Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 30
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 30
Tawaif by Hamna Tanveer
“آپ یہاں کیا کر رہیں ہیں؟”
شاہ ویز ماریہ کو اپنے کمرے میں دیکھتا ہوا بولا۔
“امی مجھ سے تمہارے رشتے کی بات کر رہیں تھیں تو میں نے سوچا تمہیں آگاہ کر دوں اور یاد دہانی بھی کرا دوں۔۔۔”
ماریہ سپاٹ انداز میں بولی۔
“کیسی یاد دہانی؟”
شاہ ویز بیزاری سے بولا۔
“تم بھول رہے ہو اس دن امی کو میں گھر جلدی لے کر آئی تھی اپنی طبیعت کا بہانہ بنا کر تاکہ مہر جال میں پھنس جاےُ۔۔۔”
ماریہ آبرو اچکا کر بولی۔
“تو؟”
شاہ ویز نا چاہتے ہوۓ بولا۔
“تو یہ کہ تم سعدیہ سے شادی کرو گے یاد ہے یا پھر یاد کرواؤں؟”
ماریہ دانت پیستی ہوئی بولی۔
“ٹھیک ہے میں امی سے بات کر لوں گا۔۔۔”
شاہ ویز نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا۔
“بات نہیں کرنی قائل کرنا ہے انہیں۔۔۔”
ماریہ زور دے کر بولی۔
“اچھا یار کہہ تو دیا ہے پیچھے کیوں پڑ گئیں ہیں ابھی آفس سے آیا ہوں۔۔۔”
شاہ ویز اکتا کر بولا۔
ماریہ اثبات میں سر ہلاتی چلی گئی۔
“ہوں اس سعدیہ سے کروں گا میں شادی۔۔۔”
شاہ ویز ہنکار بھرتا کوٹ کے بٹن کھولنے لگا۔
شاہ حویلی میں آیا تو اندر چہل پہل سنائی دے رہی تھی۔
چہرے پر صدا کی اکتاہٹ سجاےُ شاہ نے ایک نظر سب پر ڈالی۔
“بھائی آپ بھی آئیں نہ۔۔۔”
شہریار نے ہانک لگائی۔
“میں تھکا ہوا ہوں آرام کرنا چاہتا ہوں۔۔۔”
شاہ سہولت سے انکار کرتا چلنے لگا۔
شہریار لب بھینچے شاہ کو دیکھنے لگا۔
شاہ سانس خارج کرتا دروازہ لاک کرنے لگا۔
مہر کی خوشبو اسے آج بھی اس کمرے میں محسوس ہوتی تھی۔
اس کمرے میں گزارے حسین پل شاہ کو یاد آنے لگتے۔
شاہ نے سر جھٹکا اور ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرنے لگا۔
کپڑے نکالنے کی غرض سے کب بورڈ کھولی تو نظر سامان پر پڑی۔
شاہ نے اپنے بچوں کا سارا سامان بیڈ پر بکھیر دیا۔
شاہ ایک ایک چیز کو ہاتھ میں پکڑ کر دیکھنے لگا۔
کتنے ارمان کتنی خواہشیں تھیں اس کی لیکن سب کچھ بدل گیا تھا۔
اشک ٹوٹ کر نیچے گر رہے تھے۔
ان اشکوں سنگ اس کے ارمان بھی بہہ رہے تھے۔
شاہ نے آنسوؤں سے تر چہرہ اوپر اٹھایا۔
“زندگی سے زیادہ تو لوگ بے اعتبار ہوتے ہیں کون کب دھوکہ دے جاےُ کوئی نہیں بتا سکتا۔۔۔”
شاہ آنکھیں بند کرتا کرب سے بولا۔
“نجانے کیوں زندگی بار بار ایک ہی جگہ پر چوٹ دیتی ہے شاید مجھے عادی بنانا چاہتی ہے شاہ مصطفی کمال کو درد سہنے کا ہنر سکھا رہی ہے۔۔۔۔”
شاہ نے آنکھیں کھول دیں۔
کمرہ ہمیشہ کی مانند ویران تھا۔
آج بھی وہ تنہا ہی تھا۔
شاید اس کے مقدر میں تنہائی ہی لکھی تھی۔
کھڑکی کے پٹ وا تھے۔
تیز ہوا کے جھونکے کمرے میں داخل ہو رہے تھے۔
میز پر پڑی کتاب کے صفحے الٹتے جا رہے تھے۔
اس کے ہمراہ پڑی موم بتی بجھ چکی تھی۔
اجالے ختم ہو گئے تھے۔
کچھ بچا تھا تو صرف تاریکی سیاہ گہری تاریکی۔
شاہ نے سارا سامان اٹھایا اور واپس الماری میں رکھ دیا۔
کپڑے نکال کر واش روم کا رخ کیا۔
****////////****
“عافیہ کہاں ہے؟”
برہان کمرے سے باہر نکلتا ہوا بولا۔
“اپنی امی کی طرف گئی ہے مجھے بھی نہیں بتایا وہ تو ڈرائیور بتا رہا تھا۔۔۔”
وہ خفگی سے بولیں۔
“عجیب انسان ہے بنا بتاےُ ہی چلی گئی؟اس کی امی کو فون کر کے سنانی تھی آپ نے۔۔۔”
برہان تیوری چڑھا کر بولا۔
“اب میں ان سے جھگڑتی اچھی لگتی ہوں بھلا؟”
وہ متحیر سی بولیں۔
“چھوڑیں آپ میں پوچھ لیتا ہوں۔۔۔”
برہان سر جھٹکتا ہوا واپس کمرے میں آ گیا۔
“السلام علیکم آنٹی! “
برہان فون کان سے لگاےُ کھڑا تھا۔
“وعلیکم السلام!”
