577.9K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tawaif Episode 17

Tawaif by Hamna Tanveer

“دیکھو ازلان میں نے تمہیں شرٹ بھی لا کر دی تھی دو بار۔۔۔”

حرم زور دے کر بولی۔

“تو؟

ازلان سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔

“تو،، تمہیں مجھے کچھ نہیں کہنا چائیے۔۔۔”

حرم سوچتی ہوئی بولی۔

“واہ بڑی اچھی بات کہی ویسے میں سوچ رہا ہوں اس کھڑکی سے تمہیں نیچے پھینک دوں۔۔۔”

ازلان آگے ہوتا کھڑکی سے نیچے جھانکتا ہوا بولا۔

حرم کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔

ترچھی نظر سے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔

“پا پاگل ہو گئے ہو کیا؟ مر جاؤں گی میں۔۔۔”

حرم صدمے سے بولی۔

“پھر کیا ہوا؟”

ازلان طمانیت سے بولا۔

ازلان کے اطمینان سے حرم کا رہا سہا سکون بھی غارت ہو گیا۔

“تم نے ٹھیکہ لے رکھا ہے مجھے تنگ کرنے کا؟”

ازلان انگلی اٹھاتا ہوا بولا۔

“نہ نہیں میں کیوں ایسا کروں گی سب خود بخود ہو جاتا۔۔۔”

وہ معصومیت کی انتہا کو چھوتی ہوئی بولی۔

ازلان قہر برساتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔

“میں نے تمہیں۔۔۔”

حرم بول رہی تھی کہ ازلان نے اسے ٹوک دیا۔

“کیا نیا پیپر لا دو گی؟”

ازلان دانت پیستا ہوا بولا۔

“نہیں۔۔۔۔”

حرم تاسف سے بولی۔

“پھر اب کیا سزا دی جاےُ تمہیں کھڑکی سے پھینک دوں یا پھر بجلی کی تار تمہارے ہاتھ میں دے دوں۔۔۔۔”

ازلان اس خوفزدہ سی لڑکی کو دیکھ کر لطف اندوز ہو رہا تھا‍۔

“خدا کا خو خوف کرو میری جان بھی جا سکتی ہے۔۔۔۔”

حرم اٹک اٹک کر بولی رہی تھی مانو کسی نے سولی پر لٹکا رکھا ہو۔

“زیادہ نہیں بس تھوڑی سی۔۔۔”

ازلان محظوظ ہوتا ہوا بولا۔

“تھوڑی سی کیسے جاتی ہے؟”

حرم صدمے سے بولی۔

“جب تمہاری جاےُ گی پھر معلوم ہو جاےُ گا۔۔‍”

ازلان بمشکل مسکراہٹ روکتا ہوا بولا۔

“می میں بھائی کو بلا لوں گی ہاں۔۔۔”

حرم سوچتی ہوئی بولی۔

“اچھا بلاؤ بھائی کو میں بھی اپنے سالے سے مل لوں گا۔۔۔۔”

ازلان اس کے ہاتھ میں پکڑے فون کی جانب نگاہوں سے اشارہ کرتا ہوا بولا۔

“میرے بھائی کو گالی دے رہے ہو؟”

حرم کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔

“پاگل ہو کیا میں اپنے سالے صاحب کی بات کر رہا۔ ہمارے نکاح کے باعث۔۔۔”

ازلان زور دے کر بولا۔

“اچھا میں جاؤں؟”

حرم مظلومیت سے بولی۔

“ایسے کیسے پہلے سزا پھر جانا۔۔۔”

ازلان اس کے قریب ہو گیا۔

حرم رونے والی شکل بناےُ اسے دیکھ رہی تھی۔

ازلان قہقہ لگاتا اسے دیکھنے لگا۔

اس سے زیادہ اس میں سکت نہ تھی۔

حرم نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی جو منہ کھول کر ہنس رہا تھا۔

“اب کیا ہوا؟”

حرم منہ بسور کر بولی۔

“تمہاری شکل ایسی ہے دیکھ کر۔۔۔۔”ازلان نے قہقہ لگاتے بات ادھوری چھوڑ دی۔

حرم برا مان گئی۔

حرم نے جانے کے لیے قدم بڑھا دئیے۔

“اچھا سنو۔۔۔”

ازلان اسکی کلائی پکڑتا ہوا بولا۔

“کیا؟”

حرم منہ بناتی اسے دیکھنے لگی۔

“آج چلی جاؤں گی تم؟”

ازلان اسے اپنے سامنے لاتا ہوا بولا۔

“ہاں بھائی لینے آئیں گے۔۔۔”

حرم دھیرے دھیرے بول رہی تھی۔

“مجھے مس کرو گی؟”

ازلان بغور اس کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا۔

حرم نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔

“پتہ نہیں۔۔۔”

حرم گڑبڑا کر بولی۔

“میں تمہاری ان الٹی سیدھی حرکتوں کو بہت مس کروں گا۔۔۔‍”

ازلان شرارت سے بولا۔

“تمہیں تو شکر کرنا چائیے۔۔۔”

حرم خفا خفا سی بولی۔

“اچھا سنو؟”

“سن تو رہی ہوں اور کیسے سنوں؟”

حرم خفگی سے دیکھتی ہوئی بولی۔

“مجھ سے رابطے میں رہنا اور اگر تم نے نخرے دکھاےُ تو تمہارے گھر آ جاؤں گا۔۔۔”

ازلان دھمکانے والے انداز میں بولا۔

“تمہیں میرا گھر معلوم ہے؟”

حرم ششدہ سی بولی۔

“آج جاؤں گی نہ تم تو میں بھی دیکھ لوں گا تمہارا گھر۔۔۔”

ازلان بائیں آنکھ دباتا ہوا بولا۔

حرم کا چہرہ حیا کے باعث سرخ ہو گیا۔

“میں جاؤں؟”

حرم نے اپنی کلائی آزاد کروانی چاہی۔

“اگر میں کہوں نہیں۔ پھر؟”

ازلان اس کی جھکی پلکوں کو دیکھتا ہوا بولا۔

“بھائی آ جائیں گے پلیز جانے دو مجھے۔۔۔۔”

حرم التجائیہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔

ازلان نے مسکراتے ہوۓ اس کی کلائی آزاد کر دی۔

حرم پیچھے مڑے بنا نکل گئی۔

ازلان مسکراتا ہوا بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔

“جی بھائی آج آؤں گا میں۔ اگر کام نہیں تو آپ آ جائیں ورنہ ڈرائیور کو بھیج دیں۔۔۔۔”

ازلان فون کان سے لگاےُ چل رہا تھا۔

“چلیں ٹھیک ہے بابا کو بتا دینا آپ میں کچھ دیر میں نکلتا ہوں۔۔۔۔”

ازلان نے کہتے ہوۓ فون رکھ دیا۔

****///////****

“کیا مطلب ہے حرائمہ غائب ہو گئی؟ آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی؟”

زلیخا بیگم حلق کے بل چلائیں۔

“بیگم صاحبہ میں فیشل کروا رہی تھی اور وہ رفو چکر ہو گئی۔۔۔۔”

سائرہ گھبراتی ہوئی بولی۔

“آگ لگے تمہارے فیشل کو عقل کی اندھی اس کو بھگا دیا تو نے۔۔۔۔”

زلیخا بیگم نے بولتے ہوۓ اس کے بال دبوچ لیے۔

“قسم لے لیں بیگم صاحبہ جو میرا ہاتھ ہو اس میں۔۔۔۔”

تکلیف اس کے چہرے سے عیاں تھی۔

“ایسے کیسے بھاگ گئی وہ اتنے وقت سے تو اچھے سے کام کر رہی تھی پھر؟”

زلیخا بیگم اسے پرے کرتی ہوئیں بولیں۔

بانی حقہ بقہ سی یہ منظر دیکھ رہی تھی۔

“کس کا کام ہو سکتا ہے یہ؟”

وہ بانی کو دیکھتی ہوئیں بولیں۔

“بیگم صاحبہ میں تو آپ کو کہتی تھی وہ چھپی رستم ہے آج موقع دیکھ کر بھاگ نکلی اور کیا۔۔۔”

بانی منہ بناتی ہوئی بولی۔

“منہ بند کر لے اپنا۔۔۔”

زلیخا بیگم طیش میں چلائیں۔

بانی دو قدم دور ہو گئی۔

“اس آئمہ کو فون لگا ابھی تک کچھ نہیں کیا اس بیوقوف نے۔۔۔۔”

وہ غصے میں دھاڑ رہیں تھیں۔

بانی گھبراتے ہوۓ فون ملانے لگی۔

“بیگم صاحبہ اٹھا نہیں رہی وہ۔۔۔”

بانی مایوسی سے بولی۔

زلیخا بیگم بے چینی سے پہلو بدلتی باہر نکل گئیں۔

****////////****

“سنبل تم بھی چلو گی نہ میرے ساتھ۔۔۔”

آئمہ مسکراتی ہوئی بولی۔

“لیکن میں کیا کروں گی تمہارے گھر؟”

سنبھل معصومیت سے بولی۔

“میں نے تمہیں بتایا نہیں ہمارا گھر بہت بڑا ہے بہت سارے نوکر ہیں۔ کچھ دن ہمارے گھر رہ لو پھر اپنے گاؤں چلی جانا۔۔۔”

آئمہ نے جال پھینکا۔

سنبل جو کہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھی آئمہ کی آن بان دیکھ کر مرعوب ہو گئی تھی اس پر اس کی آفر۔ وہ کشمکش میں مبتلا ہو گئی۔

دل چاہ رہا تھا کہ کچھ دن وہ بھی ملکہ کی مانند رہے جبکہ دماغ ناموزوں قرار دے رہا تھا کسی کے گھر جا کر رہنے کو۔

ہمیشہ دل ہی مات دیتا ہے دماغ کو۔

“ٹھیک ہے میں تین دن تمہارے گھر رہ کر پھر اپنے گاؤں چلی جاؤں گی یہ بتاؤ تمہارا ڈرائیور مجھے چھوڑ آےُ گا نہ؟”

سنبل نے تصدیق کرنا چاہی۔

“ہاں یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے کیا؟ میرے ایک اشارے پر ساری فوج قطار میں کھڑی ہو جاتی ہے۔۔۔”

آئمہ تفاخر سے بولی۔

معصوم سی سنبل جس نے دنیا کے رنگ بھی نہ دیکھے تھے وہ آئمہ جیسی تیز طرار لڑکی کی چکنی چپڑی باتیں کیسے سمجھ پاتی۔

“ٹھیک یے پھر تم مجھے میرے ہاسٹل سے پک کر لینا۔۔۔”

سنبل خوشی سے چہکی۔

“تم بس تیار رہنا۔۔۔”

آئمہ ہاتھ ہلاتی مسکراتی ہوئی نکل گئی۔

بلآخر اس کی محنت رنگ لے ہی آئی۔

“بیگم صاحبہ اب مجھ سے خوش ہوں گی اس سے نہیں۔۔۔۔”

وہ کدورت سے بولی۔

****///////****

“اب تم مجھے اپنے بارے میں بتاؤ۔۔۔۔”

مہر کھانے سے فارغ ہو کر بولی۔

“آپی آپ کے شوہر کو کوئی مسئلہ تو نہیں میرے یہاں آنے سے؟”

آئمہ نے گھبراتے ہوۓ استفسار کیا۔

“میں نے پہلے بھی کہا تھا اور اب بھی کہ رہیں ہوں ان کو کوئی مسئلہ نہیں ہے تم بے فکر ہو کر رہو یہاں۔۔۔۔”

مہر مسکراتی ہوئی بولی۔

“بہت شکریہ آپ نے مجھے اس جہنم سے نکال دیا۔۔۔۔”

وہ مہر کے ہاتھ پکڑتی تشکرانہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔

“شکریہ کی ضرورت نہیں۔۔۔۔”

مہر مسکراتی آنکھوں سے دیکھتی ہوئی بولی۔

“آپی ایک بات پوچھ سکتی ہوں؟”

“ہاں پوچھو؟”

مہر نرمی سے بولی۔

“آپ نے مجھے کیوں نکالا وہاں سے میرا مطلب آپ کی اپنی زندگی ہے لیکن آپ نے میرا سوچا اور اپنی بات پر عمل درآمد کیا کیوں؟”

وہ آنکھوں میں نمی لئے بولی۔

“کیونکہ میری کسی نے مدد نہیں کی تھی۔

میں نے تمہاری مدد کی تاکہ کل کو تم بھی کسی کی مدد کرنے کے قابل ہو سکو۔۔”

مہر کی آنکھوں میں کرب دکھائی دے رہا تھا۔

درد ناک ماضی کی اذیت ناک یادیں۔

مہر نے آنکھیں زور سے بند کر کے کھولیں۔

“سوری۔۔۔”

حرائمہ نادم سی بولی۔

“ارے نہیں تم سوری مت بولو۔

وہ شعر شاید پڑھا ہو۔۔

یاد ماضی عذاب ہے یا رب

چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

بس ایسا ہی کچھ حال ہے۔۔۔۔”

مہر نم آنکھوں سے مسکرا دی۔

حرائمہ کی آنکھیں چھلک پڑیں۔

شہادت کی انگلی سے وہ آنکھ صاف کرنے لگی۔

“اب تم بتاؤ کچھ اپنے بارے میں۔۔۔۔”

