577.9K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tawaif Episode 1

Tawaif by Hamna Tanveer

چڑھا جو مجھ پے سرور ہے

اثر تیرا یہ ضرور ہے

تیری نظر کا قصور ہے

دلبر دلبر

آ پاس آ تو کیوں دور ہے

یہ عشق کا جو فطور ہے

نشے میں دل تیرے چور ہے

دلبر دلبر

تو ہوش نہ خبر ہے

یہ کیسا اثر ہے

ہوش نہ خبر ہے

یہ کیسا اثر ہے

تم سے ملنے کے بعد دلبر

شاہ طائرانہ نظر ڈالتا اندر آیا تو دوشیزائیں دھن پر رقص کر رہیں تھیں۔

مدھم جلتی روشنیوں میں رقص کرتی حسینائیں, اردگرد اندھیرا اور ان پر روشنیاں جل بجھ رہیں تھیں۔

کیا خوابناک ماحول بنا رکھا تھا۔

وہ آ کر اپنی مخصوص نشست پر براجمان ہو گیا۔

شاہ کی گہری نظریں وسط میں رقص کرتی حسن کے شاہکار پر تھیں۔

اسے ہمیشہ اس کی آنکھوں میں کچھ دکھائی دیتا نا جانے کیا تھا جسے وہ سمجھنے سے قاصر تھا۔

تو میرا خواب ہے

تو میرے دل کا قرار

دیکھ لے جان من دیکھ لے

بس ایک بار

چین کھو گیا ہے

کچھ تو ہو گیا ہے

چین کھو گیا ہے

کچھ تو ہو گیا ہے

تم سے ملنے کے بعد دلبر

اپنے حسن کے تیر چلاتیں وہ بجلیاں گرا رہیں تھیں,وہاں موجود تمام عزت دار افراد مدہوشی کے عالم میں ان کے رقص سے لطف اٹھا رہے تھے,کچھ پیسے لٹانے میں محو تھے, کچھ شراب نوش فرما رہے تھے,

شاہ پرسکون سا تکیے سے ٹیک لگاےُ بیٹھا تھا۔

یہ حسینہ تھی جسے شاہ فرصت سے دیکھتا,, بھورے لمبے بال جو کمر سے نیچے تک جا رہے تھے, بھوری سحر انگیز آنکھیں جن پر گھنی پلکوں کی باڑ تھی,دودھیا رنگ سرخ رنگ کی لپ اسٹک سے پوشیدہ نازک لب, مہارت سے کیا گیا میک اپ اس پر ستم یہ کہ نازیبا لباس زیب تن کئے وہ آفت لگ رہی تھی۔

شاہ کے چہرے پر سنجیدگی تھی اگلے لمحے اس کی پیشانی پر تین لکریں ابھریں, ایک شرابی ڈولتا ہوا اس قاتل حسینہ کی جانب بڑھ رہا تھا, شاہ اب دلچسپی سے اس منظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا,

نشے میں مدہوش وہ مہرماہ کی کمر پر ہاتھ رکھے اس کے قریب ہو گیا,

اب تو ہوش نہ خبر ہے

یہ کیسا اثر ہے

ہوش نہ خبر ہے

مہرماہ کی پشت اس شرابی کی جانب تھی جونہی اسے اپنی کمر پر کسی کے ہاتھ کا گمان ہوا تو جھٹکے سے مڑی,

یہ کیسا اثر ہے

تڑاخ…..

اس کے تھپڑ کی آواز سب کو ہوش میں لے آئی, تمام افراد پھٹی پھٹی نگاہوں سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔

مہرماہ کی آنکھوں میں شعلے آٹھ رہے تھے, چہرے پر سختی عود آئی۔

موسیقی کی آواز بند ہو چکی تھی ایک سکوت سا چھا گیا تھا, خاموشی نے ڈیرے جما لئے۔

سب کے منہ پر قفل لگ گئے , مہرماہ نے اس شرابی کو گریبان سے پکڑ لیا۔

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی۔۔۔۔” وہ حلق کے بل چلائی.

