Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 21
Tawaif by Hamna Tanveer
مہمان واپس جا رہے تھے۔
شاہ ویز چہرے پر بیزاری سجاےُ حویلی سے باہر نکل آیا۔
گاڑی میں بیٹھا اور زن سے بھگا لے گیا۔
“کیا ہوا خیر ہے اتنی جلدی میں کیوں بلایا؟”
برہان اسے گاڑی سے اترتا دیکھ کر بولا۔
“یار آج بھائی کا ولیمہ تھا۔۔”
شاہ ویز اداسی سے بولا۔
“شاہ کا ولیمہ؟”
برہان نے زیر لب دہرایا۔
شاہ ویز اثبات میں سر ہلانے لگا۔
“شادی کب ہوئی اور ولیمہ کب؟”
برہان حیران ہوےُ بنا نہ رہ سکا۔
شاہ ویز نے مختصر مہر کے متعلق بتایا۔
“اب تو مجھے بھی یہی لگ رہا کہ بھائی مہر کو کوٹھے سے لاےُ ہیں۔۔۔”
شاہ ویز سپاٹ انداز میں بولا۔
“انٹرسٹنگ شاہ نے شادی کر لی وہ بھی ایک طوائف سے۔۔۔”
برہان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
“یار مجھے مہر سے محبت ہو گئی ہے۔۔۔”
شاہ ویز شکست خور سا بولا۔
برہان پیشانی پر بل ڈالے تعجب سے اسے دیکھنے لگا۔
“شاہ کی بیوی سے؟”
برہان نے تصدیق کرنا چاہی۔
شاہ ویز اثبات میں سر ہلانے لگا۔
“مہر کو دیکھو گے نہ بس سب کو بھول جاؤ گے یار مکمل حسن ہے وہ ایسی آفت کہ بس دل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے۔۔۔”
شاہ ویز گھائل سا بولا۔
“کیسی آفت ہے مجھے بھی دکھاؤ پھر۔۔۔”
برہان تجسس سے بولا۔
شاہ ویز نے فون نکالا اور مہر کی تصویر سامنے کر دی۔
برہان کی آنکھوں میں پسندیدگی کا عنصر تھا۔
“ہے تو کمال لیکن طوائف لگتی نہیں ہے۔۔۔”
برہان بغور اس کا جائزہ لیتا ہوا بولا
شاہ ویز کے چہرے پر خوف کے ساےُ منڈلا رہے تھے۔
“کیا ہوا؟”
برہان فون سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“یار مجھے مہر چائیے۔ اپنے ہی گھر میں اسے چلتا پھرتا دیکھوں لیکن بھائی کے ساتھ۔۔۔”
وہ بولتا ہوا نفی میں سر ہلانے لگا۔
“شاہ سے بات کرو شاید طلاق۔۔۔”
“وہ بھائی کے بچے کی ماں بننے والی ہے دوسری بات بھائی اس سے محبت کرتے ہیں آج سب سے جس طرح لڑائی کی انہوں نے سب کو باور کروا دیا۔۔۔”
وہ تاسف سے بولا۔
“جو چیز ملے نہ اسے چھین لو۔۔۔”
برہان کے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ تھی جسے رات کے اندھیرے کے باعث شاہ ویز دیکھ نہیں پایا۔
“کیسے؟”
شاہ ویز بےچینی سے پہلو بدلا۔
“پہلے ان کا بچہ ضائع کروا دو پھر بعد کی بعد میں دیکھی جاےُ گی۔۔۔۔”
برہان طمانیت سے بولا۔
“شاہ اب تو تم نہیں بچتے۔۔۔”
برہان تمسخرانہ انداز میں بولا۔
لیکن آواز اتنی آہستہ تھی کہ بمشکل برہان سن سکا تو شاہ ویز کے سننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
“اب تم گھر جاؤ اور کسی کو معلوم نہیں ہونا چائیے کہ تم مجھ سے رابطے میں ہو سمجھ گئے نہ؟”
برہان اس کا شانہ تھپتھپاتا ہوا بولا۔
شاہ ویز مایوسی سے دیکھتا گاڑی میں بیٹھ گیا۔
****//////****
زلیخا بیگم چلتی ہوئی زنیرہ کے کمرے میں آ گئیں۔
زنیزہ تاسف سے فون کو دیکھ رہی تھی۔
