577.9K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tawaif Episode 31

Tawaif by Hamna Tanveer

شاہ ویز منہ پر ہاتھ رکھے چہرہ جھکاےُ ہوۓ تھا۔

ضوفشاں بیگم کی زبان کنگ ہو گئی۔

“امی میں عافیہ سے نکاح کروں گا اور یہ ماریہ اپنے گھر جاےُ گی۔اسے بھی سبق ملنا چائیے کہ جو دوسروں کے گھر تباہ کرتے ہیں ان کا اپنا گھر بھی سلامت نہیں رہتا۔۔۔”

شہریار ماریہ کو دیکھتا طیش میں بول رہا تھا۔

“نہیں شہریار پلیز ایسا مت کریں مجھے اپنی غلطی کا احساس ہے میں سب سے معافی مانگ لو گی لیکن پلیز مجھے چھوڑیں مت۔۔۔”

ماریہ اس کے قدموں میں گر گئی۔

شہریار نے نخوت سے سر جھٹکا۔

“جاؤ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔”

خاموشی میں شہریار کی آواز گونج رہی تھی۔

“شہریار نہیں پلیز ایسا مت کریں۔۔۔”

ماریہ تڑپ کر کھڑی ہو گئی۔

“میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔”

شہریار ماریہ کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔

“شہریار پلیز نہیں چپ ہو جائیں میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔”

ماریہ اس کے سامنے گڑگڑا رہی تھی۔

“طلاق دیتا ہوں۔۔۔”

شہریار کے لبوں سے یہ الفاظ ادا ہوۓ اور ماریہ خاموش ہو گئی۔

خالی خالی نظروں سے وہ شہریار کو دیکھنے لگی۔

پل بھر میں وہ محرم سے نامحرم ہو گیا تھا۔

سب خاموش تماشائی بنے ہوۓ تھے۔

ماریہ اجنبی نظروں سے سب کو دیکھ رہی تھی۔

سب پرایا پرایا لگنے لگا تھا۔

شہریار بابا سائیں کی جانب بڑھنے لگا۔

“بابا سائیں میرا ارادہ ماریہ کو طلاق دینے کا نہیں تھا لیکن اس عورت نے میرے بھائی کی خوشیاں چھین لیں انہیں اذیت میں مبتلا کیا اس کے بعد میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا کہ میں ایک ایسی فساد پھیلانے ولی عورت کے ساتھ رہوں۔۔۔”

شہریار انہیں دیکھتا ہوا کرب سے بولا۔

“ہم سمجھ سکتے ہیں اور تم نے بلکل درست فیصلہ لیا ہمارے شاہ کے مقدر میں لکھی خوشیاں ان دونوں نے چھینی ہیں۔۔۔”

وہ حلق کے بل چلاےُ۔

شاہ ویز گھبرا کر دو قدم دور ہو گیا۔

ماریہ تو سکتے کی کیفیت میں تھی کون کیا بول رہا ہے وہ سننے کی سکت نہیں رکھتی تھی۔

شاہ تلخی سے مسکراتا زینے اترنے لگا۔

شہریار نے چہرہ موڑ کر اسے دیکھا۔

“بھائی مجھے معاف کر دیں میری بیوی نے۔۔۔۔”

شہریار ہاتھ جوڑے بول رہا تھا۔

شاہ نے اس کے ہاتھ پکڑ لیے۔

“نہیں شہریار اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں۔‍۔۔”

شاہ نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا۔

شاہ افسوس سے اپنے بھائی کو دیکھ رہا تھا۔

اپنے خون سے اپنے بھائی سے یہ سب وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

وہ چلتا ہوا شاہ ویز کے عین مقابل آ گیا۔

ایک زوردار تھپڑ شاہ ویز کے منہ پر مارا۔

آنکھوں میں لہو دوڑ رہا تھا۔

شاہ نے پے در پے دو چار مکے اس پر برساےُ۔

کمال صاحب نے اسے شاہ ویز سے لگا کیا۔

“بابا سائیں میرا آج سے صرف ایک ہی بھائی ہے اور میں اپنی بات دہرانے کا روادار نہیں آپ بھی سن لیں امی۔۔۔”

بولتے بولتے شاہ کی آواز بلند ہو گئی۔

شاہ ویز تڑپ کر اسے دیکھنے لگا۔

ضوفشاں بیگم کے پاس بولنے کو کچھ بچا ہی نہیں تھا سو وہ خاموش ہی رہیں۔

“ہمیں تمہارے فیصلے سے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔”

