577.9K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tawaif Episode 34

Tawaif by Hamna Tanveer

“جو کرنا ہے کریں آپ کی مرضی۔۔۔”

مہر اس کا ہاتھ پیچھے کرتی ہوئی بولی۔

“مہر زبان سنبھال کر۔۔۔”

شاہ پیچ و تاب کھا کر بولا۔

“نہیں سنبھالی جاتی مجھ سے زبان۔جو غلط ہے میں بولوں گی۔۔۔”

مہر چہرہ موڑتی ہوئی بولی۔

“رہوں اپنی اس انا کے زعم میں۔۔۔”

شاہ بولتا ہوا باہر نکل گیا۔

مہر تاسف سے دروازے کو دیکھنے لگی۔

****/////////****

“میری معصوم بلی یہاں کیوں بیٹھی ہے؟”

ازلان گھاس پر بیٹھتا ہوا بولا۔

حرم خاموش گھاس کو گھورتی رہی۔

“میں تم سے بات کر رہا ہوں حرم۔۔۔”

ازلان تمس سے بولا۔

“ازلان فلحال میں بہت پریشان ہوں۔۔۔”

حرم اسے دیکھتی ہوئی بولی۔

“ہاں تو مجھ سے شئیر کرو نہ۔۔۔”

ازلان نرمی سے بولا۔

“بھائی نے کل مجھ سے پوچھا تھا تمہارے متعلق بھابھی بیچ میں آ گئیں لیکن میری وجہ سے ان کا جھگڑا ہو گیا۔۔۔”

حرم افسردگی سے بولی۔

“تمہیں کیسے پتہ ان کا جھگڑا ہوا؟ تمہارے سامنے ہوا تھا کیا؟”

ازلان حیرت سے بولا۔

“نہیں کمرے میں ہوا ہو گا کیونکہ بھائی رات چلے گئے تھے اور اب تک واپس نہیں آےُ جبکہ انہوں نے کہا تھا وہ اپنا فری ٹائم بھابھی کو دیں گے۔۔۔”

حرم کے چہرے پر اداسی کے ساےُ تھی۔

“اووہ تو مطلب پھر میں بھی اپنے گھر بات کروں؟”

ازلان سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔

“مصطفیٰ بھائی کبھی نہیں مانیں گے میں جانتی ہوں اس لئے کوئی فائدہ نہیں۔۔۔”

حرم مایوسی سے کہتی چلی گئی۔

ازلان اس کی پشت کو دیکھنے لگا۔

****/////////****

شاہ کمرے میں آیا تو مہر آئینے کے سامنے کھڑی بال بنا رہی تھی۔

لب دھیرے سے مسکرانے لگے۔

شاہ مہر پر نظر ڈالتا ماناب کے پاس بیٹھ گیا۔

مہر جلدی سے بیڈ کے پاس آئی اور شاہ سے قبل ماناب کو اٹھا لیا۔

مہر کی اس حرکت پر شاہ کی آنکھوں میں تحیر سمٹ آیا۔

“تمہاری اس حرکت سے کیا اخذ کروں میں؟”

شاہ کھڑا ہوتا ہوا بولا۔

“یہی کہ میری بیٹی سے دور رہیں آپ۔۔۔”

مہر خفا خفا سی بولی۔

“یہ صرف تمہاری بیٹی نہیں ہے۔۔۔”

شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔

“یہ صرف میری بیٹی ہے۔۔۔۔”

مہر زور دے کر بولی۔

شاہ تلملا اٹھا۔

“دِس اِز ٹو مچ مہر۔۔۔”

شاہ نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا۔

مہر اثر لئے بنا سنگھار میز کے سامنے آ گئی۔

“اپنے ڈرامے ختم کرو اور تیار ہو جاؤ حویلی جانا ہے۔۔۔”