اسپیکر میں آواز ابھری۔
“آنٹی زرا عافیہ سے پوچھیں یہ کون سا طریقہ سے وہاں جانے کا؟ نہ کسی کو بتایا نہ کسی سے پوچھا۔۔۔”
برہان برہمی سے بولا۔
“یہی طریقہ ہوتا ہے بیٹا اور عافیہ اب واپس نہیں آےُ گی بہتر ہو گا آپ طلاق کے پیپر بھیج دینا۔۔۔”
کہہ کر انہوں نے کھٹاک سے فون بند کر دیا۔
برہان کو اپنی سماعتوں پر شبہ ہو رہا تھا۔
وہ ہکا بکا سا فون کو دیکھنے لگا جو بند ہو چکا تھا۔
“یہ اچانک ان کو طلاق کیسے یاد آ گئی؟”
برہان داڑھی کھجاتا ہوا سوچنے لگا۔
“خیر اچھی بات ہے جان چھوٹے گی میری اس جاہل سے۔۔۔”
برہان حقارت سے بولا۔
****/////////****
مہر نے خود کو ایک وسیع و عریض میدان میں پایا۔
آس پاس جوان مرد اور عورتیں دکھائی دے رہی تھیں۔
چند لمحوں بعد مہر کا نام پکارا جانے لگا۔
سامنے ترازو پڑا تھا جس کے ایک پلڑے میں نیکیاں اور دوسرے پلڑے میں برائیاں رکھی جا رہی تھیں۔
مہر تشویش سے ترازو کو دیکھنے لگی۔
کیا اس کی برائیوں کا پلڑا بھاری ہو گا یا نیکیوں کا۔
“گناہ تو بہت کئے ہیں میں نے جھوٹ کتنی بار بولا کوئی حساب ہی نہیں ہے۔۔۔”
مہر نم آنکھوں سے ترازو کو دیکھنے لگی جہاں برائیوں کا پلڑا بھاری ہو رہا تھا اور مہر کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
“اگر تین نیکیاں مل جائیں تو نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو سکتا ہے۔۔۔”
مہر یہ سنتے ہی چہرہ موڑ کر لوگوں کی بھیڑ کو دیکھنے لگی۔
میدان حشر میں تین نیکیاں کون دے سکتا تھا اسے؟
مہر اپنی والدہ کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی۔
بلآخر اسے وہ دکھائی دے گئیں۔
“امی مجھے تین نیکیاں چائیے آپ مجھے دیں گیں نہ؟”
مہر آنسو بہاتی بول رہی تھی۔
“میں کیسے دے دوں تمہیں میری اپنی نیکیاں کم ہیں جاؤ بھئ میں تو نہیں دے رہی۔۔۔”
وہ مہر کو پرے کرتی ہوئی بولیں۔
مہر ششدر سی انہیں دیکھنے لگی۔
کیا یہ اس کی ماں تھی؟
روز محشر کوئی کسی کا نہ ہو گا مہر کو عملی نمونہ بھی مل گیا۔
سب کو اپنی اپنی فکر لاحق تھی۔
کسی کو ایک نیکی چائیے تو کسی کو دس۔لینے پر سب راضی تھے لیکن دینے پر کوئی بھی نہیں۔
مہر نے ان انجان لوگوں سے بھی پوچھا لیکن مایوسی کا سامنا ہوا۔
“کاش مجھے واپس دنیا میں بھیج دیا جاےُ میں اچھے کام کر لوں تاکہ مجھے نجات مل سکے۔۔۔”
مہر حسرت سے بولی۔
لیکن وہ وقت نکل چکا اب اور گیا وقت واپس نہیں آتا۔
جب وقت تھا تب سنبھلے نہیں اور اب واپس جانا چاہتے۔
مہر چلتی جا رہی تھی جب اس کی نظر کچھ لوگوں پر پڑی جن کے منہ چیرے جا رہے تھے۔
خوف کے مارے مہر کانپنے لگی۔
یہ وہ لوگ تھے جو جھوٹ بولتے تھے۔
ان کی چیخ و پکار اتنی ہیبت ناک تھی کہ مہر نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا۔
