577.9K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tawaif Episode 36

Tawaif by Hamna Tanveer

“وہ تو ٹھیک ہے لیکن ذات بھی تو دیکھو نہ۔۔۔”

وہ پریشانی سے گویا ہوۓ۔

“بابا سائیں مہر کو دیکھ لیں کیا خرابی ہے اس میں اور میں گارنٹی دیتا ہوں حرائمہ کی وہ نہایت معصوم ہے۔۔۔”

شاہ پراعتماد انداز میں بولا۔

“ٹھیک کہہ رہے ہو۔ہمیں ایک اس بات کا بھی خطرہ ہے اگر چھوٹے کی بات نہ مانی تو وہ سمجھے گا اس کے ساتھ ناانصافی کر رہے۔۔۔”

وہ پرسوچ انداز میں بولے۔

“جی مجھے تو یہی مناسب لگتا ہے۔۔۔”

شاہ پرسکون انداز میں ٹیک لگاتا ہوا بولا۔

“پھر سوچتے ہیں منگنی کر دیں دونوں کی۔۔۔”

وہ شاہ کو دیکھتے ہوۓ بولے۔

“میرے نزدیک منگنی سے بہتر نکاح ہے۔۔۔”

شاہ سنجیدگی سے بولا۔

“ہاں نکاح؟ اچھی بات ہے۔۔۔”

وہ تائیدی انداز میں سر ہلاتے ہوئے بولے۔

شاہ کے کندھے سے ایک بوجھ ہٹ چکا تھا۔

ایک بہانے سے جو اس کی ذمہ داری شاہ کے کندھوں پر آئی تھی آج وہ اپنے فرض سے سبکدوش ہو گیا تھا۔

وہ کافی حد تک مطمئن ہو چکا تھا۔

****/////////****

“حرم یہ میں تمہارے لئے لائی ہوں۔۔۔”

ذوناش اس کے سامنے آتی ہوئی بولی۔

ازلان جو آخر میں بیٹھا تھا ذوناش کو دیکھ کر سیدھا ہو گیا۔

“کیا ہے اس میں؟”

حرم مسکراتی ہوئی بولی۔

“کھیر ہے۔میری امی نے بھیجی ہے۔۔۔”

ذوناش آہستہ آواز میں بول رہی تھی۔

ازلان کی نظریں ان دونوں پر تھیں خاص کر اس ڈبے پر جو ذوناش کے ہاتھ میں تھا۔

“بہت شکریہ میں بعد میں کھا لوں گی آمنہ کے ساتھ۔۔۔”

حرم اس کے ہاتھ سے لیتی ہوئی بولی۔

“بع بعد میں کیوں ابھی کھاؤ نہ۔میرا مطلب چیک کر کے بتاؤ کیسی بنی ہے؟”

ذوناش بوکھلا کر بولی۔

ذوناش کی بوکھلاہٹ بھلے حرم سے چھپ گئی لیکن ازلان سے نہ چھپ سکی۔

“ابھی ناشتہ کر کے آئی ہوں دل نہیں کر رہا۔۔۔”

حرم معذرت خواہانہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔

“میں اتنے پیار سے لائی ہوں اور تم نخرے کر رہی ہو؟نہیں کھانی تو ویسے بول دو۔۔۔”

ذوناش منہ بناتی خفگی سے بولی۔

ازلان کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔

کسی انہونی کی بو آ رہی تھی۔

وہ اٹھا اور حرم کی جانب چلنے لگا۔

“نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔میں ابھی تمہارے سامنے ٹیسٹ کرتی ہوں۔۔۔”

حرم اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتی ہوئی بولی۔

ذوناش نے چمچ حرم کی جانب بڑھایا۔

حرم نے ابھی چمچ کھیر میں ڈبویا ہی تھا کہ ازلان نے ہاتھ مار دیا جس کے باعث ڈبے سمیت ساری کھیر زمین بوس ہو گئی۔

“آئم سو سوری۔۔۔”

ازلان معصومیت سے بولا۔

ذوناش اس کی اس حرکت پر تلملا اٹھی۔

“تمہیں نظر نہیں آتا کیا ساری کھیر گرا دی۔۔۔”

ذوناش چلانے لگی جیسے کچھ غلط ہو گیا۔

“کتنے کی تھی بتاؤ ابھی تمہارے منہ پر مارتا ہوں پیسے۔۔۔”

ازلان اس کے تیور بھانپ کر بولا۔

“بات پیسوں کی نہیں تھی ایڈیٹ۔۔۔”

ذوناش دانت پیستی ہوئی بولی۔

“شٹ یور ماؤتھ۔۔۔”

ازلان شہادت کی انگلی اٹھاتا حلق کے بل چلایا۔

ذوناش لب بھینچے زمین کو گھورنے لگی۔

“ازلان ریلیکس۔۔۔”

وکی اسے عقب سے پکڑتا ہوا بولا۔

“آئیندہ اگر میرے سامنے فضول بکواس کی تو بہت برا ہو گا۔۔۔”

ازلان کسی زخمی شیر کی مانند دھاڑ رہا تھا۔

ایک پل میں وہ جنونی ہو گیا تھا۔

حرم سہم کر دونوں کو دیکھ رہی تھی۔

“اب سر لیکچر تو نہیں لیں گے۔۔۔”

اس پھیلاوے کو دیکھ کر اندر آتی ایک لڑکی گویا ہوئی۔

ازلان کو دیکھ کر حرم بھی باہر نکل گئی۔

“ازلان کیا ہوا ہے تمہیں؟”

حرم بولتی ہوئی اس کے عقب میں چل رہی تھی۔

ازلان نے وکی کو جانے کا اشارہ کیا اور چہرہ موڑ کر حرم کو دیکھنے لگا۔

ازلان کے ساتھ قدم ملانے کی کوشش میں حرم کا تنفس تیز ہو گیا تھا۔

“ذوناش سے دور رہو گی تم۔۔۔”

ازلان انگلی اٹھاےُ سنجیدگی سے بولا۔

“لیکن کیوں؟”

حرم الجھ کر اسے دیکھنے لگی۔

“مجھے یہ سمجھ نہیں آتی تم لڑکیوں کو ہر بات کی وجہ کیوں جاننی ہوتی ہے؟ جب کہہ دیا کہ دور رہو مطلب دور رہو۔ کیوں؟ کیسے؟ کب؟ یہ سوال ضروری ہوتے ہیں کیا؟”

ازلان برہمی سے بول رہا تھا۔

ازلان کے رویے پر حرم کا دل سا ٹوٹ گیا۔

آنکھوں میں نمکین پانی جمع ہونے لگا۔

ازلان دو انگلیوں سے پیشانی مسلتا اسے دیکھنے لگا۔

“میں نے ایسا کیا کہہ دیا ہے جو تم رونے کی تیاری کر رہی ہو؟”

ازلان اس کی آنکھوں میں جھانکتا نرمی سے بولا۔

حرم نے چہرہ جھکا لیا۔

وہ ازلان کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی۔

“حرم تمہیں پیار سے سمجھا رہا ہوں میری بات سمجھ لو اسی میں تمہاری بہتری ہے۔۔۔”

ازلان لوگوں کی بھیڑ کا خیال کر کے حرم سے کچھ فاصلے پر تھا۔

“یہ بات تم آرام سے بھی کہہ سکتے تھے۔۔۔”

بولتے بولتے دو موتی حرم کی آنکھ سے ٹوٹ کر رخسار پر آ گرے۔

حرم ہاتھ کی پشت سے گال رگڑتی چلی گئی۔

ازلان سانس خارج کرتا اسے دیکھنے لگا۔

“تمہیں نہیں بتا سکتا حرم کہ ذوناش کے ساتھ میرا افئیر تھا۔۔۔”

ازلان تاسف سے بولا۔

****/////////****

“شاہ یہ سب کیا؟ حرائمہ کی شادی شاہ ویز سے؟”

