Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 14
Tawaif by Hamna Tanveer
مہر سانس خارج کرتی اپنے ہاتھوں کو گھورنے لگی۔
“تم کھانا بنا لینا میں رات میں آؤں گا۔۔۔۔۔”
گاڑی گھر کے باہر روک کر شاہ مہر کو دیکھے بنا بولا۔
مہر بنا کچھ بولے گاڑی سے اتری اور اندر چلی گئی۔
شاہ نے جانے انجانے میں اس کے زخم کرید دئیے تھے۔
مہر زخموں کی تاب نہ لا سکی اور دروازے میں ہی بیٹھ گئی۔
سالوں پرانے زخم پھر سے ہرے ہو گئے۔
جو کرب وہ جاننا چاہ رہا تھا پھر سے مہر کے گرد ڈولنے لگا۔
مہر نے آنسو بہاتے ہوۓ سر ہاتھوں میں تھام لیا۔
“کبھی نہیں بتاؤں گی تمہیں، کیوں بتاؤں کس بنا پر بتاؤں, مرد ذات پر کبھی اعتبار نہیں کر سکتی میں۔۔۔۔۔”
مہر چلا رہی تھی خاموشی میں اس کی آواز گونج رہی تھی۔
اس کے اندر جل تھل کا موسم رواں دواں تھا۔
تبھی اس کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی برسنے لگتیں۔
جب زخم گہرے ہوں اور ان پر مرہم لگانے والا کوئی نہ ہو تو صبر کا پیمانہ اکثر و بیشتر لبریز ہو ہی جاتا ہے۔
مہر کے ہاتھ بھیگ رہے تھے آنکھیں ظلم کی داستاں بنی ہوئیں تھیں۔
“کیوں یاد کروا دیا تم نے مجھے وہ سب شاہ کیوں؟۔۔۔۔۔۔”
مہر ہذیانی انداز میں چلا رہی تھی۔
“بھولا تو کبھی نہیں تھا لیکن تمہیں وہ کرب کیوں دکھائی دیا کیوں میری ذات کے تہ خانوں میں چھپے رازوں سے روشنائی حاصل کرنا چاہتے ہو کیوں مجھے اذیت دے رہے ہو؟۔۔۔۔۔۔”
مہر اشک بہاتی چلا رہی تھی۔
****////////****
حرم کمرے کے باہر ٹہل رہی تھی کیونکہ پارٹی والے دن کے بعد سے ذوناش اور اس کے بیچ میں تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔
آئمہ کمرے سے باہر نکلی تو نگاہ حرم پر پڑی۔
آنکھوں چمکنے لگیں۔
“السلام علیکم! آپ حرم ہیں نہ؟۔۔۔۔۔”
آئمہ چہرے پر معصومیت طاری کرتی ہوئی بولی۔
“وعلیکم السلام! جی، لیکن آپ کون! ۔۔۔۔۔”
حرم تعجب سے بولی۔
“میں یہاں نئی آئی ہوں یہ سامنے والی کمرے میں ہوں، میں نے سنا ہے آپ دل کی بہت اچھی ہیں؟۔۔۔۔۔”
وہ چہرے پر مسکراہٹ سجاےُ بول رہی تھی۔
کمال کی اداکاری تھی اور مقابل حرم جیسی سادہ اور معصوم لڑکی ہو اور قابو نہ آےُ ایسا ہو نہیں سکتا۔
“نہیں ایسی بھی کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔”
حرم مسکراتی ہوئی بولی۔
“میں نے اسلامیہ یونیورسٹی میں داخلہ لیا ہے لیکن ان کا ہاسٹل نہیں تھا اس لئے یہاں آ گئی آپ مجھ سے دوستی کریں گیں؟۔۔۔۔۔”
