Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 46
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 46
Tawaif by Hamna Tanveer
“برہان تم ایک اچھے انسان ہو۔اپنے اندر کی برائی کو اچھائی پر غالب مت آنے دو تم آج بھی خود کو پہلے والے برہان بنا سکتے ہو۔ہم پھر سے دوست بن سکتے ہیں اگرچہ بہت کٹھن ہے لیکن۔۔۔”
شاہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھے بول رہا تھا۔
“شاہ تم کیا ہو؟”
برہان ششدر سا بولا۔
شاہ کے الفاظ اس کے دل پر کاری ضرب لگا کر اس اثر انداز ہو رہے تھے۔
“میں خود بھی نہیں جانتا برہان۔۔۔”
وہ شانے اچکاتا ہوا بولا۔
“تم اب جا کر اپنی بہن کی شادی کی تیاری کرو ہم بہت جلد بارات لے کر آئیں گے۔۔۔”
برہان اس کے گلے لگتا ہوا بولا۔
شاہ نم آنکھوں سے مسکرانے لگا۔
معاف کر کے دلوں کو جیتا جا سکتا ہے بلکل اسی طرح جیسے ہمارے نبی کافروں کو معاف کر کے انہیں زیر کرتے تھے۔ ان کے حسن سلوک کے باعث کفار اسلام قبول کرتے تھے۔
شاہ بھی اپنے اچھے اخلاق کا مظاہرہ کر رہا تھا اور کیسے ممکن تھا کہ ایک انسان کسی کے ساتھ نیکی کرے تو بدلے میں اسے برائی ملے۔
بدلہ کسی بھی مسئلے کا مناسب حل نہیں اس سے دشمنی ختم ہونے کی بجاےُ بڑھتی جاتی ہے۔
شاہ عقلمند تھا اپنی بہن کے مستقبل کی خاطر اس نے دانشوارانہ فیصلہ لیا جو ہر لحاظ سے بہترین تھا۔
“میں چلتا ہوں۔۔۔”
شاہ مصافحہ کرتا ہوا بولا۔
برہان نم آنکھوں سے دیکھتا اثبات میں سر ہلانے لگا۔
“یار مجھے جیلیسی ہو رہی ہے۔۔۔”
شاہ گاڑی میں آ کر بیٹھا تو عدیل منہ بناتا ہوا بولا۔
شاہ قہقہ لگا کر اسے دیکھنے لگا۔
“جو جگہ تیری ہے وہ کوئی بھی نہیں لے سکتا اور برہان کی جانب صلح کا ہاتھ بڑھانا میری ایک ادنیٰ سی کوشش تھی اپنے نبی کے اخلاق اپنانے کی۔۔۔”
شاہ مسکراتا ہوا بولا۔
“اچھا وہ جو نیوز چلائی تھی نہ ایم پی اے کے بیٹے کی؟”
عدیل سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
“ہاں۔کیا ہوا اس کا؟”
شاہ بےچینی سے بولا۔
“یار کمال ہو گیا میں نے تو صبا کو کہا ہے کہ مرچ مصالحہ لگا کر اس خبر کو مزید اڑاےُ۔۔۔”
عدیل لطف لیتا ہوا بولا۔
“سہی کہا تو نے۔ جب عزت کا جنازہ نکلے گا تب معلوم ہو گا اس ایم پی اے کو۔۔۔”
شاہ مسکراتا ہوا بولا۔
“چلیں؟”
عدیل اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“بلکل۔۔۔”
شاہ تائیدی انداز میں بولا۔
شاہ گھر آیا تو سب معمول کے کام میں مصروف تھے۔
حرم امی کے ساتھ کپڑے دیکھ رہی تھی اور باقی اپنے اپنے کمروں میں تھے۔
“کھانا کھا لو شاہ۔۔۔”
ضوفشاں بیگم اسے زینے چڑھتے دیکھ کر بولیں۔
“امی ابھی بھوک نہیں بعد میں کھا لوں گا۔۔۔”
شاہ زینے چڑھتا ہوا بولا۔
“امی اور کتنے سوٹ بنائیں گیں؟”
حرم انہیں دیکھتی ہوئی بولی۔
“ابھی دیکھتے ہیں جتنے بن جائیں گے۔۔۔”
وہ قمیض ہاتھ میں پکڑتی ہوئی بولیں۔
