Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 32
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 32
Tawaif by Hamna Tanveer
حرم نے سامنے چہرہ کیا تو شاہ دکھائی دیا۔
حرم کا سانس اور پاؤں دونوں منجمد ہو گئے۔
شاہ خطرناک تیور لئے اس کی جانب بڑھ رہا تھا۔
ازلان حرم کو دیکھے بنا جا رہا تھا اور ان سے کافی دور ہو گیا تھا۔
“تم گھر چلو پوچھتا ہوں تم سے۔۔۔”
شاہ اس کی بازو دبوچتا ہوا بولا۔
حرم کسی بے جان وجود کی مانند اس کے ساتھ چلنے لگی۔
دل گھبرانے لگا تھا۔
جس بات کا ڈر تھا وہی ہو گیا۔
حرائمہ کے باعث شاہ فلحال خاموش رہا۔
حرم حرائمہ کے ساتھ پچھلی نشست پر بیٹھ گئی۔
چہرے کا رنگ فق ہو گیا تھا۔
آنکھوں میں خوف تیرتا دکھائ دے رہا تھا
وہ تینوں آگے پیچھے کمرے میں داخل ہوۓ۔مہر آنکھیں موندے لیٹی ہوئی تھی۔
حرم کی خوشیوں پر اوس پڑ چکی تھی اور اب فکر ستانے لگی تھی کہ شاہ اس کے ساتھ کیا کرے گا۔
مہر کی نیند کا خیال کر کے حرم اور حرائمہ ماناب کے پاس آ گئیں۔
شاہ مہر کے پاس بیٹھ گیا۔
مہر کو دیکھتے ہی چہرے کے تاثرات بدل گئے۔
کچھ دیر قبل عود آنے والے غصے کی جگہ محبت اور نرمی نے لے لی۔
“حرم دیکھو کتنی کیوٹ پے نہ؟”
حرائمہ ماناب کو گود میں اٹھاتی ہوئی بولی۔
“ہاں بہت پیاری ہے۔اور ہاتھ دیکھو کتنے چھوٹے چھوٹے ہیں۔۔۔”
حرم اس کے گلابی مومل جیسے ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی۔
“ہماری چھوٹو سی ڈول۔۔۔”
حرائمہ اس کے گال پر بوسہ دیتی ہوئی بولی۔
“آپ پلیز باہر چلے جائیں پیشنٹ کی ڈریسنگ چینج کرنی ہے۔۔۔”
نرس شاہ کو مخاطب کرتی ہوئی بولی۔
شاہ سر ہلاتا باہر نکل گیا۔
“آپ دونوں بےبی کو لے کر اس روم میں چلی جائیں۔۔۔”
وہ اس کمرے سے ملحقہ دوسرے کمرے کی سمت اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
حرم اور حرائمہ ماناب کو لئے کمرے میں چلی گئیں۔
حرائمہ ماناب کو لئے بیٹھی تھی ۔حرم مہر کے پاس آ گئی۔
“کیسی طبیعت ہے بھابھی؟”
حرم اس کے سامنے بیٹھتی ہوئی بولی۔
مہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔
حرم ہاتھ مسلتی نگاہیں جھکاےُ ہوۓ تھی۔
مہر اس کے چہرے کے تاثرات سے بھانپ گئی۔
“کیا ہوا؟”
مہر آہستہ سے بولی۔
“بھابھی آپ کی طبیعت کو مد نظر رکھتے ہوئے مجھے یہ بات کرنی تو نہیں چائیے لیکن میرے پاس اور کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔۔۔”
حرم بیچارگی سے بولی۔
“بولو۔۔۔”
مہر نے اسے دیکھتے ہوۓ کہا۔
حرم نے سب کچھ مہر کے گوش گزار کر دیا۔
شعیب کی حرکت سے ازلان تک۔
“تم پسند کرتی ہو ازلان کو؟”
مہر نے سنجیدگی سے استفسار کیا۔
“بھابھی میں اس سے محبت کرتی ہوں۔۔۔”
حرم نے سر جھکا کر اعتراف جرم کیا۔
مہر کے لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ رینگ گئی۔
“باقی سب تو ٹھیک ہے۔۔ لیکن ازلان برہان کا بھائی ہے جس کے باعث شاہ اس کی بھرپور مخالفت کریں گے۔۔۔”
مہر سوچتی ہوئی آہستہ آہستہ بول رہی تھی۔
“آپ پلیز بھائی سے بات کر لینا۔۔۔”
