Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 29
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 29
Tawaif by Hamna Tanveer
“بہت افسوس ہوا سن کر۔۔۔”
برہان تاسف سے بولا۔
“اسی بات کا دکھ ہے کہ مہر مجھے بھی نہ مل سکی اور بھائی کو بھی دکھ سے دوچار کیا۔۔۔”
شاہ ویز کے لہجے میں پچھتاوا تھا۔
“تم ایسا مت سوچو شاہ ویز تم نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔”
برہان اسکے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
شاہ ویز تعجب سے برہان کو دیکھنے لگا۔
“کیا ہوا؟”
برہان اس کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر بولا۔
“کچھ نہیں مجھے عینی سے ملنے جانا تھا۔۔۔”
شاہ ویز اس کا ہاتھ ہٹاتا ہوا بولا۔
برہان خاموشی سے اسے جاتا دیکھنے لگا۔
عینی ریسٹورنٹ میں بیٹھی شاہ ویز کی منتظر تھی۔
شاہ ویز کو دیکھ کر چہرہ کھل اٹھا۔
شاہ ویز بیزار سا اس کے سامنے آ بیٹھا۔
“کیا ہوا تمہارا چہرہ کیوں اترا ہوا ہے؟”
عینی بغور اس کا چہرہ دیکھتی ہوئی بولی۔
“عینی آج میں تمہیں جو کہوں گا اس کے بعد مجھے تم سے کوئی بحث نہیں کرنی سو تم خاموشی سے میری بات سمجھ لینا۔۔۔”
شاہ ویز اسے دیکھتا ہوا بولا۔
عینی کو خطرہ لاحق ہوا۔
خدشات سر اٹھانے لگے۔
“کیا؟”
عینی آہستہ سے بولی۔
“میں بریک اپ کر رہا ہوں۔ بہت وقت سے تمہیں بتانا چاہ رہا تھا لیکن مناسب موقع نہیں ملا اس لئے یہ مت سوچنا کہ میں نے جلدبازی میں یہ فیصلہ لیا ہے۔۔۔”
شاہ ویز نے گویا دھماکہ کیا۔
عینی پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“ہمارے ہاں خاندان سے باہر شادی نہیں ہوتی اس لئے وقت رہتے الگ ہو جائیں تو بہتر ہے۔ بھول جاؤ مجھے یہی مناسب ہے۔۔۔”
شاہ ویز ٹھر ٹھر کر بول رہا تھا۔
“کتنی آسانی سے تم نے کہہ دیا کہ بھول جاؤں؟ شاہ ویز مذاق ہے کیا یہ سب؟ مجھے کون قبول کرے گا بتاؤ؟”
عینی آنسو بہاتی پھٹ پڑی۔
“یہ تمہیں پہلے سوچنا چائیے تھا جس لڑکی کو اپنی عزت کا خیال نہیں اسے میں اپنی عزت کیسے بنا لوں؟”
شاہ ویز حقارت سے بولا۔
“کیا مطلب ہے تمہارا؟”
عینی صدمے سے بولی۔
“جو لڑکی شادی سے پہلے نجانے کتنی راتیں میری ساتھ گزار چکی ہے تو وہ لڑکی نجانے کتنے لڑکوں کے ساتھ ایسا کرتی ہو گی؟ اور آج تمہیں خیال آ رہا ہے کہ مجھے کون قبول کرے گا کل کیوں نہیں آیا؟”
شاہ ویز اسے آئینہ دکھا رہا تھا۔
“شاہ ویز میں تم سے محبت کرتی ہوں اس لئے تمہارے ساتھ۔۔۔”
عینی نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھنا چاہا۔
“محبت ایسی نہیں ہوتی۔محبت میں یہ سب نہیں ہوتا سمجھی۔ کہاں لکھا ہے کہ محبت میں یہ سب جائز ہے اور تم لڑکی ہو کر ایسی سوچ کی حامل ہو واہ پاگل سمجھ رکھا ہے نہ مجھے جو تم جیسی سے شادی کروں گا۔۔۔”
شاہ ویز اس کا ہاتھ جھٹکتا ہوا بولا۔
عینی آنسو بہاتی نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
شاہ ویز نے گاڑی کی چابی اٹھائی اور باہر کی جانب قدم بڑھا دئیے۔
“شاہ ویز؟”
عینی اس کے پیچھے لپکی۔
“میم بل؟”
ویٹر اس کے سامنے آ کر بولا۔
عینی مایوسی سے اسے جاتا دیکھنے لگی۔
