577.9K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tawaif Episode 3

Tawaif by Hamna Tanveer

“یہاں شریفوں کے لئے محفل منعقد کی جاتی ہے جسے بے شرم دوشیزائیں سجاتی ہیں۔ یہ حیا کے نخرے یہاں نہیں چلتے جتنی جلدی سمجھ جاؤ گی تمہارے حق میں بہتر ہے۔۔۔۔۔”

مہر تلخی سے گویا ہوئی۔

“آ۔۔۔آپ بے حیا ہیں؟۔۔۔۔۔”

وہ جھجھکتے ہوئے اس نازک حسن کے سراپے کو دیکھتی ہوئی بولی۔

“ہاں میں بے حیا ہوں۔۔۔۔۔۔”

مہر کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی چھائی تھی۔

وہ اشک بہاتی مہر کو دیکھنے لگی۔

مہر مزید بنا کچھ کہے باہر نکل آئی۔

ملائی جیسے پاؤں ڈھنڈے فرش پر رکھتی وہ کمرے کی جانب چلنے لگی۔

خاموشی کے راج میں پائیل کی جھنکار ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔

برش پکڑ کر پھر سے آئینے کے سامنے آ گئی۔

اپنا ایک ایک نقش آئینے میں دیکھنے لگی۔

آئینے پر ایک مغرورانہ نظر ڈال کر ہٹ گئی۔

****//////****

“حرم یار کچھ لے آؤ جا کر یا بھوکا مارنے کا ارادہ ہے۔۔۔۔۔”

آمنہ منہ بناتی ہوئی بولی۔

“یار اب تم خود سوچو کون وہاں تک جاےُ اور کھانے کو کچھ لاےُ؟۔۔۔۔۔۔”

حرم چند قدم کی مسافت پر کھڑے کینٹین والے کی سمت اشارہ کرتی ہوئی بولی۔

“مر جاؤ گی نہ تم, دریا عبور کر کے جانا ہے جو تمہیں ڈوبنے کا خطرہ لاحق ہے۔۔۔۔۔”

آمنہ تنک کر بولی۔

چند ٹیبل چھوڑ کر دوسرے ٹیبل پر ازلان اور اس کا گروپ براجمان تھا۔

“اچھا بھئ جا رہی ہوں کیا ہو گیا۔۔۔۔۔”

دوپٹہ جو سر سے ڈھلک رہا تھا حرم اسے درست کرتی کھڑی ہو گئی۔

انشرح لب دباےُ مسکراہٹ دبانے کی سعی کر رہی تھی۔ جس میں وہ ناکام ہو رہی تھی۔

حرم دونوں ہاتھ میں پلیٹیں پکڑے واپس اپنے ٹیبل کی جانب آ رہی تھی۔

نا جانے اس کا دھیان کس جانب تھا جو وہ لڑکھڑائی اور نان کے ساتھ لطف اٹھانے والی دہی کی چٹنی سیدھی ازلان کی شرٹ پر جا گری۔

ایسے جیسے حرم نے فٹ بال سیدھا اس پر پھینکا ہو۔

اس کاروائی کے وقوع پذیر ہونے میں صرف ایک لمحہ لگا تھا۔

ازلان منہ کھولے ایک نظر حرم کو دیکھتا پھر دوسری نظر اپنی شرٹ پر ڈالتا۔

چہرہ سرخ ہو رہا تھا, گردن کی رگیں ابھرنے لگیں, مٹھیاں بھینچ کر وہ کھڑا ہو گیا۔

حرم کو لگا اس کا جنازہ نکلنے والا ہے۔

“سب الٹا سیدھا اسی کے سامنے ہونا ہے حرم تم بھی اندھوں کی طرح چل رہی تھی آنکھیں استعمال کر لیتی تو یہ نہ ہوتا۔۔۔۔۔”