حرم اس کے ہاتھ تھامتی ہوئی بولی۔
مہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔
شاہ کمال صاحب کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوا۔
مہر نے اٹھنے کی سعی کی تو شاہ نے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا۔
حال احوال دریافت کرنے کے بعد کمال صاحب گویا ہوۓ۔
“بہت بہت مبارک ہو ہماری بہو اور بیٹے کو۔۔۔”
خوشی ان کے چہرے سے چھلک رہی تھی۔
حرم کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔
“کہاں ہے بھئ ہماری پوتی۔۔۔”
وہ گرد و نواح میں نظر ڈالتے ہوۓ بولے۔
“میں لے کر آتی ہوں۔۔۔”
حرم بولتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔
حرم نے ماناب کو کمال صاحب کی جانب بڑھا دیا۔
“ماشاءاللہ ماشاءاللہ!!! اللہ نصیب اچھے کرے۔۔۔”
وہ ماناب کو دیکھتے ہوۓ بولے۔
“ہمیں حرم کی پیدائش کا دن یاد کروا دیا تم دونوں نے۔۔۔”
وہ نم آنکھوں سے مسکراتے ہوۓ بولے۔
“یہ بھی ایسی ہی تھی کمزور سی۔۔۔”
وہ حرم کو دیکھتے یاد کرتے ہوئے بول رہے تھے۔
حرم جبراً مسکرا رہی تھی۔
“تم دونوں یہیں رہوں میں کھانا لے آتا ہوں۔۔۔”
شاہ دونوں کو دیکھتا باہر نکل گیا۔
“بھائی بابا سائیں کو میرے متعلق بتانے کے لئے تو نہیں لاےُ؟”
حرم کو فکر لاحق ہونے لگی۔
“اف کیا بنے گا میرا۔۔۔”
حرم انگلی دانتوں تلے دباےُ دروازے کو دیکھ رہی تھی۔
****////////****
حویلی میں خاموشی کا راج تھا۔
اور یہ خاموشی اس دن کے بعد سے حویلی کی زینت بن چکی تھی۔
“شام کو تیار رہنا عافیہ۔۔۔”
شہریار پیپرز پر سائن کرتا ہوا بولا۔
“کہیں جانا ہے کیا؟”
عافیہ اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“ہاں ڈنر پر جانا ہے۔۔۔”
شہریار مسکراتا ہوا بولا۔
عافیہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگی۔
“لیکن ہم جمعے کو بھی گئے تھے ڈنر پر۔۔۔”
عافیہ یاد کرواتی ہوئی بولی۔
“تو کیا ہوا؟ دوبارہ نہیں جا سکتے؟”
شہریار اس کے ساتھ آ بیٹھا۔
“امی ناراض ہوں گی۔۔۔”
عافیہ اداسی سے بولی۔
“نہیں ہوں گی ناراض تم کیوں فکر کرتی ہو؟”
شہریار اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔
“آخری بار جب ہم گئے تھے تو مجھے وہ ریسٹورنٹ یاد آ گیا تھا جب ہم نکاح سے پہلے ملے تھے۔۔۔”
عافیہ اس کے شانے پر سر رکھتی ہوئی بولی۔
“تم ماضی کو بھول جاؤ صرف حال کو یاد رکھو۔۔۔”
“شہری تم نے مجھے اس اذیت سے نکالا میں ساری زندگی تمہاری مشکور رہوں گی۔۔۔”
عافیہ نم آنکھوں سے بولی۔
“میں نے کوئی احسان نہیں کیا تم پر سمجھی۔۔۔”
شہریار خفگی سے بولا۔
عافیہ مسکراتی ہوئی اسے دیکھنے لگی۔
“اب ٹائم پر تیار رہنا ورنہ جس حال میں ہو گی ویسے ہی لے جاؤں گا۔۔۔”
شہریار کھڑا ہوتا ہوا بولا۔
“آج لیٹ نہیں ہو گئے شہری؟”
عافیہ گھڑی دیکھتی ہوئی بولی۔
“ہاں بہت زیادہ لیٹ ہو گیا ہوں۔۔۔”
شہریار فائل سمیٹتا ہوا بولا۔
****////////****
“ازلان بھائی نے ہمیں دیکھ لیا تھا اس دن۔۔۔”
حرم فکرمندی سے بولی۔
“تو کچھ پوچھا نہیں؟”
