Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 20
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 20
Tawaif by Hamna Tanveer
“ٹھیک ہے بھائی۔۔۔”
شاہ ویز منہ بسورتا ہوا چل دیا۔
“جو حقیقت ہے تمہیں نہیں بتا سکتا میں۔۔۔”
شاہ سانس خارج کرتا ہوا بولا۔
****////////****
آئمہ یہ لڑکی تو بلکل بیکار ہے جو تم لائی ہو۔۔۔۔”
زلیخا بیگم منہ بناتی ہوئی بولیں۔
“بیگم صاحبہ رانی کو بولیں وہ سیکھا دے گئ مجرا کرنا۔۔۔”
آئمہ حل پیش کرتی ہوئی بولی۔
“رانی کو ہی بولا تھا سیکھانے کو لیکن زرا مزا نہیں اس میں ہاےُ مہر ہوتی تھی کیا رقص کرتی تھی لوگ اس کے سحر میں جکڑ جاتے تھے۔۔۔۔”
زلیخا بیگم آہ بھرتی ہوئی بولیں۔
مہر کے نام پر آئمہ کے چہرے پر تلخی در آئی۔
“ٹھیک ہے بیگم صاحبہ اس سے جو مرضی کام لیں ایک لڑکی ہے میری نظر میں اس سے آپ خوش ہو جائیں گیں۔۔۔۔۔”
آئمہ کہتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔
“زبیرہ سے سیکھ۔ دیکھا اس حرائمہ کو پکڑ کر لائی تھی لیکن وہ کم بخت نجانے کہاں غائب ہو گئ۔۔۔”
وہ پان منہ میں ڈالتی ہوئی بولیں۔
آئمہ جل بھن کر باہر نکل گئی۔
“کبھی زنیزہ تو کبھی مہر۔ ہم تو کسی گنتی میں ہی نہیں ہیں۔۔۔”
وہ ہنکار بھرتی چلنے لگی۔
****///////****
سب کو مصروف دیکھ کر حرم چھت پر آ گئی۔
حرائمہ کے باعث وہ ازلان کو فون نہیں کر سکی تھی اس لئے یہ موقع گنوانا نہیں چاہتی تھی۔
ازلان اوندھے منہ لیٹا ہوا مووی دیکھ رہا تھا۔
یہ ایک ایکشن مووی تھی۔
اور ازلان نے چہرہ پر بیزاری تھی وہ صرف وقت گزاری کے لئے دیکھ رہا تھا۔
فون کی رنگ سنائی دی تو ہاتھ مار کر بیڈ سے فون اٹھایا۔
حرم کا نام جلتا بجھتا دیکھ کر لب مسکرانے لگے۔
“اووہ تو میڈم کو میری یاد آ ہی گئی ابھی خبر لیتا ہوں۔۔۔”
ازلان شرارت سے بولتا ہینڈ فری لگانے لگی۔
“ہیلو؟”
حرم کی ہلکی سی آواز ابھری۔
“جی کون؟”
ازلان انجان بنتا ہوا بولا۔
حرم نے فون کان سے ہٹایا اور نمبر دیکھنے لگی۔
“نمبر تو ازلان کا ہی ہے پھر۔۔۔۔”
حرم فون کان سے لگاےُ سوچنے لگی۔
“کیا یہ نمبر ازلان کا ہے؟”
حرم نے گھبراتے ہوۓ استفسار کیا۔
“جی نہیں۔ آپ کی تعریف؟”
ازلان لب دباےُ اس کے جواب کا منتظر تھا۔
“میں میں کوئی نہیں۔۔۔۔”
حرم پریشانی سے گویا ہوئی۔
اس سے پہلے کہ حرم فون رکھتی ازلان بول پڑا۔
“کوئی نہیں ہو تو پھر اپنے شوہر کو کیسے فون کیا ہے؟”
ازلان کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ احاطہ کئے ہوۓ تھی۔
“ازلان تم ہو؟”
حرم نے تصدیق کرنا چاہی۔
“جی ہاں میں ہوں۔ اتنے دنوں بعد فون کرو گی تو بھول ہی جاؤں گا نہ۔۔۔”
وہ خفگی سے بولا۔
“تم نے بھی تو دوبارہ فون نہیں کیا۔۔۔”
حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔
” مجھے یہ بتاؤ تم کہاں ہو؟”
“گھر میں۔۔۔”
حرم معصومیت سے بولی۔
“بیوقوف میرا مطلب اتنے دنوں سے کہاں غائب تھی؟”
ازلان جانے انجانے میں شکوہ کر ہی گیا۔
حرم لب دباےُ سوچنے لگی۔
“تمہیں معلوم ہے میں تم سے بدلے لینے کے نئے نئے طریقے سوچتا ہوں روز۔۔۔”
ازلان اٹھ کر بیٹھ گیا۔
دل اس دشمن جاں کو دیکھنے پر اکسا رہا تھا۔
“کس بات کا بدلہ؟”
حرم کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
“بھول گئی تم جانے سے پہلے؟ میرا پیپر؟”
“اچھا وہ۔۔۔۔”
حرم یاد آنے پر بولی۔
“بلکل میں تو سوچ رہا تھا تمہیں سوئمنگ پول میں پھینک کر بجلی کی تار تار گرا دوں گا۔ یہ زیادہ آسان ہے۔۔”
ازلان محظوظ ہوتا ہوا بولا۔
“ہاےُ ازلان تم مجھے مارنے کے منصوبے بناتے رہتے ہو؟”
حرم صدمے سے بولی۔
“حرم؟”
ازلان کا لہجہ بدلا۔
حرم ششدہ رہ گئ۔
“میں سن رہی ہوں۔۔”
حرم لب کاٹتی ہوئی بولی۔
“ویڈیو کال پر آؤ۔۔۔”
ازلان نے اپنے دل کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے۔
“ویڈیو کال کیوں؟”
حرم اچھل پڑی۔
“ویسے ہی میرا دل کر رہا ہے۔۔۔”
ازلان جذبات سے چور لہجے میں بول رہا تھا۔
حرم خاموش ہو کر لب کاٹنے لگی۔
دل اس کا بھی چاہ رہا تھا ازلان کو دیکھنے کا لیکن عجیب بھی لگ رہا تھا۔
“تم آ رہی ہو یا میں آؤں؟”
ازلان کافی دیر بعد بولا۔
حرم جیسے ہوش میں آئی۔
“نہ نہیں میں کرتی ہوں نہ کال تم کیوں آؤ گے؟”
حرم گھبراتی ہوئی بولی۔
ازلان نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔
ایک منٹ بعد حرم کی ویڈیو کال لے لگی ازلان نے ایک لمحے کی تاخیر کئے بنا کال اٹینڈ کر لی۔
حرم کا چہرہ جھکا ہوا تھا۔
ازلان چند سیکنڈز اسے دیکھتا رہا بلاشبہ تیار ہو کر وہ قیامت لگتی تھی۔
“تمہیں منہ دکھائی نہیں دینے لگا میں۔۔۔”
ازلان کا انداز مزاح سے بھرپور تھا۔
حرم نے نگاہیں اٹھا کر خفگی سے دیکھا۔
ازلان بنا شرٹ کے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاےُ بیٹھا تھا۔
حرم نے فوراً نگاہیں جھکا لیں۔
ازلان اس کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر مسکرانے لگا۔
“یہ بتاؤ اتنا تیار کیوں ہوئی ہو میں تو یہاں بیٹھا ہوں؟”
ازلان آبرو اچکا کر بولا۔
“وہ میرے بھائی کا ولیمہ ہے آج۔۔۔”
حرم دائیں بائیں دیکھتی ہوئی بولی۔
“بڑی بے مروت ہو بھائی کے ولیمے میں شوہر کو نہیں بلایا؟”
ازلان برا مان گیا۔
“میں کیسے بلاتی تمہیں بھائی نے مجھے جان سے مار دینا تھا۔۔۔”
حرم تاسف سے بولی۔
“اچھا اب ایسا کرو مجھے چاول بھیجو اپنے بھائی کے ولیمے کے۔ شادی پر تو تم نے بلایا نہیں۔۔۔”
ازلان خفا خفا سا بولا۔
