Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 13
Tawaif by Hamna Tanveer
شاہ نے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔
“اب کیا کرو گی۔۔۔۔۔”
شاہ اس کی سمندر جیسی گہری بھوری آنکھوں میں جھانکتا ہوا بولا۔
مہر اسے گھورنے لگی۔
“تمہیں میرا ایک کام کرنا ہو گا۔۔۔۔”
مہر کچھ سوچ کر بولی۔
“کیسا کام؟۔۔۔۔۔”
شاہ آبرو اچکا کر بولا۔
“مجھے کوٹھے پر جانا ہے۔۔۔۔۔”
“کس خوشی میں؟۔۔۔۔”
شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔
“مجھے وہاں سے ایک لڑکی کو نکالنا ہے۔۔۔۔۔”
مہر بغور شاہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“کیا لگتی ہے وہ تمہاری۔۔۔۔”
مہر اس کی بات پر استہزائیہ ہنسی۔
“احساس کا مطلب جانتے ہو؟۔۔۔۔۔”
مہر اسے نگاہوں کے حصار میں لیتی ہوئی بولی۔
“تم جیسے رئیس زادے جان بھی کیسے سکتے ہیں میں بتاتی ہوں۔۔۔۔۔”
شاہ اس کی نگاہوں کے سحر میں جکڑے اسے سن رہا تھا۔
“احساس وہ جذبہ ہے جو کسی پراےُ کو بھی اپنا بنا دیتا یے۔ اور اس لڑکی کو نکالنے میں تم میری مدد کرو گے۔۔۔۔۔”
مہر کسی ملکہ کی مانند اس پر حکم صادر کر رہی تھی۔
“میں نے سب کا ٹھیکہ نہیں اٹھا رکھا۔۔۔۔۔۔”
شاہ بیزاری سے بولا۔
“پھر مجھے بھی بھول جاؤ۔۔۔۔۔۔”
مہر الٹے قدم اٹھاتی ہوئی بولی۔
“تمہیں تو کہیں نہیں جانے دیتا میں۔۔۔۔۔”
شاہ مہر کی جانب قدم بڑھاتا ہوا بولا۔
“اگر میں چاہوں تو تم مجھے دیکھ بھی نہ پاؤ۔۔۔۔۔”
بلا کا اعتماد تھا اس کی آنکھوں میں۔
شاہ کی نظروں کے سامنے اس رات کا منظر گھوم گیا جب مہر نے اس کی بازو پر زخم دیا تھا۔
“تم ایسا کچھ نہیں کرو گی۔۔۔۔۔۔”
شاہ کو خطرہ لاحق ہوا۔
“میں کچھ بھی کر سکتی ہوں۔۔۔۔۔”
مہر اس کی جانب دل جلانے والی مسکراہٹ اچھالتی ہوئی بولی۔
“ٹھیک ہے تم اسے نکلوا لینا کوٹھے سے لیکن اگر تم نے کچھ الٹا سیدھا کیا تو۔۔۔۔۔۔”
شاہ اس کے عین مقابل آ گیا۔
“تو؟۔۔۔۔۔”
مہر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی ہوئی بولی۔
“تو میں خود تمہیں لوگوں کے بستروں کی زینت بناؤں گا۔۔۔۔۔”
اتنے وقت سے شاہ اسے اچھے سے جان چکا تھا۔
مہر کے چہرے کے تاثرات بدلے۔
مسکراہٹ کی جگہ تحیر نے پھر پریشانی نے لے لی۔
“تم ایسا کچھ نہیں کرو گے۔۔۔۔۔”
مہر نے تصدیق کرنی چاہی۔
“میں ایسا ضرور کروں گا اگر تم نے حد پار کر کے خود کو نقصان پہنچایا تو۔۔۔۔۔”
شاہ نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا پھر بھلا کیسے نہ تڑپتی وہ۔
“ٹھیک ہے نہیں کرتی کل تم مجھے کوٹھے پر لے جاؤ گے۔۔۔۔۔”