“ماناب پلیز چپ ہو جاؤ نہ؟”
مہر رونے والی شکل بناےُ بولی۔
شاہ بنا چاپ پیدا کئے چل رہا تھا۔
ماناب ہونٹ باہر نکالتی اور زور سے رونے لگی۔
مہر کو دیکھ کر شاہ کو ہنسی آ رہی تھی۔
مہر خفگی سے شاہ کو دیکھنے لگی۔
“مجھے رونا آ رہا ہے اور آپ کو ہنسی آ رہی ہے؟”
مہر اس کی جانب بڑھتی ہوئی بولی۔
“بلکل کیونکہ ہمیشہ اووپوذیٹ ہی اٹریکٹ کرتے ہیں۔۔۔”
شاہ بائیں آنکھ دباتا ہوا بولا۔
ماناب گلا پھاڑتی مہر کو دیکھ رہی تھی۔
“اس اسپیکر کو پکڑیں مذاق بعد میں کرنا۔۔۔”
مہر ماناب کو شاہ کے ہاتھ میں دیتی ہوئی بولی۔
“ارے۔۔۔”
شاہ ماناب کو دیکھتا ہوا بولا۔
“میری گڑیا کیوں رو رہی ہے؟”
شاہ ماناب کو دیکھتا ہوا بولا جس کے آنسو بہہ کر رخسار پر آ رہے تھے۔
“ماما ظلم کرتی ہیں آپ پر۔۔۔”
شاہ مہر کو دیکھتا ماناب کے آنسو صاف کرنے لگا۔
“شکر کریں ماناب پر ظلم کرتی ہوں کہیں آپ پر نہ کرنا شروع کر دوں۔۔۔”
مہر الماری سے سر نکال کر گھورتی ہوئی بولی۔
شاہ قہقہ لگاتا اسے دیکھنے لگا۔
شاہ نے جیب سے فون نکال کر ماناب کو پکڑا دیا۔
ماناب فون دیکھتی منہ میں ڈالنے لگی۔
مہر چہرہ موڑ کر اس کی جانب دیکھنے لگی کیونکہ ماناب خاموش ہو چکی تھی۔
“تم الماری میں کیا کر رہی ہو؟”
شاہ پیشانی پر بل ڈالتا ہوا بولا۔
“صبح جو آپ نے ایک ٹائی کے لئے پوری الماری کو تہس نہس کر دیا تھا نہ اسے سنوار رہی ہوں۔۔۔”
مہر برہمی سے بولی۔
شاہ ہنستا ہوا بیڈ پر بیٹھ گیا۔
ماناب اب مزے سے شاہ کا فون منہ میں ڈالے اسے چبانے کی سعی کر رہی تھی۔
****////////****
“محترمہ جانتی ہیں مجھے؟”
ازلان فون کان سے لگاےُ بیڈ پر گر گیا۔
“ہاں بلکل۔کیوں تمہیں کوئی شک ہے؟”
حرم کھڑکی کے پاس کھڑی تھی۔
“نہیں مجھے لگا اتنے اتار چڑھاؤ آ گئے کہیں تم گر گئی ہو اور یاداشت چلی گئی ہو تو پھر مجھے کافی دقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔۔۔”
ازلان مظلومیت سے بولا۔
“میری یاداشت چلی بھی جاےُ گی نہ پھر بھی تم یاد رہو گے۔۔۔”
حرم کو خود بھی احساس نہ ہوا کہ وہ کیا بول گئی ہے۔
“اچھا جی۔دور رہ کر تمہارے بھی جذبات نکل رہے ہیں۔یہ بتاؤ آج بارش ہوئی تھی کیا؟”
ازلان سنجیدگی سے بولا۔
“نہیں۔ لیکن تم کیوں پوچھ رہے ہو؟”
“تمہارے جذبات ایسے نکل رہے ہیں جیسے بارش کے بعد کیڑے۔۔۔”
ازلان قہقہ لگاتا ہوا بولا۔
“تم مذاق بنا رہے ہو میرا؟”
حرم پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی بولی۔
“بلکل بنا رہا ہوں۔تم کیا کر لو گی بتانا ذرا؟”
ازلان اسے آڑے ہاتھوں لیتا ہوا بولا۔
“نہیں میں نے کیا کرنا ہے۔۔۔”
حرم فون پر بھی ازلان کا غصہ سے بھرپور چہرہ تصور کر سکتی تھی۔
“تمہیں معلوم ہے جب میں تمہارے گھر آیا تھا تینوں بھائیوں نے ایسے مجھے ڈیل کیا جیسے قاتل ان کے سامنے بیٹھا ہو۔۔۔”
ازلان اس دن کا منظر سوچتا ہوا بولا۔
“ہاں تو میرے بھائی ہیں وہ پوچھنا تو ان کا فرض تھا۔۔۔”
حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔
“مجھے ایسا لگ رہا تھا بیوی نہیں لے رہا بلکہ بچہ گود لے رہا ہوں۔۔۔”
ازلان قہقہ لگاتا ہوا بولا۔
حرم اس کی بات پر سر پیٹ کر رہ گئی۔
” حرم جب تم میرے گھر آؤ گی نہ؟”
ازلان لب دباےُ مسکرا رہا تھا۔
“ہاں پھر؟”
“میں نہ گلاب کے ساتھ کاٹنے رہنے دوں گا جہاں تم میری بات نہیں مانی گی نہ وہیں میں نے کانٹا چبھا دینا ہے۔۔۔”
حرم کا منہ کھل گیا۔
“ازلان ایسے بھی کوئی کرتا ہے؟”
حرم خفا خفا سی بولی۔
“بلکل تمہارا شوہر نامدار۔۔۔”
“میں اپنے بھائی کو بھی ساتھ لاؤں گی پھر۔۔۔”
حرم اپنا دفاع سوچنے لگی۔
“تمہارے بھائی کو میں نے کمرے میں آنے ہی نہیں دینا اپنا ٹائم گزار لیا اب میرا ٹائم خراب کریں گے۔۔۔”
ازلان محظوظ ہوتا ہوا بولا۔
“ازلان تم بہت بدتمیز ہو۔۔۔”
حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔
اس سے قبل کہ ازلان کچھ بولتا حرم نے فون بند کر دیا۔
“بھابھی کو بتاؤں گی ازلان مجھے ایسے کہتا ہے۔۔۔”
حرم سوچتی ہوئی باہر نکل گئی۔
شاہ ویز آس پاس نظر ڈالتا حرائمہ کے کمرے میں آ گیا۔
حرائمہ بیٹھی رسالہ پڑھ رہی تھی۔
شاہ ویز کو دیکھ کر آنکھیں پھیل گئیں۔
حرائمہ کا دوپٹہ بیڈ پر پڑا تھا اور خود وہ صوفے پر بیٹھی تھی۔
“آپ؟”
حرائمہ جلدی سے دوپٹہ اٹھانے لگی۔
“تم مجھے دیکھ کر ایسے ڈرتی ہو جیسے میں کوئی ہوائی مخلوق ہوں؟”
شاہ ویز بولتا ہوا اس کے سامنے آ رکا۔
“نہیں وہ اس طرح مناسب نہیں لگتا۔۔۔”
حرائمہ لب کاٹتی نیچے دیکھ رہی تھی۔
“میں سوچ رہا تھا اوپر چھت پر چلیں۔۔۔”
شاہ ویز جیب میں ہاتھ ڈالے اس کے نازک سراپے کو دیکھ رہا تھا۔
“اوپر کیوں؟”
وہ چہرہ اٹھا کر بولی۔
حرائمہ کی آنکھیں باہر نکل آئیں تھیں۔
“میں نے وہ والے اوپر لے جانے کی بات نہیں کی چھت کی بات کی ہے۔۔۔”
شاہ ویز انگلی سے اوپر اشارہ کرتا ہوا بولا۔
“مجھے پتہ ہے لیکن۔۔۔”
حرائمہ نے گھبراتے ہوۓ بات ادھوری چھوڑ دی۔
“اچھا ایسا کرو تم یہاں بیٹھ جاؤ۔۔۔”
شاہ ویز صوفے کی جانب اشارہ کرتا ہوا بولا۔
“کیوں؟”
حرائمہ پوری آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگی۔
“یار ایک تو تم سوال بہت کرتی ہو بیٹھ جاؤ خاموشی سے۔۔۔”
شاہ ویز اسے بازوؤں سے پکڑ کر بٹھاتا ہوا بولا۔
حرائمہ انگلیاں مڑورتی شاہ ویز کو دیکھنے لگی۔
شاہ ویز گھٹنا زمین پر رکھے نیچے جھک گیا۔
حرائمہ متحیر سی اسے دیکھ رہی تھی۔
شاہ ویز نے جیب سے ایک پائیل نکالی۔
حرائمہ کا نرم گداز پاؤں ہاتھ میں پکڑا اور اپنے گھٹنے پر رکھ لیا۔
“یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟”
حرائمہ نے اپنا پاؤں ہٹانا چاہا۔
“فکر مت کرو ایٹم بم نہیں فٹ کرنے والا میں۔۔۔”
شاہ ویز نے کہتے ہوۓ اس کے پاؤں میں پائیل پہنا دی۔
