Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428

Last updated: 9 December 2025

Tawaif by Hamna Tanveer

"جانتے ہو کل رات کوٹھے پر جو تماشہ لگا۔۔۔۔" شاہ کرسی کے ساتھ ٹیک لگاتا ہوا بولا۔
"میں خوشنصیب تھا جو عین اس وقت پہنچا ورنہ مس ہو جاتا۔۔۔۔" عدیل مسکراتا ہوا بولا۔
"کیا نام ہے اس کا, ہاں مہر,آخر سمجھتی کیا ہے خود کو۔۔۔۔" شاہ ریوالونگ چئیر کو دائیں بائیں ہلاتا ہوا بولا۔
"بس یار کوٹھے کی شان ہے وہ تبھی مغرور ہے ویسے غرور اس پر ججتا بھی ہے۔۔۔۔" عدیل کی آنکھوں کے سامنے مہر کا دلکش سراپا آ گیا۔
شاہ لب بھینچے چئیر موڑ کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔
"کیا ہوا؟۔۔۔۔" شاہ کو خاموش پا کر وہ پھر سے گویا ہوا۔
"کچھ نہیں بس اس نیوز کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔۔" شاہ اپنی سوچوں کو جھٹکتا ہوا بولا۔
"کون سی نیوز؟۔۔۔۔"
عدیل کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
"وہ جو دو دن پہلے چلائی تھی, منی لانڈرنگ کی, ایکٹریس حریم ستار کی۔۔۔۔" شاہ اس کی جانب رخ موڑتا ہوا بولا۔
"اووہ اچھا وہ۔۔۔۔"
عدیل اثبات میں سر ہلاتا ہوا بولا۔
"مجھے دھمکی دے رہی تھی میں اس نیوز کو اڑانا بند کر دوں۔۔۔۔"بولتے بولتے شاہ کی پیشانی پر تین لکریں ابھریں۔
"پھر تم نے کیا کہا۔۔۔۔" عدیل آبرو اچکا کر بولا۔
میز جو کہ دونوں کے وسط میں پڑا تھا شاہ نے اس پر سے قلم اٹھایا۔
"تجھے لگتا ہے میں کسی کی دھمکی سن کر ڈر جاؤں گا وہ بھی ایک لڑکی کی۔۔۔۔" شاہ تمسخر اڑاتا ہوا بولا۔
"ویل, اچھا کیا اس حریم ستار کو بھی معلوم ہونا چائیے نہ۔۔۔۔" عدیل دانت پیستا ہوا بولا۔
"کافی پئے گا۔۔۔۔" شاہ ریسیور اٹھا کر بولا۔
"پلا دے گا تو باہر نہیں آ جاےُ گی۔۔۔۔" عدیل منہ بناتا ہوا بولا۔
شاہ کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ ابھری جسے دباتے ہوۓ وہ ریسیور کان سے لگاےُ بولنے لگا۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!