مہر مفاہمت پر اتر آئی۔
“کل کی کل دیکھی جاےُ گی ابھی مجھے یہ سب نہیں سوچنا۔۔۔۔۔”
شاہ اس کی جانب جھکتا ہوا بولا۔
مہر پیچھے ہو گئ۔
شاہ اسے خفگی سے دیکھ رہا تھا اور وہ اثر لئے بنا اندر کی جانب چلنے لگی۔
“طوائف سمجھ کر لایا تھا لیکن یہ تو بیوی سے بھی زیادہ رعب جماتی ہے۔۔۔۔۔”
شاہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا چلنے لگا۔
****///////****
“ازلان تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ حرم تمہاری منکوحہ یے؟۔۔۔۔۔”
ذوناش تقریباً چلائی۔
“تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟۔۔۔۔۔”
ازلان لاپرواہی سے بولا۔
“منکوحہ ہے تو بیوی بھی وہی بنے گی نہ پھر میرے ساتھ کیوں کھیل رہے تھے۔۔۔۔۔”
“تم نے شاید سنا نہیں ہے بیوی گھر میں ہوتی ہے اور گھر میں ہی اچھی لگتی ہے تمہیں حرم سے کیا پرابلم ہے۔۔۔۔۔”
ازلان پیشانی پر بل ڈالتا ہوا بولا۔
“میں کیسے برداشت کر لوں اس حرم کو تمہارے ساتھ۔۔۔۔” وہ ازلان کے قریب آتی ہوئی بولی۔
“کرنا ہے تو کرو نہیں تو جاؤ۔۔۔۔۔”
ازلان اسے گھورتا ہوا بولا۔
ذوناش ششدہ سی اسے دیکھنے لگی۔
ازلان بنا اس کی سنے وہاں سے نکل آیا۔
وہ کلاس کی جانب جا رہا تھا جب نظر حرم سے ٹکرائی۔
سیاہ بالوں کو جوڑے کی شکل میں مقید کئے وہ کتاب پر جھکی ہوئی تھی۔
چہرے پر ہمیشہ کی مانند معصومیت طاری تھی۔
ازلان کے لب دھیرے سے مسکراےُ۔
دماغ نے کام کیا تو شرارت سوجھی۔
“حرم یہاں آؤ۔۔۔۔”
ازلان حرم سے کچھ مسافت پر کھڑا تھا۔
حرم چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔
“میں؟۔۔۔۔۔۔”
انگلی سے اپنی جانب اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
ازلان نے ایک گھوری سے نوازا تو کتاب رکھتی کھڑی ہو گئی۔
“آمنہ میں ابھی آتی ہوں۔۔۔۔”
سرگوشی کرتی ازلان کی جان چلنے لگی۔
حرم سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
ازلان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور چلنے لگا۔
حرم منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔
“کہاں لے کر جا رہے ہو مجھے۔۔۔۔۔”
حرم اس کے ہمراہ چلتی ہوئی بولی۔
“خاموش نہیں رہ سکتی تم۔۔۔۔۔”
ازلان خفگی سے بولا۔
حرم خاموش ہو کر چلنے لگی۔
مطلوبہ مقام پر پہنچ کر ازلان نے اسے دیوار کے ساتھ لگا دیا۔
“کیا؟۔۔۔۔۔۔”
حرم بوکھلا کر اسے دیکھنے لگی۔
“تم نے بال کس سے پوچھ کر باندھے ہیں۔۔۔۔”
ازلان دیوار پر ہاتھ رکھ کر اس کے فرار کی راہ مسدود کرتا ہوا بولا۔
“کیا مطلب؟۔۔۔۔۔”
حرم پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“تم نے مجھ سے پوچھا؟۔۔۔۔۔”
ازلان کی آنکھوں میں شرارت اور چہرے پر خفگی تھی۔
“پلیز تھوڑا دور رہ کر بات کرو۔۔۔۔۔”
حرم مظلومیت سے بولی۔
“تم مجھ پر حکم چلاؤ گی۔۔۔۔”
ازلان گھورتا ہوا اس کے قریب ہوا۔
“حکم تو نہیں چلایا لیکن پلیز دور رہ کر بات کرو۔۔۔۔۔”
حرم اس کے سینے پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔
“تم نے میری دو شرٹ خراب کیں اور لا کر ایک دی دوسری کون دے گا؟۔۔۔۔۔”
ازلان کو اسے تنگ کرنے میں لطف آتا تھا۔
“تمہیں ایک اور شرٹ چائیے؟۔۔۔۔”
حرم متحیر سی بولی۔
“بلکل۔۔۔۔”
ازلان تائیدی انداز میں بولا۔
“اچھا میں لا دوں گی لیکن مجھے جانے دو اب اگر کسی نے بھائی کو بتا دیا۔۔۔۔۔”
حرم فکرمندی سے بولی۔
“حقیقت تو کوئی بھی نہیں جانتا پھر کیسے کوئی بتاےُ گا۔۔۔۔۔”
ازلان آبرو اچکا کر بولا۔
اتنی نزدیکیاں حرم کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔
“مجھے جانے دو پلیز۔۔۔۔۔”
حرم نے بائیں جانب سے نکلنا چاہا تو ازلان نے دوسرا ہاتھ دیوار پر رکھ لیا۔
حرم خفگی سے اسے دیکھنے لگی۔
“ابھی میرا دل نہیں کر رہا۔۔۔۔۔”
ازلان منہ بناتا ہوا بولا۔
“تو جب تک تمہارا دل نہیں کرے گا میں یہیں کھڑی رہوں گی؟۔۔۔۔۔”
حرم صدمے سے بولی۔
“ظاہر سی بات ہے جب میرا دل کرے گا تبھی جاؤ گی تم۔۔۔۔۔”
وہ لب دباےُ مسکراتا ہوا بولا۔
“ہاےُ اللہ کتنا بد تمیز ہے یہ کیسے گھور رہا ہے۔۔۔۔۔”
حرم اسے دیکھتی دل ہی دل میں سوچنے لگی۔
ازلان کے فون کی رنگ ٹون نے دونوں کو متوجہ کیا۔
ازلان پیچھے ہوتا فون نکالنے لگا تو حرم بھی نکل گئی۔
ازلان مسکراتے ہوۓ فون پر بات کرنے لگا۔
****//////****
“یہ کون ہیں؟۔۔۔۔۔۔”
عینی اس چشمے والی لڑکی کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“یہ آج آئی ہے ہمارے کمرے میں رہے گی۔۔۔۔۔”
منتہا عینی کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“آپ لوگ مجھ سے دوستی کریں گے؟۔۔۔۔۔”
آئمہ سب کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“”ہاں کیوں نہیں۔۔۔۔۔”
منتہا خوشدلی سے بولی۔
آئمہ مسکرانے لگی۔
“لیکن خیال رکھنا تم کسی کو ہمارے راز نہ بتاؤ۔۔۔۔۔”
عینی تیکھے تیور لئے بولی۔
“نہیں نہیں میں ایسی نہیں ہوں جو بات ہو منہ پر قفل لگا لیتی ہوں کسی کو معلوم نہیں ہوتی۔۔۔۔۔”
آئمہ عینی کی جانب دیکھتی ہوئی بولی۔
عینی اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“مجھے نہ لڑکوں سے بہت ڈر لگتا ہے آپ میری دوستی دوسری لڑکیوں سے بھی کروا دینا جو لڑکوں سے دور رہتی ہوں۔۔۔۔۔”
آئمہ چہرے پر معصومیت طاری کئے بولی۔
“پھر تم ایسا کرو سامنے کمرے میں حرم رہتی ہے معصوم اور ڈرپوک ہے اس سے دوستی کر لینا۔۔۔۔۔”
عینی کہتی ہوئی لپ اسٹک لگانے لگی۔
آئمہ کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی جسے اس نے بروقت چھپا لیا۔
****//////****
مہر چادر لے کر باہر نکلی تو شاہ گاڑی میں بیٹھا اس کا منتظر تھا۔
“تم اسے اپنے ساتھ لے آؤ گی؟۔۔۔۔۔”
شاہ متحیر سا بولا۔
“نہیں اپنے ساتھ کیسے لا سکتی ہوں زلیخا بیگم کبھی نہیں بھیجیں گیں اسے۔۔۔۔۔”
مہر تلخی سے بولی۔
“پھر؟۔۔۔۔۔”
شاہ آبرو اچکا کر بولا۔
“میں جاؤں گی تو صورتحال کا اندازہ ہو گا تفتیش ہو گئی ہو تو چلیں اب؟۔۔۔۔۔”
مہر بغور اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“میرے سامنے کم بولا کرو تم۔۔۔۔۔”
شاہ کرخت لہجے میں بولا۔
مہر نے جواب دینا ضروری نہ سمجھا۔ وہ چہرہ موڑے شیشے سے پار دیکھنے رہی تھی۔
شاہ کلس کر گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔
مہر گاڑی سے باہر نکل کر اس کوٹھے کو دیکھنے لگی جہاں اس نے زندگی کا ایک حصہ گزارا تھا۔
شاہ گاڑی میں ہی بیٹھا تھا۔
مہر اندر کی جانب چلنے لگی۔
“مہر!۔۔۔۔۔۔”
رانی کے لبوں سے پھسلا۔
مہر اسے نظر انداز کئے زینے چڑھنے لگی۔
طوائفیں مہر کو دیکھ کر چہ میگوئیاں کر رہی تھیں۔
مہر فکرمند سی چل رہی تھی۔
“کیسے اس لڑکی سے بات کروں گی۔۔۔۔۔”
مہر لب دباےُ سوچتی ہوئی چل رہی تھی۔
کچھ سوچ کر وہ زلیخا بیگم کے کمرے کی جانب چلنے لگی۔
زلیخا بیگم بانی کو ہدایات دے رہیں تھیں جب نظر مہر سے ٹکرائی تو لب مسکرانے لگے۔
“مہر۔۔۔۔۔”
وہ تپاک سے ملیں۔
“مہر چہرے پر اکتاہٹ سجاےُ بیٹھ گئی۔
“آپ نے اچھا نہیں زلیخا بیگم۔۔۔۔۔”
مہر مغرور انداز میں بولی۔
گردن اکڑی ہوئی تھی۔
“مہر تم جانتی ہو ہم اپنی زبان سے نہیں پھرتے شاہ صاحب تمہیں زبردستی لے گئے ورنہ میں تو کبھی نہ جانے دیتی۔۔۔۔۔”
وہ مظلومیت سے بولیں۔
مہر کے چہرے پر بیزاری تھی۔
“ہاےُ مہر تمہارے جانے سے یہ کوٹھہ تو سونا سونا سا لگ رہا ہے سب تمہارا پوچھتے ہیں۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم آہ بھرتی ہوئیں بولیں۔
“میں اپنا کمرہ دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔”
مہر بولتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔
“ہاں ہاں تمہاری اپنی جگہ ہے جہاں مرضی جاؤ۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم مسکراتی ہوئیں بولیں۔
مہر چلتی ہوئی کمرے سے نکل آئی۔
زلیخا بیگم پھر سے بانی کے ساتھ محو ہو گئیں۔
مہر آس پاس دیکھتی سنبھل کر اپنے کمرے میں آ گئی۔
قسمت کا حسین اتفاق کہ حرائمہ اسی کے کمرے میں رہائش اختیار کیے ہوۓ تھی۔
مہر کو دیکھ کر حرائمہ کا چہرہ کھل اٹھا۔
“آ۔۔آپ مجھے لینے آئیں ہیں؟۔۔۔۔۔”
وہ مہر کی جانب بڑھتی ہوئی بولی۔
مہر کو اس پر ترس آ رہا تھا۔
“نہیں۔۔۔۔۔”
مہر دھیرے سے بولی۔
حرائمہ کی امیدوں پر اوس پڑ گئ۔
مہر کے ہاتھ جو اس نے ایک منٹ قبل تھامے تھے چھوڑ کر وہ الٹے قدم اٹھانے لگی۔
“لیکن میں مدد کر سکتی ہوں۔۔۔۔۔”
مہر دھیرے سے بولی۔
وہ محتاط انداز میں عقب میں دیکھتی ہوئی بولی۔
“آپ مجھے لے لے جائیں گیں نہ۔۔۔۔۔”
وہ بے یقینی سے ڈبڈباتی نگاہوں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“اگر تم ساتھ دو تو لیکن میری ہدایات پر عمل کرنا ہو گا۔۔۔۔۔”
مہر اس کے ہاتھ تھامتی ہوئی بولی۔
“آپ مجھے جیسے کہیں گیں میں ویسے ہی کروں گی لیکن پلیز مجھے لے جائیں اپنے ساتھ مجھے امی کے پاس جانا ہے پتہ نہیں کس حال میں ہوں گیں وہ۔۔۔۔۔”
حرائمہ روتی ہوئی گڑگڑا رہی تھی۔
“پلیز خاموش ہو جاؤ ورنہ انہیں شک ہو جاےُ گا یہ نمبر رکھ لو جس دن تمہیں پارلر لے کر جائیں تم نازیہ نام کی بیوٹیشن کے فون سے مجھے کال کر لینا پھر میں تمہیں لے جاؤں گی وہاں سے۔۔۔۔۔”
مہر نے سوچا ہوا پلان اسے سمجھایا۔
“جی ٹھیک یے۔۔۔۔۔”
وہ چہرہ صاف کرتی ہوئی بولی۔
“اور ہاں سنو یہ پارلر تمہیں تب بھیجیں گے جب تم ان کے اشاروں پر کام کرو گی سمجھ رہی ہو نہ فلحال جیسے وہ کہتی ہیں مان لو ان کی بات اگر باہر نکلنا چاہتی ہو تو؟۔۔۔۔”
مہر رک کر اسے دیکھنے لگی۔
“ان کا اعتماد حاصل کرو تاکہ تمہیں نکالنے میں آسانی ہو۔۔۔۔۔”
مہر دروازے کی سمت دیکھتی ہوئی بولی۔
حرائمہ اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“ہے تو کام مشکل لیکن ساری زندگی تیاگ دینے سے یہی بہتر ہے۔۔۔۔۔”
مہر اسے دیکھتی ہوئی الٹے قدم اٹھانے لگی۔
حرائمہ یاس سے مہر کو دیکھ رہی تھی۔
“اللہ کرے آپ مجھے یہاں سے نکال لیں۔۔۔۔۔”
بے اختیار حرائمہ کے لبوں سے نکلا۔
“ان شاءاللہ ۔۔۔۔۔”
مہر رک رک کر بولی۔
دھیرے سے مسکرائی اور باہر نکل گئ۔
حرائمہ دروازے کو دیکھنے لگی۔
آنکھوں میں امید کے جگنو ٹمٹمانے لگے تھے۔
مہر چلتی ہوئی باہر نکل آئی۔
چھن چھن کی آواز گونج رہی تھی۔
مہر آ کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔
“اب لے کر کیوں نہیں آئی؟۔۔۔۔۔”
شاہ طنزیہ بولا۔
مہر نے گھورنے پر اکتفا کیا۔
شاہ اس کی جانب سے جواب کا منتظر تھا۔
“میں کچھ پوچھ رہا ہوں؟۔۔۔۔”
شاہ کرخت لہجے میں بولا۔
“اس طرح سے کیسے لے جا سکتی ہوں میں اسے؟ یہ چھوٹی سی بات سمجھ نہیں سکتے۔۔۔۔۔”
مہر دانت پیستی ہوئی بولی۔
“تم جیسی بےصبری تھی مجھ لگا شاید ساتھ لے کر آؤ گی۔۔۔۔۔۔”
شاہ مسکراتا ہوا سامنے سڑک کو دیکھنے لگا۔
مہر نے بے رخی سے چہرہ موڑ لیا۔
شاہ نے گاڑی سٹارٹ کی اور گاڑی انجان راستوں پر بھاگنے لگی۔
یکدم شاہ نے بریک لگائی۔
مہر آگے کو ہوئی لیکن سر ڈیش بورڈ سے ٹکرانے سے بچ گیا۔
مہر چہرہ موڑے اسے گھورنے گی۔
“اب کیا مسئلہ ہے؟۔۔۔۔۔”
مہر اس کی نظریں خود پر محسوس کرتی ہوئی بولی۔
“مجھے اپنے بارے میں بتاؤ۔۔۔۔۔”
شاہ اسکے دونوں ہاتھ تھامتا نرمی سے بولا۔
مہر کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی لیکن پھر چہرے پر سختی در آئی۔
“مجھے کچھ نہیں بتانا۔۔۔۔۔”
مہر برہمی سے بولی۔
“اگر میں تم سے نرم لہجے میں بات کرتا ہوں تو تمہارا منہ سیدھا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔”
شاہ تقریباً چلایا۔
مہر اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی۔
وہ شاہ کو دیکھنے سے گریز برت رہی تھی۔
“مجھے مرد ذات پر اعتبار نہیں۔۔۔۔۔”
مہر کی بھرائی ہوئی آواز گونجی۔
“میں تم سے محبت کے عہد و پیمان نہیں باندھ رہا تمہیں صاف بتایا ہے کہ تمہیں پانے کے لئے تم سے نکاح کیا اور تمہیں ہمیشہ ایسے ہی رکھوں گا حویلی سے دور۔
پھر مجھ سے کیوں ہچکچا رہی ہو؟ میں جاننا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔”
شاہ کا لہجہ پر تجسس تھا۔
“کچھ ہے ہی نہیں بتانے کو۔۔۔۔۔”
مہر کا چہرہ جھکا ہوا تھا۔
“تم جھوٹ بول رہی ہو۔۔۔۔”
شاہ نے یقینی کی کیفیت میں بولا۔
“میں کیوں جھوٹ بولوں گی؟۔۔۔۔۔”
مہر آنکھوں کی نمی چھپانے کی غرض سے چہرہ جھکاےُ ہوۓ تھی۔
“مجھے ایک بات بتاؤ، جب تم رقص کرتی تھی تمہاری آنکھوں میں کرب ہوتا تھا کیوں؟۔۔۔۔۔”
شاہ سوالیہ نظروں سے مہر کو دیکھ رہا تھا۔
“جیسی وہ جگہ ہے کیا نہیں ہونا چائیے تھا؟۔۔۔۔”
مہر نے سرخ ہوتیں نگاہیں اٹھا کر شاہ کو دیکھا۔
شاہ کے لئے مہر کی آنکھوں میں دیکھنا دو بھر ہو گیا۔
اس نے نظروں کا زاویہ موڑ لیا۔
وہ درست کہ رہی تھی اس جگہ پر رہنے کے بعد ایسی توقع ہی رکھنی چائیے۔
شاہ کا دل موم ہو رہا تھا۔
شاہ سے کوئی بات نہ بنی تو گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔
