Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 7
Tawaif by Hamna Tanveer
“سر آپ دیکھ رہے ہیں اس بیوقوف کو کلاس میں بیٹھنے کی تمیز بھی نہیں ہے مجھ تو سمجھ نہیں آتا یہ اس یونی میں کر کیا رہی ہے۔۔۔۔۔”
ازلان کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔
“سوری غلطی سے ہو گیا۔۔۔۔۔”
حرم آنسو پیتی ہوئی بولی۔
“ازلان بہت ہو گیا حرم نے سوری کر لی ہے آپ اپنی نشست پر بیٹھیں اب مزید وقت کا ضیاع مت کریں۔۔۔۔۔”
ازلان نے بولنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ پروفیسر بول پڑے۔
ازلان لب بھینچے واپس اپنی نشست پر آ گیا۔
حرم اپنی ہتک محسوس کر کے خود میں سمٹ گئی۔
دل رونے کے لئے بےقرار تھا لیکن وہ یہاں رونا نہیں چاہتی تھی۔
“میں دیکھتا ہوں تم میرے عتاب سے کیسے محفوظ رہتی ہو۔۔۔۔۔”
ازلان منہ میں بڑبڑایا۔
حرم جلدی سے ٹیسٹ کر کے نکل گئی۔
حرم کے نکلتے ہی ازلان بھی نکل گیا۔
“رکو۔۔۔۔۔”
وہ حرم کے عقب سے بولا۔
حرم سنی ان سنی کرتی ناک کی سیدھ میں چلتی رہی۔
“تمہیں سنائی نہیں دیتا۔۔۔۔۔”
ازلان اس کی بازو پکڑتا ہوا بولا۔
حرم اس کی گرفت پر جی جان سے لرز گئی۔
“میری بازو چھوڑو؟۔۔۔۔”
حرم بمشکل آنسوؤں کو روکے ہوۓ تھی۔
“تم میرے پیچھے کیوں پڑی ہو بتاؤ آج مجھے۔۔۔۔۔”
ازلان اس کی بات نظر انداز کرتا ہوا بولا۔
حرم کی نگاہیں اردگرد سے گزرتے طالبات پر تھیں جو انہیں دیکھ کر باتیں کرتے جا رہے تھے۔
“سب دیکھ رہے ہیں پلیز چھوڑو، مجھے درد ہو رہا ہے۔۔۔۔۔”
حرم اپنی بازو آزاد کروانے کی سعی کرتی ہوئی بولی۔
حرم کی آنکھیں اشکوں سے لبریز تھیں۔
جو کسی بھی لمحے چھلک سکتی تھیں۔
“میری بات کا جواب دو۔۔۔۔۔۔”
ازلان بضد ہوا۔
“مجھے کوئی بھی بیر نہیں تم سے پلیز چھوڑ دو سب دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔”
وہ التجائیہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
حرم کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
آج ازلان ترس کھانے کا قصد نہیں رکھتا تھا۔
“میری بات غور سے سن لو تم یہ جو الٹی سیدھی حرکتیں کرتی ہو نہ اگر میں کچھ کرنے پر آیا تو ساری زندگی روتی پھرو گی۔۔۔۔۔۔”
ازلان اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب لاتا ہوا بولا۔
حرم نے بوکھلا کر الٹا قدم اٹھایا۔
اتنی نزدیکیاں اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ کسی لڑکے کے اتنی قریب جاےُ گی وہ۔
“پلیز لیٹ می گو۔۔۔۔۔”
حرم دھیرے سے بولی۔
ازلان نے ہاتھ ہٹا لیا اور اسے اپنی گرفت سے آزاد کر دیا۔
” ذوناش میں عقبی حصے میں جا رہا ہوں میری بات سنو آ کر۔۔۔۔۔”
ازلان چلتا ہوا فون کان سے لگاےُ بول رہا تھا۔
حرم اسے نظروں سے اوجھل ہوتا دیکھ رہی تھی۔
خود پر نظریں محسوس کر کے اس نے واش روم کا رخ کیا۔
حرم دل کھول کر روئی حتیٰ کہ اس کی آنکھیں سوجھ گئیں۔
وہ جتنا لڑکوں سے دور رہنے کی سعی کرتی ازلان اتنا قریب آتا جا رہا تھا۔
“اگر بھائی کو معلوم ہو گیا تو مجھے جان سے مار دیں گے۔۔۔۔۔”