“زنیرہ چل تیار ہو جا آخر میں تو مجرا کرے گی۔۔۔”
زلیخا بیگم بولتی ہوئیں بیٹھ گئیں۔
“میں نہیں کر رہی بیگم صاحبہ۔۔۔”
وہ منہ بناتی ہوئی بولی۔
“ہاےُ ہاےُ کیوں نہیں کرنا تو نے؟ پھر واپس چلی جاےُ گی چل اٹھ آج کل کمائی بہت کم ہو گئی ہے پھر تم دونوں پر الگ خرچ ہو رہا۔۔۔”
وہ خفگی سے بولیں۔
“بیگم صاحبہ میں آج نہیں کر رہی کیونکہ میرا دل نہیں کر رہا اب مجھ پر دباؤ مت ڈالنا۔۔۔”
وہ فون کو گھورتی ہوئی بولی۔
“کہیں دل ول تو نہیں لگا لیا شہر میں؟”
زلیخا بیگم جانتی نظروں سے دیکھتی ہوئی بولیں۔
“ہمارا دل لگانے کو بے شمار مرد موجود ہیں پھر کیا ضرورت دل لگانے کی۔۔۔”
زنیرہ استہزائیہ ہنسی۔
“یہ غلطی کرنا بھی مت کیونکہ ایک طوائف کو نہ کوئی اپناتا ہے نہ ہی کوئی عزت دیتا ہے۔
وقت گزاری کے لئے ساتھ رہ لے گا لیکن بیوی کا درجہ کبھی نہیں دے گا۔۔۔”
وہ آئینہ دکھانے لگیں۔
زنیرہ تلخی سے مسکرانے لگی۔
“جانتی ہوں اس حقیقت سے منہ کیسے موڑ سکتی ہوں؟”
وہ آہ بھرتی ہوئی بولی۔
“چل پھر اٹھ جا شاباش میری جان۔۔۔”
زلیخا بیگم نرمی سے بولیں۔
“اب واپس جاؤں گی تو ایک زبردست قسم کی لڑکی لا کر دوں گی اس لئے ابھی مجھ تنگ مت کریں۔۔۔”
زنیرہ لحاف منہ پر اوڑھتی ہوئی بولی۔
زلیخا بیگم کلس کر باہر کو چل دیں۔
“میری ہی شہ پر دندناتی پھرتی ہیں سب کو کھینچ کر رکھنا پڑے گا۔۔۔”
وہ ہنکار بھرتی ہوئیں چلنے لگیں۔
****///////****
“مہر میری بات سنو! “
شاہ اس کے عقب میں چلتا ہوا بولا۔
مہر آنسو بہاتی دروازے کی جانب بڑھ رہی تھی۔
شاہ نے اس کی کلائی تھام لی۔
مہر چہرہ موڑے التجائیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
شاہ بنا کچھ بولے چلنے لگا۔
“شاہ مجھے جانے دیں۔۔۔”
مہر اس کے ہمراہ چلتی ہوئی بولی۔
“اب تم خاموش رہو گی۔۔۔”
شاہ زینے چڑھتا ہوا بولا۔
مہر کی پائیل کی چاپ سنائی دے رہی تھی۔
شاہ کمرے کی بجاےُ چھت پر آ گیا۔
مہر آنسو بہاتی اسے دیکھ رہی تھی۔
شاہ نے ہاتھ بڑھایا اور مہر کے رخسار سے آنسو چننے لگا۔
شاہ کے لمس پر مہر نے آنکھیں بند کر لیں۔
شاہ نے اسے خود سے قریب کیا۔
“مہر میں تمہیں چھوڑ نہیں سکتا۔ یہ بات اپنے پلو سے باندھ لو چاہے مجھے ساری دنیا سے لڑنا پڑے لیکن میں تمہیں کہیں نہیں جانے دوں گا۔۔۔”
رات کے اندھیرے میں, فلک پر ٹمٹماتے ستاروں کے ہمراہ, خاموشی میں وہ دھیرے دھیرے سرگوشی کر رہا تھا۔
“کیوں شاہ؟”
مہر تڑپ کر اسے دیکھنے لگی۔
“میں تم سے بے حد محبت کرتا ہوں مہر۔تمہارے بنا جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا میں۔ تم میری روح کا حصہ بن گئی ہو جسے میں چاہ کر بھی خود سے جدا نہیں کر سکتا۔۔۔”
شاہ دھیرے دھیرے مہر کی بےقرار دھڑکنوں کو قرار بخش رہا تھا۔
مہر خاموش اسے سن رہی تھی۔
شاید وہ اسے سننا چاہتی تھی۔
“سچ کہوں گا تم سے پہلے میرا ایسا ارادہ نہیں تھا لیکن اب تمہیں خود سے الگ کرنا ممکن نہیں مہر۔ دنیا کی فکر تم مت کرو جب میں تمہارے ساتھ ہوں پھر کیوں فکر کرتی ہو؟”
