Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 28
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 28
Tawaif by Hamna Tanveer
لمحے بیت رہے تھے دن ہفتوں میں تبدیل ہو رہے تھے۔
شاہ حرم کے ہاسٹل میں کھڑا تھا اور حرم اوپر اپنا سامان نکال رہی تھی۔
“اب تم واپس نہیں آؤ گی؟”
انشرح اداسی سے بولی۔
“نہیں بھائی نے کہا ہے اب ہاسٹل میں نہیں رہنا۔۔۔”
حرم بےبس دکھائی دے رہی تھی۔
“چلو کوئی نہیں یونی میں ملاقات ہو جاےُ گی۔۔۔”
انشرح دھیرے سے مسکرائی ہوئی بولی۔
حرم سب سے مل کر نکل گئی۔
دروازے پر دستک دی تو آئمہ باہر نکلی۔
“تم سچ میں جا رہی ہو؟”
آئمہ بے یقینی سے اس کی تیاری دیکھتی ہوئی بولی۔
“ہاں بھائی آےُ ہیں مجھے لینے۔۔۔”
حرم اداسی سے بولی۔
“اگر یہ چلی گئی تو بیگم صاحبہ کے پاس کیسے لے کر جاؤں گی؟”
آئمہ متفکر سی سوچنے لگی۔
“حرم مت جاؤ پلیز اپنے بھائی کو انکار کر دو۔۔۔”
آئمہ اس کے ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی۔
“میں بھائی کو انکار نہیں کر سکتی۔ اس لئے جانا ہو گا۔۔۔”
حرم شانے اچکاتی اس کے گلے لگ گئی۔
بغل گیر ہو کر حرم زینے اترنے لگی۔
آئمہ کو شکست دکھائی دے رہی تھی۔
“شٹ۔۔۔”
دروازے پر مکہ مارتی وہ اندر چلی گئی۔
“اتنی دیر کیوں لگا دی؟”
شاہ جانچتی نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔
“بھائی وہ مل رہی تھی سب سے۔۔۔”
حرم گھبراتی ہوئی بولی۔
“ملنے میں اتنا وقت لگتا ہے؟”
شاہ تیوری چڑھا کر بولا۔
“سوری بھائی۔۔۔”
حرم سر جھکا کر بولی۔
شاہ ہنکار بھرتا چلنے لگا۔
اس دن کے بعد سے شاہ ضرورت سے زیادہ تلخ اور سرد مہر ہو گیا تھا۔
“تم جاؤ مجھے حویلی جانا ہے کوئی مسئلہ ہو تو کال کر دینا۔۔۔”
شاہ سپاٹ انداز میں بولا۔
حرم سر ہلاتی باہر نکل گئی۔
شاہ نے گئیر لگایا اور گاڑی بھگانے لگا۔
“بابا سائیں کمرے میں ہیں؟”
شاہ ملازمہ کو مخاطب کرتا ہوا بولا۔
“جی صاحب کمرے میں ہیں۔۔۔”
شاہ سانس خارج کرتا چلنے لگا۔
“شکر ہے تم نے بھی شکل دکھائی۔۔۔”
ضوفشاں بیگم خفگی سے بولیں۔
“میں بابا سائیں سے بات کرنے آیا ہوں۔۔۔”
شاہ بے رخی سے کہتا چلنے لگا۔
ضوفشاں بیگم ہکا بکا سی شاہ کو جاتا دیکھنے لگیں۔
شاہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا کمرے میں داخل ہو گیا۔
“آپ نے بلایا تھا؟”
شاہ کہتا ہوا صوفے پر براجمان ہو گیا۔
“برخوردار گھر میں دکھائی دیا کرو ہمیشہ فون کر کے بلانا پڑتا ہے, اگر آتے بھی ہو تو دیر رات جب سب سو جاتے۔۔۔”
وہ خفگی سے بولے۔