“میں کیسے بھیجوں؟”
حرم منہ کھولے اسے دیکھنے لگی لیکن ساتھ ہی نظریں جھکا گئی۔
“خود دینے آؤ اور اگر تم نہ آئی تو دیکھنا خیر نہیں تمہاری۔۔۔”
ازلان گھوری سے نوازتا ہوا بولا۔
حرم کو مانو سانپ سونگھ گیا۔
“ازلان میں کیسے آ سکتی ہوں تم خود سوچو؟”
حرم افسردگی سے بولی۔
“اچھا ملازم ہیں نہ گھر میں؟”
حرم اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“ان کے ہاتھ بھیج دو۔۔۔”
ازلان لب دباےُ مسکراہٹ روکتا ہوا بولا۔
“نہیں۔میرا مطلب بھائی پوچھیں گے کس کے گھر بھیج رہی اور اگر انہیں معلوم ہو گیا تو؟”
حرم پھر سے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔
“بس معلوم ہو گیا مجھے تم چاولوں کی بھوکی ہو۔ میں نے کون سا ساری دیگ مانگ لی تھی۔۔۔”
ازلان منہ بناتا ہوا بولا۔
“نہیں ازلان قسم سے ایسا نہیں ہے میں تو پوری دیگ بھی دے دوں۔ میرے حصے کا بھی تم کھا لو چاہے لیکن مسئلہ بھیجنے کا ہے۔۔۔”
وہ معصومیت سے بولی۔
ازلان ہنستا ہوا اسے دیکھنے لگا۔
“ازلان پلیز شرٹ پہن لو۔۔۔”
حرم التجائیہ انداز میں بولی۔
“کیوں ایسے کیا مسئلہ ہے؟”
ازلان اس کی ہچکچاہٹ کا لطف لے رہا تھا۔
حرم نے ابھی تک اسے نظر بھر کر دیکھا بھی نہیں تھا۔
حرم خاموش رہی۔
“جب تم مجھے شرٹ لا کر دو گی میں تبھی پہنوں گا شرٹ۔۔۔۔”
ازلان ضدی انداز میں بولا۔
“ہا! “
حرم منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔
“اچھا میں واپس جا کر لا دو گی ابھی تو پہن لو؟”
ازلان بنا کچھ کہے کیمرے کے سامنے سے ہٹا واپس آیا تو بدن شرٹ سے پوشیدہ تھا۔
حرم نے سکھ کا سانس لیا۔
“اب بولو بھیج رہی ہو چاول یا میں خود لینے آؤں؟”
ازلان چہرے پر سنجیدگی طاری کئے بولا۔
“ازلان تم نے کبھی چاول نہیں کھاےُ؟”
حرم متحیر سی بولی۔
“کھاےُ ہیں لیکن تمہارے بھائی کے ولیمے کے کبھی نہیں کھاےُ۔۔۔”
ازلان کا موڈ فریش ہو گیا تھا۔
حرم رونے والی شکل بناےُ اسے دیکھنے لگی۔
“ازلان شاید کوئی آ رہا ہے میں بعد میں بات کروں؟”
حرم اجازت طلب نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
اس ایک نظر میں حرم نے ازلان کو اپنی آنکھوں میں مقید کر لیا تھا۔
“ہاں جاؤ۔۔۔”
ازلان کے چہرے پر مسکان تھی۔
حرم نے مسکراتے ہوۓ خدا حافظ بولا اور فون بند کر دیا۔
چہرہ موڑ کر عقب میں دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا۔
“شکر ہے کسی نے دیکھا نہیں۔۔۔”
حرم سانس خارج کرتی زینے اترنے لگی۔
شاہ اور مہر دونوں ایک ساتھ صوفے پر بیٹھے تھے۔
شاہ کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ تھی۔
عدیل کو دیکھ کر شاہ سٹیج سے اتر گیا۔