وہ شاہ ویز کو گھورتے ہوۓ بولے۔

شاہ مزید بنا کچھ بولے باہر کی جانب قدم بڑھانے لگا۔

“بھائی پلیز ایسا مت کریں۔میں اس دن سے پچھتا رہا ہوں پلیز مجھے معاف کر دیں۔۔۔”

شاہ ویز اسکے سامنے آتا ہوا بولا۔

شاہ نے ایک سلگتی نگاہ اس پر ڈالی۔

“تم میری محبت کے قابل ہی نہیں تھے۔۔۔”

شاہ ہاتھ سے اسے پرے کرتا ہوا بولا۔

“اب اگر مہر مل بھی گئی تو اسے یہاں لانے کی غلطی نہیں کروں گا میں۔۔۔”

شاہ چلاتا ہوا باہر نکل گیا۔

شاہ ویز نم آنکھوں سے اسے جاتا دیکھنے لگا۔

شاہ ضبط کرتا باہر نکل گیا۔

“دیکھ لیے اپنی اولاد کے کارنامے جس پر تم بھتان لگاتی نہیں تھکتی تھی وہ بیچاری بےقصور تھی جس طرح تم سب نے اسے گھر سے بے دخل کر دیا تھا نکالنا تو تم سب کو چائیے۔۔۔”

کمال صاحب ضوفشاں بیگم کو دیکھتے ہوۓ برس پڑے۔

“مجھے تو جو نظر آیا وہی میں نے کہا۔۔۔”

ضوفشاں بیگم منمنائی۔

“ہمیشہ آنکھوں دیکھا سچ نہیں ہوتا لیکن افسوس کہ ہمیشہ اسی پر یقین کیا جاتا جو دکھائی دے رہا ہوتا بعض اوقات حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے دیکھ لیں اب خود ہی۔۔۔”

شہریار تاسف سے بولا۔

“اب ہمارے پاس کوئی سفارش لے کر مت آنا نہ اپنی نہ اپنے اس بیٹے کی۔۔۔۔”

کمال صاحب برہمی سے بولے۔

“آپ بھی مجھے برا کہہ رہے ہیں؟”

وہ چہرہ اٹھا کر بولیں۔

“جو غلط ہے میں اسی کو کہہ رہا۔۔۔”

کہہ کر وہ رکے نہیں اور کمرے کی جانب چل دئیے۔

“تم اپنا سامان باندھو اور چلتی بنو یہاں سے۔۔۔”

شہریار حقارت بھری نظر ڈالتا چلا گیا۔

“کسی سے منہ ملانے کے قابل نہیں چھوڑا تم دونوں نے۔۔۔”

وہ شاہ ویز کے سر پر تھپڑ مارتی ہوئی بولیں۔

“کیا رقابت تھی تم دونوں کو؟ میں بھی اس کے خلاف تھی لیکن اپنے بچے کی خوشیاں اجاڑنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔”

وہ دونوں کو گھورتی ہوئیں بول رہی تھیں۔

دونوں مجرموں نے چپ سادھ لی تھی۔

جب جرم آشکار ہو جاےُ تو مجرم خاموش ہی ہو جاتا ہے۔

****/////////****

مہر ہاسپٹل کے ایک کمرے میں بے سدھ بیڈ پر لیٹی تھی۔

بائیں ہاتھ پر لگی ڈرپ چل رہی تھی۔

چہرے پر نقاہت کے آثار نمایاں تھے۔

وہ خاصی علیل دکھائی دے رہی تھی۔

اللہ نے مہر کو رحمت سے نوازا تھا لیکن ابھی تک مہر ہوش میں نہیں آئی تھی۔

ڈاکٹر اس کا معائنہ کر رہے تھے۔

“ان کے ہزبینڈ کو کہہ دو کہ وہ اب مل سکتے ہیں۔۔۔”

ڈاکٹر نرس کو دیکھتی ہوئی بولی۔

نرس اثبات میں سر ہلاتی باہر نکل گئی۔

اگلے لمحے دروازہ کھلا اور شاہ اندر آتا دکھائی دیا۔

“اب کیسی طبیعت ہے میری مسز کی؟”

شاہ بےچینی سے بولا۔

“اب ان کی طبیعت قدرے سنبھل چکی ہے کوئی خطرہ والی بات نہیں۔۔۔”