آنسوؤں میں روانی آ گئی۔ دل کانپنے لگا۔
جب اس کا وقت آےُ گا تب کیا کرے گی وہ۔
“کاش مجھے واپس بھیج دیا جاےُ میں اپنی ساری غلطیاں سدھار لوں گی سارے گناہوں کا ازالہ کر لوں گی۔۔۔”
مہر زمین پر بیٹھی سسک رہی تھی۔
“پلیز مجھے واپس بھیج دیں پلیز۔۔۔”
مہر کا جسم پسینے میں شرابور تھا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔
کمرہ تاریکی میں ڈوبا تھا۔
مہر آنکھیں بند کئے بول رہی تھی۔
وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔
مہر لمبے لمبے سانس لے رہی تھی۔
دل کی دھڑکن معمول سے تیز ہو گئیں تھی۔
خوف اس پر سرایت کر گیا تھا۔
وہ دائیں بائیں دیکھ رہی تھی۔
مہر اپنے بازو چھو کر دیکھنے لگی۔
“می میں زندہ ہوں۔۔۔”
مہر اشک بہاتی اٹک اٹک کر بولی۔
“وہ خوا خواب تھا؟”
مہر چہرہ پر ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی۔
“مجھے شاید واپس بھیج دیا گیا ہے اپنے گناہوں کا ازالہ کرنے کے لیے۔۔۔”
مہر ابھی تک اس خواب کے زیر اثر تھی۔
مہر نے لحاف پرے کیا اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی سوئچ بورڈ کے پاس آ گئی۔
بورڈ پر ہاتھ مارا تو کمرہ روشنی میں نہا گیا۔
مہر تر چہرے اور نم آنکھوں سے کمرے کو گھورتی ہوئی واپس بیڈ کی جانب چلنے لگی۔
بالوں کو سمیٹتی ہوئی بیڈ پر بیٹھ گئی اور گلاس میں پانی انڈیلنے لگی۔
ایک ہی گھونٹ میں سارا گلاس ختم کر لیا۔
مہر اجنبی نظروں سے کمرے کو دیکھ رہی تھی۔
دل میں خوف کنڈلی مار کر بیٹھ گیا تھا۔
مہر نے دونوں ہاتھوں سے چہرہ صاف کیا تو اگلے ہی لمحے اشکوں سے پھر تر ہو گیا۔
ہاتھ برف ہو رہے تھے۔
مہر نے اپنی انگلیاں دیکھیں جو نیلی پڑ رہی تھیں۔
خوف کے باعث رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔
آنکھیں بار بار منظر کو دھندلا رہی تھیں۔
مہر نے دوپٹہ اٹھایا اور واش روم کا رخ کیا۔
وضو کر کے باہر نکلی اور مصلے پر کھڑی ہو گئی۔
****/////////****
حرم پاؤں اوپر کیے صوفے پر بیٹھی تھی چہرہ گھٹنوں پر گرا رکھا تھا۔
“کیا ہوا حرم؟”
حرائمہ جو ابھی باہر سے آئی تھی اسے اسطرح بیٹھے دیکھ کر بولی۔
حرم کے لئے بولنا محال ہو گیا تھا۔
“حرائمہ بیگ رکھ کر اس کے ساتھ آ بیٹھی۔
“امی کا فون آیا تھا ابھی بتا رہی تھیں کہ میرا رشتہ طے کر دیا ہے۔۔۔”
حرم افسردگی سے بولی۔
“یہ تو اچھی بات ہے۔۔۔”
حرائمہ خوشدلی سے بولی۔
“ہاں اچھی بات ہے لیکن مجھ سے پوچھنا تو دور بات پکی کرنے سے پہلے بتایا بھی نہیں گیا۔۔۔”
حرم مایوسی سے بولی۔
“تم خوش نہیں؟”
حرائمہ تشویش سے بولی۔
“ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔”
حرم جبراً مسکرائی۔
حرائمہ مسکراتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔
****////////****
“چھوٹے پھر کیا سوچا تم نے؟”
ضوفشاں بیگم اس کے ساتھ بیٹھتی ہوئی بولیں۔
“آپ دیکھ لیں جو آپ کو پسند ہو۔۔۔”
شاہ ویز لاپرواہی سے بولا۔
ماریہ نے بےچینی سے پہلو بدلا۔
“میں تو سوچ رہی تھی حنا کے ساتھ کر دوں۔۔۔”
وہ سوچتی ہوئی بولیں۔
“آپ دیکھ لیں ابھی مجھے دیر ہو رہی ہے میں نکلتا ہوں آفس کے لیے۔۔۔”
شاہ ویز کہتا ہوا کھڑا ہو گیا۔
ماریہ خونخوار نظروں سے شاہ ویز کو دیکھ رہی تھی۔
شاہ ویز اسے نظر انداز کرتا نکل گیا۔
“تم اگر اپنی بات سے پلٹے تو دیکھنا میں مصطفی بھائی کو سب بتا دوں گی۔۔۔”
ماریہ کلس کر سوچنے لگی۔
****/////////****
“عدیل تم نے دیکھا جلسے کے دوران کیمرہ مین پر پتھراؤ کیا گیا؟”
شاہ لیپ ٹاپ پر نظریں جماےُ بول رہا تھا۔
“نہیں مجھے علم نہیں ہوا رات سے میرا فون بند تھا۔۔۔”
عدیل لاعلمی ظاہر کرتا ہوا بولا۔
“یہ دیکھو شکر ہے زیادہ زخمی نہیں ہوا۔۔۔”
شاہ لیپ ٹاپ کی اسکرین اس کی جانب موڑتا ہوا بولا۔
“اوہ تو اب کہاں ہے فیصل؟”
عدیل تشویش سے بولا۔
“پٹی کروا کے آفس چلا گیا تھا اس کی جگہ مدثر کو بھیج دیا تھا۔۔۔”
شاہ لیپ ٹاپ اپنی جانب موڑتا ہوا بولا۔
“مہر کا معلوم نہیں ہوا؟”
عدیل موضوع بدلتا ہوا بولا۔
“نہیں۔کوشش کر رہا ہوں لیکن ابھی تک کوئی فائدہ نہیں ہوا۔۔۔”
شاہ انگلیاں چلاتا ہوا بولا۔
“کوٹھے پر معلوم کرنا تھا وہاں تو نہیں؟”
عدیل تجسس سے بولا۔
“گیا تھا وہاں وہاں بھی لیکن زلیخا نے صاف انکار کر دیا اور میں جانتا ہوں وہ مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتی۔۔۔”
شاہ اسکرین کو گھورتا ہوا بولا۔
“پھر کہاں جا سکتی ہے؟”
عدیل سوچتا ہوا بولا۔
“کیا پتہ کہاں گئی ٹھکانہ تو اس کے پاس کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔”
شاہ تاسف سے بولا۔
عدیل اثبات میں سر ہلانے لگا۔
مزید کریدنا اس نے مناسب نہیں سمجھا۔
****/////////****
“شہری برہان نے مجھے طلاق دے دی ہے۔عدت پوری ہوتے ہی تم مجھ سے نکاح کر لینا۔۔۔”
عافیہ فون کان سے لگاےُ بول رہی تھی۔
“ٹھیک ہے تم فکر مت کرو میں امی سے بات کروں گا۔۔۔”
شہریار مسکرا کر بولا۔
“ٹھیک ہے۔۔۔”
عافیہ آہستہ سے بولی۔
“تم فکر مت کرنا میں اپنے قول پر قائم رہوں گا تمہیں کہا تھا اپنی زندگی میں شامل کروں گا تو اس پر عمل بھی کر کے دکھاؤں گا۔۔۔۔”
شہریار پراعتماد انداز میں بولا۔
عافیہ پرسکون ہو گئی۔
“خدا حافظ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔
****/////////****
“شاہ ویز تم بھول رہے ہو کہ میں نے تمہارا ساتھ اسی شرط پر دیا تھا تاکہ تم میری بہن سے شادی کرو گے۔۔۔”
ماریہ پھٹ پڑی۔
“میرے جو دل میں آےُ گا میں کروں گا۔۔۔”
شاہ ویز اس کی برہمی کا اثر لئے بنا بولا۔
“تم کیسے اپنی زبان سے پھر سکتے ہو؟”
ماریہ ششدر سی بولی۔
“مجھے کوئی انٹرسٹ نہیں ہے آپ کی بہن میں۔۔۔”
شاہ ویز بیزاری سے بولا۔
“شاہ ویز بھولو مت میں نے تمہاری مدد کی ہے تمہارے کہنے پر سیڑھیوں میں تیل گرایا, اس دن امی کو لے کر آئی تاکہ تم مہر کو سب کے سامنے غلط ظاہر کر سکو۔میں یہ سب مصطفیٰ بھائی کو بتا دوں گی۔۔۔”
ماریہ تقریباً چلا رہی تھی۔
“جائیں بتا دیں مجھ سے پہلے بھائی آپ کو اس گھر سے باہر نکالیں گے کہ آپ نے مہر کے خلاف سازشیں کیں۔۔۔”
شاہ ویز پرسکون انداز میں بولا۔
ماریہ تلملا اٹھی۔
شہریار کے لئے اپنے پاؤں پر کھڑے رہنا مشکل ہو گیا۔
اس نے دیوار کا سہارا لیا۔
شہریار کو اپنی سماعتوں پر شبہ ہو رہا تھا۔
“ماریہ اور شاہ ویز؟”
شہریار نے زیر لب دہرایا۔
شہریار نفی میں سر ہلاتا زینے اترنے لگا۔
“امی؟ بابا سائیں؟”
شہریار چلانے لگا تھا۔
ماریہ اور شاہ ویز بھی گھبرا کر باہر نکل آےُ۔
اتفاق سے آج شاہ بھی گھر پر تھا۔
“کیا ہو گیا کیوں چلا رہے ہو؟”
ضوفشاں بیگم ہانپتی ہوئی باہر نکل آئیں۔
شاہ ریلنگ پر ہاتھ رکھے ناگواری سے نیچے دیکھ رہا تھا۔
ماریہ بھی نیچے آ چکی تھی۔
“نکلو میرے گھر سے تم۔۔۔”
شہریار ماریہ کی بازو پکڑ کر چلتا ہوا بولا۔
“شہریار کیا ہو گیا ہے کیوں مجھے نکال رہے ہیں؟”
ماریہ حواس باختہ سی بولی۔
“شہریار کیوں کر رہا ہے ایسے وجہ تو بتا؟”
ضوفشاں بیگم اس کی راہ میں حائل ہو گئیں۔
“شہریار یہ کیا طریقہ ہے؟”
کمال صاحب خفگی سے بولتے ہوۓ آےُ۔
شہریار چہرہ موڑ کر انہیں دیکھنے لگا۔
آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی۔
“بابا سائیں آپ سنیں گے نہ آپ کو یقین نہیں آےُ گا۔۔۔”
شہریار انہیں دیکھتا ہوا بولا۔
شاہ آبرو اچکا کر اس تماشے کو دیکھ رہا تھا۔
“کیا مطلب ہے تمہارا؟”
وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔
“بابا سائیں مہر کو گھر سے نکالنے کے لیے شاہ ویز اور ماریہ نے پلان بنایا تھا وہ بے گناہ تھی اس پر ان دونوں نے الزام لگایا۔۔۔”
شہریار مایوسی سے بولا۔
کمال صاحب شعلہ بار نظروں سے دونوں کو دیکھنے لگے۔
شاہ ویز کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔
“یہ کیا سن رہے ہیں ہم؟”
وہ گرج دار آواز میں بولے۔
شاہ کے چہرے کے تاثرات بدلے۔
اکتاہٹ کی جگہ تحیر نے لے لی۔
“کہہ دو کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔۔۔”
شہریار دونوں کو دیکھ کر دھاڑا۔
ضوفشاں بیگم سکتے میں آ گئیں۔
ماریہ مجرموں کی مانند سر جھکاےُ کھڑی تھی شہریار کو جھوٹا وہ نہیں کہہ سکتی تھی کیونکہ اسے اپنا رشتہ بچانا تھا۔
“وہ بابا سائیں۔۔۔”
شاہ ویز ہاتھ مسلتا الفاظ جوڑنے لگا۔
کمال صاحب کے تھپڑ کے باعث خاموشی گونجنے لگی۔
سب کو سانپ سونگھ گیا۔
شاہ تاسف سے انہیں دیکھ رہا تھا۔
