Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 5
Tawaif by Hamna Tanveer
شاہ مہرماہ کا بازو پکڑے کمرے سے باہر نکل گیا۔
“چھوڑو مجھے جنگلی۔۔۔۔۔”
مہر ماہ مزاحمت کرتی ہوئی بولی۔
شاہ اسے گھسیٹتا ہوا لے جا رہا تھا۔
باقی طوائفیں بھی کمرے سے نکل آئی۔
مہر ماہ چلا رہی تھی لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔
“زلیخا بیگم پچھتائیں گیں آپ چھوڑو گی نہیں۔۔۔۔۔”
مہر ماہ حلق کے بل چلا رہی تھی۔
زلیخا بیگم پریشانی سے انہیں دیکھنے لگی۔
“چھوڑو مجھے تم کیا سمجھتے ہو خود کو۔۔۔۔۔”
مہر ماہ تڑپتی ہوئی مچھلی کی مانند لگ رہی تھی جسے سمندر سے باہر نکال دیا گیا ہو۔
شاہ کوٹھے سے باہر نکلا مہر ماہ کو دونوں بازوؤں سے پکڑ کر زور سے گاڑی کے ساتھ لگایا۔
مہر کے چہرے پر تکلیف کا شائبہ تک نہ تھا۔
وہ حقیقت میں اتنی مضبوط تھی یا شاید دکھاتی تھی۔
شاہ کی آنکھوں میں لہو دوڑ رہا تھا۔
“بکواس بند کر لو اپنی، اب اگر ایک بھی لفظ منہ سے نکالا تو بہت برا ہو گا۔۔۔۔۔”
شاہ گرفت مضبوط کرتا ہوا بولا۔
“تم مجھے یہاں سے نہیں لے جا سکتے سمجھے۔۔۔۔”
مہر اس کے غصے کا اثر لئے بنا چلائی۔
بال چہرے پر آ رہے تھے ہلکے اور گہرے بھورے بال جو وہ ابھی کلر کروا کے آئی تھی۔
شاہ نے اسے نظر انداز کیا اور گاڑی میں پٹخنے کے سے انداز میں ڈالا،
ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور گاڑی چلانے لگا۔
گاڑی ہوا سے باتیں کر رہی تھی۔
مہر تلملا کر اسے دیکھنے لگی۔
“گاڑی رکو۔۔۔۔۔” مہر اس کا گریبان پکڑتی ہوئی غرائی۔
“یہ گاڑی تو اب وہیں رکے گی جہاں میں چاہوں گا۔۔۔۔۔”
مہر کا دل مانو کسی نے مٹھی میں قید کر لیا ہو۔
“میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گی۔۔۔۔۔”
مہر کا بس نہیں چل رہا تھا اسے گاڑی سے دھکا دے کر باہر پھینک دے۔
“ہاں اگر خود زندہ رہی تو شوق سے مارنا۔۔۔۔” شاہ محظوظ ہوتا ہوا بولا۔
مہر کلس کر باہر دیکھنے لگی۔
مٹھی زور سے بند کر رکھی تھی۔
مہر کے گلے میں دوپٹہ نہیں تھا۔
اسے اب خیال آیا۔
“ہوں۔۔۔۔۔” روز مجرا کرتے ہوئے بھی کہاں ہوتا ہے۔۔۔۔۔” وہ تلخی سے سوچنے لگی۔
شاہ نے یکدم بریک لگائی تو مہر جو اپنی سوچ میں غرق تھی ڈیش بورڈ سے جا ٹکرائی۔
“جب گاڑی چلانی نہیں آتی تو چلا کیوں رہے ہو۔۔۔۔”
وہ جیسے ہوش میں آ گئ۔
شاہ آبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا چہرہ کسی بھی تاثر سے پاک تھا۔
مہر نڈر سی اس کی نگاہوں میں دیکھ رہی تھی شاہ کے غصے کا اس پر زرہ برابر بھی اثر نہیں ہو رہا تھا۔
شاہ بنا کچھ بولے باہر نکلا مہر کی جانب آیا بازو پکڑ کر اسے باہر نکالا۔
“کہاں لے آےُ ہو مجھے چھوڑو۔۔۔۔۔”
مہر پھر سے بلبلانے لگی۔
شاہ خاموشی سے راستہ طے کرتا اندر آ گیا لاؤنج پار کر کے وہ مہر کو لے کر کمرے میں آ گیا۔
مہر کو خطرے کی بو آنے لگی۔
اسے خطرہ لاحق ہوا۔
“کیوں لاےُ ہو مجھے یہاں؟۔۔۔۔۔”
شاہ دروازہ لاک کر رہا تھا جب مہر چلائی۔
“تمہیں نہیں معلوم کیوں لایا ہوں میں یہاں، ایک طوائف کو اپنے ساتھ کیوں لایا جاتا ہے۔۔۔۔۔”
وہ فرصت سے مہر کے نقوش دیکھتا چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے لگا۔
مہر کبھی شاہ کو دیکھتی تو کبھی آس پاس چیزوں کو۔
اسے اپنے دفاع کی خاطر کوئی شے درکار تھی۔
“میرے قریب مت آنا میں جان سے مار دوں گی تمہیں۔۔۔۔۔”
مہر بنا گھبراےُ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی ہوئی بولی۔
“تمہارا یہی غرور توڑنا ہے، آخر تم سمجھتی کیا ہو خود کو۔۔۔۔۔”
شاہ اس کے عین مقابل آ گیا۔
“تمہیں کیا رقابت ہے مجھ سے۔۔۔۔۔”
مہر سرخ انگارہ بنی آنکھوں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“تمہارا یہ حسن۔۔۔۔۔” شاہ اس کے بالوں پر دو انگلیاں پھیرتا ہوا بولا۔
مہر نے طیش میں اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
“دکھا دی نہ اپنی اوقات لعن طعن ہم پر جب کہ گندگی اور حوس تمہارے ذہن کی ہوتی ہے۔۔۔۔”
مہر آئینہ دکھانے لگی۔
“تمہیں اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں احسان کر رہا ہوں تم پر اور تم مجھے۔۔۔۔”
وہ مہر کی بازو دبوچتا ہوا چبا چبا کر بولا۔
“میں نے تم سے احسان نہیں مانگا۔۔۔۔۔”
مہر اس کی فولادی گرفت سے اپنی بازو آزاد کرواتی ہوئی بولی۔
“ٹھیک ہے پھر معاہدہ کرتے ہیں۔۔۔۔۔”
شاہ مفاہمت پر اتر آیا۔
“کیسا معاہدہ۔۔۔۔۔”
مہر کی پیشانی پر شکنیں ابھریں۔
مجھ سے نکاح کر لو جو قیمت تمہاری دی مجھے وصول کرنے دو، کوٹھے پر تم یہ کام نہیں کرتی کہ حرام ہے لیکن نکاح کے بعد میں تمہارے لئے حلال ہوں گا۔۔۔۔”
شاہ رک کر اسے دیکھنے لگا۔
مہر بنا کچھ بولے قدم اٹھانے لگی۔
“کیا ہوا۔۔۔۔۔” شاہ کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
“مجھے جانا ہے۔۔۔۔۔”
مہر دروازے کی جانب بڑھتی ہوئی بولی۔
“کہاں؟۔۔۔۔”
شاہ اس کی بازو دبوچتا ہوا بولا۔
“کوٹھے پر۔۔۔۔۔۔”
خود کو آزاد کروانے کی سعی کرتی ہوئی بولی۔
“تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا وہاں کیوں جانا چاہتی ہو۔۔۔۔۔”
شاہ نے جھٹکے سے اس کا رخ اپنی جانب موڑا۔
“تم جیسے جانور کے ساتھ میں کیسے رہ سکتی ہوں۔۔۔۔” مہر حلق کے بل چلائی۔
“زبان کو لگام دو ورنہ بولنے کے قابل نہیں رہو گی۔۔۔۔”
شاہ دائیں ہاتھ سے اس کا منہ دبوچتا ہوا بولا۔
مہر خونخوار نظروں سے اسے گھورنے لگی۔
“اصولاً تو تم ایسی کسی آفر کے لائق نہیں ہو لیکن پھر بھی میرا ظرف دیکھو ایک طوائف سے نکاح کرنے جا رہا ہوں۔۔۔۔۔”
شاہ نے ہاتھ ہٹا لیا۔
“اچھے سے جانتی ہوں کہ میں ایک طوائف ہوں، یہ بات خود کو بتاؤ کیونکہ ایک طوائف سے نکاح کرنے کی بات کر رہے ہو تم۔۔۔۔۔”
مہر ہنکار بھرتی ہوئی بولی۔
“میرے پاس اتنا فالتو وقت نہیں جو تم پر برباد کروں مجھے رات تک جواب چائیے اور جواب مثبت ہی ہونا چائیے سوچ لو اچھے سے کیونکہ تمہاری عقل شاید رنگ آلود ہے جو پھر سے اس ذلت میں جانا چاہتی ہو۔۔۔۔۔”
شاہ کے چہرے پر بلا کی سختی تھی۔
مہر نے بولنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ شاہ نے اسے بیڈ پر پھینک دیا۔
لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکلا اور دروازہ لاک کر دیا۔
مہر نے چہرہ اٹھا کر دیکھا اور پھر سے گرا لیا۔
اشک بیڈ کی چادر پر گرنے لگے۔
وہ رو رہی تھی نا جانے کس بات پر۔
“کیوں لے آیا وہ مجھے وہاں سے۔۔۔۔۔۔”
مہر اشک بہاتی ہوئی چلائی۔
“کیوں۔۔۔۔”
وہ بلک رہی تھی سسک رہی تھی۔
تکلیف تھی بے حد تک۔
وہ دور کہیں ماضی میں چلی گئ۔
“کیوں لایا ہے وہ مجھے یہاں میں اس گندگی میں رہوں یا نہیں اسے کیا مسئلہ ہے،
اسے کیوں تکلیف ہو رہی ہے۔۔۔۔۔”
مہر زاروقطار رو رہی تھی۔
“مجھے نہیں رہنا یہاں میرے لئے وہی میرا سائبان ہے وہی میرا ٹھکانہ ہے۔۔۔۔۔”
مہر اوندھے منہ لیٹی ہوئی تھی چادر اس کے آنسوؤں کے باعث تر ہو رہی تھی۔
اسی کرب میں مبتلا نیند اس پر مہربان ہوئی اور وہ ہوش سے بیگانہ ہو گئ۔
****///////****
“وہ کمینہ دیکھ رہا ہے یہ بھی مسئلہ ہے اور وہ کمینہ دیکھ نہیں رہا یہ بھی مسئلہ ہے۔۔۔۔۔”
آمنہ قہقہ لگاتی ذوناش کو دیکھنے لگی۔
“بلکل یار تم بس دفعہ کرو اس اویس شویس کو۔۔۔۔۔” ذونی منہ بناتی ہوئی بولی۔
“ہاےُ ایویں دفعہ کر دوں؟ پوری یونی میں اس جیسا کوئی نہیں ہے۔۔۔۔۔”انشرح اویس کو نظروں کے حصار میں لیتی ہوئی بولی۔
“یار ایک تو یہ سمجھ نہیں آتا ہمیشہ سینئر اور جونیئر ہی کیوں پیارے ہوتے اور جو ساتھ ہوتے وہ کوجے۔۔۔۔۔”
ذونی منہ بناتی ہوئی بولی۔
“میں کچھ کھانے کو لاتی ہوں۔۔۔۔۔”
آمنہ کہتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔
حرم فون بند کر کے مڑی تو سامنے ازلان کھڑا تھا۔
“تم۔۔۔۔۔” حرم کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“بلکل میں۔۔۔۔۔”
“یہاں کیوں آےُ ہو؟۔۔۔۔”
حرم گھوری سے نوازتی ہوئی بولی۔
“تم نے پروفیسر کو کیا کہا ہے کہ ازلان مجھے تنگ کرتا ہے ہمممم؟۔۔۔۔۔”
ازلان اس کی جانب قدم بڑھاتا ہوا بولا۔
“وہ, وہ میں تو۔۔۔۔۔۔”
حرم تھوک نگلتی مناسب بہانہ سوچنے لگی۔
“کیا سمجھتی ہو تم خود کو۔۔۔۔۔۔”
وہ چبا چبا کر بولا۔
“دیکھو مجھے جانے دو پلیز۔۔۔۔۔”
حرم التجائیہ انداز میں بولی۔
حرم پیچھے ہوتی دیوار سے ٹکرائی گئ ازلان اس کے عین مقابل کھڑا تھا۔
“شرٹ کہاں ہے؟۔۔۔۔۔۔”
ازلان اس کی آنکھوں میں دکھائی دیتے خوف سے لطف اندوز ہوتا ہوا بولا۔
“کون سی شرٹ۔۔۔۔۔۔” حرم معصومیت سے بولی۔
“مجھے شبہ نہیں یقین ہے کہ تمہاری یاداشت بلکل جواب دے گئی ہے،کل جو میری شرٹ خراب کی تھی۔۔۔۔”
حرم کو مانو سانپ سونگھ گیا تھا۔
“آپ نے تو کہا ہی نہیں کہ شرٹ لا کر دو۔۔۔۔”
“اچھا مطلب میں کہوں گا پھر لا کر دو گی۔۔۔۔۔”
ازلان اس کی باتوں سے محظوظ ہو رہا تھا۔
“ظاہر ہے ایسے کیسے لا دو مجھے تو آپ کا سائز بھی نہیں معلوم۔۔۔۔”
حرم فکرمندی سے بولی۔
“لے لو سائز میرا۔۔۔۔۔۔”
ازلان لب دباےُ اس کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔
“پلیز مجھے جانے دیں کوئی آ جاےُ گا۔۔۔۔۔”
حرم کی پیشانی پر تین لکریں نمایاں تھیں۔
“اگر میرا ارادہ ایسا نہ ہو پھر؟۔۔۔۔۔۔”
“میں آپ کو ایک نہیں دو بلکہ کہیں گے تو تین شرٹس بھی لا دوں گی لیکن مجھے جانے دیں پلیز۔۔۔۔۔۔”
حرم مظلومیت سے بولی۔
ازلان کو اس پر ترس آ گیا۔
ایک الٹا قدم اٹھایا بائیں جانب ہوا اور اسے جانے کا راستہ دیا۔
حرم پیچھے مڑے بنا تیزی سے نکل گئی۔
“یہ اچھا تفریح کا سامان ہے۔۔۔۔۔”
ازلان قہقہ لگاتا چلنے لگا۔
“کیا ہوا حرم اتنی دیر لگا دی۔۔۔۔۔”
ذوناش بریانی کے ساتھ انصاف کرتی ہوئی بولی۔
“ہاں بس پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔۔۔”
حرم بیٹھتی ہوئی بولی۔
دو منٹ بعد ازلان آتا دکھائی دیا چہرے پر مسکراہٹ تھی جو معمول کے خلاف تھی۔
ذوناش نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھنے لگی جو اپنے ٹیبل کی جانب بڑھ رہا تھا۔
“یار دل تو کرتا ہے اس ازلان کو آلو کی طرح چھیل دوں۔۔۔۔۔”
حرم پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی بولی۔
“کیوں بھئی تمہارا بھجیا کھانے کا دل کر رہا ہے۔۔۔۔۔”
آمنہ ہنستی ہوئی بولی۔
“کریلے جیسی شکل ہے زہر لگتا ہے مجھے۔۔۔۔۔” حرم جل کر بولی۔
“اچھا خاصا تو ہے، تمہاری ناک پر اتنا غصہ کچھ کہا ہے اس نے؟۔۔۔۔۔”
ذوناش بھانپ گئی۔
“بس یار کینڈی کرش کی طرح فضول انسان ہے وہ۔۔۔۔۔”
حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔
“تمہیں نہیں پسند تو مت کھیلا کرو۔۔۔۔۔”انشرح منہ بناتی ہوئی بولی۔
“اسے کیا ہوا۔۔۔۔۔”
حرم انشرح کا لٹکا ہوا چہرہ دیکھ کر بولی۔
آمنہ نے ساری بات اس کے گوش گزار کر دی۔
“دفعہ کرو تم اس نمونے کو، اپنا موڈ کیوں خراب کر رہی ہو۔۔۔۔۔” حرم سر جھٹکتی ہوئی بولی۔
“ہاےُ وہ نمونہ ہے؟۔۔۔۔۔”
انشرح صدمے سے بولی۔
“یار چلتے ہیں اب یا پھر یہیں بیٹھے رہنا ہے؟۔۔۔۔”
ذوناش ازلان کے گروپ کو جاتا دیکھ کر بولی۔
ذوناش چلنے لگی تو سب اس کے عقب میں چل دیں۔
****////////****
“چھوٹے میں نے کل تمہیں کہا تھا بینک سے پیسے لے آنا؟۔۔۔۔۔۔”
شہریار سوالیہ نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔
“بھائی وہ میں بھول گیا۔۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کہتا ہوا کرسی پر براجمان ہو گیا۔
شہریار بغور اسے دیکھنے لگا جو فور پیس پہنے،بال نفاست سے سیٹ کئے مقابل کو مرعوب کر رہا تھا،
اس سے ایسے جواب کی توقع کم از کم شہریار کو نہیں تھی۔
“بابا سائیں کو میں کیا بولوں کہ چھوٹا بھول گیا۔۔۔۔۔”
شہریار پین دو انگلیوں میں گھماتا ہوا بولا۔
“بھائی انسان ہوں میں بھی بھول گیا آپ تو ایسے کر رہے ہیں جیسے ایک سال ہو گیا اس کام کو۔۔۔۔۔۔”
وہ منہ بناتا ہوا بولا۔
“اچھا پھر میٹنگ کی تیاری کر لو۔۔۔۔۔”
شہریار لیپ ٹاپ کی اسکرین اوپر کرتا ہوا بولا۔
“میں؟۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
“ہاں اس میں اتنا حیران ہونے والی کیا بات۔۔۔۔” شہریار اچنبھے سے بولا۔
“مجھے ایک دوست کی طرف جانا تھا۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کے چہرے پر اکتاہٹ تھی۔
“بھائی نے کہا تھا چھوٹے کو کہیں جانے مت دینا جب تک آف نہ ہو جاےُ۔۔۔۔۔”
شہریار انگلیاں چلاتا ہوا بولا۔
“اچھی مصیبت ہے۔۔۔۔۔”
وہ منہ میں بڑبڑایا۔
“کہاں؟۔۔۔۔۔۔”
شہریار چہرہ اٹھا کر بولا۔
“میٹنگ کی تیاری کرنے اور کہاں اور ہاں بھابھی کہ رہیں تھیں کہ آپ آج جلدی گھر آئیں شاید امی کی طرف جانا ہے۔۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کہتا ہوا باہر نکل گیا۔
ساتھ میں برہان کو میسج کرنے لگا۔
****///////****
شاہ نے کمرے میں قدم رکھا تو ہنوز خاموشی چھائی تھی۔
مہرماہ یا تو سو رہی تھی یا پھر اداکاری کر رہی تھی۔
شاہ نے دروازہ لاک کیا اور مہر کی جانب چلنے لگا۔
مہر کے بالوں نے اس کے چہرے کے آگے پردہ ڈال رکھا تھا۔
شاہ نے ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے سے بال ہٹاےُ تو مہر اس کے چھونے پر کرنٹ کھا کر پیچھے ہوئی۔
“جاگ رہی تھی مجھے معلوم تھا۔۔۔۔۔”
شاہ مسکراتا ہوا بولا۔
“مجھے نہیں کرنا تم سے نکاح مجھے واپس چھوڑ کر آؤ۔۔۔۔۔۔” مہر ہذیانی انداز میں بولتی بیڈ سے اتر گئی۔
وہ دروازے کی جانب بڑھ رہی تھی جب شاہ اس کے عین مقابل آ گیا۔
مہر کی آنکھیں اس کے رونے کی چغلی کھا رہیں تھیں۔
“تمہیں ایک بار کہہ دیا نہ کہ وہاں نہیں جانا۔۔۔۔۔”
کچھ دیر قبل جو مسکراہٹ تھی اس کی جگہ اب سختی نے لے لی۔
“کیوں رکھنا چاہتے ہو مجھے اپنے ساتھ میں وہاں خوش تھی اپنی مرضی سے تھی پھر کیوں اٹھا لاےُ ہو مجھے بولو۔۔۔۔۔”
مہر اس کی جیکٹ دونوں ہاتھوں سے پکڑتی ہوئی بولی۔
“یہ جو تم میرے گریبان کو پکڑتی ہو نہ بہت ناگوار گزرتا ہے مجھے۔۔۔۔۔”
شاہ اس کے دونوں ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
مہرماہ کا بس نہیں چل رہا تھا شاہ کو جان سے مار دے۔
شاہ نے جھٹکے سے اس کے ہاتھ ہٹاےُ۔
“تم جاننا چاہتی ہو کیوں لایا ہوں تمہیں تو سنو جو چیز دوسروں کی دسترس میں نہیں آ سکتی نہ شاہ کو وہ چیز حاصل کرنے کا بہت شوق ہے۔۔۔۔۔۔”
شاہ اس کی جانب جھکتا ہوا بولا۔
“میں کوئی چیز نہیں ہوں ایک جیتی جاگتی انسان ہوں۔۔۔۔۔” مہر غرائی۔
“واٹ ایور۔۔۔۔۔”
شاہ لاپرواہی سے بولا۔
“فیصلہ کر لیا تم نے مولوی صاحب کو بلاؤ یا پھر بنا نکاح کے اپنی قیمت وصول کروں۔۔۔۔۔”
شاہ آبرو اچکا کر بولا۔
مہر اندر تک لرز گئی لیکن ظاہر نہیں کیا۔
“نہ میں تم سے نکاح کروں گی نہ ہی تم مجھے ہاتھ لگا سکو گے, میں واپس جاؤں گی وہاں جو میری جگہ ہے۔۔۔۔۔”
مہر اس کی آنکھوں میں جھانکتی ہوئی بولی۔
“واپس جانے کا خیال تم دل سے نکال دو کیونکہ ایسا ممکن نہیں, اینڈ آئی وِش کہ ایک دن تمہیں اپنے پاؤں میں گرا ہوا دیکھوں۔۔۔۔۔”
تمہارے خواب میں بھی ایسا نہیں ہو گا۔۔۔۔۔”
مہر جل کر بولی۔
“یہ سب تو چلتا رہے گا یہ بتاؤ بھوک لگی ہے تمہیں۔۔۔۔۔”
شاہ صوفے پر براجمان ہوتا ہوا بولا۔