حرم کی آنکھوں میں خوف تیرنے لگا۔
“کل جا کر اس کی شرٹ لے آؤں گی اور اسکے منہ پر ماروں گی۔۔۔۔۔”
حرم ہاتھ کی پشت سے چہرہ رگڑتی ہوئی بولی۔
جب کچھ سنبھل گئی تو باہر نکل آئی۔
****//////****
“ڈاکٹر صاحبہ زیادہ کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا؟۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم تشویش کا اظہار کرنے لگیں۔
“نہیں یہ ڈرپ پوری ہو جاےُ پھر اس کے بعد یہ دوسری ڈرپ لگائیں گے لیکن ان کی عمر ابھی کم ہے آپ کو سوچ سمجھ کر یہ قدم اٹھانا چائیے تھا۔۔۔۔۔”
وہ افسوس سے بولیں۔
حرائمہ بے سدھ بیڈ پر لیٹی تھی, چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔
“ہاں میں آگے سے خیال رکھوں گی بس علم نہیں تھا۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم مسکراتی ہوئیں بولیں۔
“بیگم صاحبہ چودھری عنایت حسین تشریف لاےُ ہیں۔۔۔۔۔”بانی کمرے میں قدم رکھتی ہوئی بولی۔
“ڈاکٹر صاحبہ آپ معائنہ جاری رکھیں میں آتی ہوں کچھ دیر میں۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم مسکراتی ہوئیں نکل گئیں۔
“ہمارے بھاگ کھل گئے چودھری صاحب کہ آپ خود تشریف لاےُ۔۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم خوشامد کرتیں ہوئیں بولیں۔
چودھری صاحب نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔
“کیا خدمت کر سکتی ہوں میں آپ سے۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم اپنی نشست سنبھالتی ہوئیں بولیں۔
“ہمم آج رات کمرے کا انتظام کر دینا۔۔۔۔۔”
“جی حضور رانی کو بھیج دوں گی میں۔۔۔۔۔”
زلیخا کا دل باغ باغ ہو گیا۔
“زلیخا بیگم پرانی والیوں میں مزہ نہیں رہا اب کوئی نئی دوشیزائیں بھی تو لاؤ۔۔۔۔۔”
وہ خفگی سے بولے۔
“ابھی تو رانی کو بھیج دیتی ہوں لیکن اگلی دفعہ بلکل نیا مال دوں گی، چاےُ تو لیں آپ۔۔۔۔”
“وعدہ کرتی ہو تو ٹھیک ہے ورنہ۔۔۔۔۔”
وہ بات ادھوری چھوڑ کر زلیخا کو دیکھنے لگے۔
“جی جی وعدہ کر رہی ہوں سب سے پہلے آپ کو ہی پیش کروں گی یہ نا چیز بھلا آپ کو ناراض کر سکتی ہے۔۔۔۔۔”
وہ ادا سے بولی۔
“ٹھیک ہے پھر ہم رات میں آئیں گے۔۔۔۔”
کپ کو انہوں نے ہاتھ بھی نہیں لگایا, کھڑے ہوۓ اور باہر نکل گئے۔
“مہر کے جانے سے بہت اثر پڑا ہے۔۔۔۔۔”
وہ پریشانی سے بولی۔
“آپ شاہ صاحب کو انکار کر دیتیں۔۔۔۔”
بانی نے اپنی جانب سے عقلمندانہ مشورے سے نوازا۔
“دماغ خراب ہو گیا ہے کیا شاہ صاحب کو کیسے انکار کر دیتی جب مہر نے جہانگیر کو تھپڑ مارا تھا تو شاہ صاحب نے اس کوٹھے کو بچایا تھا ورنہ آج سڑک پر رُل رہے ہوتے سارے۔۔۔۔”
وہ پان منہ میں ڈالتی ہوئیں بولیں۔
بانی سمجھتی ہوئی اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“اچھا ہوا وہ مہر دفعہ ہو گئی۔۔۔۔۔”رانی آئینے میں اپنا عکس دیکھتی ہوئی بولی۔
“ہاں اب بیگم صاحبہ کو ہم بھی دکھائیں دیں گے ورنہ تو مہر کے نام کی پٹی بندھی تھی ان کی آنکھوں پر۔۔۔۔۔”
آئمہ منہ بناتی ہوئی بولی۔
“اب سب کے لبوں پر صرف رانی کا نام ہو گا۔۔۔۔”رانی تفاخر سے بولی۔
آئمہ سر جھٹکتی لہنگا دیکھنے لگی۔
“تمہیں معلوم ہے۔۔۔۔”
رانی پرجوش سی بول رہی تھی لیکن زلیخا بیگم کو دیکھ کر خاموش ہو گئی۔
“آئمہ بات سنو ہماری۔۔۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے بولیں۔
“جی بیگم صاحبہ حکم کریں۔۔۔۔۔”
آئمہ خوشی سے چہکی۔
“تمہیں یونیورسٹی بھیج رہے ہیں ہم وہاں سے دو تین لڑکیاں پکڑ کر لاؤ خوبصورت بھی ہوں اور معصوم بھی تاکہ تنگ نہ کریں۔۔۔۔۔۔”
“لیکن بیگم صاحبہ میں کیسے؟۔۔۔۔۔”
آئمہ کی آنکھوں میں تحیر سمٹ آیا۔
“مہر کے جانے سے لوگ بھی جا رہے ہیں اب نئے چہرے ہوں تم سمجھ رہی ہو نہ۔۔۔۔۔”
“بیگم صاحبہ میں سمجھ تو رہی ہو لیکن۔۔۔۔۔”
“تم نے بارہ کیں ہیں نہ بس میں داخلہ کروا دوں گی اب تمہارا کام ہے جلد از جلد لڑکیوں کو لے کر آنا۔۔۔۔۔”
وہ حتمی انداز میں بولیں۔
“اور یہاں؟۔۔۔۔۔۔”
“یہاں ابھی یہ سب ہیں نہ تم بس یہ کام کرو ہمیں اشد ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔”
وہ فکرمندی سے بولیں۔
“جی ٹھیک ہے۔۔۔۔۔” آئمہ مسکراتی ہوئی بولی۔
****///////****
“یار تمہیں معلوم ہے اپنے سامنے والے کمرے میں جو عینی نام کی لڑکی ہے نہ؟۔۔۔۔”
ذوناش سب کو دیکھتی راز داری سے بول رہی تھی۔
“کیا شادی ہو گئی اس کی ہاےُ دیکھنا کارڈ بھی نہیں دکھایا ہم نے کیا دلہا نکال لینا تھا اس میں سے۔۔۔۔۔۔”
انشرح برا مان گئی۔
“اف خاموش ہو کر میری بات سنو۔۔۔۔۔”
ذوناش خفگی سے بولی۔
“یار وہ گزشتہ دو دن سے ہاسٹل سے غائب ہے چوکیدار کو بول کر گئ ہے کہ میں گھر جا رہی ہوں جب کہ وہ گزشتہ ہفتے گھر گئی تھی اور معلوم ہے وہ اب کہاں ہے؟۔۔۔۔۔”
ذوناش آبرو اچکا کر بولی۔
“کہاں؟۔۔۔۔۔”
سب یک زبان ہو کر بولیں۔
وہ سب دم سادھے ذوناش کو سن رہیں تھیں۔
“ہوٹل میں ہے،، کسی امیر زادے کے ساتھ چکر چل رہا ہے اس کا۔۔۔۔۔”
ذوناش کہہ کر پیچھے ہوئی اور کرسی سے ٹیک لگا لی۔
وہ سب منہ کھولے ذوناش کو دیکھنے لگیں۔
“ذونی سچ میں ایسا ہی ہے،وہ شکل سے ایسی لگتی تو نہیں ہے۔۔۔۔۔” حرم متحیر سی بولی۔
“شکل پر مت جاؤ۔۔۔۔۔۔”
ذوناش چاکلیٹ منہ میں ڈالتی ہوئی بولی جو کچھ دیر قبل ازلان نے اسے دی تھی۔
“دیکھنا یار کیسا زمانہ آ گیا ہے ماں باپ سمجھ رہے ہیں پڑھ رہی ہے اور بیٹی کیا گل کھلاتی پھر رہی ہے۔۔۔۔۔”
آمنہ کانوں کو ہاتھ لگاتی ہوئی بولی۔
“سچ میں ایسی لڑکیوں کو نہ پب جی گیم میں ڈال دینا چائیے ایک سنیپر کا فائر لگنا ہے دوبارہ اٹھنا نہیں انہوں نے۔۔۔۔۔۔”
انشرح منہ بناتی ہوئی بولی۔
“انشرح تم گیم کم ہی کھیلا کرو، یا پھر ہمارے سامنے نام مت لیا کرو۔۔۔۔۔”
ذوناش پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی بولی۔
“یار ذونی وہ جو لڑکی ہے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی کیا نام تھا اس کا،معصوم سی تھی۔۔۔۔۔”
انشرح یاد کرتی ہوئی بولی۔
“حرائمہ۔۔۔۔۔”
ذوناش کو ایک لمحہ لگا تھا اندازہ لگانے میں۔
“ہاں وہی, یار وہ تو ایک چھٹی نہیں کرتی آج کل دکھائی نہیں دے رہی اس کی کچھ خبر ہے؟۔۔۔۔۔۔”
