577.9K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tawaif Episode 39

Tawaif by Hamna Tanveer

“اچھا اب دفعہ ہو اسے لے کر جا یہاں سے ورنہ میں نے کچھ مار دینا ہے اس کے گلے میں جو کل سے پھاڑ پھاڑ کر میرے کان خراب کر رہی ہے یہ بچی۔۔‍۔”

وہ کھا جانے والی نظروں سے گھورتی ہوئی بولیں۔

بانی ماناب کو لیے باہر نکل آئی۔

اگرچہ بانی ایک بے حس عورت تھی لیکن اس بچی کے آنسو اسے بھی رُلا رہے تھے۔

جسے نجانے کس جرم کی سزا دی جا رہی تھی اس معصوم کو۔

****////////****

اندھیری رات اور گہری تنہائی۔

چار سو پھیلی تاریکی ایک خوفناک سا منظر پیش کر رہی تھی۔

مہر نے خود کو اس جگہ پر تنہا پایا۔

وہ ننگے پیر زمین پر کھڑی تھی جب اسے اپنے پاؤں پر کچھ محسوس ہوا۔

تکلیف اتنی شدید تھی کہ وہ درد سے چلانے لگی۔

اندھیرے کے باعث اس کی آنکھیں دیکھنے سے قاصر تھیں کہ کس چیز نے اسے کاٹا ہے۔

اس کے بعد پے دے پے مہر کے پاؤں پر وار ہونے لگا۔

مہر چیخنے لگی چلانے لگی لیکن اس کی پکار سننے والا کوئی بھی نہیں تھا۔

تکلیف ایسی کہ دل پھٹ کر باہر نکل آےُ۔

مانو کوئی بچھو ڈنگ مار رہا ہو۔

چاند بادلوں کی اوٹ سے جھانکنے لگا تو مہر کو اپنے اردگرد بےشمار بچھو دکھائی دئیے۔

مہر کے حواس جواب دے گئے۔

مہر کا چہرہ متواتر آنسوؤں کے باعث تر ہو چکا تھا۔

مہر کا دل چاہ رہا تھا اپنے پاؤں کاٹ پھینکے۔

“آہ۔۔۔”

وہ تکلیف سے کراہ رہی تھی۔

مہر جھرجھری لیتی کبھی اپنے پاؤں کو دیکھتی تو کبھی ان بےشمار بچھو کو جن کی تعداد کا اندازہ لگانا ممکن نہ تھا۔

بچھو بھی ایسا کہ ایک وار ہی بندے کی جان لے جاےُ۔

مہر نے بھاگنا شروع کر دیا۔

وہ اندھا دھند بھاگ رہی تھی اور بچھو اسے ڈنگ مار رہے تھے۔

مہر کے پاؤں چلنے سے انکاری ہو گئے۔

مہر کے پاؤں سوجھ کر من من بھاری ہو گئے تھے۔

سرخ پاؤں جگہ جگہ پر ابھرتے نشان جو ڈنگ کے باعث تھے۔

مہر کی دل خراش چیخیں نکل رہی تھیں۔

“نہیں۔مجھے تکلیف ہو رہی ہے دور ہو جاؤ۔۔۔”

دوبارہ بھاگنے کی سعی میں مہر اوندھے منہ زمین پر گر گئی۔

وہ ہاتھ سے بچھوؤں کو پرے کرنے لگی تو ہاتھ بھی زخمی ہو گیا۔

وہ جگہ جگہ مہر کے حسم میں ڈنگ مار رہے تھے۔

مہر کی چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی۔

مہر نے مٹھی بھینچ لی دل چاہ رہا تھا خود کو نوچنا شروع کر دے۔

جہاں جہاں وہ ڈنگ مار رہے ہیں اس حصے کو کاٹ پھینکنے کا دل چاہ رہا تھا۔

یہ تکلیف کی انتہا تھی۔

مہر پھر سے کھڑی ہوئی اور بھاگنے لگی۔

پاؤں سے خون بہنے لگا تھا۔

ان کا ایک وار ہی جان لیوا تھا اور مہر پر نجانے کتنے وار ہو چکے تھے۔

مہر رکنا نہیں چاہتی تھی اگر رکتی تو تکلیف کی شدت سے شاید خود کو کاٹنا شروع کر دیتی۔

جان تو شاید اب کسی صورت نہ بچتی کیونکہ ان کا زہر مہر کو اپنی رگوں میں دوڑتا محسوس ہو رہا تھا۔