شاہ تاؤ کھاتا ہوا بولا۔

“اچھا! “

مہر اچھا کو لمبا کرتی ہوئی بولی۔

وہ پھر سے پہلے والی مہر اور وہ پہلے والا شاہ بن چکا تھا۔

“ماناب کو مجھے دو۔۔۔”

شاہ مہر کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔

“کوئی نہیں۔۔۔”

مہر نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔

“تم کیوں مجھے غصہ دلا رہی ہو بھولو مت میں باپ ہوں اس کا۔۔۔”

شاہ دانت پیستا ہوا بولا۔

“جی ہاں جانتی ہوں باپ ہیں اس کے۔اب جب وہ کھیل رہی ہے تو آپ آ گئے ہیں کل رات کہاں تھے؟ جانتے ہیں پوری رات ماناب روتی رہی ایک منٹ بھی نہیں سوئی میں۔

ڈائپر چینج کروائیں,اسے چپ کروائیں، ایسے کام کریں گے تو پھر ہی ماناب سے مل سکیں گے۔۔۔”

مہر منہ بناتی ہوئی بولی۔

شاہ چہرہ جھکاےُ ہنسنے لگا۔

شاہ مہر کی جانب بڑھنے لگا۔

“تم کیوں حرم کی وجہ سے ہمارا رشتہ خراب کر رہی ہو۔۔۔”

شاہ اس کے بالوں سے پن نکالتا ہوا بولا۔

پن کے نکلتے ہی مہر کے بال اس کے چہرے پر آ گئے۔

“کیونکہ آپ غلط کر رہے ہیں۔اور میں آپ کو غلط نہیں کرنے دوں گی۔۔۔”

مہر پر عزم ہو کر بولی۔

“اچھا اس کا فیصلہ بابا سائیں کر لیں گے ہم لڑائی ختم کرتے ہیں۔۔۔”

شاہ اس کے قریب ہوتا کان میں سرگوشی کرنے لگا۔

“جی نہیں۔ میرے پاس آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔”

مہر اس کے سینے پر ہاتھ رکھتی خود سے دور کرتی ہوئی بولی۔

شاہ سانس خارج کرتا اسے دیکھنے لگا۔

“سچ میں تم مجھ بہت غصہ دلاتی ہو۔۔۔”

شاہ اسے گھورتا ہوا بولا۔

“اور حرم کے مسئلے سے زیادہ آپ اس رشتے کو خراب کر رہے ہیں۔کل رات آپ نے جو میری تذلیل کی بلکہ ایک عورت کی تذلیل کی وہ کیسے بھول جاؤں میں؟ کیا یہی اہمیت ہے میری آپ کی زندگی میں؟ آپ مجھ سے محبت ک دعوا کرتے ہیں تو میری راےُ سے اتنی تکلیف کیوں ہو رہی تھی آپ کو بتائیں؟”

مہر آگے بڑھی اور اس کے سینے پر ہاتھ رکھتی پیچھے کرتی ہوئی بولی۔

شاہ لاجواب ہو گیا۔

وہ صحیح کہہ رہی تھی شاہ پرانی رسموں کو دیکھتے ہوۓ اس کے ساتھ زیادتی کر رہا تھا۔

“میں آپ کی بیوی ہوں دکھ سکھ کی ساتھی تو کیا اتنا سا بھی حق نہیں بنتا کہ آپ اپنی پریشانی اپنے مسائل مجھ سے شئیر کریں یا میں آپ کی مدد کروں؟

اس میں تضحیک والی کیا بات ہے اگر ایک مرد اپنی عورت سے مشاورت کر لے؟

شاہ آپ کے رویے نے جتنی مجھے تکلیف دی ہے نہ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔۔۔”

مہر کرب سے بولی رہی تھی۔

“مہر میں کیا کروں؟ جب سے ہوش سنبھالا ہے بس یہی سب کچھ دیکھا ہے۔۔۔”