سونے کی باریک سی پائیل حرائمہ کے خوبصورت پاؤں میں مزید خوبصورت ہو گئی تھی۔
وہ پائیل ایسی تھی کہ جس کی چاپ پیدا نہیں ہو سکتی۔
حرائمہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
“آپ میرے لیے لاےُ ہیں؟”
حرائمہ بےیقینی کی کیفیت میں دیکھتی ہوئی بولی۔
“نہیں ہمارے ساتھ والے گھر میں جو اقصیٰ ہے نہ اس کے لئے لایا تھا وہ ناراض ہو گئی تو تمہیں دے دی۔۔۔”
شاہ ویز شرارت سے کہتا اس کے پہلو میں بیٹھ گیا۔
حرائمہ آگے کھسک گئی۔
شاہ ویز نے حرائمہ کی گود میں سر رکھ دیا۔
حرائمہ اس کی شرارتوں پر خود میں سمٹ گئی۔
حرائمہ کا سانس وہیں اٹک گیا۔
شاہ ویز نے آنکھیں موند لیں۔
“میں نے تمہیں کہا تھا نہ بہت بگڑا ہوا ہوں۔۔۔”
شاہ ویز نے اس کا ایک ہاتھ اپنے بالوں پر رکھا اور دوسرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
حرائمہ الجھن کا شکار تھی۔
ایک دم سے اس کا پاس آنا اسے پریشان کر رہا تھا۔
حرائمہ شاہ ویز کے چہرے کو دیکھنے لگی جو آنکھیں بند کئے ہوۓ تھا۔
صاف رنگت ہلکی ہلکی شیو میں وہ فریش لگ رہا تھا۔
حرائمہ کے لبوں پر بےساختہ مسکراہٹ رینگ گئی۔
حرائمہ جھجھکتے ہوۓ اس کے نرم و ملائم بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی۔
شاہ ویز کے لب مسکرانے لگے۔
“تم جانتی ہو مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے۔۔۔”
شاہ ویز آنکھیں موندے بول رہا تھا۔
لب دھیرے سے مسکرا رہے تھے۔
“آپ کو مہ مجھ سے محبت! ؟”
حرائمہ متحیر سی بولی۔
“ہاں۔کیوں نہیں ہو سکتی؟”
شاہ ویز آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگا۔
“نہیں۔میرا مطلب۔۔۔”
حرائمہ کے چہرے پر افسردگی نمایاں تھی۔
“حرائمہ میں نہیں سوچتا کتنے مردوں نے تمہیں چھوا ہے میرے دل کو تم بھا گئی ہو اس سے زیادہ میں کچھ نہیں جانتا۔۔۔”
حرائمہ کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
“محبت یہ نہیں دیکھتی کہ وہ انسان کالا ہے یا گورا۔
مسلمان ہے یا کافر۔
محبت نہیں دیکھتی کہ وہ کتنے بستروں کی زینت بن چکی ہے۔ تم میری ہو میرے ساتھ ہو میں بس یہی جانتا ہوں۔۔۔”
شاہ ویز اس کا ہاتھ پکڑے آنکھیں بند کئے بول رہا تھا۔
حرائمہ مسکراتے ہوۓ شاہ ویز کے وجیہہ چہرے کو دیکھ رہی تھی۔
****/////////****
“عافیہ تم آرام کرو ایسی حالت میں کام کرنا تمہارے لئے ٹھیک نہیں۔۔۔”
مہر اسے خفگی سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“لیکن بھابھی آپ اکیلی کیسے اتنا سب دیکھیں گیں؟”
عافیہ پریشانی سے گویا ہوئی۔
“سب ہو جاےُ گا تم کیوں فکر کر رہی ہو؟”
مہر اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“اچھا اور ماناب؟”
عافیہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
“ماناب کو اس کی چاچی سنبھال لیں میں سب کام دیکھ لوں گی۔۔۔”
مہر مسکراتی ہوئی بولی۔
عافیہ ماناب کو دیکھتی مسکرانے لگی جو بیڈ پر بیٹھی تھی۔