مہر الماری بند کرتی شاہ کو دیکھنے لگی جو ماناب کے ساتھ محو تھا۔

“کیوں کیا برائی ہے اس میں؟”

شاہ ماناب کو گدگداتا ہوا بولا۔

“نہیں میرا مطلب؟آپ سمجھ کیوں نہیں رہے؟”

مہر اس کے سامنے آتی ہوئی بولی۔

“تم سمجھاؤ گی تو سمجھو گا نہ۔۔۔”

شاہ کی نظریں ماناب پر تھیں۔

“اِدھر کریں مجھے تیار کرنے دیں ماناب کو۔۔۔”

مہر اس کے کپڑے بیڈ پر رکھتی ہوئی بولی۔

شاہ نے ماناب کے گال پر بوسہ دیا جو اس وقت صرف پیمپر پہنے ہوۓ تھی۔

“بتائیں نہ مجھے؟”

مہر ماناب کے پاؤڈر لگاتی ہوئی بولی۔

“یار دیکھو حرائمہ کوٹھے سے آئی ہے یہ صرف ہم جانتے ہیں اگر ہم کسی اور سے اس کی شادی کرتے ہیں تو یہ حقیقت آشکار ہونے پر حرائمہ کی زندگی پر اثر پڑے گا تم سمجھ رہی ہو نہ؟”

شاہ مہر کو خاموش پا کر بولا۔

“جی میں سمجھ رہی ہوں۔۔۔”

مہر شرٹ کے بٹن بند کرتی ہوئی بولی۔

ماناب پاؤڈر پکڑے منہ میں ڈال رہی تھی۔

مہر نے خفگی سے دیکھتے ہوۓ اس کے ہاتھ سے پاؤڈر لے لیا۔

ماناب رونے والی شکل بناےُ مہر کو دیکھنے لگی۔

“دے دو ابھی میڈم کا لاؤڈ اسپیکر بجنے لگے گا۔۔۔”

شاہ مہر کے ہاتھ سے پاؤڈر لیتا ہوا بولا۔

اس سے پہلے کہ ماناب ان کے کان کے پردے پھاڑتی شاہ نے اس کے ہاتھ میں پاؤڈر پکڑا دیا۔

“شاہ منہ میں ڈال رہی ہے وہ۔۔۔”

مہر پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی بولی۔

“ماما ہے ہی گندی ہیں نہ؟”

شاہ ماناب کو دیکھتا ہوا بولا۔

مہر خاموشی سے اپنا کام کرتی رہی۔

“ہاں تو میں کہہ رہا تھا شاہ ویز گھر کا ہے اسے پہلے ہی حقیقت سے آگاہ کر دیا ہے میں نے اس طرح حرائمہ کو کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔۔۔”

شاہ مہر کو دیکھتا ہوا بولا جو اپنی روشن پیشانی پر بل ڈالے ماناب کو گھور رہی تھی۔

“اور شاہ ویز راضی ہو گیا ایک ایسی لڑکی سے شادی کرنے کے لیے جس کی عزت کو کئی دفعہ پامال کیا گیا؟”

مہر کرب سے بولی۔

“ہاں جو کچھ اس نے کیا ہے اس کے بعد وہ اس پر بھی شکر ادا کرے۔۔۔”

شاہ تلخی سے بولا۔

“چلیں اگر آپ مطمئن ہیں تو پھر مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں۔۔۔”

مہر ماناب کو کھڑا کرتی شرٹ ٹھیک کرنے لگی۔

“میری جان تیار ہو گئی۔۔۔”

شاہ ماناب کو پکڑتا ہوا بولا۔

“براےُ مہربانی کس کرنے سے اجتناب کیجئے گا۔۔۔”

مہر بیڈ سے سامان اٹھاتی ہوئی بولی۔

“کیوں بھئ؟”

شاہ ماناب کو دیکھتا مہر سے اِستفسار کرنے لگا۔

“آپ کی داڑھی چبھتی ہے ماناب کو۔۔۔”