“آپ جانتے ہیں بابا سائیں میں کیوں بھاگتا ہوں گھر سے۔ بار بار وہ سب یاد آتا ہے مجھے۔۔۔”
شاہ جھنجھلا کر بولا۔
“اچھا چلو جیسے تمہیں مناسب لگے۔ ہم نے حرم کے رشتے کے متعلق بات کرنے کی غرض سے بلایا تھا تمہیں۔۔۔”
وہ شاہ کو دیکھتے ہوۓ بولے۔
“جی بتائیں؟”
شاہ فون جیب میں ڈال کر ان کی جانب متوجہ ہوا۔
“فرقان کے لئے حرم کا ہاتھ مانگ رہے ہیں سوچا تم سے مشورہ کر لیں۔۔۔”
وہ چہرے پر سنجیدگی سجاےُ بولے۔
“امی زیادہ بہتر جانتی ہوں گی ان کے گھر کا ماحول باقی لڑکا تو ٹھیک ہے۔ اگر امی بھی مطمئن ہیں تو جواب دے دیں انہیں۔۔۔”
شاہ کے لہجے میں ٹھراؤ تھا۔
وہ بغور شاہ کو دیکھنے لگے۔
اس تھوڑے سے عرصے میں شاہ پہلے سے منفرد شاہ بن چکا تھا۔
شاہ بنا کچھ بولے کمرے سے باہر نکل گیا۔
شاہ چلتا ہوا باہر نکل آیا۔
یخ بستہ ہوائیں جسم کو منجمد کر رہیں تھیں۔
شاہ چہرہ اٹھا کر فلک کو دیکھنے لگا۔
مہتاب کی مانند وہ بھی تنہا کھڑا تھا۔
“اس گھر میں آ کر رہا سہا سکون بھی غرق ہو جاتا ہے۔۔۔”
شاہ لمبا سانس کھینچتا ہوا بولا۔
فون کی بیل نے شاہ کی سوچ کے محور کو توڑا۔
“ہاں عدیل میں تمہیں ہی کال کرنے والا تھا۔۔۔”
شاہ دو انگلیوں سے پیشانی مسلتا ہوا بولا۔
“پھر کیا کہا بابا سائیں نے؟”
عدیل کا لہجہ پرتجسس تھا۔
“میں نے تمہیں پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ ہم باہر شادی نہیں کرتے لڑکوں کی تو پھر بھی کر لیتے ہیں لیکن لڑکیوں کی ناممکن۔ اپنی لڑکی غیروں میں کبھی نہیں دیتے ہم۔مجھے معلوم تھا بابا سائیں کا جواب۔۔۔”
عدیل لب بھینچ کر اسکرین کو دیکھنے لگا۔
“چل ٹھیک ہے کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔”
وہ افسردگی سے بولا۔
شاہ نے بنا کچھ کہے فون بند کر دیا۔
****/////////****
بیگم صاحبہ یہ ایک لڑکی آئی ہے۔۔۔”
بانی ایک لڑکی کا ہاتھ پکڑے کھڑی تھی۔
زلیخا بیگم نے سر ہلایا تو بانی نے اس لڑکی کو آگے بھیج دیا۔
“کیا نام ہے تمہارا؟”
زلیخا سر تا پیر اس کا جائزہ لیتی ہوئی بولی۔
“عجوہ۔۔۔”
وہ پراعتماد ہو کر بولی۔
“کہاں سے آئی ہے تو؟”
وہ آنکھیں چھوٹے کئے بولیں۔
“راواں گاؤں سے۔۔۔”
زلیخا بیگم اثبات میں سر ہلانے لگیں۔
“یہاں آنے کی وجہ؟”
وہ سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولیں۔
“مجھے پیسے کمانے ہیں۔اچھے اچھے کپڑے پہننے ہیں۔۔۔”
وہ حسرت سے بولی۔
“تو کیا لگتا ہے یہاں نوٹوں کی بارش ہوتی ہے؟ کام کرنا پڑتا ہے۔ میرے ایک اشارے پر سر جھکاتے ہیں یہاں سارے۔۔۔”
زلیخا بیگم جانچتی نظروں سے دیکھنے لگیں۔