“میری جان چاچی کو تنگ نہیں کرنا آپ نے۔۔۔”
مہر اس کے چہرے پر بوسہ دیتی ہوئی بولی۔
مہر اب سکارف لئے آئینے کے سامنے آ گئی۔
عافیہ ماناب کو دیکھ رہی تھی۔
“بھابھی آپ کو ایزی رہے گا؟”
عافیہ کا اشارہ اس کے نقاب کی جانب تھا۔
“ہاں۔ اس میں غیر آرام دہ ہونے والی کون سی بات ہے؟”
مہر سکارف کو پن لگاتی ہوئی بولی۔
“نہیں ایسے ہی۔۔۔”
عافیہ مسکراتی ہوئی بولی۔
****////////****
حرم گھونگھٹ نکالے ازلان کی خواب گاہ میں بیٹھی تھی۔
کمرہ گلاب کے پھولوں کی خوشبو سے معطر تھا۔
دھیمی دھیمی خوشبو دل کو بھا رہی تھی۔
ازلان کلہ ہاتھ میں پکڑے کمرے میں آیا۔
حرم کی دھڑکنیں منتشر ہونے لگیں۔
ازلان چہرے پر مسکراہٹ سجاےُ حرم کے پاس آ گیا۔
“سو مسز ازلان آپ میرے پاس آ ہی گئیں۔۔۔”
ازلان اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا ہوا بولا۔
حرم کی دھڑکنوں میں ارتعاش پیدا ہو گیا۔
دل معمول سے تیز دھڑکنے لگا شاید اپنے ہمسفر کی دھڑکنوں سے ملاپ کے لئے بے چین ہو رہا تھا۔
ازلان نے گھونگھٹ ہٹایا تو نظر واپس آنے سے انکاری ہو گئی۔
حرم حسن کے ہتھیاروں سے لیس تھی۔
ازلان بغور اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا جو بمشکل پہچانی جا رہی تھی۔
“مجھے لگ رہا ہے کسی اور کی دلہن میرے پاس آ گئی ہے۔۔۔”
ازلان منہ پر ہاتھ رکھتا شرارت سے بولا۔
حرم منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔
“ازلان تم مجھے بھول گئے ہو؟”
حرم صدمے سے بولی۔
“نہیں۔لیکن تم حرم نہیں ہو۔۔۔”
ازلان نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا۔
“ازلان میں حرم ہی ہوں۔تم مجھے میرے گھر سے لے کر آےُ ہو ابھی۔۔۔”
حرم الجھ کر اسے دیکھنے لگی۔
“نہیں تم حرم نہیں ہو جب تک تم مجھے یقین نہیں کروا دیتی میں تم سے بات نہیں کروں گا۔۔۔”
ازلان بچوں کی مانند روٹھ کر منہ موڑ کر بیٹھ گیا۔
“ازلان میں تمہیں کیسے یقین دلاؤں؟”
حرم روہانسی ہو گئی۔
حرم کی آواز پر ازلان نے چہرہ موڑ کر اسے دیکھا۔
حرم کی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی۔
“اچھا یہ بتاؤ حرم مجھ سے کتنا پیار کرتی ہے؟”
ازلان کا ارادہ ابھی اسے تنگ کرنے کا تھا۔
“مہ مجھے نہیں پتہ۔۔۔”
حرم کے لہجے میں جھجھک نمایاں تھی۔
“پھر تم میری حرم نہیں۔۔۔”
ازلان منہ بناتا ہوا بولا۔
“ازلان میں تمہاری حرم ہی ہوں۔۔۔”
آنسو پلکوں کی دیوار کو پار کرنے کو تیار تھے۔
ازلان سنجیدگی سے دیکھتا نفی میں سر ہلا رہا تھا۔
“یاد ہے تم نے مجھے ایک بار کہا تھا کہ ایک بیوی کچن میں کام کر رہی ہوتی ہے اور آگ لگ جاتی ہے۔۔۔”
حرم معصومیت سے اسے یاد دلا رہی تھی۔
ازلان ہنستا ہوا اسے دیکھنے لگا۔
“تمہیں ابھی بھی یقین نہیں ہے؟ حرم تم سے اتنی محبت کرتی ہے کہ اسے خود بھی نہیں معلوم۔۔۔”
بولتے بولتے حرم کی آنکھیں چھلک پڑیں۔
