Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 35
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 35
Tawaif by Hamna Tanveer
“شاہ ہم یہیں پر رکیں گے کیا؟”
مہر اسے دیکھ کر بولی۔
“ہاں آج رات یہیں رکیں گے شہریار ابھی تک آیا نہیں اس سے ملے بغیر نہیں جا سکتے۔۔۔”
وہ شانے اچکاتا ہوا مہر کے پاس آ گیا۔
“شاہ اگر ماناب کی نیند خراب ہوئی تو آپ سنبھالیں گے اسے۔۔۔”
شاہ جو ماناب کو بوسہ دینے کی غرض سے اس کی جانب جھک رہا تھا مہر اس کا ارادہ بھانپ کر بولی۔
شاہ چہرہ موڑ کر مہر کو دیکھنے لگا۔
“میں دو گھنٹے سے ماناب کو لے کر کھڑی ہوں بہت مشکل سے سلایا ہے اسے۔۔۔”
مہر تقریباً رو دینے کو تھی۔
شاہ کو اس کی حالت پر ترس آ رہا تھا۔
“اچھا پھر تمہیں کر لیتا ہوں کس۔۔۔”
وہ شرارت سے بولا۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے خواہ مخواہ میں پھیلنے لگ جاتے ہیں۔۔۔”
مہر اسے گھورتی ہوئی بولی۔
“میں سوچ رہا تھا ازلان سے بات کروں۔۔۔”
شاہ کے چہرے پر سنجیدگی نے ڈیرے جما لیے۔
“کس لیے؟”
مہر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
“طلاق کے لیے اور کس لئے؟”
شاہ اطمینان سے مہر کو دیکھتا ہوا بولا۔
“شاہ!”
مہر صدمے سے بولی۔
“مہر میری ایک ہی بہن ہے اور میں اسے کسی ایسی جگہ ہر گز نہیں بھیج سکتا جو لوگ اعتبار کے قابل نہ ہوں۔تم جانتی ہوں عافیہ برہان کی بیوی تھی؟ اور شہریار نے اس سے شادی کی تاکہ برہان کے توہین آمیز رویے سے اس کی جان چھوٹ جاےُ یہاں تک کہ وہ مارا پیٹتا بھی تھا اب تم بتاؤ میں اس گھر میں بھیج دوں حرم کو؟”
شاہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
مہر کے پاس فل وقت کوئی مناسب دلیل نہ تھی سو وہ خاموش رہی۔
“تم ازلان کی حمایت کر رہی ہو مجھے بتاؤ تم جانتی ہو اسے؟ اس کے کردار کو؟ اس کا اٹھنا بیٹھنا کس طرح کے لوگوں کے ساتھ ہے؟ سب سے بڑھ کر کیا گارنٹی ہے کہ وہ حرم سے محبت کرتا ہے ہو سکتا ہے وہ بدلے کی آڑ میں یہ سب کر رہا ہو۔حرم کے مستقبل کا ذمہ دار کون ہو گا پھر؟”
شاہ دونوں آبرو اچکا کر بولا۔
مہر لاجواب ہو گئی۔
اس کے پاس کسی سوال کا جواب نہیں تھا۔
“مہر میں بیوقوف نہیں ہوں جو اندھوں کی طرح اپنی بہن کو پھینک دوں جو چیزیں میں دیکھ رہا ہوں تم نہیں دیکھ رہی تمہیں صرف یہ دکھائی دے رہا ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔شادی کے لئے صرف اس انسان کی محبت اہم نہیں ہوتی۔جس گھر میں وہ جاےُ گی وہاں کے مکین کس نوعیت کے ہیں سب دیکھنا پڑتا ہے۔۔۔”
شاہ تاسف سے مہر کو دیکھ رہا تھا۔
مہر کو اپنی کم عقلی پر افسوس ہو رہا تھا۔
“شاہ پھر ازلان کے متعلق کیسے معلوم ہو گا؟”
مہر فکرمندی سے بولی۔
“نہ مجھے معلوم ہے نہ ہی معلوم کرنا ہے یہ رشتہ ختم ہو گا یہی میرا آخری فیصلہ ہے۔۔۔”
شاہ حتمی انداز میں بولا۔
“لیکن شاہ۔۔۔”
مہر نے مزاحمت کرنی چاہی۔
“مہر تم نے کہا کہ میں نے تمہیں تکلیف دی رائٹ؟ آج میں تمہیں پیار سے ہر چیز سمجھا رہا ہوں اور تم سمجھنے کی بجاےُ اپنی بات پر قائم ہو اسے کیا سمجھوں میں؟”
شاہ کے چہرے پر زمانے بھر کی سختی تھی۔
مہر نے خاموش ہونا بہتر سمجھا۔
“ٹھیک ہے۔۔۔”
مہر نا چاہتے ہوۓ بولی۔
“امید ہے مجھ پر سے تمام پابندیاں جج صاحبہ نے ہٹا دیں ہو گیں؟”
شاہ اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔
مہر پیشانی پر بل ڈالے اسے گھورنے لگی۔
“کل ماناب کو ڈاکٹر کے پاس بھی لے کر جانا تھا شاہ۔۔۔”
مہر یاد کرتی تاسف سے بولی۔
“کوئی بات نہیں بعد میں لے جائیں گے اس گھر میں رہنے والوں کا بھی کچھ حق کے ماناب پر۔۔۔”
شاہ ماناب کو دیکھتا ہوا بولا۔
“آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں شاہ۔ ہم کچھ دن یہیں رہ لیتے ہیں۔۔۔”
مہر اس کی بات کا مفہوم سمجھتی ہوئی بولی۔
شاہ دھیرے سے مسکرانے لگا۔
****////////****
“ازلان پلیز مجھے مشکل میں مت ڈالو۔۔۔”
حرم التجائیہ انداز میں بولی۔
ازلان دروازہ کھول کر اسے دیکھنے لگا۔
“کیسی مشکل؟”
وہ آبرو اچکا کر بولا۔
“میں تمہارے ساتھ نہیں جا سکتی ازلان یہ غلط ہے۔۔۔”
حرم مسلسل اپنا ہاتھ آزاد کروانے کی سعی کر رہی تھی۔
“حرم میں کچھ غلط نہیں کرنے والا تمہارے ساتھ صرف لانگ ڈرائیو پر جانا چاہتا ہوں۔۔۔”
ازلان اس کی غلط فہمی دور کرتا ہوا بولا۔
“اور اگر بدقسمتی سے بھائی گھر آ گئے پھر؟”
حرم سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
“تمہارے بھائی کو نہ دور کسی وادی میں چھوڑ آنے کو دل کرتا ہے۔۔۔”
ازلان دانت پیستا ہوا بولا۔
“ازلان وہ میرے بھائی ہیں۔۔۔”
حرم زور دے کر بولا۔
“تو میں کون سا بہن بنا دیا ہے۔۔۔”
ازلان منہ بناتا ہوا بولا۔
حرم نفی میں سر ہلاتی مسکرانے لگی۔
“اچھا پھر ایسا کرو ایک کپ چاےُ پلا دو۔۔۔”
ازلان نرمی سے بولا۔
“تم گاڑی میں بیٹھو میں بنا کر لاتی ہوں۔۔۔”
حرم خوش ہوتی ہوئی بولی۔
“جی نہیں میں اندر بیٹھ کر پیوں گا۔۔۔”
ازلان اسے تنگ کرنے کا قصد کئے ہوۓ تھا۔
“ازلان تم اندر کیسے آ سکتے ہو؟”
حرم ششدر سی بولی۔
“چل کر اور کیسے۔۔۔”
ازلان خفگی سے بولا۔
“میرا مطلب اندر حرائمہ ہے تم کیسے؟”
حرم فکرمندی سے گویا ہوئی۔
“میں بارات لے کر تو نہیں آ رہا جو اسے معلوم ہو جاےُ گا دیکھو میں منہ پر ٹیپ لگا لوں گا۔۔۔”
ازلان اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتا ہوا بولا۔
حرم دھیرے سے مسکرانے لگی۔
ازلان اس کی مسکراہٹ میں ہی کھو گیا۔
حرم کی آنکھیں بھی اس کا ساتھ دے رہی تھیں۔
“تم رکو میں بنا کر لاتی ہوں۔۔۔”
حرم کلائی چھڑواتی ہوئی بولی۔
“تم کتنی بے مروت ہو حرم؟”
ازلان آنکھیں سکیڑ کر گھورتا ہوا بولا۔
“تم سمجھو نہ۔۔۔”
حرم آس پاس دیکھتی ہوئی بولی۔
“اچھا چلو۔۔۔”
ازلان اس کا ہاتھ چھوڑتا ہوا بولا۔
حرم کلائی مسلتی اندر کی جانب چلنے لگا۔
ازلان بھی اس کے عقب میں چلنے لگا۔
حرم دروازے کے پاس رک کے اسے دیکھنے لگی۔
“تم کیوں آ رہے ہو؟”
حرم آواز دھیمی رکھتی ہوئی بولی۔
ازلان نے اسے گھورا اور دروازہ بند کر دیا۔
حرم کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
“پلیز چلے جاؤ ازلان۔۔۔”
حرم اس کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوئی بولی۔
“تم خود جاؤ گی یا میں اٹھاؤں تمہیں؟”
ازلان اس کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔
حرم بس رو دینے کو تھی۔
منہ بسورتی زینے چڑھنے لگی۔
ازلان لب دباےُ اس کے عقب میں زینے چڑھنے لگا۔
حرم کو اپنی جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔
“تم یہاں بیٹھو میں کچن میں جا رہی ہوں۔۔۔”
حرم صوفے کی جانب اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
ازلان اثبات میں سر ہلاتا بیٹھ گیا۔
حرائمہ کے کمرے کا دروازہ دیکھتی حرم راہداری میں چلتی کچن میں آ گئی۔
“یہ اتنا ضدی کیوں ہے؟”
حرم فریج سے دودھ نکالتی ہوئی بڑبڑانے لگی۔
حرم قہوہ بنا رہی تھی جب ازلان بنا چاپ پیدا کئے اندر آ گیا۔
حرم کو آہٹ سنائی دی تو چہرہ موڑ لیا۔
ازلان کو دیکھ کر اوسان خطا ہو گئے۔
“مہ میں نے تمہیں کہا تھا وہیں بیٹھے رہنا۔۔۔”
حرم کی حالت ایسی تھی مانو کسی نے سولی پر لٹکا رکھا ہو۔
“اکیلے میرا دل نہیں لگ رہا تھا۔۔۔”
ازلان منہ بناتا ہوا سلیب پر بیٹھ گیا۔
حرم کے ہاتھ کپکپانے لگے۔بار بار چہرہ موڑ کر دروازے کو دیکھنے لگی۔
“نہیں کوئی موت کا فرشتہ آ رہا جو تم اتنا ڈر رہی ہو۔۔۔”
ازلان اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر چہرہ چولہے کی جانب موڑنے لگا۔
حرم جلدی جلدی ہاتھ چلانے لگی اسی جلدی میں شکر کا ڈبہ ہاتھ سے پھسل کر سلیب پر گر گیا۔
“ازلان تم کیوں میری جان کے پیچھے پڑ گئے ہو؟”
حرم شکر سمیٹتی ہوئی بولی۔
“ایک بات بتاؤ حرم اگر ہم دونوں کو جلاد پکڑ لے اور پوچھے کہ دونوں میں سے کس کو پھانسی دوں تو تم کیا کرو گی؟”
ازلان آبرو اچکا کر بولا۔
حرم نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
ازلان اسے گہری نظروں سے حصار میں لئے ہوۓ تھا۔
“امم پتہ نہیں۔۔۔”
حرم شانے اچکاتی کپ اٹھانے لگی۔
“دھیان سے۔۔۔”
ازلان کے کہنے کی دیر تھی کہ کپ زمین بوس ہو گیا۔
حرم نے آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا۔
ازلان کے لئے ہنسی دبانا مشکل ہو رہا تھا۔
“اب تم آنکھ مچولی ختم کرو ورنہ چاےُ بھی باہر گر جاےُ گی۔۔۔”
ازلان ابلتی ہوئی چاےُ کو دیکھتا ہوا بولا۔
حرم نے فوراً ہاتھ ہٹاےُ اور آنچ دھیمی کرنے لگی۔
“تمہیں پتہ ہے میں کیا بولوں گا؟”
ازلان اپنے رخسار پر انگلی رکھتا ہوا بولا۔
“کیا؟”
حرم اسے دیکھتی موجودہ صورتحال کو یکسر فراموش کر گئی۔
“میں کہوں گا اس پاگل کو رکھ لو میں جا رہا ہوں۔۔۔”
ازلان شرارت سے بولا۔
“تم سچ میں ایسا کرو گے؟”
حرم تاسف سے استفسار کرنے لگی۔
“چاےُ دے دو پھر مجھے واپس بھی جانا ہے۔۔۔”
ازلان اس کے سوال سے بچنے کی خاطر دھیان دوسری جانب لے گیا۔
حرم سر ہلاتی چاےُ کپ میں انڈیلنے لگی۔
“جلدی سے پی لو۔۔۔”
حرم کپ اس کی جانب کرتی ہوئی بولی۔
“جلدی سے پی لوں! جتنی گرم چاےُ ہے نہ بعد میں چاہے مجھے خوارک کی نالی نئی ڈلوانی پڑے۔۔۔”
ازلان منہ بناتا ہوا بولا۔
حرم لب کاٹتی کبھی ازلان کو دیکھتی تو کبھی دروازے کو۔
“پہلے تم چیک کرو ٹھیک بنی ہے۔۔۔”
ازلان لب دباےُ مسکرا رہا تھا۔
حرم نے پھونک ماری اور ایک سپ لے لیا۔
“ہاں بلکل ٹھیک بنی ہے۔۔۔”
کپ اسے تھماتی ہوئی بولی۔
ازلان مسکرانے لگا کیونکہ اس کا مقصد اس کی جھوٹی چاےُ پینے کا تھا۔
“اچھا حرم بہت ہی کنجوس ہو تم صرف چاےُ پر ٹرخا دیا مجھے۔۔۔”
ازلان منہ بناتا سلیب سے نیچے اتر گیا۔
حرم متحیر سی اسے دیکھنے لگی۔
“تم آؤ گی نہ میرے گھر تو روزہ رکھ کر آنا اور اگر نہ رکھ کے آئی تو میں رکھوا دوں گا وہ بھی بنا سحری کے۔۔۔”
ازلان کہتا ہوا باہر نکل گیا۔
حرم نے سکھ کا سانس لیا اور زینے اترنے لگی۔
“کل یونی میں ملتے ہیں۔۔۔”
ازلان حرم کی جانب مسکراہٹ اچھالتا گاڑی میں بیٹھ گیا۔
حرم نے مسکراتے ہوۓ دروازہ بند کر دیا۔
“شکر ہے حرائمہ کو معلوم نہیں ہوا۔۔۔”
حرم بڑبڑاتی ہوئی زینے چڑھنے لگی۔
****/////////****
“واہ بھئی ہماری گڑیا تو بہت پیاری ہے۔۔۔”
شہریار کھانے کی میز پر بیٹھا تھا جب شاہ نے ماناب کو اس کی گود میں دیا۔
“چاچو کی جان۔۔۔”
شاہ اس کے گال پر بوسہ دیتا ہوا بولا۔
یہ کرنے کی دیر تھی کہ ماناب کی چیخیں گونجنے لگیں۔
مہر پیشانی پر بل ڈالتی شہریار کے پاس آ گئی۔
“گندی بچی چاچو نے تو پیار کیا ہے۔۔۔”
شہریار اسے دیکھتا ہوا بولا۔
یکدم ماناب خاموش ہو گئی۔
“دراصل ماناب کو باتیں کرنے کی عادت ہے۔۔۔”
مہر سانس خارج کرتی ہوئی بولی۔
“اچھا تو ہماری گڑیا نے باتیں کرنی ہیں؟”
شہریار ماناب کو دیکھتا ہوا بول رہا تھا۔
سب کے چہروں پر مسکراہٹ تھی۔
“شاہ اب تم دونوں یہیں پر رک جاؤ ہمارا بھی کچھ حق ہے اپنی پوتی پر۔۔۔”
کمال صاحب خفگی سے بولے۔
“جی بابا سائیں میں سوچ رہا تھا اسی متعلق۔پھر آپ کی بات کیسے ٹال سکتا ہوں۔۔۔”
شاہ ہلکے پھلکے انداز میں بولا۔
“ویسے بھائی یہ زیادتی ہے ماناب اتنی بڑی ہو گئی ہے اور آپ اب ملوا رہے ہیں ہم سے؟”
شہریار مصنوعی خفگی سے بولا۔
“تم جانتے تو ہو جو حالات تھے۔اور اب تو لے آیا ہوں نہ؟”
شاہ زور دے کر بولا۔
“جی جی اور اب تو ہم نہیں جانے دیں گے اپنی گڑیا کو۔۔۔”
شہریار ماناب کو دیکھتا ہوا بولا جو مسلسل مسکرا رہی تھی۔
“آپ کے ساتھ تو ماشاءاللہ کھیل رہی ہے ورنہ سب کے پاس جاتے رونا شروع کر دیتی ہے۔۔۔”
مہر شہریار کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“عافیہ تمہاری امی کا فون آ رہا تھا بات کر لینی تھی۔۔۔”
عافیہ کو دیکھ کر شہریار کو فون کال یاد آ گئی۔
“چھوٹے کا بھی اب کچھ سوچ لیں۔۔۔”
ضوفشاں بیگم کمال صاحب کو دیکھتی ہوئی بولیں۔
شاہ کی نظریں شاہ ویز پر جا ٹھریں۔
شاہ ویز نے چہرہ اٹھا کر شاہ کو دیکھا۔
“امی میں لڑکی پسند کر چکا ہوں۔۔۔”
شاہ ویز کھانستا ہوا بولا۔
“کون سی لڑکی؟”
وہ آبرو اچکا کر بولیں۔
“کسے پسند کیا ہے بھئی ہمیں بھی تو معلوم ہو؟”
کمال صاحب گرج دار آواز میں بولے۔
“حرائمہ کو۔۔۔”
شاہ ویز کے منہ سے نکلنے والے الفاظ سب کو سکتے میں لے گئے۔
“پوری دنیا میں وہی ایک لڑکی باقی رہ گئی تھی کیا؟”
ضوفشاں بیگم کڑے تیور لئے بولیں۔
“امی اس گھر میں سب نے پسند کی شادی کی ہے تو پھر آپ مجھ پر کیوں برس رہی ہیں؟”
شاہ ویز بیزاری سے بولا۔
“بیگم تم خاموش رہو ہم شاہ سے مشورہ کریں گے اس متعلق۔۔۔”
ان کی بات کا مطلب تھا کہ اس معاملے میں مزید بحث نہ کی جاےُ۔
“حد ہے ساری طوائف میری گھر میں ہی آنی ہیں۔۔۔”
ضوفشاں بیگم منہ میں بڑبڑانے لگیں جسے شاہ ویز کے سوا کوئی نہ سن سکا۔
مہر متحیر سی شاہ کو دیکھ رہی تھی جس کا چہرہ کمال صاحب کی جانب تھا۔
کچھ ہی دیر میں سب مرد اپنے اپنے کام کو نکل گئے۔
مہر ماناب کو لئے صوفے پر بیٹھی تھی۔
عافیہ بھی اس کے ساتھ آ بیٹھی۔
“میری طرح آپ بھی دوسری بیوی ہیں نہ؟”
عافیہ کھڑکی سے باہر دیکھتی ہوئی بولی۔
“ہاں شاہ کی دوسری لیکن میری پہلی شادی ہے۔۔۔”
مہر ماناب کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“میں مصطفیٰ بھائی کے ماضی کے متعلق بہت کچھ جانتی ہوں اور جس انسان نے کیا اس کو بھی بہت اچھے سے جانتی ہوں۔۔۔”
عافیہ ماضی کے پنے کھول رہی تھی۔
“تم برہان کی بیوی تھی نہ؟”
بولتے ہوۓ مہر کے دماغ میں جھماکا ہوا۔
“ہاں برہان کی۔جو انسان کی شکل میں ایک جانور ہے۔۔۔”
عافیہ حقارت سے بولی۔
“اور ازلان میرا مطلب وہ بھی اپنے بھائی جیسا ہے؟”
مہر سنبھل کر بولی۔
“نہیں۔لیکن میں صرف اتنا ہی جانتی ہوں جتنا وہ گھر والوں کو دکھاتا ہے کیونکہ گھر سے باہر وہ کیا ہے ہم نہیں جانتے۔۔۔”
عافیہ شانے اچکاتی ہوئی بولی۔
“آپ کا ذکر سن کر بہت دل چاہتا تھا ملنے کو اور دیکھیں مل بھی لیا۔۔۔”
عافیہ مسکراتی ہوئی بولی۔
وہ ماریہ کے بلکل برعکس تھی۔
مہر کو یہ جان کر خوشی ہوئی تھی۔
“یہ بازو پر کیا ہوا؟”
مہر کی نظر اس کی بازو پر پڑی تو آنکھوں میں تحیر سمٹ آیا۔
“پرانے زخم۔۔۔”
عافیہ مسکراتی ہوئی بولی۔
“مجھے یقین ہے شہریار تمہیں خوش رکھتا ہو گا۔۔۔”
مہر ماناب کو شانے سے لگاتی ہوئی بولی۔
“جی بہت خوش رکھتا ہے۔آپ میرے ہاتھ کی ملائی بوٹی کھا کر دیکھیں بہت پسند آےُ گی۔۔۔”
عافیہ پرجوش انداز میں بولی۔
“پھر میں ضرور کھانا چاہوں گی۔۔۔”
مہر مسکراتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔
“کہاں جا رہی ہیں؟”
عافیہ اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“ماناب کو نیند آ رہی ہے سلانے جا رہی ہوں۔۔۔”
مہر مسکراتی ہوئی بولی۔
عافیہ اثبات میں سر ہلانے لگی۔
****/////////****
“بابا سائیں مجھے شاہ ویز کی پسند پر کوئی اعتراض نہیں۔وہ مہر کی بہن ہے اور اچھا ہو گا دونوں ایک ہی گھر میں ہوں تو۔۔۔”
شاہ رک کر انہیں دیکھنے لگا۔