شاہ بےچارگی سے بولا۔

مہر اسے دیکھتی نفی میں سر ہلا رہی تھی۔

“جانتی ہو جب تم میرے مقابل آتی ہوں تب اچھی لگتی ہو اس طرح دکھی نہیں۔۔۔”

شاہ منہ بناتا ہوا بولا۔

مہر نے بے رخی سے چہرہ موڑ لیا۔

“ٹھیک ہے ماناب کو مت دو مجھے لیکن اپنا موڈ ٹھیک کر لو۔۔۔”

شاہ ماناب کے رخسار پر بوسہ دیتا ہوا بولا۔

مہر خاموش اسے تک رہی تھی۔

“میں نہیں چاہتا ہمارے بیچ ایسی کشیدگی یا کوئی رنجش آےُ۔۔۔”

شاہ پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے اسے دیکھنے لگا۔

“پھر کیوں ایسی باتیں کرتے ہیں جو میرا دل دکھاتی ہیں؟”

مہر سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔

“آج تم درگزر سے کام لو کل میں لے لوں گا۔۔۔”

شاہ دھیرے سے مسکراتا ہوا بولا۔

مہر زیادہ دیر اس سے خفا نہیں رہ سکتی تھی۔

“ماناب کو پکڑیں میں کپڑے نکالوں۔۔۔”

مہر خفگی سے دیکھتی ہوئی بولی۔

شاہ نے مسکراتے ہوۓ ماناب کو اٹھا لیا۔

“آپ کی ماما مجھے کبھی کبھی پولیس والی لگتی ہیں۔۔۔”

شاہ بیڈ پر بیٹھے ماناب کو دیکھتا ہوا بول رہا تھا۔

مہر ترچھی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

“آپ کے معصوم سے بابا کو کتنا ڈانٹتی ہیں نہ؟”

شاہ مظلومیت سے استفسار کر رہا تھا۔

ماناب ایسے کھلکھلا رہی تھی جیسے سب سمجھ رہی ہو۔

مہر مسکرا کر سر جھٹکتی واش روم میں چلی گئی۔

“تم دونوں خیال سے رہنا۔اگر کوئی پریشانی ہو تو آنٹی کو بلا لینا یا پھر ہمیں کال کر لینا۔۔۔”

مہر دروازے میں کھڑی ہدایات دے رہی تھی اور وہ دونوں اثبات میں سر ہلا رہی تھیں۔

“بھابھی بھائی آپ سے ناراض تو نہیں؟”

حرم اس کا ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی۔

“ایسا کچھ بھی نہیں ہے تم فکر مت کرو۔۔۔”

مہر حرم کا منہ تھپتھپاتی ہوئی بولی۔

“شکر ہے آ گئی ورنہ میں سوچ رہا تھا انویٹیشن کارڈ بھیجوں۔۔۔”

مہر کے بیٹھتے ہی شاہ بولنے لگا۔

“ہم دونوں جا رہے ہیں تو میرا دھیان تو یہیں پر رہے گا نہ۔۔۔”

مہر خفگی سے بولی۔

شاہ مسکراتے ہوۓ گاڑی چلانے لگا۔

“ماناب کو مجھے پکڑا دو۔۔۔”

شاہ گاڑی سے اتر کر مہر کی جانب آتا ہوا بولا۔

“مجھے کون لے کر جاےُ گا؟”

مہر ماناب کو اس کی جانب بڑھاتی ہوئی بولی۔

“یہ حق صرف میرا ہے تو میں ہی سر انجام دوں گا۔۔۔”

شاہ اس کے سامنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پھیلاتا ہوا بولا۔

دائیں بازو میں ماناب سو رہی تھی۔

شاہ مہر کا ہاتھ تھامے اندر کی جانب چل رہا تھا۔

“جیرو کہاں مر گئی ہے؟ میرے کپڑے استری ہوےُ کہ نہیں؟”

ضوفشاں بیگم خفگی سے چلا رہی تھیں جب شاہ اور مہر اندر داخل ہوۓ۔

“شاہ!”

وہ شاہ کو دیکھتی خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو گئیں۔

مہر کو دیکھ کر کوئی خوشی نہ ہوئی۔

“السلام علیکم امی! “

شاہ ان کے قریب آتا ہوا بولا۔

“وعلیکم السلام! شکر ہے گھر کی یاد بھی آئی۔۔۔”

وہ خفا خفا سی بولیں۔

“اپنی پوتی سے مل لیں۔۔۔”

شاہ ماناب کو ان کی جانب بڑھاتا ہوا بولا۔

“تیری بیٹی ہے؟”

وہ ماناب کو پکڑتی ہوئی بولیں۔

شاہ مسکراتا ہوا اثبات میں سر ہلانے لگا۔

“ماشاءاللہ بہت پیاری ہے۔۔۔”

وہ صوفے پر بیٹھتی ہوئی بولیں۔

مہر پیچھے ہی رک گئی تھی۔

“مہر آ جاؤ۔۔۔”

شاہ چہرہ موڑ کر اسے دیکھتا ہوا بولا۔

مہر اثبات میں سر ہلاتی قدم اٹھانے لگی۔

آوازیں سن کر عافیہ بھی اِدھر آ نکلی۔

شاہ نے مہر کا تعارف کروایا۔

“آپ ہیں مہر بھابھی؟”

عافیہ تپاک سے ملتی ہوئی بولی۔

مہر مسکراتی ہوئی اثبات میں سر ہلانے لگی۔

“شہری اکثر آپ دونوں کا ذکر کرتا ہے۔۔۔”

عافیہ مسکراتی ہوئی مہر کو دیکھ رہی تھی۔

“بیٹھیں نہ آپ لوگ کھڑے کیوں ہیں؟”

عافیہ انہیں کھڑے دیکھ کر بولی۔

“بابا سائیں کہاں ہیں؟”

شاہ ضوفشاں بیگم سے مخاطب تھا۔

“کھیتوں سے آےُ تھے ابھی آنکھ لگی ہے ان کی۔۔۔”

ضوفشاں بیگم ماناب کو عافیہ کی جانب بڑھاتی ہوئی بولیں۔

شاہ اثبات میں سر ہلانے لگا۔

مہر کو یہاں بیٹھے اپنا آپ عجیب لگ رہا تھا۔

“شہریار آفس میں؟”

شاہ عافیہ کو دیکھتا ہوا بولا۔

“جی۔ آپ نے بتایا ہی نہیں ورنہ جلدی آ جاتے۔لیکن میں کال کر دیتی ہوں آ جائیں گے۔۔۔”

عافیہ ماناب کو دیکھتی خوشدلی سے بولی۔

“تم ٹھیک ہو مہر؟”

ضوفشاں بیگم نے پہلی بار مہر کو مخاطب کیا۔

“جی امی میں ٹھیک ہوں اور آپ؟”

مہر جھجھک کر بول رہی تھی۔

“ہممم جو ہو گیا پہلے اس کو اب بھول جاؤ۔۔۔”

وہ سامنے دیکھتی ہوئی بول رہی تھی۔

“جی امی۔۔۔”

مہر تائیدی انداز میں بولی۔

شاہ سانس خارج کرتا مہر کو دیکھنے لگا جو سر جھکاےُ بیٹھی تھی۔

“مہر تم کمرے میں جاؤ میں بابا سائیں سے بات کر کے آتا ہوں۔۔۔”

شاہ مہر کی جانب رخ موڑتا ہوا بولا۔

“شاہ آپ حرم کے متعلق ابھی کوئی بات نہیں کریں گے۔۔۔”

مہر اس کا ہاتھ پکڑتی دھیرے سے بولی۔

“ٹھیک ہے تم جاؤ۔۔۔”

شاہ بغور اسے دیکھتا ہوا بولا۔

مہر نے ماناب کو لیا اور زینے چڑھنے لگی۔

مہر نے کمرے کا دروازہ کھولا اور ایک ایک چیز کو دیکھنے لگی۔

کتنے وقت بعد وہ اس کمرے کو دیکھ رہی تھی۔

کمرہ شاہ کی خوشبو سے معطر تھا۔

مہر نے ماناب کو بیڈ پر لٹایا اور الماری کے سامنے آ گئی۔

مہر نے ابھی الماری کھولی ہی تھی کہ ماناب کے رونے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔

مہر چہرے پر خفگی طاری کئے ماناب کے پاس آ گئی جو گلا پھاڑ پھاڑ کر رو رہی تھی۔

“ماناب کیا ہو گیا آپ کو؟”

مہر اسے اٹھاتی ہوئی بولی۔

” ماما یہیں ہیں۔۔۔”

مہر اسے شانے سے لگاےُ تھپک رہی تھی۔

“یا اللہ! ایک دم سے اس لڑکی کو کیا ہو جاتا ہے؟”

مہر اسے خاموش کروانے کی سعی کرتی ہوئی بولی جس کے رونے میں ذرا برابر بھی فرق نہ آیا تھا۔

“بھائی پلیز میری بات تو سنیں؟”

شاہ ویز اس کے عقب میں چلتا ہوا بولا۔

شاہ سنی ان سنی کرتا چل رہا تھا۔

“بھائی پلیز مجھے معافی مانگنے کا موقع تو دیں۔۔۔”

شاہ ویز بھاگتا ہوا اس کے راستے میں حائل ہو گیا۔

“شاہ ویز میرا راستہ چھوڑ دو۔۔۔”

شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔

شاہ ویز کرب سے اسے دیکھنے لگا جس نے پہلی بار اسے نام سے پکارا تھا۔

“کیا کہنا چاہتے ہو؟”

شاہ احسان کرنے والے انداز میں بولا۔

“بھائی پلیز مجھے معاف کر دیں میں بہت شرمندہ ہوں۔۔۔”

شاہ ویز اس کے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوا بولا۔

“تمہارے جرم کی کوئی معافی نہیں۔۔۔۔”

شاہ کرخت لہجے میں بولا۔

“بھائی پلیز ایک تو موقع دیں میں آپ کا وہی چھوٹا ہوں۔۔۔”

شاہ ویز تڑپ کر بولا۔

“ایک شرط پر معاف کر سکتا ہوں تمہیں۔۔۔”

شاہ سینے پر ہاتھ باندھتا ہوا بولا۔

“بھائی مجھے آپ کی ساری شرطیں منظور ہیں۔۔۔”

شاہ ویز بےصبری سے بولی۔

“پہلے سن تو لو شرط ہے کیا؟”

شاہ بغور اسے دیکھتا ہوا بولا۔

****////////****

“حرم باہر آؤ جلدی۔۔۔”

ازلان فون کان سے لگاےُ کھڑا تھا۔

“کیا مطلب باہر آؤ؟”

حرم اچھل پڑی۔

“یار میں باہر کھڑا ہوں تم باہر آؤ نہ۔۔۔”

ازلان ضدی انداز میں بولا۔

حرم بیڈ سے اتر کر باہر نکل آئی۔

زینے چڑھ رہی تھی کہ پھر سے اسپیکر پر ازلان کی آواز گونجنے لگی۔

“کہاں ہو؟”

ازلان آس پاس دیکھتا ہوا بولا۔

حرم ٹیرس پر آ کر نیچے جھانکنے لگی۔

ریلنگ پر ہاتھ رکھے وہ اندھیرے میں ازلان کو دیکھنے کی سعی کر رہی تھی بلآخر ازلان اسے گاڑی کے ساتھ کھڑا دکھائی دیا۔