آئمہ نے پہلا پتا پھینکا۔
“جی ضرور۔۔۔۔۔۔”حرم اپنے گروپ سے دلبرداشتہ ہونے کے فوراً باعث مان گئی۔
“آئیں وہاں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔۔۔۔۔”
آئمہ سیڑھیوں کی جانب اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
حرم مسکراتی ہوئی چل دی۔
****////////****
“ساری تیاری کر لی ہے نہ؟۔۔۔۔۔”
ازلان چلتا ہوا بول رہا تھا نگاہیں موبائل کی اسکرین پر تھیں۔
“ہاں بھائی سب تیار ہے رات میں فل ماحول ہو گا۔۔۔۔۔”
وکی اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
“چل اچھی بات ہے مزہ آےُ گا۔۔۔۔۔”
بولتے بولتے ازلان کے لب دم بخود مسکرانے لگے۔
حرم ہاتھ میں پیسے پکڑے جھنجھلاتی ہوئی چل رہی تھی۔
“حرم بیٹھ کر لگا لو حساب۔۔۔۔۔”
آمنہ بمشکل اس کے ساتھ قدم ملاتی ہوئی بولی۔
“پتہ ہے پچھلے مہینے میں نے اپنے لیے کچھ بھی نہیں لیا تھا بس کھانے پینے میں ہی اڑا دئیے تھے سارے پیسے۔۔۔۔۔”
حرم بولتی ہوئی چلتی جا رہی تھی۔
چہرہ نیچے جھکا رکھا تھا آمنہ بھی فون کو دیکھتی ہوئی چل رہی تھی۔
سامنے ستون تھا اور حرم اس بات سے انجان تھی۔
وہ سبک رفتاری سے چل رہی تھی اور سیدھا ستون سے جا ٹکرائی۔
“آئی امی۔۔۔۔۔۔”
حرم پیشانی مسلتی ہوئی بولی۔
ازلان اور اس کا گروپ کچھ فاصلے پر تھا اور حرم کی یہ کاروائی بآسانی دیکھ سکے۔
ازلان قہقہے لگاتا حرم کو دیکھ رہا تھا جو اپنی پیشانی ہاتھ سے مسل رہی تھی۔
“ازلان سہی کہتا ہے اندھی ہوں میں۔۔۔۔۔”
تکلیف کے باعث حرم نے آنکھیں بند کر رکھیں تھیں پاؤں ابھی بھی چل رہے تھے امید تھی کہ وہ اگلے ستون سے بھی ٹکرا جاےُ۔
آمنہ میسج ٹائپ کرتی اس کے عقب میں ہی رک گئی تھی اور اس کاروائی سے انجان تھی۔
حرم خود کو کوستی چلتی جا رہی تھی اور پھر سے ستون سے ٹکرا گئی۔
“ہاےُ اللہ،۔۔۔۔۔”
حرم ستون کو گھورتی ہوئی کراہنے لگی۔
“آج کا دن ہی منحوس ہے۔۔۔۔۔”
حرم چہرہ موڑ کر آمنہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔
ازلان اور اس کے گروپ کے قہقہے بند ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
حرم منہ بسورتی اپنی پیشانی مسل رہی تھی جب آمنہ اس کے مقابل آئی۔
“رک کیوں گئیں؟۔۔۔۔۔”
وہ حرم کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“نہ رکتی تو شاید تیسرا ایکسیڈنٹ ہو جاتا۔۔۔۔”
حرم اسے گھور کر بولی۔
“ایکسیڈنٹ!۔۔۔۔”
آمنہ تعجب سے بولی۔
“یہ میرا سر نظر نہیں آ رہا؟۔۔۔۔”
حرم پیشانی سے ہاتھ ہٹاتی ہوئی بولی۔