ساتھ ہی ایک اور تھپڑ اس کے گال کی زینت بنا دیا‍۔۔

نثار جٹ اس دوسرے تھپڑ سے ہوش میں آ گیا…

“مہرماہ میری جان ایسے نہیں کرتے‍۔۔۔”زلیخا بیگم طوفان سے پہلے سنائی دینے والی خاموشی کو سن کر اس کے پاس آئیں اور نثار جٹ سے دور کیا۔

مہرماہ بھوکی شیرنی بنی آس کی جانب لپکی۔

“اسے اندر لے جاؤ۔۔‍”

وہ عقب میں کھڑی دوشیزہ کو گھورتی ہوئی بولیں۔

“انٹرسٹنگ۔۔۔” شاہ اس ڈرامے سے محظوظ ہوتا ہوا بولا..

بانی مہرماہ کو اندر لے جا چکی تھی۔

حسن کی ملکہ آنکھوں سے اوجھل ہوئی تو شاہ بھی کھڑا ہو گیا۔

دل کو بھانے کو اب کچھ نہیں بچا تھا۔

تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکلا,جیب میں ہاتھ ڈال کر چابی ٹٹولنے لگا,چابی نکال کر گاڑی میں بیٹھ گیا, گاڑی فل سپیڈ میں سڑک پر دوڑانے لگا۔

شاہ کی گاڑی دیکھ کر چوکیدار نے حویلی کا گیٹ کھول دیا۔

شاہ نے گاڑی پورچ میں روکی, باہر نکلا شانے پر رکھی شال کو درست کیا اور اندر کی جانب قدم بڑھانے لگا۔

****//////****

حرم دوپٹہ سنبھالنی چل رہی تھی۔

دوپٹہ زمین پر صفائی کر رہا تھا جسے اٹھانے کے باعث اس کا چہرہ نیچے جھکا ہوا تھا۔

اسی لمحے حرم ایک فولادی سینے سے ٹکرائی۔

“آؤچ۔۔۔۔” وہ چہرہ اوپر اٹھاےُ پیشانی مسلتی ہوئی اس نفس کو دیکھنے لگی جو اندھوں کی طرح چل رہا تھا۔

“نظر نہیں آتا تمہیں۔۔۔۔مقابل اس پر برس پڑا۔

حرم کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔

“آمنہ یہ تو وہی بات ہوئی الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔۔۔۔۔” حرم اپنی پہلو میں کھڑی سہیلی کے کان میں سرگوشی کرنے لگی۔

“ہیلو میڈم وہاں کیا کھسل پھسل کر رہی ہو میں بات کر رہا ہوں تم سے, لگتا ہے آنکھوں کے ساتھ ساتھ کان بھی ایکسپائر ہیں۔۔۔۔” وہ چبا چبا کر بولا۔

“وہ میں تو دیکھ کر ہی چل رہی تھی۔۔۔۔”حرم نے کمزور سی دلیل دی۔

کہاں نیچے زمین پر؟ آنکھیں بھی پھر پاؤں پر لگوا لو تم۔۔۔۔” وہ ہنکار بھرتا چلنے لگا۔

اس کا دوست زمین پر گری بکس اٹھانے لگا ایک گھوری سے حرم کو نوازتا آس کے عقب میں چل دیا۔

حرم چہرہ موڑ کر اس بد دماغ کو دیکھنے لگی جو بولتا ہوا چہرہ موڑے حرم کو گھور رہا تھا۔

“پاگل انسان۔۔۔۔”حرم نے بڑبڑاتے ہوۓ چہرہ آگے کر لیا۔

“تم سامنے دیکھتی نیچے کیا پیسے ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔۔” چند قدم کی مسافت طے کرنے کے بعد آمنہ بول پڑی۔

” میں دوپٹہ اٹھا رہی تھی اب مجھے کیا معلوم تھا سامنے سے وہ جاہل انسان آ رہا ہے پتہ نہیں کیا سمجھتا ہے خود کو۔۔۔۔”حرم پیشانی پر بل ڈالتی کوفت سے بولی۔

“تماشہ بنوا کر اب اچھے سے معلوم ہو گیا نہ کیا سمجھتا ہے۔۔۔۔” آمنہ باقی سٹوڈنٹس کی نظر میں اپنے لیے دیکھی گئی سبکی کے باعث بولی۔