مہر لب دباےُ مسکراتی ہوئی بولی۔

“اچھا تمہیں تو نہیں چبھتی۔۔۔”

شاہ اس کے عقب میں جا کھڑا ہوا۔

مہر جیسے مڑی شاہ سے ٹکرا گئی۔

شاہ کی بات پر مہر سر جھکاےُ مسکرانے لگی۔

“صحیح کہہ رہا ہوں نہ؟”

شاہ اسے تنگ کرنے کے موڈ میں تھا۔

“دیکھیں ماناب آپ کو دیکھ رہی ہے۔۔۔”

مہر فاصلہ بڑھاتی ہوئی بولی۔

“اسے ابھی کچھ سمجھ نہیں۔تم میری بات کا جواب دو۔۔۔”

شاہ اس کی جانب قدم بڑھاتا ہوا بولا۔

“شاہ آپ کیا بچوں کی طرح پیچھے پڑ گئے ہیں۔۔۔”

مہر ششدر سی بولی۔

“جلدی سے بتا دو۔اگر یاد نہیں تو بتاؤ میں مدد کر دوں؟”

وہ شریر لہجے میں بولا۔

“شرم کریں آپ کی بیٹی دیکھ رہی ہے۔۔۔”

مہر نے اسے شرم دلانی چاہی۔

“ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں پھر شرم کیوں کروں ہیں نہ ماناب؟”

شاہ ماناب کو دیکھتا ہوا بولا۔

مہر مسلسل مسکرا رہی تھی۔

“ابھی کروں پھر بتاؤں گی؟”

شاہ اس کی جانب جھکتا ہوا بولا۔

“نہیں مجھے یاد ہے۔۔۔”

مہر چہرہ موڑتی ہوئی بولی۔ اپنے الفاظ کو سوچ کر دانتوں تلے زبان دے دی۔

“کیا یاد ہے؟”

وہ دلچسپی سے دیکھتا ہوا بولا۔

شاہ کو اس کے چہرے کے تاثرات لطف دے رہے تھے۔

مہر مسکراتی ہوئی سوچ رہی تھی۔

“دیکھو تم بھول گئی ہو۔۔۔”

شاہ اس کا چہرہ اپنی جانب موڑتا ہوا بولا۔

“آپ کیوں مجھے تنگ کر رہے ہیں؟”

مہر خفگی سے دیکھتی ہوئی بولی۔

“تنگ تو نہیں کر رہا ایک معصوم سا سوال کیا ہے۔۔۔”

شاہ معصومیت کے تمام ریکارڈ توڑتا ہوا بولا۔

ماناب بری بری شکلیں بناتی کبھی شاہ کو دیکھتی تو کبھی مہر کو۔

“آپ اور معصوم اف! کتنا برا کمبینیشن ہے۔۔۔”

مہر ناک چڑھاتی ہوئی بولی۔

“تمہیں نہ؟”

شاہ نے ابھی مہر کی بازو پکڑتی ہی تھی کہ ماناب اپنا پسندیدہ مشغلہ شروع کرنے لگی۔

“میں نے کس نہیں کی اب تم اسے چپ کرواؤ گی۔۔۔”

شاہ گلا پھاڑتی ماناب کو مہر کی جانب بڑھاتا ہوا بولا۔

مہر منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔

“آپ کو بس رُلانا آتا ہے۔۔۔”

مہر اسے خفگی سے دیکھتی ماناب کو خاموش کروانے لگی۔

شاہ مسکراتا ہوا باہر نکل گیا۔

مہر ماناب کو سلا کر کمرے سے باہر نکل آئی۔

“بھابھی یہ دیکھیں یہ بری والے سوٹ ہیں اور یہ جہیز والے۔۔۔”

عافیہ بیڈ پر پڑے کپڑوں کی جانب اشارہ کرتی ہوئی بولی۔

مہر اشتیاق سے دیکھنے لگی۔

“اب آپ بتائیں شاہ ویز کے نکاح پر کون سا سوٹ پہنوں؟”