مہر نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا جس کی پشت مہر کی جانب تھی۔
حرم بھی سٹیج پر آ گئی۔
“بھابھی آپ نے کھانا کھا لیا؟”
حرم اس کے پہلو میں بیٹھتی ہوئی بولی۔
مہر نفی میں سر ہلانے لگی۔
“چلیں پھر میں کھلا دیتی ہوں۔۔۔”
حرم خوشدلی سے بولی۔
“حرم دراصل شاہ نے کہا تھا یہ سب نہیں کھانا جو ڈاکٹر نے ڈائیٹ بتائی ہے وہی سب کھانا ہے۔۔۔”
مہر اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“چلیں کوئی بات نہیں مجھے تو بہت بےصبری سے اپنے بھانجے یا بھانجی کا انتظار ہے۔۔۔”
حرم اشتیاق سے بولی۔
مہر اسے دیکھ کر مسکرانے لگی۔
شاہ ویز کچھ فاصلے پر کھڑا مہر کر اپنی نگاہوں کے حصار میں لئے ہوۓ تھا۔
شاہ ویز کی نظر نا چاہتے ہوۓ بھی مہر پر ٹھر جاتی۔
مہر کے حسن پر تبصرے تمام رشتے دار ہی کر رہے تھے وہ تو پھر ایک مرد تھا۔
شاہ ویز نے اپنے فون میں مہر کی ایک تصویر نظر بند کر لی۔
لب دھیرے سے مسکرانے لگے۔
“بھائی کہاں سے ڈھونڈ کر لاےُ ہو آپ مہر کو؟ کاش مجھے مل جاتی۔۔۔”
شاہ ویز آہ بھرتا حسرت سے بولا۔
“یار تو مہر کو حویلی لے آیا ہے؟”
عدیل جتنا حیران ہوتا اتنا کم تھا۔
“وہ میرے بچے کی ماں بننے والی ہے ظاہر سی بات ہے اسے حویلی لے کر آنا تھا۔۔۔”
شاہ پرسکون انداز میں بولا۔
“لیکن شاہ وہ ایک طوائف ہے تو کیسے اسے اپنی بیوی کا درجہ دے سکتا ہے؟”
عدیل ششدہ سا بولا۔
“پہلے میں بھی طوائف سمجھتا تھا لیکن اب وہ میری بیوی ہے میری فیملی اور عدیل یاد رکھنا آج تو نے اسے طوائف بول دیا اگلی بار میں ہر گز برداشت نہیں کروں گا۔۔۔۔”
شاہ کے چہرے کے تاثرات بدلے اور سختی عود آئی۔
“تو محبت کرتا ہے مہر سے؟”
عدیل اب سنبھل کر بولا۔
“میں نہیں جانتا لیکن اس کی غیرموجودگی کِھلتی ہے مجھے۔ کچھ ادھورا ادھورا سا لگتا ہے۔۔۔”
شاہ نے چہرہ موڑ کر مہر کو دیکھا جو سر جھکاےُ بیٹھی تھی۔
“اور اس کے ساتھ؟”
عدیل بغور اس کے چہرے کو دیکھتا ہوا بولا۔
“اس کے ساتھ مانو سب مکمل ہو گیا۔۔۔”
شاہ مسکراتا ہوا بولا۔
“شاہ کیا وہ وفادار ثابت ہو گی؟ کیونکہ جس جگہ سے وہ آئی ہے وہاں تو۔۔۔”
عدیل نے اسے دیکھتے ہوۓ بات ادھوری چھوڑ دی۔
“فلحال اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں میں اپنے بچے کو ایک نارمل زندگی دینا چاہتا ہوں۔۔۔”
شاہ شانے اچکاتا ہوا بولا۔
“اور اگر سب کو معلوم ہو گیا کہ وہ کوٹھے سے آئی ہے پھر؟”
عدیل طوائف بولنے سے گریز برت رہا تھا۔
“جب ایسا ہو گا دیکھا جاےُ گا۔۔”
شاہ نے اسے ٹالنا چاہا۔
عدیل اس کی بات کا مفہوم سمجھتا اثبات میں سر ہلانے لگا۔
“ارے یہ تو طوائف ہے! ہاےُ ہاےُ دیکھو شاہ خاندان نے ایک طوائف کو اپنی بہو بنا لیا؟”
شاہ کی سماعتوں سے وہ آواز ٹکرائی۔
وہ خاتون تقریباً چلانے والے انداز میں بولی تھی اور شاہ کے ساتھ ساتھ کئی مہمانوں نے سنا تھا۔
چہرے پر چٹانوں کی سی سختی عود آئی۔
شاہ پیچ و تاب کھاتا اس عورت کے پاس آیا۔
“کیا کہا آپ نے؟”
شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔
“کچھ نہیں بس دلہن کو دیکھ رہے تھے۔۔”
وہ گڑبڑا کر بولیں۔
“ابھی ایک منٹ پہلے میری بیوی کو کیا کہا؟”
شاہ طیش میں بولا۔
“یہی کہ وہ لڑکی طوائف ہے۔۔۔”
کچھ سوچ کر وہ خاتون بولی۔
“اچھا میری بیوی طوائف ہے؟ مطلب آپ بھی طوائف ہیں۔۔۔”
شاہ سینے پر ہاتھ باندھتا ہوا بولا۔
اس عورت کو آگ لگ گئی شاہ کی بات پر۔
“مجھے طوائف کیسے کہ سکتے ہو؟”
وہ دانت پیستی ہوئیں بولیں۔
“ایک طوائف کو دوسری طوائف ہی جان سکتی ہے نہ؟ آپ میں سے کوئی جانتا ہے؟”
شاہ ٹیبل پر براجمان دوسری خواتین کو دیکھتا ہوا بولا۔
سب کے سر نفی میں ہل رہے تھے۔
“چودھری صاحب نے مجھ بتایا ہے۔۔۔”
وہ غصے سے گویا ہوئیں۔
” اووہ مطلب چودھری صاحب کوٹھے پر جاتے ہیں زبردست جہاں تک میرا خیال ہے عزت دار لوگ اس جگہ پر نہیں جاتے۔ ایسا ہی ہے نہ؟”
شاہ اس عورت کو گھورتا ہوا بولا۔
آس پاس لوگ ان کی جانب متوجہ ہو رہے تھے۔
ضوفشاں بیگم پیشانی پر بل ڈالے اس جانب چلنے لگیں۔
“میرے شوہر پر کیسے الزام لگا سکتے ہو؟”
وہ تقریباً پھٹ پڑیں۔
“تو آپ میری بیوی پر کیسے الزام لگا سکتی ہیں؟”
شاہ ٹیبل پر ہاتھ مارتا ہوا چلایا۔
“شادی میں آئیں ہیں نہ کھانا کھائیں اور گھر کو جائیں اور اپنے شوہر سے کہنا اگلی بار کوٹھے پر جاےُ تو ثبوت لے کر آےُ میری بیوی کے خلاف۔۔۔”
شاہ چبا چبا کر بولتا پیچھے ہو گیا۔
ضوفشاں بیگم ششدہ سی انہیں سن رہیں تھیں۔
مہر گاہے بگاہے نظر شاہ پر ڈال رہی تھی۔
اور اس ہنگامے سے بھی بخوبی واقف تھی۔
مہر کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔
دھڑکنیں بے ترتیب ہو رہیں تھیں۔
جس بات کا خوف تھا وہی ہو رہا تھا۔
مہر کی آنکھیں چھلک پڑیں۔
نجانے کیوں؟ شاید وہ کمزور ہو گئی تھی۔
شاہ مہر کی جانب آ رہا تھا۔
آنکھیں سرخ انگارہ بنی ہوئیں تھی۔
مہر کو پہلی بار شاہ سے خوف محسوس ہو رہا تھا۔
“چلو مہر۔۔۔”
شاہ اس کی بازو پکڑتا ہوا بولا۔
مہر چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔
شاہ کو اس کی آنکھوں میں آنسو اچھے نہیں لگ رہے تھے۔
“اٹھو اندر چلیں۔۔”
شاہ نے اسے پھر سے نرمی سے مخاطب کیا۔
مہر لہنگا سنبھالتی کھڑی ہو گئی۔
شاہ اس کا ہاتھ تھامے چلنا لگا۔
ان دونوں کو دیکھ کر سب چہ میگوئیاں کر رہے تھے۔
شاہ ویز لاتعلق سا کھڑا تھا جبکہ حرم اور ماریہ ٹھٹھک گئیں۔
حرائمہ بھی سب سے نظر بچاتی اندر چلی گئی۔
شاہ حرم کے کمرے میں آ گئی۔
مہر کے آنسوؤں میں روانی آ گئی۔
“مہر کیا ہوا؟ کیوں رو رہی ہو؟”
شاہ اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیتا ہوا بولا۔
اس سے قبل کہ مہر کچھ بولتی ضوفشاں بیگم چلانے لگیں۔
“شاہ تم ایک طوائف کو اٹھا کر لاےُ ہو؟”
شاہ ناگواری سے چہرہ موڑے انہیں دیکھنے لگا۔
“آپ اس جاہل عورت کی بات سن کر میری بیوی کو طوائف بول رہیں ہیں؟”
شاہ خطرناک تیور لئے آگے بڑھا۔
مہر کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔
“ہم عزت دار لوگ ایسی بے حیا لڑکیوں کو اپنے گھر کی بہو نہیں بناتے۔۔۔”
وہ مہر پر حقارت زدہ نظر ڈالتی ہوئی بولیں۔
“امی اپنے الفاظ پر غور کریں مجھے مجبور مت کریں کہ میں آپ سے سختی سے بات کروں۔۔۔”
شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔
شہریار عقب سے دکھائی دیا۔
“کیا کر لو گے تم بتاؤ؟ اور اسے فارغ کرو ابھی کہ ابھی سارے خاندان میں ذلیل کروانا ہے کیا ہمیں؟”
وہ قہر برساتی نظروں سے مہر کو دیکھ رہی تھیں۔
“بیوی ہے میری عزت سے بات کریں۔۔”
شاہ ان کی بازو پکڑتا ہوا بولا۔
وہ جو مہر کی جانب بڑھ رہیں تھیں شاہ کو دیکھنے لگیں۔
“امی آپ یہ کیا کر رہیں ہیں؟”
شہریار نے مداخلت کی۔
“کیا مطلب کیا کر رہی ہوں؟ تم نے سنا نہیں یہ منحوس ایک طوائف ہے۔۔۔”
وہ حقارت سے بولیں۔
شہریار شاہ کے تاثرات دیکھ کر گھبرا گیا۔
“آپ چلیں میرے ساتھ اور خاموش رہنا ہے اب میں بتا رہا ہوں۔۔۔”
شہریار انہیں باہر لے جاتا ہوا بولا۔
مہر کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا۔
وہ جانتی تھی یہی سب ہو گا اسے کبھی عزت نہیں دے جاےُ گی اور اب تو شاید اس کا رشتہ بھی ختم ہو جاےُ۔
“کاش آپ مجھے نہ خریدتے شاہ؟”
مہر کرب سے بولی۔
روح کو دی جانے والی اذیت کا کوئی حساب نہیں ہوتا نہ ہی کوئی مداوا۔
“مہر تم کیوں یہ سب سوچ رہی ہو؟ میں ہوں تمہارے ساتھ پھر کیوں فکر رہی ہو؟”
شاہ اسے بازوؤں سے پکڑتا ہوا بولا۔
مہر اشک بہاتی نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
“شاہ آپ کس کس کو خاموش کروائیں گے اور کب تک؟”
مہر درد بھری نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔
“مہر میری بات سنو؟”
شاہ تحمل سے بولا۔
“شاہ مجھے آزاد کر دیں۔ ختم کر دیں اس رشتے کو۔ میرے باعث اپنے گھر والوں سے مت لڑیں۔۔۔”
مہر ہذیانی انداز میں بول رہی تھی۔
سر نفی میں ہل رہا تھا۔ متواتر آنسو گلاب کی پتیاں کی مانند رخساروں کو بھگو رہے تھے۔
مہر کی تکلیف دیکھ کر شاہ کو بھی تکلیف ہو رہی تھی۔
مہر نے اس کے ہاتھ ہٹاےُ اور باہر کی جانب قدم بڑھانے لگی۔
“مہر میری بات سنو پاگل مت بنو۔۔۔”
شاہ بولتا ہوا اس کے پیچھے لپکا۔
