Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 23
Tawaif by Hamna Tanveer
“اس معصوم بلی کو تو قابو کرنا پڑے گا۔۔۔”
ازلان لب دباےُ حرم کو دیکھتا ہوا بولا۔
“ازلان یہاں کیسے؟”
حرم سوچتی ہوئی چلنے لگی۔
“امی وہ لڑکا کون ہے؟”
حرم معصومیت سے ازلان کی جانب اشارہ کرتی ہوئی بولی جو سٹیج پر کھڑا قہقہے لگا رہا تھا۔
“ہاےُ ہاےُ بے شرم کیسے ماں سے لڑکے کا پوچھ رہی ہے شرم نہیں آتی تجھے؟”
ضوفشاں بیگم حرم کی کمر پر دھپ لگاتی ہوئ بولیں۔
“نہیں میرا مطلب بھائی کے ولیمے میں تو دکھائی نہیں دیا۔۔۔”
حرم کی نگاہیں ازلان کو حصار میں لئے ہوۓ تھیں۔
“کیوں؟ تو ہر مرد کو دیکھتی ہے جو تجھے دکھائی نہیں دیا؟”
وہ کڑے تیور لئے بولیں۔
“امی آپ نہ کہاں سے کہاں لے جاتی ہیں دیکھیں ذرا کیسے سب کے ساتھ فری ہو رہا ہے میں تو اسی لئے پوچھ رہی تھی۔۔۔”
حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔
“اگر یاد ہو تو یہ تمہارے چچا کا بیٹا ہے جن سے ہم بات نہیں کرتے۔ اتنے سالوں سے کوئی شادی نہیں آئی اس لئے پہلی بار دیکھ رہی ہے اسے۔۔۔”
وہ ہنکار بھرتی ہوئی بولیں۔
حرم کا حلق خشک ہو گیا۔
دل آیا بھی تو کہاں جہاں سے تمام مراسم ترک تھے۔
“امی یہ ازلان چچا کا بیٹا ہے؟”
حرم ششدر سی بولی۔
“میں نے کون سا انگریزی میں بولا تھا جو سمجھ نہیں آیا تو بھول گئی ہے جب چھوٹی تھی ازلان کے ساتھ کھیلتی تھی اور وہ جو بڑا برہان ہے اس کے ساتھ بھی بہت پیار تھا۔۔۔”
وہ حسرت سے بولیں۔
“پھر کیوں رشتہ توڑ لیا؟”
حرم تجسس سے بولی۔
“جائیداد پر تنازعہ ہوا تھا کوئی پھر شاہ نے بولا ان سے کوئی تعلق نہیں رکھنا تو کمال صاحب نے ختم کر دیا۔۔۔”
وہ تاسف سے بولیں۔
“مصطفی بھائی نے؟”
حرم نے خوفزدہ ہو کر زیر لب دہرایا۔
“ہاں۔ اب تو جوان ہو گیا یے تیری ہی عمر کا ہے۔۔۔”
وہ ازلان کو دیکھتی ہوئیں بولیں۔
حرم رونے والی شکل بناےُ ازلان کو دیکھنے لگی۔
“کیا بنے گا ہمارا؟”
حرم منہ میں بڑبڑائی۔
“کیا بولے جا رہی ہے منہ میں؟”
وہ حرم کے سر پر چت لگاتی ہوئیں بولیں۔
حرم سر مسلتی انہیں دیکھنے لگی۔
“وہ بھابھی کہاں ہے تیری؟”
لہجے میں حقارت، چہرے ہر ناگواری۔
“بھابھی واش روم گئی ہیں۔۔۔”
حرم فون پر انگلیاں چلاتی ہوئی بولی۔
“واش روم تو بہانہ ہے کسی کے پیچھے گئی ہو گی میں شاہ کو بولتی ہوں نظر رکھے اس پر۔۔۔”
وہ بولتی ہوئی کھڑی ہو گئیں۔
“بھابھی؟”
شاہ ویز کی آواز پر مہر نے چہرہ موڑا۔