وہ پریشانی سے گویا ہوئی۔

“جتنے زیادہ کپڑے ہوں پسند کرنے میں مشکل بھی اتنی زیادہ ہوتی۔۔۔”

مہر کپڑے دیکھتی ہوئی گویا ہوئی۔

“بلکل صحیح کہا آپ نے۔اسی لئے تو آپ کو بلایا ہے۔۔۔”

وہ بیڈ کے دوسرے کنارے پر بیٹھتی ہوئی بولی۔

گھنٹہ بھر وہ دونوں کپڑوں میں الجھتی رہیں پھر مہر ماناب کے خیال سے باہر نکل آئی۔

“ابھی تک میڈم کی کوئی آواز سنائی نہیں دی۔۔۔”

مہر بڑبڑاتی ہوئی چل رہی تھی۔

آج حویلی سے میں معمول سے زیادہ خاموشی تھی یا پھر مہر کو ایسا گمان ہو رہا تھا۔

مہر دروازہ کھول کر اندر آئی چہرہ بائیں جانب موڑا تو آنکھوں میں تحیر سمٹ آیا۔

وہ تیزی سے بیڈ کے پاس آئی۔

“ماناب کہاں گئی؟”

مہر بیڈ پر ہاتھ مارتی ہوئی بولی۔

دل میں وسوسے جنم لینے لگے۔

مہر کو خطرہ لاحق ہوا۔

“نہیں وہ کہاں جاےُ گی۔اپنی دادی کے پاس ہو گی۔۔۔”

مہر خود کو تسلی دیتی باہر نکل آئی۔

آنکھیں برسنے کو بےتاب تھیں لیکن وہ کچھ غلط سوچنا نہیں چاہتی تھی۔

مہر سرعت سے زینے اترتی ضوفشاں بیگم کے کمرے میں آئی جو زیور دیکھنے میں مصروف تھیں۔

“ام امی وہ ماناب آپ کے پاس نہیں ہے؟”

مہر بوکھلا کر انہیں دیکھنے لگی۔

“نہیں۔میرے پاس کہاں سے آئی؟ تم اسے آج نیچے کب لائی؟”

ضوفشاں بیگم نے الٹا سوال داغا۔

“یا اللہ! میری بیٹی۔۔۔”

مہر سینے پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔

“شاہ ویز کے کمرے میں دیکھتی ہوں۔۔۔”

مہر بڑبڑاتی ہوئی باہر نکل گئی۔

“ہاےُ ہاےُ اسے کیا ہو گیا۔۔۔”

وہ پیشانی پر بل ڈالتی زیور سمیٹنے لگیں۔

ناساز طبیعت کے باعث شاہ ویز آج آفس نہیں گیا تھا۔

مہر بنا دستک دئیے کمرے میں آ گئی۔

“شاہ ویز بنا شرٹ پہنے بیٹھا سموکنگ کر رہا تھا۔

جیسے ہی مہر کی شاہ ویز سے نظریں چار ہوئیں اسے شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔

“آئم سوری۔۔۔”

مہر چہرہ موڑتی ہوئی بولی۔

شاہ ویز اس کی اچانک آمد پر بوکھلا گیا۔

سیگرٹ ایش ٹرے میں پھینک کر بیڈ سے شرٹ اٹھا کر پہننے لگا۔

“آپ ناک کر کے آ جاتیں۔۔۔”

شاہ ویز سنبھل کر بولا۔

“وہ مجھے ماناب کا پوچھنا تھا۔۔۔”

مہر خود کو کوستی ہوئی بولی۔

“آپ چہرہ موڑ سکتی ہیں۔۔۔”

شاہ ویز اس کی جھجھک محسوس کر کے بولا۔

مہر دھیرے دھیرے اس کی جانب گھومنے لگی۔

“ت تم ماناب کو میرے کمرے سے لے کر تو نہیں گئے؟”

مہر پریشانی کے عالم میں بولی۔

“نہیں بھابھی میں تو صبح سے کمرے سے نہیں نکلا۔۔۔”