مہر نے اپنی پیشانی شاہ کے بائیں رخسار سے لگا دی۔
ہوائیں رخ بدل رہیں تھیں۔
جذبات بدل رہے تھے۔
فلک کی چادر پر بکھرے ستارے اور مہتاب بھی مسکرا رہا تھا۔
اپنی روشنی سے تاریک دلوں کو منور کر رہے تھے۔
“اپنے دل میں یہ خیال کبھی مت آنے دینا کہ شاہ تمہیں چھوڑ دے گا۔ شاہ ساری دنیا کو چھوڑ سکتا ہے لیکن تمہیں نہیں۔۔۔”
مہر کی آنکھوں سے دو اشک ٹوٹ کر شاہ کی گردن پر آ گرے۔
اس کی محبت مہر کو ریزہ ریزہ کر رہی تھی۔
شاہ کو مہر سے محبت تھی آج وہ زباں پر لے ہی آیا۔
“شاہ کوئی مجھ جیسی کے لئے بھی اتنا کہ سکتا ہے؟”
مہر سسکتے ہوۓ بولی۔
“دنیا کچھ بھی سوچے مجھے فرق نہیں پڑتا میرے لئے تم بہت اہمیت کی حامل ہو اور تمہارا ماضی؟ میں نہیں سوچتا اس متعلق۔ تم میرے ہمراہ ہو، تمہارے نام. کے ساتھ میرا نام ہے، تم پر صرف شاہ کا حق ہے، بس یہی جانتا ہوں میں۔۔۔”
شاہ اسے اپنی محبت کا اعتماد بخش رہا تھا۔
مہر کی آنکھوں میں دکھائی دیتی بے یقینی آج وہ ختم کر دینا چاہتا تھا۔
شاہ خاموش ہو گیا۔
مہر نے اپنے لب نہ کھولے۔
وہ ٹوٹی تھی بکھری تھی لیکن آج اسے سمیٹنے والا اس کے ساتھ تھا۔
وہ تنہا نہیں تھی۔
اس کا غم خوار اسے اپنی پناہ میں لئے ہوۓ تھا۔
آج وہ اسے اپنی محبت کا یقین دلا رہا تھا۔
“اب تم کمرے میں جا کر آرام کرو میں گھر والوں سے بات کر کے آؤں گا۔۔۔”
شاہ آہستہ آہستہ بول رہا تھا۔
جو اذیت تھی وہ ختم تو نہیں ہو سکتی تھی۔ اپنی ذات کی تذلیل کوئی برداشت نہیں کر سکتا۔ مضحکہ خیز الفاظ کسی خنجر کی مانند دل میں پیوست ہو جاتے ہیں اور یہی دل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں جنہیں سمیٹنا ناممکنات میں شمار ہے۔
لیکن وہ مداوا کرنے کی سعی کر رہا تھا۔
مہر چہرہ جھکاےُ اس کے ہمراہ چلنے لگی۔
“میں کھانا بھیجوں گا ملازمہ کے ہاتھ چینج کر کے کھا لینا۔۔۔”
شاہ دروازے میں کھڑا اسے کا منہ تھپتھپاتا ہوا بولا۔
مہر کی آنکھیں پھر سے نم ہو گئیں۔
وہ اثبات میں سر ہلانے لگی تو شاہ چلا گیا۔
شاہ جانتا تھا اس وقت سب بابا سائیں کے کمرے میں ہوں گے اس نے اسی جانب قدم بڑھا دئیے۔
توقع کے عین مطابق سب وہیں پر تھے ماریہ اور حرم کے سوا کیونکہ عورتوں کو اتنا حق نہیں دیا جاتا کہ وہ مداخلت کر سکیں۔
شاہ کے قدم رکھتے ہی کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔
شاہ ایک نظر سب پر ڈالتا سنگل صوفے پر بیٹھ گیا۔
“جی بابا سائیں بولیں؟”
شاہ بغور انہیں دیکھتا ہوا بولا۔
“یہ ہم کیا سن رہے ہیں تم نے ایک طوائف کے ساتھ نکاح کیا ہے؟”
وہ ضبط کرتے ہوئے بولے۔
لیکن پھر بھی ان کی آواز کمرے سے باہر جا رہی تھی۔
“کس نے کہا مہر طوائف ہے؟”
شاہ بھرپور طمانیت سے بولا۔
“چودھری کی بیوی کہہ رہی تھی تم تو ایسے پوچھ رہے ہو جیسے معلوم ہی نہیں۔۔۔”
ضوفشاں بیگم پھٹ پڑیں۔