ازلان کو اپنی جانب قدم بڑھاتے دیکھ کر حرم خود کلامی کرنے لگی۔

کچھ طالبات چہرہ موڑ کر انہیں دیکھنے لگے۔

بھلا ایسے تماشے بھی کوئی چھوڑنا چاہے گا۔

“یہ آنکھیں اس کینٹین والے کو ادھار دے کر آئی تھی کیا؟۔۔۔۔۔”

ازلان ضبط کرتا ہوا بولا۔

“وہ مجھے نہیں پتہ تھا سامنے تم ہو۔۔۔۔۔”

حرم تھوک نگلتی ہوئی بولی۔

“وہ تو میں جانتا ہوں تمہاری آنکھیں کام کرنے کی استطاعت نہیں رکھتیں, ٹرسٹ می تمہاری جگہ کوئی لڑکا ہوتا نہ تو اب تک اس کا حشر نشر کر چکا ہوتا میں۔۔۔۔۔۔”

ازلان چبا چبا کر بولا۔

“حرم کیا ہو گیا؟۔۔۔۔”

انشرح اور آمنہ انہیں دیکھ کر آ گئیں۔

“میرا خیال ہے جو پیسہ تم لوگ کھانے پر صرف کرتے ہو اگر اس کی آنکھیں لگوا دو تو زیادہ بہتر ہو گا۔۔۔۔۔۔”

وہ گھوری سے نوازتا حرم کی جانب جھکتا ہوا بولا۔

حرم تھوک نگلتی ایک قدم پیچھے ہٹی۔

“میں آپ کو نئی شرٹ لا دوں گی۔۔۔۔۔”

ازلان کے خاموش ہوتے ہی حرم ہمت کرتی ہوئی بولی۔

“اپنے لیے آنکھیں کیوں نہیں لے آتی, دل تو کر رہا ہے یہ تمہارے منہ پر مار دوں۔۔۔۔۔۔”

ازلان نے اس کے ہاتھ میں پکڑی دوسری پلیٹ پر ہاتھ مارا اور وہ زمین بوس ہو گئی۔

“ریلیکس یار, لڑکیاں ہیں۔۔۔۔۔۔”

وکی اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔

حرم بوکھلا کر ازلان کو دیکھنے لگی۔

انشرح اور آمنہ بھی گھبرا گئیں۔

“لڑکیاں ہیں تو اس کا کیا مطلب کہ یہ سب کرتی پھریں۔۔۔‍۔”

ازلان پھر سے دھاڑا۔

“کہا تو ہے غلطی سے ہو گیا۔۔۔۔۔” حرم خفگی سے بولی۔

کیفے میں بیٹھے تمام سٹوڈنٹس اس تماشے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

” چل یار چھوڑ۔۔۔۔۔۔۔”

سیفی اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا چلنے لگا۔

ازلان کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔

آنکھوں میں شعلے اٹھ رہے تھے جو مقابل کو بھسم کر دے۔

“یار بھابھی بنا لینا اسے۔۔۔۔۔۔”

سیفی بائیں آنکھ دباتا ہوا بولا۔

“بھابھی اسے تو میں۔۔۔۔۔”

ازلان دانت پیستا ہوا بولا۔

“یار ذوناش واپس آےُ گی بھی یا نہیں؟۔۔۔۔۔”

ازلان کے چہرے پر اکتاہٹ تھی۔

“میں آج کال کر کے پوچھتا ہوں۔۔۔۔۔”

وکی سنبھل کر بولا۔

ازلان ہنکار بھرتا آگے نکل گیا۔

****////////****

“بانی ابھی تک تم نے اسے سیٹ نہیں کیا؟۔۔۔۔۔”

زلیخا بیگم خفگی سے بولتی ہوئیں اندر آئیں۔

“بیگم صاحبہ مار بھی چکی ہوں ڈرایا بھی ہے, مہر بی بی نے بھی سمجھایا لیکن نہیں وہی عزت کا رونا۔۔۔۔۔۔”

