Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 10
Tawaif by Hamna Tanveer
مہر کافی دیر سے جاگ رہی تھی لیکن بیڈ سے نہیں اتری۔
“عجیب انسان ہے مجھے یہاں چھوڑ کر خود غائب ہو گیا ہے بندہ کھانے پینے کا سامان تو رکھتا ہے۔۔۔۔۔”
مہر کوفت سے بولی۔
یہ دن ان دنوں سے مختلف تھے نہ وہ کسی کے سامنے مجرا کر رہی تھی نہ ہی خود پر گندی نظریں محسوس کر رہی تھی۔
“وہ زندگی ذلت بھری تھی اس میں کوئی شک نہیں۔۔۔۔۔۔”
بے اختیار مہر کے لبوں سے پھسلا۔
“لیکن مجھے وہیں پر رہنا چائیے تھا۔۔۔۔۔”
مہر تاسف سے بولی۔
وہ خود سے ضد لگا رہی تھی۔
کیا کمال کی سکت تھی اس میں۔
کوٹھے سے مہر کو وہ لڑکی یاد آ گئی۔
“اووہ تو بیچاری تو نکلنا چاہتی تھی وہاں سے۔۔۔۔۔”
مہر بولتی ہوئی اٹھ بیٹھی۔
“اگر شاہ آےُ گا تو میں شاہ سے بات کروں گی اگر اسے بھی وہ نکال لے تو۔۔۔۔۔”
مہر لب دباےُ سوچنے لگی۔
“آثار تو نہیں لگ رہے اس کے آنے کے۔۔۔۔۔”
مہر لحاف پرے کرتی ہوئی بولی۔
کیچر اٹھایا اور لمبے بھورے بالوں کو مقید کرنے لگی۔
“پھر سے وہی سوکھی بریڈ کھانی پڑے گی۔۔۔۔۔”
مہر منہ بناتی باہر نکل آئی۔
کچن کو دیکھتے ہی منہ کے عجیب عجیب زاویے بنانے لگی۔
“اس سے بہتر ہے بھوکی رہ لوں۔۔۔۔۔”
مہر باورچی خانے کے دروازے سے مڑ کر کمرے کی جانب قدم بڑھاتی ہوئی بولی۔
“شہریار رات میں خاص دعوت کا اہتمام کرواؤ۔۔۔۔۔۔”
شاہ چاےُ کا کپ اٹھاتا ہوا بولا۔
“خیریت بھائی؟۔۔۔۔۔”شہریار اسے دیکھتا ہوا بولا۔
ماریہ کے بھی کان کھڑے ہو گئے۔
“چھوٹے کے لئے جو کانٹریکٹ ملا ہے اس کے باعث۔۔۔۔۔”
وہ اگر غصہ کرنا جانتا تھا تو دل رکھنا بھی جانتا تھا۔
“چلیں ٹھیک ہے چھوٹا تو خوش ہو جاےُ گا۔۔۔۔۔”
شہریار مسکراتا ہوا بولا۔
شاہ بھی دھیرے سے مسکرا دیا۔
ماریہ کلس کر شہریار کو دیکھنے لگی۔
شاہ اٹھ کر گیا تو ماریہ اس کی جانب متوجہ ہوئی۔
“اس گھر کا ہر کام تم ہی کیوں کرتے ہو۔۔۔۔۔”
وہ تنک کر بولی۔
شہریار آبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔
“کیا مطلب ہے تمہارا۔۔۔۔”
شہریار کی پیشانی پر شکنیں ابھریں۔
“بابا سائیں کو بھی ہر کام کے لیے تم ہی نظر آتے ہو نہ مصطفیٰ بھائی کو بولتے ہیں نہ شاہ ویز کو بس شہریار یاد آتا ہے کام کے لیے اور مصطفیٰ بھائی انہیں بس رعب جمانا آتا ہے۔۔۔۔۔۔”
ماریہ دل کی بھڑاس نکالتی ہوئی بولی۔
