو آ نکلیں۔
“جب تمہاری عقل میں ہماری بات آ جاےُ تو واپس آ جانا۔۔۔۔۔”
شاہ چبا چبا کر بولا۔
شاہ ویز گریبان درست کرتا باہر نکل گیا۔
“چھوٹے میری بات سن۔۔۔۔”
ضوفشاں بیگم شاہ ویز کے پیچھے لپکی۔
شاہ نے ماریہ کو اشارہ کیا تو وہ ضوفشاں بیگم کو لے آئی۔
“میرے بچے کو نکال دیا کہاں جاےُ گا وہ؟”
وہ کمال صاحب کو دیکھتی ہوئیں بولیں۔
“وہ دو سال کا بچہ نہیں ہے دو دن باہر رہے گا عقل ٹھکانے آ جاےُ گی اس برہان نے دماغ خراب کر دیا ہے اس کا۔۔۔۔”
شاہ برہمی سے کہتا زینے چڑھنے لگا۔
برہان کے نام پر ہی اس کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔
گھڑی کی سوئیاں چلتی جا رہیں تھیں،
لمحے بیت رہے تھے، پرندے اپنی اڑان بھر رہے تھے، حال ماضی بنتا جا رہا تھا کچھ خوبصورت اور کچھ تلخ یادیں کو پیچھے چھوڑتا جا رہا تھا۔
شاہ مسکراتا ہوا کمرے میں آیا۔
دائیں بائیں دیکھا لیکن مہر دکھائی نہ دی۔
کچھ سوچ کر وہ کچن میں آ گیا۔
مہر کو دیکھ کر عنابی لب دم بخود مسکرانے لگے۔
مہر برتن دھو رہی تھی شاہ کی جانب اس کی پشت تھی۔
قدموں کی آہٹ اور شاہ کی خوشبو مہر پہچان گئی۔
مہر کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ گئی۔
لیکن آنکھوں میں حیرانی کا عنصر بھی تھا کیونکہ دوپہر میں وہ آتا نہیں تھا۔
شاہ اس کے عقب میں کھڑا ہو گیا۔
“اس ٹائم، خیریت؟”
مہر اس کی موجودگی محسوس کرتی ہوئی بولی۔
“کیوں اس وقت میرا داخلہ ممنوع ہے؟”
شاہ اس کے شانے پر تھوڑی رکھتا ہوا بولا۔
“جی ہاں ہر چیز اپنے وقت پر اچھی لگتی ہے۔۔۔۔”
مہر اس کی جانب رخ موڑتی ہوئی بولی۔
“لیکن شاہ ہے جو ہر وقت اچھا لگتا ہے۔۔۔۔”
شاہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ اس کی بات مکمل کر دی۔
“خوش فہمی۔۔۔۔۔”
مہر مسکراتی ہوئی اس کے سینے پر مکہ جھڑتی ہوئی بولی۔
“کبھی تو ہو گا ایسا۔۔۔۔”
شاہ اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔
مہر نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔
“ویسے میں سوچ رہا تھا ایک ملازمہ رکھ دوں تمہارے ہاتھ خراب ہو جائیں گے۔۔۔۔”
شاہ اس کے ہاتھوں کو دیکھتا ہوا بولا۔
“شکر ہے اگر آپ کو خیال آ گیا۔۔۔۔”
مہر خفگی سے بولی۔
شاہ مسکرا کر اسے دیکھنے لگا۔
“پیچھے ہٹیں مجھے سالن بنانا ہے۔۔۔۔”
مہر اسے خود سے دور کرتی ہوئی بولی۔
“جب میں جاؤں گا پھر بنا لینا۔۔۔۔”
شاہ اس کے قریب ہوتا ہوا بولا۔
“شاہ؟”
مہر اسے گھورتی ہوئی پیچھے ہو گئی۔
عین اسی لمحے شاہ کا فون رنگ کرنے لگا۔
“فون دیکھیں کس کا ہے۔۔۔۔”
مہر اسے جھنجھوڑتی ہوئی بولی۔
“میں نہیں اٹھا رہا۔۔۔”
شاہ بیزاری سے بولا۔
“شاہ اٹھائیں ہو سکتا ہے حرائمہ کا ہو۔۔۔۔”
مہر یاس سے بولی۔
شاہ پیچھے ہوتا پینٹ کی جیب سے فون نکالنے لگا۔
“ہیلو می میں حرائمہ مہر آپی نے کہا تھا فون کرنا میں پارلر آئی ہوئی ہوں۔۔۔۔۔”
ایک ہی سانس میں اس نے سب کہہ ڈالا۔
شاہ نے فون مہر کی جانب بڑھا دیا۔
چہرے پر اکتاہٹ تھی۔
مہر کا چہرہ کھل اٹھا۔