وہ پیشہ ورانہ مسکراہٹ لئے بولی۔

شاہ سانس خارج کرتا مہر کو دیکھنے لگا۔

جس کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔

ڈاکٹر مہر کو دیکھتی باہر نکل گئی۔

نرس نے ان کی بیٹی شاہ کے حوالے کر دی۔

شاہ نم آنکھوں سے اس ننھی سی جان کو دیکھنے لگا۔

اولاد کیسی نعمت ہے یہ اس وقت کوئی شاہ سے پوچھتا۔

شاہ نے اس کے روئی جیسے رخساروں پر بوسے دئیے۔

مہر جیسی گڑیا خاصی کمزور تھی۔

شاہ کی آنکھیں اشک بار تھیں۔

یہ خوشی کے آنسو تھے جو دم بخود نکلتے آ رہے تھے۔

شاہ اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ پکڑ کر چومنے لگا۔

اسے یہ جان اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھی۔

شاہ کی محبت نے اس کی نیند میں خلل پیدا کیا تو وہ رونے لگی۔

شاہ اسے چپ کروانے کی سعی کرنے لگا۔

اس کے لئے یہ تجربہ بلکل نیا تھا۔

کچھ دیر تو وہ روتی رہی لیکن پھر آنکھیں بند کر کے سو گئی۔

شاہ کے لب مسکرانے لگے۔

“میری جان سو گئی۔۔۔”

شاہ اس کے چہرہ پر بوسہ دیتا ہوا بولا۔

مہر کا خیال آیا تو اس کی جانب چلنے لگا جو شور کے باعث ہوش میں آ چکی تھی۔

شاہ چلتا ہوا اس کے پاس آ رکا۔

“تم ٹھیک ہو؟”

شاہ کے چہرے پر فکر نمایاں تھی۔

مہر مسکراتی ہوئی اثبات میں سر ہلانے لگی۔

مہر کہنیوں کے بل اٹھنے کی سعی کرنے لگی۔

“ایک منٹ۔۔۔”

شاہ اسے رکنے کا اشارہ کرتا تکیہ سیدھا کرنے لگا۔

ایک ہاتھ میں بچی کو اٹھا رکھا تھا تو دوسرے ہاتھ سے مہر کا ہاتھ پکڑا اور مہر ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔

مہر کی آنکھوں میں نمی تھی۔

مہر نے شاہ کے سامنے ہاتھ پھیلاےُ۔

شاہ نے مسکراتے ہوۓ بچی مہر کو دے دی۔

مہر نے اشک بہاتے اسے سینے سے لگا لیا۔

اس جان کو دنیا میں لانے کے لئے مہر نے بہت کچھ برداشت کیا تھا۔

خاموشی میں مہر کی سسکیاں سنائی دے رہی تھیں۔

شاہ نے اسے روکا نہیں۔

شاہ نے مہر کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

مہر سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔

سرخ اشک بہاتی آنکھیں۔

“شاہ دیکھیں اللہ نے ہماری سن لی۔۔۔”

مہر بازوؤں میں سوتی بچی کو دیکھتی ہوئی بولی۔

“بلکل اللہ نے ہمارا دامن خوشیوں سے بھر دیا۔۔۔”

شاہ کا دل خوشی سے بےقابو ہو رہا تھا۔

چہرہ اس کا بھی آنسوؤں سے تر تھا۔

“بس بہت رو لیا۔۔۔”

شاہ اس کے سامنے بیٹھ کر آنسو چنتا ہوا بولا۔

مہر مسکرا کر اسے دیکھنے لگی۔

“ماناب شاہ ہماری جان۔۔۔”

مہر اس کا نام لیتی چہرے پر بوسہ دینے لگی۔

یہ نام مہر اور شاہ دونوں نے مل کر پسند کیا تھا۔

شاہ نے ماناب کو اپنی گود میں لے لیا۔

“مہر تم نہیں جانتی تم نے کتنی بڑی خوشی مجھے دی ہے میں ساری زندگی تمہارا مشکور رہوں گا۔۔۔”

شاہ ماناب کا ماتھا چومتا ہوا بولا۔

مہر محبت پاش نظروں سے اپنے محرم اور اپنی اولاد کو دیکھ رہی تھی۔

“مہر ایک بات میں نے تمہیں نہیں بتائی تھی۔۔۔”

شاہ کی نظریں ماناب پر تھیں۔

“کون سی بات؟”

مہر دھیرے سے بولی۔

“شفا میرے بچے کی ماں نہیں بننے والی تھی۔۔۔”

شاہ دانت پیستا ہوا بولا۔

“پھر کس کے بچے کی ماں بننے والی تھی وہ؟”

مہر متحیر سی اسے دیکھنے لگی۔

“برہان کے بچے کی۔۔۔”

شاہ نے گویا دھماکہ کیا۔

مہر کی زبان کنگ ہو گئی۔

“میں نے یہ بات کسی کو نہیں بتائی کیونکہ مجھے خود پر لعنت محسوس ہوتی ہے کہ میں کیسا مرد ہوں جو اتنا عرصہ اس سب سے بےخبر رہا لیکن تم میری محرم میری