“ازلان تم ہمارے گھر کے باہر کیا کر رہے ہو؟”

حرم ششدر سی بولی۔

“بجلی کا بل دینے آیا ہوں۔۔۔”

ازلان جل کر بولا۔

“تم بجلی کا بل کیوں دینے آؤ گے؟”

حرم اسے دیکھتی تعجب سے بولی۔

“تم باہر آؤ ورنہ میں اندر آ جاؤں گا۔۔۔”

ازلان دھمکاتا ہوا بولا۔

حرم دانتوں تلے انگلی دباتی ازلان کو دیکھنے لگی جو چہرہ اوپر اٹھاےُ ہوۓ تھا۔

“تم مذاق کر رہے ہو نہ؟”

“جی نہیں۔اگر یقین نہیں تو میں اندر آ کر دکھاؤں؟”

ازلان شریر لہجے میں بولا۔

“نہ نہیں میں آتی ہوں تم کیوں آؤ گے؟”

حرم زینے اترتی ہوئی بولی۔

ازلان کے لب مسکرانے لگے۔

حرم تیزی سے زینے اترتی نیچے آئی کمرے میں جھانکا جہاں حرائمہ سو رہی تھی۔پھر زینے اترتی باہر نکل آئی۔

“ازلان مجھے کیوں بلایا تم نے؟”

حرم آس پاس دیکھتی گھبراتی ہوئی بولی۔

“میرا دل کر رہا تھا تم سے ملنے کا۔۔۔”

ازلان گاڑی سے پشت لگاتا ہوا بولا۔

حرم کی آنکھیں پھیل گئیں۔

“تم اس لئے یہاں آےُ ہو؟”

حرم آنکھیں کی پتلیاں سکیڑے اسے گھورتی ہوئی بولی۔

ازلان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنی جانب کھینچا۔

حرم کسی مقناطیسی کشش کی مانند اس کی جانب کھینچی چلی آئی۔

دوپٹہ سے سے ڈھلک کر شانے پر آ گیا۔

حرم منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔

“یہ کیا حرکت ہے ازلان؟”

حرم اس سے دور ہوتی ہوئی بولی۔

“جو تمہیں ابھی سکھانی ہیں۔۔۔”

ازلان لب دباےُ مسکراتا ہوا بولا۔

“ازلان میرا ہاتھ چھوڑو میں نے جانا ہے۔۔۔”

حرم اپنا ہاتھ آواز کروانے کی سعی کرنے لگی۔

ازلان مسکراتا ہوا نفی میں سر ہلا رہا تھا۔

“ازلان پلیز جانے دو نہ؟”

حرم رونے والی شکل بناےُ بولی۔

“اگر تم نے جانے کا نام لیا تو یہ بجلی کی تار میں نے تمہارے ہاتھ میں پکڑا دینی ہے۔۔۔”

ازلان گھورتا ہوا بولا۔

“ازلان تم کتنے بدتمیز ہو۔۔۔”

حرم پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی بولی۔

“اس سے بھی زیادہ ہوں ابھی تو تم جانتی نہیں ہو مجھے۔۔۔”

ازلان کی آنکھوں میں شرارت تھی۔

“اب جاؤں میں؟”

حرم اجازت طلب نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔

“تم جاؤ گی لیکن گھر کے اندر نہیں بلکہ میرے ساتھ۔۔۔”

ازلان نے کہہ کر جیب سے چابی نکال لی۔

حرم حواس باختہ سی اسے دیکھنے لگی۔

“تم پاگل ہو گئے ہو کیا؟”

حرم بس رو دینے کو تھی۔

“میں جانتا ہوں تمہارا بھائی نہیں ہے گھر پر اور اگر تم نے جانے سے انکار کیا تو دیکھنا میں کیا کرتا ہوں تمہارے ساتھ۔۔۔”

ازلان گھوری سے نوازتا گاڑی کا دروازہ کھولنے لگا۔