Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 33
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 33
Tawaif by Hamna Tanveer
میں چاہتا تھا کہ سب جان جائیں کہ میری مہر ایسی نہیں لیکن فل وقت ایسا ممکن نہیں تھا۔اس لئے میں تمہیں سب سے چھپا کر رکھوں گا اپنے پاس تاکہ شاہ ویز کی سچائی سب کے سامنے عیاں ہو جاےُ۔۔۔”
شاہ اس کی ناک دباتا ہوا بولا۔
“آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔۔”
مہر بےیقینی کی کیفیت میں تھی۔
“مہر میں اس عورت پر شک کر ہی نہیں سکتا جو کوٹھے جیسی جگہ پر بھی کسی کو اپنے پاس نہیں آنے دیتی تھی نکاح کے بعد بھی شوہر کو ہاتھ نہیں لگانے دیتی تھی پھر کیسے میں یقین کر لیتا کہ شاہ ویز سچ بول رہا ہے؟میں جانتا ہوں وہ میرا بھائی ہے اس پر تم سے زیادہ اعتماد ہے لیکن وہ ایک مرد ہے اور تم ایک عورت۔صرف عورت نہیں وفادار عورت۔اور اسکے لئے مجھے کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں شاہ کو تمہاری وفا پر پورا اعتماد ہے۔اسی لئے تو تمہیں لینے آیا ہوں۔شاہ مرتے دم تک تمہیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔۔۔”
بولتے بولتے شاہ کی آنکھوں سے دو موتی ٹوٹ کر رخسار پر آ گرے جو مہر کی نظروں سے اوجھل نہ رہ سکے۔
“شاہ؟”
مہر اشک بہاتی اس کے ہاتھ تھامتی ہوئی بولی۔
“میں نے آپ کو اتنی سنائیں۔آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟”
مہر کی بھرائی ہوئی آواز گونجی۔
“میں چاہتا تھا تم اپنے دل کا غبار نکال لو۔اگر ابھی بھی کوئی تحفظات چائیے تو بتا دو؟ تم شاہ کے لئے بہت اہمیت رکھتی ہو اس بات کو کبھی فراموش مت کرنا۔۔۔”
شاہ اس کی گہری بھوری آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا جہاں اداسی کی جگہ خوشی کے ساےُ دکھائی دے رہے تھے۔
شاہ کے ہاتھ ابھی تک مہر کے ہاتھوں میں تھے۔
“ہم اسی گھر میں جائیں گے؟”
مہر فکرمندی سے بولی۔
“نہیں اس حالت میں تمہیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔تم حرائمہ کے ساتھ رہو گی شہر میں۔کسی کو معلوم بھی نہیں ہو گا۔۔۔”
“اور آپ؟”
مہر کے لبوں سے پھسلا۔
“میں کوشش کروں گا زیادہ وقت تمہارے ساتھ رہوں۔۔۔”
شاہ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
“چلو گاڑی میں بیٹھو تمہیں ڈھنڈ لگ جاےُ گی۔۔۔”
شاہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا چلنے لگا۔
مہر پرسکون سی فلک کو دیکھنے لگی جو ابھی تک برس رہا تھا۔
اس کے اندر کی برسات تمام ہو چکی تھی کیونکہ اس کے ساتھی نے اسے نہیں چھوڑا تھا۔
“کہاں گم ہو؟”
شاہ اس کے سامنے ہاتھ لہراتا ہوا بولا۔
ایک نظر خود پر ڈالی وہ بھیگ نہیں رہی تھی۔
مہر ماضی سے نکل کر حال میں لوٹ آئی۔
“نہیں۔کچھ نہیں۔۔۔”
مہر مسکراتی ہوئی بولی۔
“شاہ آپ کو دکھ ہوتا ہو گا شاہ ویز۔۔۔”
مہر بات ادھوری چھوڑ کر اسے دیکھنے لگی۔
