577.9K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tawaif Episode 15

Tawaif by Hamna Tanveer

شاہ نے تکیے پر بازو رکھی، اپنا چہرہ مہر کے چہرے کے قریب لے آیا۔

مہر پیشانی پر بل ڈالے اسے گھور رہی تھی۔

“مجھے یہ بتاؤ وہ کون سی جگہ ہے سونے کی؟۔۔۔۔۔”

شاہ اس کی بھوری آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔

“تمہیں کیا میں جہاں مرضی سوؤں؟۔۔۔۔۔”

مہر خفا خفا سی بولی۔

شاہ اس کی بھوری جھیل سی گہری آنکھوں میں ڈوبتا جا رہا تھا۔

“تمہاری چھوٹی سی ناک پر ہمیشہ غصہ سوار رہتا ہے۔۔۔۔۔۔”

شاہ اس کی ناک دباتا ہوا بولا۔

“پیچھے ہٹو۔‍۔۔۔”

مہر اس کے سینے پر شہادت کی انگلی رکھتی ہوئی بولی۔

“کیوں؟۔۔۔۔۔”

شاہ اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔

“کیونکہ میں کہ رہی ہوں۔۔۔۔۔”

مہر کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا بولے۔

شاہ کی قربت میں وہ پگھلنے لگتی تھی۔

تپتی دھوپ کے صحرا میں شاہ سائباں لگتا تھا بلکل اسی چشمے کی مانند جو صحرا میں آنکھوں کی ڈھنڈک محسوس ہوتا ہے۔

“میں تمہارا حکم ماننے کا پابند نہیں۔۔۔۔”

شاہ اس کے نرم و نازک ہاتھ کو دیکھتا ہوا بولا۔

“میں بھی تمہارا حکم ماننے کی روادار نہیں۔۔۔۔۔”

مہر اپنا ہاتھ کھینچتی ہوئی بولی۔

“جب جب تم ایسا کرتی ہو نہ بہت بری لگتی ہو میں تمہارے پاس آتا ہوں سکون کی خاطر لیکن تم میرا رہا سہا سکون بھی غارت کر دیتی ہو۔۔۔۔۔”

شاہ برہمی سے بولتا پیچھے ہو گیا۔

مہر مسکراتی ہوئی اٹھ بیٹھی۔

“لیکن تم پھر بھی ڈھیٹ بن کر آ جاتے ہو۔۔۔۔۔”

مہر اپنے منتشر بالوں کو سمیٹتی ہوئی بولی۔

شاہ نے ایک قہر آلود نظر مہر پر ڈالی۔

“مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔۔”

مہر بال باندھتی ڈھٹائی سے بولی۔

“شاہ کلس کر دوسری جانب دیکھنے لگا۔

“کب تمہیں تمیز آےُ گئی؟۔۔۔۔۔۔”

شاہ اس کی بازو پکڑ کر رخ اپنی جانب موڑتا ہوا بولا۔

“جو تمہارا حال ہے اس لحاظ سے تو کبھی نہیں۔۔۔۔۔۔”

مہر دل جلانے والی مسکراہٹ اچھالتی ہوئی بولی۔

شاہ دانت پیستا مہر کو گھورنے لگا۔

“کیا ہوا غصہ آ رہا ہے؟۔۔۔۔۔”

مہر پتلیاں سکیڑ کر بولی۔

آج مہر نے اسے ستانے کا قصد کر رکھا تھا۔

“بلکل بھی نہیں۔۔۔۔۔”

شاہ مسکرا کر اس کے بال کھولتا ہوا بولا۔

شاہ مہر کا چہرہ حرف بہ حرف پڑھ رہا تھا۔

مہر کی مسکان پھیکی پڑی پھر اشتعال انگیز آنکھوں سے شاہ کو گھورنے لگی۔

مہر اپنی بازو آزاد کروا کر بیڈ سے نیچے اتر گئی۔

اس سے قبل کہ وہ کمرے سے باہر نکلتی شاہ اس کی راہ میں حائل ہو گیا۔

“کیا مسئلہ ہے؟۔۔۔۔۔”

مہر تیکھے تیور لئے بولی۔

“پتہ ہے میری چھٹی حس کہتی ہے تمہیں مجھ سے محبت ہو جاےُ گی۔۔۔۔۔۔”

شاہ اسے اپنے قریب کرتا ہوا بولا۔

“تمہاری خوش فہمی ہے۔۔۔۔۔۔”

مہر استہزائیہ ہنسی۔

شاہ نے اس کی پشت پر ہاتھ رکھے اور اسے سینے سے لگا لیا۔

“ایک دن ایسا ضرور ہو گا اور تب تمہارے لبوں پر صرف شاہ کا نام ہو گا میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں۔۔۔۔۔”

شاہ اس کے کان میں سرگوشی کرنے لگا۔

بلا کا اعتماد تھا اس کے لہجے میں۔

مہر کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو رہیں تھیں۔

وہ معمول سے ہٹ کر عجیب ہی لے پر دھڑک رہیں تھیں۔

مہر کو اپنی دھڑکنیں سنائیں دے رہیں تھیں مانو دل ابھی باہر نکل آےُ گا۔

“اگر سچ میں مجھے شاہ سے محبت ہو گئی پھر؟ یہ نزدیکیاں کسی تباہی کا پیش خیمہ ہیں۔۔۔۔۔”

مہر اس کے سینے سے لگی سوچ رہی تھی۔

عجیب ہی فطور تھا شاہ کی قربت کا،

مہر ریزہ ریزہ ہو رہی تھی وہ شکست نہیں چاہتی تھی لیکن شاہ کی قربت میں دل بے قابو ہو رہا تھا بغاوت پر اتر رہا تھا۔

مہر کی دھڑکنیں شاہ کی دھڑکنوں کے سنگ چلنا سیکھنے لگیں تھیں۔

یہ شاہ کا سرور تھا جو مہر کو چاروں شانے چت کر رہا تھا ستم ظریفی یہ کہ وہ مزاحمت بھی نہ کر پا رہی تھی چونکہ دل ہی دشمن جاں سے جا ملا تھا۔

“شاہ مجھے چھوڑو۔۔۔۔۔”

مہر آنکھیں کھولتی اس کی گرفت میں کسمسائی۔

“یہ شاہ کی گرفت ہے آزاد کروا سکتی ہو تو کروا لو۔۔۔۔۔”

شاہ کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ احاطہ کئے ہوۓ تھی۔

“پلیز۔۔۔۔”

مہر ایک جنگ شاہ سے لڑ رہی تھی تو دوسری اپنے دل سے اور ان دونوں کے بیچ وہ نڈھال ہو رہی تھی۔

“جب شاہ کا دل کرے گا تمہیں آزاد کر دے گا ابھی میں ایسا قصد نہیں رکھتا۔۔۔۔۔”

شاہ کو اس کا جھکنا لطف دے رہا تھا۔

اس کا غرور ہی تو توڑنا چاہتا تھا وہ۔

“کیا چاہتے ہو تم۔۔۔۔۔”

مہر اس کی دھڑکنیں سن رہی تھی۔

“تمہیں زیر کرنا۔۔۔۔۔۔”

شاہ محظوظ ہوتا ہوا بولا۔

“ایسا کبھی نہیں ہو گا۔۔۔۔۔”

شاہ کی گرفت کمزور ہوتی دیکھ کر مہر نے اسے خود سے پرے کر دیا۔

“بہت غلط بات ہے۔۔۔۔۔”

شاہ بولتا ہوا اس کی جانب بڑھ رہا تھا۔

“مجھے بھوک لگی ہے خبردار اگر مجھے روکا تو۔۔۔۔۔”

مہر پیشانی پر بل ڈالے آنکھوں کی پتلیاں سکیڑتی ہوئی بولی۔

شاہ نے مسکراتے ہوۓ اسے راستہ دے دیا۔

مہر سر جھٹکتی باہر نکل گئی۔

****////////****

حرم آس پاس نگاہ دوڑاتی قدم اٹھا رہی تھی۔

تیز روشنیوں میں اسے سب کھڑے دکھائی دئیے۔

“آمنہ اگر کوئی مسئلہ ہو گیا پھر۔۔۔۔”

حرم خوف کے زیر اثر بولی۔

“یار نہیں کچھ ہوتا تم کیوں فکر کر رہی ہو اور ذونی بتا رہی تھی ازلان نے کہا تھا کہ حرم لازمی آےُ۔۔۔۔۔”

حرم بےبسی سے دیکھتی چلنے لگی۔

حرم،آمنہ اور انشرح کرسیوں پر ٹک گئیں ان کے برعکس ذوناش ازلان کے گروپ کے آس پاس دکھائی دے رہی تھی۔

زیادہ سٹوڈنٹس نہیں تھے کچھ کلاس فیلو تھے اور کچھ دوسرے۔

ازلان سب کے ساتھ کھڑا تھا۔

ازلان گاہے بگاہے حرم پر ایک نگاہ ڈالتا اور پھر سے محو گفتگو ہو جاتا۔

حرم خود کو ان فٹ محسوس کر رہی تھی۔

ازلان مسکراتا ہوا ان کے پاس آیا۔

“ہیلو!۔۔۔۔”

حرم کو دیکھتا ہوا بولا جو چہرہ جھکاےُ بیٹھی تھی۔

“حرم؟۔۔۔۔۔”

آمنہ اور انشرح نے ازلان سے رسمی جملوں کا تبادلہ کر لیا تو ازلان اسے گھورتا ہوا بولا۔

حرم سیاہ بالوں کو کھولے ہوۓ تھی لائٹ سی لپ اسٹک لگا کر ہی وہ جاذب نظر لگ رہی تھی۔

ازلان کا دل چاہ رہا تھا اسے قریب سے دیکھے شاید یہ رشتے کے باعث تھا دل عجیب عجیب خواہشیں کرنے لگا۔

حرم چہرہ جھکاےُ انگلیاں مڑور رہی تھی۔

“حرم میں تم سے بات کر رہا ہوں۔۔۔۔۔”

ازلان ضبط کرتا ہوا بولا۔

حرم کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔

جھوٹ بول کر پارٹی میں آنا حرم کو مناسب نہیں لگ رہا تھا اس کا ذمہ دار وہ ازلان کو ٹھرا رہی تھی تبھی اس کی جانب دیکھنے سے بھی گریز برت رہی تھی۔

ازلان پیچ و تاب کھاتا وہاں سے چل دیا۔

“ہاسٹل کب جائیں گے؟۔۔۔۔۔”

ازلان کے جاتے ہی حرم دونوں کو دیکھتی ہوئی بولی۔

“پتہ نہیں ذوناش کو معلوم ہو گا۔۔۔۔۔”

انشرح لا علمی سے شانے اچکاتی ہوئی بولی۔

حرم فکرمندی سے فون کو دیکھنے لگی۔

گھڑی کی سوئیاں چل رہیں تھیں اور وقت بیت رہا تھا۔

سب کھانا کھانے میں مصروف تھے۔

حرم کی شرٹ پر بوتل گر گئی تو وہ صاف کرنے کی غرض سے اندر کی جانب چلنے لگی۔

ازلان کی نظروں سے وہ محفوظ نہ رہ سکی۔

ازلان بھی اس کے پیچھے چل دیا۔

“واش روم اسی سائیڈ پر کہا تھا۔۔۔۔۔”

حرم سمت کا تعین کرتی ہوئی بولی۔

اسی اثنا میں کسی نے حرم کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچا۔

حرم اس افتاد پر بوکھلا گئی۔

آنکھوں کی پتلیوں میں تحیر سمٹ آیا،

دھڑکنیں تیز ہو گئیں لیکن جیسے ہی نظر ازلان کے خفگی بھرے چہرے پر پڑی تو اعصاب ڈھیلے پڑے۔

“تم!۔۔۔۔۔۔”

حرم ششدہ سی بولی دائیں بائیں دیکھنے لگی۔

ازلان نے اسے ستون کے ساتھ لگا رکھا تھا۔

“جب میں تمہیں مخاطب کر رہا تھا جواب کیوں نہیں دیا تم نے؟۔۔۔۔۔۔”

ازلان اس کی دونوں بازو دبوچتا ہوا بولا۔

ازلان کی گرفت پر حرم کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔

حرم خاموش اسے دیکھنے لگی۔

“پارٹی میری تھی تم مجھ سے ملنے نہیں آئی اور جب میں خود چل کر آیا تم نے جواب دینا گوارا نہیں کیا۔۔۔۔۔”

ازلان برہمی کا اظہار کر رہا تھا۔

“می مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔۔”

حرم کی کمزور سی آواز گونجی۔

“مجھ سے؟۔۔۔۔۔”

ازلان اپنے سینے پر شہادت کی انگلی رکھتا ہوا بولا۔

حرم نم آنکھوں سے دیکھتی نفی میں سر ہلانے لگی۔

“پھر؟۔۔۔۔۔۔”

ازلان آبرو اچکا کر بولا۔

حرم گھبراتی ہوئی ہاتھ مسلنے لگی۔

“میں کچھ پوچھ رہا ہوں؟۔۔۔۔۔”

ازلان زور سے بولا۔

حرم نفی میں سر ہلاتی الٹے قدم اٹھاتی جا رہی تھی۔

“کیا؟۔۔۔۔۔”

ازلان حرم کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔

ازلان کی پیشانی پر شکنیں ابھریں۔

حرم عقب میں دیکھے بنا قدم اٹھاتی جا رہی تھی۔

ازلان نے آگے بڑھ کر حرم کا ہاتھ تھام لیا ورنہ وہ سوئمنگ پول میں گر جاتی۔

حرم گردن موڑ کر عقب میں دیکھتی پھر ازلان کو دیکھنے لگی۔

“چھوڑ دوں؟۔۔۔۔۔”

ازلان خفگی سے دیکھتا ہوا بولا۔

حرم نے پھر سے چہرہ موڑ کر نیلے شفاف پانی کو دیکھا۔

“مجھے تیرنا نہیں آتا۔۔۔۔۔”

حرم ازلان کی جانب رخ موڑتی ہوئی بولی۔

“میں سیکھا دوں گا۔۔۔۔”

ازلان شرارت سے بولا۔

حرم نفی میں سر ہلانے لگی۔

ازلان نے مسکراتے ہوۓ اسے اپنی جانب کھینچ لیا۔

“یہاں بیٹھو میرے ساتھ۔۔۔۔۔”

ازلان نیچے بیٹھتا ہوا بولا۔

شوز اتار کر سائیڈ پر رکھے اور پاؤں پانی میں ڈال دئیے۔

حرم کشمکش میں مبتلا تھی۔

“حرم میں خود تمہیں پانی میں پھینک دوں گا بیٹھوں جلدی۔۔۔”

ازلان اسے گھوری سے نوازتا ہوا بولا۔

“مجھے ہاسٹل جانا ہے۔۔۔۔”

حرم التجائیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔

“میں خود چھوڑ آؤں گا ابھی دو منٹ کے لئے بیٹھو۔۔۔۔”

ازلان نرمی سے بولا۔

حرم ہچکچاتی ہوئی اس کے ساتھ کچھ فاصلے پر بیٹھ گئی۔

“پہلے مجھے بتاؤ ڈر کیوں لگ رہا ہے؟”

ازلان ایک نظر حرم پر ڈالتا پانی کو دیکھنے لگا۔

“ہم جھوٹ بول کر آئیں ہیں نہ اگر چوکیدار انکل کو معلوم ہو گیا اور بھائی کو بتا دیا پھر؟”

حرم نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔

“کچھ نہیں کرتا وہ چوکیدار میں دیکھ لوں گا اسے۔۔۔۔”

ازلان سر جھٹکتا ہوا بولا۔

“نہیں اسے کچھ مت کہنا میں جانتی ہوں بھائی نے اس سے بات کی ہو گی پلیز۔۔۔۔”

حرم اس کی جیکٹ کی آستین کھینچتی ہوئی بولی۔

“اپنے پاؤں ڈالو اس میں۔۔۔۔”

ازلان کا دل عجیب و غریب سی خواہشیں دھر رہا تھا۔

حرم پتلیاں سکیڑے اسے تعجب سے دیکھنے لگی۔

“سردی لگ جاےُ گی۔۔۔۔۔”

حرم نے بہانہ بنایا۔

“پانی گرم ہے پاؤں ڈال کر دیکھو؟”

ازلان بغور اسے دیکھتا ہوا بولا۔

حرم نے اسے دیکھتے ہوۓ پاؤں پول میں ڈال دئیے۔

“اب مجھے یہ بتاؤ مجھ سے اتنے فاصلے پے کیوں بیٹھی ہو؟”

ازلان اس کی جانب جھکتا آنکھیں چھوٹی کرتا ہوا بولا۔

“ابھی اس نکاح کا کسی کو علم نہیں اس لئے۔۔۔۔”

حرم مختصر کہہ کر اسے دیکھنے لگی۔

ازلان یک ٹک حرم کے چہرے کو دیکھ رہا تھا وہ معصوم بھولی سی گڑیا اسے اچھی لگنے لگی تھی۔

“لیکن اگر میں تھوڑا سا حق استعمال کر لوں تو اس میں کوئی برائی نہیں۔۔۔۔”

ازلان اس کا بائیاں ہاتھ اپنے میں لیتا ہوا بولا۔

ازلان کے لمس پر حرم اچھل پڑی۔

“میرا ہاتھ کیو کیوں پکڑ لیا ہے؟”

حرم بوکھلا کر اسے دیکھنے لگی۔

“کیوں گناہ کر دیا ہے؟”

ازلان معصومیت سے بولا۔

حرم نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکال لیا۔

“مجھے یہ سب نہیں پسند نا ہی مناسب لگتا ہے۔۔۔۔”

حرم چہرہ جھکا کر بولی۔

“پھر کیا پسند ہے تمہیں؟”

بے اختیار ازلان کے لبوں سے پھسلا۔

“بھائی کے ساتھ کھیتوں میں جانا، ان کے ساتھ مل کر پھل کھانا۔۔۔۔”

حرم پرانے دن یاد کرتی حسرت سے بولی۔

“اور میرے ساتھ؟”

ازلان اس کے چہرے کو دیکھتا ہوا بولا۔

“آپ کے ساتھ؟”

حرم نے زیر لب دہرایا۔

ازلان اس کے جواب کا منتظر تھا۔

“پتہ نہیں۔‍۔۔۔”

حرم شانے اچکاتی پانی کو دیکھنے لگی۔

“تمہیں پانی میں گرا دینا ہے میں نے پھر بچانے بھی نہیں آؤں گا۔۔۔۔”

ازلان خفگی سے دیکھتا ہوا بولا۔

“مجھے اب ہاسٹل چھوڑ آئیں زیادہ دیر ہو گئی تو مسئلہ ہو جاےُ گا۔۔۔”

حرم اس کی بات نظر انداز کرتی ہوئی بولی۔

ازلان لمحہ بھر کو رکا پھر پاؤں باہر نکال لیے۔

“ٹھیک ہے چلو۔۔۔۔”

حرم کو دیکھتا ہوا بولا جس کا چہرہ کھل اٹھا تھا۔

حرم ازلان کے ہمراہ چل رہی تھی۔

وہ بار بار اپنے ہاتھ کو دیکھتی جا رہی تھی۔

ازلان کا لمس وہ ابھی تک محسوس کر رہی تھی جیسے ہاتھ ابھی بھی اس کی گرفت میں ہو۔

****///////****

‘”تیار ہو گئی ہے یہ؟”

زلیخا بیگم سرد مہری سے بولیں۔

“جی بیگم صاحبہ۔۔۔۔”

بانی کی بجاےُ حرائمہ بولی۔

زلیخا بیگم تعجب سے اسے دیکھنے لگیں۔

“آخر سیدھی ہو ہی گئی تم۔ اور ہاں بانی آج مجرا نہیں کرنا اس نے۔ تو اسے کمرے میں لے جا چودھری عنایت حسین کے لئے جو تیار ہے۔۔۔”

وہ بانی کو دیکھتی ہوئیں بولیں۔

حرائمہ کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا۔

پھر مہر کی بات یاد آئی کہ یہاں سے نکلنے کے عوض انہیں خوش کرنا ہو گا۔

خون کے آنسو پیتی حرائمہ خود پر قفل لگانے لگی۔

بانی حرائمہ کی بازو پکڑے چلنے لگی۔

“اللہ پاک پلیز کوئی معجزہ ہو جاےُ میں اس درندے سے بچ جاؤں پلیز۔۔”

حرائمہ دل ہی دل میں دعا گو تھی۔

“یاد رکھنا اگر کوئی الٹی سیدھی حرکت کی تو؟”

بانی انگلی اٹھاےُ تنبیہ کرنے لگی۔

“کچھ نہیں کرتی۔۔۔۔”

حرائمہ چہرہ جھکاےُ اندر کی جانب چلتی ہوئی بولی۔

اپنے سامنے ایک عمر رسیدہ آدمی کو دیکھ کر حرائمہ کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا وہ اس کے باپ کی عمر کا ہو گا۔

“اللہ پاک کیا ایسے لوگوں کو آپ کا خوف نہیں ہوتا؟”

حرائمہ نم ہوتی آنکھوں سے اس آدمی کو دیکھ رہی تھی جو قمیض اتارے بیڈ پر بیٹھا تھا۔

ضبط کے باوجود آنسو نکلنے کو بےتاب ہو رہے تھے۔

حرائمہ نے چہرہ جھکا کر آنکھیں صاف کیں اور قدم بڑھانے لگی۔

****///////****

“شاہ کسی انجان نمبر سے کال آئی تھی؟”

مہر بیٹھی کھانا کھا رہی تھی۔

“میں انجان نمبر سے کم ہی کال اٹینڈ کرتا ہوں۔۔۔۔۔”

شاہ لاپرواہی سے بولا۔

“شاہ میں نے حرائمہ کو نمبر دیا تھا تاکہ وہ فون کرے۔۔۔۔”

مہر کی پتلیاں حیرت سے پھیل گئیں۔

“تو؟”

شاہ بولتا ہوا اس کے مقابل آ بیٹھا۔

“آپ کتنے بے حس ہیں؟”

بےساختہ مہر کے لبوں سے آپ نکلا تو وہ زبان دانتوں تلے دبا گئی۔

البتہ چہرے پر ناگواری تھی۔

“تمہیں لے کر آیا ہوں اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ باقی ساری دنیا کو بھی اٹھا لاؤں۔۔۔۔”

شاہ بیزاری سے بولا۔

“پھر اپنا فون مجھے دو؟”

مہر اس کی بازو کھینچتی ہوئی آرزدگی سے بولی۔

“تمہارے سارے مطالبے مسترد کرتا ہوں میں۔۔۔۔”

شاہ چہرہ موڑ کر اسے دیکھتا ہوا بولا۔

مہر آنکھوں کی پتلیاں سکیڑے اسے گھورنے لگی۔

“دوبارہ اس گھر میں نظر نہ آؤ۔۔۔۔”