آمنہ غور سے اس کی پیشانی دیکھنے لگی جو وسط سے سرخ ہو رہی تھی۔
“میں نے کہا تھا نہ بیٹھ کر لگا لو حساب؟۔۔۔۔”
وہ تیکھے تیور لئے بولی۔
“اب تو ہو گیا اب کیا فائدہ کہنے کا۔۔۔۔۔”
حرم منہ بناتی چلنے لگی۔
“بیگم صاحبہ اب دیکھ کر چلنا۔۔۔۔”
ازلان اسکے پاس سے گزرتا ہوا اس کے کان کے قریب ہو کر بولا۔
حرم منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔
“حد ہے اسنے بھی دیکھ لیا, حرم تمہارا دماغ ہی خراب ہے۔۔۔۔۔۔”
حرم پھر سے خود کو کوستی چلنے لگی۔
“تمہارے ابو سے بات ہوئی ہے میری وہ کہتے کہ اقراء گھر نہیں آئی! پھر کہاں گئی تھی تم؟۔۔۔۔۔”
چوکیدار اونچی آواز میں بول رہا تھا۔
حرم پیشانی پر بل ڈالے انہیں دیکھنے لگی۔
“انکل میں گھر ہی گئی تھی۔۔۔۔”
وہ زور دے کر بولی۔
“جھوٹ مت بولو میڈم کے سامنے مجھے جوابدہ ہونا پڑتا ہے تم ایسا کرو اِدھر رکو میں فون کرتا ہوں تمہارے گھر میں بھی اور میڈم کو بھی بلاتا ہوں خود ہی دیکھیں گیں آب تمہیں۔۔۔۔۔”
چوکیدار فون نکالتا ہوا بولا۔
حرم جھرجھری لیتی اندر آ گئی۔
“یار ہمارے ہاسٹل میں کتنے واقعات ہو رہے ہیں نہ ایسے۔۔۔۔۔”
حرم کمرے میں آتی بیگ رکھتی ہوئی بولی۔
“یہ تو کچھ بھی نہیں ہے میں تمہیں ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی لڑکی کا بتاتی ہوں۔۔۔۔۔۔”
ذوناش آگے ہوتی ہوئی بولی۔
“کیا ہوا ذونی؟۔۔۔۔۔”
آمنہ اس کے سامنے بیٹھتی ہوئی تجسس سے بولی۔
“تم نے وہ لڑکی دیکھی ہے موٹی سی گوری سی جس نے ڈانس میں حصہ بھی لیا تھا۔۔۔۔۔”
ذوناش دونوں کو دیکھتی ہوئی بولی۔
حرم اور آمنہ نفی میں سر ہلانے لگیں۔
“یار وہ جو عثمان نامی لڑکے کے ساتھ اکثر گھومتی نظر آتی ہے جو کوےُ جیسا ہے میرا مطلب کالا سا ڈھانچہ نما۔۔۔۔۔۔”
اب کی بار انشرح نقشہ کھینچتی ہوئی بولی۔
“ہاں یاد آ گیا۔۔۔۔۔”
حرم ہنستی ہوئی بولی۔
“میں نے تمہیں کہا تھا نہ کوےُ سے یاد آےُ گا۔۔۔۔۔”
انشرح ہمیشہ اس لڑکے کو کوا کہتی تھی۔
“اچھا سنو کل معلوم ہوا وہ لڑکی پریگنیٹ ہے۔۔۔۔۔۔”
ذوناش پوری آنکھیں کھولے دونوں کو دیکھتی ہوئی بولی۔
حرم اور آمنہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگی۔
“یار مذاق نہ کر۔۔۔۔۔”
آمنہ اعتباری سے بولی۔
“ایسا مذاق کوئی کرتا ہے کیا؟۔۔۔۔۔”
انشرح آمنہ کو گھورتی ہوئی بولی۔
“مجھے تو اپنی یونی کے سٹوڈنٹس کو دیکض کر ہی ڈر لگنے لگا ہے۔۔۔۔۔۔”
حرم حونق ذدہ سی بولی۔
“تمہیں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے تمہارا شوہر بھی تو وہیں ہوتا ہے۔۔۔۔”
ذوناش طعنہ دیتی ہوئی بولی۔
“ہوتا تو ہے لیکن پھر بھی۔۔۔۔۔۔”
حرم ازلان کے ذکر پر خود میں سمٹ گئ۔
“اور ہاں میں بتانا بھول گئی ازلان کہہ رہا تھا آج پارٹی ہے اسکے فارم ہاؤس پر ہم ہاسٹل سے مارکیٹ جانے کا بولیں گے اور وہ ہمیں پک کر لیں گے۔۔۔۔۔”
ذوناش کہہ کر سب کو دیکھنے لگی۔
“ازلان مجھے بھی تو کہہ سکتا تھا نہ۔۔۔۔۔”
حرم دل ہی دل میں خود سے مخاطب تھی۔
“اب ٹائم پر تیار ہو جانا سب یہ پارٹی وہ اپنی جیت کی خوشی میں دے رہا ہے۔۔۔۔۔”
ذوناش الماری کی جانب بڑھتی ہوئی بولی۔
“ہاےُ میں اپنے کپڑے ڈھونڈوں پتہ نہیں کون سے کونوں کھدروں میں پڑے ہوں گے۔۔۔۔۔” انشرح جست لگاتی بیڈ سے اتر گئ۔
حرم خاموش ہو گئی تھی۔
“اس طرح سے جانا مناسب ہے بھی یا نہیں، اللہ جانے۔۔۔۔۔”
حرم کے چہرے پر خوف کی لکریں تھیں۔
****///////****
“شکر ہے تم نے بھی شکل دکھائی ورنہ میں تو سوچ رہا تھا بھول گئے ہو۔۔۔۔۔۔”
برہان خفگی سے بولا۔
“آپ کو کیسے بھول سکتا ہوں میں بس بھائی نے بزنس میں مصروف کر دیا ہے پھر خود نگرانی کر رہے میری۔۔۔۔۔”
شاہ ویز منہ بسورتا ہوا کرسی پر بیٹھ گیا پاؤں ٹیبل پر رکھ لئے اس طرح کہ دونوں پاؤں آپس میں ضرب کھا رہے تھے۔
“مصطفی ٹھیک نہیں کر رہا ویسے۔۔۔۔۔”
برہان سیگرٹ کا کش لیتا ہوا بولا۔
“یار بھائی بلکہ سب گھر والے کیوں آپ سے دور رکھتے ہیں مجھے؟۔۔۔۔۔”
شاہ ویز الجھ کر بولا۔
“جب سے وہ کار حادثہ ہوا کے اس کے بعد سے شاہ ایسے کرتا ہے جبکہ کسی زمانے میں ہم بہت اچھے دوست ہوا کرتے تھے۔۔۔۔۔”
برہان تاسف سے بولا۔
“پھر اب کیوں نہیں ہیں؟۔۔۔۔۔۔”
شاہ ویز نے بے چینی سے پہلو بدلا۔
“میں خود بھی لاعلم ہوں یہ تو شاہ بتا سکتا ہے۔۔۔۔۔”
برہان بےچارگی سے شانے اچکاتا ہوا بولا۔
“ہماری اتنی اچھی دوستی ہے اور بھائی ہمیشہ میرے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔وجہ میں بھی جان کر رہوں گا۔۔۔۔۔”
شاہ ویز باغی ہو رہا تھا۔
“ہاں تمہیں ضرور پوچھنا چائیے۔۔۔۔۔”
برہان شاہ ویز کو دیکھتا ہوا بولا جس کے چہرے پر برہمی کا آثار تھے۔
شاہ ویز بنا کچھ کہے اٹھ کر چلا گیا۔
وہ گاڑی میں آ کر بیٹھا ہی تھا کہ عینی کی کال آنے لگی۔
“ہاں بولو عینی؟۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کے چہرے پر خفگی طاری تھی۔
“شاہ ویز تم اپنے گھر کب بات کرو گے مجھے لگتا ہے ہمیں اب منگنی کر لینی چائیے۔۔۔۔۔”
عینی فکرمندی سے بولی۔
“عینی دیکھو فلحال میں یہ منگنی شادی ان مصیبتوں میں نہیں پڑنا چاہتا۔۔۔۔۔”
شاہ ویز بیزاری سے بولا۔
“شاہ ویز تمہارے لئے شادی مصیبت ہے!۔۔۔۔”
عینی کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
“اور کیا ہے یہ لائف اچھی ہے آرام سے مزے کرو وہ کیا ذمہ داری سر لے لو۔۔۔۔۔”
شاہ ویز ہنکار بھرتا ہوا بولا۔
“تم نے پہلے تو ایسا کبھی نہیں کہا۔۔۔۔”
عینی ٹوٹے ہوۓ لہجے میں بولی۔
“تو بےبی تم کیوں اس سب کے بارے میں سوچ رہی ہو میں تم سے پیار کرتا ہوں اور تم مجھ سے بس بات ختم یہ شادی ابھی سوچنے کی چیز نہیں۔۔۔۔۔”
شاہ ویز خود بھی الجھا ہوا تھا۔
“اچھا یہ بتا دو شادی مجھ سے ہی کرو گے نہ؟۔۔۔۔”
عینی نے خدشہ ظاہر کیا۔
“ظاہر ہے تم سے ہی کروں گا اور میں نے ہمسایوں کی لڑکی سے کرنی ہے۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اکتا کر بولا۔
“بس پھر ٹھیک ہے میں انتظار کر لوں گی۔۔۔۔۔”
عینی خوشی سے نہال ہو گئی۔
“ابھی باہر ہوں گھر جا کر بات کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔”
شاہ ویز نے کہہ کر فون بند کر دیا۔
“بیوقوف کو اتنا بھی نہیں معلوم کہ ہم شاہ لوگ خاندان سے باہر شادی نہیں کرتے اور میں اس جیسی لڑکی سے شادی کروں گا جس کا کوئی کریکٹر ہی نہیں ہے پاگل سمجھ رکھا ہے مجھے جو میرے ساتھ پوری پوری رات گزارتی ہے نجانے کس کس کو پھنسا رکھا ہو گا۔۔۔۔۔”
شاہ ویز ہنکار بھرتا گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔
****///////****
“سن لو شاہ چھوٹا پھر اس برہان کے ساتھ ہے آج۔۔۔۔۔” کمال صاحب گرج دار آواز میں بولے۔
“جی میرے علم میں بھی آیا ہے آپ فکر مت کریں اس کا علاج کرتا ہوں یہ ایسے نہیں مانے گا۔۔۔۔۔”
شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔
“اور حرم کا بھی خیال رکھنا تھا ٹھیک ہے نہ وہ۔۔۔۔۔”
کمال صاحب ذومعنی جملوں کا تبادلہ کرتے ہوئے بولے۔
“جی میں نے چوکیدار کو خاص تاکید کی ہے ایسا کوئی مسئلہ نہیں ویسے بھی مجھے بھروسہ ہے اپنی بہن پر۔۔۔۔۔”
شاہ کے لہجے میں مان تھا۔
“یہ لو دودھ پی لو بادام والا۔۔۔۔”
ضوفشاں بیگم کمرے میں آتی ہوئیں بولیں۔
ملازمہ نے ٹرے شاہ کے آگے کر دی۔
“امی میں بچہ نہیں ہوں۔۔۔۔۔”
شاہ خفگی سے بولا۔
“تم رکھ کر جاؤ باہر۔۔۔۔۔”
وہ ملازمہ کی جانب متوجہ ہوئی ہوئیں بولیں۔
“ماں باپ کے لئے بچے ساری عمر چھوٹے ہی رہتے ہیں سارا دن کام کاج میں لگو رہتے ہو دیکھو دبلے ہو گئے ہو اپنی صحت کا خیال ہی نہیں رکھتے بیوی ہو تو تمہارے کان کھینچے۔۔۔۔۔”
وہ خفگی سے بولیں۔
شاہ تیوری چڑھا کر انہیں دیکھنے لگا۔
گلاس پکڑتا ہاتھ ہوا میں معلق ہو گیا۔
“بیگم سوچ کر بولا کریں۔۔۔۔۔”
کمال صاحب ناراض ناراض سے بولے۔
ضوفشاں بیگم گڑبڑا کر شاہ کو دیکھنے لگی۔
“میرے بس منہ سے نکل جاتا ہے عمر ہو گئی ہے نہ۔۔۔۔۔”
وہ سنبھل کر بولیں۔
“اچھے سے جانتا ہوں باقی معاملات میں تو یہ عمر آڑے نہیں آتی۔۔۔۔۔”
شاہ انہیں گھورتا ہوا بولا۔
“اچھا اب پکڑ لو گلاس ہر وقت ماں کے پیچھے پڑے رہتے ہو۔۔۔۔”
وہ منہ بناتی ہوئیں بولیں۔
“بات وہی کریں جو بنتی ہو بلاوجہ اپنے دماغ پر زور مت ڈالا کریں۔۔۔۔۔”
شاہ گلاس اٹھاتا ہوا بولا۔
“میں سمجھاؤں گا تم پیو۔۔۔۔”
کمال صاحب شاہ کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوےُ بولے۔
“بابا سائیں آج مجھے کچھ کام ہے عشاء کی نماز پڑھ کر میں چلا جاؤں گا کل پھر چھوٹے کو دیکھوں گا۔۔۔۔۔”
شاہ کھڑا ہوتا ہوا بولا۔
“چلو ٹھیک ہے جیسے تمہارے لئے آسانی ہو۔۔۔۔۔”
وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولے۔
شاہ چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل آیا۔
بازو آگے کر کے گھڑی پر ٹائم دیکھا۔
“پانج منٹ ہیں جماعت کھڑی ہونے میں نماز پڑھ کر مہر کے پاس جاتا ہوں۔۔۔۔۔”
شاہ بولتا ہوا حویلی سے باہر نکل آیا۔
مسجد سے باہر نکل کر شاہ نے اپنی گاڑی کا رخ کیا۔
سردی کے باعث کندھے پر شال اوڑھ رکھی تھی۔
شاہ اپنی شال درست کرتا اندر کی جانب قدم بڑھانے لگا۔
آج شاہ سیاہ شلوار قمیص میں ملبوس تھا جو اس کی شخصیت کو چار چاند لگا رہی تھی۔
جونہی وہ لاؤنج میں آیا نظر مہر سے ٹکرائی جو کمرے کے دروازے کے باہر بیٹھی تھی۔
“مہر یہاں کیوں سو رہی ہے! ۔۔”
شاہ تعجب سے بولتا اس کے پاس آ گیا۔
“مہر؟۔۔۔۔۔”
شاہ اس کا رخسار تھپتھپاتا ہوا بولا۔
“مہر یہاں کیا کر رہی ہو؟۔۔۔۔۔۔”
شاہ کو اس کا یہاں بیٹھنا سمجھ نہ آیا۔
مہر ہلکی ہلکی آنکھیں کھول رہی تھی۔
مہر کا جسم برف ہو رہا تھا۔
شاہ نے مزید وقت کا ضیاع کئے بنا اس کو بازوؤں میں اٹھا لیا۔
شاہ کی خوشبو مہر کے نتھنوں سے اندر داخل ہونے لگی۔
شاہ کا لمس محسوس ہوا, مہر نے پوری آنکھیں کھول دیں۔
شاہ کا چہرہ اس کے چہرے کے قریب ترین تھا۔
مہر آنکھیں سکیڑ کر شاہ کو دیکھنے لگی جو بیڈ کے پاس آ رہا تھا۔
مہر کو بیڈ پر لٹایا، اس پر لحاف اوڑھ کر اس کے سرہانے بیٹھ گیا۔