بانی بیزار سی بولی۔

“ایک کام کرو اسے دو دن اعجاز کے سامنے ڈالو دیکھنا پھر ساری عزت کے بھوت اتر جائیں گے۔۔۔۔۔۔”

زلیخا بیگم خونخوار نظروں سے دیکھتی ہوئیں بولیں۔

زلیخا بیگم کی بات پر وہ اندر تک کانپ اٹھی۔

“نہیں پلیز ایسا مت کریں مجھے جانے دیں،

پلیز آپ کو اللہ کا واسطہ مجھے چھوڑ دیں،میری امی انتظار کر رہیں ہوں گیں میرا۔۔۔۔۔”

وہ روتی بلکتی ہوئی بول رہی تھی۔

“کوئی تمہارا منتظر نہیں ہے اب یہی تمہاری زندگی ہے یہیں جیو گی اور یہیں مرو گی۔۔۔۔۔”

زلیخا بیگم زہر اگلنے لگیں۔

“میری امی وہ بیمار ہیں پلیز مجھے جانے دیں میرے سواء ان کا کوئی بھی نہیں ہے پلیز خدا کے واسطے مجھے جانے دیں۔۔۔۔۔۔”

وہ ہاتھ جوڑے آنسو بہا رہی تھی۔

“میں اعجاز کو بھیجتی ہوں تم اسے یہیں چھوڑ کر باہر آ جانا، دیکھنا کیسے اس کی عقل ٹھکانے لگاتا ہے وہ۔۔۔۔۔”

وہ بولتی ہوئیں باہر چلی گئیں۔

زلیخا بیگم اس کی موت کی نوید سنا کر گئیں تھیں۔

وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے بانی کو دیکھ رہی تھی۔

بانی دروازے کو دیکھنے لگی جہاں سے اعجاز نے آنا تھا۔

****///////****

“بہت مسئلہ ہو گیا ہے برہان۔۔۔۔۔”

شاہ ویز کی پیشانی پر شکنیں تھیں۔

” کیا ہوا؟۔۔۔۔۔”

برہان فکرمندی سے بولا۔

“یار بھائی کو معلوم ہو گیا ہے ہماری دوستی کے متعلق۔۔۔۔۔”

“مصطفیٰ شاہ کو؟۔۔۔۔۔” برہان میز پر کہنیاں رکھتا آگے ہو گیا۔

“ہاں بھائی کو۔۔۔۔۔” وہ اثبات میں سر ہلاتا ہوا بولا۔

“پھر اب تم نے کیا سوچا ہے؟۔۔۔۔۔” برہان آبرو اچکا کر بولا۔

“بھائی کہتے ہیں شہریار کے ساتھ کام پر جایا کروں اور تم سے میل ملاپ ختم کر دوں۔۔۔۔۔”

“تم سوچ لو میں زبردستی نہیں کروں گا۔۔۔۔۔۔” برہان پیچھے ہوتا کرسی سے ٹیک لگا کر بولا۔

“یار عینی کمال کا مال ہے اسے چھوڑنے کا کیسے دل کرے گا۔۔۔۔۔۔” شاہ ویز آہ بھرتا ہوا بولا۔

“چل پھر ایک چکر لگا کر آتے ہیں مشل بھی آئی ہوئی ہے ہوٹل میں۔۔۔۔۔”

برہان کھڑا ہوتا ہوا بولا۔

“دل تو کر رہا ہے لیکن بھائی کو اگر معلوم ہو گیا تو۔۔۔۔”

شاہ ویز شش و پنج میں مبتلا تھا۔

“نہیں معلوم ہوتا وہ آج کل اپنے آفس میں مصروف ہے باہر کی خبر نہیں اسے۔۔۔۔۔”

برہان اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔

“اچھا یہ بتا ماحول کیسا بنایا ہے۔۔۔۔۔”

شاہ ویز اس کے ہمراہ قدم اٹھاتا ہوا بولا۔

“شیشہ تیار کر رکھا ہے باقی اپنا انتظام خود کر لینا بھئ۔۔۔۔۔‍”