اسے قہ آ رہی تھی۔

مہر گر پڑتی بلآخر ایسے مقام پر آ گئی جہاں کوئی بچھو دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

مہر کو روشنی دکھائی دی تو آنکھوں میں امید کے جگنو جگمگانے لگے۔

مہر پھر سے کھڑی ہوئی ایک نظر اپنے پاؤں پر ڈالی۔ خوبصورت دودھیا نرم گداز پروں کا کیا حال ہو چکا تھا۔

اپنے پاؤں دیکھ کر مہر کو قہ آنے لگی تھی۔

جگہ جگہ سے ابھرے سرخ نشان اور ان سے رستا خون۔

مہر نے جھرجھری لی اور بھاگنے لگی۔

جوں جوں مہر آگے جا رہی تھی گرمی بڑھتی جا رہی تھی۔

اس کا وجود پسنے میں شرابور ہو چکا تھا۔

سامنے کا منظر دیکھ کر مہر کا دل باہر نکل آیا۔

وہ حونق زدہ سی اس بھڑکتی آگ کے شعلے دیکھنے لگی۔

سرخ انگارے باہر نکل رہے تھے۔

مزید یہ کہ لوگوں کی دل دوذ چیخیں سنائی دے رہی تھیں۔

آگ سے اٹھتے شعلے پھیل رہے تھے۔

ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لینا چاہ رہے تھے۔

مہر اشک بہاتی نفی میں سر ہلا رہی تھی۔

وہ واپس جانے کے لیے مڑی لیکن یہ کیا؟

وہ چل نہیں پا رہی تھی۔

تکلیف کے باعث نہیں۔

مہر کے پاؤں میں زنجیر تھی۔

“یا اللہ یہ سب کیا ہے؟”

بے اختیار مہر کے لبوں سے پھسلا۔

سرخ خون کی مانند خوفناک انگارے،نجانے یہ آگ کہاں تک پھیلی ہوئی تھی۔

“یہ تمہارے گناہوں کا صلہ ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا۔۔۔”

مہر کو اپنے عقب سے آواز سنائی دی۔

لیکن وہ چہرہ موڑ کر دیکھ نہ سکی۔

کوئی قوت تھی جو اسے چہرہ موڑنے سے روک رہی تھی۔

گرمی کی حدت مہر کو بڑھتی محسوس ہو رہی تھی۔

مہر اپنی بازو دیکھنے لگی۔

اسے اپنا جسم پگھلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔

چہرہ جھلس رہا تھا ابھی وہ آگ کے اندر نہیں تھی اس کے قریب تھی تو جو اندر تھا ان کا حال کیا ہو گا۔

“نہیں پلیز مجھے جانے دیں۔میں مر جاؤں گی پلیز۔۔۔”

مہر چلانے لگی لیکن اس آہ و پکار کر کوئی فائدہ نہیں۔

“پلیز مجھے جانے دیں مجھے جانے دیں میں مر جاؤں گی۔۔۔”

مہر نفی میں سر ہلاتی بول رہی تھی۔

مہر کی آواز پر شاہ کی آنکھ کھل گئی۔

وہ جاےُ نماز تہ لگاتا تعجب سے مہر کو دیکھنے لگا۔

وہ مسلسل بول رہی تھی۔

“مہر؟ مہر کیا ہوا تمہیں؟”

شاہ اس کا منہ تھپتھپاتا ہوا بولا۔

مہر نے جھٹ سے آنکھیں کھول دیں۔

وہ پوری آنکھیں کھولے شاہ کو دیکھنے لگی۔مہر اجنبی نظروں سے کمرے کو دیکھنے لگی۔

“مہ میں یہاں کیا کر رہی ہوں؟”

مہر شاہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔

“مہر کیا ہو گیا ہے تم یہیں پر تھیں۔۔۔”

مہر اشک بہاتی نفی میں سر ہلانے لگی۔

“شاہ مہ میں وہاں تھی پتہ نہیں کون سی جگہ تھی وہ؟ شاہ وہاں بہت آگ تھی اتنی گرم تھی کہ میرا جسم پگھل رہا تھا مجھے اپنی بازو پگھلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی شاہ وہ بہت خوفناک تھی اتنی کہ میرا دل باہر نکل آیا میری آنکھوں کے سامنے وہ سب۔میرے پاؤں؟ مہر لحاف ہٹا کر اپنے پیر دیکھنے لگی جو بلکل صحیح تھے۔شاہ یہ تو زخمی تھے بہت زیادہ بہت بری حالت تھی اس کی مجھے تکلیف ہو رہی تھی کوئی بھی نہیں تھا وہاں شاہ وہ منظر بہت خوفناک تھا مجھے لگ رہا تھا میں بار بار مر رہی ہوں۔۔۔”

مہر ہذیانی انداز میں بولتی جا رہی تھی۔

شاہ ناسمجھی کے عالم میں اسے دیکھ رہا تھا جو اشک بہاتی تیز تیز بول رہی تھی۔

“مہر مہر میری بات سنو تم نے کوئی برا خواب دیکھا ہو گا۔یہاں دیکھو میری بات سنو؟”

شاہ اسے بازو سے پکڑ کر اپنی جانب موڑنے لگا۔

“نہیں شاہ وہ سب سچ تھا میں سچ میں وہاں تھی شاہ وہ سب بہت خوفناک تھا بہت بھیانک مہ میں اکیلی تھی اور شاہ اتنی تکلیف تھی کہ میرے پاس الفا الفاظ نہیں ہیں۔۔۔”

مہر اس کے دونوں بازو پر ہاتھ رکھے بولتی جا رہی تھی۔

“مہر بس۔تم یہاں ہو میرے پاس۔کچھ نہیں ہوا تمہیں۔تم بلکل ٹھیک ہو سمجھ رہی ہو نہ؟”

شاہ اسے اپنے ساتھ لگاےُ بول رہا تھا۔

مہر ہچکیاں لیتی رو رہی تھی۔

“شاہ بہت تکلیف ہو رہی تھی مجھے وہ بچھو مجھے ایک بار ڈنگ مارتے اور لگتا تھا میں مر گئی ہوں لیکن میں پھر بھی زندہ پاتی خود کو۔۔۔”

مہر کی آنکھیں اشک بار تھیں۔

وہ کسی معصوم بچے کی مانند اسے بتا رہی تھی۔

“ٹھیک ہے بس اب نہیں رونا تم نے۔دیکھو کیا حال بنا لیا ہے اپنا؟”

شاہ اسے خود سے الگ کرتا اس کے بال سمیٹنے لگا۔

مہر کافی حد تک سنبھل چکی تھی۔

“ٹھیک ہو نہ تم؟”

شاہ بغور اسے دیکھتا ہوا بولا۔

مہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔

“تم سو جاؤ۔آرام کرو میں یہیں بیٹھا ہوں تمہارے پاس۔۔۔”

شاہ اس کا ہاتھ تھامتا ہوا بولا۔

“نہیں شاہ مہ میں نہیں سوؤں گی۔۔۔”

مہر نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔

مہر کی آنکھوں میں تیرتا خوف شاہ سے مخفی نہیں تھا۔

شاہ کا ہاتھ مہر نے مضبوطی سے تھام لیا۔

“ٹھیک ہے سونا مت لیکن لیٹ جاؤ تھوڑا ریسٹ دو اپنے دماغ کو۔۔۔”

شاہ اسے دیکھتا فکرمندی سے بولا۔

“نہیں شاہ مجھے ڈر لگ رہا ہے میں پھر سے وہاں چلی گئی تو؟”

مہر نفی میں سر ہلاتی بول رہی تھی۔

آنسو ٹوٹ کر اس کے رخسار پر آ رہے تھے۔

شاہ نے دوسرا ہاتھ بڑھایا اور اس کا چہرہ صاف کرنے لگا۔

مہر کی حالت شاہ کو بھی اشک بہانے پر مجبور کر رہی تھی۔

“پھر ایسا کرو اٹھو اور نماز پڑھو دیکھنا تمہارا دل پرسکون ہو جاےُ گا۔۔۔”

شاہ اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا ہوا بولا۔

مہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔

“جاؤ۔۔۔”

شاہ اس کے ہاتھ چھوڑتا ہوا بولا۔

مہر چہرہ صاف کرتی بیڈ سے اتر گئی دوپٹہ اٹھایا اور واش روم کا رخ کیا۔

شاہ سانس خارج کرتا اس سمت میں دیکھنے لگا۔

“نجانے خدا کو کیا منظور ہے؟”

شاہ آہ بھرتا باہر نکل آیا۔

منہ دھو کر وہ زینے اترنے لگا۔

معمول کے مطابق سب ڈرائینگ ٹیبل پر بیٹھے تھے۔

حرم کے متعلق صرف شہریار اور شاہ ویز جانتے تھے۔

شاہ تھکے تھکے انداز میں چلتا ہوا آیا اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔

کمال صاحب کرب سے اپنے بیٹے کو دیکھنے لگی۔

“بابا سائیں حرم کل سے لاپتہ ہے۔۔۔”

سب بےیقینی سے شاہ کو دیکھنے لگے۔

“کل رات ہم تینوں حرم کو ڈھونڈنے گئے تھے لیکن۔۔۔”

شاہ نے سرد آہ بھرتے بات ادھوری چھوڑ دی۔

“لیکن کیا؟”

کمال صاحب کی کمزور سی آواز نکلی۔

“کوئی فائدہ نہیں ہوا بابا سائیں۔۔۔”

شاہ کی بجاےُ شہریار بولا۔

“تم سب اب ہمیں بتا رہے ہو؟”

کمال صاحب غراےُ۔

“رات بتا دیتے تو کیا ہو جاتا؟”

شاہ سرد لہجے میں بولا۔

شاہ کی کیفیت سے وہ واقف تھے تبھی خاموش ہو گئے۔

“شاہ میری بچی لاپتہ ہے اور تم سب یہاں بیٹھے ہو؟”

ضوفشاں بیگم متحیر سی بولیں۔

“امی میری بچی بھی لاپتہ ہے۔۔۔”

شاہ نا چاہتے ہوۓ بھی تلخ ہو گیا۔

“آپ جائیں اسے ڈھونڈیں ہم دنیا کو کیا جواب دیں گے؟کہاں چلی گئی وہ؟”

ضوفشاں بیگم اشک بہاتی ہوئی بولیں۔

“پتہ نہیں ہمارے گھر کو کس کی نظر لگ گئی ہے؟”

کمال صاحب متفکر انداز میں بولے۔

شاہ چہرہ موڑے اپنی سوچ میں غلطاں تھا۔

کھانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

فکر سب کے چہرے سے عیاں تھی۔

****/////////****

ذوناش اس کا ہاتھ ہٹانے کی سعی کر رہی تھی لیکن ازلان کی گرفت اس کی سوچ سے زیادہ مضبوط تھی۔

ذوناش کو اپنا سانس بند ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔

وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی نفی میں سر ہلا رہی تھی۔

ازلان کو احساس ہوا تو ہاتھ ہٹا لیا۔

ذوناش چہرہ جھکاےُ کھانسنے لگی۔

وہ زور زور سے سانس اندر کھینچنے لگی۔

ازلان اس کے سانس بحال ہونے کا منتظر تھا۔

“تم پاگل ہو کیا؟ میں مر جاتی پھر؟”

ذوناش کھانستی ہوئی اسے دیکھنے لگی۔

“مر جاتی تو زیادہ بہتر ہوتا۔۔۔”

وہ سفاکی سے بولا۔

ذوناش کا دل کٹنے لگا۔

“ازلان تم کتنے خودغرض ہو؟”

ذوناش شکوہ کناں نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔

“اپنی بکواس بند کرو اورمجھے بتاؤ حرم کہاں ہے؟”

ازلان اس کا منہ دبوچتا ہوا بولا۔

“ازلان میں نہیں جانتی۔۔۔”

ذوناش اس کا ہاتھ ہٹاتی ہوئی بولی۔

“میرا منہ پر پاگل لکھا ہے کیا؟ اچھے سے جانتا ہوں یہ تمہاری حرکت ہے۔شرافت سے پوچھ رہا ہوں تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ بتا دو؟”

ازلان خونخوار نظروں سے گھورتا ہوا بولا۔

“نہیں جانتی میں جاؤ جو کرنا ہے کر لو۔۔۔”

ذوناش قہر برساتی نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔

ازلان مضطرب سا چلنے لگا۔

ذوناش مٹھیاں بھینچے ضبط کرنے لگی۔

“چھوا بھی تو مارنے کے لیے۔۔۔”

وہ ہنکار بھرتی چلنے لگی۔

****///////****

شاہ کمرے میں آیا تو مہر ابھی تک جاےُ نماز پر بیٹھی تھی۔

“مہر اٹھو ناشتہ کر لو۔۔۔۔”

شاہ اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھتا ہوا بولا۔

مہر نم آنکھوں سے اسے دیکھتی نفی میں سر ہلانے لگی۔

“ایسے بیمار پڑ جاؤ گی اٹھو شاباش۔۔۔”

شاہ اس کی کمر تھپتھپاتا ہوا بولا۔

“شاہ مجھ سے نہیں کھایا جاتا۔۔۔”

غم پھر سے تازہ ہو گیا۔

“اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو میں ناراض ہو جاؤں گا یاد رکھنا۔۔۔”

شاہ بولتا ہوا کھڑا ہو گیا۔ چہرہ موڑ کر آنکھیں صاف کیں۔

مہر ایک لمحہ کا ضیاع کئے بنا کھڑی ہو گئی۔

“نہیں شاہ۔۔۔”

مہر اس کا ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی۔

“چلو بیٹھو میں کھلاؤں تمہیں۔۔۔”

شاہ نے مسکرانے کی سعی کی لیکن مسکرا نہ سکا۔

مہر نا چاہتے ہوۓ بھی بیٹھ گئی۔

شاہ اپنے ہاتھ سے اسے کھلانے لگا۔

“آپ نے ناشتہ کیا؟”

مہر رک کر اسے دیکھنے لگی۔

“ہاں سب کے ساتھ کیا تھا۔۔۔”

شاہ نے جھوٹ بولا۔

“سچ بول رہے ہیں؟”

مہر جانچتی نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔

“میں کیوں جھوٹ بولوں گا مہر۔۔۔”

شاہ آہستگی سے بولا۔

مہر خاموش ہو گئی۔

“میں ابھی جاؤں گا باہر تم اپنا خیال رکھنا اور حرائمہ آئی ہے اس سے بھی مل لینا۔۔۔”

شاہ اسے دیکھتا ہوا بول رہا تھا۔

“آپ کہاں جائیں گے؟”

مہر اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔

“یہی ڈھونڈنے۔۔۔”

شاہ چہرہ جھکاےُ اِدھر اُدھر دیکھتا ہوا بولا۔

مہر نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تو شاہ نے نوالہ اس کے سامنے کیا۔

“بس شاہ۔آپ جائیں۔۔۔”

مہر نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔

“ابھی تو تم نے کچھ کھایا ہی نہیں ہے۔۔۔”

شاہ خفگی سے بولا۔

“جب آپ آئیں گے پھر آپ کے ساتھ کھا لوں گی ابھی بس۔۔۔”

مہر ٹرے پیچھے کرتی ہوئی بولی۔

“جانتی ہو میں نے یہ کام پہلے کبھی نہیں کئے۔شفا سے محبت بہت تھی لیکن کبھی اس کے لئے اتنا نہیں کیا۔تم بہت بہت خاص ہو میرے لیے۔۔۔”

شاہ اس کی ناک دباتا ہوا بولا۔

مہر نم آنکھوں سے ہلکا سا مسکرائی۔

“ملازمہ کے ہاتھ بھیج دینا یہ ٹرے میں اب چلتا ہوں۔۔۔”

شاہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔

مہر نے کوئی جواب نہیں دیا۔

شاہ میں اس سے زیادہ ہمت نہ تھی سو بنا کچھ کہے بنا دیکھے باہر نکل گیا۔

مہر نے الماری کھولی تو نظر ماناب کی چیزوں پر پڑی۔

آنکھیں پھر سے برسنے لگیں۔

“آج میں نے اپنی گڑیا کو تیار نہیں کیا۔۔۔”

مہر افسردگی سے بولی۔

ماناب کے کپڑے ہاتھ میں پکڑ لیے۔

مہر نے ماناب کی شرٹ چہرے سے لگا لی۔

“میری بچی۔پلیز ہمیں لوٹا دیں ہماری بچی۔۔۔”

مہر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے بول رہی تھی۔

یہ کرب شاید اس کی جان لے کر ہی دم لینے والا تھا۔

مہر نے سسکتے ہوۓ پیشانی الماری سے ٹکا دی۔

“یہ آزمائش بہت مشکل ہے میرے رب بہت مشکل۔میں تیری کمزور سی بندی ہوں۔مجھ پر اپنا کرم کر مجھے میری بیٹی واپس کر دے۔میں مر جاؤں گی اس کے بغیر مر جاؤں گی۔۔۔”

مہر ہچکیاں لیتی رو رہی تھی۔

دروازے پر دستک سنائی دینے لگی۔

شاہ کے خیال سے مہر نے چہرہ صاف کیا اور ماناب کے کپڑے اندر رکھ دئیے۔

جا کر دروازہ کھولا تو سامنے حرائمہ کھڑی تھی۔

حرائمہ اس کے گلے لگ گئی۔

شاہ نے اسے کچھ بھی بولنے سے منع کیا تھا سو حرائمہ خاموش رہی۔

مہر کی آنکھیں تو رونے کو بےتاب تھیں پھر سے رم جھم شروع کر دی۔

“آپی کیسی ہیں آپ؟”