577.9K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tawaif Episode 18

Tawaif by Hamna Tanveer

اور سب چل بھی رہے ہیں حتیٰ کہ تم بھی۔مجھے بتاؤ کیا کوئی تمہاری خبر لینے آیا بس یہی اہمیت ہے کیا تمہاری؟ جبکہ شاہ کے تو آگے پیچھے گھومتے ہیں سب تمہیں سمجھ ہی نہیں آتا یہ سب۔۔۔”

برہان تاسف سے بولا۔

“پھر مجھے کیا کرنا چائیے؟”

شاہ ویز برہان کو دیکھتا ہوا بولا۔

“جیسے میں کہتا ہوں ویسا کرو پھر دیکھنا تم بھی شاہ کی مانند خود مختار ہو گے اپنے فیصلوں میں۔۔۔۔”

برہان فاتحانہ مسکراہٹ لئے بولا۔

شاہ ویز اثبات میں سر ہلانے لگا۔

****////////****

ذوناش ازلان کی منتظر تھی۔

جونہی ازلان باہر نکلتا دکھائی دیا وہ اس کی جانب لپکی۔

“ازلان مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے؟”

ذوناش کے لہجے میں بے چینی تھی۔

ازلان کے چہرے پر بیزاری نمایاں تھی۔

“اچھا چلو۔۔۔۔”

وہ احسان کرنے والے انداز میں بولا۔

“ازلان کیا ہوا ہے تم مجھ سے اب بات بھی نہیں کرتے؟”

ذوناش ناراض ناراض سی بولی لیکن مقابل پر اس کی ناراضگی کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

“ٹائم نہیں ہوتا میرے پاس؟۔۔۔”

ازلان اکتا کر بولا۔

“ازلان تم حرم کو طلاق دے کر مجھ سے شادی کر لو۔۔۔۔”

ذوناش اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتی ہوئی بولی۔

“تم پاگل ہو گئی ہو کیا؟”

ازلان کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔

اپنے ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکال لیے۔

چہرے پر خفگی سجاےُ وہ ذوناش کو گھورنے لگا۔

“مجھے بھی تم سے بات کرنی تھی۔اور کان کھول کر سن لو میں تنگ آ چکا ہوں اس ریلیشن سے اس لئے میں آج ہمارا ریلیشن ختم کرتا ہوں اب دوبارہ میرا سر مت کھانا۔۔۔۔”

ازلان چبا چبا کر بول رہا تھا۔

ذوناش کی آنکھیں پھیل گئیں۔

“تم ایسا کیسے کر سکتے ہو؟”

وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی ہوئی بولی۔

“میں نے تم سے کبھی کوئی وعدے نہیں کئے ان فیکٹ تم ہی میرے پاس آئی تھی تم سب پر یہ ظاہر کرنے کے عوض کہ میرا اور حرم کا کوئی رشتہ نہیں میں نے تم سے حرم کا نمبر لینے کے لیے بات کی اور تم تو پھیل ہی گئی۔۔۔۔”

ازلان کے چہرے پر اکتاہٹ تھی۔

“تمہیں وہ حرم مجھ سے زیادہ خوبصورت لگتی ہے؟ اِدھر میری آنکھوں میں دیکھ کر بولو۔۔۔۔”

ازلان جو دائیں بائیں دیکھ رہا تھا مانو اس کی بات کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو، ذوناش اس کا چہرہ اپنی جانب کرتی ہوئی بولی۔

“ہاں مجھے وہ تم سے زیادہ خوبصورت لگتی ہے اور کسی شرط پر اسے نہیں چھوڑوں گا میں اور کچھ؟”

ازلان اس کی جانب جھکتا آنکھیں میں دیکھتا ہوا بولا۔

“تم ایسا نہیں کر سکتے تمہاری شادی مجھ سے۔۔۔۔”

“میں کچھ بھی کر سکتا ہوں۔۔۔۔”

ازلان اسے ٹوکتا ہوا بولا۔

ایک نظر ذوناش پر ڈالی اور چلنے لگا۔

ذوناش ڈبڈباتی آنکھوں سے اسے دور جاتا دیکھنے لگی۔

“حرم تمہیں اب اس دنیا سے جانا پڑے گا بہت مزے کر لئے تم نے۔ تمہیں میں چھوڑوں گی نہیں۔

ازلان کو میں کسی قیمت پر نہیں کھو سکتی مجھے کسی بھی طرح ازلان سے شادی کرنی ہو گی۔۔۔۔”

وہ چہرہ رگڑتی ہوئی بولی۔

****////////****

ہاسٹل کے باہر شاہ گاڑی میں بیٹھا حرم کا منتظر تھا۔

حرم ایک بیگ اٹھاےُ نمودار ہوئی۔

بیگ پچھلی سیٹ پر رکھ کر فرنٹ سیٹ پر آ گئی۔

شاہ خاموشی سے ڈرائیو کرتا حویلی آ گیا۔

حرم نم آنکھوں سے حویلی کی در و دیوار کو دیکھ رہی تھی۔

“یہ دیکھو ذرا سلوٹیں تو نکلی نہیں ہیں پھر کہیں گیں کہ بولوں بھی نہ۔۔۔۔”

ضوفشاں بیگم ماتھے پر بل ڈالے ملازمہ پر برس رہیں تھیں۔

“امی۔۔۔”

حرم ان سے لپٹتی ہوئی بولی۔

“میری جان تو آ گئی؟”

ضوفشاں بیگم حرم کی پیشانی چومتی ہوئیں بولیں۔

“جی امی۔۔۔۔”

حرم نم آنکھوں سے مسکراتی ہوئی بولی۔

“آ جا بیٹھ میرے ساتھ تجھ سے بہت ساری باتیں کرنی ہیں۔۔۔”

وہ صوفے پر بیٹھتی ہوئیں بولیں۔

شاہ دوسرے صوفے پر بیٹھا فون میں محو تھا۔

“امی بابا سائیں کہاں ہیں؟”

حرم بے چینی سے بولی۔

“یہیں ہیں کہاں جانا ہے انہوں نے۔

کھڑی کھڑی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہے جا جا کر بلا کر لا صاحب کو اور جیرو کو بول میری دھی آئی ہے اچھا اچھا کھانا بناےُ۔۔۔”

وہ ملازمہ کو خفگی سے دیکھتی ہوئیں بولیں۔

حرم کی آنکھیں چھلک پڑیں۔

اس پیار کو شدت سے یاد کرتی تھی۔

“ارے واہ تم آ گئی؟”

ماریہ مسکراتی ہوئی بولی۔

“جی بھابھی۔۔۔”

حرم اٹھ کر ماریہ سے ملی۔

“کسی سے لڑائی لڑوئی تو نہیں کی وہاں؟”

ضوفشاں بیگم فکرمندی سے بولیں۔

“امی آپ کو لگتا ہے میں کسی سے لڑائی کروں گی؟”

حرم خفگی سے بولی۔

“نہ نہ میری حرم تو بہت معصوم ہے۔ بس اسی معصومیت سے بھی ڈر لگتا ہے نہ۔۔‍”

وہ پریشانی سے گویا ہوئیں۔

“اور سناؤ حرم شہر کا رنگ نہیں چڑھا تمہیں؟”

ماریہ طنز کرتی ہوئی بولی۔

“نہیں بھابھی امی کی تربیت ہی ایسی ہے کہ کسی شہر یا کسی ملک کا رنگ نہیں چڑھ سکتا۔۔۔”

حرم ضوفشاں بیگم کے ساتھ لگتی ہوئی بولی۔

“میری بچی ہے ہی بہت پیاری۔۔۔”

وہ خوشی سے چہکیں۔

“شہریار بھائی اور شاہ شاہ ویز بھائی کہاں ہیں؟”

حرم کی زبان لڑکھڑا گئی۔

“شہریار تو تم جانتی ہو اس ٹائم آفس اور چھوٹا فلحال گھر سے باہر ہے۔۔۔”

ماریہ تاسف سے بولی۔

“باہر ہے مطلب؟”

حرم الجھ کر انہیں دیکھنے لگی۔

“مصطفیٰ بھائی نے نکالا ہے چھوٹے کو برہان کے ساتھ رہتا تھا۔۔۔”

ماریہ نے مختصر سمجھا دیا۔

شاہ آبرو اچکا کر ماریہ کو دیکھنے لگا۔

“میرا مطلب بابا سائیں نے بولا تھا مصطفیٰ بھائی کو چھوٹے کو سمجھانے کا تو جو انہیں بہتر لگا۔۔۔”

ماریہ سنبھل کر بولی۔

حرم کے ہینڈ بیگ میں پڑا فون وائبریٹ کر رہا تھا۔

“یہ جیرو پتہ نہیں کہاں مر گئی ہے کتنی دیر سے حرم آئی ہوئی۔۔۔۔”

ضوفشاں بیگم چلاتی ہوئیں باورچی خانے کی جانب چل دیں۔

“بھابھی امی سے کہیے گا میں کچھ دیر نیند لوں گی پھر کچھ کھانے کو۔۔۔”

حرم بیگ اٹھاتی ہوئی بولی۔

“ٹھیک ہے میں کہ دیتی ہوں۔۔”

ماریہ جانچتی نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔

حرم مسکراتی ہوئی چلنے لگی۔

“ہاں عدیل بول؟”

شاہ فون کان سے لگاےُ باہر کی جانب چلنے لگا۔

“یار ایسا کرتے ہیں پارٹی کے چئیرمین کے ساتھ ایک ٹاک شو رکھتے ہیں چینل کی ریٹنگ بڑھے گی باقی نیوز چینل بھی تو کر رہے ہیں نہ؟”

“تو بات کر کے دیکھ میرے پاس ابھی زیادہ وقت نہیں ہے اگر بات نہ بنے تو مجھے بتا دینا میں خود بات کروں گا پھر۔۔۔”

شاہ دو انگلیوں سے پیشانی مسلتا ہوا بولا۔

“نکاح کے بعد کچھ زیادہ ہی مصروف نہیں ہو گیا؟”

عدیل شرارت سے بولا۔

“فیملی والے لوگ مصروف ہی ہوتے ہیں اب میں بھی تو فیملی والا ہو گیا ہوں۔۔۔”

بولتے بولتے شاہ کے لب دم بخود مسکرانے لگے۔

“کوئی پیش رفت ہوئی؟”

عدیل کا لہجہ تجسس سے بھرا تھا۔

“ہاں تجھ سے ملتا ہوں پھر بتاؤں گا۔۔۔”

شاہ نے کہہ کر فون بند کر دیا۔

حرم کمرے میں آئی دروازہ بند کر کے احتیاط سے فون نکالا اور چیک کرنے لگی۔

“ازلان کی مسڈ کالز! “

حرم تعجب سے بولی۔

حرم ابھی سوچ ہی رہی تھی اسے میسج کرنے کا کہ پھر سے فون آنے لگا۔

حرم دروازے کی جناب دیکھتی کال اٹھا کر فون کان سے لگا لیا۔

“ہیلو؟”

حرم محتاط انداز میں بولی۔

“پہنچ گئی ہو گھر؟”

ازلان کی ہشاش بشاش آواز ابھری۔

“جی۔ لیکن فون کیوں کر رہے تھے بار بار؟”

حرم کی پیشانی پر شکنیں ابھریں۔

“تمہیں کہا تو تھا فون کروں گا میں بھی گھر آ گیا ہوں بور ہو رہا تھا سوچا تم سے بات کر لوں۔۔۔”

ازلان پاؤں میز پر رکھتا ہوا بولا۔

“اچھا۔۔۔”

حرم کہہ کر خاموش ہو گئی۔

“میں نے تمہارا گاؤں دیکھا ہے آج۔۔۔”

ازلان نے خاموشی کو توڑا۔

“تم سچ میں آےُ تھے؟”

حرم متحیر سی بولی۔

“ہاں تو تمہیں کیا لگا میں مذاق کر رہا ہوں؟”

ازلان خفگی سے بولا۔

“پھر ہماری حویلی بھی دیکھ لی؟”

“نہیں میں بس گاؤں دیکھ کر چلا گیا تھا۔

تمہارے گاؤں تو میں اکثر آتا رہا ہوں۔۔۔”

“اچھا مجھے تو کبھی نظر نہیں آےُ!”

حرم تعجب سے بولی۔

“تم گلیوں میں رہتی ہو کیا؟”

ازلان مسکراتا ہوا بولا۔

“نہیں میں تو اپنی حویلی میں ہوتی ہوں۔۔۔”

حرم سنبھل کر بولی۔

اپنی بیوقوفی پر سر جھٹک کر رہ گئی۔

“ہاں تو پھر تمہیں کیسے پتہ چلتا‍۔۔‍”

ازلان ہنستا ہوا بولا۔

حرم کو قدموں کی آہٹ سنائی دی۔

“ازلان میں بعد میں بات کرتی ہوں۔۔۔”

حرم نے کہہ کر فون بند کر دیا۔

ازلان فون کو گھورنے لگا۔

****///////****

آئمہ گاڑی میں بیٹھی تھی۔

چہرہ کی مسکراہٹ ایک لمحے کے لیے بھی غائب نہیں ہوئی تھی۔

سنبھل پرجوش سی اس کے ہمراہ بیٹھی تھی۔

زلیخا بیگم کو وہ اطلاع دے چکی تھی اپنی آمد کی۔

“یہ تمہارا گھر ہے؟”

گاڑی رکی تو سنبل باہر دیکھتی استفسار کرنے لگی۔

“ہاں آؤ اندر چلتے ہیں باہر سے اتنا اچھا معلوم نہیں ہوتا۔۔”

آئمہ باہر نکلتی ہوئی بولی۔

سنبل بھی مسرور سی باہر نکل آئی۔

آئمہ چلتی ہوئی اندر آئی۔

سنبل اردگرد نگاہ دوڑانے لگی۔

میک اپ سے لبریز چہرے،

“آئمہ تمہارے گھر میں اتنی ساری لڑکیاں ہیں! “

وہ تعجب سے بولی۔

“ہاں بہت ساری ہیں اور اب تو تم بھی آ گئی ہو۔۔۔”

آئمہ کے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ تھی۔

سنبل نا سمجھی سے آئمہ کو دیکھنے لگی۔

آئمہ زلیخا بیگم کے کمرے میں آ گئی۔

“لیں آپ کے لئے نیا شکار ڈھونڈ لائی ہوں۔۔۔”

آئمہ دروازہ بند کرتی ہوئی بولی۔

سنبل ششدہ سی کبھی آئمہ کو دیکھتی تو کبھی زلیخا بیگم کو۔

“کیا مطلب آئمہ؟”

سنبل کی کمزور سی آواز نکلی۔

“مطلب میری جان آب تم یہیں پر رہوں گی ہمارے ساتھ ہماری محفلوں میں رنگ بھرنے کی خاطر۔۔۔۔”

آئمہ مسکراتی ہوئی بولی۔

“یہ یہ کون سی جگہ ہے؟”

سنبل گھبرا کر ان دونوں کو دیکھنے لگی۔

“ابھی تک تمہیں اندازہ ہی نہیں ہوا یہ کوٹھہ ہے مطلب جانتی ہوں نہ جہاں مجرے کرواےُ جاتے ہیں۔۔۔”

زلیخا بیگم بے حسی سے بولیں۔

“مجھے گھر جانا ہے۔۔۔”

سنبل دروازے کی جانب بڑھتی ہوئی بولی۔

“نہ میری جان اب تم یہاں سے کہیں نہیں جا سکتی۔ ہمارے ساتھ رہنا اور مزے کرنا۔۔۔”

آئمہ بائیں آنکھ دباتی ہوئی بولی۔

سنبل حونق ذدہ سے دونوں کو دیکھنے لگی۔

“تم نے اب واپس جانا ہے؟”

زلیخا بیگم سنبل کو نظرانداز کرتی ہوئیں بولیں۔

“جی ایک لڑکی ہے ہاسٹل میں رنگ سفید نہیں لیکن تیار ہو کر قیامت لگتی ہے اسے قابو کرنا ہے اور آسانی سے لے آؤں گی اسے میں۔۔۔۔”

آئمہ طے کیا ہوا لائحہ عمل بتاتی بیٹھ گئی۔

“زنیرہ نہیں آئی ابھی تک؟”

آئمہ سنبل پر ایک نگاہ ڈالتی زلیخا بیگم کو دیکھنے لگی۔

“نہیں ابھی تک تو نہیں لیکن آنے والی ہو گی۔ افسوس اس کے ہاتھ کچھ بھی نہیں لگا۔

زلیخا بیگم تاسف سے بولیں۔

سنبل دھیرے دھیرے دروازے کی جانب بڑھ رہی تھی۔

“بانی باہر نکل اور اسے لے کر جا۔۔۔”

زلیخا بیگم سنبل کو گھورتی ہوئیں چلائیں۔

سنبل ابھی جگہ پر منجمد ہو گئی۔

بانی باہر نکلی اور اسے گھسیٹتی ہوئی اندر لے گئی۔

****///////****

“شاہ آج حرائمہ کو اس کے گھر لے جائیں اس کی امی سے ملاقات کی غرض سے؟”

مہر شاہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔

“مہر مجھے آج کام ہے آفس میں کسی اور دن چلی جانا۔۔۔”

شاہ نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔

“شاہ پلیز میں نے اسے بول دیا ہے اب ایسے مت کریں آپ کا آفس بھی تو شہر میں ہے نہ ہمیں بھی شہر جانا ہے پلیز۔۔۔”

مہر اس کے ہاتھ تھامتی ہوئی بولی۔

“بلیک میلر ہو تم۔۔۔”

شاہ اسے خود سے قریب کرتا ہوا بولا۔

مہر دھیرے سے مسکرا دی۔

“اچھا یہ بتاؤ جو دوائی میں دے کر گیا تھا کل تم نے لی؟”

شاہ اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتا ہوا بولا۔

“جی میں نے لی تھی لیکن طبیعت کچھ عجیب سی ہو رہی ہے۔۔۔۔”