وہ آنکھ دباتا ہوا بولا۔

****//////****

مہر رقص کر کے واپس اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہی تھی۔

خاموشی میں پائیل کی آواز گونج رہی تھی۔

سرخ رنگ کی روشنیوں نے راہداری کو منور کر رکھا تھا۔

مہر نے پیشانی سے بندیا اتاری اور ہاتھ میں پکڑ کر چلنے لگی۔

خاموشی میں کسی کی سسکیاں سنائی دے رہیں تھیں۔

مہر کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔

ایک لمحہ لگا تھا اسے سمجھنے میں۔

“یہ یقیناً وہی لڑکی ہو گی۔۔۔۔۔”

مہر بولتی ہوئی آگے چلنے لگی۔

دروازہ بند تھا۔

مہر نے ہاتھ رکھتا تو وہ کھلتا چلا گیا۔

سامنے وسط میں پڑے بستر کے بائیں جانب وہ لڑکی سر گھٹنوں پر رکھے سسک رہی تھی۔

اس کی ابتر حالت اس بات کا ثبوت تھی کہ اعجاز یہاں سے جا چکا ہے۔

مہر چلتی ہوئی اس کے پاس آ گئ۔

پائیل کی چاپ پر اس نے سر اٹھا کر مہر کو دیکھا۔

سرخ آنکھیں، آنسوؤں سے تر چہرہ، تکلیف چہرے سے عیاں تھیں۔

مہر کو اس پر ترس آ رہا تھا۔

آستین پھٹی ہوئیں تھیں۔

وہ کرب سے مہر کو دیکھ رہی تھی۔

“تمہیں کہا تھا ان کی بات مان لو۔۔۔۔۔” مہر کے لہجے میں ٹھراؤ تھا۔

“انہوں نے میری زندگی تباہ کر دی، میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی۔۔۔۔۔۔”

اس نے روتے ہوۓ چہرہ پھر سے گھٹنوں پر گرا لیا۔

“یہ جگہ جہنم ہے یہاں سے کوئی بھی صحیح سلامت نہیں نکل سکتا۔۔۔۔۔”

مہر کے لہجے میں چوٹ تھی۔

“میری امی کو میری ضرورت ہے وہ بیمار ہیں پلیز مجھے یہاں سے نکلوا دیں۔۔۔۔۔”

مہر استہزائیہ ہنسی۔

“یہاں سے نکلنے کی خواہش دل سے نکال دو، اگر ہم جیسے لوگ ان عزت دار لوگوں کے لئے تفریح کا سامان فراہم نہیں کریں گے تو یہ لوگ کیسے زندہ رہیں گے؟۔۔۔۔۔”

“مجھے کیوں سزا دی جا رہی ہے۔۔۔۔” وہ تڑپ کر بولی۔

“سزا تو شاید یہاں سب کو ہی مل رہی ہے اور قصوروار وہ لوگ ہیں جو یہاں آتے ہیں کیونکہ اگر یہ امیر طبقہ یہاں نہ آےُ تو میرا نہیں خیال کوئی کوٹھا باقی رہے گا۔۔۔۔۔”

مہر تلخی سے بولی۔

وہ دھیمی آواز میں کچھ بڑبڑا رہی تھی لیکن مہر سنی ان سنی کرتی باہر کی جانب قدم بڑھانے لگی۔

مہر شہادت کی انگلی سے آنکھ صاف کرنے لگی شاید کچھ چلا گیا تھا آنکھ میں۔

“آج شاہ صاحب نہیں آےُ۔۔۔۔۔” زلیخا بیگم فکرمندی سے بولی۔

“تو باقی جو دنیا بیٹھی تھی وہ کسی گنتی میں نہیں، مجھے فرق نہیں پڑتا وہ شاہ آتا ہے یا نہیں۔۔۔۔۔”