شاہ ویز نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا۔

“اچھا۔۔۔۔”

بولتے بولتے مہر کے رخسار پر ایک موتی آ گرا۔

مہر مایوسی سے کہتی مڑ گئی۔

“بھابھی اگر کوئی مسئلہ ہے تو مجھے بتا سکتی ہیں۔میں بدل چکا ہوں۔۔۔”

شاہ ویز نادم تھا۔

جب سے مہر آئی تھی وہ پہلی بار اسے مخاطب کر رہا تھا۔شاہ ویز نے طرز تخاطب بھی بدل لیا تھا۔

“ماناب نہیں مل رہی مجھے۔۔۔”

مہر بمشکل خود کو رونے سے باز رکھتی ہوئی بولی۔

لیکن اس کی آواز اس کے آنسوؤں کی چغلی کھا رہی تھی۔

“آپ نے چیک کیا سب جگہ؟”

شاہ ویز فکرمندی سے بولا۔

“وہ اتنی چھوٹی ہے خود نہیں جا سکتی اور جو لے جا سکتے ہیں ان کے کمرے میں دیکھ چکی ہوں۔۔۔”

مہر ہاتھ مسلتی باہر نکل گئی۔

شاہ ویز بھی اس کے پیچھے باہر نکل گیا۔

“شاہ پلیز گھر آ جائیں جلدی۔۔۔”

مہر فون کان سے لگاےُ کھڑا تھی۔

“کیا ہوا مہر؟ تم رو رہی ہو؟”

شاہ کرسی پیچھے کرتا کھڑا ہو گیا۔

“شاہ مانا ماناب نہیں مل رہی مجھے پلیز آپ آ جائیں۔۔۔”

مہر کا ضبط جواب دے گیا۔

اپنے شریک حیات کے سامنے وہ رو دی۔

“کیا مطلب؟ اچھا تم فکر مت کرو میں ابھی نکلتا ہوں تم چھوٹے کو بولو وہ ملازم وغیرہ سے پوچھے میں بس آ رہا ہوں مہر۔۔۔”

شاہ باہر نکلتا ہوا بول رہا تھا۔

“شاہ مجھے کچھ نہیں پتہ آپ بس ابھی آ جائیں مجھے میری بیٹی چائیے۔۔۔”

مہر دیوانہ وار بول رہی تھی۔

“مہر حوصلہ کرو یہی کہیں ہو گی مل جاےُ گی۔۔۔”

شاہ گاڑی سٹارٹ کرتا ہوا بولا۔

“میں نے دیکھا ہے شاہ وہ نہیں ہے۔۔۔”

مہر اشک بہاتی بول رہی تھی۔

“اچھا میں تم سے آ کر بات کرتا ہوں ڈرائیو کرتے ہوئے بات نہیں کر سکتا ایکسیڈنٹ کا خطرہ ہوتا ہے۔۔۔۔”

شاہ فون دائیں ہاتھ سے پکڑتا ہوا بولا۔

“ہا ہاں ٹھیک یے آپ ایزی ہو کر ڈرائیو کریں میں شاہ ویز کو بولتی ہوں۔۔۔”

مہر موبائل بیڈ پر پھینکتی باہر نکل گئی۔

“بھابھی میں نے عافیہ بھابھی کے کمرے میں بھی دیکھا ہے ماناب وہاں بھی نہیں ہے۔۔۔”

شاہ ویز اسے دیکھتا ہوا بولا۔

“شاہ کہہ رہے تھے تم ملازموں سے پوچھو کہیں ان میں سے کسی کا کام نہ ہو۔۔۔”

مہر خود پر بندھ باندھتی ہوئی بولی۔

شاہ ویز مہر کا چہرہ دیکھ رہا تھا جو کچھ پل میں اجڑا اجڑا معلوم ہو رہا تھا۔

“جی بھابھی میں پوچھتا ہوں۔۔۔”

شاہ ویز کہتا ہوا زینے اترنے لگا۔