“جیسے آپ کہیں گیں میں بھی ویسے ہی کروں گی۔ آپ کے پر حکم پر سر جھکاؤں گی۔۔۔”
زلیخا بیگم اثبات میں سر ہلاتیں بانی کو دیکھنے لگی۔
“اسے لے جاؤ اور کام سمجھا دو۔۔۔”
وہ بیزار سی بولیں مانو احسان کر رہیں ہوں۔
****////////****
“کہاں لے جا رہی ہو مجھے؟”
حرم آمنہ کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی جو کہ اس کی آنکھوں پر تھے۔
“تم دو منٹ خاموش نہیں رہ سکتی کیا؟”
آمنہ کی بجاےُ انشرح خفگی سے بولی۔
حرم منہ بناےُ ان کے ہمراہ چلنے لگی۔
ان میں ایک ذوناش تھی جو چہرے پر اکتاہٹ سجاےُ چل رہی تھی۔
ازلان جو کہ سیڑھیوں میں بیٹھا تھا ایک اچٹتی نظر ان سب پر ڈالی۔
کلاس میں پہنچ کر آمنہ نے حرم کی آنکھوں سے ہاتھ ہٹا دئیے۔
حرم خوشگوار حیرت میں مبتلا سامنے پڑے کیک کو دیکھ رہی تھی۔
“ہیپی برتھ ڈے۔۔۔”
وہ یک زباں ہو کر بولیں۔
حرم مسرور سی سب کو دیکھنے لگی۔
“چلو اب جلدی کرو ورنہ میرے پیٹ میں جو چوہے دوڑ رہے ہیں نہ خودکشی کر لیں گے۔۔۔” انشرح بےصبری سے بولی۔
حرم نے چھری اٹھائی اور کیک کاٹنے لگی۔
“حرم اب ایسا کرو یہ کیک ازلان کے منہ پر لگاؤ۔۔۔”
انشرح شرارت سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“تم پاگل ہو کیا؟”
حرم کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
“تم ڈرتی ہو کیا ازلان ہے؟”
آمنہ اسے گھورتی ہوئی بولی۔
“نہیں لیکن اچھا نہیں لگتا۔۔۔”
حرم مظلومیت سے بولی۔
“بیوقوف یہی تو اچھا لگتا ہے اب اگر تم نے کیک نہیں لگایا تو ہم سے بات مت کرنا۔۔۔”
انشرح سینے پر بازو باندھتی رخ موڑ کر کھڑی ہو گئ۔
“ہاں سہی کہہ رہی ہے انشرح۔۔۔”
آمنہ بھی منہ بناتی ہوئی بولی۔
حرم شش و پنج میں مبتلا انہیں دیکھنے لگی۔
ذوناش جل بھن کر کوئلہ ہو رہی تھی۔
“ٹھیک ہے۔۔۔”
حرم کچھ دیر سوچنے کے بعد بولی۔
“انشرح اور آمنہ کا چہرہ کھل اٹھا۔
حرم نے ایک پیس کاٹ کر ہاتھ میں اٹھایا اور باہر نکل گئی۔
ازلان فون کی اسکرین پر نظریں جماےُ بیٹھا تھا۔
حرم کلمہ پڑھتی اس کی جانب چلنے لگی۔
ازلان پہلی سیڑھی پر بیٹھا تھا۔
حرم نے اس کے عقب سے ہاتھ آگے کئے اور دونوں رخسار پر کیک لگا دیا۔
اپنے گال پر لمس محسوس کر کے ازلان اپنا ہاتھ رخسار پر لے گیا۔
ہتھیلی پر کریم دیکھ کر پیشانی پر بل پڑ گئے۔
حرم نے واپسی کی جانب قدم بڑھا دئیے۔
“حرم کی بچی۔۔۔”
ازلان بولتا ہوا کھڑا ہو گیا۔
حرم چہرہ موڑ کر اسے دیکھنے لگے جو خونخوار نظروں سے گھورتا ہوا آ رہا تھا۔
اسی اثنا میں حرم سامنے دیوار سے ٹکرا گئی۔
“ہاےُ میرا سر۔۔۔”
حرم چکراتے سر کو تھامتی ہوئی بولی۔
ازلان بمشکل ہنسی روکتا اس کے پاس آیا۔
“دیکھا غلط کیا تو سزا بھی مل گئی۔۔۔”
ازلان اسے اپنی جانب موڑتا ہوا بولا۔
حرم نم آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔
ازلان کو اس پر ترس بھی آ رہا تھا اور ہنسی بھی۔
ازلان لب دباےُ حرم کا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگا۔
“اب تم کہاں لے جا رہے ہو مجھے؟”
حرم خوفزدہ سی بولی۔
“جو کارنامہ تم نے سرانجام دیا ہے اب اس کا بدلہ بھی تو لوں گا نہ؟”
ازلان گھوری سے نوازتا ہوا بولا۔
حرم کا حلق خشک ہو گیا۔
“ازلان سچ میں, میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔۔۔”
حرم معصومیت سے بولی۔
“ہاں ہاں مجھے معلوم ہے تم تو کچھ بھی نہیں کرتی سب کچھ میں ہی کرتا ہوں ہیں نہ؟”
ازلان اسے دیوار کے ساتھ لگاتا ہوا بولا۔
حرم لب کاٹتی کبھی ازلان کو دیکھتی تو کبھی اپنے پاؤں کو۔
ازلان اسے گہری نظروں کے حصار میں لئے ہوۓ تھا۔
وہ اس کے ایک ایک نقش کو اپنی آنکھوں میں بسا رہا تھا۔
حرم اس کی نظروں سے کنفیوز ہو رہی تھی۔
“ازلان؟”
حرم سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“شش۔۔۔”
ازلان اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتا حرم کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔
حرم آنکھیں جھپکاتی اسے دیکھنے لگی۔
ازلان اپنا چہرہ حرم کے چہرے کے قریب لے آیا۔
حرم کی دھڑکنوں میں ارتعاش پیدا ہو گیا۔
دل مانو ابھی اچھل کر حلق سے باہر نکل آےُ گا۔
دھڑکنیں عجیب ہی لے پر دھڑکنے لگی تھیں۔
حرم کو اپنی دھڑکنوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔
ازلان نے اپنا بائیاں رخسار حرم کے بائیں رخسار سے رگڑا۔
حرم آنکھیں بند کئے سانس روکے ہوۓ تھی۔
ازلان پیچھے ہوا تو حرم کے بال رخسار کو بوسے دینے لگے۔
ازلان نے رخ موڑا اور دائیاں رخسار حرم کے دائیں رخسار سے رگڑنے لگا۔
حرم کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔
ازلان کی بڑھتی نزدیکیاں اسے پگھلا رہیں تھیں۔
حرم کے دونوں رخساروں پر ازلان اپنا لمس چھوڑ چکا تھا۔
حرم کے گال سرخ ہو رہے تھے۔
یہ احساس اس کے لئے نیا تھا۔
ازلان نے ہاتھ بڑھا کے حرم کے چہرے پر بوسہ دیتی شرارتی لٹوں کو کان کے پیچھے کیا۔
“اب تم سے بدلہ لینے کا سوچتا ہوں۔۔۔”
ازلان دو قدم اس کی مخالف سمت میں اٹھاتا ہوا بولا۔
حرم کا رکا ہوا سانس بحال ہوا۔
“ابھی بدلہ لینا باقی ہے؟”
حرم کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“بلکل ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں۔۔۔”
ازلان معصومیت سے بولا۔
حرم منہ بناتی اسے دیکھنے لگی۔
“میں سوچ رہا ہوں تمہیں چلتی گاڑی سے تھوڑا سا پھینک دوں۔۔۔”
ازلان شریر لہجے میں بولا۔
“تھوڑا سا کیسے پھینکتے ہیں؟”
حرم کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
“جب تمہیں پھینکوں گا تو معلوم ہو جاےُ گا۔۔۔”
ازلان اس کا ہاتھ پکڑ کر مسکراتے ہوۓ چلنے لگا۔
حرم متحیر سی اس کے ہمراہ چلنے لگی۔
“ازلان باہر سب ہوں گے میرا ہاتھ تو چھوڑ دوں۔۔۔”
حرم پریشانی سے گویا ہوئی۔
“اپنی منکوحہ کا ہاتھ پکڑا ہے چوری نہیں کی جو ڈروں گا میں۔۔۔”
ازلان کہتا ہوا زینے اترنے لگا۔
حرم لب کاٹتی چلتی جا رہی تھی۔
“یہ کس کی گاڑی ہے؟”
حرم پارکنگ میں آتی ہوئی بولی۔
“لوہے کی۔۔۔”
ازلان معصومیت سے کہتا دروازہ کھولنے لگا۔
حرم مسکراتی ہوئی اسے دیکھنے لگی۔
“بیٹھ بھی جاؤ اب۔۔۔”
ازلان گھور کر بولا۔
“کیا؟ میں تمہارے ساتھ جاؤں گی؟”
حرم ششدر سی بولی۔
“نہیں میں پولیس والوں کو بلاتا ہوں ان کے ساتھ جانا۔۔۔”
ازلان گھورتا ہوا بولا۔
“میں نہیں بیٹھ رہی۔۔۔”
حرم نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔
“میڈم یہ بس نہیں ہے جس میں تم کھڑی ہو کر چلی جاؤ گی۔۔۔”
ازلان اس کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔
“میرا مطلب ہے کہ میں نہیں جا سکتی تمہارے ساتھ۔۔۔”
حرم ہچکچاتی ہوئی بولی۔
“کیا؟ کیا کہا تم نے؟”
ازلان گھورتا ہوا اس کی جانب بڑھنے لگا۔
“می میں کہہ رہی ہوں ٹائم ہو رہا ہے میں نے گھر جانا یے۔۔۔”
حرم رونے والی شکل بناتی ہوئی بولی۔
“تم کہہ رہی ہو کہ میں تمہیں گاڑی میں بٹھاؤں؟”
ازلان آبرو اچکا کر بولا۔
“میں نے کب بولا؟”
حرم اچھل پڑی۔
“اسی لئے تو بیٹھ نہیں رہی تمہیں اپنے منہ سے کہتے ہوۓ عجیب لگ رہا ہو گا ہیں نہ؟”
ازلان محظوظ ہوتا ہوا بولا۔
“نہ نہیں میں کیوں ایسا سوچوں گی میں بیٹھ رہی ہوں دیکھو۔۔۔”
حرم عجلت میں اندر بیٹھ گئی۔
ازلان مسکراتا ہوا اپنی جانب آ گیا۔
دروازہ کھول کر اندر بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔
حرم متفکر سی کبھی ازلان کو دیکھتی تو کبھی کھڑکی سے پار۔
تنہا ویران سڑکوں پر گاڑی بھاگنے لگی۔
ازلان نے چہرہ موڑ کر حرم کو دیکھا جو سر جھکاےُ اپنے ہاتھوں کو گھورتی رہی تھی۔
“آج دل کر رہا ہے تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤں۔۔۔”
ازلان کہتا ہوا سامنے سڑک کو دیکھنے لگا۔
“کہاں؟”
حرم نے بے چینی سے پہلو بدلا۔
“جہاں میرا دل کرے۔۔۔”