مہر لاپرواہی سے بولی۔

“جانتی ہو نہ سب سے زیادہ شاہ صاحب ہی ہمارا خیال کرتے ہیں اور وہی ناراض ہو گئے۔۔۔۔۔۔”

زلیخا بیگم خفگی سے بولیں۔

“مجھے ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں؟۔۔۔۔۔”

مہر ماہ زلیخا بیگم کی خفا خفا نگاہیں خود پر محسوس کرتی ہوئی بولی۔

“میں نے ناراض نہیں کیا آپ کے شاہ کو۔۔۔۔۔” وہ تنک کر بولی۔

زلیخا بیگم سر جھٹک کر دوسری جانب دیکھنے لگیں۔

مہر ماہ لاپرواہ سی بنی بیٹھی رہی۔

“مہر ہماری بات مانو تو تم۔۔۔۔۔”

“اگر آپ نے مجھ سے کوئی فضول نوعیت کا مطالبہ کیا تو اپنا اور میرا معاہدہ یاد کر لیں اور اگر بھول گیا ہے تو میں یاد کروا دیتی ہوں۔۔۔۔۔”

زلیخا بیگم کی بات مکمل ہونے سے قبل مہر ماہ پھٹ پڑی۔

“مہر ہماری نرمی کا تم ناجائز فائدہ مت اٹھاؤ۔۔۔۔۔”

وہ پیشانی پر بل ڈالتی ہوئیں بولیں۔

“آپ بھی ہماری خاموشی کا ناجائز فائدہ مت اٹھائیں۔۔۔۔۔”

وہ زلیخا بیگم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ترکی بہ ترکی بولی۔

زلیخا بیگم ضبط کرتی خاموش ہو گئیں۔

اگر مزید بحث کرتیں تو بات بگڑ جاتی اور یہی مچھلی تو پورے سمندر کی رونق تھی اسے کیسے اپنا مخالف بنا لیتیں۔

زلیخا بیگم کشمکش میں مبتلا تھیں۔

مہر سونے کی تیاری کر رہی تھی اور اب بیزار سی زلیخا بیگم کو دیکھنے لگی مانو اس کے آرام میں خلل پیدا کیا ہو اور اب باہر جانے کا بول رہی ہو۔

زلیخا بیگم اس کی نگاہوں کا مفہوم سمجھ کر کھڑی ہو گئیں اور گرارہ سنبھالتی دروازے کی جانب چلنے لگیں۔

مہر کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔

ہاتھ کو مٹھی کی شکل میں زور سے بند کر رکھا تھا۔

اتنی طاقت سے کہ اس کی ہتھیلی پر ناخنوں کے نشان ثبت ہو گئے۔

“تماشہ سمجھ رکھا ہے مجرے سے دل نہیں بھرتا اب یہ کام بھی مجھ سے کروانا چاہتے ہیں، میں بھی دیکھتی ہوں یہاں کون میری مرضی کے خلاف چلتا ہے۔۔۔۔۔۔”

وہ ہنکار بھرتی صوفے بیڈ سے اٹھی، چلتی ہوئی دروازے کے پاس آئی اور زور سے دروازہ بند کر دیا۔

****//////****

“آج تو کیوں نہیں آیا؟۔۔۔۔۔”

عدیل سیگرٹ کا کش لیتا ہوا بولا۔

“بس کچھ مانگ رکھی ہے اگر وہ پوری کر دیں گے تو وہاں کا رخ بھی کر لوں گا۔۔۔۔۔”

شاہ لبوں سے سرمئ دھواں اڑاتا ہوا بولا۔

سیاہ اندھیری رات میں وہ دونوں چھت پر بیٹھے سیگرٹ پھونک رہے تھے۔

مہتاب آج فلک پر دکھائی نہیں دے رہا تھا شاید وہ بھی خفا تھا جیسے شاہ خفا تھا۔

چاروں سمت خاموشی کا راج تھا ایسے میں ان کی دھیمی آوازیں اس خاموشی میں ارتعاش پیدا کرتیں۔