“میری غلطی ہے نہ جاؤ تم بھی اس کے ساتھ شامل ہو جاؤ۔۔۔۔” حرم پیر پٹختی وہاں سے نکل گئ ۔

آمنہ اسے جاتا دیکھ کر نفی میں سر ہلانے لگی۔

****//////****

“پتہ نہیں کس بات کا غرور ہے اس مہر کو۔‍۔۔۔” رانی سامنے بیٹھی مہر کو دیکھتی ہوئی سرگوشی کرنے لگی۔

“مجھے تو لگتا ہے بیگم صاحبہ کو کچھ گھول کر پلایا ہے یا پھر کوئی جادو ٹونہ کر رکھا ہے تبھی تو اس کے نخرے اٹھاتی ہیں۔۔۔۔” آئمہ بھی حسد کا شکار تھی۔

“رات اتنا بڑا ہنگامہ کیا اور دیکھو کیسے سکون سے بیٹھی ہے نہ ہی بیگم صاحبہ نے آ کر خبر لی۔۔۔۔” رانی مہر کو گھورتی ہوئی بولی۔

مہرماہ نزاکت سے ناخن تراشے میں محو تھی۔

“میں تو حیران ہوں یہ اس نے تیسرا تھپڑ مارا ہے اور ابھی تک ملکہ بنی بیٹھی ہے کوئی کچھ کہتا ہی نہیں۔۔۔۔”آئمہ صدمے سے بولی۔

“سنو, زلیخا بیگم کو کہ دینا آج میری پارلر میں آپوئنٹمیٹ ہے۔۔۔۔”وہ روشن پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی بولی۔

“جی وہ نثار جٹ سے بات کر رہیں ہیں جیسے فارغ ہوتیں ہیں میں مطلع کر دوں گی۔۔۔۔”بانو کہتی ہوئی باہر نکل گئی۔

“جب سے یہ منحوس آئی ہے مجھے تو کوئی پوچھتا ہی نہیں ہے پہلے سب کی زبانوں پر رانی کا نام ہوتا تھا۔۔۔۔”

رانی کی آنکھوں سے نفرت چھلک رہی تھی۔

“کیا کر سکتے ہیں اس نے ایسا سحر پھونکا ہے جس میں سب گرفتار ہو گئے ہیں اب تمہاری ہماری کیا وقعت۔۔۔۔” آئمہ آہ بھرتی ہوئی بولی۔

رانی سر جھٹکتی باہر چل دی۔

مہر نے نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھا ۔

وہ انہماک سے اپنے کام میں مشغول تھی البتہ کام اتنا اہم نہیں تھا لیکن اس کا یہی انداز تھا۔

“نثار جٹ تمہیں اچھے سے معلوم ہے نہ وہ کسی وہ اپنے پاس نہیں آنے دیتی پھر کیوں وہ حرکت کی۔۔۔۔” زلیخا بیگم ضبط کرتی ہوئیں بولیں۔

“یہ کیا بات ہوئی بھلا دور دور سے ہی دیدار کرواتی ہے پاس بھی تو آےُ نہ۔۔۔۔” وہ برا مان گیا۔

“اس کے علاوہ جس پر ہاتھ رکھے گا حاضر ہو جاےُ گی لیکن مہر ناممکن ہے۔۔۔‍۔” وہ قطعیت سے بولیں۔

“ہوں۔صرف تڑپاتی ہے۔۔۔۔” وہ ہنکار بھر کو بولا۔

“شکر کرو دیدار تو کرواتی ہے ورنہ ایسے انمول موتی کہاں ملتے ہیں۔۔۔۔” وہ بولتی ہوئیں اپنے تخت پر بیٹھ گئیں۔

“عجیب ہی کوئی مصیبت ہے۔۔۔۔” وہ منہ بناتا ہوا بولا۔

“اب دوبارہ یاد رکھنا مہر کے پاس جانے کی غلطی مت کرنا ورنہ کل رات تو میں نے روک لیا دوبارہ بیچ میں نہیں آؤں گی۔۔۔۔” وہ چھالیہ منہ میں ڈالتی ہوئیں بولیں۔

“اور مجھے جو سب کے سامنے تھپڑ مارا وہ۔۔۔۔”

“تم کیا سب آشنا ہیں اس بات سے کہ مہر صرف رقص کرتی ہے پھر غلطی تمہاری ہے۔۔۔۔” وہ طمانیت سے بولیں۔

“آج رات پھر رانی کو میرے ساتھ کر دینا کل کا غم بھول جاؤں گا۔۔۔۔”

“رانی نے بھی قیمت بڑھا دی ہے جیب بھر کر لانا ۔۔۔۔”

وہ اثبات میں سر ہلاتا باہر نکل گیا۔

“بیگم صاحبہ مہر کی جانب سے پیغام ہے۔۔۔۔” بانی اندر آتی ہوئی بولی۔

“کیا۔۔۔۔” وہ آبرو اچکا کر بولیں۔

“وہ کہ رہیں ہیں آج پارلر جانا یے۔۔۔۔”

“ہممم, اچھا میں آتی ہوں اس کے پاس۔۔۔۔” وہ پان منہ میں ڈالتی پاندان بند کرتیں ہوئیں بولیں۔

بانی سر ہلاتی نکل گئی۔

زلیخا بیگم جب کمرے میں داخل ہوئیں تو مہر بیزار سی بیٹھی تھی۔

وہ ایسی ہی تھی نہ کسی سے بات کرتی نہ بلاتی, چہرے پر اکتاہٹ سجاےُ پتھر کی مورت بنی بیٹھی رہتی, احساسات سے عاری نہ کسی کے آنے سے فرق پڑتا نا جانے سے۔

“مہر تم ایسے کیوں بیٹھی ہو؟۔۔۔”

زلیخا بیگم اس کے بائیں جانب بیٹھتی ہوئیں بولیں۔

“میں ہمیشہ ایسے ہی رہتی ہوں آپ جانتی ہیں۔۔۔۔” مہر کا انداز جتانے والا تھا۔

“ہم نے بات کی ہے نثار سے آگے سے محتاط رہے گا, لیکن تم بھی تھوڑا خیال کیا کرو یہ تو عام سا بندہ تھا خاموش کروا دیا ورنہ لینے کے دینے پڑ جاتے اگر کوئی بڑی شخصیت ہوتی تو۔۔۔۔” زلیخا بیگم کھڑکی سے باہر جھانکتی ہوئیں بولیں۔

“اگر آئیندہ کوئی اور آیا میرے پاس تو نتیجے کا ذمہ دار وہ خود ہو گا۔۔۔۔” مہر نے باور کرانا بہتر سمجھا۔

“رانی اندر آؤ۔۔۔۔” زلیخا بیگم کی گرج دار آواز گونجی۔

مہر اکتا کر انہیں دیکھنے لگی۔

“رانی تم نے سنا نہیں۔۔۔۔” اب زلیخا بیگم قدرے چلا کر بولیں۔

رانی دانتوں تلے زبان دیتی اندر آئی, چہرے پر خوف کی لہریں واضح تھیں۔

“اس حرکت کو ہم کیا سمجھیں؟۔۔۔۔” وہ تیکھے تیور لئے بولیں۔

“وہ, وہ میں گزر رہی تھی یہاں سے بیگم صاحبہ۔۔۔۔”رانی نے عذر پیش کیا۔

مہر نفی میں سر ہلاتی اسے دیکھنے لگی۔

“باز آ جاؤ تم اپنی حرکتوں سے یہ مت سمجھو ہم ناآشنا ہیں۔۔۔۔” وہ گھورتی ہوئیں بولیں۔

“جی میں سمجھ گئی, مجھے آئمہ بلا رہی تھی میں جاتی ہوں۔۔۔۔” رانی تیز تیز بولتی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔

“رات کے لئے تیاری کر لینا, آج چودھری عنایت حسین بھی آئیں گے, تم ہمیشہ کی مانند آخر میں آنا۔۔۔۔” وہ کھڑی ہوتی ہوئی بولیں۔

“جی ٹھیک ہے۔۔۔۔” مہر منہ بناتی ہوئی بولی۔

****//////****

“جانتے ہو کل رات کوٹھے پر جو تماشہ لگا۔۔۔۔” شاہ کرسی کے ساتھ ٹیک لگاتا ہوا بولا۔

“میں خوشنصیب تھا جو عین اس وقت پہنچا ورنہ مس ہو جاتا۔۔۔۔” عدیل مسکراتا ہوا بولا۔

“کیا نام ہے اس کا, ہاں مہر,آخر سمجھتی کیا ہے خود کو۔۔۔۔” شاہ ریوالونگ چئیر کو دائیں بائیں ہلاتا ہوا بولا۔

“بس یار کوٹھے کی شان ہے وہ تبھی مغرور ہے ویسے غرور اس پر ججتا بھی ہے۔۔۔۔” عدیل کی آنکھوں کے سامنے مہر کا دلکش سراپا آ گیا۔

شاہ لب بھینچے چئیر موڑ کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔

“کیا ہوا؟۔۔۔۔” شاہ کو خاموش پا کر وہ پھر سے گویا ہوا۔

“کچھ نہیں بس اس نیوز کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔۔” شاہ اپنی سوچوں کو جھٹکتا ہوا بولا۔

“کون سی نیوز؟۔۔۔۔”

عدیل کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔

“وہ جو دو دن پہلے چلائی تھی, منی لانڈرنگ کی, ایکٹریس حریم ستار کی۔۔۔۔” شاہ اس کی جانب رخ موڑتا ہوا بولا۔

“اووہ اچھا وہ۔۔۔۔”

عدیل اثبات میں سر ہلاتا ہوا بولا۔

“مجھے دھمکی دے رہی تھی میں اس نیوز کو اڑانا بند کر دوں۔۔۔۔”بولتے بولتے شاہ کی پیشانی پر تین لکریں ابھریں۔

“پھر تم نے کیا کہا۔۔۔۔” عدیل آبرو اچکا کر بولا۔

میز جو کہ دونوں کے وسط میں پڑا تھا شاہ نے اس پر سے قلم اٹھایا۔

“تجھے لگتا ہے میں کسی کی دھمکی سن کر ڈر جاؤں گا وہ بھی ایک لڑکی کی۔۔۔۔” شاہ تمسخر اڑاتا ہوا بولا۔

“ویل, اچھا کیا اس حریم ستار کو بھی معلوم ہونا چائیے نہ۔۔۔۔” عدیل دانت پیستا ہوا بولا۔

“کافی پئے گا۔۔۔۔” شاہ ریسیور اٹھا کر بولا۔

“پلا دے گا تو باہر نہیں آ جاےُ گی۔۔‍۔۔” عدیل منہ بناتا ہوا بولا۔

شاہ کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ ابھری جسے دباتے ہوۓ وہ ریسیور کان سے لگاےُ بولنے لگا۔

****//////****

“اس دفعہ اگر گندم کا ریٹ گرایا تو تمہاری چھٹی کر دیں گے ہم۔۔۔۔” وہ رعب و دبدبہ سے بولے۔

“جی کمال صاحب۔۔۔۔” مقابل گھبرا کر بولا۔

“شاہ ویز۔۔۔۔” کمال صاحب کی گرج دار آواز گونجی۔

شاہ ویز منہ کے عجیب عجیب زاویے بناتا ان کے پاس آ گیا۔

“جی بابا سائیں۔۔۔۔” وہ اکتاہٹ بھرے لہجے میں بولا۔

“ہم دیکھ رہے ہیں تم گھر سے غائب رہنے لگے ہو۔۔۔۔” وہ تفتیشی انداز میں بولے۔

شاہ ویز نے صفدر کو گھوری ڈالی تو وہ ایک لمحے میں غائب ہو گیا۔

“تو کیا لڑکیوں کی طرح گھر میں بیٹھا رہوں۔۔۔۔” وہ بیزاری سے بولا۔

“دو دن بعد تم گھر میں قدم رکھ رہے ہو کہاں غائب تھے۔۔۔۔” وہ شاہ ویز کو ایسے دیکھ رہے تھے مانو اندر باہر کیا چل رہا سب معلوم کر لیں گے۔

“بابا سائیں دوستوں کے ساتھ تھا, کہاں جانا ہے میں نے؟۔۔۔۔” اب کہ وہ سنبھل کر بولا۔

“کسی کام کاج میں لگو یہ کیا فراغت میں وقت کا ضیاع کر رہے ہو۔۔۔۔” ان کی آواز میں دبہ دبہ غصہ تھا۔

“اچھاااا ۔۔۔۔” شاہ ویز اچھا کو لمبا کرتا وہاں سے نکل گیا۔

کمال صاحب ہنکار بھرتے اسے دیکھنے لگے۔

****//////****

آج شاہ وقت سے قبل ہی آ گیا, اپنی مخصوص نشست پر براجمان ہو کر وہ غائب دماغی سے رقص کرتی طوائفوں کو دیکھ رہا تھا, منتظر تو وہ مہر کا تھا۔

مہر ستون کے عقب سے نمودار ہوئی چہرے پر خفگی سجاےُ وہ مقابل پر برس رہی تھی۔

شاہ دلچسپی سے اس صنف نازک کا جائزہ لے رہا تھا۔

شاہ اسے گہری نظروں کے حصار میں لئے ہوۓ تھا, اس کی نظروں کی تپش تھی یا کچھ اور مہر نے نگاہ اٹھا کر اس سمت دیکھا جہاں شاہ براجمان تھا۔

آنکھیں بے تاثر تھیں, ایک لمحہ تلف ہوا تھا اور وہ پھر سے نگاہوں کا زاویہ موڑا گئ ۔

شاہ کے لب دھیرے سے مسکرا رہے تھے۔

“کچھ تو ہے اس میں۔۔۔۔” وہ کش لیتا ہوا بولا۔

گھنی مونچھوں تلے عنابی لبوں سے دھواں اڑاتا وہ مہر کو ہی دیکھ رہا تھا۔

سرمئی دھواں کے پار وہ قاتل حسینہ کھڑی تھی۔

ماربل کے فرش پر گورے پیر رکھتی وہ چلتی ہوئی آ رہی تھی۔

اردگرد لوگ تکیے لگاےُ بیٹھے تھے۔

وہ وسط میں آ کر کھڑی ہو گئی۔

تمام نگاہیں اس پر اٹھیں, لوگ بےصبری سے اسے دیکھ رہے تھے۔

دھن بجنی شروع ہوئی موسیقی سنائی دینے لگی۔

پھینکے نظر کے سکے اس نے

بک گئی ہوں میں

اس نے جو چھو لیا تو

ہاےُ

مہر اپنی اداؤں سے سب کے دلوں کے تار چھیڑ رہی تھی۔

لگے کہ نئی ہوں میں

یوں تو پریمی پچھتر ہمارے

لے جا تو کر ستتر اشارے

دل میرا

مفت کا

خوامخواہ ہی ترستے بیچارے

لے جا تو کر ستتر اشارے

دل میرا

مفت کا

دل کے دکاندار ہیں دوسرے بھی

ہم تھوڑا اچھے ہیں وہ ہیں فریبی

نی میں کمی نہ میں کملی نی میں کملی

ہاں

دل کے دکاندار ہیں دوسرے بھی

ہم تھوڑا اچھے ہیں وہ ہیں فریبی

مہنگا ہے دل سب کے بس کا نہیں یہ

بکنا ہے پر تیری خاطر مجھے بھی

آج بازار ہی بک گیا رے

لے جا تو کر ستتر اشارے

دل میرا

مفت کا

یوں تو پریمی پچھتر ہمارے

لے جا تو کر ستتر اشارے

دل میرا

مفت کا

نوٹوں کی برسات ہو رہی تھیں۔

مہر اپنا جلوہ دکھانے میں محو تھی۔ جبکہ شاہ اس کی آنکھوں میں کچھ تلاش رہا تھا۔

موبائل کی رنگ ٹون نے شاہ کی یکسوئی کو توڑا۔

بابا سائیں کا نام جلتا بجھتا دیکھ کر شاہ کی پیشانی پر شکنیں ابھریں۔

عدیل کی جانب پیسے اچھال کر اشارہ کرتا باہر کی جانب قدم بڑھانے لگا۔