ہم راز ہو اسی لئے تمہیں بتا رہا ہوں۔۔۔۔”

شاہ ضبط کرتا ہوا بول رہا تھا۔

“لیکن شاہ آپ کو کیسے معلوم ہوا؟”

مہر غمزدہ سی اسے دیکھ رہی تھی۔

“جب میں نے ان دونوں کو رنگے ہاتھوں پکڑا تب میں نے بنا سوچے شفا پر الزام لگا دیا کہ یہ بچہ میرا نہیں کیونکہ جس حال میں مجھے وہ دونوں ملے تھے اس کے بعد میری جگہ اگر کوئی اور بھی ہوتا تو یہی کہتا تب شفا نے اعتراف کیا تھا اور اس دن شاہ کو لگا وہ سانس نہیں لے سکے گا۔میں نے شفا سے محبت کی تھی بے حد محبت لیکن وہ اس قابل ہی نہیں تھی۔۔۔”

شاہ سر جھٹکتا ہوا بولا۔

مہر تاسف سے اسے دیکھ رہی تھی۔

اگر اس نے زخم کھاےُ تھے تو شاہ بھی گھائل دل کے ساتھ جی رہا تھا۔

“لیکن میں شکرگزار ہوں اپنے رب کا جس نے مجھے تم جیسی بیوی دی۔۔۔”

شاہ نے مہر کی جانب چہرہ کیا۔

مہر کے لب مسکرانے لگے۔

“مجھے فخر ہے مہر کی تم میری بیوی ہو۔۔۔”

شاہ مہر کے دائیں ہاتھ پر اپنا دائیاں ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔

مہر نم آنکھوں سے مسکراتی اثبات میں سر ہلانے لگی۔

“دیکھو ہماری جان بلکل تمہارے جیسی ہے۔۔۔”

شاہ ماناب کو دیکھتا ہوا بولا۔

“لیکن مجھے لگتا ہے بال میرے جیسے نہیں۔۔۔”

مہر بولتی ہوئی ماناب کے سر سے ٹوپی ہٹانے لگی۔

“دیکھا! آپریشن تھیڑ میں ڈاکٹر نے مجھے بتایا تھا کہ اس کے بال میرے جیسے نہیں۔۔۔”

مہر مسکراتی ہوئی بول رہی تھی۔

“اگر بال بھی تمہارے جیسے ہوتے پھر بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا ہے تو ہم دونوں کی جان۔۔۔”

شاہ محبت پاش نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔

مہر نے مسکراتے ہوۓ سر تکیے ساتھ ٹکا دیا۔

“میں سوچ رہا ہوں اب حرم اور حرائمہ کو بھی لے آؤں؟”

شاہ مہر کو سوالیہ نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔

“جی لے آئیں حرم تو ناراض ہو گی آپ ساتھ ہی لے آتے۔۔۔”

مہر خفگی سے بولی۔

“میں نے سوچا سب سے پہلے ہم دونوں ملیں اپنی جان سے۔۔۔”

شاہ ماناب کی ناک دباتا ہوا بولا۔

ماناب جو سکون سے سو رہی تھی شاہ کی اس حرکت پر گلا پھاڑ پھاڑ کر رونے لگی۔

شاہ نے اس کے ایک دم چلانے پر آنکھیں بند کر لیں۔

“مجھے لگتا ہے یہ ہمیں بہت تنگ کرنے والی ہے۔۔۔”

شاہ اسے مہر کی جانب کرتا ہوا بولا۔

“رُولا کر اب مجھے پکڑا رہے ہیں؟”

مہر گھورتی ہوئی بولی۔

“میں تمہاری نند اور بہن کو لینے جا رہا ہوں نہ۔۔۔”

شاہ معصومیت سے بولا۔

مہر ماناب کو چپ کروانے لگی۔

شاہ حرم کا انتظار کر رہا تھا لیکن جب اس کی آمد کے کوئی آثار دکھائی نہ دئیے تو گاڑی پارک کرکے اندر کی جانب چل دیا۔

“آج جلدی کیوں جانا ہے تم نے؟”

ازلان اس کے سامنے آتا ہوا بولا۔

“میرے بھائی کی بیٹی پیدا ہوئی ہے مجھے دیکھنے جانا ہے۔۔۔”

حرم اشتیاق سے بولی۔

“مجھے تو کبھی دیکھنے نہیں آئی تم؟”

ازلان گھورتا ہوا آگے کو ہوا۔

حرم پیشانی پر بل ڈالے پیچھے ہو گئی۔

“تمہیں کیوں دیکھنے آؤں میں؟”

حرم سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔

“پہلے مجھے بتاؤ تم مجھے کیوں نہیں دیکھنے آئی کبھی؟”

ازلان خطرناک تیور لئے اس کی جانب بڑھنے لگا۔

“ی یہ کیا بات ہوئی بھلا۔۔۔”

حرم الٹے قدم اٹھاتی ہوئی بولی۔

“تمہارے لئے وہ بچی مجھ سے زیادہ اہم ہے بتاؤ؟”

ازلان برہمی سے بولا۔

حرم ناسمجھی سے اسے دیکھ رہی تھی۔

“ازلان مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔۔۔”

حرم الجھ کر بولی۔

“میں نے تمہیں الجبرا کا سوال دے دیا ہے جو تمہیں سمجھ نہیں آ رہا؟”

ازلان چہرے پر خفگی طاری کرتا ہوا بولا۔

“نہیں لیکن تمہیں کیوں دیکھنے آؤں؟ میرا مطلب تمہیں تو روز یونی میں دیکھتی ہوں اسے تو ابھی دیکھا ہی نہیں ہے۔۔۔”

حرم اس کی خونخوار نظریں دیکھ کر سنبھل کر بولی۔

“بھائی کی بیٹی ہے نہ تمہاری تو نہیں۔۔۔”

ازلان منہ بناتا ہوا بولا۔

حرم اس کی بات پر سر جھکا گئی۔

ازلان کو اس کا جھجھکنا شرمانا اچھا لگتا تھا۔

اس کا یہی روپ دیکھنے کے عوض تو وہ اسے تنگ کرتا تھا۔

ازلان کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ نے احاطہ کر لیا۔

جسے اس نے بروقت چھپا لیا۔

“اگر تم ہاسپٹل گئی تو یاد رکھنا میں وہاں آ کر تمہیں الیکٹرک شاک لگا دوں گا۔۔۔”

ازلان مصنوعی خفگی لئے بولا۔

حرم منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔

“ازلان تم اتنی آرام سے کہہ رہے ہو مجھے شاک لگا دو گے۔۔۔”

حرم متحیر سی بولی۔

“تو کیا بھنگڑا ڈال کر کہوں؟”

ازلان خفگی سے بولا۔

“یہ کیا بات ہوئی ازلان؟”

حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔

“تم مجھے ہر وقت تنگ کرتی رہتی ہو تھوڑا سا میرا بھی حق بنتا یے تم سے بدلنے لینے کا۔۔۔”

ازلان اسی کے انداز میں بولا۔

“میں جان بوجھ کر تو نہیں کرتی نہ۔۔۔”

حرم منمنائی۔

“میں جانتا ہوں سب خود بخود ہو جاتا ہے ہیں نہ؟”

ازلان گھورتا ہوا بولا۔

” بھائی باہر انتظار کر رہے ہوں گے مجھے جانے دو اب۔۔۔”

حرم مظلومیت سے بولی۔

“اگر ہاسپٹل گئی تو سوچ لو۔۔۔”

ازلان کہتا ہوا پیچھے ہو گیا۔

“الیکٹرک شاک۔۔۔”

حرم نے زیر لب دہرایا۔

“تم ایسا نہیں کرو گے نہ؟”

حرم التجائیہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔

“میں ایسا ضرور کروں گا۔۔۔”

ازلان جلانے والی مسکراہٹ لئے بولا۔

حرم منہ بسورتی چلنے لگی۔

ذوناش کلس کر ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔

“نجانے اس حرم میں ایسا کیا ہے جو ازلان کو اس کے سوا کوئی نظر ہی نہیں آتا۔۔۔”

ذوناش کی آنکھوں سے نفرت چھلک رہی تھی۔

“کاش میں تمہیں مار سکتی حرم آئی سوئیر تمہاری لاش بھی نہ ملتی۔۔۔”

ذوناش کی نظر ازلان سے جا ٹکرائی۔

“ازلان پہلے تو تم مجھے اتنا پسند کرتے تھے اور اب پاگلوں کی طرح اس بیوقوف حرم کے پیچھے پڑے رہتے ہو۔۔۔”

وہ تلملا کر بولی۔

دل میں آگ بھڑک رہی تھی، آنکھوں میں نفرت کے شعلے اٹھ رہے تھے۔

جو کسی انہونی کا پیش خیمہ تھے۔

“چھوڑو گی تو میں بھی نہیں تمہیں ازلان شاہ یاد رکھنا۔۔۔”

ذوناش ہنکار بھرتی چلنے لگی۔