آس پاس درخت اس وقت سیاہ دکھائی دے رہی تھی۔

ایک چھوٹی سی لائٹ انہوں نے اپنی چارپائی پر جلا کر رکھی ہوئی تھی جو ان کے اردگرد سے اندھیرے کو تمام کرنے کی سعی کر رہی تھی۔

“کیسا مطالبہ؟۔۔۔۔۔”

عدیل تجسس سے بولا۔

“کچھ خاص نہیں۔۔۔۔۔”

شاہ کا انداز ٹالنے والا تھا۔

“کمینے ہم اتنے پرانے دوست ہیں اور تو ابھی بھی مجھ سے راز رکھتا ہے۔۔۔۔۔”

عدیل شکوہ کناں نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔

“جب وقت آےُ گا معلوم ہو جاےُ گا۔۔۔۔۔”

شاہ نے اس کی بات کا اثر کا نہ لیا۔

“کوئی نہیں تیرا بھی وقت آےُ گا۔۔۔۔۔”

عدیل کہتا ہوا سیگرٹ ایش ٹرے میں مسلنے لگا۔

“مجھے تو سمجھ نہیں آتی آپ پورے گاؤں پر حکم چلاتے ہیں ایک وہ چھوٹے پر حکم نہیں چلتا آپ سے۔۔۔۔‍۔”

ضوفشاں بیگم خفگی سے بولیں۔

“تم نے ہی سر پر چڑھایا ہے چھوٹے کو اب کہاں سنتا ہے میری وہ۔۔۔۔۔” کمال صاحب کوفت سے بولے۔

“میں نے کہاں سر پر چڑھا رکھا ہے آپ ہی کی شہ پر وہ دندنا پھرتا ہے صبح ہونے دیں میں خود شاہ سے بات کروں گی کہ چھوٹے کو سیدھا کرے نا جانے ساری ساری رات کہاں رہتا ہے۔۔۔۔۔”

وہ فکرمندی سے بولیں۔

“مجھ سے پوچھو کہاں رہتا ہے سب معلوم ہے مجھے، آغا کو لگایا تھا اس کے تعاقب میں پوری رپورٹ دی ہے مجھے۔۔۔۔۔”

وہ غصے سے گویا ہوۓ۔

“پتہ نہیں اس لڑکے کا کیا بنے گا کل کلاں کو شادی کریں گے تو لوگ سو باتیں بنائیں گے کہ شاہ کمال ترین کا بیٹا آوارہ گرد ہے۔۔۔۔۔” وہ افسوس سے بولیں۔

“ہاں تو آوارہ گرد ہی ہے آدھا گاؤں تو جانتا ہے اور اب خاموشی سے سو جاؤ ورنہ تمہارے چھوٹے (شاہ ویز) کا غصہ تم پر نکال دیں گے۔۔۔۔۔”

وہ خطرناک تیور لئے بولے۔

ضوفشاں بیگم نے خاموشی میں عافیت جانی اور دروازے کی سمت بڑھیں۔

“نجمہ کہاں مر گئی ہے دودھ لانے کا بولا تھا اسے؟۔۔۔۔۔”

ضوفشاں بیگم کی غصے سے بھرپور آواز گونجی۔

“بیگم صاحبہ آئی۔۔۔۔۔”

نجمہ گھبرا کر بولی۔

“آنے دو اسے ٹانگیں توڑنی ہیں اس کی کوئی کام وقت پر نہیں کرتی۔۔۔۔۔”

وہ کہتی ہوئیں صوفے پر بیٹھ گئیں۔

کمال صاحب چشمہ لگاےُ حساب کتاب دیکھنے لگے۔

****////////****

“حرم تمہیں معلوم ہے کل سپورٹس گالا ہے۔۔۔۔۔”

انشرح پرجوش انداز میں بولی۔

“نہیں تو۔۔۔۔۔” حرم سادگی سے بولی۔