“ماریہ تمہارا دماغ خراب ہے میرا نہیں مجھے اپنے ہاتھ سے کام نہیں کرنا ہوتا صرف دیکھنا ہوتا ہے کہ سب ٹھیک سے ہو رہا ہے یا نہیں، تمہیں نجانے کون سی رقابت ہے جو سب کے پیچھے پڑی رہتی ہو۔۔۔۔۔”
شہریار تاسف سے بولا۔
“تمہیں خود تو احساس ہوتا نہیں ہے اگر میں کروا رہی ہوں تو میں ہی بری ہوں۔۔۔۔”
ماریہ منہ بناتی ہوئی چلی گئی۔
“ان عورتوں کا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔”
شہریار نفی میں سر ہلاتا کھڑا ہو گیا۔
****///////****
گاڑی پر سورج کی کرنیں بکھر رہیں تھیں۔
ازلان کی آنکھوں میں یہ گرم گرم شعائیں پڑیں تو وہ تھوڑی تھوڑی آنکھیں کھولے سامنے دیکھنے لگا۔
خورشید پوری آب و تاب سے اپنی کرنیں بکھیر رہا تھا۔
ازلان نے گردن بائیں جانب موڑی تو نظر بے خبر سوتی حرم سے جا ٹکرائی۔
حرم کے چہرے پر معصومیت کا راج تھا وہ اس لمحے کسی معصوم بچے کی مانند لگ رہی تھی جو کھو جانے کے خوف میں مبتلا ہو۔
سیاہ زلفیں حرم کے چہرے پر منتشر تھیں۔
ازلان سر جھٹکتا شیشے سے پار دیکھنے لگا۔
پھر کچھ سوچ کر حرم کو آواز دی۔
“حرم صبح ہو گئی ہے اٹھو۔۔۔۔۔”
ازلان اسے ہاتھ لگانے سے گریز برت رہا تھا چونکہ وہ پہلے ہی خوف کے زیر اثر تھی وہ اسے بدگمان نہیں کرنا چاہتا تھا۔
ازلان کی آواز پر حرم کسمسائی۔
“حرم اٹھ بھی جاؤ اب کیا گھوڑے بیچ کر سوئی ہو۔۔۔۔۔۔”
ازلان اکتا کر بولا۔
“ہممم۔۔۔۔۔” حرم آنکھیں مسلتی سیدھی ہو گئی۔
“کیا ہوا۔۔۔۔۔”
وہ جمائی روکتی ہوئی بولی۔
جونہی نظر کا تبادلہ ازلان کی نگاہوں سے ہوا حرم ہوش میں آ گئی رات کا سارا منظر آنکھوں نے سامنے گھوم گیا۔
“اب معلوم ہو گیا تمہیں۔۔۔۔۔۔”
ازلان خفگی سے بولا۔
“سوری۔۔۔۔۔”
حرم چہرہ جھکا کر بولی۔
ازلان اثبات میں سر ہلاتا گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔
حرم نے ابھی تک ازلان کی شرٹ زیب تن کر رکھی تھی۔
اور ازلان سیاہ بنیان پہنے ہوۓ تھا۔
“یار زین جب آےُ گا تو شرٹ بھی ساتھ لے آنا ایک۔۔۔۔۔”
ازلان حرم کے چہرے پر حیا کے رنگ محسوس کر کے بولا۔
“یار تجھے بتایا تو تھا اب دیر مت کرنا میں منتظر ہوں اچھا؟۔۔۔۔۔”
ازلان نے کہہ کر فون بند کیا اور حرم کو دیکھنے لگا جو سر جھکاےُ ہاتھوں کے ناخنوں کو چھیڑ رہی تھی۔
اگلے لمحے اس نے چہرہ موڑ لیا۔
****//////****
“مہر کے پاس نہیں گیا تو۔۔۔۔”
عدیل اپنی نشست سنبھالتا ہوا بولا۔
“نہیں۔۔۔۔۔”
شاہ لیپ ٹاپ پر میلز چیک کر رہا تھا۔
“تو کیا اب اسے وہیں چھوڑ دے گا۔۔۔۔۔”
عدیل پر تجسس انداز میں بولا۔
“فلحال اسے منہ لگانے کا میرا ارادہ نہیں بعد کی بعد می دیکھی جاےُ گی۔۔۔۔۔”
گھنی مونچھوں تلے عنابی لب ہل رہے تھے، چہرے پر بیزاری تھی،نظریں ہنوز اسکرین پر جمی تھیں اور انگلیاں تیزی سے چل رہیں تھیں۔
“اچھا یہ بتا اس نیوز کا کیا بنا؟۔۔۔۔۔”
“کون سی۔۔۔۔۔”
شاہ کی نظریں ابھی تک اسکرین پر تھیں۔
“وہ جو فیصل آباد میں بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی کوئی ایکشن لیا۔۔۔۔۔”
“کوئی خاطر خواہ نہیں۔۔۔۔۔”
شاہ تاسف سے بولا۔
“میں نے وہاں کی ٹیم کو بولا تھا کہ اس سلسلے میں تفتیش کریں ابھی تک مجھے بھی کوئی خبر موصول نہیں ہوئی۔۔۔۔۔”
عدیل افسوس سے بولا۔
“یہ پاکستان ہے یہاں مجرم آزاد گھومتے ہیں اور بے گناہ سلاخوں کے عقب میں۔۔۔۔۔”
شاہ تلخی سے بولا۔
“بلکل ٹھیک کہا لیکن میں سوچ رہا تھا ایک بار پھر سے اس نیوز کو اڑاتے ہیں اس بچی کے گھر والوں سے بات کر کے؟۔۔۔۔۔”
“ہاں اچھا آئیڈیا ہے لیکن اوپر تک پھر بھی نہیں جاےُ گی آواز۔۔۔۔۔”
شاہ نا امید تھا۔
“کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔۔۔۔۔”
عدیل پر امید تھا۔
شاہ کے فون کی رنگ ٹون نے دونوں کو خاموش کروا دیا۔
“جی امی۔۔۔۔۔”
شاہ بائیں ہاتھ سے فون کان کو لگاتا ہوا بولا۔
“مجھے بھی کال آ رہی تھی حرم کی لیکن میں مصروف تھا اس لئے بات نہیں ہو سکی۔۔۔۔”
“اچھا میں نمبر ملا کر دیکھتا ہوں کلاس میں ہو گی آپ پریشان مت ہوں۔۔۔۔۔”
شاہ نے کہتے ساتھ فون بند کر دیا۔
“کیا ہوا؟۔۔۔۔۔”
عدیل آبرو اچکا کر بولا۔
“حرم کا نمبر نہیں مل رہا تو امی پریشان ہو گئیں اس ٹائم اس کی کلاس ہوتی ہے اس لئے اٹھا نہیں رہی ہو گی۔۔۔۔۔”
شاہ گھڑی پر نظر ڈالتا ہوا بولا۔
عدیل اثبات میں سر ہلاتا سامنے پڑی فائل کھول کر دیکھنے لگا۔
شاہ فون اٹھا کر نمبر ملانے لگا لیکن ناٹ ریچایبل جا رہا تھا۔
“ازلان کیا میں تمہارے فون سے ایک کال کر سکتی ہوں؟۔۔۔۔۔”
کسی خیال کے تحت حرم بولی۔
ازلان نے جیب سے فون نکالا ان لاک کیا اور اس کی جانب بڑھا دیا۔
حرم نے نمبر ڈائل کیا اور فون کان سے لگا لیا۔
“السلام علیکم بھائی۔۔۔۔۔”
حرم اپنی آواز کو ہشاش بشاش رکھتی ہوئی بولی۔
“وعلیکم السلام حرم تمہارا فون کہاں ہے اور یہ کس کے نمبر سے فون کیا ہے تم نے؟۔۔۔۔۔”
شاہ تشویش سے بولا۔
“بھائی میرا نہ فون گر گیا تھا تو یہ دوست کا فون ہے۔۔۔۔۔”
حرم نے بہانہ بنایا۔
“تو تم مجھے تبھی بتاتی امی پریشان ہو رہیں تھیں میں شام میں آؤں گا ہاسٹل فون دینے۔۔۔۔۔”
“جی ٹھیک ہے بھائی۔۔۔۔۔”
ازلان لا تعلق سا ڈرائیونگ کر رہا تھا۔
“پڑھائی صحیح جا رہی ہے۔۔۔۔”
شاہ پھر سے گویا ہوا۔
“جی بھائی پہلے مسئلہ ہو رہا تھا لیکن اب ٹھیک ہے۔۔۔۔۔”
“اوکے پھر میں امی کو بتا دیتا ہوں۔۔۔۔۔”
شاہ نے کہہ کر فون بند کر دیا۔
حرم نے فون ازلان کی جانب بڑھا دیا۔
ازلان نے اس کے ہاتھ سے فون لیا اور واپس جیب میں ڈال لیا۔
حرم نے پھر سے چہرہ موڑ لیا۔
ازلان کو اس طرح دیکھنا اسے معیوب لگ رہا تھا۔
ازلان نے ایک بدنما گھر کے باہر گاڑی روکی۔
“اترو۔۔۔۔۔”
ازلان سپاٹ انداز میں بولا۔
حرم چہرہ جھکاےُ گاڑی سے اتر گئ اور اس کی تقلید کرنے لگی۔
حرم کا سر ڈوپٹے سے مخفی تھا۔
ایک کمرے پر مشتمل گھر میں وہ دونوں آگے پیچھے داخل ہوۓ۔
اندر مولوی صاحب اور ازلان کا گروپ دکھائی دیا۔
ازلان نے زین سے شرٹ لی اور آستین پہننے لگا۔
حرم خاموش سر جھکاےُ کھڑی تھی۔
“کسی کو شک تو نہیں ہوا؟۔۔۔۔۔”
ازلان شرٹ کے بٹن بند کرتا ہوا بولا۔
“نہیں ہم معمول کے مطابق نکلے ہیں سو کسی کو شبہ نہیں۔۔۔۔”
زین فون چیک کرتا ہوا بولا۔
ازلان نے حرم کو ہاتھ سے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
حرم خالی کرسی پر ٹک گئی۔
دوسری کرسی پر ازلان بیٹھ گیا۔
مولوی صاحب پہلے سے کرسی پر براجمان تھے۔
“شروع کریں مولوی صاحب۔۔۔۔۔”
ازلان بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔
سیفی منہ پر ہاتھ رکھے خود کو ہنسنے سے باز رکھ رہا تھا۔
“میں نے اسے بولا تھا بھابھی بنا لے بچہ سئیرئس لے گیا۔۔۔۔۔”
سیفی وکی کے کان میں بول رہا تھا۔
زین جو ان دونوں سے آگے کھڑا تھا سیفی کو کہنی ماری۔
“آؤچ, بیٹا میرے آنے والے بچے تجھ سے بدلہ لیں گے اس بربریت کا۔۔۔۔۔”
سیفی مظلومیت سے بولا۔
“پہلے وہ دنیا میں تو آئیں بدلہ بعد میں دیکھا جاےُ گا مجھے بھابھی کی گود بھرائی کرنی ہے ابھی تو۔۔۔۔۔”
زین چہرہ موڑ کر جلانے والی مسکراہٹ لئے بولا۔
“میں نے تیری بھرائی کر دینی ہے زمین میں۔۔۔۔۔۔۔”
سیفی جل کر بولا۔
“کوئی مسئلہ نہیں میری جان گود بھرائی تو پھر بھی میں ہی کروں گا۔۔۔۔”
زین کے ساتھ ساتھ وکی بھی ہنس رہا تھا۔
“یہ نکاح ہو جاےُ پھر تجھے طلاق دلواؤں گا سب سے پہلے۔۔۔۔”
سیفی منہ پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔
زین نے مسکراتے ہوۓ چہرہ سامنے کر لیا۔
ازلان شاہ ولد عبید شاہ کے ساتھ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟۔۔۔۔۔”
حرم ہاتھ مسل رہی تھی۔
“اگر بھائی کو علم ہو گیا تو،
لیکن اس طرح میں یونی نہیں جا سکوں گی اور امی کو حقیقت معلوم ہوئی تو شروع ہو جائیں گیں وہ تو، اور اگر بھائی نے مجھ پر یقین نہ کیا پھر۔۔۔۔۔”
حرم کے دماغ میں مسلسل ایک کے بعد ایک سوال جنم لے رہے تھے۔
“آہم آہم۔۔۔۔۔”
ازلان اسے متوجہ کرنے کی خاطر کھانسنے لگا۔
“یہ دیکھ سالا ابھی سے بیوی کے پیچھے لگ گیا۔۔۔۔”
وکی نے عقب سے ہانک لگائی۔
“میں نے مولوی صاحب سے کہنا ہے اس کے بعد نماز جنازہ بھی پڑھا کر جائیں۔۔۔۔۔”
زین خونخوار نظروں سے دونوں کو گھورتا ہوا بولا۔
وکی اور سیفی منہ پر انگلی رکھے معصوم سی شکل بناےُ زین کو دیکھنے لگے۔
“قبول ہے۔۔۔۔۔”
حرم تھوک نگلتی ہوئی بولی۔
مزید دو دفعہ اقرار ہوا،
حرم سے سائن کرواےُ گئے، گواہوں کے سائن لئے گئے اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے۔
“اللہ کرے کسی دن میرا بھی ایسے ہی نکاح ہو جاےُ میں نیند سے جاگوں اور مولوی صاحب کہیں چل بیٹا سائن کر۔۔۔۔۔۔”
سیفی کی زبان کہاں رکنے والی تھی۔
زین مسکراتا ہوا نفی میں سر ہلانے لگا۔
زین مولوی صاحب کو باہر چھوڑ آیا۔
“ہیلو بھابھی کیسی ہیں آپ؟۔۔۔۔۔”
سیفی اور وکی حرم کے سامنے آ کر یک زبان ہو کر بولے۔
حرم بوکھلا کر ازلان کو دیکھنے لگی۔
ازلان ٹانگ پے ٹانگ چڑھاےُ لاپرواہ سا فون کو دیکھ رہا تھا۔
ازلان حرم کی نظریں خود پر محسوس کر کے ان کا مفہوم سمجھ چکا تھا۔
“دیور ہیں تمہارے خود ڈیل کرو مجھے کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔۔۔”
نظریں ہنوز اسکرین پر جمی تھیں۔
“اَنی دیا مذاق اے بھابھی منہ دکھائی مانگ رہی اور تو فون میں۔۔۔۔۔”
سیفی اس کے سر پر چت لگاتا ہوا بولا۔
“ازلان شاہ مل گیا اور کیا چائیے۔۔۔۔۔”
وہ منہ بناتا ہوا بولا۔
“نہ نہیں مجھے کچھ نہیں چائیے۔۔۔۔۔”
حرم ان سب کے بیچ میں غیر آرام دہ تھی۔
زین ان کی نوک جھوک سن کر آگے آیا۔
“ازلان حرم کو ہاسٹل چھوڑ دے اور یہ کپڑے۔۔۔۔”
وہ شاپر ازلان کی جانب بڑھاتا ہوا بولا۔
“واہ یار میرے بنا کہے۔۔۔۔۔”
ازلان شاپر حرم کو تھماتا ہوا بولا۔
زین نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔
“تو حرم کو لے جا ہم دوسری گاڑی میں چلے جاتے ہیں چلو بھئ۔۔۔۔۔”
زین حرم کی بوکھلاہٹ دیکھ کر بولا۔
“تم چینج کر لو میں باہر کھڑا ہوں۔۔۔۔۔”
ازلان ان کے ساتھ باہر نکل گیا۔
“ویسے ازلان مجھے سمجھ نہیں لگی اس نکاح کی۔۔۔۔”
وکی کی پیشانی پر تین لکریں نمایاں تھیں۔
“یار وہ میرے نام پر بدنام ہو رہی تھی اس لئے میں نے اسے اپنا نام دے دیا۔۔۔۔۔”
ازلان شانے اچکاتا ہوا بولا۔
“اسے گھر لے جاےُ گا تو۔۔۔۔۔”
اب کی بار سیفی نے سوال داغا۔
“پاگل لگتا ہوں کیا شادی تو بعد میں کروں گا یہ تو سمجھ لے جیسے سائیڈ بزنس ہوتا ویسے ہی۔۔۔۔۔”
ازلان لاپرواہی سے بولا۔
“لیکن ازلان حرم کے ساتھ تو غلط ہو گا تو اس کی زندگی خراب کرے گا؟۔۔۔۔۔”
زین حیرت سے بولا۔
“یار جس کی زندگی پہلے ہی خراب ہو اگر مزید خراب ہو جاےُ گی تو کیا فرق پڑتا ہے تجھے کیوں پرابلم ہو رہی ہے میرا ٹائم پاس ہو جاےُ گا۔۔۔۔۔”
ازلان کا انداز جتانے والا تھا۔
“ٹھیک ہے پھر ہم چلتے ہیں لیکن گود بھرائی تو سیفی میں تیری والی کی ہی کروں گا۔۔۔۔۔۔”
زین ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتا ہوا بولا۔
“یار میرا دل چاہ رہا یے اس کی گود بھرائی کر دوں۔۔۔۔۔”
سیفی برہمی سے بولا۔
وکی قہقہ لگاتا بیٹھ گیا۔
“آؤ گی یا میں جاؤں؟۔۔۔۔۔”
ازلان دروازے کے قریب آ کر اونچی آواز میں بولا۔
ٹھیک دو منٹ بعد حرم باہر نکل آئی۔
“یہ آپ کی شرٹ۔۔۔۔۔”
حرم ہچکچاتے ہوۓ بولی۔
رشتے میں تغیر کے باعث ایک جھجھک سی آ گئی تھی۔
“میں کیا کروں شرٹ کا پھینک دو یہیں۔۔۔۔”ازلان لاپرواہی سے بولا۔
حرم نے شرٹ وہیں پھینک دی۔
“پہلے مجھے یہ بتاؤ شعیب تمہارا تعاقب کیوں کر رہا تھا؟ یقیناً تم نے کچھ الٹا سیدھا کیا ہو گا۔۔۔۔۔”
ازلان اس کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔
حرم چہرہ جھکاےُ الٹے قدم اٹھانے لگی۔
“وہ، وہ میں نے سر کو شکایت لگائی تھی۔۔۔۔۔”
ازلان کے مقابل بولنا حرم کے لئے دنیا کا مشکل ترین کام تھا۔
“کس خوشی میں۔۔۔۔۔” وہ تیوری چڑھا کر بولا۔
ازلان اس کی جانب بڑھتا آ رہا تھا۔
“وہ مجھے نہ تنگ کرتا تھا بس اسی وجہ سے۔۔۔۔”
حرم پیچھے ہوتی دروازے سے جا ٹکرائی۔
حرم نے نگاہیں اٹھا کر ازلان کو دیکھا جو پیشانی پر بل ڈالے اسے گھور رہا تھا۔
“یار تم پاگل ہو کیا یہ یونی ہے سکول نہیں جہاں تم ٹیچر کو شکایت لگاتی پھرو۔۔۔۔”
ازلان کو اس کی عقل پر شبہ ہوا۔