مہر خود کو سنبھالتی ہوئی بولی۔

“ہمارے گھر میں صرف میری امی اور میں، ہم دو افراد رہتے ہیں۔ابو بہت پہلے دنیا سے منہ موڑ گئے لیکن انہوں نے میرے مستقبل اور شادی سب کی تیاری کر رکھی تھی۔۔۔۔”

حرائمہ اشک بہاتی بول رہی تھی۔

مہر نے اسے رونے دیا تاکہ دل کا بوجھ ہلکا ہو جاےُ۔

“پھر دو سال پہلے میری امی کا گردہ فیل ہو گیا تب سے وہ ڈائلائسز پر ہیں میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ گھر کا کام اور امی کو سنبھالتی تھی لیکن میری کلاس فیلو نے بہانے سے مجھے اس کوٹھے پر پہنچا دیا۔ پتہ نہیں امی کس حال میں ہوں گی انہیں ہاسپٹل بھی میں ہی لے جاتی تھی۔۔۔۔”

حرائمہ کا چہرہ اشکوں سے تر ہو چکا تھا۔

مہر بھی اشک بہاتی اسے دیکھ رہی تھی۔

ان کا دکھ سانجھا نہیں تھا لیکن مہر کے کچھ زخم ہرے ہو گئے تھے مانو کسی نے نمک چھڑک دیا ہو اور اب وہ رسنے لگے تھے۔

“آپ کے جانے کے بعد ان لوگوں نے مجھ سے مجرے کرواےُ اور تین بار۔۔۔۔”

حرائمہ کے الفاظ دم توڑ گئے۔

“میں سمجھ گئی ہوں۔۔۔”

مہر اس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔

“لیکن میں شکر گزار ہوں اللہ کی اس پاک ذات نے مجھے اس جہنم سے نکال دیا۔۔۔”

مہر ششدہ سی اسے دیکھنے لگی۔

“وہ جس کی عصمت کو تار تار کیا گیا تھا آج رہا ہونے پر وہ شکر کر رہی تھی اور میں؟ اللہ نے میری عزت کی حفاظت کی لیکن میں آج بھی اس رب کا شکر نہیں کرتی میں آج بھی اس سے منہ موڑے ہوۓ ہوں۔۔۔۔”

حرم خود کلامی کر رہی تھی۔

حرائمہ چہرہ صاف کر کے مہر کو دیکھنے لگی جو غائب دماغی سے اسے دیکھ رہی تھی۔

“آپ اپنے بارے میں بتائیں؟ آپ کیسے وہاں پہنچیں؟”

مہر سانس خارج کرتی کچن کے دروازے کو گھورنے لگی۔

“میرے بابا نے۔۔۔”

گلے میں آنسوؤں کا پھندا پھنس گیا۔

آنسو ٹپ ٹپ اس کے رخسار کو بھگو رہے تھے۔

تیزی سے بہتے اشک، سرخ ہوتیں آنکھیں اور چہرے پر عیاں کرب، مہر پر بیتی قیامت خیز داستاں کے گواہ تھے۔

“وہ نشہ کرتے تھے ایک دن جب پیسے نہ ملے قرضہ پہاڑ برابر ہو گیا تو مجھے زلیخا بیگم کے ہاتھ چند کھوٹے سکوں کے عوض بیچ دیا۔۔۔۔”

مہر ٹھر ٹھر کر بول رہی تھی۔

اس کی آنکھوں میں دکھائی دیتا کرب آج زباں پر آ ہی گیا تھا۔

“مجھ سے زیادہ بد قسمت اور کوئی نہیں ہو گا جسے اس کے باپ نے ایسے جہنم میں دھکیل دیا، میری امی نے ساری زندگی روکھی سوکھی کھائی، روتے سسکتے گزار لی کپڑے سلائی کر کے مجھے پالا، گھر کو چلایا

لیکن اس انسان کو رحم نہیں آیا اور مجھے اٹھا کر پھینک آیا۔اس کے بعد زلیخا بیگم نے مجھے امی کی موت کی اطلاع دی۔۔۔۔۔”

مہر سانس لینے کو رکی۔

“بس اس طرح میں پہنچ گئی وہاں۔۔۔”

مہر حرائمہ کو دیکھتی ہوئی بولی جس کی آنکھیں اشک بار تھیں۔

“میں دوائی کھا لوں۔۔”

مہر بہانہ بناتی اٹھ گئی۔

حرائمہ شاید سمجھ چکی تھی اس لئے خاموش رہی۔

مہر نے دروازہ لاک کر لیا اور زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔

اشک تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔

سسکتے ہوۓ اس نے چہرہ گھٹنوں پر گرا لیا۔

زبان خاموش تھی کیونکہ آنسو بول رہے تھے۔

اس کی آنکھیں بول رہیں تھیں۔

اس کا دل بول رہا تھا۔

درد کی زباں نہیں ہوتی وہ اپنے آپ عیاں ہو جاتا ہے۔

بلکل اسی طرح جیسے ہر بات کہنے کے لیے الفاظ درکار نہیں ہوتے۔

درد کو بیان کرنے کے لیے بھی الفاظ کی ضرورت نہیں پڑتی، وہ لفظوں کا محتاج نہیں ہوتا۔

آج وہ پھر سے خود کو تنہا محسوس کر رہی تھی۔

اسے سمیٹنے والا کوئی بھی نہیں تھا جیسے کچھ سال قبل کوئی نہیں تھا۔

تب بھی اس نے خود اپنی ذات کے ٹکڑے سمیٹے تھے اور آج بھی اسے خود ہی سمیٹنے تھے۔

“شاہ آپ کے ہونے سے بھی مجھے تقویت نہیں ملی کیونکہ آپ کو مجھ سے محبت نہیں ہے۔ آپ مجھے پسند کرتے ہیں اور پسند تو ہر دوسری تیسری چیز آ جاتی ہے۔ پسند تو کبھی بھی بدل جاتی ہے۔

آپ میرا سہارا نہیں ہیں آپ میرے سائباں نہیں ہیں۔ میں آپ کی ضرورت ہوں اور جب ضرورت پوری ہو جاےُ تو چیزیں بے مول ہو جاتی ہیں۔

ہو سکتا ہے ہمارا بچہ لے کر آپ بھی مجھے بے مول کر دیں۔ کیسے آپ پر اعتبار کروں آپ نے تو کبھی اعتبار کروایا ہی نہیں۔

آپ کو مجھ سے مطلب ہے میری خوبصورتی سے۔ اس مطلب کی بہت اہمیت ہوتی ہے کسی بھی رشتے میں کیونکہ جب مطلب نکل جاےُ تو رشتہ باقی نہیں رہتا۔ میں نہیں چاہتی کہ مجھے آپ سے محبت ہو کیونکہ آپ نے مجھے جھکانے کا قصد کر رکھا ہے یہ رشتہ صرف ایک مذاق ہے اور مذاق جب دل چاہے ختم کر سکتے ہیں۔

کاش آپ مجھے سنبھال لیتے شاہ کاش آپ میرا درد بانٹتے

آپ میرے ہمدرد بنتے۔

کاش ایسا ہوتا شاہ آپ کو مجھ سے محبت ہوتی تاکہ میں بھی اس کھلی فضا میں سانس لے پاتی مجھے بھی تسلی ہوتی کوئی چاہنے والا ہے میرا۔ لیکن نہیں آپ بھی اس گندی دنیا کا ایک حصہ ہیں کیونکہ عزت دار تو آپ بھی نہیں جو مرد کوٹھے پر جاتا ہے اس پر اعتبار سراسر بیوقوفی ہے۔۔۔”

مہر سر جھٹکتی ہوئی بولی۔

“اور میں یہ بیوقوفی کبھی نہیں کروں گا شاہ، اپنا دل اپنے جذبات بے مول نہیں ہونے دوں گی میں۔۔۔۔”

مہر مرمریں ہاتھوں سے رخسار رگڑتی ہوئی بولی۔

****////////****

“شاہ ویز تمہیں معلوم ہے شاہ کوٹھے پر جاتا ہے؟”

برہان فون سے نظریں ہٹا کر بولا۔

شاہ ویز سکتے میں آ گیا۔

“میں نہیں مان سکتا بھائی ایسے نہیں ہیں ضرور تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔”

شاہ ویز کا سکتا ٹوٹا تو نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا۔

“تمہیں کیا لگتا ہے میں جھوٹ بولوں گا؟ شاہ کا حال تمہارے سامنے ہے وہ خود نجانے کیا کرتا رہتا ہے اور تمہیں گھر سے نکال رکھا ہے صرف اسی لئے کہ تم مجھ سے دوستی رکھنا چاہتے ہو۔۔۔”

برہان تاسف سے بولا۔

“وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن بھائی ایسا نہیں کر سکتے یار وہ بہت مختلف مزاج کے مالک ہیں ایسی توقع کم از کم میں نہیں رکھتا ان سے۔۔۔”

شاہ ویز ماننے سے انکاری تھا۔

“تم بیوقوف ہو شاہ ویز وہ شاہ سب کو اپنے اشاروں پر چلا رہا ہے۔