ازلان لب دباےُ مسکرا رہا تھا۔
“می مجھے گھر چھوڑ دو پلیز۔بھائی کو معلوم ہو گیا تو جان سے مار دیں گے مجھے۔۔۔”
حرم خوف کے زیر اثر بولی۔
“میرا دل چاہتا ہے تمہیں لے کر کہیں گم ہو جاؤں۔۔۔”
ازلان جذبات سے مغلوب ہو کر بول رہا تھا۔
حرم خاموشی سے ہاتھ مسلنے لگی۔
“تمہیں محبت چلتی پھرتی دکھائی نہیں دیتی کیا؟”
ازلان اس کی جانب چہرہ موڑتا ہوا بولا۔
“ازلان جو تم سوچ رہے ہو ناممکن ہے۔۔۔”
حرم آہستگی سے بولی۔
ازلان تڑپ کر اسے دیکھنے لگا۔
گاڑی شہر کی گہما گہمی میں داخل ہو چکی تھی۔
مصروف شاہراہوں پر وہ رواں دواں تھے۔
ٹریفک کے باعث ازلان نے گاڑی روک دی۔
حرم چہرہ موڑے شیشے سے پار دیکھنے لگی۔
ازلان نے ہاتھ بڑھا کر گانا چلا دیا۔
نظر چاہتی ہے دیدار کرنا
یہ دل چاہتا ہے تمہیں پیار کرنا
تمہارے خیالوں میں ڈوبے رہے ہم
ہے کیا حال دل کا یہ کیسے کہیں ہم
مہکنے لگے گا بدن یہ تمہارا
ہم آنکھوں سے ایسی شرارت کریں گے
تمہارے سوا کچھ نہ چاہت کریں گے
کہ جب تک جئیے گے محبت کریں گے
حرم ازلان کو دیکھنے سے اجتناب برت رہی تھی۔
ازلان خود کو بےبس محسوس کر رہا تھا۔
حرم کی نظریں شاہ کی نظروں سے چار ہوئیں تو فوراً چہرہ موڑ لیا۔ منہ کے آگے چادر کر لی۔
چہرے پر خوف کی لکریں نمایاں تھیں۔
“کیا ہوا؟”
ازلان اس کی اس حرکت پر حیران رہ گیا۔
“ازلان و وہ بھائی نے مجھے دیکھ لیا۔۔۔”
حرم کی حالت کسی مجرم سے کم نہ تھی جو جرم آشکار ہونے پر خوفزدہ دکھائی دے رہا تھا۔
“کہاں ہیں؟”
ازلان آگے ہوتا دیکھنے کی سعی کرنے لگا۔
“پاگل ہو کیا بھائی نے تمہیں دیکھ لیا تو زیادہ مسئلہ ہو جاےُ گا۔۔۔”
حرم اس کی بازو پکڑتی ہوئی بولی۔
ایسی تشویشناک صورت میں بھی ازلان کے لبوں پر حرم کی بے دھیانی کے باعث مسکراہٹ بکھر گئی۔
ازلان نے گاڑی سٹارٹ کی اور سپیڈ بڑھانے لگا۔
حرم کے ہاتھ کپکپانے لگے تھے۔
خوف کی ایک سرد لہر اس پر سرایت کر گئی۔
****///////****
“یار برہان بھائی کو دیکھ کر مجھے گلٹ فیل ہوتا ہے۔۔۔”
شاہ ویز ندامت سے بولا۔
“کیوں؟”
برہان بے چینی سے پہلو بدل کر بولا۔
“یار بھائی بلکہ ٹوٹ گئے ہیں میری وجہ سے۔ اب تو وہ پہلے سے بھی زیادہ بیزار دکھائی دیتے ہیں۔۔۔”
شاہ ویز افسردگی سے بولا۔
“تو مہر کے متعلق معلوم نہیں ہوا کچھ؟”
برہان تجسس سے بولا۔
“نہیں۔کوئی نہیں جانتا مہر کہاں گئی ہے؟ بھائی نے بھی ڈھونڈنے کی کوشش کی اپنے بچے کے باعث لیکن کوئی استفادہ نہیں ہوا۔ نجانے مہر کہاں چلی گئی ہے زندہ بھی ہے یا نہیں کوئی نہیں جانتا۔۔۔”
شاہ ویز مایوسی سے بولا۔
