Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 40
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 40
Tawaif by Hamna Tanveer
حرائمہ کو یہ پوچھنا عجیب لگ رہا تھا کیونکہ حال تو اس کا دیکھنے سے ہی معلوم ہو رہا تھا۔
مہر اثبات میں سر ہلاتی اندر کی جانب چلنے لگی۔
“تم کب آئی؟”
مہر اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
“رات میں آئی تھی۔آپ سے ملنا تھا لیکن عافیہ بھابھی نے کہا کہ صبح مل لینا۔شاید آپ سو رہی تھیں۔۔۔”
حرائمہ کو اسے دیکھ کر تکلیف ہو رہی تھی۔
مہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“آپی عافیہ بھابھی بتا رہی تھیں کہ جمعے کو میرا نکاح ہے؟”
حرائمہ نے اس کا دھیان ہٹانا چاہا۔
“ہاں۔شاہ نے تمہارا رشتہ شاہ ویز سے طے کیا ہے۔تمہیں کوئی اعتراض ہے تو بتا دو؟”
مہر اسے دیکھتی ہوئی بول رہی تھی۔
“نہیں آپی مجھے کیوں اعتراض ہو گا وہ میرے بڑے ہیں میرے لئے اتنا کر رہے ہیں بھلا انکار کا جواز بنتا ہے؟”
حرائمہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
“میں نے سوچا جو کچھ شاہ ویز نے کیا اس کے بعد۔۔۔”
“آپی وہ مجھے اپنا رہا ہے کیا یہ بہت بڑی بات نہیں؟”
حرائمہ نے اسے ٹوکا۔
“ہاں یہ تو ہے۔شاہ نے اسی لئے شاہ ویز سے طے کیا تمہارا رشتہ تاکہ تمہیں کوئی مسئلہ نہ ہو۔۔۔”
مہر آہستہ آہستہ بول رہی تھی۔
“بھائی بہت اچھے ہیں میں جتنا ان کا شکر ادا کروں کم ہے۔۔۔”
حرائمہ تشکرانہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بول رہی تھی۔
مہر پھیکا سا مسکرائی۔
“لیکن آپی میں ایک بار خود شاہ ویز سے بات کرنا چاہتی ہوں۔۔۔”
حرائمہ بولنا کچھ چاہتی تھی اور بول کچھ گئی۔
“ٹھیک ہے میں کروا دوں گی تمہاری بات لیکن امی کو معلوم نہیں ہونے دیں گے وہ بلا وجہ بات کا بتنگڑ بنا دیتی ہیں۔۔۔”
مہر منہ بناتی ہوئی بولی۔
“ٹھیک ہے جیسے آپ کو مناسب لگے۔۔۔”
حرائمہ خود کو کوسنے لگی۔
“آپ نے شاہ ویز کو معاف کر دیا؟”
حرائمہ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد گویا ہوئی۔
“البتہ اس نے معافی نہیں مانگی لیکن پہلے اس کی نگاہوں میں بےباکی ہوتی تھی لیکن اب ندامت ہوتی ہے۔پہلے وہ مجھے دیکھتا رہتا تھا لیکن اب نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا۔شاید اسے اپنی غلطی کا احساس ہے۔۔۔”
مہر سرد آہ بھرتی ہوئی بولی۔
“آؤ تمہیں ملوا دوں اس سے۔۔۔”
مہر کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔
حرائمہ شش و پنج میں مبتلا ہو کر کھڑی ہو گئی۔
مہر باہر نکل آئی اور شاہ ویز کے کمرے کی جانب چلنے لگی۔
سب اپنے اپنے کمروں میں تھے۔
مہر نے دروازہ ناک کیا۔
“آجائیں! “
شاہ ویز کی آواز سنائی دی تو مہر دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئی۔حرائمہ باہر ہی رک گئی۔
“جی بھابھی؟”
شاہ ویز بیڈ سے اتر کر کھڑا ہو گیا۔
چہرہ جھکا رکھا تھا۔
“حرائمہ تم سے کچھ بات کرنا چاہتی ہے تو میں نے سوچا۔۔۔”
مہر الفاظ جوڑ رہی تھی۔
“جی بھابھی آپ بھیج دیں۔بےفکر رہیں کچھ نہیں ہو گا اسے۔۔۔”
شاہ ویز اس کی جھجھک سے یہی اخذ کر سکا۔
“نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔”
مہر نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔
شاہ ویز اثبات میں سر ہلانے لگا۔
مہر باہر نکل گئی۔
“تم بات کر لو میں باہر کھڑی ہوں۔۔۔”
مہر اس کے شانے پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔
حرائمہ گردن ہلاتی اندر چل دی۔
حرائمہ چہرہ جھکاےُ اس کے سامنے آئی۔
ہمت کر کے حرائمہ اندر تو آ گئی تھی شاہ ویز سے بات کرنے لیکن شاہ ویز کے سامنے اس کی ساری ہمت جواب دے گئی۔
“بیٹھ جاؤ۔۔۔”
شاہ ویز اس کی جھجھک محسوس کرتا کرسی کی جانب اشارہ کرتا ہوا بولا۔
شاہ ویز نے ایک نظر میں اس کا جائزہ لیا۔
سرخ و سپید رنگ،جھکی پلکیں،پنکھڑی جیسے لب جنہیں وہ مسلسل کاٹ رہی تھی۔شاہ ویز کے لب دھیرے سے مسکرانے لگے۔
یہ ڈری سہمی سی لڑکی اسے اچھی لگی تھی۔اگر کبھی وہ مہر سے نظر ہٹا کر اسے دیکھتا تو شاید پہلے ہی اسے پسند کر لیتا۔
“تمہیں کچھ کہنا تھا مجھ سے؟”
شاہ ویز نے خود گفتگو کا آغاز کیا۔
“جی۔وہ مجھے آپ کو کچھ بتانا تھا۔۔۔”
حرائمہ خوفزدہ ہو کر بول رہی تھی۔
“پہلی بات تو یہ کہ میں کوئی جن نہیں ہوں۔نہ ہی تمہیں کھانے کا ارادہ رکھتا ہوں سو ایزی ہو کر بات کروں۔کچھ نہیں کہتا میں۔۔۔”
شاہ ویز اسے نارمل کرنے کی غرض سے بولا۔
حرائمہ نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا جو مسکرا رہا تھا۔
شاہ ویز کے ہلکے پھلکے انداز سے اسے کچھ ڈھارس ملی۔
“میں ایک طوائف ہوں۔صحیح معنوں میں طوائف۔۔۔”
بولتے بولتے حرائمہ کی آنکھ سے آنسو چھلک پڑے۔
“میں جانتا ہوں۔۔۔”
شاہ ویز کا لہجہ پراعتماد تھا۔
“مجھے بہت سے لوگوں نے۔۔۔”
اس سے آگے حرائمہ کے الفاظ دم توڑ گئے۔
“میں یہ بھی جانتا ہوں۔۔۔”
شاہ ویز کے اعتماد میں کسی طور بھی کمی نہ آئی۔
“آپ ایک ایسی لڑکی سے شادی کرنے جا رہے ہیں؟”
حرائمہ چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔
“میں خود بھی کوئی اچھا انسان نہیں ہوں۔میرا کافی عرصے سے ایک لڑکی کے ساتھ افئیر ہے لیکن اب نہیں۔اور سنا ہو گا تم نے ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے۔
اگر میں توقع کرتا ہوں کہ مجھے کوئی صاف شفاف بیوی ملے گی تو غلط ہے۔بےشک تمہارا کوئی قصور نہیں اس میں لیکن میں ایک ایسی ہی لڑکی کو ڈیذرو کرتا ہوں۔۔۔”
شاہ ویز صاف گوئی سے بولا۔
حرائمہ ششدر رہ گئی۔
“میں سموکنگ کرتا ہوں بہت زیادہ۔تمہیں برداشت کرنا پڑے گا یا پھر ایسا کرنا تم بھی میرے ساتھ سموکنگ کرنا۔۔۔”
شاہ ویز دھیرے سے مسکراتا ہوا بولا۔
حرائمہ اس کی بات پر مسکرانے لگی۔
“تھوڑا سا نہیں بہت زیادہ بگڑا ہوا ہوں۔سدھرنے کا کوئی امکان نہیں تمہیں میرے ساتھ ایڈجسٹ کرنا پڑے گا۔۔۔”
شاہ ویز اسے دیکھتا ہوا بولا۔
حرائمہ اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“رہی بات محبت کی تو بہت بار ہوئی ہے تم سے بھی ہو جاےُ گی۔۔۔”
شاہ ویز محظوظ ہوتا ہوا بولا۔
شاہ ویز کو سن کر حرائمہ کا دل پرسکون ہو گیا تھا۔
وہ جیسا بھی تھا اس کا ہونے والا شوہر تھا اور اسے ہر حال میں قبول تھا۔
“ایک اور بات تمہیں میری ہر بات ماننی پڑے گی قبول ہے؟”
شاہ ویز آبرو اچکا کر بولا۔
حرائمہ اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“مجھے ایک بات بتاؤ بیوی لا رہا ہوں یا گاےُ جو صرف سر ہلاتی ہے۔کچھ بولو بھی؟”
شاہ ویز باتوں کو طول دینا چاہتا تھا۔
“میں کیا بولوں جو کہنا تھا آپ سب جانتے ہیں۔۔۔”
حرائمہ شانے اچکاتی اسے دیکھنے لگی۔
“جو کہنے آئی تھی اسے یہیں بھول جاؤ دوبارہ ہم اسے ڈسکس نہیں کریں گے ہر انسان کا ماضی ہوتا ہے اور ہم دونوں کا کلئیر ہو چکا ہے۔۔۔”
“جی۔۔۔”
حرائمہ سر جھکا کر بولی۔
شاہ ویز کو شرارت سوجھ رہی تھی۔
“ایک بات بتاؤ؟ تم نے بہت لڑکے دیکھے ہیں؟”
شاہ ویز بغور اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“جی؟”
حرائمہ متحیر سی اسے دیکھنے لگی۔
“مطلب دیکھے ہیں۔۔۔”
وہ لب دباےُ مسکرا رہا تھا۔
“نہیں میرا مطلب۔۔۔”
“مجھے لگا شاید تم نے بہت لڑکے دیکھے ہیں اس لئے مجھے دیکھ نہیں رہی کہ یہ تو بیکار سا ہے۔۔۔”
شاہ ویز اس کی جھجھک سے محظوظ ہو رہا تھا۔
“نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔”
حرائمہ نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔
“اب تم جاؤ بھابھی باہر کھڑی ہوں گیں۔۔۔”
شاہ ویز جانے کا اشارہ کرتا ہوا بولا۔
حرائمہ اس کے پل پل بدلتے رویے پر حیران ہوتی باہر نکل آئی۔
“کیا ہوا؟”
مہر اس کی بوکھلاہٹ دیکھ کر بولی۔
“نہیں کچھ نہیں۔بس تھوڑا عجیب سا ہے۔۔۔”
حرائمہ الجھ کر بولی۔
“جب شادی ہو گی سمجھ بھی آ جاےُ گا۔۔۔”
مہر اس کا منہ تھپتھپاتی ہوئی بولی۔
“نماز کا ٹائم ہو رہا ہے میں پھر آتی ہوں آپ کے پاس۔۔۔”
حرائمہ مسکراتی ہوئی بولی۔
“ہاں مجھے بھی پڑھنی ہے۔۔۔”
مہر فکر سے کہتی اپنے کمرے کی جانب چل دی۔
شام کے ساےُ گہرے ہو رہے تھے۔
دسمبر کی اداس شاموں کی مانند ستمبر کی شامیں بھی اداس ہو گئی تھیں۔
دسمبر کی یخ بستہ ہوائیں جو احساسات کو منجمند کر دیتی ہیں ستمبر کی ہوائیں بھی کچھ ایسا ہی فعل کر رہی تھیں۔
چہرے پر مایوسی اور تھکن لئے شاہ اور شہریار آ رہے تھے۔
اس اداس شام کی مانند شاہ کی آنکھیں بھی اداس تھیں۔
فلک نے خورشید کو کھو دیا تھا اور شاہ نے اپنی جان کو۔
لیکن فلک کو اس کا نعم البدل مہتاب کی صورت میں ملنے والا تھا اس کے برعکس شاہ کو اس کا نعم البدل مل ہی نہیں سکتا تھا۔کیونکہ انسانوں کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔
یہ ہماری سوچ ہوتی ہے کہ اس انسان جیسا انسان ہمیں مل جاےُ گا لیکن حقیقت میں ہم ساری زندگی اسی انسان کو تلاشتے رہتے ہیں جن کا ملنا نا ممکنات میں شمار ہو جاتا ہے۔
شاہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا اندر کی جانب بڑھ رہا تھا۔
اس کا ظاہر اور باطن دونوں چیخ چیخ کر اس کا حال بیان کر رہا تھا۔
شرٹ باہر نکلی ہوئی تھی،رف سی پینٹ پہنے بالوں میں برش کی بجاےُ ہاتھ چلاتے وہ انہیں ٹھیک کر لیتا اور چہرہ غم کی داستان بنا ہوا تھا۔
مہر اسے دیکھ چکی تھی تبھی سُرعت میں زینے اترنے لگی۔
شاہ اس کی بے چینی سمجھتا تھا۔
مہر ان دونوں کو دیکھ کر مایوس ہو گئی۔
قدموں کی رفتار دم بخود دھیمی پڑ گئی۔
“نماز پڑھ کر آ رہی ہو؟”
شاہ اس کے مقابل آتا ہوا بولا۔
مہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“اچھی بات ہے۔۔۔۔”
شاہ اس کا منہ تھپتھپاتا ہوا بولا۔
“میں بابا سائیں سے بات کر کے آتا ہوں۔۔۔”
شاہ اس سے نظریں ملاےُ بغیر چلا گیا۔
مہر افسردگی سے اس کی پشت کو دیکھنے لگی۔
“شاہ میری بیٹی کو کیوں نہیں لایا تو؟ ہاےُ پتہ نہیں کس حال میں ہو گی؟ ہماری تو کسی سے دشمنی نہیں پھر کون لے گیا میرا خوان بچی کو؟”
شاہ ضبط کئے انہیں سن رہا تھا۔
کمال صاحب شاہ کے تاثرات سے اس کی حالت بخوبی سمجھ رہے تھے۔
“بیگم خاموش ہو جاؤ انہیں بولنے تو دو۔۔۔”
کمال صاحب کی آواز کمرے سے باہر تک سنائی دی۔
ضوفشاں بیگم دوپٹہ سے آنسو صاف کرتی خاموش ہو گئیں۔
شاہ نے شہریار کو اشارہ کر دیا۔
وہ مہر کو سنبھالتے سنبھالتے تھک جاتا تھا گھر والوں کو سمجھانا،اس میں اتنی سکت نہیں تھی۔
‘”بابا سائیں ہر جگہ دیکھ لیا ہے جہاں حرم کا ملنا متوقع تھا لیکن وہ کہیں نہیں ملی خدا جانے وہ کہاں ہے؟ نہ حرم کا کچھ معلوم ہو رہا ہے نہ ہی ماناب کا۔۔۔”
شہریار مایوسی سے بولا۔
“اور پولیس؟”
وہ آبرو اچکا کر بولے۔
“بابا سائیں پولیس سب سے پہلے گھر میں پوچھ گچھ کرے گی اور مہر بھابھی کی حالت ایسی نہیں کہ انہیں اس سب میں دھکیلا جاےُ۔دوسری بات پولیس سے سب کو معلوم ہو جاےُ گا۔۔۔”
شہریار افسردگی سے بولا۔
“معلوم تو ابھی بھی ہو رہا ہے میں تو کہتا ہوں پولیس میں ماناب اور حرم دونوں کی رپورٹ کروا دو۔۔۔”
وہ برہمی سے بولے۔
“صبح دیکھتا ہوں بابا سائیں۔اپنے کسی جاننے والے سے بات کروں گا۔۔۔”
شاہ تھکے تھکے انداز میں کہتا باہر نکل گیا۔
“اللہ جانتا ہے کیا لکھا ہے اس کے نصیب میں؟”
وہ شاہ کو دیکھتے تاسف سے بولے۔
“اب کل کا انتظار کریں ہم؟ شاہ کو تو کوئی فکر ہی نہیں ہے نہ اپنی بیٹی کی نہ ہی اپنی بہن کی۔۔۔”
ضوفشاں بیگم آنسو بہاتی پھر سے شروع ہو گئیں۔
شہریار انہیں دیکھتا نفی میں سر ہلاتا باہر نکل گیا۔
“تمہاری عقل گھاس چرنے گئی ہے یا شاہ کی حالت تمہیں دکھائی نہیں دیتی یا اندھی ہو گئی ہو؟”
شہریار کے نکلتے ہی وہ برس پڑے۔
“میں ہی بری لگتی ہوں سب کو کیا غلط کہہ دیا ہے میں نے؟”
وہ کمال صاحب کو دیکھتی ہوئی بولیں۔
“اپنا منہ بند رکھو تو بہتر ہو گا ورنہ تمہیں ہی خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔۔۔”
وہ غضب سے دیکھتے ہوۓ بولے۔
ضوفشاں بیگم منہ بناتی دوسری سمت دیکھنے لگیں۔
شاہ کی نظر مہر پر پڑی۔
شاہ جیسے اسے چھوڑ کر گیا تھا وہ ویسے ہی کھڑی تھی۔
“تم یہیں کھڑی ہو؟”
شاہ اسکی جانب چلتا ہوا بولا۔
“آپ کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔”
مہر کی آواز اتنی آہستہ تھی کہ شاہ بمشکل سن پایا۔
“آؤ باہر چلتے ہیں۔۔۔”
شاہ اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔
مہر سر جھکاےُ اس کے ساتھ چلنے لگی۔
“شاہ؟”
مہر کی آواز نا چاہتے ہوۓ بھی بھیگ گئی۔
“بولو؟”
شاہ سامنے دیکھتا ہوا چل رہا تھا۔
وسیع و عریض باغ میں وہ دونوں آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔
“ماناب کو اب ہم کبھی دیکھ نہیں سکیں گے؟”
مہر سوں سوں کرتی آستین سے چہرہ صاف کرنے لگی۔
شاہ چند ثانیے کچھ بول نہ سکا۔
چہرہ اوپر اٹھاےُ وہ آنسوؤں پر بندھ باندھ رہا تھا۔
“پتہ نہیں مہر؟ میں کچھ بھی سوچنے سمجھنے سے قاصر ہوں اس وقت لیکن اگر قسمت کو یہی منظور ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟”
شاہ بےبسی سے بولا۔
مہر تڑپ کر اسے دیکھنے لگی لیکن شاہ اسے نہیں دیکھ رہا تھا۔
“شاہ میرا سانس بند ہو جاےُ گا ایسے مت بولیں۔۔۔”
مہر کو اپنی جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔
“مہر تم بہت بہادر ہو! ہمت سے کام لو دیکھو تمہارا شوہر کتنے حوصلے والا ہے ایک ہی دن میں بہن اور بیٹی دونوں کو کھو دیا پھر بھی تمہارے ساتھ صبر کا دامن تھامے کھڑا ہے۔۔۔”
شاہ درخت سے ٹیک لگا کر مہر کو دیکھنے لگا۔
مہر نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
نہ دل ماننے پر راضی تھا نہ دماغ۔
“شاہ میں کیسے ہمت کروں؟ نو مہینے وہ میرے ساتھ سانس لیتی رہی گزشتہ دو ماہ سے میرے دن اور رات اس کے ساتھ گزرے ہیں وہ میرے جسم کا حصہ ہے شاہ۔میں کیسے مان لو دوبارہ ان ہاتھوں میں اسے اٹھا نہیں سکتی۔میری یہ آنکھیں اسے دیکھنے کے لیے ترس رہی ہیں ان کی پیاس کبھی نہیں بجھے گی کیسے مان لو شاہ؟ میرے دل کو کبھی سکون نہیں ملے گا کیسے سمجھاؤں میں اسے؟”
مہر بےیقینی سے اسے دیکھتی ہوئی بول رہی تھی۔
ایک ایک حرف پر اس کی آنکھ برس رہی تھی۔
یہ تو ظاہری اذیت تھی باطنی اذیت کا تو اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔
“مہر میں سب جانتا ہوں اور سمجھتا بھی ہوں۔تم بتاؤ میں کیا کروں؟ کون سی جگہ ہے جہاں ماناب ہو گی تم بتاؤ میں چلا جاتا ہوں مہر مجھے دوسری دنیا میں بھی جانا پڑے نہ میں چلا جاؤں گا لیکن مجھے بتاؤ تو سہی میں جاؤں کہاں؟ تمہیں کیا لگتا ہے مجھے تکلیف نہیں ہو رہی میں تیرہ سال اولاد کے لیے ترستا رہا ہوں ماناب کو دیکھتا تھا تو معلوم ہوتا تھا زندگی ہے۔مہر وہ میری بھی جان ہے۔ بےشک میں اس کے ساتھ اتنا وقت نہیں رہتا جتنا تم رہتی ہو لیکن۔۔۔”
شاہ نے سسکتے ہوۓ بات ادھوری چھوڑ دی۔
مہر خاموش ہو گئی۔
کچھ پل خاموشی کی نذر ہو گئے۔
“میں تھک گئی ہوں۔۔۔”
مہر چہرہ اٹھا کر شاہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“کمرے میں چلتے ہیں۔۔۔”
شاہ چہرہ صاف کرتا ہوا بولا۔
“نہیں یہیں پر بیٹھ جاتے ہیں۔۔۔”
مہر اس کا ہاتھ تھامتی گھاس پر بیٹھ گئی۔
شاہ بھی اس کے ہمراہ بیٹھ گیا۔
مہر نے سر اس کے شانے پر رکھ دیا اور گھاس پر انگلیاں چلانے لگی۔
شاہ نے درخت سے سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔
****////////****
“اس کمبخت زنیرہ کو فون کر یہ کس آفت کو اٹھا لائی ہے رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیا ہے وہ بچی کم تھی کیا؟”
زلیخا بیگم بانی کو دیکھتی کوفت سے بولیں۔
“پتہ نہیں زنیرہ نے کیا دیکھا رنگ تو سفید نہیں ہے اس لڑکی کا؟”
بانی حرم کا منہ دبوچتی ہوئی بولی۔
حرم کراہ کر اسے دیکھنے لگی۔