“جی؟”
مہر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
شاہ ویز نے پہلی مرتبہ اسے مخاطب کیا تھا۔
شاہ ویز ہاتھ مسلتا اسے دیکھنے لگا۔
گہری بھوری آنکھیں جن میں ڈوب جانے کو دل چاہے، اس پر گھنی پلکوں کی باڑ، روشن چہرہ گلابی لب۔
شاہ ویز اس کے ایک ایک نقش کو دیکھ رہا تھا۔
“کوئی کام تھا آپ کو؟”
مہر اس کی نظروں سے پزل ہو رہی تھی۔
شاہ ویز ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہا تھا۔
“بھائی بلا رہے تھے آپ کو۔۔۔”
شاہ ویز سنبھل کر بولا۔
مہر اثبات میں سر ہلاتی چلنے لگی۔
ایک عرصہ وہ مردوں کی حوس پرست نگاہوں کو جھیلتی آئی تھی شاہ ویز کی نظروں کا مفہوم کیسے نہ سمجھتی۔
دل کی کیفیت عجیب ہو رہی تھی۔
کسی انہونی کی صدا سنائی دے رہی تھی۔
“شاہ مجھے گھر لے جائیں۔۔۔”
مہر شاہ کے پاس آتی ہوئی بولی جو ضوفشاں بیگم کے ہمراہ کھڑا تھا۔
“کیا ہوا تم ٹھیک ہو؟”
شاہ فکرمندی سے اس کی جانب متوجہ ہوا۔
“طبیعت عجیب ہو رہی ہے گھٹن ہو رہی ہے یہاں مجھے گھر لے جائیں۔۔۔”
مہر کا چہرہ اترا ہوا تھا۔
“نخرے دیکھو ذرا! ابھی تو آےُ ہیں اور تمہیں واپس لے جائیں۔۔۔”
ضوفشاں بیگم خفگی سے بولیں۔
مہر شاہ کو دیکھنے لگی۔
“امی کیا ہو گیا ہے آپ کو؟ آپ جانتی نہیں مہر کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی پھر بھی؟ حد ہے۔۔۔”
وہ سلگتی نگاہوں سے دیکھتا ہوا بولا۔
“بس بیوی کے سامنے ماں کو جھڑکنا یہی رہ گیا تھا۔۔۔”
وہ منہ بناتی چل دیں۔
“تم امی کی باتوں پر دھیان مت دیا کرو۔۔۔”
شاہ اس کے ہاتھ تھامتا ہوا بولا۔
مہر نے مسکرانے کی سعی کی لیکن مسکرا نہ سکی۔
“میں پھوپھو سے مل کر آتا ہوں پھر چلتے ہیں۔۔۔”
شاہ اس کے ہاتھ پر زور دیتا ہوا بولا۔
مہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“حرم جلدی سے اندر الیاس بھائی کے کمرے میں آؤ۔۔۔”
حرم ازلان کا میسج پڑھ کر شش و پنج میں مبتلا ہو گئی۔
“اگر کسی نے دیکھ لیا پھر؟”
وہ انگلی دانتوں تلے دباےُ سوچنے لگی۔
دل ملنے پر مجبور کر رہا تھا جبکہ دماغ تاویلیں دے کر خاموش کروا رہا تھا۔
کچھ سوچ کر حرم کھڑی ہو گئی۔
ماریہ اپنی امی کے ساتھ تھی۔
سب رسم میں مصروف تھے۔ شاہ اور مہر بھی دکھائی نہ دے رہے تھے۔
حرم نے موقع کو غنیمت جانا اور دبے پیر اندر کی جانب چلنے لگی۔
ہاتھ کپکپا رہے تھے لیکن پھر بھی وہ کمرے میں آ گئی۔
سامنے ازلان کا مسکراتا چہرہ دکھائی دیا۔
