577.9K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tawaif Episode 2

Tawaif by Hamna Tanveer

“جی بابا سائیں۔۔۔۔۔” شاہ فون کان سے لگاےُ باہر نکل آیا۔

“کہاں ہو تم۔۔۔۔” وہ نرمی سے بولے۔

“خیریت۔۔۔۔” شاہ نے بتانا ضروری نہیں سمجھا۔

“شاہ ویز کا معلوم کرو ہم نے سنا ہے آج کل برہان کے ساتھ ہوتا ہے۔۔۔۔” وہ ناگواری سے بولے۔

“مطلب آج بھی گھر پر نہیں ہے وہ۔۔۔۔۔” شاہ سانس خارج کرتا ہوا بولا۔

“نہیں اسی لئے تو تمہیں فون کیا ہے۔۔۔۔”

“ٹھیک ہے میں معلوم کرواتا ہوں۔۔۔۔۔” شاہ نے کہ کر فون بند کر دیا۔

برہان کے نام پر چہرے پر ناگواری عود آئی۔

“شاہ ویز کا بھی دماغ خراب ہے۔۔۔۔۔” شاہ بولتا ہوا گاڑی میں بیٹھ گیا۔

***********

“یار یہ ازلان مجھے ایسے گھورتا ہے جیسے میں نے اس کا قرضہ دینا ہو۔۔۔۔۔”

حرم خود پر ازلان کی خونخوار نظریں محسوس کرتی ہوئی بولی۔

“پوچھ لو شاید تم نے اس کی بھینس کھولی ہو۔۔۔۔”

آمنہ نہایت سنجیدگی سے بولی۔

حرم قہقہ لگاتی اسے دیکھنے لگی۔

ازلان چہرہ موڑے ناگواری سے انہیں دیکھنے لگا۔

وہ سب اس وقت کلاس میں بیٹھے تھے اور چند سٹوڈنٹس ہی تھے باقی سب باہر تھے۔

“لو اب بندہ ہنس بھی نہیں سکتا۔۔۔۔” حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔

“تمہیں معلوم نہیں اس کے باپ کی یونی ہے, یہاں کی ایک بھی اینٹ ایسی نہیں جو اس کے باپ نے لگوائی نہ ہو۔۔۔۔۔”

آمنہ جل کر بولی۔

“دفع کرو تم کیوں اپنا بی پی شوٹ کر رہی ہو‍۔۔۔۔” حرم اس کے گال کھینچتی ہوئی بولی۔

“ویسے آمنہ پتہ ہے میرا کیا دل کرتا ہے۔۔۔۔” حرم ازلان کو نگاہوں کے حصار میں لیتی ہوئی بولی۔

“کیا۔۔۔۔۔” آمنہ آبرو اچکا کر بولی۔

“یہ جو ازلان ہے نہ اسے گدھے پر بٹھا کر پوری یونی کا چکر لگوانا چائیے۔۔۔۔۔”

حرم خود کو قہقہ لگانے سے باز رکھتی ہوئی بولی۔

“خیالات تو بہت نیک ہیں۔۔۔۔۔” آمنہ ازلان کے خاموش بیٹھے گروپ کی جانب دیکھتی ہوئی بولی۔

“دونوں میلے میں بچھڑے ہوۓ بھائی لگتے ہیں۔‍۔۔۔” حرم قہقہ لگاتی ہوئی بولی۔

آمنہ ہونٹوں پر ہاتھ رکھے ہنس رہی تھی۔

“بس کرو اسے معلوم ہو گیا نہ وہ آندھی طوفان کی طرح ہمارے سر پر آ پہنچے گا۔۔۔۔”

آمنہ سر جھٹکتی نگاہیں فون پر مرکوز کیے چلنے لگی۔

“کہاں۔۔۔۔” حرم کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔

“یار وہ انشرح آئی ہے۔۔۔۔” آمنہ میسج ٹائپ کرتی ہوئی بولی۔

“یقیناً کہ رہی ہو گی لینے آؤ۔۔۔۔۔” حرم اس کے عقب میں چلتی ہوئی بولی۔

“ہاں تمہیں پتہ تو ہے یونی میں ایک قدم اکیلے نہیں اٹھا سکتی۔۔۔۔” آمنہ محظوظ ہوتی چلنے لگی۔

“ایسا کرو تم اسے لے آؤ میں یہیں انتظار کرتی ہوں اور ہاں کینٹین سے کچھ لیتی آنا۔۔۔۔‍” حرم اب کہ ذرا چلا کر بولی۔

آمنہ ہاتھ ہلاتی نظروں سے اوجھل ہو گئ۔

حرم بیگ کندھے پر ڈالے ٹہلنے لگی۔

اسے اپنے عقب میں آہٹ سنائی دی۔

چہرہ موڑ کر دیکھا تو ازلان اس کے سر پر کھڑا تھا اگر ایک لمحے بعد وہ اپنے قدموں کو بریک لگاتی تو دونوں کی ٹکر ہو جاتی۔

“تم۔۔۔۔” حرم کا حلق خشک ہو گیا۔

“بلکل میں۔۔۔‍۔” وہ چبا چبا کر بولتا حرم کی جانب قدم بڑھانے لگا۔

حرم الٹے قدم اٹھانے لگی۔

وہ خونخوار نظروں سے گھورتا حرم کی جانب آ رہا تھا اور حرم پیچھے ہوتی جا رہی تھی۔

حرم پیچھے ہوتی دیوار سے ٹکرائی۔

آنکھیں زور سے بند کر کے کھولیں۔

دوپٹہ اس سے سر ڈھلک کر شانے پر آ گیا تھا۔

“کیا کہ رہی تھی تم ابھی۔۔۔۔” وہ چہرے پر سختی لئے بولا۔

“میں نے کیا کہنا ہے بھلا۔۔۔۔” حرم اس کی آنکھوں میں دیکھتی بمشکل بول پائی۔

“اووہ تو تمہاری یاداشت حد سے زیادہ کمزور ہے جو پانچ منٹ پہلے کی گئ بات تم بھول گئی ہو۔۔۔۔۔”

ازلان ضبط کرتا ہوا بولا۔

دونوں کے بیچ فاصلہ بہت زیادہ نہیں تو بہت کم بھی نہیں تھا۔

“دیکھو تم اس طرح غنڈہ گردی نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔” حرم ہمت بندھائی ہوئی بولی۔

“میں کیا کر سکتا ہوں اس کا تمہیں اندازہ نہیں۔۔۔۔۔” وہ حرم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا ہوا بولا۔

“بھائی نے منع کیا تھا کسی لڑکے سے فضول بات نہیں کرنی۔۔۔۔۔”

حرم اس پاس دیکھتی ہوئی سوچنے لگی۔

“آئیندہ کوئی فضول گوئی سنی۔۔۔۔۔۔۔” ازلان انگلی اٹھاےُ بول رہا تھا جب حرم نے مداخلت کی۔

“ہاں آئیندہ میں کچھ نہیں بولتی ٹیپ لگا لی میں نے اب میرے آگے سے ہٹو کسی نے دیکھ لیا تو کیا سوچیں گے۔۔۔۔۔۔”

حرم اس کی بات کاٹتی فکرمندی سے بولی۔

ازلان چہرے پر مسکراہٹ سجاےُ حرم کے چہرے کو دیکھنے لگا جہاں گھبراہٹ اور خوف دکھائی دے رہا تھا۔

“دیکھتا ہے تو دیکھ لے میں ڈرتا نہیں کسی سے۔۔۔۔۔۔” ازلان کی آنکھوں میں شرارت تھی۔

“تمہیں ڈر نہیں لگتا لیکن مجھے تو لگتا ہے نہ اب ہٹو میرے راستے سے۔۔۔۔‍” حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔

کسرتی جسم رکھنے والا ہٹا کٹا ازلان اس کے مقابل اس طرح کھڑا تھا کہ اگر وہ ایک جانب سے نکلنے کی کوشش کرتی تو اس کے شانے سے ٹکرا جاتی۔

“نہیں ہٹ رہا میں پہلے مجھے حساب دو۔۔۔۔”

“کون سے کاروبار تمہارے ساتھ کئے ہیں جو حساب مانگ رہے ہو۔۔۔۔۔”

حرم کی حالت ایسی تھی مانو کسی نے سولی پر لٹکا رکھا ہو۔

“ابھی جو میرے بارے میں بولا۔۔۔۔۔”

“سر آصف۔۔۔۔۔” حرم پوری آنکھیں کھولے دائیں جانب دیکھتی ہوئی بولی۔

ازلان ایک قدم پیچھے ہوا چہرہ موڑا تو راہداری میں کوئی بھی نہیں تھا۔

حرم موقع دیکھ کر کھسک گئ۔

تمہیں تو۔۔۔۔۔” ازلان اسے گھورتا ہوا بولا۔

حرم نے سپیڈ کھینچی اور وہاں سے غائب ہو گئ۔

ازلان محظوظ ہوتا واپس کلاس کی سمت آ گیا۔

“بدتمیز انسان ہر کسی پر اپنی دھونس جمانے کا شوق ہے اگر بھائی کو معلوم ہو گیا تو میری خیر نہیں۔۔۔۔۔”

حرم خود کلامی کرتی چلنے لگی۔

****//////****

“شاہ ویز کو بھیجو۔۔۔۔” شاہ آئینے کے سامنے کھڑا ملازم سے مخاطب تھا۔

وہ سر ہلاتا چلا گیا۔

کچھ ہی دیر میں شاہ ویز آنکھیں مسلتا نمودار ہوا۔

“بھائی اتنی صبح صبح۔۔۔۔” وہ شاہ کے سامنے آتا ہوا بولا۔

“رات کہاں تھے تم۔۔۔۔۔” شاہ اس کی شرٹ کا گریبان درست کرتا ہوا بولا۔

“بھائی دوستوں کے ساتھ ہی۔۔۔۔” شاہ ویز سنبھل کر بولا۔

“مجھ سے جھوٹ مت بولو اگر تمہیں کچھ کہ نہیں رہا تو اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ میں ناآشنا ہوں۔۔۔۔۔” شاہ سختی سے بولا۔

“بھائی وہ۔۔۔۔” شاہ ویز مناسب بہانہ تلاشنے لگا۔

“آج سے تم شہریار کے ساتھ کام کرتے دکھائی دو بہت ہو گئ آوارہ گردی۔۔۔۔۔” شاہ چہرہ موڑ کر سٹڈ لگاتا ہوا بولا۔

“جی بھائی۔۔۔۔۔” شاہ کے سامنے کسی کی نہیں چلتی تھی۔

“اور ہاں برہان کے ساتھ دکھائی دئیے تو دوبارہ تم کسی کو دکھائی نہیں دو گے ابھی نرمی سے سمجھا رہا ہوں سمجھ جاؤ۔۔۔۔۔۔” شاہ چبا چبا کر بولا۔

شاہ ویز جو کہ دروازے کی سمت بڑھا رہا تھا تھوک نگلتا شاہ کو دیکھنے لگا۔

“جا سکتے ہو اب۔۔۔۔۔” شاہ کوٹ پہنتا ہوا بولا۔

شاہ ویز بنا کچھ بولے باہر نکل گیا۔

“بابا سائیں نے بتایا ہو گا بھائی کو۔۔۔۔۔” وہ بولتا ہوا اپنے کمرے میں آ گیا۔

“اب نیند کہاں سے آےُ گی موت کی ردا سنا دی ہے بھائی نے۔۔۔‍۔” وہ بولتا ہوا بیڈ پر گر گیا۔

“ہاےُ کیا کمال تھی عینی, میری بانہوں میں,اف۔۔۔۔۔” وہ گزشتہ رات کا منظر یاد کرتا ہوا بولا۔

“اب بھائی کو معلوم ہو گیا تو سارے مزے بھی ختم, نہیں نہیں میں برہان سے بات کروں گا کوئی نہ کوئی حل تو وہ نکال ہی لے گا۔۔۔۔” شاہ ویز کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ نے احاطہ کر لیا۔

فون اٹھایا تو عینی کا نام جگمگا رہا تھا۔

“گڈ مارننگ بےبی۔۔۔۔” عینی کو جواب دے کر موبائل سینے پر رکھے وہ چھت کو گھورنے لگا۔

****//////****

“زہے نصیب شاہ صاحب آپ خود تشریف لاےُ ہیں۔۔۔۔

مصطفی شاہ کو دیکھ کر زلیخا بیگم کا دل باغ باغ ہو گیا۔

شاہ جواب دئیے بنا بیٹھ گیا۔

شلوار قمیص پہنے شانوں پر شال اوڑھے وہ اپنی وجیہہ شخصیت سے مقابل کو مرعوب کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا تھا۔

“آج آپ مجرے سے لطف اندوز نہیں ہو رہے۔۔۔۔” زلیخا اسے اس پہر دیکھ کر حیران تھی۔

“مجھے اس کوٹھے سے ایک لڑکی چائیے صرف ایک رات کے لیے۔۔۔۔۔”

شاہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھاےُ بیٹھا تھا۔

“حکم کریں حضور بھلا یہ ناچیز آپ کو کیسے انکار کر سکتی۔۔۔۔۔” زلیخا کا چہرہ کھل اٹھا۔

اس کا خیال تھا کہ شاہ رانی کے متعلق کہ رہا ہو گا۔

“مہرماہ۔۔۔۔۔” شاہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔

زلیخا کی خوشیوں پر اوس پڑ گئ۔

چہرے پر فکر نمایاں تھی۔

“شاہ صاحب آپ کو انکار کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی لیکن آپ بخوبی واقف ہیں مہر صرف رقص کرتی ہے۔۔۔۔۔” وہ سنبھل کر بولی۔

“میں نے بتایا ہے پوچھا نہیں چائیے تو مطلب چائیے۔۔۔۔۔”

شاہ زور دے کر بولا۔

“یہ کیسی مصیبت آن پڑی ہے نہ اگل سکتی ہوں نہ نگل سکتی ہوں۔۔۔۔۔” زلیخا شاہ کو دیکھتی ہوئی سوچنے لگی۔

“شاہ صاحب مہر کے علاوہ جس لڑکی پر ہاتھ رکھیں گے وہ آپ کی لیکن مہر کا ممکن نہیں میں نے زبان دی ہے اسے, وہ یہ کام نہیں کرنا چاہتی, آپ سمجھ سکتے ہیں۔۔۔۔۔”

زلیخا سے جو بات بنی اس کے گوش گزار کر دی۔

“دو دن کا وقت دے رہا ہوں تیسرے دن مہر کو لینے آؤں گا میں۔۔۔۔۔۔”

شاہ حتمی انداز میں فیصلہ سناتا کھڑا ہوا اور باہر نکل گیا۔

زلیخا ہاتھ مسلتی اسے جاتا دیکھنے لگی۔

“قیمت تو بہت ملے گی لیکن مہر کو بھی زبان دے چکی ہوں وہ راضی نہیں ہو گی, کچھ نہ کچھ تو سوچنا پڑے گا۔۔۔۔۔”

وہ ٹہلتی ہوئی بولنے لگی۔

شاہ باہر نکلا تو مہر رقص میں محو تھی۔

ایک نظر اس پر ڈالتا باہر کی جانب قدم بڑھانے لگا۔

****//////****

“یار ازلان مرضی ہے تو نے ہمیں کچھ بتایا ہی نہیں وقاص عرف وکی اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔

“کیا۔۔۔۔۔” ازلان پیشانی پر بل ڈالتا ہوا بولا۔

“یار وہ جو حرم ہے تجھ سے ٹکرائی تھی بھول گیا۔۔۔۔”

“کیا بتاؤں؟۔۔۔۔۔۔” ازلان آبرو اچکا کر بولا۔

“تو گیا اس کے پیچھے پھر کیا ہوا۔۔۔۔۔” سیفی اشتیاق سے بولا۔

ازلان قہقہ لگاتا اسے دیکھنے لگا۔

سیفی ہنکار بھرتا پھر سے کتاب پر جھک گیا۔

“تم سب تو ایسے پوچھ رہے ہو جیسے میں ڈیٹ پر گیا تھا اور اب جاننا چاہتے ہو کہ باپ بننے کی خوشخبری کب سناؤں گا۔۔۔۔۔”

ازلان سمیت باقی سب بھی ہنسنے لگے۔

“باپ بھی بن جاےُ گا اتنی جلدی کیا ہے بھائی۔۔۔۔۔” وکی اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔

“اوو یار وہ جو میری جی ایف تھی نہ۔۔۔۔”

سیفی پھر سے سر اٹھا کر بولا۔

” وہ جس کے بال گھوڑے کی دم جیسے ہیں۔۔۔۔۔ازلان قہقہ لگاتا ہوا بولا۔

سیفی قہقہ لگاتا اثبات میں سر ہلانے لگا۔

“کیا وہ خوشخبری سناےُ گی؟۔۔۔۔۔” ازلان بائیں آنکھ دباتا ہوا بولا۔

“لڑکا ہو گا یا لڑکی۔۔۔۔۔” وکی اس کے عین سامنے آتا ہوا بولا۔

“بھئ گود بھرائی کی رسم تو میں کروں گا۔۔۔۔۔”زین کہاں پیچھے رہنے والا تھا۔

“مرو تم لوگ بکواس کر لو میری مت سننا۔۔۔۔” سیفی جی بھر کے بدمزہ ہوا۔

“چل چل بول تو۔۔۔۔” ازلان کھڑکی میں بیٹھا اسے اشارہ کرتا ہوا بولا۔

“مجھے کہتی بےبی گفٹ دو۔۔۔۔” سیفی پرجوش سا بولا۔

“پھر تو نے کھوتا گفٹ کر دیا کیا؟۔۔۔۔۔” وکی نے پھر سے ٹوکا۔

“اگلی بار تجھے دوں گا گفٹ میں۔۔۔۔” سیفی سلیپر پھینکتا ہوا بولا وکی نیچے ہوا اور وہ دیوار کو جا لگا۔

سب کے قہقہے فضا میں گونجے۔

“اب سنو میں نے اس کے باپ کو تصویریں بھیج دیں چنگی کُوٹ پڑی پھر۔۔۔۔” سیفی قہقہ لگاتا ہوا بولا۔

“یار تیرے والی فری ہے تو پھر مجھے دے دے کچھ دن کے لیے۔۔۔۔”

“بھائی تو ہی رکھ لے میری تو جان کھا گئ ہے جتنے میں اس کو گفٹ دلواتا ہوں اتنے میں مہینے کا راشن آ جاےُ۔۔۔۔”

سیفی بےچارگی سے بولا۔

سیفی کی شکل دیکھ کر سب قہقہے لگانے لگے۔

“وکی تجھے میں نے کوئی کام بولا تھا؟۔۔۔۔۔” ازلان فون سے نظریں ہٹاتا سنجیدگی سے بولا۔

“یار ذوناش گھر گئ ہے اس کی امی کی طبیعت ٹھیک نہیں اب وہ واپس آےُ گی تو تیری بات بنے گی۔۔۔۔” وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔

ازلان خاموش ہو کر سوچنے لگا۔

“کیا ہو گیا بھائی؟۔۔۔۔۔” سیفی اسے دیکھتا ہوا بولا۔

ازلان نفی میں سر ہلاتا باہر نکل گیا۔

“کہاں؟۔۔۔۔۔” سیفی اس کی پشت کو دیکھتا ہوا بولا۔

“تمہیں ماموں بنانے جا رہا۔۔۔‍۔۔” ازلان ہانک لگاتا نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

کمرے میں سب کے قہقہے گونجنے لگے۔

****///////****

مہر بال خشک کر رہی تھی جب اسے کسی کے رونے کی آواز سنائی دی۔

مہر برش رکھتی کمرے سے باہر نکل آئی۔

راہداری میں کھڑی ہو کر سمت کا تعین کرنے لگی۔

پھر چلتی ہوئی آگے آ گئی ایک کمرہ چھوڑ کر دوسرے کمرے میں مہر کو ایک لڑکی دکھائ دی۔

“پلیز مجھے جانے دو میں یہاں نہیں رہ سکتی۔۔۔۔۔” وہ روتی ہوئی منت سماجت کر رہی تھی۔

مہر کے چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ نے احاطہ کر لیا۔

“طوائف بننا اتنا آسان نہیں یہ طعنے دینے والے لوگ کیا جانیں۔۔۔۔۔”

مہر اس نو عمر لڑکی کو دیکھتی ہوئی بولی۔

چہرہ آنسوؤں سے تر تھا وہ بانی کے سامنے گڑ گڑا رہی تھی جو مسلسل اسے جھٹک رہی تھی۔

طوائف ہونا کیا ہے

حقارت کے تیز اچھالنے والے کیا جانیں۔

ہوتی ہے کتنی تکلیف قبر میں

اوپر سے پھول چڑھانے والے کیا جانیں۔

مہر چلتی ہوئی اندر آ گئی۔

“کیا ہوا بانی۔۔۔۔۔”

بانی اس کی آواز پر چونک گئی کیونکہ وہ بہت کم کسی کو خود سے مخاطب کرتی۔

“کچھ نہیں بس یہ آج آئی ہے نہ اس لئے تنگ کر رہی ہے۔۔۔۔۔”

بانی اس لڑکی پر غصیلی نگاہ ڈالتی ہوئی بولی۔

مہر چلتی ہوئی آگے آئی تو پائیل کی جھنکار سنائی دینے لگی۔

لڑکی چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔

مہر کو اس پر ترس آ رہا تھا لیکن یہ جگہ ترس کھانے والوں کے لئے نہیں بنی۔

“تمہیں ایک عقلمندانہ مشورہ دیتی ہوں۔۔۔۔۔” مہر اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھتی ہوئی بولی۔

“پلیز مجھے یہاں سے باہر لے جائیں یہ لوگ مجھ سے,, نہیں کر سکتی میں وہ سب۔۔۔۔۔”

وہ زور سے آنکھیں میچ کر بولی۔

“جو یہ کہ رہے ہیں خاموشی سے مان لو کیونکہ ہتھیار تو تمہیں ہی ڈالنے ہوں گے ورنہ خسارہ صرف تمہارا ہو گا۔۔۔۔۔۔”

مہر کے لہجے میں ٹھراؤ تھا۔

وہ تڑپ کر مہر کو دیکھنے لگی۔

“یہاں تقریباً روز ہی لڑکیاں آتی ہیں اگر تمہیں لگتا ہے کہ رو دھو کر یہاں سے چلی جاؤ گی تو بےسود ہے۔۔۔۔۔”

مہر بولتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔

“پلیز ایسا مت کہیں۔۔۔۔”

وہ آس بھری نظروں سے مہر کو دیکھنے لگی جو نرم لہجے میں بات کر رہی تھی جبکہ بانی اس پر برس رہی تھی۔