577.9K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tawaif Episode 27

Tawaif by Hamna Tanveer

مہر بے دھیانی میں کھڑی تھی اس بات سے انجان کہ شاہ ویز اس کی جانب بڑھ رہا ہے۔

شاہ ویز بنا چاپ پیدا کئے چل رہا تھا۔

شاہ ویز نے مہر کو گھما کر اپنے سامنے کیا اور کمر پر ہاتھ رکھ کر خود سے قریب کر لیا۔

مہر پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔

“بہت پیاری لگ رہیں ہیں آپ۔۔۔”

شاہ ویز مسکراتا ہوا بولا۔

مہر نے ایک تھپڑ اس کے بائیں رخسار پر مارا اور خود کو آزاد کروانے کی سعی کرنے لگی۔

“چھوڑو مجھے شاہ ویز۔۔۔”

مہر زور سے بولی۔

“اب تو نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔”

شاہ ویز کہتا ہوا اس کے چہرے پر جھکا۔

مہر نے اس کا چہرہ پیچھے کر دیا۔

“شاہ تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے شاہ ویز چھوڑو مجھے۔۔۔”

مہر اسے خود سے دور کرتی ہوئی بولی۔

شاہ ویز نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔

ستم ظریفی یہ کہ ضوفشاں بیگم اور ماریہ بھی آ گئیں۔

“وہ سب بعد کی بات ہے۔۔۔”

شاہ ویز آہستہ سے بولا۔

ماریہ کی نظر اوپر اٹھی تو پلٹنا بھول گئی۔

“امی وہ دیکھیں! “

ماریہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی ہوئی بولی۔

مہر اس کے سینے پر ہاتھ رکھے اسے خود سے دور کرنے کی سعی کر رہی تھی۔

“کیا ہو رہا ہے یہ سب؟”

ضوفشاں بیگم کی گرج دار آواز گونجی۔

شاہ ویز کی گرفت ڈھیلی پڑی تو مہر نے اسے دھکا دے کر خود سے دور کیا۔

آنکھیں نمکین پانیوں سے تر تھیں۔

شاہ ویز کے چہرے پر ندامت کے کوئی آثار نہیں تھے بلکہ اس کے شیطانی دماغ میں ابھی بھی کچھ چل رہا تھا۔

شاہ ویز نے اپنی شرٹ کے بٹن توڑے پھر شرٹ کا گریبان بھی پھاڑ دیا۔

مہر نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔

شاہ فون کان سے لگاےُ اندر آیا تو نظر ضوفشاں بیگم پر پڑی جو ہکا بکا سی زینے چڑھ رہی تھیں۔

“یہ شریفوں کا گھر ہے کیا بیہودگی مچا رکھی ہے؟”

وہ چلاتی ہوئی چلتی آ رہیں تھیں۔

شاہ کو خطرے کی بو آئی تو ان کے پیچھے بھاگ کھڑا ہوا۔

ان دونوں کو دیکھ کر شاہ کے حواس جواب دے گئے۔

“بےغیرت شرم نہیں آئی تجھے دیور کے ساتھ یہ حرکتیں کرتے ہوئے؟”

ضوفشاں بیگم نے مہر کو بالوں سے دبوچ لیا۔

مہر کراہ کر انہیں دیکھنے لگی۔

شاہ خاموش شاہ ویز کو دیکھ رہا تھا جس کی حالت ابتر تھی اس کے برعکس مہر کا حلیہ بلکل ٹھیک تھا۔

“کیا ہوا ہے یہاں؟”

شاہ بولتا ہوا آگے آیا۔

ماریہ تماشائی بنی کھڑی تھی۔

“میں بتاتی ہوں تجھے شاہ یہ بے حیا بےغیرت لڑکی شاہ ویز کے ساتھ۔۔۔ اللہ معاف کرے۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا میری آواز سن کر اس نے شاہ ویز کو خود سے دور کر دیا ہاےُ کیسی کمینی عورت ہے یہ شاہ کہاں سے اٹھا کر لایا تھا تو اسے۔۔۔”

وہ چیخ چیخ کر شاہ کو بتا رہی تھیں۔

مہر نفی میں سر ہلاتی شاہ کو دیکھ رہی تھی۔

“مہر یہ سب کیا ہے؟”

شاہ بےیقینی کی کیفیت میں اسے دیکھنے لگا۔

شاہ ویز معصوم سی شکل بناےُ کھڑا تھا مانو اس پر ظلم ہوا ہو۔

“شاہ می میں نے کچھ نہیں کیا بلکہ شاہ ویز میرے ساتھ بدتمیزی کر رہا تھا۔۔۔”

مہر بولتی ہوئی اس کے پاس آئی۔

“بھابھی کیوں جھوٹ بول رہی ہیں آپ؟”

شاہ ویز رونے والی شکل بناےُ بولا۔

“بھائی میں آپ کو بتاتا ہوں کیا ہوا؟میں کمرے سے تیار ہو کر نکلا تو بھابھی نے مجھے بلایا تو پھر دیکھیں کیا حل کیا ہے میرا۔۔۔”

شاہ ویز نے آنسو بہاتے بات ادھوری چھوڑ دی۔

“ہاےُ میرا بچہ۔۔۔”

ضوفشاں بیگم اسے سینے سے لگاتی ہوئیں بولیں۔

“شاہ نہیں یہ سب جھوٹ ہے میں نے کچھ بھی نہیں کیا یقین کریں میرا۔ شاہ ویز آیا تھا میرے پاس میں تو۔۔۔۔”

شاہ کے تھپڑ نے مہر کو چپ کروا دیا۔

مہر منہ پر ہاتھ رکھے شکوہ کناں نظروں سے شاہ کو دیکھنے لگی۔

سیاہ بادل آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے۔

گھٹائیں چھا رہی تھیں۔

بجلیاں چمک رہی تھیں۔

ہوائیں رخ بدل رہی تھیں۔

نیلا آسمان سیاہ بادلوں سے پوشیدہ ہو چکا تھا۔

مہر کی آنکھوں میں بےیقینی تھی۔

“میں نے تمہیں عزت دی تمہاری خاطر سب سے لڑتا رہا اور تم نے یہ صلہ دیا ہے مجھے مہر؟”

شاہ اسے بازوؤں سے پکڑتا ہوا جھنجھوڑنے لگا۔

مہر کرب سے اسے دیکھنے لگی۔

مہر نے منہ پر قفل لگا لیے۔

آنسوؤں پر وہ قفل نہیں لگا سکتی تھی سو وہ بہتے ہوۓ اپنی داستان بیاں کر رہے تھے اگر کوئی انہیں سمجھنے والا ہوتا۔

“میں تو پہلے ہی کہتی تھی ایسی بےغیرت گھر نہیں بساتی ان کو سر پر بٹھاؤ تو جوتیاں مارتی ہیں دیکھ لے اب شاہ۔۔۔”ضوفشاں بیگم تاسف سے بولیں۔

“تم نے ایک بار نہیں سوچا مجھ پر کیا گزرے گی؟”

شاہ کے لہجے میں چوٹ تھی۔

وہ ٹوٹ رہا تھا بکھر رہا تھا لیکن خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی سعی کر رہا تھا۔

مہر نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔

خاموش سر جھکاےُ ان کی گالیاں سنتی رہی۔

شاہ ویز بھی بول رہا تھا اس کے کردار پر نجانے کیسے کیسے بھتان لگاےُ جا رہے تھے لیکن مہر سن نہیں رہی تھی۔

شاید اس میں سننے کی سکت باقی نہ رہی تھی۔

وہ ان سب کے بیچ تو کھڑی تھی لیکن شاید اندر سے مر چکی تھی۔

اس کی روح پر وار کیا گیا تھا اور ایسا وار تھا کہ جس کے بعد حیات ممکن نہیں۔

“ایسے لچھن شریفوں کے نہیں ہوتے مجھے تو اول روز سے ہی یہ کھٹکتی تھی۔۔۔”

ضوفشاں بیگم کہاں خاموش رہنے والی تھیں۔

“شاہ اس بےغیرت کو میرے گھر سے نکال دے ورنہ میں خود اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر کر دوں گی خود بےحیائی پھیلا کر میرے معصوم بچے پر الزام تراشی کر رہی ہے یہ شاہ۔۔۔”

ضوفشاں بیگم چلا رہیں تھیں۔

دکھ بڑھتا جا رہا تھا۔

کرب غصے میں تبدیل ہوتا جا رہا تھا۔

شاہ کے چہرے پر چٹانوں کی سی سختی تھی۔

مہر کا ہاتھ پکڑا اور چلنے لگا۔

مہر اس کے ساتھ چلتی جا رہی تھی۔

شاہ تقریباً اسے گھسیٹ رہا تھا۔

ماریہ کا چہرہ کھل اٹھا۔

ضوفشاں بیگم شاہ ویز کو دیکھتی اثبات میں سر ہلانے لگیں۔

شاہ حویلی کے گیٹ پر آ گیا۔

چوکیدار نے اسے دیکھ کر گیٹ وا کر دیا۔

“میں نے تمہیں کہا تھا جس دن تم نے مجھ سے بےوفائی کی میں تمہیں اپنی زندگی سے نکال دوں گا۔ یاد ہے؟۔۔”

شاہ اس کا چہرہ اوپر کرتا آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔

مہر کی آنکھیں کرب سے آہ و پکار کر رہیں تھیں۔

شاہ نے اسے باہر دھکا دے دیا۔

مہر لڑکھڑائی بروقت اس نے گیٹ کو تھام لیا ورنہ گر جاتی۔

اس وقت وہ یہ بھی بھول گیا کہ وہ اس کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔ اس کی کوکھ میں ایک معصوم جان پل رہی ہے۔

آسمان بھی شاید اس کے غم میں برابر کا شریک تھا۔

بوندیں پیاسی زمین پر گرنے لگیں۔

زمین کی پیاس بجھنے لگی تھی۔

مہر سمت کا تعین کئے بنا چلنے لگی۔

بارش کی بوندیں مہر کو بھگونے لگی تھیں۔

اس کے چہرے پر آنسو تھے یا بارش کے قطرے اب معلوم نہیں ہو رہا تھا۔

مہر اپنے بے جان وجود کو گھسیٹ رہی تھی۔

دل تو چاہ رہا تھا پھر سے خود کو ختم کرنے کی کوشش کی جاےُ لیکن پھر اس جان کا خیال عود آیا جو اس کے اندر سانس لے رہی ہے۔

مہر خاموش تھی اس کے آنسو اس کا درد بیان کر رہے تھے۔

اس کے آنسو اس کے کردار کی گواہی دے رہے تھے۔

دوپٹہ ڈھلک کر نیچے گر گیا۔

مہر جھکی اور دوپٹہ اٹھا کر خود کے گرد لپیٹ کر اپنا آپ چھپا لیا۔

اس ظالم دنیا میں تن و تنہا وہ کہاں جاتی۔

ایسے میں کوئی بھی اسے سہارا نہیں دینے والا تھا۔

مہر استہزائیہ ہنسی۔

“شاہ آخر آپ بھی ان مردوں جیسے ہی نکلے نہ اگر بیوی پر یقین ہی نہیں ہوتا تو پھر اسے ساتھ کیوں رکھتے ہیں اس عزت افزائی کے لئے؟ یوں دھکے مار کر باہر پھینکنے کے لئے؟

ایک لمحے میں آپ نے فیصلہ کر لیا میری آنکھوں میں بھی آپ کو سچائی دکھائی نہیں دی شاہ؟”

مہر سسکتی ہوئی زمین پر بیٹھ گئی۔

“کیا قصور تھا میرا بتائیں صرف یہ کہ میں کوٹھے سے آئی ہوں جبکہ میں اپنی مرضی سے بھی نہیں گئی تھی شاہ۔ خود سے محبت کروا کے اپنی محبت کا عادی بنا کر آپ نے مجھے اپنے دل سے اپنے گھر سے باہر نکال پھینکا۔ کیسے کر دیا آپ نے یہ شاہ کیسے؟”

مہر بلکتی ہوئی بولتی جا رہی تھی۔

دکھ ایسا تھا کہ تکلیف کا حساب لگانا ممکن نہیں تھا۔

جب دل کو چیر دیا جاےُ تو تکلیف اس حساب نہیں لگایا جا سکتا اس کے لئے سائنس نے کوئی آلہ دریافت نہیں کیا۔

یہ سیاہ بادل بھی مہر کے ہمراہ رو رہے تھے۔

تیز بارش کی بوندیں ہر شے کو تر کر رہی تھیں۔

اندھیری سیاہ رات میں مہر کا بے جان وجود پڑا تھا۔

مہر گھٹنوں پر سر رکھے سسک رہی تھی تڑپ رہی تھی لیکن اس کی آہ و زاری سننے والا کوئی نہیں تھا۔

“شاہ آپ کو میں نے اپنا سہارا بنایا تھا آج آپ ہی نے مجھے بے سہارا کر دیا۔ بس اتنا ہی بھروسہ تھا مجھ پر۔ اتنا کمزور تھا آپ کا یقین یہ بھی نہیں سوچا میں ہمارے بچے کو لے کر کہاں جاؤں گی۔۔۔”

مہر اس تاریک اور اداس رات کا حصہ لگ رہی تھی۔

خاموشی میں مہر کی سسکیاں اس کی پکار گونج رہی تھی لیکن افسوس اس کے لئے کوئی نہیں تھا۔

“شاہ آپ نے ایک بار بھی ہمارے بچے کے بارے میں نہیں سوچا جس کے لئے آپ دیوانے تھے آج اسے بھی خود سے دور کر دیا میرا نہ سہی اپنے بچے کا ہی خیال کر لیتے میں کیسے اس ننھی جان کو پال سکوں گی نہ ہاتھ میں پیسے ہیں نہ سر پر چھت۔ آپ نے مجھے بے یار و مددگار چھوڑ دیا شاہ چھوڑ دیا آپ نے مجھے۔۔۔”

چار سو تکلیف ہی تکلیف تھی۔

“اگر یہی کرنا تھا تو مجھے وہیں رہنے دیتے اتنی تکلیف مجھے ان مردوں کی گندی نگاہوں سے نہیں ہوتی تھی جتنی تکلیف آپ نے دی ہے جس کرب میں آپ نے مجھے مبتلا کیا ہے میں کیسے برداشت کروں کہاں سے اتنی ہمت اتنا حوصلہ لاؤں میں۔مجھے بیچ راہ میں چھوڑ دیا آپ نے شاہ۔۔۔”

مہر کا جسم کپکپانے لگا تھا۔

حواس بحال ہوۓ تو سردی کا احساس ہونے لگا۔

احساسات تو منجمد ہو چکے تھے اب یہ مٹی کا جسم بھی منجمد ہونے لگا تھا۔

سرد ہوا کے جھونکے بوندوں کے سنگ مہر سے آ کر ٹکرا رہے تھے۔

اس کے اپنے اندر جل تھل کا موسم چل رہا تھا۔

اندر باہر برسات ہو رہی تھی۔

شاہ مرے مرے قدم اٹھاتا اندر آیا۔

ضوفشاں بیگم شاہ ویز کے بال ٹھیک کر رہیں تھیں۔

“پھینک آےُ ہو اس گندگی کو؟”

ضوفشاں بیگم حقارت سے بولیں۔

شاہ اثبات میں سر ہلاتا چلنے لگا۔

کسی خیال کے تحت رکا۔

“بابا سائیں کو آگاہ کر دیجیے گا میں جا رہا ہوں۔۔۔”

شاہ جیب سے چابی نکالتا ہوا بولا۔

“ایسے خراب موسم میں کہاں جا رہے ہو؟”

وہ پریشانی سے گویا ہوئیں۔

کمال کا انصاف ہے نہ وہ جو اپنے سنگ ایک جان کو لئے جی رہی تھی اس کی فکر نہیں تھی کہ وہ در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہو گی اور جو گاڑی گھمانے جا رہا تھا اس کی فکر ستانے لگی تھی۔

“فلحال مجھے کسی سے بات نہیں کرنی بہتر ہوگا مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں۔۔۔”

شاہ ان کا ہاتھ جھٹکتا ہوا باہر نکل گیا۔

“ہاےُ میرا بچہ پھر سے اسی تکلیف سے گزر رہا ہے۔۔۔”

ضوفشاں بیگم آہ بھرتی ہوئیں بولیں۔

“امی شکر کریں اس مہر سے جان چھوٹ گئی۔۔۔”

ماریہ نے اب اپنی زبان کھولی۔

شاہ گاڑی میں بیٹھا اور حویلی سے باہر نکل آیا۔

تاریک رات میں تیزی سے برستی بارش منظر کو دھندلا رہی تھی۔

کب سے ضبط کئے آنسوؤں کو شاہ نے بہنے دیا۔

سنسان ویران راستے اس تاریک رات کی مانند اندھیرے میں ڈوبے ہوۓ تھے۔

شاہ نے بریک لگا کر گاڑی روک دی۔

شاہ کا سر نفی میں حرکت کر رہا تھا۔

“ہر بار میرے ساتھ ہی کیوں؟ مجھے کیوں دھوکہ ملتا ہے کیا کمی تھی میرے پیار میں؟ پہلے ایسا ہوا میں نے قسمت سمجھ کر قبول کر لیا لیکن اب؟ اب کیوں؟ کیا مجھے خوش رہنے کا حق حاصل نہیں؟ میں اپنی زندگی کو پرسکون انداز میں نہیں گزار سکتا کیا؟ دھوکہ فریب بس یہی رہ گیا ہے دنیا میں۔۔۔”

شاہ کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا۔

دل بھی رو رہا تھا

بلکہ خون کے آنسو کہنا زیادہ بہتر ہے۔

شاہ کی آنکھوں میں دکھائی دیتا کرب,اس کی تکلیف, اس کو ملنے والی اذیت کی عکاسی کر رہا تھا۔

“ہمیشہ میرے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے؟”

شاہ متواتر آنسوؤں شاہ کی شرٹ کو تر کر رہے تھے۔

وہ ہذیانی انداز میں بولتا جا رہا تھا۔

سر نفی میں ہل رہا تھا۔

شاہ نے سسکتے ہوۓ سر ہاتھوں میں تھام لیا۔

غم غصے میں تبدیل ہو رہا تھا۔

شاہ نے اپنے بال مٹھی میں جکڑ لیے۔

“ہار گیا میں۔۔۔”

شاہ کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا۔

وہ تکلیف سے دوچار ہو کر باہر دیکھنے لگا۔جب تکلیف کا ازالہ نہ ہو سکا تو شاہ نے گاڑی سٹارٹ کر دی۔

شاہ فل سپیڈ پر گاڑی چلانے لگا۔

عجیب دیوانہ پن تھا وہ خود بھی نا آشنا تھا اپنے اندر سے۔

آنکھوں میں دکھائی دے رہا تھا مستقل ایک نہ ختم ہونے والا کرب۔

وہ گاڑی دوڑاتا جا رہا تھا شاید کہیں دور جا کر اسے سکون مل جاتا۔

****////////****

“آمنہ آج صبح بھائی کا فون آیا تھا مجھے۔ پتہ ہے وہ کیا کہہ رہے تھے؟”

حرم آمنہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔

“کیا؟”

آمنہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔

“وہ کہہ رہے تھے کہ میں اب ہاسٹل میں نہیں رہوں گی۔۔۔”

حرم سپاٹ انداز میں بولی۔

“پھر کہاں رہو گی؟”

آمنہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔

“یار میری بھابھی کی بہن ہے نہ وہ یہاں شہر میں جاب کر رہی ہے تو بھائی بول رہے تھے اس کے ساتھ رہوں گی میں۔۔۔”

“تو وہ کہاں رہتی ہے؟”

آمنہ آبرو اچکا کر بولی۔

“شاید رینٹ پر گھر ہے لیکن بھائی کے دوست ہیں ان کے فیملی نیچے پورشن میں رہتی ہے اور وہ اوپر اسی لئے مجھے بھی وہیں بھیجنے کا سوچ رہے۔۔۔”

حرم تفصیل سے آگاہ کرنے لگی۔

“اووہ اچھا میں تو تمہیں بہت مس کروں گی۔۔۔”

آمنہ افسردگی سے بولی۔

“کوئی بات نہیں۔ہم یونی میں تو ایک ساتھ ہی ہوں گے نہ؟”

حرم ہلکا سا مسکراتی ہوئی بولی۔

“یار ویسے ذوناش کافی عجیب نہیں ہو گئی؟”

آمنہ اس کے رویے کا نوٹس لینے کے باعث بولی۔

“ہاں مجھے بھی لگتا ہے کبھی کبھی ایسی باتیں کرتی ہے سمجھ ہی نہیں آتیں۔۔۔”

حرم مایوسی سے بولی۔

“حرم تم ازلان پر نظر رکھا کرو کل ذوناش کو میں نے دیکھا تھا ازلان کے ساتھ۔۔۔”

آمنہ اردگرد دیکھتی رازداری سے بولی۔

“اچھا چلو کوئی نہیں۔۔۔”

حرم لاپرواہی سے بولی۔

حرم اور آمنہ گھاس پر بیٹھی تھیں۔

ازلان ان کے سامنے سے آتا دکھائی دیا۔

ازلان کی نظر حرم کی کلائی پر گئی جہاں سفید پٹی سے زخم پوشیدہ کیا گیا تھا۔

ازلان کی آنکھوں میں دکھ کے ساےُ تھے۔

حرم ہلکے پھلکے انداز میں آمنہ سے باتیں کر رہی تھی۔

ازلان کا دل اسے مجبور کر رہا تھا حرم سے بات کرنے پر لیکن شرمندگی عود آتی۔

“آؤ کلاس میں چلتے ہیں۔۔۔”

آمنہ کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔

حرم نے ایک نظر ازلان پر ڈالی اور اس کی مخالف سمت قدم بڑھ دئیے۔

ازلان جو ابھی سوچ رہا تھا حرم کو جاتا دیکھ کر افسردہ ہو گیا۔