شاہ سلگتی نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگا۔
“میں بابا سائیں سے بات کر رہا ہوں مناسب ہو گا آپ مداخلت نہ کریں تو؟۔۔۔”
شاہ چبا چبا کر بولتا کمال صاحب کو دیکھنے لگا۔
“تو چودھری جھوٹ بول رہا ہے؟ کیا استفادہ حاصل ہو گا اسے اس سب سے؟”
کمال صاحب سوالیہ نظروں سے شاہ کو دیکھنے لگے۔
“مجھے ایک بات بتائیں کیا وہ قابل اعتبار انسان ہے؟ آپ میں سے کسی نے مہر پر الزام کیوں نہیں لگایا یا پھر گاؤں کے کسی اور انسان نے ایسا کیوں نہیں کہا؟”
شاہ آبرو اچکا کر بولا۔
“اگر وہ اتنے وثوق سے یہ بات کہ رہا ہے تو مطلب وہ کوٹھے پر جاتا ہے اور آپ اس چودھری سے ثبوت لا دیں مجھے کہ مہر کوٹھے سے آئی ہے۔۔۔”
شاہ رک کر انہیں دیکھنے لگا۔
“تو کیوں کہ رہا ہے چودھری یہ سب؟”
ضوفشاں بیگم پھر سے غرائی۔
“جو بکواس میں کر رہا ہوں وہ سمجھ نہیں آ رہی اور جو بکواس اس نے کر دی وہ پتھر کی لکیر ہو گئی ہے۔ کیا ہو گیا ہے آپ سب کو ایک چھوٹی سی بات بول رہا ہوں میرے بجاےُ اس چودھری کا یقین کر رہے ہیں؟ اگر اتنی تکلیف ہے میری بیوی سے تو بتا دیں میں اسے لے کر چلا جاتا ہوں؟”
شاہ بگڑ کر ضوفشاں بیگم کو دیکھنے لگا۔
شہریار اور شاہ ویز خاموش بیٹھے تھے کیونکہ شاہ کے معاملات میں مداخلت کرنے کی کسی کو اجازت نہ تھی۔
“تم کیوں جاؤ گے یہاں سے جاؤ اپنے کمرے میں ہم سمجھا لیں گے تمہاری ماں کو۔۔۔”
کمال صاحب نے بگڑتی صورتحال کو دیکھ کر نرمی سے مخاطب کیا۔
شاہ لمبے بے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔
“آپ نے۔۔۔”
“بس اس پر مزید کوئی بحث نہیں شاہ پر ہمیں بھروسہ ہے وہ بنا سوچے سمجھے کوئی کام نہیں کرتا اور آپ محتاط رہیں گیں اب۔بہو امید سے ہے اور شاہ بہت خوش ہے
ہم نہیں چاہتے شاہ کی اولاد کو خطرہ لاحق ہو۔۔۔”
وہ ہاتھ اٹھا کر ضوفشاں بیگم کو بولنے سے باز رکھتے حتمی انداز میں بولے۔
شہریار اور شاہ ویز اثبات میں سر ہلاتے چلے گئے۔
حرم نے چینی سے کمرے میں ٹہل رہی تھی۔
اس کے برعکس حرائمہ کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا تھا۔
ایک ایسی حقیقت کے آشکار ہونے کا خطرہ لاحق تھا جس میں زبردستی اسے جھونکا گیا تھا۔
شاہ کمرے میں آیا تو نظر مہر سے ٹکرائی جو صوفے پر بیٹھی اس کی منتظر تھی۔
“تم نے ابھی تک کھانا نہیں کھایا؟”
شاہ فکرمندی سے کہتا اس کے پہلو میں بیٹھ گیا۔
“آپ نے بھی تو نہیں کھایا۔۔۔”
مہر نے ستا ہوا چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔
شاہ کے لب دھیرے سے مسکرا دئیے۔
“لیکن تمہیں کھا لینا چائیے تھا بلاوجہ میرا انتظار کیا۔۔۔”
شاہ نفی میں سر ہلاتا مہر کے منہ میں نوالہ ڈالنے لگا۔
مہر نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
لوگوں کی باتوں سے دل دکھا تھا تو وہ اپنی محبت سے ان زخموں کو مندمل کر رہا تھا۔
“اب تم سو جاؤ۔ مجھے کچھ کام کرنا ہے۔۔۔”
شاہ اس کا رخسار تھپتھپاتا ہوا بولا۔
مہر سر ہلاتی کھڑی ہو گئی۔
شاہ سانس خارج کرتا لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گیا۔
****///////****
ماحول میں تلخی سی در آئی تھی۔
ضوفشاں بیگم اور ماریہ مہر کو نظر انداز کر رہی تھیں اور مہر سے بات کرنے سے گریز برت رہی تھیں۔
“ماریہ اگر یہ مہر طوائف ہے تو پھر یہ حرائمہ بھی تو طوائف ہو گی نہ؟”
شاہ کے نکلتے ہی زلیخا بیگم شروع ہو گئیں البتہ آواز دھیمی تھی۔
“بہن ہے اس کی اور اگر مہر کوٹھے سے آئی ہے تو حرائمہ بھی وہیں سے آئی ہو گی۔۔۔”
ماریہ حرائمہ کو دیکھ کر منہ بناتی ہوئی بولی۔
“میں جب شادی کا بولتی تھی تو میرے پیچھے پڑ جاتا تھا کہ نام بھی کیوں لیا اور اب خود پتہ نہیں کہاں سے ایسی طوائف کو اٹھا لایا ہے ہمارے خاندان کا نام ہے کوئی گرے پڑے لوگ تھوڑی نہ ہیں ہم۔۔۔”
مہر کو سنانے کے عوض وہ اونچی آواز میں بولیں۔
مہر کا منہ میں جاتا ہاتھ ہوا میں معلق ہو گیا۔
آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں۔
حرائمہ اس کی کیفیت سے بخوبی واقف تھی۔
مہر کو دیکھ کر اس کا دل بھی کٹ رہا تھا۔
مہر سر جھکاےُ لب کاٹتی دائیں بائیں دیکھنے لگی۔
آنکھیں چھلکنے کو بےتاب تھیں لیکن وہ خود کو باز رکھ رہی تھی۔
“ایسی بے حیا لڑکیاں مجرا کرتی ہی اچھی لگتی ہیں گھر کی عزت نہیں بنایا جاتا انہیں۔ نجانے شاہ کو کب عقل آےُ گی؟”
وہ تاسف سے بولیں۔
مہر کا ہاتھ کپکپاتے لگا۔
دل شدت غم سے لبریز ہو کر پھٹنے کو تھا۔
کیا قصور تھا اس کا؟ یہی کہ اسے ایک جہنم میں ڈال دیا گیا اس کی مرضی کے بنا۔ وہ تو بنا قصور کے ہی قصوروار ٹھرا دی گئی تھی۔
دو موتی ٹوٹ کر میز پر آ گرے۔
حرائمہ نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
وہ دونوں بےبس تھیں۔
دل برداشت کرنے سے انکاری تھا اور زبان بولنے سے۔
بھلا ان جیسی بھی بول سکتی ہیں؟ جن کی کوئی عزت نہیں جنہیں معاشرہ قبول نہیں کرتا ان کی کون سنے گا؟
“مجھے تو سمجھ نہیں آتی امی مصطفیٰ بھائی نے شادی کرنی ہی تھی تو کیا ایک طوائف سے؟ اس سے کئی درجے اچھی تو میری بہن ہے اس سے کر لیتے کم از کم عزت تو باقی رہتی نہ۔ ایسی لڑکیاں کہاں عزت کے معنی جانتی ہیں دیکھیے گا دو دن میں سارے رنگ عیاں ہو جائیں گے۔۔۔”
ماریہ ہنکار بھرتی ہوئی بولی۔
الفاظ تھے یا نشتر جو دل کو چیر رہے تھے۔
دل ٹوٹ کر نجانے کتنے حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا لیکن شاید ان کا دل ابھی بھرا نہیں تھا۔
ضوفشاں بیگم مزید کچھ کہ رہی تھیں۔
مہر کان بند کئے مرے مرے قدم اٹھاتی زینے چڑھنے لگی۔
“ایسا توہین آمیز سلوک بھی کوئی روا رکھتا ہے کیا؟”
مہر دروازہ بند کرتی ہوئی بولی۔
ابھی تو اس کی آزمائش کا آغاز ہوا تھا۔
ابھی تو بہت بار ٹوٹنا اور بہت بار جڑنا تھا۔
****/////////****
حرم آئینے کے سامنے کھڑی بال بنا رہی تھی جب فون کی رنگ ٹون نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔
