Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 43
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 43
Tawaif by Hamna Tanveer
ماناب کے رونے کے باعث مہر کی آنکھ کھلی۔
لب مسکرانے لگے۔
روز ماناب ہی اسے جگاتی تھی۔
“مہر ماناب کو چپ کرواؤ۔۔۔”
شاہ لحاف منہ پر اوڑھتا ہوا بولا۔
مہر ماناب کو اٹھاتی ہوئی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔
“دیکھو بابا پہلے والی روٹین پر آ گئے۔۔۔”
مہر اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
مہر نے گھڑی اٹھا کر ٹائم دیکھا تو بیڈ سے اتر گئی۔
ماناب کو اٹھاۓ وہ الماری کے پاس آ گئی اور ماناب کے کپڑے اور تولیہ نکالنے لگی۔
ماناب اس کے لاکٹ کے ساتھ کھیل رہی تھی۔
“ماما اب اپنے بےبی کو نہلائیں گیں۔۔۔”
مہر اس کا ماتھا چومتی واش روم میں آ گئی۔
تولیے میں لپٹی روتی ہوئی ماناب کو مہر نے شاہ کے سینے پر بٹھا دیا۔
مہر کی آنکھوں میں شرارت تھی۔
وہ پرسکون سی آئینے کے سامنے کھڑی سامان اٹھانے لگی۔
شاہ اپنے سینے پر وزن محسوس کر کے سمجھ چکا تھا۔
“مہر یار کیوں تنگ کر رہی ہو؟”
شاہ گلا پھاڑتی ماناب کو پکڑتا ہوا بولا۔
“میں کہاں تنگ کر رہی ہوں آپ کو؟”
مہر لب دباےُ مسکراہٹ روکتا ہوئی بولی۔
“ماما بہت گندی ہیں آپ کی۔۔۔”
شاہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔
“بابا کیسے کھیلیں آپ کے ساتھ ابھی تو سوےُ تھے۔۔۔”
شاہ جمائی روکتا ہوا بولا۔
ماناب اسے دیکھتی آنسو بہا رہی تھی۔
“آ میرا بچہ کیوں رو رہا ہے؟”
شاہ نے اس کا چہرہ صاف کر کے سینے سے لگا لیا۔
ماناب اس کی شرٹ کی جیب کے ساتھ کھیلنے لگی۔
“دیکھ لو میں نے بھی چپ کروا ہی لیا۔۔۔”
شاہ ماناب کے سر پر بوسہ دیتا ہوا بولا۔
مہر مسکراتی ہوئی بیڈ پر آ بیٹھی۔
“چلو ماناب آؤ تیار کروں آپ کو۔۔۔”
مہر اسے پکارتی ہوئی بولی جو جیب کے ساتھ الجھ رہی تھی۔
مہر نے آگے ہو کر اسے پکڑ لیا۔
ماناب ہونٹ باہر نکالتی رونے کی تیاری کرنے لگی۔
مہر نے اس کے ہاتھ میں کریم کا ڈبہ پکڑا دیا۔
شاہ انہیں دیکھتا پھر واش روم میں چلا گیا۔
شاہ مہر کے ہمراہ نیچے آیا تو حسب معمول سب موجود تھے۔
ماناب شاہ کی گود میں تھی۔
ہشاش بشاش سی ماناب آنکھیں ٹپٹپاتی سب کو دیکھنے لگی۔
“ہماری پوتی آ گئی!”