انشرح تشویش سے بولی۔
“پتہ نہیں اس کی دوستوں سے سنا ہے غائب ہے وہ نا جانے کہاں گئی۔۔۔۔۔”
ذوناش شانے اچکاتی ہوئی بولی۔
“یار ویسے وہ لڑکی بہت اچھی تھی ، سب کے کام کر دیتی تھی بیچاری تھی بھی غریب سی ، یار وہ اپنی امی کو چھوڑ کر چلی گئ۔۔۔۔”
انشرح کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
“ہاں مجھے بھی حیرت ہوئی وہ تو اپنی امی سے بہت محبت کرتی تھی پھر نجانے کدھر گئی۔۔۔۔۔۔”
وہ لاعلمی ظاہر کرتی ہوئی بولی۔
حرم اور آمنہ بھی انہماک سے ان کی باتیں سن رہیں تھیں۔
“خیر تم معلوم کرنا کہاں گئی وہ۔۔۔۔۔”
انشرح موضوع بند کرتی ہوئی بولی۔
“یار ذونی فاطمہ کب آےُ گی معلوم کرنا تھا شادی کر کے بھول ہی گئی ہے؟۔۔۔۔۔”
حرم اس کی جانب متوجہ ہوئی۔
“دو دن پہلے تو وہ ہنی مون سے آئی ہے شاید نیکسٹ ویک میں آ جاےُ۔۔۔۔۔”
وہ دہی بڑے کی پلیٹ اپنی جانب کھسکاتی ہوئی بولی۔
****//////****
شاہ نے کمرے کا دروازہ کھولا تو نگاہیں مہر کے وجود سے ٹکرائیں جو گھنٹوں پر سر رکھے بیٹھی تھی۔
دروازہ کھلنے کی آواز مہر کی سماعت سے ٹکرائی تو مہر نے چہرہ اٹھا کر دروازے کی جانب دیکھا۔
ایک دن میں ہی وہ بیمار دکھائی دینے لگی تھی۔
“کیا سوچا پھر تم نے اب اس سے زیادہ میں انتظار نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔”
شاہ پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتا بے لچک لہجے میں بولا۔
مہر نے شکوہ بھری نظر اس پر ڈالی اور کھڑی ہو گئی۔
بھوک کے باعث وہ لڑکھڑا گئی۔
شاہ اسے تھامنے کے لئے آگے نہ بڑھا مہر نے دیوار پر ہاتھ رکھ کر خود کو سنبھالا۔
“میں نے سوچ لیا ہے تم سے نکاح کروں گی میں۔۔۔۔۔”
مہر شکایتی نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“ویل اچھا فیصلہ لیا ہے مجھے لگا تھا تم تو خوشی سے پاگل ہو جاؤ گی نکاح کا سن کر لیکن یہاں تو الٹی گنگا بہ رہی ہے۔۔۔۔۔”
شاہ تاسف سے بولا۔
“ہاتھ تمہیں پھر بھی نہیں لگانے دوں گی۔۔۔۔۔” مہر اسے دیکھتی ہوئی سوچنے لگی۔
“ٹھیک ہے آ جاؤ باہر۔۔۔۔۔” شاہ باہر کی جانب قدم بڑھاتا ہوا بولا۔
مہر اس کی بے مروتی پر آہ بھر کر رہ گئی۔
“چینج کر کے کھانا کھا لو باہر مولوی صاحب منتظر ہیں۔۔۔۔۔۔”
شاہ کہہ کر باہر نکل گیا۔
“شاہ تو ٹھیک تو ہے نہ؟۔۔۔۔۔”
عدیل نے یقینی کی کیفیت میں بولا۔
شاہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا چلتا ہوا پورچ میں آ گیا۔
“تو میری عادات سے واقف ہے نہ پھر کیوں پوچھ رہا یے؟۔۔۔۔۔”
شاہ سنجیدگی سے بولا۔
“نہیں میرا مطلب ایک طوائف سے نکاح۔۔۔۔۔”
عدیل بات ادھوری چھوڑ کر اسے دیکھنے لگا۔
“میں نے کون سا دل لگی کی ہے مجھے تو بس اسے اپنے پاس رکھنا ہے۔۔۔۔۔”
شاہ لاپرواہی سے بولا۔
“صرف اسی لئے کہ کوئی دوسرا اس تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا؟۔۔۔۔۔”
عدیل آبرو اچکا کر بولا۔
“بلکل, اور سب سے بڑھ کر میں اس کا غرور توڑنا چاہتا ہوں نفرت ہوتی ہے مجھے جب وہ اپنی اوقات سے باہر نکلتی ہے ایک عورت بلکہ ایک طوائف ہو کر مرد کو اپنی جوتی کی نوک پر رکھتی ہے اب میں اسے اپنی جوتی کی نوک پر رکھوں گا۔۔۔۔۔”
شاہ کدورت سے بولا۔
“میں کہتا ہوں ایک بار پھر سے سوچ لے وہ ایک طوائف ہے اور تو اس گاؤں کا معتبر انسان کیسے اس سے نکاح کر سکتا ہے یار۔۔۔۔۔”
عدیل کو اس کی عقل پر شبہ ہو رہا تھا۔
“تو فکر کیوں کر رہا ہے وہ یہاں ہو گی تو میری عزت کو بھی کوئی تار تار نہیں کر سکے گا، ایک دو لوگوں نے مجھے کوٹھے سے نکلتے ہوئے دیکھا ہے اور میں اپنی ریپوٹیشن پر کوئی حرف نہیں آنے دے سکتا, اس لئے اس وجہ کو اپنے پاس لے آیا جس کے باعث میں جاتا ہوں کوٹھے پر۔۔۔۔۔”
شاہ تفصیل سے آگاہ کر کے اسے دیکھنے لگا۔
“ٹھیک ہے جیسے تجھے مناسب لگے۔۔۔۔۔”
عدیل نے مزید بحث کرنا جائز نہ سمجھا۔
“اچھا یہ بتا یہ گواہ منہ بند رکھیں گے نہ؟۔۔۔۔۔”
شاہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
” بے فکر رہ میں کے کر آیا ہوں سمجھ بے زبان ہیں۔۔۔۔۔”
عدیل سینے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
“چل ٹھیک ہے پھر آ جا اندر۔۔۔۔۔”
شاہ اندر کی جانب چلتا ہوا بولا۔
مہر بے جان سی اٹھی اور کپڑے دیکھنے لگی۔
بلاشبہ شاہ نے اپنی حیثیت کے مطابق لباس کا انتخاب کیا تھا۔
مہر اس سرخ جوڑے پر ہاتھ پھرنے لگی۔
وہ شاہ سے اپنے دل کی رضامندی پر نکاح کر رہی تھی کیونکہ کوٹھے پر واپس جانا سراسر بیوقوفی تھی لیکن دماغ پھر بھی واپس جانے کے لیے بھڑکا رہا تھا۔
وہ اپنی سوچوں میں غلطاں تھی جب دروازے پر دستک سنائی دی۔ جس کے معنی تھی کہ وہ باہر نکل آےُ اب۔
مہر لمبا سانس اندر کھینچتی کپڑے اٹھا کر واش روم میں چلی گئی۔
مہر باہر نکلی تو گھونگھٹ نے اس کے چہرے کو پوشیدہ کر رکھا تھا۔
نا جانے وہ اپنا چہرہ چھپانا چاہتی تھی یا پھر اپنی اصلیت۔
مہر شاہ سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گئی۔
مولوی صاحب نے نکاح پڑھوانا شروع کیا۔
مہرماہ ولد غلام محمد کے ساتھ آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟۔۔۔۔۔”
مولوی صاحب شاہ سے استفسار کر رہے تھے۔
شاہ اپنی سوچ میں غرق تھا عدیل نے اس کا شانہ تھپتھپایا تو وہ حال میں لوٹ آیا۔
جی قبول ہے۔
دو بار مزید یہی لفاظ دہراتا ، پھر مولوی صاحب مہرماہ کی جانب متوجہ ہوۓ۔
مہر کی آنکھیں اشک بار تھیں۔
اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس کا نکاح ایسے حالات میں ہو گا۔
اس نے تو کبھی یہ بھی نہیں سوچا تھا کہ اس کا نکاح ہو گا بھی۔
قبول ہے؟۔۔۔۔۔”
مولوی صاحب نے پھر سے پوچھا۔
“بچے کیا یہ نکاح آپ کی رضامندی سے ہو رہا یے؟۔۔۔۔۔”
وہ نرمی سے گویا ہوۓ۔
“جی جی مولوی صاحب۔۔۔۔۔”
ان کی آواز پر مہر جیسے ہوش میں آئی۔
مولوی صاحب پھر سے استفسار کرنے لگے اب کی بار مہر نے ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کی، قبول کیا اور سائن کرنے لگی۔
“کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا پڑتا ہے وہ بھی اس ذلت کے بدلے خود کو ایک ایسے شخص کے نام کر رہی تھی جو ہرگز اعتبار کے قابل نہیں۔