“حرائمہ تم فکر مت کرو میں ابھی آتی ہوں بس تم شک مت ہونے دینا کسی کو۔۔۔۔”
مہر نے عجلت میں کہ کر فون بند کر دیا۔
“چلیں شاہ۔۔۔۔”
مہر اس کی بازو پکڑے چلنے لگی لیکن وہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہ ہلا۔
“شاہ! “
مہر چہرہ موڑے ششدہ سی بولی۔
شاہ منہ بناتا چل دیا۔
مہر نے کمرے سے چادر اٹھائی اور شاہ کے عقب میں چل دی۔
کچھ ہی دیر میں وہ دونوں پارلر کے سامنے کھڑے تھے جہاں مہر آیا کرتی تھی۔
“شاہ میں آپ کو کال کر دوں گی۔۔۔۔”
مہر گاڑی کا دروازہ کھولتی ہوئی بولی۔
“دھیان سے۔۔۔۔”
شاہ اس کی بازو پکڑتا ہوا بولا۔
مہر اثبات میں سر ہلاتی چلی گئی۔
شاہ سانس خارج کرتا اسے دیکھنے لگی۔
مہر اندر آئی تو حرائمہ سے نظر ٹکرائی۔
بیوٹیشن سے مل کر مہر حرائمہ کو اشارہ کرتی واش روم میں چلی گئی۔
حرائمہ سمجھ کر واش کی جانب چلنے لگی۔
“آپ مجھے لے جائیں گیں نہ؟”
حرائمہ کی آنکھوں میں التجا تھی۔
“ہاں، لیکن پہلے مجھے یہ بتاؤ تمہارے ساتھ اور کون آیا ہے؟”
مہر فکرمندی سے بولی۔
“میرے ساتھ سائرہ ہے لیکن ابھی وہ فیشل کرواےُ گی تو نکلنا آسان ہو گا۔۔۔”
“اور جو چھوڑنے آیا تھا وہ؟”
مہر پوری تسلی کرنا چاہتی تھی۔
“اعجاز تھا وہ واپس چلا گیا ہے کیونکہ زیادہ وقت لگے گا تین گھنٹے بعد آےُ گا وہ۔۔۔”
حرائمہ کہہ کر اسے دیکھنے لگی۔
“ٹھیک ہے تم جا کر اپنا کام کرواؤ پھر جیسے ہی موقع ملے گا ہم نکل جائیں گے۔۔۔”
مہر رازداری سے بولی۔
“جی ٹھیک ہے۔۔۔”
حرائمہ کہہ کر باہر نکل گئی۔
“شاہ آپ باہر ہی ہیں نہ؟”
مہر فون کان سے لگاےُ آہستہ سے بولی۔
“ہاں مہر میں گاڑی میں بیٹھا ہوں تم بے فکر ہو کر آ جاؤ۔۔۔۔”
“شاہ میں تقریباً دس منٹ تک آؤں گی آپ گاڑی سٹارٹ رکھنا۔۔۔۔”
“ٹھیک ہے بس تم آ جاؤ اور خیال سے۔۔۔۔۔”
شاہ کے چہرے پر فکروں نے گھر کر رکھا تھا۔
“جی ٹھیک ہے۔۔۔”
مہر نے کہ کر فون بند کر دیا۔
مہر کو اچھا لگ رہا تھا شاہ کا اس کے لئے فکرمند ہونا۔
دس منٹ بعد مہر باہر نکلی تو حرائمہ فارغ بیٹھی تھی اور سائرہ فیشل کروا رہی تھی۔
مہر نے حرائمہ کو اشارہ کیا تو وہ بنا چاپ پیدا کئے مہر کے آگے نکل گئی۔
وہاں موجود لوگوں کو احساس ہی نہ ہو سکا کہ سب اپنے اپنے کام میں محو تھے۔
مہر نے اس کا ہاتھ پکڑا اور تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔
حرائمہ کو پیچھے بٹھا کر مہر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔
شاہ نے گاڑی بھگا دی۔
گاڑی سبک رفتاری سے منزل کی جانب رواں دواں تھی۔
حرائمہ کے چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئیں تھیں، خوف کے باعث چہرہ کا رنگ فق ہو گیا تھا۔
مہر نے بیک مرر سے حرائمہ کو دیکھا۔
“فکر مت کرو بس ابھی ہم پہنچ جائیں گے۔۔۔۔”
مہر نرم مسکراہٹ لئے بولی۔
“حرائمہ آنکھوں میں نمی لئے اثبات میں سر ہلانے لگی۔
شاہ بلکل خاموش تھا۔
مہر نے حرائمہ کو اپنے کمرے سے اگلا کمرہ کھول دیا۔
“اب تم میرے ساتھ رہو گی۔۔۔”
مہر کمرے میں قدم رکھتی ہوئی بولی۔
“لیکن آپ کے شوہر انہیں شاید ناگوار گزرے۔۔۔”
حرائمہ پریشانی سے گویا ہوئی۔
“تم فکر مت کرو۔ آرام کرو میں شام میں تم سے بات کروں گی۔۔۔۔”
مہر مسکراتی ہوئی باہر نکل گئی۔
شاہ بیڈ پر بیٹھا مہر کا منتظر تھا۔
“اِدھر آؤ۔۔۔”
مہر کو اندر آتے دیکھ کر شاہ گھور کر بولا۔
مہر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے سامنے آ گئی۔
شاہ نے اس کی بازو پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھا لیا۔
چہرے پر خفگی طاری تھی۔
“کیا ہوا؟”
مہر اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“تم اسے اس گھر میں رکھو گی؟”
شاہ گھورتا ہوا بولا۔
“ظاہر سی بات ہے شاہ وہ کہاں جاےُ گی؟”
مہر ششدہ سی بولی۔
“میں نے تمہیں اپنے پاس رکھا ہے باقی سب میری ذمہ داری نہیں۔۔۔۔”
شاہ بیزاری سے بولا۔
“شاہ اگر وہ بھی دو وقت کا کھانا کھا لے گی تو آپ کے خزانے میں کمی تو نہیں آےُ گی۔۔۔۔”
مہر اس کے شانے پر سر رکھتی ہوئی بولی۔
“لیکن اس کی وجہ سے ہماری۔۔۔۔”
“کچھ نہیں ہو گا شاہ وہ اپنے کام سے کام رکھے گی ویسے بھی میں اکیلی ہوتی ہوں سارا دن میرا بھی وقت گزر جاےُ گا۔۔۔۔”
مہر اس کا ہاتھ تھامتی ہوئی بولی۔
“اپنی بات منوانے کا ہنر آتا ہے تمہیں۔۔۔۔”
شاہ خفگی سے بولا۔
“آپ کی بھی مانتی ہو نہ؟”
مہر سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔
“اچھا ٹھیک ہے لیکن میں کچھ اور سوچ رہا تھا۔۔۔۔”
شاہ سنجیدگی سے بولا۔
“کیا؟”
مہر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
“میں سوچ رہا تھا تمہیں حویلی لے جاؤں۔۔۔۔”
شاہ اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“لیکن شاہ کس حیثیت سے؟”
مہر الجھ کر اسے دیکھنے لگی۔
“میں چاہتا ہوں تم ہر وقت میرے ساتھ رہو چھپ کر تم سے ملنا وہ بھی تھوڑے سے وقت کے لئے۔۔۔۔”
شاہ بولتا ہوا نفی میں سر ہلانے لگا۔
“مہر نے چہرہ جھکا لیا۔
“کیا ہوا؟”
شاہ دو انگلیوں سے اس کی تھوڑی اوپر کرتا ہوا بولا۔
“شاہ محبت اور پسندیدگی میں بہت فرق ہوتا ہے۔۔۔۔”
مہر کے لہجے میں چوٹ تھی۔
“مہر میں کچھ نہیں جانتا بس مجھے تم اپنے پاس چائیے۔۔۔۔”
شاہ بضد ہوا۔
“شاہ آپ کو میری خوبصورتی سے مطلب ہے جبکہ ایک فیملی میں رہنے کے لیے شوہر کا ساتھ اور عزت سب سے پہلے ہے۔۔۔۔”
مہر سر جھکاےُ بول رہی تھی۔
“تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہیں عزت نہیں دوں گا؟”
شاہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“ایک طوائف کی عزت کون کرے گا؟”
مہر تلخی سے بولی۔
“جانتی ہو آج میں اس وقت کیوں آیا؟”
شاہ کے چہرے پر نرم سی مسکراہٹ تھی۔
“کیوں؟
مہر چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔
“ڈاکٹر نے رپورٹس بھیجیں تھیں میرے آفس۔ تم ماما بننے والی ہو۔۔۔”
شاہ اس کے چہرے سے بال ہٹاتا ہوا بولا۔
مہر خوشگوار حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
“لیکن شاہ۔۔۔”
شاہ نے اس کے نازک ہونٹوں پر انگلی رکھ کے خاموش کروا دیا۔
“مہر کبھی مجھ سے بیوفائی مت کرنا۔
مجھ سے محبت کرو یا نہ کرو لیکن مجھ سے وفا ضرور نبھانا۔۔۔۔”
شاہ کی پیشانی مہر کی پیشانی کے ساتھ تھی۔
“شاہ ہمارا رشتہ کیسے چلے گا؟”
مہر فکرمندی سے بولی۔
“میں کچھ دن تک تمہیں حویلی لے جاؤں گا اور تمہیں وہ عزت وہ مان دوں گا جس کی تم حقدار ہو۔۔۔۔”
شاہ نے اپنے تشنہ لب اس کی پیشانی پر اپنے رکھ دئیے۔
شاہ کے لمس پر مہر نے آنکھیں بند کر لیں۔
مہر کا چہرے پرسکون تھا۔
ایک طویل سفر کے بعد میسر آنے والا سکون۔
****////////****
“ازلان پیپر دے دو۔۔۔۔”
حرم اس کا پیپر پکڑتی ہوئی بولی۔
ازلان نے گھورنے پر اکتفا کیا۔
حرم شش و ہمیں مبتلا ہو گئی۔
“پروفیسر ازلان پیپر نہیں دے رہا۔۔۔”
ناچار حرم نے پروفیسر کو مخاطب کیا۔
“کھینچ لیں۔۔۔۔”
وہ پیپرز دیکھتے مصروف سے انداز میں بولے۔
حرم نے پیپر کھینچا تو وہ دو حصوں میں بٹ گیا۔
حرم کا منہ کھل گیا۔
ازلان ششدہ سا پھٹے ہوۓ حصے کو دیکھ رہا تھا۔
نگاہیں پیپر سے ہو کر حرم کی جانب کیں۔
حرم اسے دیکھ کر گھبرا گئی۔
“تم نے میرا پیپر۔۔۔۔”
ازلان بولتا ہوا کھڑا ہو گیا۔
حرم تھوک نگلتی اسے دیکھنے لگی۔
ازلان دانت پیستا اسے گھور رہا تھا۔
حرم نے بھاگ جانے میں عافیت جانی۔
پیپر پھینک کر حرم نے دوڑ لگا دی۔
“تمہیں میں بخشوں گا نہیں حرم۔۔۔۔”
ازلان خطرناک تیور لئے اس کے پیچھے لپکا۔
“ازلان پیپر؟۔۔۔۔”
پروفیسر اسے باہر کی جانب بڑھتے دیکھ کر بولے۔
“وہاں سے اٹھا لیں جسے بولا تھا نہ دیکھیں کیا حال کیا ہے اس نے۔۔۔”
ازلان ضبط کرتا ہوا باہر نکل گیا۔
وہ تعجب سے اسے جاتا دیکھنے لگے۔
ازلان باہر نکلا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا۔
حرم سامنے جاتی دکھائی دی۔
ازلان بھی چلنے لگا۔
حرم نے چہرہ موڑ کر دیکھا تو آنکھیں پھیل گئیں۔
چہرے پر خوف بڑھنے لگا۔
“ہاےُ وہ تو میرے پیچھے آ رہا ہے۔۔۔”
حرم نے تقریباً بھاگنا شروع کر دیا۔
حرم کو دیکھ کر ازلان نے بھی بھاگنے لگا۔
آس پاس کھڑے سٹوڈنٹس تعجب سے دونوں کو دیکھ رہے تھے۔
حرم بھاگتی ہوئی زینے چڑھنے لگی۔
ازلان بھی اس کے عقب میں تھا۔
“آج تم میرے ہاتھ سے بچ کے دکھاؤں۔۔۔”
ازلان غرایا۔
حرم کا حلق خشک ہو گیا اور سپیڈ ڈبل کر دی۔
ازلان اس سے کچھ فاصلے پر تھا۔
دونوں تقریباً بھاگتے ہوۓ گول گول زینے چڑھ رہے تھے۔
حرم اوپر پہنچی تو کلاس میں بھاگ گئی۔
اس سے پہلے کہ وہ دروازہ بند کرتی ازلان نے دروازے کے آگے اپنا پاؤں رکھ دیا۔
حرم رونے والی شکل بناےُ اسے دیکھنے لگی۔
ازلان خونخوار نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔
“بچ کے جاؤ گی کہاں تم؟”
ازلان بولتا ہوا اندر آ گیا۔
حرم تھوک نگلتی پیچھے ہوتی جا رہی تھی۔
“ازلان سچ میں، میں نے جان بوجھ کر کچھ بھی نہیں کیا۔۔۔”
حرم معصومیت سے بولی۔
“نہیں تم تو جان بوجھ کر کچھ بھی نہیں کرتی سب میں کرتا ہوں نہ؟”
ازلان خطرناک تیور لئے آگے بڑھ رہا تھا۔
حرم کھڑکی کے سامنے رک گئی۔