“اتنی عجلت میں کیوں بلایا مجھے؟”
حرم آہستہ آہستہ بول رہی تھی۔
“تم مجھ سے بات کر رہی ہو؟”
ازلان اس کی جانب جھکتا ہوا بولا۔
“ظاہر ہے۔تمہارے علاوہ یہاں کون ہے جس سے کروں گی؟”
حرم پیچھے ہوتی ہوئی بولی۔
“تو پھر اونچا بولو ذرا ایسا لگ رہا ہے اپنے آپ سے باتیں کر رہی۔۔۔”
ازلان خفگی سے دیکھتا اس کی جانب بڑھنے لگا۔
“می میں کہ رہی تھی کیوں بلایا ہے مجھے؟”
حرم اس کے قریب آنے سے گھبرا رہی تھی۔
“میں نے سوچا ایک تفصیلی ملاقات ہو جاےُ اپنی کزن سے۔۔۔”
ازلان اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔
“ازلان میرا ہاتھ چھوڑ دو کوئی آ جاےُ گا۔۔۔”
حرم لب کاٹتی گھبراتی ہوئی بولی۔
“اچھا ہاتھ پکڑنے پر ڈر لگ رہا ہے میرے ساتھ اس کمرے میں ہو اس بات سے ڈر نہیں لگ رہا؟”
ازلان لب دباےُ مسکرا رہا تھا۔
“تم پہلے سے جانتے تھے؟”
حرم اپنا ہاتھ چھڑواتی ہوئی بولی۔
“نہیں مجھ پر آج ہی آشکار ہوئی یہ حقیقت کہ میں تمہارے ہی گھر آتا تھا۔۔۔”
ازلان محظوظ ہوتا ہوا بولا۔
“اچھا! مجھے بھی آج ہی معلوم ہوا۔۔۔”
حرم تاسف سے بولی۔
“مجھے پتہ کیا لگ رہا ہے؟”
ازلان منہ پر انگلی رکھتا ہوا بولا۔
“کیا؟”
حرم کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔
ہاتھ ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھا۔
“یہ دو خاندانوں کی لڑائی میں ہمارا رشتہ قربان ہو جاےُ گا۔۔۔”
ازلان کہہ کر اسے دیکھنے لگا۔
حرم کے چہرے کے تاثرات بدلے لگے تجسس کی جگہ افسردگی نے لے لی۔
“اچھا اب میں جاؤ؟”
حرم چہرہ جھکا کر بولی۔
“ایسے کیسے جاؤں؟”
ازلان اسے اپنی جانب کھینچتا ہوا بولا۔
“پھر کیسے جاؤں؟”
حرم کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“مجھے چاول دے کر جاؤ۔۔”
ازلان شرارت سے بولا۔
“کون سے چاول؟”
حرم پریشانی گویا ہوئی۔
“اپنے بھائی کے ولیمے کے۔۔۔”
ازلان خفا خفا سا بولا۔
“ازلان میں اتنے پرانے چاول کہاں سے لاؤں؟”
حرم صدمے سے بولی۔
ازلان لب دباےُ مسکرا رہا تھا۔
“یہ تمہارا مسئلہ ہے۔۔”
وہ شانے اچکاتا ہوا بولا۔
حرم پریشانی سے کبھی ازلان کو دیکھتی تو کبھی دروازے کو۔
“ازلان جانے دو نہ؟”
حرم التجائیہ انداز میں بولی۔
“ایسے تو نہیں جانے دوں گا۔۔۔”
ازلان لطف لیتا ہوا بولا۔
حرم منہ بناتی اپنا ہاتھ آزاد کروانے لگی۔
“پتہ ہے تمہارے آنے سے قبل میں کمرہ دیکھ رہا تھا بجلی کی ایک تار نظر آئی مجھے اس کے اوپر بلیک تار جو ہوتی ہے نہ وہ نہیں ہے میں سوچ رہا ہوں۔۔۔”
ازلان کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔
حرم کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔
“امی جی! تم مجھے کرنٹ لگانے والے ہو؟ ہاےُ اسی لئے مجھے بلایا؟ ازلان ایک چاول نہ دینے کے بدلے تم مجھے کرنٹ لگا دو گے؟”
حرم نان سٹاپ صدمے کی کیفیت میں شروع ہو گئی۔
ازلان نے دوسرا ہاتھ اس کے نازک لبوں پر رکھ دیا۔
حرم پوری آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگی۔
“تم ہمیشہ سے پاگل تھی یا مجھ سے ملنے کے بعد ہوئی ہو؟”
ازلان اس کے قریب ہوتا ہوا بولا۔
تحیر کی جگہ خفگی نے لے لی۔
“دل تو نہیں کر رہا کہ تم جاؤ۔۔۔”
ازلان کی آنکھوں میں ڈھیروں جذبے سنٹ آےُ۔
حرم کی آنکھوں میں التجا تھا۔
ازلان مزید اسے تنگ نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اس کا ہاتھ آزاد کیا اور منہ سے ہاتھ ہٹا کر فاصلے بڑھا گیا۔
“منہ پر ہاتھ رکھا تھا کیسے بولتی میں؟”
حرم ناراض سی بولتی باہر نکل گئی۔
ازلان بالوں میں ہاتھ پھیرتا مسکرانے لگا۔
“کچھ کچھ ہوتا ہے؟”
ازلان گنگنا ہوا باہر نکل آیا۔
مہر منہ دھو کر سنگھار میز کے سامنے کھڑی تھی جب عقب میں شاہ نمودار ہوا۔
“مہر کسی نے کچھ کہا ہے تمہیں؟”
شاہ بغور اس کا جائزہ لیتا ہوا بولا۔
“نہیں شاہ۔ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟”
مہر چوری پکڑے جانے کے ڈر سے نظریں ملانے سے اجتناب برت رہی تھی۔
“یہاں دیکھو؟”
شاہ مہر کو دونوں شانوں سے تھام کر اپنی جانب رخ موڑتا ہوا بولا۔
مہر کی نظریں جھکی ہوئیں تھیں۔
“مہر میں کچھ پوچھ رہا ہوں؟”
شاہ خفگی سے بولا۔
“کچھ نہیں شاہ بس ایسے ہی۔۔۔”
مہر نے اداسی سے کہتے ہوۓ سر اس کے سینے پر رکھ دیا۔
“مہر میرا بس چلے نہ تو سب کے منہ توڑ دوں۔ ایک لفظ بھی نہ بولنے دوں جو تمہارا دل دکھاتے ہیں۔۔۔”
شاہ تاسف سے بول رہا تھا۔
“نہیں شاہ۔ آپ اپنے فرض میں کوتاہی نہیں کر رہے۔ آپ جتنا میری خاطر سب سے لڑ رہے ہیں مجھے یقین نہیں آتا قسمت اس طرح مجھ پر مہربان ہو رہی ہے۔۔۔”
مہر کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی۔
“میں چاہتا ہوں تم خوش رہو۔ تمہیں وہ ہر خوشی دوں جس سے تم محروم رہی جو تمہارا حق ہے۔ پتہ ہے ڈاکٹر بتا رہی تھیں کہ تمہارا زیادہ سے زیادہ خیال رکھوں۔ تم دن بہ دن کمزور ہوتی جا رہی ہو۔ کس بات کی ٹینشن لیتی ہو بتاؤ مجھے؟”
شاہ اسے اپنے سامنے کرتا ہوا بولا۔
مہر کی آنکھیں چھلکنے کو بےتاب تھیں۔
“کچھ نہیں بس ایسے ہی۔۔۔”
مہر نے اسے ٹالنا چاہا۔
“ایک بات میں تمہیں بتا دوں مہر ساری دنیا بھی تمہارے خلاف ہو جاےُ گی نہ تو تم شاہ کو اپنے ہمراہ پاؤ گی چاہے کچھ بھی ہو جاےُ۔۔۔”
شاہ کا لہجہ پر اعتماد تھا۔
مہر دھیرے سے مسکرانے لگی۔
“میں جانتی ہوں۔۔۔”
مہر ہولے سے بولی۔
“بس پھر دوبارہ ٹینشن نہیں لینی کسی بھی بات کی۔۔۔”
شاہ اس کا رخسار تھپتھپاتا ہوا بولا۔
مہر اثبات میں سر ہلاتی بیڈ کی جانب چلنے لگی۔
****////////****
“میں نہیں جاؤں گی اس بےغیرت کے کمرے میں۔۔۔۔”
سنبل اپنا ہاتھ چھڑواتی ہوئی چلائی۔
بانی نے ایک زوردار تھپڑ اس کے گال کی زینت بنا دیا۔
سنبل منہ پر ہاتھ رکھے بانی کو دیکھنے لگی۔
“پیسے لینے ہیں نہ تو پھر جیسے کہ رہی ہوں ویسے کر۔۔۔”
بانی اس کے بال دبوچتی ہوئی بولی۔
“ٹھیک ہے پہلے مجھے پیسے دو پھر میں جاؤں گی۔۔۔”
سنبل کو جب کوئی فرار کی راہ دکھائی نہ دی تو ہتھیار ڈال دئیے۔
“پیسے کیا کرے گی تو یہیں پر رہنا ہے نہ تو جو چائیے بتا مل جاےُ گا۔۔۔۔”
بانی پیچھے ہوتی ہوئی بولی۔
وہ آنکھوں میں نمی لئے بانی کو دیکھنے لگی۔
“اللہ پوچھے گا تم لوگوں کو۔۔۔”
وہ کہتی ہوئی بانی کے ہمراہ چل دی۔
بانی کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تھی۔
****///////****
“کون ہے یہ لڑکی؟”
عافیہ فون سامنے کئے حلق کے بل چلائی۔
“کوئی نہیں ہے فضول میں اپنا دماغ مت چلایا کرو۔۔۔”
برہان اس کے ہاتھ سے فون کھینچتا ہوا بولا۔
“میں فضول میں دماغ نہ چلایا کرو تو تم بھی فضول میں ہاتھ مت مارا کرو۔۔۔”
وہ سلگتی نگاہوں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“کسی دن بہت بری مار کھاؤ گی تم۔۔۔”
برہان خطرناک تیور لئے آگے بڑھا۔
“اس سے زیادہ کیا برا کرو گے تم؟”
عافیہ اپنی بازو آگے کرتی ہوئی چلائی جہاں برہان نے گرم چمٹا داغا تھا۔
“اپنی سلامتی چاہتی ہو نہ تو اپنے کام سے کام رکھا کرو میرے معاملات میں مداخلت کی تو اس سے بدتر سلوک کروں گا۔۔۔”
برہان اس کا منہ دبوچتا ہوا بولا۔
“نہیں ڈرتی میں تمہاری دھمکیوں سے کیونکہ جتنا برا تم کر چکے ہو اس سے زیادہ برا نہیں کر سکتے۔۔۔”
عافیہ اس کا ہاتھ جھٹکتی ہوئی بولی۔
“دفعہ ہو جاؤ میری نظروں سے اپنی شکل مت دکھانا مجھے دوبارہ۔۔۔”
برہان اسے دھکا دیتا ہوا بولا۔
“ہاں تاکہ تم باہر جا کر لڑکیوں کے ساتھ چکر چلا سکو بس یہی کام آتا ہے نہ تمہیں؟”
عافیہ اس کے مقابل آتی ہوئی بولی۔
برہان دانت پیستا اسے دیکھنے لگا۔
“شرم نہیں آتی تمہیں دوسری لڑکیوں کے ساتھ رات گزارتے ہو اور لوگ مجھے طعنے دیتے ہیں کہ میری اولاد نہیں ہوتی مجھ میں ہی کمی ہو گی تبھی ہماری اولاد نہیں۔۔۔”
عافیہ روتی ہوئی بول رہی تھی۔
“تم سے رشتہ ازدواج ہی نہیں رکھنا چاہتا تو پھر اولاد کا طوق اپنے گلے میں کیوں ڈالوں میں؟”
برہان سفاکی سے بولا۔
“برہان آٹھ سال ہو گئے ہیں ہماری شادی کو اور آج بھی تمہارا وہی حال ہے جو اول روز تھا۔۔۔”
عافیہ تاسف سے بولیں۔
“کھانے کو پہننے کو مل رہا ہے نہ پھر کیا تکلیف ہے تمہیں؟ مجھے میری زندگی اپنے طریقے سے گزارنی ہے آئیندہ اگر میرا فون چیک کیا یا مجھ سے پوچھ گچھ کرنے کی سعی کی تو اسی وقت فارغ کر دوں گا۔۔۔۔”
برہان زہر اگلتا باہر نکل گیا۔
“ایسی زندگی سے تو بہتر ہے تم مجھے طلاق ہی دے دو۔۔۔”
عافیہ سسکتی ہوئی زمین پر بیٹھ گئی۔
****////////****
“شاہ نہیں آیا؟”
وہ حیرت سے بولیں۔
“نہیں۔مہر کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لئے وہ بھی گھر رک گیا۔۔۔”
ضوفشاں بیگم سرد مہری سے بولیں۔
“بھئی آج کل کی لڑکیاں تو شوہر کو اپنے پیچھے لگا لیتی ہیں۔ اور یہ مہر تو ہے بھی باہر کی نہ؟”
وہ ششدر سی بولیں۔
“ہاں باہر کی ہے۔میں ذرا بھابھی سے مل کر آئی۔۔۔”
ضوفشاں بیگم بہانہ بناتی چل دیں۔
حرم لب دباےُ گرد و نواح میں نظر دوڑا رہی تھی۔
“کہاں چھپ کر بیٹھے ہو؟”
حرم دانتوں تلے انگلی دباتی ہوئی بولی۔
بلآخر نظر اس ہمنشین سے مل ہی گئی۔
سیاہ پینٹ کوٹ میں ملبوس وہ معمول سے زیادہ ہینڈسم لگ رہا تھا۔
ازلان بالوں میں ہاتھ پھیرتا مسکرا رہا تھا۔
حرم بنا پلک جھپکے اسے دیکھ رہی تھی مانو اگر پلک جھپک لی تو وہ غائب ہو جاےُ گا۔
ازلان نے نگاہوں کا زاویہ موڑا تو نظروں کا تبادلہ ہوا۔
حرم مہرون کلر کا لباس زیب تن کئے ہوۓ تھی لائٹ سا میک اپ اسے دلکش بنا رہا تھا۔ وہ ذرا سا میک اپ کرتی اور مانو اس کی شکل ہی بدل جاتی۔
ازلان لب دباےُ اپنی معصوم بلی کو دیکھ رہا تھا۔
کچھ سوچ کر وہ حرم کی جانب چلنے لگا۔
حرم گڑبڑا کر دائیں بائیں دیکھنے لگی۔
سب رسم میں موجود تھے۔
کسی کو کسی کی خبر نہ تھی۔
حرم ایک کونے میں سب کی نظر سے بچ کر کھڑی تھی۔
“بھینس دکھاؤں تمہیں سچی مچی والی؟”
ازلان چلتا ہوا اس کے دائیں جانب آ رکا۔
حرم کا چہرہ سٹیج کی جانب تھا جبکہ ازلان کا چہرہ دروازے کی سمت تھا۔
