577.9K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tawaif Episode 19

Tawaif by Hamna Tanveer

اللہ معاف کرے ایسی لڑکیوں سے اپنی ماں کو تو کھا گئی اب ہمارے گھر بھی فساد برپا کرنے آ گئی۔۔۔”

وہ منہ بناتی ہوئیں اندر کی جانب چل دیں۔

حرائمہ مرے مرے قدم اٹھاتی چل رہی تھی۔

مہر اس کے ستے ہوۓ چہرے کو دیکھ کر اس کی جانب آئی۔

“کیا ہوا حرائمہ؟ معلوم ہوا کچھ؟”

حرم اسے شانوں سے تھامتی ہوئی بولی۔

حرائمہ نفی میں سر ہلانے لگی۔

“نہیں آئیں گیں وہ اب کبھی نہیں آئیں گے۔۔۔”

حرائمہ آنسو بہاتی بول رہی تھی۔

“کیا مطلب؟”

مہر الجھ کر اسے دیکھنے لگی۔

“چلی گئیں وہ۔ میں آخری بار انہیں دیکھ بھی نہ سکی۔۔۔”

حرائمہ نے سسکتے ہوۓ سر مہر کے شانے پر رکھ دیا۔

مہر کی آنکھوں میں بھی نمی تیرنے لگی کچھ وقت قبل وہ بھی اسی نوعیت کے کرب سے گزری تھی۔

مہر اس کا سر تھپکنے لگی۔

حرائمہ کو جیسے ہی اردگرد کا احساس ہوا مہر سے الگ ہو گئی۔

دونوں ہاتھوں سے چہرہ صاف کیا۔

“میں ٹھیک ہوں۔۔۔”

حرائمہ نے مسکرانے کی سعی کی لیکن مسکرا نہ سکی۔

“اگر تم ٹھیک نہیں تو ہم گھر۔۔۔۔”

“نہیں آپی میں ٹھیک ہوں آپ میری وجہ سے اپنا جانا ملتوی مت کریں۔ آپ کی طبیعت زیادہ اہم ہے۔۔۔”

حرائمہ اس کے ہاتھ تھامتی ہوئی بولی۔

مہر جانتی تھی وہ ٹھیک نہیں ہے لیکن اپنی طبیعت کے باعث وہ بھی مجبور تھی۔

“ٹھیک ہے آ جاؤ زیادہ وقت نہیں لگے گا۔۔۔”

مہر گاڑی کی جانب چلتی ہوئی بولی۔

حرائمہ خود پر قفل لگاتی گاڑی میں بیٹھ گئی۔

****////////****

“امی شاہ ویز بھائی اب واپس نہیں آئیں گے؟”

حرم معصومیت سے بولی۔

“پتہ نہیں شاہ نے تو بولا تھا اسے کہ جب سمجھ میں آ جاےُ بات تو آ جانا گھر کو اور وہ بے عقل ابھی تک واپس نہیں آیا نجانے کہاں مارا مارا پھر رہا ہو گا۔۔۔”

وہ فکرمندی سے بولیں۔

حرم کے سامنے اس رات کا منظر گھوم گیا۔

“امی آپ سوچ رہیں ہیں وہ مارا مارا پھر رہا ہو گا جب کہ وہ تو شاید گھوم پھر رہا ہو گا۔۔۔”

حرم تلخی سے سوچنے لگی۔

“چل آ نیچے بیٹھ مالش کرو تیرے سر میں بال کیسے خراب کر لئے ہیں۔۔۔۔”

وہ تیل اٹھاتی خفگی سے بولیں۔

“کہاں خراب ہوۓ ہیں امی سہی تو ہیں بلکل۔۔۔”

حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔

“میں نے جیرو کو بولا تھا دیسی گھر والا پراٹھا بنا کر دے گی وہ کھانا کیسی کمزور ہو گئی ہے‍۔۔۔”

وہ تیل لگاتی ہوئیں بولیں۔

“امی لسی نہیں پیوں گی میں۔۔۔”

حرم ناک چڑھاتی ہوئی بولی۔

ہلکی ہلکی دھوپ دونوں کو گرمائش بخش رہی تھی۔

“بچپن میں گلاس بھر بھر کر پیتی تھی اور اب تو ناک منہ چڑھانے لگ جاتی ہے۔۔۔”

وہ حرم نے سر پر چت لگاتی ہوئیں بولیں۔

حرم دھیرے سے مسکرانے لگی۔

“امی مصطفیٰ بھائی کہاں گئے؟ صبح سے دکھائی نہیں دے رہے۔۔۔”

حرم اپنے ہاتھوں کو گھورتی ہوئی بولی۔

“رات سے گیا ہوا ہے واپس ہی نہیں آیا دن رات کام میں ہی لگا رہتا ہے نہ کھانے کی ہوش نہ پینے۔۔۔۔”

“دکھائی بھی کیسے دیں گے آپ لوگ کون سا باہر نکلتے ہیں جو معلوم ہو گا۔۔۔۔”

شاہ ویز دھاڑتا ہوا آیا۔

“کیا ہو گیا آتے ہی چلانے لگا ہے؟”

ضوفشاں بیگم خفگی سے بولیں۔

شاہ ویز کو دیکھ کر حرم کے چہرے پر ناگواری در آئی۔

“آپ لوگ یہاں بیٹھے ہیں اور وہ شہر میں دو لڑکیوں کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہے ہیں۔۔۔”

شاہ ویز ہنکار بھرتا ہوا بولا۔

“عقل تو ٹھکانے پر ہے نہ تمہارے بابا سائیں نے سن لیا تو بخشیں گے نہیں۔۔۔”

وہ حرم کو اٹھنے کا اشارہ کرتی ہوئیں بولیں۔

“بلا لیں بابا سائیں کو میں جھوٹ نہیں بول رہا بلکہ میں تو کہتا ہوں مصطفیٰ بھائی کو بھی بلائیں۔۔۔”

وہ تاؤ کھاتا ہوا بولا۔

“چھوٹے عقل سے کام لے کیوں گھر میں فساد کھڑا کر رہا کے؟”

ضوفشاں بیگم کو اس کی عقل پر شبہ ہوا۔

کمال صاحب چہرے پر خفگی طاری کئے اِدھر آ نکلے۔

“کیا ہو رہا ہے یہاں؟”

وہ گرج دار آواز میں بولے۔

شاہ فون کو دیکھتا ہوا گھر میں داخل ہوا تو آوازیں سن کر وہ بھی یہاں چلا آیا۔

“بھائی آگئے۔ بھائی بتائیں کیا میں جھوٹ بول رہا ہوں؟”

شاہ ویز اس کے پاس آتا ہوا بولا۔

“شاہ آبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔

“بھائی کیا آپ آج صبح دو لڑکیوں کے ساتھ اپنی گاڑی میں نہیں تھے؟”

شاہ ویز اس کی آنکھوں میں دیکھتا معصومیت سے بولا۔

شاہ سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا۔

نہ چہرے پر خوف تھا نہ فکر۔

“ہاں تھا میں دو لڑکیوں کے ساتھ تو؟”

شاہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔

شاہ ویز گڑبڑا کر اسے دیکھنے لگا۔

اتنی صاف گوئی کی توقع اسے نہیں تھی۔

“شاہ یہ کیا کہ رہے ہو تم؟”

کمال صاحب ضبط کرتے ہوئے بولے۔

“بیوی ہے وہ میری بابا سائیں اس میں کیا برائی ہے؟”

شاہ بھرپور طمانیت سے بولا۔

شاہ ویز کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔

“کیا مطلب ہے تمہارا شاہ؟” وہ غراےُ؟

“نکاح کیا ہے میں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔۔۔”

شاہ کی آواز بلند ہوتی گئی۔

شاہ رک کر انہیں دیکھنے لگا۔

شاہ ویز لب بھینچے کبھی شاہ کو دیکھتا تو کبھی باقی سب کو۔

سب اپنی اپنی نشست پر ہقہ بقہ تھے۔

“پھر اسے یہاں کیوں نہیں لاےُ؟”

اب کہ وہ نرمی سے بولے۔

“ایک دو دن تک لانے والا تھا لیکن اب چونکہ سب کو معلوم ہو چکا ہے تو آج ہی لے آؤں گا۔۔۔”

شاہ سانس خارج کرتا ہوا بولا۔

کمال صاحب اثبات میں سر ہلانے لگے۔

“تم نے تو کہا تھا شادی نہیں کرو گے؟”

ضوفشاں بیگم تیکھے تیور لیے بولیں۔

شاہ نے ایک اچٹتی نگاہ ان پر ڈالی۔

“اب یہ کس کو بیوی بنا لیا ہے؟”

وہ ہنکار بھرتی ہوئیں بولیں۔

“بابا سائیں سمجھائیں اپنی زوجہ کو میں نے ایک بے سہارا لڑکی کو اپنایا ہے اسے لے کر آتا ہوں۔۔۔”

شاہ کہہ کر واپس چلا گیا۔

“یہ تو اچھی بات ہے اس نے کسی بے سہارا کو سہارا دیا کیوں اس کے پیچھے پڑی رہتی ہو؟”

کمال صاحب غصے سے گویا ہوۓ۔

ضوفشاں بیگم منہ بناتی چل دیں۔

حرم بےیقینی کی کیفیت میں گھری تھی۔

شاہ ویز باہر کو بھاگا۔

“بھائی؟”

شاہ ویز اسے دیکھتا ہوا بولا۔

شاہ آبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔

“آئم سوری بھائی۔۔۔”

شاہ ویز ندامت سے سر جھکاتا ہوا بولا۔

“کوئی بات نہیں۔۔۔”

شاہ نے مسکراتے ہوۓ اسے گلے لگا لیا۔

“کسی بہانے تو تم گھر آےُ اب سدھر گئے ہو نہ؟”

شاہ اسے اپنے سامنے کرتا ہوا بولا۔

“جی بھائی۔۔”

وہ سعادت مندی سے بولا۔

“اچھی بات ہے جاؤ اندر مجھے جانا ہے۔۔۔”

شاہ اس کا شانہ تھپتھپاتا ہوا بولا۔

وہ سختی کرتا تھا لیکن شاہ ویز سے محبت بھی بے حد کرتا تھا۔

حرم اپنی سوچوں میں غلطاں کمرے میں آ گئی۔

****///////****

حرائمہ گھر داخل ہوتی سیدھی اپنے کمرے میں آ گئی۔

آنسو جو وہ کب سے ضبط کئے ہوئے تھی تمام بندھ توڑ کر نکل آےُ۔

“امی آپ کیسے چلی گئیں مجھے چھوڑ کر؟

اس دنیا میں تنہا مجھے چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہیں آپ میرا تو آپ کے سواء کوئی بھی نہیں۔۔۔۔”

حرائمہ سر بیڈ پر رکھے زمین پر بیٹھی بلک رہی تھی۔

وہ دوہری اذیت سے گزر رہی تھی۔

“میں تو آپ کو دیکھ بھی نہ سکی کتنی بد نصیب ہوں میں امی دیکھیں آخری بار آپ کا چہرہ بھی نہ دیکھ سکی میں تو۔۔۔”

حرائمہ ہذیانی انداز میں بول رہی تھی۔

“امی… کیوں چلی گئیں آپ… امی۔۔۔”

وہ اپنے حواس میں نہیں تھی نجانے کیا کیا بولے جا رہی تھی۔

“مہر الماری میں اپنے کپڑے رکھ رہی تھی جب اسے آہٹ سنائی دی۔

“شاہ تو ابھی گئے ہیں پھر کون ہو سکتا ہے؟”

مہر سوچتی ہوئی باہر نکل آئی۔

مہر نے ابھی کمرے سے باہر قدم رکھا ہی تھا کہ شاہ نے اس کی بازو پکڑ کر اپنے قریب کر لیا۔

“شاہ آپ! “

مہر کی آنکھوں کی پتلیاں پھیل گئیں۔

“ڈرا دیا مجھے آپ نے۔۔۔”

مہر خفگی سے بولی۔

“وہ کیا ہے نہ میرا دل نہیں لگ رہا تھا اس لئے آ گیا۔۔”

شاہ کی آنکھوں میں شرارت تھی۔

“اچھے سے جانتی ہوں میں آپ کو کسی کام سے آئیں ہیں بتائیں اب۔۔۔”

مہر اس کی گرفت میں کسمسائی۔

“تمہیں لینے آیا ہوں۔۔”

شاہ اس کے کان کے قریب سرگوشی کرنے لگا۔

“مذاق کر رہے ہیں نہ؟”

مہر بےیقینی کی کیفیت میں تھی۔

“آج تک تم سے مذاق کیا ہے؟”

شاہ حیرت سے بولا۔

“اب جلدی سے پیکنگ کرو اور میرے ساتھ چلو۔۔”

شاہ اسے آزاد کرتا ہوا بولا۔

“لیکن شاہ حرائمہ اس کا کیا ہو گا؟”

مہر فکرمندی سے بولی۔

“ایسا کرتے ہیں اسے بھی ساتھ لے جاتے ہیں تمہاری بہن بنا کر کیسا خیال ہے؟”

شاہ دیوار سے ٹیک لگاےُ مہر کو دیکھتا ہوا بولا۔

“یہ بھی ٹھیک ہے اسطرح وہ بے سہارا نہیں رہے گی۔۔۔”

مہر اثبات میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔

“اچھا بات سنو؟”

شاہ کے الفاظ پر مہر کے بڑھتے قدم تھم گئے۔

“جی؟”

وہ چہرے موڑے شاہ کو دیکھنے لگی۔

“میں نے سب کو یہی کہا ہے کہ تمہارے آگے پیچھے کوئی نہیں تھا اس لئے تم سے نکاح کر لیا۔ تم کوٹھے پر تھی اس بات کا علم کسی کو نہیں ہونا چائیے باقی میں سنبھال لوں گا۔۔۔”

شاہ کے لہجے میں جھجھک تھی۔

مہر خود میں سمٹ گئی۔

ایک تلخ حقیقت جسے وہ چاہ کر بھی نوچ نہیں سکتی تھی۔

مہر اپنی سوچیں جھٹکتی کمرے میں چلی گئی۔

شاہ بھی اس کے پیچھے کمرے میں آ گیا۔

کچھ ہی دیر میں وہ تینوں نفوس حویلی میں کھڑے تھے۔

ضوفشاں بیگم کڑے تیور لئے مہر اور حرائمہ کو گھور رہیں تھیں۔

“امی؟”

شاہ گھورتا ہوا بولا۔

شاہ کی نگاہوں کا مفہوم سمجھ کر وہ ماریہ کی جانب متوجہ ہو گئیں۔

مہر شاہ کے پہلو میں بیٹھی مسلسل ہاتھ رگڑ رہی تھی۔

حرائمہ بھی سر جھکاےُ بیٹھی تھی۔

“شاہ مجھے عجیب لگ رہا ہے؟”

مہر سرگوشی کرنے لگی۔

شاہ نے اسے نظروں سے تسلی دی۔

“ہو گئی آپ سب کی تشویش تو میں اب کمرے میں جاؤں؟”

شاہ کھڑا ہوتا ہوا بولا۔

“ہاں جاؤ۔ ہمیں تو بہت خوشی ہے تم نے بن ماں باپ کی بچیوں کو سہارا دیا۔۔۔”

کمال صاحب خوشی سے چہکے۔

ماریہ نے بے چینی سے پہلو بدلا۔

“میری بہن سے تو شادی کی نہیں یہ پتہ نہیں کون ہے جس کو اٹھا لاےُ ہیں۔۔۔”

وہ کدورت سے بولی۔

شاہ ویز کی نظریں مہر پر تھیں۔

دودھیا رنگت، خوبصورت نقوش کی مالک، ہلکی سی لپ اسٹک لگاےُ قیامت خیز لگ رہی تھی۔

شاہ ویز کا دل اس قاتل حسینہ پر آ گیا جو اس کے دل پر چھریاں چلا رہی تھی۔

شاہ نے مہر کو اشارہ کیا تو وہ کھڑی ہو گئی۔

“حرم تم حرائمہ کو اپنے کمرے میں لے جاؤ۔۔۔”

شاہ حرم کو دیکھتا ہوا بولا۔

“جی بھائی۔۔۔”

حرم کہتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔

اسے یہ گھبرائی گھبرائی سی لڑکی اچھی لگی تھی جو نہ کہ حسین بلکہ معصوم بھی معلوم ہو رہی تھی۔

ایک ہفتہ خاموشی سے بیت گیا۔

مہر شاہ کے ہمراہ اس کی خواب گاہ میں تھی۔

“آج ہمارا ولیمہ ہے۔۔۔”

شاہ مہر کے سرہانے بیٹھتا ہوا بولا جو ابھی نیند سے جاگی تھی۔

مہر کے لب دھیرے سے مسکرانے لگے۔

“شاہ ایک بات پوچھوں؟”

مہر نے دماغ میں سر اٹھاتے سوال کو آج پوچھنے کا قصد کر ہی لیا۔

“ہاں پوچھو؟”

شاہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا نرمی سے بولا۔

“شاہ کیا آپ کو مجھ سے محبت ہے؟”

مہر اس کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی۔

شاہ کو اس سوال کی توقع نہیں تھی۔

“میں نہیں جانتا مہر لیکن سچ کہوں تو تم نے جو خوشی مجھے دی ہے نہ یہ سب اسی کے باعث ہو رہا ہے میرا خود میں تغیر و تبدل لانا، تمہیں عزت دینا شاید تم سے محبت ہو رہی ہے۔۔۔”

شاہ صاف گوئی سے بولا۔

“اور اگر آپ کو یہ خوشی نہ ملتی؟ یا پھر کچھ غلط ہو گیا پھر؟”

مہر کے دل میں وسوسے جنم لے رہے تھے۔

“جو ہوا نہیں جو ہونا نہیں اس کو سوچ کر کیوں خود کو ہلکان کر رہی ہو میں تم سے صرف وفا چاہتا ہوں بس اور کچھ بھی نہیں جس دن تم نے مجھ سے بے وفائی کی اس دن شاہ تمہیں اپنی زندگی سے بے دخل کر دے گا۔۔۔۔”

شاہ کے لہجے میں چٹانوں کی سی سختی تھی۔

مہر کا دل مانو کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا۔

“شاہ میں مرتے دم تک آپ کے ساتھ وفا نبھاؤں گی۔۔”

مہر اس کے گرم ہاتھ اپنے نازک ہاتھوں میں لیتی ہوئی بولی۔

شاہ نے اپنے لب مہر کے مرمریں ہاتھوں پر رکھ دئیے۔

“میری ایک بات ماننی ہو گی تمہیں۔۔۔”

شاہ بغور اسے دیکھتا ہوا بولا۔

“کیا؟”

مہر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔

“نماز پڑھا کرو۔ میں چاہتا ہوں ہماری اولاد نیک ہو۔۔۔”

شاہ دھیرے دھیرے بول رہا تھا۔

مہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔

حرم بار بار فون دیکھ رہی تھی لیکن وہ ہر بار کی مانند خاموش تھا۔

“ازلان تم مجھے بھول گئے ہو نہ؟”

حرم خفا خفا سی بولی۔

“اس دن کے بعد سے تم نے مجھ سے ایک بار بات نہیں کی۔۔۔”

وہ خود کلامی کر رہی تھی۔

ازلان کی دوری حرم کو اس کے قریب لا رہی تھی۔

جتنا وہ اس کے خیال کو جھٹکتی اتنی شدت سے وہ یاد آنے لگتا۔ اس پر ستم یہ کہ وہ خود بھی لاپرواہ بنا ہوا تھا حرم کی جانب سے اور حرم کو یہ بات تیز کی مانند چبھ رہی تھی۔

حرم نے دھیانی میں حرائمہ کو دیکھنے لگی جو نماز پڑھ رہی تھی۔

“کچھ لوگ کتنے بے بس ہوتے ہیں نہ ماں باپ اتنی جلدی چلے جاتے اور وہ کچھ نہیں کر پاتے۔۔۔۔”

حرم افسردگی سے سوچ رہی تھی۔

“اور ہمیں دیکھو کتنی نعمتیں ملی ہیں اتنا پیار ملا ہے۔۔۔”

حرم کو خود پر رشک آنے لگا تھا۔

“سچ میں انسان خود سے نیچے دیکھے تو معلوم ہوتا کہ اللہ نے اسے کتنی نعمتوں سے نوازا ہے۔

اوپر دیکھے گا تو ہمیشہ ناشکری کرے گا۔

شکر کرنا کے تو خود سے نیچے والوں کو دیکھو جو نجانے کتنی محرومیوں میں جی رہے ہیں لیکن پھر بھی زبان پر شکوہ نہیں۔۔‍”

“چھٹیاں ختم ہوں گیں تو آپ شہر چلی جائیں گیں؟”

حرائمہ کی آواز نے حرم کو اپنی سوچ کے محور سے نکالا۔

“ہا ہاں پھر میں ہاسٹل چلی جاؤں گی۔۔”

حرم اداسی سے بولی۔

“آپ ایم بی اے کر رہیں ہیں نہ؟”

حرائمہ نرمی سے استفسار کر رہی تھی۔

حرم اثبات میں سر ہلانے لگی۔

“میں بھی ایم ایس سی کر رہی تھی۔۔”

حرائمہ تاسف سے سوچنے لگی۔

“کہاں گم ہو گئی؟”

وہ حرائمہ کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہراتی ہوئی بولی۔

“کہیں نہیں۔ میں سوچ رہی تھی آپی کے ولیمے کے لئے تیاری شروع کر دیں۔۔۔”

“ہاں ٹھیک کہ رہی ہو آ جاؤ امی کے پاس چلتے ہیں۔۔۔”

حرم مسرور سی بولی۔

“شاہ ویز تمہیں پہلے بھی بتا چکا ہوں آج پھر سے بتا رہا ہوں برہان سے تنازعہ جائیداد پر ہوا تھا اسی لئے ان سے بول چال بند ہے اور تم بھی سمجھ جاؤ۔۔۔”

شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔

“بس ایک سوال بھائی؟”

شاہ ویز مظلومیت سے بولا۔

“پوچھو؟”

شاہ بیزاری سے بولا۔

“جھگڑا صرف جائیداد پر ہوا تھا نہ تو پھر اتنی کدورت اچھی بات تو نہیں ہے برہان صلح کا کہہ رہا تھا ہمیں بھی ہاتھ بڑھانا چائیے نہ کہ پرانی باتوں کو لے کر بیٹھیں رہیں۔۔۔۔”

شاہ ویز نے لمبی چوڑی وضاحت پیش کی۔

“ہو گیا؟ اب دوبارہ بحث نہیں ہو گی وہ لوگ ملنسار نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں سے دوری ہی عقلمندی کا تقاضا ہے۔۔۔”

شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