577.9K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tawaif Episode 38

Tawaif by Hamna Tanveer

“شاہ کیا ہوا؟”

مہر اسے دیکھتی ہوئی بولی۔

“حرم ابھی تک گھر نہیں پہنچی۔۔۔”

شاہ سلیپر پہنتا ہوا بولا۔

مہر ششدر سی اسے دیکھنے لگی۔

بولنے کی سکت اس میں نہ رہی تھی۔

“شاہ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟”

مہر بمشکل بول پائی۔

“تم فکر مت کرو۔ٹیبلیٹ لے کر سو جاؤ۔۔۔”

شاہ اس کے پاس آتا فکرمندی سے بولا۔

“شاہ؟”

مہر نے اس کے ہاتھ تھام لیے۔

“مہر تم فکر مت کرو شاہ سب ٹھیک کر لے گا۔۔۔”

شاہ مہر سے زیادہ خود کو تسلی دیتا ہوا بولا۔

مہر کی نظروں میں التجا تھا۔

بے بسی تھی کرب تھا۔

مہر کی آنکھیں اور بھی بہت کچھ کہہ رہی تھیں شاہ میں اس سے زیادہ سکت نہ تھی اس کی آنکھوں میں دیکھنے کی۔

“اپنا خیال رکھو گی نہ؟”

شاہ اپنے ہاتھ نکالتا نرمی سے استفسار کرنے لگا۔

مہر اثبات میں گردن ہلانے لگی۔

شاہ اس کے بالوں پر بوسہ دیتا باہر نکل گیا۔

دو موتی ٹوٹ کر بے مول ہو گئے۔

“شہریار،شاہ ویز میرے ساتھ چلو۔۔۔”

شاہ عجلت میں کہتا باہر نکل گیا۔

“اس کو کیا ہو گیا؟”

ضوفشاں بیگم چہرہ موڑ کر اسے دیکھنے لگیں جو باہر نکل چکا تھا۔

شاہ ویز اور شہریار آگے پیچھے باہر نکل گئے۔

“اللہ خیر کرے۔۔۔”

کمال صاحب تسبیح سنبھالتے کمرے کی جانب چلنے لگے۔

“جلدی گاڑی نکالو؟”

شاہ دونوں کو دیکھتا ہوا چلایا۔

شاہ گاڑی سے نکلا۔

“چھوٹے تم میرے ساتھ حرم کو ڈھونڈنے چلو گے اور شہریاع تم حرائمہ کو لے کر حویلی آؤ گے ٹھیک ہے؟”

شاہ دونوں کو دیکھتا ہوا بولا۔

“حرم۔۔۔”

شہریار زیر لب دہراتا شاہ کو دیکھنے لگا۔

“حرم ابھی تک گھر نہیں پہنچی ڈونٹ نو کہاں ہے وہ؟”

شاہ اپنی گاڑی کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔

“شہری! گھر پہنچ کر مجھے کال کر لینا حرائمہ ایسے دروازہ نہیں کھولے گی۔۔۔”

شاہ باہر جھانکتا ہوا بولا۔

“ٹھیک ہے بھائی۔۔۔”

شہری چلایا۔

تینوں کی گاڑیاں آگے پیچھے سنسان ویران سڑکوں پر دوڑ رہی تھیں۔

خاموشی سرگوشیاں کر رہی تھیں۔

شہریار گھر پہنچ کر شاہ کو فون کرنے لگا۔

شاہ نے کال بند کی اور حرائمہ کا نمبر ملانے لگا۔

“جی بھائی؟ حرم کا معلوم ہوا؟”

حرائمہ بےصبری سے بولی۔

“نہیں اس کا ابھی کچھ معلوم نہیں ہوا۔شہریار کو بھیجا ہے میں نے تم اس کے ساتھ حویلی چلی جاؤ۔۔۔”

شاہ اس کے جواب کا منتظر تھا۔

“جی بھائی ٹھیک ہے۔۔۔”

حرائمہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی بولی جیسے وہ سامنے کھڑا ہو۔

“اور ہاں مہر کا خیال رکھنا۔۔۔”

شاہ اداسی سے بولا۔

“جی بھائی۔۔۔”

شاہ نے مزید بنا کچھ کہے فون بند کر دیا۔

حرائمہ نے بیگ اٹھایا اور زینے اترنے لگی۔

شہریار سامنے کھڑا تھا۔

“تیار ہو تم؟”

شہریار اسے دیکھتا ہوا بولا۔

“جی بھائی بس دروازہ بند کر دوں۔۔۔”

حرائمہ دروازے کو لاک کرتی ہوئی بولی۔

شہریار گاڑی میں بیٹھ گیا۔

حرائمہ لاک لگا کر سرعت سے گاڑی میں بیٹھ گئی۔

نجانے کیوں اسے خوف محسوس ہو رہا تھا۔

شہریار نے گاڑی سٹارٹ کی اور سڑکوں پر بھگانے لگا۔

“چھوٹے تم یونی کے آس پاس لوگوں سے پوچھو میں حرم کے ہاسٹل آیا ہوں۔۔۔”

شاہ فون کان سے لگاےُ چل رہا تھا۔

“جی بھائی ٹھیک ہے جیسے آپ کو کچھ معلوم ہو مجھے کال کر دینا۔۔۔”

“ہاں ٹھیک ہے۔۔۔”

شاہ فون جیب میں ڈالتا چلنے لگا۔

“حرم کی دوستوں کی لسٹ میں صرف تم تینوں آتی ہو۔۔۔”

شاہ تینوں کو گھورتا ہوا بولا۔

“بھائی وہ یونی میں تھی اس کے بعد وہ گھر جانے کے لیے نکلی تھی اب ہمیں نہیں معلوم وہ کہاں گئی؟”

آمنہ گھبراتی ہوئی بولی۔

“اگر تم میں سے کسی کو کچھ بھی معلوم ہے تو ابھی بتا دو وقت ہے ورنہ بعد میں یہی سوال جواب پولیس کرے گی اور یہاں نہیں پولیس اسٹیشن میں۔۔۔”

شاہ کرخت لہجے میں بولا۔

چہرے پر بلا کی سختی تھی۔

“بھائی ہم سچ کہہ رہے ہیں ہم کچھ نہیں جانتے۔۔۔”

ذوناش شاہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔

شاہ اثبات میں سر ہلاتا الٹے قدم اٹھانے لگا۔

شاہ گاڑی میں آ کر بیٹھ گیا۔

سٹیرنگ ویل پر کہنیاں رکھے شاہ نے بال ہاتھوں میں جکڑ لیے۔

“کہاں ڈھونڈوں میں تم دونوں کو؟”

شاہ جیسے ٹوٹ سی گیا تھا۔

آنسو ٹوٹ کر اس کے رخسار پر گرے رہے تھے۔

وہ مرد تھا اور رو رہا تھا۔

غلط کہتے ہیں زمانے والے کی مرد نہیں روتا۔

روتا ہے وہ بھی روتا ہے جب تکلیف ہوتی ہے وہ بھی روتا ہے کیونکہ اس کے سینے میں بھی دل ہوتا ہے اسے بھی تکلیف ہوتی ہے۔

بےشک وہ عورت سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے لیکن پتھر نہیں ہوتا۔اس کا بھی دل دکھتا ہے۔ مرد کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔کیا اس کے احساسات نہیں ہوتے؟ عورت کی طرح مرد کے بھی جذبات ہوتے ہیں احساسات ہوتے جنہیں کچھ ہی لوگوں سمجھ پاتے ہیں۔

آدھی رات تک شاہ اور شاہ ویز سڑکوں پر مارے مارے پھرتے رہے۔

رات گئے دونوں حویلی لوٹے تو تاریکی نے ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔

“چھوٹے تم آرام کرو اب۔۔۔”

شاہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا اپنے کمرے کی جانب چلنے لگا۔

شاہ ویز سانس خارج کرتا شاہ کو دیکھنے لگا۔

شاہ کمرے میں آیا تو نیم تاریکی تھی۔

نائٹ بلب کی مدھم روشنی میں بھی وہ مہر کا چہرہ بآسانی دیکھ سکتا تھا۔

وہ جاگ رہی تھی۔

بھلا اسے نیند کیسے آ سکتی تھی؟

مہر کا چہرہ اس کا حال بیان کر رہا تھا۔

“تم رو رہی تھی؟”

شاہ بولتا ہوا اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔

“پتہ نہیں شاہ۔میں خود نہیں رو رہی تھی یہ آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔۔۔”

مہر سامنے دیکھتی کسی ٹرانس میں بول رہی تھی۔

مہر کو دیکھ کر شاہ کے دکھ میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا۔

“سوئی کیوں نہیں تم؟”

شاہ گھڑی اتارتا ہوا بولا۔

“نیند کسے آےُ گی؟”

مہر تلخی سے بولی۔

“جب آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرو گی تو آ جاےُ گی۔۔۔”

شاہ نرمی سے سمجھاتا جیب سے موبائل نکالنے لگا۔

آنسو ٹپ ٹپ پھر سے مہر کے چہرے کو بھگونے لگے۔

“شاہ یاد ہے ایک رات جب ماناب بہت رو رہی تھی؟”

مہر سامنے دیوار کو گھورتی ہوئی بول رہی تھی۔

“یاد ہے۔جب میں نے کہا تھا کہ ماناب مجھے سونے نہیں دیتی اتنا روتی ہے۔۔۔”

بولتے بولتے شاہ بھی رونے لگا۔

“دیکھیں شاہ آج وہ نہیں ہے لیکن پھر بھی ہمیں نیند نہیں آ رہی۔۔۔”

دل مانو شدت غم سے ابھی پھٹتا کہ ابھی پھٹتا۔

“میری گڑیا۔۔۔”

مہر ہاتھوں میں چہرہ چھپاےُ زاروقطار رونے لگی۔

“مہر تمہاری طبیعت خراب ہو جاےُ گی پلیز خود کو سنبھالو۔۔۔”

شاہ اسے بازو سے پکڑتا اپنے سامنے کرنے لگا۔

“کیسے سنبھالوں شاہ؟ میں نے خود کو بہت سنبھالا۔بہت سمجھایا کہ آپ کو تنگ نہیں کرنا آپ کو پریشان نہیں کروں گی لیکن یہ آنسو میری بھی نہیں سنتے۔۔۔”

مہر خفگی سے بولی۔

“کہیں مہر کے دماغ پر اثر نہ ہوجاےُ۔۔۔”

مہر کی حالت دیکھ کر شاہ کو شبہ ہوا۔

“مہر اِدھر دیکھو میری بات سنو۔۔۔”

شاہ اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیتا ہوا بولا۔

“تمہیں اللہ پر بھروسہ ہے نہ؟ ماناب مل جاےُ گی تم بس دعا کرو اس کے لئے اللہ ہماری بچی کی حفاظت کرے۔۔۔”

شاہ نجانے کہاں سے اتنا حوصلہ لاتا رہا تھا وہ خود بھی ناآشنا تھا۔

مہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔

“پتہ ہے شاہ میں ماناب کو اتنا مس کر رہی ہوں روز شام میں اسے تیار کرنا،ماناب کو خاموش کروانے پر ہماری لڑائی،وہ سب کتنا اچھا تھا نہ؟”

مہر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاےُ سامنے دیوار کو گھور رہی تھی۔

شاہ نے بھی تھکے تھکے انداز میں بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا لی۔

“صحیح کہہ رہی ہو ہماری چھوٹی سی جان کتنا کھیلتی تھی ہمارے ساتھ،معلوم ہی نہیں ہوا کب اس کی عادت اتنی پختہ ہو گئی۔۔۔”

شاہ بولتا جا رہا تھا اور آنکھیں برستی جا رہی تھیں۔

“پتہ ہے شاہ مجھے کیا لگتا ہے؟ ہماری خوشیوں کو نظر لگ گئی ہے۔ہماری جان کو نظر لگ گئی ہے۔۔۔”

مہر دھیرے دھیرے خاموشی کو ختم کر رہی تھی۔

“ہممم مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے شاید ہمارے نصیب میں اتنی ہی خوشیاں لکھی تھیں۔۔۔”

مہر کی مانند شاہ بھی سامنے دیوار کو گھور رہا تھا۔

“شاہ میرے بابا۔انہوں نے کبھی مجھ سے پیار نہیں کیا کبھی میرے لاڈ نہیں اٹھاےُ۔جب جب وہ مجھے ڈپٹتے تو میں ایک ہی بات سوچتی تھی۔۔۔”

مہر ماضی کی تلخ یادیں میں گم ہوتی جا رہی تھی۔

“کیا؟”

شاہ سوں سوں کرتا ہوا بولا۔

“یہی کہ میرا شوہر ایک بہت اچھا باپ ثابت ہو میری بیٹی کو وہ پیار ملے جو مجھے نہیں ملا جس شفقت جس محبت کو میں ترسی وہ بھی میری بیٹی کو مل جاےُ۔اور آپ کو دیکھ کر مجھے اپنی دعا کی قبولیت کی نوید مل چکی تھی لیکن دیکھیں قسمت کے کھیل۔۔۔”

مہر آنسو صاف کرتی ہوئی بولی۔

شاہ تڑپ کر اسے دیکھنے لگا۔

“شاہ میں نے آپ کو کبھی اپنا ماضی نہیں بتایا۔۔۔”

مہر کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی۔

“مہر مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں۔۔۔”

“میں نے ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولی۔ماں بہت پیار کرنے والی تھی اور باپ اس کے برعکس تھا۔نشہ کرتا تھا میرا باپ۔مجھے مرد ذات پر اعتبار نہیں تھا۔

پہلا مرد میری زندگی میں میرا باپ تھا جس نے مجھے چند کھوٹے سکوں کے عوض زلیخا بیگم کو بیچ دیا اور اس کے بعد کوٹھے پر حوس پرست مرد دیکھے تو میرا مرد ذات سے اعتبار اٹھ گیا۔اس کے بعد زندگی مجھ پر مزید تنگ ہوتی چلی گئی۔زلیخا بیگم مجھے مردوں کی خواب گاہ کی زینت بنانا چاہتی تھی لیکن میری ماں نے ساری زندگی مجھے اپنی عزت کی حفاظت کرنے کا سبق سکھایا تھا اور میں وہ سبق نہیں بھولی تھی۔

میں نے خودکشی کرنے کی کوشش کی لیکن میں ناکام ہو گئی۔۔۔”

مہر سانس لینے کو رکی۔

شاہ کرب سے مہر کو دیکھ رہا تھا۔

“مجھے ہاسپٹل سے واپس کوٹھے پر لے آےُ میں بہتر ہو رہی تھی تو پھر سے میں نے خودکشی کر لی لیکن پھر بچ گئی۔پھر میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی عصمت کی حفاظت کروں گی تب میں نے زلیخا بیگم سے ڈیل کر لی مجرا کرنے کی اور وہ مان گئیں۔۔۔”

مہر نے چہرہ جھکا لیا۔

“مہر مجھے تمہارے ماضی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔میں تمہیں جانتا ہوں تمہارے حال سے۔تم مہرماہ شاہ ہو۔تمہارے نام کے ساتھ میرا نام جڑا ہے۔تمہارا حال تمہارا مستقبل میں ہوں اور میں تمہیں اسی سے جانتا ہوں۔باقی کسی بات سے مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔۔”

شاہ اس کی جانب چہرہ موڑتا ہوا بولا۔

نجانے کیوں آج مہر اسے اپنے متعلق بتا رہی تھی۔

“شاہ ماناب کہاں ہو گی؟ کون اسے لے گیا ہمارے کمرے سے؟ میں تو صبح سے یہی سوچ سوچ کر پریشان ہوں کہ میری بچی جس حال میں ہو گی؟شاہ وہ بھوکی ہو گی۔۔۔”

مہر شاہ کو دیکھتی پے در پے سوال داغنے لگی۔

“میں سمجھ سکتا ہوں تمہاری حالت۔ میرا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ہماری معصوم سی بچی خدا جانے کس حال میں ہو گی؟”

شاہ چہرہ جھکا کر بولا تاکہ مہر اس کے آنسو نہ دیکھ پاےُ۔

“ابھی تو ہم نے اس کی خوشیاں دیکھنی تھی اس کا بچپن، جوانی سب کچھ۔۔۔”

مہر سرد آہ بھرتی حیرت سے بولی۔

بولتے بولتے مہر خاموش ہو گئی جب وہ نیند کی وادی میں اتر گئی اسے خود بھی معلوم نہیں ہوا۔

شاید دن بھر کی تھکن تھی جس کے باعث وہ نیند کی آغوش میں چلی گئی ورنہ نیند تو اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔

شاہ مہر کو دیکھنے لگا۔

پھر ہاتھ بڑھا کر لحاف اس پر اوڑھ دیا۔

ان دونوں کا حال ایسا تھا مانو ایک ہی دن میں قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔

شاہ مہر کے منتشر بال سمیٹنے لگا۔

کچھ دیر بلاجواز مہر کو دیکھتا رہا پھر اٹھ کر واش روم میں چلا گیا۔

وضو کر کے باہر نکلا اور جاےُ نماز بچھا کر بیٹھ گیا۔

رات کا نجانے کون سا پہر تھا۔

شاہ اپنے رب کے حضور گڑگڑا رہا تھا۔

اپنی اولاد کی سلامتی کے لئے اپنی اولاد کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے۔

“یا اللہ تُو میرے دل کے حال سے واقف ہے وہ ہماری بیٹی نہیں ہماری جان ہے۔اتنی دعائیں اس کی سلامتی کی مانگیں تاکہ وہ صحیح سلامت اس دنیا میں آ جاےُ۔وہ آ بھی گئی لیکن ستم ظریفی یہ کہ آج وہ ہماری نظروں سے ہی اوجھل ہو گئی ہے۔

ہم تو خطاکار ہیں لیکن وہ معصوم وہ تو بےقصور ہے۔اسے کس جرم کی سزا مل رہی ہے؟ اتنی چھوٹی بچی اپنی ماں کے بنا کیسے رہ سکتی ہے؟ مہر کی حالت بھی تیرے سامنے ہے اس نے بہت اذیت دیکھی ہے اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے ہم سے ہماری بینائی کو دور مت کر۔۔۔”

شاہ ہاتھ اٹھاےُ بول رہا تھا۔

آنسو اس کے ہاتھ اور مصلے پر گر رہے تھے۔

انسان کچھ بھی کر لے ایک مخصوص مقام پر آ کر اسے معلوم ہوتا ہے کہ قدرت صرف اللہ کی ہے۔

جب بے بسی کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے پھر معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں جتنی بھی طاقت ہے سب بیکار ہے۔

کیونکہ اصل طاقت کا مالک تو وہ ہے۔اور وہ بلاتا ہے اپنے پاس تاکہ بندے کو معلوم ہو جاےُ کہ کام سنوارنے والا صرف وہی ہے۔

“کہتے ہیں اس وقت مانگی جانے والی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔اللہ پاک چاہے میرا سب کچھ لے لیں لیکن ہماری بیٹی ہماری جان لوٹا دیں ہمیں پتہ نہیں کہاں ہو گی؟ کس کے پاس ہو گی؟اس معصوم کو بچا لیں ہمیں ہماری اولاد لوٹا دیں۔۔۔”

دھیرے دھیرے دل کو سکون مل رہا تھا تو شاہ کی آواز کی بجاےُ اس کی سسکیاں گونجنے لگیں۔

اپنے رب سے گفتگو کرتے شاہ بھی ہوش سے بیگانہ ہو گیا۔

شاید اس پر نیند اللہ نے اتاری تھی تاکہ وہ کچھ پل سکون سے گزار لے۔

****////////****

“کیا بکواس ہے یہ؟حرم کہاں گئی؟”

ازلان ہکا بکا سا آمنہ کو دیکھ رہا تھا۔

“ہم نہیں جانتے کل حرم کے بھائی آےُ تھے رات میں ہم سے پوچھنے کے لیے۔۔۔”

آمنہ نے اسے رات کا قصہ تفصیل سے بتایا۔

ازلان ابھی تک بےیقینی کی کیفیت میں تھا۔

“اسی لئے اس کا فون بند جا رہا ہے کہ اسے؟”

ازلان بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔

“ازلان تاؤ کھاتا وہاں سے نکل گیا۔

آمنہ فکرمندی سے اسے جاتا دیکھنے لگی۔

“اللہ کرے حرم ٹھیک ہو۔۔۔”

آمنہ کل سے ایک ہی دعا مانگ رہی تھی۔

ازلان ذوناش کے ڈیپارٹمنٹ میں آیا۔

کلاس ہو رہی تھی جس کے باعث اسے انتظار کرنا پڑا۔

جونہی کلاس ختم ہوئی ذوناش باہر نکلتی دکھائی دی۔ازلان نے اس کی کلائی پکڑی اور چلنے لگا۔

ذوناش خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو گئی۔

“کہاں لے جا رہے ہو مجھے؟”

وہ مسکراتی ہوئی استفسار کرنے لگی۔

ازلان جواب دئیے بنا چلتا رہا۔

مخصوص مقام پر پہنچ کر اسے دیوار کے ساتھ زور سے لگا دیا۔

ذوناش سی کر کے اسے دیکھنے لگی۔

“یہ کیا طریقہ ہے ازلان؟”

ازلان کا یہ انداز اسے بہت کچھ باور کرا گیا۔

“سچ سچ بتاؤ حرم کہاں ہے؟ ذوناش آئی سوئیر میں تمہیں جان سے مار دوں گا۔۔۔”

ازلان ایک ہاتھ سے اس کا گلا دباتے ہوۓ چبا چبا کر بولا۔

ذوناش کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔

****////////****

“ہاےُ اس بچی نے رو رو کر دماغ چاٹ لیا ہے میرا۔۔۔”

زلیخا بیگم دونوں ہاتھوں سے سر تھامتی ہوئی بولیں۔

ماناب رو رہی تھی اور وہ چہرے پر اکتاہٹ سجاےُ بانی کو دیکھ رہی تھیں۔

ماناب کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا وہ معصوم جان اپنی ماں کے بغیر تڑپ رہی تھی لیکن ان بے حس لوگوں پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔

“فیڈر ٹھونس دے اس کے منہ میں کیوں میرا دماغ خراب کر رہی ہے؟”

زلیخا بیگم خطرناک تیور لئے بولیں۔

“بیگم صاحبہ ابھی چند ماہ کی تو بچی ہے فیڈر بھی نہیں پی رہی رات بمشکل زور زبردستی کر کے چند قطرے اس کے پیٹ میں ڈالے ہوں گے۔۔۔”

وہ منہ بناتی ہوئی بولی۔

“اچھی مصیبت گلے ڈال لی ہے۔۔۔”

زلیخا بیگم ہنکار بھرتی ہوئی بولیں۔