“ہاں دکھ بہت ہوتا ہے چھوٹے سے ایسی توقع نہیں تھی۔جب بھی حویلی جاتا ہوں نہ سب آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے کبھی غصہ آتا ہے تو کبھی تکلیف ہوتی ہے۔۔۔”
شاہ سپاٹ چہرہ لئے بول رہا تھا۔
مہر کا دل اس کی تکلیف پر کٹ رہا تھا۔
“لیکن میں جانتا ہوں وہ ایسا نہیں ہے برہان کی شہ پر اس نے یہ سب کیا اسی لئے اس سے دور رکھتا تھا۔ چھوٹے کو بھی اپنے جیسا بنا دیا اس برہان نے۔۔۔”
شاہ تاسف سے بولا۔
“لیکن شاہ کیا رقابت ہے برہان کی آپ سے؟”
مہر الجھ کر اسے دیکھنے لگی۔
دروازے پر دستک سنائی دی تو شاہ نے لب آپس میں مبسوط کر لیے۔
“بھائی وہ حرم کی فرینڈز آئیں ہیں ماناب کو دیکھنے۔۔۔”
حرائمہ جھجھک کر بولی۔
“میں جا رہا ہوں ان کو کمرے میں لے آؤ۔۔۔”
شاہ مہر کے پاس سے فون اٹھاتا ہوا بولا۔
حرائمہ سر ہلاتی واپس چلی گئی۔
شاہ بیڈ پر جھکا اور ماناب کے چہرہ پر بوسہ دیا۔
مہر کے لب مسکرانے لگے۔
اس کی عادت بن گئی تھی جانے سے پہلے ماناب کا ماتھا چومنا اور بہت پختہ تھی یہ عادت۔
“اپنا اور ہماری جان کا خیال رکھنا۔۔۔”
شاہ مہر کا منہ تھپتھپاتا ہوا بولا۔
حرائمہ واپس آئی تو نظر حرم اور اس کی دوستوں سے ٹکرائی۔
حرائمہ اپنی جگہ پر منجمد ہو گئی۔
وہ پتھرائی نگاہوں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔
“حرم بھائی چلے گئے ہیں۔۔۔”
حرائمہ اس کے کان میں سرگوشی کرتی تیزی سے نکل گئی۔
“اسے کیا ہو گیا؟”
حرم تعجب سے سوچنے لگی۔
“آ جاؤ بھائی چلے گئے ہیں۔۔۔”
حرم باہر نکلتی ہوئی بولی۔
آئمہ مہر کو سامنے دیکھ کر ٹھٹھک گئی۔
“یہ حرم مہر کی نند ہے مطلب شاہ مصطفی کمال کی بہن۔۔۔”
وہ ذہہن میں تانے بانے جوڑنے لگی۔
مہر نے اس کی موجودگی کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا۔
“واؤ بھابھی یہ کتنی کیوٹ ہے نہ؟”
انشرح بیڈ کے دوسرے کونے پر بیٹھی ماناب کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“میں نے تمہیں بتایا تھا نہ میرے بھائی اور بھابھی اتنے پیارے ہیں اور ہماری گڑیا تو ان سے بھی زیادہ پیاری ہے۔۔۔” حرم صوفے پر بیٹھتی تفاخر سے بولی۔
ذوناش منہ بناےُ صوفے کے ایک کونے میں ٹکی تھی۔
مہر آئمہ کے تاثرات کی وجہ سمجھ سکتی تھی۔
آئمہ کو اب حسد ہونے لگا تھا۔
“ایک طوائف ہو کر اسے اتنا کچھ مل گیا؟”
مہر کو دیکھتی وہ ششدر سی بولی۔
گلے میں سونے کا لاکٹ ہاتھ میں انگوٹھیاں اور کان میں پہنے سونے کے بوندے۔
آئمہ بغور اس کا جائزہ لے رہی تھی۔
“حرم کچھ کھلایا پلایا بھی ہے یا نہیں؟”
مہر اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“جی بھابھی کھلایا ہے بھائی بیٹھے تھے تو میں نے سوچا کچھ دیر انتظار کر لیں۔۔۔”
حرم مسکراتی ہوئی بولی۔
“باہر چلتے ہیں کیونکہ اگر ماناب رونے لگ گئی تو پورا محلہ رونے لگ جاےُ گا۔۔۔”
حرم شرارت سے بولی۔
مہر اس کے تبصرے پر مسکرانے لگی۔
جاتے ہوۓ بھی آئمہ ایک نظر مہر پر ڈالنا نہیں بھولی جو ماناب کا کمبل درست کر رہی تھی۔
“حرم پر ہاتھ ڈالنا تو خطرے سے خالی نہیں۔۔۔”
آئمہ اپنی سوچوں میں غلطاں تھی۔
سب کے جاتے ہی حرم حرائمہ کے پاس آ گئی۔
“تمہیں کیا ہوا تھا؟”
حرم آبرو اچکا کر بولی۔
“کچھ نہیں مجھے لیکچر تیار کرنا تھا بہت اہم ہے۔۔۔”
حرائمہ اس سے نظریں ملاےُ بغیر بولی۔
“چلی گئیں وہ؟”
حرائمہ کن اکھیوں سے حرم کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“ہاں چلی گئیں میں بھی پڑھائی کر ہی لوں ورنہ بعد میں دل نہیں کرے گا۔۔۔”
حرم بیگ اٹھاتی ہوئی بولی۔
حرائمہ بنا کچھ کہے کمرے سے نکل گئی۔
مہر کے کمرے میں آئی اور دروازہ بند کر لیا۔
“کیا ہوا حرائمہ؟”
مہر اس کی بوکھلاہٹ پر پریشان ہو گئی۔
“آپی وہ حرم کی دوست کوٹھے۔۔۔”
“ہاں میں جانتی ہوں۔۔۔۔”
مہر اس کی بات مکمل ہونے سے قبل بولی۔
“آپی اس نے مجھے دیکھ لیا اگر وہ مجھے لے گئے واپس پھر؟”
حرائمہ پر خوف طاری تھا۔
“تم کیوں فکر کرتی رہی ہو؟ شاہ ایسا کچھ نہیں ہونے دیں گے۔۔۔”
مہر پرسکون انداز میں بولی۔
“آپ اتنی ریلیکس کیسے ہیں؟”
حرائمہ حیران ہوۓ بنا نہ رہ سکی۔
“کیونکہ مجھے اپنے اللہ پر اور اس کے بعد اپنے شوہر پر پورا بھروسہ ہے۔۔۔”
مہر مسکراتی ہوئی بولی۔
حرائمہ خاموش ہو گئی۔
“تم بھی فکر مت کرو کچھ نہیں ہو گا جس ذات نے ہمیں اس ذلت سے نکالا ہے وہی ہمیں محفوظ رکھے گی۔۔۔”
مہر طمانیت سے بولی۔
حرائمہ اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“نماز کا ٹائم ہو رہا ہے میں آتی ہوں آپ کے پاس پھر۔۔۔”
حرائمہ مسکراتی ہوئی چلی گئی۔
“میری گڑیا اٹھ گئی ہے؟”
مہر اسے اٹھاتی ہوئی بولی۔
ماناب پیشانی پر بل ڈالے مہر کو گھور رہی تھی۔
“میلے بےبی کو غصہ آیا ہوا ہے؟”
مہر اس کے چہرے پر بوسہ دیتی ہوئی بولی۔
“جے تو ماما کا پارا سا بےبی ہے۔۔۔”
مہر اس کے سر سے ٹوپی اتارتی ہوئی بولی۔
آج پہلی بار ہوا تھا کہ نیند سے جاگنے پر روئی نہیں تھی۔
“ماما اب اپنی گڑیا کو تیار کریں گیں پھر بابا کے ساتھ کھیلنا ہے نہ میری گڑیا نے۔۔۔”
مہر بولتی ہوئی اس کا چہرہ صاف کر رہی تھی۔
حرم بلی کے جلے پیر کی مانند یہاں سے وہاں چل رہی تھی۔
شاہ کی نظریں اسے باور کرا چکی تھیں کہ وہ کڑا حساب لینے والا ہے۔
“بھائی کیا کریں گے میرے ساتھ؟”
حرم لب کاٹتی سوچ رہی تھی۔
ازلان کی کال وہ بار بار کاٹ رہی تھی۔
اکتا کر حرم نے فون آف کر دیا۔
“حرم کہاں ہے؟”
شاہ کی آواز سن کر حرم کا وجود کپکپانے لگا۔
پیشانی پر پسینے کی بوندیں نمودار ہونے لگیں۔
حواس جواب دیتے جا رہے تھے۔
دروازہ کھلا اور حرائمہ اندر آئی۔
“بھائی تمہیں بلا رہے ہیں۔۔۔”
وہ حرم کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“مہ مجھے اچھا۔۔۔”
گھبراہٹ کے باعث حرم کیا بول رہی تھی وہ خود بھی ناآشنا تھی۔
تیسرا کلمہ پڑھتی وہ باہر نکل آئی۔
شاہ کا چہرہ اس کے غیظ کی عکاسی کر رہا تھا۔
حرم کا رکا سہا اعتماد بھی ہوا ہو گیا۔
“ازلان کے ساتھ کیا کر رہی تھی تم؟”
شاہ کسی بھوکے شیر کی مانند اس کی جانب بڑھتا ہوا دھاڑا۔
حرم ڈر کر دو قدم پیچھے ہو گئی۔
“کچھ پوچھ رہا ہوں میں سنائی نہیں دے رہا تمہیں؟”
شاہ کی آوازیں دیواریں عبور کر رہیں تھیں۔
“یہ تو شاہ کی آواز ہے۔۔۔”
مہر پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی بولی۔
ماناب پر کمبل اوڑھ دیا اور احتیاط سے اٹھ گئی۔
“وہ وہ بھائی میں تو کام کی بات۔۔۔”
“کون سا کام تمہیں آن پڑا تھا وہ بھی اس ازلان سے؟”
شاہ اس کی بات مکمل ہونے سے قبل ایک ہی جست میں اس کے مقابل آیا۔
حرم کی بازو شاہ کے ہاتھ میں تھی اور گرفت ایسی فولادی تھی کہ صنف نازک برداشت نہ کر پاےُ۔
حرم تڑپ کر اسے دیکھنے لگی۔
“شاہ کیا کر رہے ہیں آپ؟”
انہیں دیکھ کر مہر کی پتلیاں پھیل گئیں۔
“مہر بیچ میں مت بولو یہ ایک بھائی اور بہن کا معاملہ ہے۔۔۔”
شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔
“بتاؤ مجھے کیا کام تھا اس سے؟”
شاہ حلق کے بل چلایا۔
حرم آنسو بہاتی التجائیہ نظروں سے مہر کو دیکھ رہی تھی۔
“میں بتا دیتی ہوں چھوڑیں حرم کو۔۔۔”
مہر اسے حرم سے دور کرتی ان کے بیچ آ گئی۔
شاہ ضبط کا دامن تھامے مہر کو گھور رہا تھا۔
“تم کیا بتاؤ گی؟ یہ جو کارنامے کرتی پھر رہی ہے تم واقف ہو کیا؟”
شاہ مہر کو ہاتھ لگانے سے اجتناب کر رہا تھا۔
“آپ اگر تحمل سے میری بات سنیں گے تو میں ضرور بتاؤں گی اور آپ کو سمجھ بھی آےُ گی۔۔۔”
مہر سینے پر ہاتھ باندھتی ہوئی بولی۔
شاہ چہرہ موڑے دو انگلیوں سے پیشانی مسلنے لگا۔
“مہر کیوں میرا ضبط آزما رہی ہو؟”
شاہ بیزار سا بولا۔
“حرم تم کمرے میں جاؤ۔۔۔”
مہر شاہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔
حرم مہر کے عقب میں چھپی ہوئی تھی۔
“تم نے ایک قدم بھی اٹھایا تو ٹانگیں توڑ دوں گا۔۔۔”
شاہ خونخوار نظروں سے گھورتا ہوا بولا۔
حرم کے قدم وہیں منجمد ہو گئے۔
مہر چہرے پر خفگی طاری کئے اسے دیکھ رہی تھی۔
“ٹھیک ہے حرم نہیں جا سکتی لیکن آپ تو جا سکتے ہیں نہ اور خبردار اگر آپ نے میری بیٹی کی نیند خراب کی تو۔۔۔۔”
مہر اس کا ہاتھ پکڑے چلتی ہوئی بولی۔
شاہ ہکا بکا سا مہر کو دیکھ رہا تھا جو اس پر رعب جماتی اسے لے جا رہی تھی۔
مہر کے پیار پر حرم کو رشک آ رہا تھا جو اس کے جلاد قسم کے بھائی کو سنبھالتی تھی۔
حرم دبے قدم کمرے میں آ گئی۔
مہر نے دروازہ لاک کیا اور شاہ کا ہاتھ چھوڑ کر دروازے کے ساتھ پشت لگا کر کھڑی ہو گئی۔
شاہ پتلیاں سکیڑے اسے گھور رہا تھا۔
“تم کچھ زیادہ پھیل رہی ہو۔۔۔”
شاہ دروازے پر ہاتھ مارتا زور سے بولا۔
مہر نے چہرہ بائیں جانب کر کے شاہ کے عقب میں ماناب کو دیکھا جو سو رہی تھی۔
“میں نے کہا میری بیٹی کی نیند میں خلل پیدا نہ ہو۔اور رہی بات پھیلنے کی تو میرے پاس لائسنس ہے پھیلنے کا۔۔۔”
مہر پہلے خفگی سے پھر مسکراتی ہوئی بولی۔
“تمہیں بھی کھینچ کر رکھنا پڑے گا۔۔۔”
شاہ دروازے پر ہاتھ رکھتا مہر کے قریب ہو کر بولا۔
“جی نہیں میں ایسے ہی اچھی لگتی ہوں اور اب آپ ایک اچھے شوہر ہونے کا مظاہرہ کریں۔۔۔”
مہر نروٹھے پن سے بولی۔
شاہ کو اس کی اداؤں پر ہنسی بھی آ رہی تھی لیکن سنجیدہ رہنا چاہتا تھا۔
“تم بہت بگڑ گئی ہو۔۔۔”
شاہ اس کی ناک دباتا ہوا بولا۔
“بگڑتے تو بچے ہیں اور یہ ہماری گڑیا آپ کو بگڑ کر دکھاےُ گی۔۔۔”
مہر محظوظ ہوتی ہوئی بولی۔
“اچھا مطلب اب تم مجھے تنگ کرنے کے موڈ میں ہو؟”
شاہ اس کے تیور بھانپ کر بولا۔
“نہیں۔بلکل بھی نہیں لیکن اگر آپ نے میری بات نہ مانی تو پھر اس مہر کو یاد کر لینا جو آپ کے ہاتھ نہیں آتی تھی۔۔۔”
مہر کہتی ہوئی اس کی بازو کے نیچے سے نکل گئی۔
“مطلب؟”
شاہ چہرہ موڑ کر اسے دیکھنے لگا۔
“مطلب مہر اور ماناب دونوں شاہ سے ناراض۔۔۔”
مہر بیڈ پر بیٹھتی ہوئی بولی۔
“مہر تم جانتی ہو میں کتنے غصے میں ہوں؟”
شاہ اس کے سامنے بیٹھتا ہوا بولا۔
“نہیں۔۔۔”
مہر سنجیدگی سے بولی۔
شاہ لب دباےُ دھیرے سے مسکرانے لگا۔
“اچھا بولو میں سن رہا ہوں۔۔۔”
شاہ ہتھیار پھینکتا ہوا بولا۔
مہر آبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگی۔
“سچ کہہ رہا ہوں بولو اب؟”
شاہ اس کے دائیں ہاتھ کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنساتا ہوا بولا۔
“شاہ حرم اور ازلان کا نکاح ہو چکا ہے۔۔۔”
مہر نے گویا دھماکہ کیا۔
“کیا بکواس ہے یہ؟”
شاہ تقریباً چلایا۔
مہر پیشانی پر بل ڈالے اسے دیکھ کر ماناب کو دیکھنے لگی جو ناک منہ چڑھا رہی تھی۔
شاہ اس کا اشارہ سمجھ کر خاموش ہو گیا۔
“اب آپ خود دیکھ لیں کن حالات میں ان دونوں نے نکاح کیا۔۔۔”
مہر اسے تفصیل سے آگاہ کرتی ہوئی بولی۔
“نکاح ہوا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ایسے ہی طلاق بھی ہو جاےُ گی۔۔۔”
مہر شاہ کے اطمینان پر دنگ رہ گئی۔
“شاہ وہ محبت کرتے ہیں ایک دوسرے سے اور حرم نے آپ کی اور اپنی عزت خراب نہیں کی۔۔۔”
مہر زور دے کر بولی۔
“میں اچھے سے جانتا ہوں یہ جو محبت ہوتی ہے یونی لائف میں پاگل بنا رہا ہے حرم کو تم جانتی نہیں برہان کا بھائی ہے؟”
شاہ متحیر سا بولا۔
“شاہ ضروری نہیں کہ برہان برا ہے تو ازلان بھی برا ہو گا۔ شاہ ویز بھی تو آپ کا بھائی ہے تو کیا میں اس کی بناء پر آپ کی شخصیت کو جج کر رہی ہوں؟”
مہر سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے اور کچھ نہیں۔شاہ ویز کو برہان نے خراب کیا ہے۔۔۔”
شاہ برہمی لیکن دھیمی آواز میں بولا۔
“مسئلہ شاہ ویز نہیں ہے مسئلہ ازلان ہے اور سب سے بڑی بات اللہ کو یہ بات سب سے زیادہ ناپسند ہے جب میاں بیوی کے بیچ طلاق ہوتی ہے۔۔۔”
“مجھے تاویلیں مت دوں میں اپنے اور اپنے گھر کے فیصلے خود لیتا ہوں۔ہمارے گھروں میں عورتوں سے مشورہ نہیں لیے جاتے۔۔۔”
شاہ کی بات پر مہر پر مہر کا دل ٹوٹ گیا۔
“بیوی صرف بچے پیدا کرنے کے لیے یا گھر سنبھالنے کے لیے نہیں ہوتی خدا نے اسے مرد کا ساتھی بنایا ہے۔گھر کے مسائل اور مشاورت میں راےُ کا حق اسے حاصل ہے لیکن افسوس آپ جیسے مردوں کی سوچ پر جو بیوی کو پاؤں کی جوتی کے سوا کچھ نہیں سمجھتے۔۔۔”
مہر نا چاہتے ہوۓ بھی تلخ ہو گئی۔