مہر کے چہرے پر بیزاری تھی۔

“پھر ایسا کریں گے تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں گا اور حرائمہ کو اس کے گھر چھوڑ دیں گے ٹھیک ہے؟”

شاہ اس کے بال درست کرتا ہوا بولا۔

“ٹھیک ہے۔۔”

مہر اس کے روشن چہرے کو دیکھتی ہوئی بولی۔

مہر نے سر اس کے شانے پر رکھ دیا۔

“ابھی بھی مجھ سے محبت نہیں ہوئی؟”

شاہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔

“نہیں۔۔”

مہر سپاٹ انداز میں بولی۔

“جھوٹ بولتی ہو تم مجھ سے۔۔۔۔”

شاہ خفا خفا سا بولا۔

مہر نے بنا کچھ بولے آنکھیں موند لیں۔

کچھ پل خاموشی کی نذر ہوےُ۔

“تم ٹھیک ہو؟”

شاہ فکرمند سا بولا۔

“ہممم ٹھیک ہوں۔۔”

مہر پیچھے ہوتی ہوئی بولی۔

“تم چینج کر لو پھر چلتے ہیں۔۔”

شاہ اس کا منہ تھپتھپاتا ہوا بولا۔

حرائمہ آئینے کے سامنے کھڑی چادر اوڑھ رہی تھی جب اسے دروازے پر دستک سنائی دی۔

وہ جلدی سے آئینے کے سامنے سے ہٹی اور دروازہ کھول دیا۔

سامنے مہر کا چہرہ تھا جہاں بلا کی نرمی تھی۔

“چلیں؟”

مہر بغور اسے دیکھتی ہوئی بولی۔

“جی آپی۔۔۔” وہ بولتی ہوئی مہر کے عقب میں چل دی۔

حرائمہ کے بتاےُ گئے ایڈریس پر شاہ اسے لے آیا۔

“یہاں تو تالا لگا ہے!”

حرائمہ ششدہ سی بولی۔

“کیا ہوا؟”

مہر کہتی ہوئی باہر نکل آئی۔

“پتہ نہیں امی کہاں چلی گئیں؟”

حرائمہ کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔

“تم ایسا کرو ہمسایوں سے پوچھو تمہیں تو جانتے ہوں گے۔۔۔”

مہر اس کے شانے پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔

حرائمہ آنکھیں مسلتی ہوئی اپنے گھر کے ساتھ والے گھر میں داخل ہو گئی۔

مہر شاہ کو صورتحال سے آگاہ کرنے لگی۔

“آنٹی امی کہاں گئی ہیں؟”

حرائمہ اندر آتی ہوئی بولی۔

“تم کہاں سے آئی ہو؟”

وہ آنکھوں میں حیرت سموےُ بولیں۔

“ام امی کہاں ہیں گھر میں تالا لگا ہوا ہے؟”

حرائمہ ان کا سوال نظرانداز کرتی ہوئی بولی۔

“ہاےُ تم گھر سے بھاگ گئی تھی تو پھر واپس کیوں آئی ہو اب تمہارے ماں بیچاری کہاں یہ صدمہ برداشت کر پاتی۔۔۔۔”

وہ تاسف سے بولیں۔

“کیا مطلب امی؟”

شدت غم سے حرائمہ کے الفاظ دم توڑ گئے۔

سر نفی میں حرکت کر رہا تھا۔

آنسو ٹپ ٹپ اس کے رخسار کو بھگونے لگے۔

“تمہارے جانے کے بعد سارے محلے والوں نے اس بیچاری کو خوب طعنے دئیے اور کیا تھا تمہاری جدائی اور اس رسوائی کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ اس دنیا سے چل بسی۔۔۔”

وہ افسردگی سے بولیں۔

“بیگم کس سے باتیں کئے جا رہی ہو؟”

حرائمہ نے چہرہ اٹھا کر ان کے شوہر کو دیکھا۔

“تم نے اس بےغیرت کو گھر میں کیوں بلایا ہے جانتی نہیں ہو کیا اس کی وجہ سے ہماری بچیوں پر بھی اثر پڑے گا۔

نکلو تم یہاں سے چلو شرافت سے کہہ رہا ہوں ورنہ سارا محلہ اکٹھا کر لوں گا۔۔۔”

وہ زور زور سے بولنے لگے۔

حرائمہ جو پتھر کی مورت بنے کھڑی تھی ان کے چلانے پر ہوش میں آئی اور تیز تیز قدم اٹھاتی باہر نہیں گئی۔

“آئیندہ اگر تم نے اسے گھر میں گھسایا تو خیر نہیں۔۔۔”

وہ ہنکار بھرتے واپس کمرے میں چلے گئے۔