کمال صاحب اسے اٹھاتے ہوۓ مسکرانے لگے۔
“امی آپ اس حد تک گر جائیں گیں میں نے سوچا نہیں تھا۔۔۔”
شاہ ضوفشاں بیگم کو دیکھتا اونچی آواز میں بولا۔
ضوفشاں بیگم کا چاےُ ڈالتا ہاتھ ہوا میں معلق رہ گیا۔
“کیا مطلب ہے تمہارا؟”
وہ ششدر سی بولی البتہ لہجے میں گھبراہٹ نمایاں تھی۔
“امی ماناب صرف مہر کی بیٹی نہیں ہے وہ میرا بھی خون ہے۔۔۔”
شاہ تاسف سے بول رہا تھا۔
تمام افراد ناسمجھی سے شاہ کو دیکھ رہے تھے۔
“شاہ کیا ہو گیا ہے صبح صبح کیوں برس رہے ہو اپنی ماں پر۔۔۔”
کمال صاحب پوتی کو کھلاتے خفگی سے گویا ہوۓ۔
“یہ تو آپ اپنی بیگم سے پوچھیں ایسی کون سی رقابت ہے انہیں جس کے باعث یہ ماناب کو کوٹھے پر چھوڑ آئیں۔۔۔”
شاہ چلا رہا تھا۔
ضوفشاں بیگم کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔
سب پھٹی پھٹی آنکھوں سے ضوفشاں بیگم کو دیکھ رہے تھے۔
“بہو؟”
کمال صاحب کھڑے ہوتے ہوۓ بولے۔
مہر نے آگے ہو کر ماناب کو پکڑ لیا۔
“یہ کیا سن رہے ہیں ہم؟”
وہ ضوفشاں بیگم کے سامنے آتے ہوۓ بولے۔
“شرم کرو اپنی ماں پر ایسا بھتان لگاتے ہوۓ۔۔۔”
وہ بوکھلا کر شاہ کو دیکھتی ہوئی بولیں۔
“میں جھوٹ بول رہا ہوں؟ بلاؤں اس زلیخا کو؟ آپ کی ویڈیو دکھائی ہے اس نے مجھے۔۔۔”
شاہ تمس سے بولا۔
ضوفشاں بیگم کو پانی سر سے گزرتا محسوس ہوا۔
“بیگم ایسا نہ ہو ہمارا ہاتھ اٹھ جاےُ۔۔۔”
کمال صاحب ضبط کرتے ہوئے بولے۔
“ایک طوائف کی بیٹی کا پہلا اور آخری ٹھکانہ کوٹھا ہے۔۔۔”
وہ حقارت سے بولیں۔
“امی بس کر دیں بس کر دیں کیوں اس گھر کا سکون اور میری خوشیوں کی دشمن بنی ہوئی ہیں؟”
شاہ اکتا کر بولا۔
“آپ کو معلوم ہے یہ مہر مجرا کرتی تھی میرے پاس ثبوت ہے۔شاہ نے ہم سب سے جھوٹ بولا ہے اس طوائف کی خاطر ہمیشہ خاموش کرواتا ہے۔۔۔”
وہ ہنکار بھرتی ہوئیں بولیں۔
“کیا ثبوت ہے تمہارے پاس؟”
کمال صاحب خونخوار نظروں سے گھورتے ہوۓ بولے۔
“دکھاتی ہوں آپ سب کو۔اس کی سچائی سب کے سامنے لاؤں گی میں۔۔۔”
وہ منہ بناتی ہوئی کمرے میں چل دیں۔
مہر نے شاہ کی بازو پکڑ لی۔
مہر کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔
شاہ نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر تسلی دی۔
زلیخا بیگم واپس آئیں۔
“شاہ ویز اس میں سے ویڈیو چلا۔۔۔”
وہ شاہ ویز کی جانب ایک فون بڑھاتی ہوئی بولیں۔
شاہ ویز شش و پنج میں مبتلا باقی گھر والوں کو دیکھنے لگا۔
کمال صاحب نے اسے اشارہ کیا۔
اس میں صرف ایک ہی ویڈیو تھی شاہ ویز نے اسے پلے کر دیا۔
گانے کی دھن سنائی دینے لگی شاہ ویز نے فون کمال صاحب کی جانب بڑھا دیا۔
وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسکرین پر چلتی ویڈیو دیکھ رہے تھے۔
مہر کو لگا وہ دوبارہ سانس نہیں لے پاےُ گی۔
اپنا آپ زمین میں دھنستا محسوس ہو رہا تھا۔
شاہ کی پیشانی پر بل پڑ گئے لیکن اسے زیادہ فکر نہیں تھی وہ مضبوطی سے مہر کا ہاتھ تھامے ہوۓ تھا جو ابھی تک اس کی بازو پر تھا۔
“شاہ یہ سب کیا ہے؟”
کمال صاحب آگ بگولہ ہو گئے۔
شاہ نے ایک نظر اسکرین پر ڈالی۔
اس کے اطمینان میں رتی بھر بھی کمی نہ آئی۔
“اب بتاؤ میں جھوٹ بول رہی ہوں؟”
ضوفشاں بیگم پھٹ پڑیں۔
“مہر وہاں سے آئی ہے تو؟”
شاہ آبرو اچکا کر انہیں دیکھنے لگا۔
“تم ایک طوائف کو اس گھر کی بہو کیسے بنا سکتے ہو؟”
کمال صاحب ضبط کرتے ہوئے بولے۔
“کیوں وہ لڑکی کے زمرے میں نہیں آتیں؟ اور سب سے اہم بات مہر کو اس جہنم میں زبردستی جھونکا گیا تھا تو کیا غلط کیا میں نے اسے اس ذلت سے نجات دلا کر؟”
شاہ آنکھیں چھوٹی کیے کمال صاحب کو دیکھتا ہوا بولا۔
“ہم نے ایسی۔۔۔”
“امی اگر آپ نے مہر کے لئے کوئی ناقابل برداشت الفاظ استعمال کئے تو میں لحاظ نہیں کروں گا۔۔۔”
شاہ درشتی سے ان کی بات کاٹتا ہوا بولا۔
“اب ایک ایسی لڑکی کے لئے ماں کے ساتھ بدتمیزی کرے گا تو؟”
وہ شاہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئی بولیں۔
“شاہ ہم عزت دار لوگ ہیں تم ایسی حماقت کیسے کر سکتے ہو؟”
کمال صاحب کچھ نرم پڑے۔
“بابا سائیں مہر بھی ایک عزت دار گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔اگر اس کی زندگی میں کوئی انہونی ہوئی ہے تو اس میں اس کا کیا قصور ہے؟اسے کیوں ساری زندگی ایک ناکردہ گناہ کی سزا دی جاےُ؟ اسے خوش رہنے کا حق حاصل نہیں؟ کیوں وہ تکلیف سہے جانے کی مستحق ہے؟”
شاہ پے در پے سوال داغنے لگا۔
“ہم نے ٹھیکہ نہیں لے رکھا ساری دکھی دنیا کا۔۔۔”
ضوفشاں بیگم تیوری چڑھا کر بولیں۔
مہر سر جھکاےُ آنسو بہا رہی تھی کیونکہ اس کی بقا کی جنگ اس کا شوہر لڑ رہا تھا۔
“آپ لوگ کہنا کیا چاہتے ہیں صاف صاف بولیں؟”
شاہ کمال صاحب کو دیکھتا ہوا بولا۔
“باہر نکالو ایسی گندگی کو ہمارے گھر سے۔۔۔”
کمال صاحب سے قبل ضوفشاں بیگم حقارت سے بولیں۔
“اچھا ایسا ہے تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔”
شاہ کے الفاظ پر مہر کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔
“مہر سامان پیک کر لو ہم دونوں ابھی جا رہے ہیں واپس۔۔۔”
شاہ مہر کو دیکھتا ہوا بولا۔
“یہ کیا بچپنا ہے شاہ؟”
کمال صاحب خفگی سے بولے۔
“جو آپ کر رہے ہیں میں بھی وہی کر رہا ہوں اور یاد رکھیے گا واپس نہیں آؤں گا میں۔۔۔”
شاہ انگلی اٹھاےُ بول رہا تھا۔
مہر پتھر کی مورت بنے شاہ کے ہمراہ کھڑی تھی سر جھکا ہوا تھا۔
“مہر تمہیں سنائی نہیں دیا؟”
شاہ اسے دیکھتا ہوا دھاڑا۔
مہر ماناب کو سنبھالتی چلنے لگی۔
“حد ہو گئی ہے ویسے حرم غائب ہے اور آپ سب ایک بات کو لے کر جھگڑا کر رہے ہیں؟”
شہریار جو کب سے ضبط کر رہا تھا آخر بول پڑا۔
“یہ سب شاہ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔۔۔”
ضوفشاں بیگم منہ بناتی ہوئی بولیں۔
“ہاں تو جا رہا ہے شاہ۔اب کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہو گا اور آپ کا میری بیٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے یاد رکھیے گا۔۔۔”
شاہ چبا چبا کر بولا۔
“بیگم بس کر دو۔۔۔”
کمال صاحب خفگی سے بولے۔
وہ اپنے بازو کو اس طرح جانے نہیں دے سکتے تھے۔
“شاہ تم کہیں نہیں جا رہے۔۔۔”
کمال صاحب حتمی انداز میں بولی۔
“جس گھر میں میری بیوی کی عزت نہیں میں اس گھر میں نہیں رہ سکتا۔۔۔”
شاہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا ہوا بولا۔
“نہ تم کہیں جا رہے ہو اور نہ ہی بہو۔تمہاری ماں کو ہم سمجھا لیں گے۔۔۔”
وہ شاہ کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوےُ بولے۔
شاہ ترچھی نظروں سے ان کے ہاتھ کو دیکھتا چہرے کو دیکھنے لگا۔
“اس کے بعد اگر کچھ ہوا میں برداشت نہیں کروں گا۔۔۔”
شاہ ان کا ہاتھ ہٹاتا ہوا بولا۔
“حرم؟”
شاہ ویز بےیقینی سے حرم کو دیکھتا ہوا بولا۔
شاہ ویز کی آواز پر سب دروازے کی جانب دیکھنے لگے۔
“حرم میری بچی!”
زلیخا بیگم اسے اپنے ساتھ لگاتی ہوئی بولیں۔
حرم بلک بلک کر رونے لگی۔
ازلان جیب میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا۔
“کہاں سے لاےُ ہو تم حرم کو؟”
شاہ اس کی جانب لپکا۔
“جہاں سے کل آپ کی بیٹی کو لایا تھا۔۔۔”
ازلان کا چہرہ کسی بھی تاثر سے پاک تھا۔
“کوٹھے سے؟”
زلیخا بیگم ششدر سی بولیں۔
ازلان تاسف سے اثبات میں سر ہلانے لگا۔
“حرم تو کوٹھے پر تھی؟”
وہ حرم کا چہرہ تھامتی ہوئی بولیں۔
“جی امی۔۔۔”
حرم اشک بہاتی ہوئی بولی۔
شاہ کے چہرے پر تلخی عود آئی۔
“حرم تم دو راتیں اس کوٹھے پر گزار کر آئی ہو؟”
شاہ حرم کو اپنی جانب موڑتا ہوا بولا۔
حرم اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“امی آپ کی بیٹی کوٹھے سے آئی ہے؟”
شاہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگا۔
“میری بچی ایسی نہیں ہے۔۔۔”
وہ حرم کو ساتھ لگاتی ہوئی بولیں۔
“کون گواہی دے گا کہ حرم آج بھی ویسی ہی ہے جیسی کوٹھے پر جانے سے پہلے تھی؟”
شاہ نے ازلان کو خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“شاہ تم ہوش میں تو ہو؟”
کمال صاحب کا ضبط جواب دیتا جا رہا تھا۔
“میں نے ایسا کیا کہہ دیا ہے؟ وہ جگہ کیسی ہے؟ آپ سب اچھے سے جانتے ہیں۔۔۔”
شاہ کاری ضرب لگاتا ہوا بولا۔
ضوفشاں بیگم حرم کو دیکھتی نفی میں سر ہلا رہی تھیں۔
ازلان کافی حد تک شاہ کی بات سمجھ چکا تھا۔
“شاید وہ اپنی بیٹی کی وجہ سے کہہ رہے ہیں۔۔۔”
ازلان شاہ کو دیکھتا ہوا سوچنے لگا۔
“آپ بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں حرم دو راتیں کوٹھے پر گزار کر آئی ہے اب کون شادی کرے گا حرم سے؟”
ازلان شاہ کو دیکھتا ہوا بولا۔
“ازلان خبردار اگر تم نے کسی کے سامنے منہ کھولا تو۔۔۔”
ضوفشاں بیگم خفگی سے دیکھنے لگیں۔
“میرا خیال ہے کہ آپ کا ہم سے کوئی تعلق نہیں؟ تو میں آپ کی عزت کا خیال کیوں کروں؟اسے میری اعلی ظرفی سمجھیں کہ میں حرم کو وہاں سے لے آیا ہوں۔۔۔”
ازلان چبا چبا کر بولا۔
اس سے قبل کہ کوئی کچھ بولتا ازلان وہاں سے نکل گیا۔
“روکیں اسے وہ میری بیٹی کو بدنام کر دے گا۔۔۔”
ضوفشاں بیگم ہکا بکا سی چلانے لگیں۔
“بیگم جو دوسروں پر کیچڑ اچھالتے ہیں نہ ان کا اپنا دامن بھی صاف نہیں رہتا۔۔۔”
کمال صاحب تاسف سے کہتے کمرے کی جانب چل دئیے۔
“امی دیکھ لیں خدا کا انصاف! آپ نے میری بیٹی کو وہاں بھیجا تھا اللہ نے آپ کی بیٹی کو بھی اسی گندگی میں بھیج دیا۔اور حرم دس منٹ بعد میرے کمرے میں آنا۔۔۔”
شاہ کہتا ہوا زینے چڑھنے لگا۔
“امی ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔”
حرم ضوفشاں بیگم کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“میں جانتی ہوں حرم۔۔۔”
وہ حرم کو دیکھتی تاسف سے بولیں۔
“حرم تمہارے چہرے پر کیا ہوا ہے؟”
شاہ ویز اس کے چہرے پر پڑے نیل دیکھتا ہوا بولا۔
“بھائی انہوں نے مارا تھا مجھے۔۔۔”
حرم آنسو صاف کرتی ہوئی بولی۔
“میں مصطفی بھائی سے بات کرتا ہوں ان کوٹھے والوں کو چھوڑیں گے نہیں۔۔۔”
شاہ ویز حرم کو دیکھتا ہوا بولا۔
“ابھی کچھ وقت دو بھائی کو۔پھر بات کریں گے۔۔۔”
شہریار شاہ ویز کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
شاہ ویز اثبات میں سر ہلانے لگا۔
“آ جا میرے بچی۔۔۔”
ضوفشاں بیگم اسے اپنے ساتھ لگاےُ چلنے لگیں۔
آہستہ آہستہ سب منتشر ہو گئے۔
شاہ بیزاری سے کمرے میں آ گیا۔
مہر ماناب کو اٹھاےُ کپڑے پیک کر رہی تھی۔
شاہ نے ماناب کو پکڑا اور اس کے گال پر بوسہ دیتا مہر کو دیکھنے لگا۔
“ضرورت نہیں اب اس کی۔۔۔”
شاہ مہر کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔
مہر سر جھکاےُ کھڑی تھی۔
آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں۔
“مہر؟”
شاہ نے دھیرے سے پکارا۔
“میں تمہیں وہ عزت وہ مقام ضرور دلواؤں گا جس کی تم حقدار ہو۔۔۔”
شاہ اس کے قریب آتا ہوا بولا۔
مہر کے آنسو زمین پر گر کر بے بول ہو گئے۔
“شاہ مجھے نہیں لگتا ایسا ممکن ہو گا میری وجہ سے آپ کو اپنے گھر والوں کے خلاف جانا پڑ رہا ہے۔۔۔”
مہر کی آنکھیں اشک بار تھیں۔
“پاگل ہو تم۔۔۔”
شاہ اپنا دائیاں ہاتھ مہر کے پیچھے لے گیا اور اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
مہر اس کے سینے پر سر رکھے سسکنے لگی۔
آنسو بےقابو ہو رہے تھے۔
“بس مہر۔۔۔”
شاہ اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔
ماناب منہ بسورتی مہر کو دیکھ رہی تھی۔
“دیکھو ماناب ماما کتنا روتی ہیں؟”
شاہ ماناب کو دیکھتا ہوا بولا۔
ماناب نے شاہ کے شانے پر سر رکھ لیا۔
“ماناب ماما کو چپ کرواؤ۔۔۔”
مہر سر اٹھا کر شاہ کو دیکھنے لگی۔
آنکھیں غم کی داستاں بنی ہوئی تھیں۔
“اب نہیں رونا تم نے۔جتنا رونا تھا رو لیا سمجھی۔۔۔”
شاہ مہر کے گلاب کی مانند نرم و نازک رخسار پر ہاتھ پھیرتا آنسو صاف کرنے لگا۔
“مجھے لگتا ہے ماناب سو گئی ہے۔۔۔”
شاہ چہرہ موڑ کر ماناب کو دیکھتا ہوا بولا۔
مہر نے ماناب کو پکڑا اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔
ماناب سو چکی تھی۔
مہر اسے دیکھ رہی تھی۔
“ازلان حرم کو لے آیا ہے۔۔۔”
شاہ مہر کے سامنے بیٹھتا ہوا بولا۔
دروازے پر دستک ہونے لگی۔
“آ جاؤ حرم۔۔۔”
شاہ اونچی آواز میں بولا۔
حرم جھجھکتے ہوۓ اندر آ گئی۔
مہر ماناب پر لحاف اوڑھتی کھڑی ہو گئی۔
“کیسی ہو حرم؟”
مہر اس کے گلے لگتی ہوئی بولی۔
“میں ٹھیک ہوں بھابھی اور آپ؟”
حرم کافی حد تک سنبھل چکی تھی۔
“آؤ بیٹھو۔۔۔”
مہر صوفے کی جانب اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
“بھائی آپ نے بلایا تھا؟”
حرم شاہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“تمہارا یہ حال کس نے کیا؟”
شاہ بغور اس کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا۔
“بھائی وہ میری روم میٹ ذوناش نے جو کوٹھے پر زنیرہ ہے۔۔۔”
حرم چہرہ جھکا کر بولی۔
مہر ایک نظر حرم پر ڈالتی اور ایک نظر سوتی ہوئی ماناب پر ڈالتی۔
“مجھے اس کی تصریر دو۔۔۔”
شاہ کے چہرے پر تمس نمایاں تھا۔
“بھائی وہ کوٹھے پر ہے۔۔۔”
حرم سر جھکاےُ بول رہی تھی۔
شاہ اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“جانتی ہو نہ امی نے تمہارا رشتہ طے کر رکھا ہے؟”
شاہ نے موضوع بدلا۔
“جی بھائی۔۔۔”
حرم ہاتھ مسلتی ہوئی بولی۔
“تو ازلان کا تمہارے اردگرد رہنے کا کیا مطلب؟”
شاہ آبرو اچکا کر بولا۔