ازلان میز پر کہنیاں رکھتا آگے ہوا۔
“نہیں پوچھا تو نہیں ابھی تک۔لیکن ان کی نظریں سب بتاتی ہیں۔۔۔”
حرم بس رو دینے کو تھی۔
“اچھا اپنا منہ تو صحیح کرو زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا وہ تم سے باز پرس کریں گے اور تم بتا دینا انہیں۔۔۔”
ازلان پرسکون انداز میں بولا۔
“یہ سب اتنا آسان نہیں ہے ازلان۔۔۔”
حرم نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔
“دیکھو حرم میرا کام اپنے گھر والوں کو منانا ہے میں تمہارے گھر والوں کو رضامند نہیں کر سکتا یہ کام تمہارا ہے اور تمہیں اب سٹینڈ لینا ہو گا اپنی محبت کے لئے ورنہ یاد رکھنا تم مجھے بھی کھو دو گی اور ہمارے رشتے کو بھی۔۔۔”
ازلان سنجیدگی سے حقائق بیان کر رہا تھا۔
حرم نے اسے دوسری بار اتنا سنجیدہ دیکھا تھا۔
ایک نکاح والے دن اور ایک آج۔
حرم اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“کلاس کا ٹائم ہو گیا ہے چلتے ہیں۔۔۔”
حرم بیگ اٹھاتی ہوئی بولی۔
****////////****
“شاہ ماناب کو پکڑیں پلیز۔۔۔”
مہر زور سے بولی۔
شاہ صوفے سے اٹھ کر اس کے پاس آ گیا۔
ماناب گلا پھاڑ پھاڑ کر رو رہی تھی۔
مہر بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔
نقاہت کے باعث وہ علیل ہو گئی تھی۔
“تم نے دوائی لی؟”
شاہ ماناب کو چپ کروانے کی سعی کرتا ہوا بولا۔
“جی لے لی تھی۔۔۔”
مہر اثبات میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔
“یہ آپ سے چپ نہیں ہونے والی لائیں مجھے پکڑائیں۔۔۔”
مہر اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتی ہوئی بولی۔
“اتنی جان نہیں جتنا چلا کر روتی ہے۔۔۔”
شاہ جھرجھری لیتا مہر کے پاس آ گیا۔
“ماما کی جان کیا ہو گیا آپ کو؟”
مہر اسے پکڑتی ہوئی بولنے لگی۔
“بابا تنگ کرتے ہیں نہ آپ کو؟”
مہر اسے دیکھتی ہوئی بول رہی تھی۔
شاہ انہماک سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“ہم بابا سے کٹی کر دیں گے ٹھیک ہے نہ وہ ہماری گڑیا کو تنگ کرتے ہیں۔۔۔”
مہر اسے بہلا رہی تھی اور شاہ لبوں پر مسکراہٹ لئے دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
ماناب اب خاموش ہو چکی تھی جیسے مہر کی باتیں سمجھتی ہو۔
“یہ تو ماما کا پیارا بےبی ہے۔۔۔”
مہر اس کے چہرے پر بوسہ دیتی ہوئی بولی۔
سینے سے لگا کر ماناب کو تھپکنے لگی تو وہ چند منٹوں میں سو گئی۔
“دیکھیں ایسے چپ کرواتے ہیں۔۔۔”
مہر اسے بیڈ پر لٹاتی ہوئی بولی۔
شاہ سر کھجانے لگا۔
“اب عورتوں کے کام عورتیں ہی کر سکتیں ہیں ہم تو بس کوشش کر سکتے۔۔۔”
شاہ بیچارگی سے بولا۔
“شاہ آپ نے حویلی میں ماناب کے متعلق کسی اور بھی بتایا ہے کیا؟”
مہر ماناب پر کمبل اوڑھتی ہوئی بولی۔
“نہیں فلحال سب ناآشنا ہیں۔میں نہیں چاہتا ہماری خوشیوں کو کسی کی بھی بری نظر لگے۔۔۔”
شاہ سانس خارج کرتا ہوا بولا۔
“وہ تو ٹھیک ہے لیکن ماناب کے لئے جو سامان ہم نے خریدا تھا وہ سب تو وہیں پر ہے۔۔۔”
مہر افسردگی سے کہتی اسے دیکھنے لگی۔
“ہاں میں بھی یہی سوچتا تھا کہ ہم نے کیا سوچا تھا اور کیا ہو رہا میں نے سوچا تھا ہماری یہ جان حویلی میں رہے گی سب کے پیار میں لیکن دیکھو حالات کتنے بدل گئے۔۔۔”
شاہ اداسی سے بولا۔
“شاہ مجھے لگتا ہے ہمیں ایک بار حویلی چلے جانا چائیے باقی سب کا بھی حق ہے۔۔۔”
مہر اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔
“مہر اس سب کے بعد میرا دل نہیں مانتا۔۔۔”
شاہ نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا۔
“لیکن شاہ آپ یہ بھی تو سوچیں نہ کیا ساری زندگی ہمیں یونہی رکھیں گے؟ماناب کو اس کے دادا دادی اور باقی سب کی محبت سے محروم رکھیں گے؟”
مہر سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
“ہم رکے گے نہیں بس ایک دن کے لئے چلے جائیں گے تاکہ سب مل لیں ماناب سے اور خاندان میں بھی معلوم ہو جاےُ۔۔۔”
مہر اس کا ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی۔
“ٹھیک ہے تم کہتی ہو تو۔۔۔”
شاہ اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“شاہ اس رات مجھے امید نہیں تھی آپ آئیں گے۔۔۔”
مہر بیڈ سے ٹیک لگاتی ہوئی بولی۔
“کیسے نہ آتا میں؟ تمہیں اکیلا چھوڑ سکتا تھا کیا؟”
شاہ آبرو اچکا کر بولا۔
مہر مسکراتی ہوئی نفی میں سر ہلانے لگی۔
“ایک منٹ میں کال سن لوں۔۔۔”
شاہ جیب سے فون نکالتا ہوا باہر نکل گیا۔
مہر اس رات میں ہی کہیں گم ہو گئیں۔
مہر بارش میں بھیگ رہی تھی لیکن اسے پرواہ نہ تھی۔
اس خاموش تاریک رات میں مہر کی سسکیاں گونج رہی تھی۔
ٹائر کے چرچرانے کی آواز سنائی دی۔
لیکن مہر نے سر نہیں اٹھایا۔
شاہ دروازہ بند کر کے مہر کی جانب چلنے لگا۔
مہر کو قدموں کی چاپ قریب ہوتی سنائی دینے لگی تھی۔
مہر نے سر اٹھایا تو شاہ کا چہرہ دکھائی دیا۔
“آپ؟”
مہر تعجب اور حیرت کے ملے جلے تاثرات لئے بولی۔
شاہ گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
“یہاں کیا کر رہی ہو؟”
شاہ اس کا یخ بستہ ہاتھ اپنے گرم ہاتھوں میں لیتا ہوا بولا۔
مہر نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالنا چاہا۔
شاہ اس بارش میں بھی اس کے آنسو دیکھ سکتا تھا۔
دوسرا ہاتھ بڑھایا اور مہر کے رخسار پر پھیرتا آنسو صاف کرنے لگا۔
شاہ کے لمس پر مہر نے آنکھیں بند کر لیں۔
“کیوں آئیں ہیں آپ؟”
مہر اسی انداز میں بولی۔
“کیا مجھے نہیں آنا چائیے تھا؟”
شاہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
مہر آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگی۔
“مہر اگر تمہیں یاد ہو تو میں نے کہا تھا کہ ساری دنیا بھی تمہارے خلاف ہو جاےُ گی نہ تب بھی شاہ کو تم اپنے ہمراہ پاؤ گی۔۔۔”
شاہ اس کے دونوں ہاتھ تھامے گرمائش منتقل کرتا ہوا بول رہا تھا۔
وہ برف کو پگھلا رہا تھا۔
“مجھے ایسا ساتھ نہیں چائیے آپ نے سب کے سامنے مجھ پر ہاتھ اٹھایا۔دکھ اس بات کا نہیں کہ آپ نے ہاتھ اٹھایا دکھ اس بات کا ہے آپ نے یقین نہیں کیا۔ آپ کے تھپڑ نے سب پر واضح کر دیا کہ میں غلط ہوں۔۔۔”
مہر آنسو بہاتی بول رہی تھی۔
“جانتا ہوں۔۔۔”
شاہ کا چہرہ کسی بھی تاثر سے پاک تھا۔
“آپ نے مجھے گھر سے نکال دیا یہ بھی نہیں سوچا کہ میں اکیلی نہیں ہوں میرے ساتھ ایک اور جان بھی ہے۔مجھے ایسی محبت نہیں چائیے میں تنہا جی لوں گی روکھی سوکھی کھا لوں گی لیکن شاہ مصطفیٰ کمال کے پاس نہیں آؤ گی۔ کیا سمجھ رکھا ہے آپ نے مذاق ہے یہ سب جب دل چاہا گھر سے نکال دیا اور جب دل چاہا واپس بلا لیا۔ میاں بیوی کے رشتے میں محبت سے پہلے عزت ہے جو مرد عزت نہیں دے سکتا وہ محبت بھی نہیں دے سکتا۔ مجھے خود پر افسوس ہو رہا ہے آپ جیسے انسان کے ساتھ میں نے رشتہ قائم رکھا کیا صلہ دیا ہے آپ نے مجھے بتائیں اب؟”
مہر اسے گریبان سے جھنجھوڑتی ہوئی بولی۔
شاہ اس بھیگتی رات میں خاموش سامع بنا ہوا تھا۔
اس کا ایک ایک لفظ وہ انہماک سے سن رہا تھا۔
“شاہ بہت برا ہے۔۔۔”
شاہ مہر کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔
“ہاں برے ہیں آپ بہت برے۔ چلے جائیں یہاں سے میں آپ کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی اور اگر میرے بچے کو مجھ سے دور کرنے کی سعی کی تو میں خودکشی کر لوں گی شاہ میں بتا رہی ہوں۔۔۔”
مہر خوف کے زیر اثر تھی۔
شاہ نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیا اور اپنے پیاسے لب اس کی روشن پیشانی پر رکھ دئیے۔
مہر کو اس سے ایسی توقع نہیں تھی۔
شاہ کی قربت ہمیشہ اسے زیر کر دیتی تھی۔
وہ ہار جاتی تھی۔پگھل جاتی تھی۔
آج بھی ایسا ہی ہو رہا تھا۔مہر آنکھیں بند کئے اس کی خوشبو اپنے اندر اتار رہی تھی۔
لیکن وہ ہارنا نہیں چاہتی تھی وہ جھکنا نہیں چاہتی تھی۔
شاہ پیچھے ہوا تو مہر نے آنکھیں کھول دیں۔
“کیا بدتمیزی ہے یہ؟”
مہر اسے خود سے دور کرنے کی سعی کرتی ہوئی بولی۔
شاہ بنا کچھ بولے کھڑا ہوا مہر کا ہاتھ پکڑا, اسے کھڑا کیا اور چلنے لگا۔
“شاہ میرا ہاتھ چھوڑیں۔۔۔”
مہر مزاحمت کرتی ہوئی چلائی۔
لیکن شاہ پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔
شاہ نے اسے گاڑی کے ساتھ لگا دیا۔
مہر سلگتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“اب تم کچھ نہیں بولو گی۔۔۔”
شاہ اس کے پنکھڑی جیسے نازک لبوں پر انگلی رکھتا خفگی سے بولا۔
مہر نے اس کا ہاتھ ہٹا دیا۔
پیشانی پر بل ڈالے وہ شاہ کو گھور رہی تھی۔
“تم نے بول لیا جو دل میں تھا اب میری سنو گی اور بیچ میں مداخلت نہیں کرو گی۔۔۔”
شاہ کرخت لہجے میں بولا۔
مہر منہ بناتی بائیں جانب دیکھنے لگی۔
“میں نے تمہیں تھپڑ مارا،تم سے صفائی نہیں مانگی،تمہیں گھر سے باہر نکالا کیونکہ میں ایسا ہی چاہتا تھا۔ میں نے تمہیں تھپڑ مارا تاکہ سب سمجھیں کہ تم غلط ہو۔میں نے تم سے صفائی نہیں مانگی کیونکہ مجھے تم پر بھروسہ ہے۔میں نے تمہیں گھر سے نکالا کیونکہ مجھے تمہیں وہاں سے نکالنا تھا۔ اگر میں تبھی شاہ ویز کو جھوٹا اور تمہیں سچا کہتا تو کوئی اعتبار نہ کرتا نتیجہ کچھ بھی اخذ نہ ہوتا۔۔۔۔”
شاہ ٹھر ٹھر کر بول رہا تھا۔
اس کے الفاظ کی تاثر ایسی تھی کہ مہر اسے دیکھنے پر مجبور ہو گئی۔