****///////****
حرم گھبراتی ہوئی زینے چڑھنے لگی۔
حرائمہ لاؤنج میں ہی نظر آ گئی۔
“آج لیٹ نہیں ہو گئی؟”
حرائمہ نے معمول کے مطابق پوچھا۔
“بھائی نہیں آےُ؟”
حرم اس کا سوال نظر انداز کرتی ہوئی بولی۔
“نہیں آج تو نہیں آےُ۔۔۔”
حرائمہ صوفے پر کپڑا مارتی ہوئی بولی۔
حرم نے سکھ کا سانس لیا۔
“کھانے میں کیا بنا ہے؟”
حرم صوفے پر بیٹھتی ہوئی بولی۔
“گوشت بنایا ہے آج تمہاری پسند کا۔۔۔”
حرائمہ مسکراتی ہوئی بولی۔
“میں چینج کر لوں پھر کھانا کھاتی ہوں۔۔۔”
حرم کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔
“ٹھیک ہے تب تک میں نماز پڑھ لیتی ہوں۔۔۔”
حرائمہ مسکراتی ہوئی بولی۔
****////////****
“میں سوچ رہی ہوں حرم اور شاہ ویز دونوں کی شادی کر دوں۔۔۔”
ضوفشاں بیگم ماریہ کو دیکھتی ہوئی بولیں۔
“یہ بھی ٹھیک ہے ایک ہی بار کر کے دونوں کے فرض سے سبکدوش ہو جائیں۔۔۔”
ماریہ مسکراتی ہوئی بولی۔
“حرم کا تو رشتہ طے کر دیا ہے اب شاہ ویز کے لئے دیکھتی ہوں۔۔۔”
وہ سوچتی ہوئیں بولیں۔
“شاہ ویز کا سعدیہ سے کر دیں۔۔۔”
ماریہ نے اپنی بہن کا نام لیا۔
“دماغ تو خراب نہیں ہو گیا تمہارا سعدیہ شاہ ویز سے بڑی ہے کیسے کر دوں اس کے ساتھ؟”
وہ خفگی سے دیکھتی ہوئی بولیں۔
“اتنی بھی بڑی نہیں تھوڑا بہت ہی فرق ہے۔۔۔”
ماریہ آہستہ سے بولی۔
“میرے بیٹے میں کون سی کمی ہے جو اسے ایک بڑی عمر کی لڑکی سے بیاہ دوں؟”
وہ تیوری چڑھا کر بولیں۔
ماریہ ان کے بدلتے تیور دیکھ کر خاموش ہو گئی۔
“تمہاری تو ابھی تک اولاد نہیں ہوئی اس کی بھی نہ ہوئی تو میں ساری زندگی اپنے پوتے پوتیوں کو ترستی رہوں گی۔۔۔”
وہ ہنکار بھرتی ہوئی بولیں۔
ماریہ لب بھینچے فرش کو گھورنے لگی۔
ضوفشاں بیگم منہ بناتی چل دیں۔
شہریار فائلز میں سر دئیے بیٹھا تھا جب ضوفشاں بیگم اندر آئیں۔
“امی وہاں کیوں کھڑی ہیں اندر آ جائیں۔۔۔”
شہریار انہیں دروازے میں دیکھ کر بولا۔
ضوفشاں بیگم مسکراتی ہوئیں اس کے پاس آ گئیں۔
“کیا ہوا کوئی کام تھا؟”
شہریار فائل بند کرتا ہوا بولا۔
“ہاں کام تھا تم سے۔۔۔”
وہ اداسی سے بولیں۔
“جی امی بولیں۔۔۔”
شہریار انہیں دیکھتا ہوا بولا۔
“بیٹا میں سوچ رہی تھی تم دوسری شادی کر لو ماریہ کو طلاق دے دو۔۔۔”
“امی یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟”
شہریار صدمے سے بولا۔
“بیٹا عقل سے کام لو شاہ تو پھر سے باغی ہو گیا ہے نہ بات کرتا ہے نہ ہی گھر میں رہتا ہے وہ مہر نجانے کس کونے میں جا چھپی ہے اگر مل جاتی تو اس سے بچہ لے لیتے لیکن نہیں شاید میرے نصیب میں اپنے بچوں کی خوشیاں لکھیں ہی نہیں مجھے تو لگتا ہے کہ یہی حسرت لے کر میں دنیا سے چلی جاؤں گی۔۔۔”
وہ افسردگی سے بولیں۔
” آپ کا سایہ ہمیشہ ہم پر قائم رہے۔ آپ ایسا کیوں بول رہی ہیں؟”
شہریار ان کے ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔
“اسی لئے تو تمہیں کہہ رہی ہوں تاکہ کسی ایک بچے کی تو خوشیاں دیکھ لوں۔۔۔”
ان کا چہرہ اترا ہوا تھا۔
“لیکن امی ماریہ کو طلاق دینا یہ بھی تو مناسب نہیں۔۔۔”
شہریار شش و پنج میں مبتلا ہو گیا۔
“تو بیٹا کب تک انتظار کریں گے تو ہی بتا؟”
وہ ناراض ناراض سی بولیں۔
“امی اولاد کی خواہش تو مجھے بھی بہت ہے لیکن کیا کر سکتے ہیں؟”
شہریار بےبسی سے بولا۔
“اسلام نے چار شادیوں کی اجازت دی ہے اور اس میں کوئی برائی نہیں۔میرا مشورہ مانو تو اس متعلق سوچو۔۔۔”
وہ شہریار کے کندھے پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولیں۔
شہریار الجھ کر انہیں دیکھنے لگا۔
ضوفشاں بیگم بنا کچھ کہے باہر نکل گئیں اور شہریار کو گہری سوچ میں غرق کر گئیں۔
****////////****
“برہان ٹائم دیکھا ہے تم نے؟”
عافیہ تنک کر بولی۔
“تم زیادہ رعب مت ڈالا کرو مجھ پر اپنی اوقات میں رہو۔۔۔”
برہان اسے بازو سے پکڑ کر پرے کرتا ہوا بولا۔
عافیہ کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔
“تم مجھے آزاد کیوں نہیں کر دیتے؟”
عافیہ برداشت کی آخری حدود کو چھو رہی تھی۔
“ہاں تاکہ سارے خاندان میں برہان برا بن جاےُ۔پاگل سمجھ رکھا ہے کیا؟”
برہان تیکھے تیور لئے بولا۔
“خاندان میں جتنا اچھا سمجھا جاتا ہے نہ تمہیں بھول نہیں ہے مجھے۔۔۔”
عافیہ بنا کسی خوف کے بولی۔
“کیوں چاہتی ہو کہ روز سونے سے پہلے تمہیں مارا کروں؟”
برہان اس کے بال پکڑ کر سر اونچا کرتا ہوا بولا۔
عافیہ نے تکلیف کے باعث اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر ہٹانا چاہا۔
“تم مجھے مجبور کرتے ہو بولنے پر۔۔۔”
عافیہ نم آنکھوں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“اب ایک مزید ایک لفظ نکلا تمہارے منہ سے تو نتیجہ کی ذمہ دار تم خود ہو گی۔۔۔”
برہان اسے بیڈ پر پھینکتا ہوا غرایا۔
عافیہ بنا کچھ بولے سسکنے لگی۔
****///////****
حرم فون کو دیکھتی ہوئی چلتی جا رہی تھی جب کسی نے اس کی کلائی پکڑی اور کھینچ لیا۔
حرم اس اچانک افتاد پر بوکھلا گئی۔
“ازلان تم؟”
حرم تیز تیز سانس لیتی ہوئی بولی۔
“کیوں کوئی شک ہے؟”
ازلان آبرو اچکا کر بولا۔
“میرا مطلب مجھے اس طرح کیوں کھینچا ہے؟”
حرم سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“تمہارے بھائی نے پوچھا تم سے؟”
“نہیں۔شاید نہ دیکھا ہو یا پھر شاید آج آ جائیں پوچھنے کے لیے۔۔۔”
حرم لب کاٹتی اسے دیکھنے لگی۔
“معلوم ہو جاےُ گا تو اچھی بات ہے پھر میں تمہیں لے کر گھوم پھر سکوں گا آزادی سے۔۔۔”
ازلان مسکراتا ہوا بولا۔
“ازلان مجھے کلاس لینے جانا ہے۔۔۔”
حرم اسے خود سے دور کرتی ہوئی بولی۔
“میری کلاس بھی تمہارے ساتھ ہی ہے اس لئے آج ہم دونوں بنک کریں گے۔۔۔”
ازلان اس کے قریب آتا ہوا بولا۔
“ایک تو تم اتنے قریب آ جاتے ہو۔۔۔”
حرم رونے والی شکل بناتی ہوئی بولی۔
“تو مجھے کیا کوئی موذی مرض لاحق ہے جو تمہیں بھی ہو جاےُ گا؟”
ازلان گھوری سے نوازتا ہوا بولا۔
“نہیں میرا مطلب ہے وہ دیکھو وہ لڑکی ہمیں دیکھ رہی ہے۔۔۔”
حرم انگلی سے دائیں جانب اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
“وہ ٹرینگ لے رہی ہے بیوقوف۔۔۔”
ازلان محظوظ ہوتا ہوا بولا۔
حرم پیشانی پر بل ڈالے اسے گھورنے لگی۔
“کیا سوچ رہی ہو گی وہ ہمارے بارے میں؟”
حرم دانتوں تلے انگلی دباتی تاسف سے بولی۔
“یہی کہ کتنا پیار ہے دونوں میں۔۔۔”
ازلان چہرہ موڑ کر حرم کو دیکھنے لگا۔
بےساختہ حرم اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
“ازلان مجھے کلاس لینی ہے۔۔۔”
حرم اس کی نظروں سے کنفیوز ہو رہی تھی اس لئے سر جھکا گئی۔
“میں نے کہہ دیا تم نہیں جا رہی تو مطلب نہیں۔۔۔”
ازلان بے لچک لہجے میں بولا۔
“ازلان پلیز جانے دو نہ سر سے مجھے ڈر لگتا ہے۔۔۔”
حرم معصوم سی شکل بناےُ اسے دیکھنے لگی۔
“مجھ سے ڈر نہیں لگتا؟”
ازلان دونوں آبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔
حرم نے لب نہ کھولے۔
“تمہیں معلوم ہے کل میں ایک مووی دیکھ رہا تھا اس میں نہ شوہر اپنی بیوی پر پیڑول ڈال کر اسے جلا دیتا ہے۔۔۔”
ازلان سنجیدگی سے کہتا اسے دیکھنے لگا۔
حرم کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
“تم ایسی موویز کیوں دیکھتے ہو؟”
حرم خوفزدہ سی بولی۔
“خود ہی میرے سامنے آ جاتی اور میں دیکھ لیتا۔۔۔”
ازلان معصومیت کے تمام ریکارڈ توڑتا ہوا بولا۔
“تم تو ایسا ک کچھ نہیں کرو گے نہ؟”
حرم اسے دیکھتی استفسار کرنے لگی۔
“طریقہ تو بہت اچھا ہے لیکن میں اتنا سنگدل نہیں فلحال تو ایسا کوئی ارادہ نہیں۔ اچھا ایک بات بتاؤ؟”
ازلان محظوظ ہوتا ہوا بولا۔
“کیا؟”
“تم مجھ سے محبت کرتی ہو؟”
ازلان اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔
حرم کو ایسے سوال کی توقع نہیں تھی جس بات کا اعتراف آج تک اس کا دل نہیں کر سکا زبان کیسے کر لیتی۔
“نہیں۔میرا مطلب مجھے نہیں پتہ۔۔۔”
حرم اسے دیکھنے سے گریز برت رہی تھی۔
“جھوٹ بول رہی ہو تم۔اِدھر میری آنکھوں میں دیکھ کر بولو۔۔۔”
ازلان اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔
“مجھے نہیں معلوم سچ میں۔۔۔”
حرم سر جھکاےُ بول رہی تھی۔
“ایسے تو نہیں جانے دوں گا تمہیں جب تک تم اعتراف نہیں کر لیتی اپنے جرم کا۔۔۔”
ازلان اس کا ہاتھ اوپر کرتا دیکھنے لگا۔
“ازلان جانے دو نہ سر دیکھ لیں گے۔۔۔”
حرم گھبراتی ہوئی بولی۔
“پہلے اقرار کرو۔۔۔”
عجیب ضدی انداز تھا۔
حرم اپنا ہاتھ آزاد کروانے کی سعی کر رہی تھی لیکن ازلان کی گرفت اس کی سوچ سے زیادہ مضبوط تھی۔
“اگر تم نے اگلے ایک منٹ میں نہیں کہا تو میں تمہیں چلتی ٹرین کے آگے کر دوں گا۔۔۔”
ازلان لب دباےُ مسکراہٹ روکتا ہوا بولا۔
حرم پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔
“تم سچ میں ایسا کرو گے؟”
حرم نے تصدیق کرنا چاہی۔
“بلکل۔۔۔”
ازلان تائیدی انداز میں سر ہلاتا ہوا بولا۔
حرم حونق زدہ اسے دیکھنے لگی۔
“ایسے مت دیکھو میں رحم کرنے کے موڈ میں بلکل نہیں۔۔۔” ازلان گھورتا ہوا بولا۔
حرم تذبذب سے اسے دیکھنے لگی۔
“بولو بھی میں انتظار کر رہا ہوں۔۔۔”
ازلان منہ بناتا ہوا بولا۔
“ازلان کیسے کہتے ہیں؟”
حرم معصومیت سے بولی۔
ازلان کا دل چاہ رہا تھا دیوار میں سر مار لے۔
“ایسا کرو وہ سب سے اوپر چلی جاؤ وہاں سے چھلانگ لگا کر واپس آؤ پھر بتاؤں گا تمہیں کیسے کہنا ہے۔۔۔”
ازلان گھورتا ہوا بولا۔
حرم التجائیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
لیکن ازلان پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔
“تم مجھے بہت اچھے لگتے ہو۔۔۔”
حرم زور سے آنکھیں بند کرتی ہوئی بولی۔
ازلان کا منہ کھل گیا۔
حرم تھوڑی تھوڑی سی آنکھیں کھولنے لگی۔
“کھول لو آنکھیں بڑا ہی کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہے تم نے۔۔۔”
ازلان کڑے تیور لئے بولا۔
“مجھے ایسے ہی کہنا آتا ہے اب جانے دو مجھے۔۔۔”
حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔
“ابھی تو جانے دے رہا ہوں اگلی بار نہیں بخشوں گا۔۔۔”
ازلان انگلی اٹھاےُ بولتا ہوا چلنے لگا۔
حرم کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ بکھر گئی۔
****////////****
“کیا ہوا عافیہ تم ٹھیک ہو؟”
شہریار فکرمند سا اس کے سامنے بیٹھا تھا۔
عافیہ نفی میں سر ہلانے لگی۔
آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں۔
“برہان نے پھر سے کچھ کہا ہے کیا؟”
شہریار بےچینی سے پہلو بدلتا ہوا بولا۔
“وہ تو روز ہی کچھ نہ کچھ کہتا ہے۔میں تھک چکی ہوں اس نام نہاد رشتے کو نبھاتے نبھاتے۔۔۔”
عافیہ کے لہجے میں صدیوں کی تھکن تھی۔
دو موتی ٹوٹ کر رخسار پر آ گرے۔
“تم نے امی سے بات نہیں کی خلع کے لیے؟”
شہریار اس کا ستا ہوا چہرہ دیکھتا ہوا بولا۔
“تم تو جانتے ہو ایک بار نہیں بہت بار کی ہے لیکن امی کہتی ہیں طلاق لینے کے بعد کون مجھ سے شادی کرے گا باہر ہم کر نہیں سکتے اور خاندان میں کوئی اپناےُ ممکن نہیں۔۔۔”
وہ سسکتی ہوئی بولی۔
“تو کیا ساری زندگی تم یونہی روتے سسکتے گزار دو گی؟”
شہریار تعجب سے بولا۔
“ظاہر سی بات ہے۔ عورت ہوں نہ اپنے حق کے لیے لڑ نہیں سکتی کیونکہ ہمارے حقوق ہونے کے باوجود ہمیں محروم رکھا جاتا ہے ہمارے شوہر ہمارے حقوق سلب کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔۔۔”
عافیہ تلخی سے بولی۔
شہریار کے دماغ میں ضوفشاں بیگم کی بات گردش کرنے لگی۔
عافیہ کو وہ بچپن سے جانتا تھا کزن ہونے کے ساتھ ساتھ وہ دونوں دوست بھی تھے۔
“عافیہ تم برہان سے خلع لے ہو میں تم سے شادی کروں گا۔۔۔”
شہریار کا لہجہ پراعتماد تھا۔
عافیہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
شہریار اثبات میں سر ہلانے لگا۔
“تم کی کیسے؟”
عافیہ کے الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔
“ہم اچھے دوست ہیں اور مجھے یقین ہے اچھے ساتھی بھی ثابت ہوں گے۔۔۔”
شہریار نرم مسکراہٹ لئے بولا۔
عافیہ بےیقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
شہریار کی جانب سے ایسا اِنکشاف حیران کن تھا۔
“مجھے کچھ وقت چائیے اس بارے میں سوچنے کے لیے۔۔۔۔”
عافیہ سنبھل کر بولی۔
“لے لو وقت مجھے کوئی جلدی نہیں۔اب میں چلتا ہوں چھوٹا آفس میں اکیلا ہے۔۔۔”
شہریار کھڑا ہوتا ہوا بولا۔
عافیہ اداسی سے مسکرانے لگی۔
“تھینک یو شہری۔۔۔”
عافیہ کے الفاظ نے شہریار کے قدم منجمد کر دئیے۔
شہریار چہرہ موڑ کر خفگی سے اسے دیکھنے لگا۔
“آئیندہ اگر تھینکس بولا تو پھر دوستی ختم۔۔۔”
وہ خفا خفا سا بولا۔
عافیہ نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔
