Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 26
Tawaif by Hamna Tanveer
میں عورت ہوں
تو کیا یہ جرم ہے میرا
کے اس خداوند نے
میرے پیکر میں
ٹھنڈی چھاوں جیسے پہلوؤں کو سینچ کے رکھا
میں ماں ہوں
بہن ہوں
بیٹی ہوں
تو پھر کیا میں مجرم ہوں
کہ میں درگور کر دی جاؤں زندہ
کہ میں جرگوں میں ہاری جاؤں زندہ
یا نظروں کے تعاقب میں رہوں میں
پھر کسی ڈھیر پہ مل جاؤں مردہ
میرے لاشے پہ بس اتنا لکھا ہو
میں عورت ہوں
تو کیا یہ جرم ہے میرا ۔۔۔۔۔
“ہم کہاں جا رہے ہیں؟”
حرم چہرہ موڑ کر اسے دیکھنے لگی۔
“لانگ ڈرائیو پے۔۔۔”
ازلان بائیں آنکھ دباتا ہوا بولا۔
“گاڑی کہاں ہے؟”
حرم سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
“دیکھو باقی لوگ جاتے ہیں گاڑی پر یا پھر بائیک پر ہم پیدل لانگ ڈرائیو پے جائیں گے۔ کچھ نیا کرتے ہیں۔۔۔”
ازلان مسکراتا ہوا بولا۔
حرم کا منہ کھل گیا۔
“ازلان ہم پیدل ہاسٹل جائیں گے؟”
حرم پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“میرا خیال ہے میں فارسی زبان نہیں بولتا۔۔۔”
ازلان پتلیاں سکیڑے اسے گھورتا ہوا بولا۔
حرم گڑبڑا کر پیچھے ہو گئی۔
“ازلان میں تو مر جاؤں گی ہاسٹل جاتے جاتے تمہیں اندازہ بھی ہے کتنی دور ہے میرا ہاسٹل۔۔۔؟”
حرم صدمے سے بولی۔
“کوئی مسئلہ نہیں میں تمہیں ایک گلوکوز کی بوتل لگوا دوں گا۔۔۔”
ازلان لب دباےُ مسکراتا ہوا بولا۔
حرم آنکھیں چھوٹی کیے رک کر اسے گھورنے لگی۔
“اب تم یہ کہہ رہی ہو کہ میں تمہیں اٹھاؤں؟”
ازلان چہرہ موڑ کر اسے دیکھنے لگا۔
“میں نے کب کہا ایسا؟”
حرم ششدر سی بولی۔
“تم اسی لئے رک گئی ہو تاکہ میں ترس کھا کر تمہیں اٹھا لو لیکن سوچ لو میرا دل بہت نرم ہے جلدی جلدی ترس کھا لیتا ہے۔۔۔”
ازلان اسکی جانب قدم بڑھاتا ہوا بولا۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے خود سے مفروضے قائم کر رہے ہو۔۔۔”
حرم گھبراتی ہوئی تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔
“حرم اگر کہیں سے شیر یا پھر جنگلی جانور نکل آےُ پھر؟”
ازلان نے اسے تنگ کرنے کا قصد کر رکھا تھا۔
“کیوں مجھے ڈرا رہے ہو؟”
حرم دائیں بائیں دیکھتی ہوئی بولی۔
“پتہ ہے ایک بار میں نے یہاں برفانی ریچھ دیکھا تھا۔۔۔”
ازلان چیونگم منہ میں ڈالتا ہوا بولا۔
“سچی! پھر کیا کیا تم نے؟”
حرم دم سادھے اسے سننے کی منتظر تھی۔
“پھر میں نے اسے کہا کہ حرم بیوقوف کے پاس چلے جاؤ۔۔۔”
ازلان قہقہ لگاتا ہوا بولا۔
حرم جو پوری توجہ سے اسے سن رہی تھی خفگی سے دیکھنے لگی۔
“مجھے یہ بتاؤ یہاں برفانی ریچھ کیسے آ سکتا ہے؟”
ازلان قہقہے لگاتا ہوا بولا۔
حرم کو اپنی کم عقلی پر غصہ آنے لگا۔
“میں نے صحیح سنا نہیں تھا۔۔۔”
حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔
“ازلان ایسے تو ہم کل تک پہنچیں گے شٹل لے لیتے تو آرام سے چلے جاتے۔۔۔”
حرم منہ بسورتی ہوئی بولی۔
“شٹل میں آدھا پاکستان سما جاتا ہے مجھے نہیں پسند۔۔۔”
ازلان منہ بناتا ہوا بولا۔
حرم دھیرے سے مسکرانے لگی۔
“ہیلو ازلان؟”
ان کے عقب سے عارف کی آواز گونجی۔
حرم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
ازلان چہرہ موڑ کر اسے دیکھنے لگا۔
عارف کا پورا گروپ کھڑا تھا۔
ازلان آبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔
“میں نے سوچا صبح والا حساب برابر کر کے ہی گھر جائیں۔۔۔”
وہ گردن کو دائیں بائیں گھماتا ہوا بولا۔
“ازلان نے بائیں ہاتھ سے حرم کو اپنے پیچھے کیا۔
حرم اس کے عقب میں چھپ گئی۔
دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
چہرے پر خوف کی لکریں نمایاں تھیں۔
“میرے بھی ہاتھوں میں کھجلی ہو رہی تھی ویسے۔۔۔”
ازلان شرٹ کے آستین اوپر چڑھاتا ہوا بولا۔
“ازلان پلیز تم مت لڑنا ان سے۔۔۔۔”
حرم التجائیہ انداز میں بولی۔
عارف آگے آیا اور ازلان کے منہ پر مکہ مارنا چاہا لیکن ازلان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
اگلے لمحے دونوں ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہو رہے تھے۔
عارف کے گروپ سے کسی لڑکے نے شیشے کی بوتل ازلان کے ماری لیکن ازلان نیچے جھک گیا بوتل سامنے درخت پر جا لگی اور بدقسمتی سے ایک شیشہ حرم کی بازو میں پیوست ہو گیا۔
ان کی قسمت اچھی تھی کہ دو پروفیسر نمودار ہوۓ۔
ان کی گاڑی خراب ہو گئی جس کے باعث وہ پیدل آ رہے تھے۔
“عارف پروفیسر آ رہے ہیں۔۔۔”
اس کے گروپ کا لڑکا چلایا۔
عارف ایک لمحے کی تاخیر کئے بنا ازلان سے الگ ہوا اور اپنے گروپ کے ہمراہ نکل گیا۔
حرم خاموش آنسو بہا رہی تھی۔
ازلان اس بات سے انجان تھا کہ حرم کے بازو پر شیشہ لگا ہے۔
حرم کے چہرے پر تکلیف کے آثار نمایاں تھے۔سرخ بوندیں زمین پر گر رہیں تھیں۔
ازلان شرٹ کے اوپر والے بٹن بند کرتا حرم کی جانب چلنے لگا۔
حرم دانتوں تلے لب دباےُ اپنی سسکیاں دبا رہی تھی۔
“حرم یہ کیا ہوا؟”
ازلان بوکھلا کر اس کی بازو دیکھنے لگا۔
“و وہ میرے شیشہ لگ گیا ہے۔۔۔”
تکلیف کے باعث حرم سے بولنا محال ہو رہا تھا۔
“یار پروفیسر یہاں کیا کر رہے ہیں؟”
ازلان انہیں دیکھتا ہوا بولا۔
حرم کا ہاتھ پکڑا اور درخت کی اوٹ میں چھپ گیا۔
ازلان نے حرم کو چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
حرم آنسو بہاتی اثبات میں سر ہلانے لگی۔
وہ کچھ فاصلے پر گئے تو ازلان وہیں بیٹھ گیا۔
“میں یہ شیشہ نکالوں گا تو تکلیف ہو گی۔۔۔”
ازلان اسے دیکھتا ہوا مطلع کرنے لگا۔
“ایسے ہی رہنے دو پھر۔۔۔”
حرم ہاتھ کھینچتی ہوئی بولی۔
“پاگل ہو کیا؟ ڈاکٹر کے پاس جاؤ گی تو وہ بھی ایسے ہی نکالے گا۔۔۔”
ازلان نے کہتے ہوۓ پھر سے اس کی بازو پکڑ لی۔
“ازلان مجھے نہیں نکالنا درد ہو گا بہت۔۔۔”
حرم روتی ہوئی بول رہی تھی۔
“درد تو ہو گا لیکن صرف ایک بار پھر اس کے بعد ٹھیک ہو جاےُ گا۔۔۔”
ازلان بچوں کی مانند اسے بہلانے لگا۔
حرم نفی میں سر ہلانے لگی۔
ازلان نے اسے گھوری سے نوازتا تو حرم سر جھکا گئی۔
آنسو اس کے دامن میں گر رہے تھے۔
“میرے کان کے پردے مت پھاڑ دینا۔۔۔”
ازلان شیشہ پکڑتا ہوا بولا۔
حرم سفید پڑتے چہرے سے اسے دیکھ رہی تھی۔
ازلان نے زور سے شیشہ باہر نکال دیا۔
“آااا۔۔۔۔”
حرم دوسرا ہاتھ منہ پر رکھنے رونے لگی۔
آنسوؤں میں روانی آ گئی۔
ازلان نے جیب سے اپنا رومال نکالا اور جلدی سے حرم کی بازو پر باندھ دیا۔
“آئم سوری۔ میری وجہ سے تمہیں چوٹ لگ گئی۔۔۔”
ازلان سر جھکاےُ نادم ہو کر بولا۔
حرم خاموش آنسو بہاتی رہی۔
“ازلان پلیز مجھے ہاسٹل چھوڑ دو۔۔۔”
ایک خوف دوسرے خوف پر حاوی ہو رہا تھا۔
“اچھا ویٹ میں کال کرتا ہوں زین کو۔۔۔”
ازلان فون نکالتا ہوا بولا۔
****///////****
“مہر تم نے کیوں خود کو زحمت دی؟”
شاہ متحیر سا کیک کو دیکھ رہا تھا۔
“آپ میرے لیے اتنا سب کرتے ہیں تو میں یہ بھی نہیں کر سکتی کیا؟”
مہر خفگی سے بولی۔
“تمہیں کس نے بتایا میری برتھ ڈے کا؟”
شاہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
“آپ چھوڑیں اس بات کو اور کیک کٹ کریں۔۔۔”
مہر پرجوش سی بولی۔
مہر کے چہرے پر خوشی دیکھ کر شاہ کا دل بھی مطمئن ہو گیا۔
****///////****
“بابا سائیں مجھے کچھ بات کرنی ہے آپ سے؟”
شاہ ان کے سامنے بیٹھتا ہوا بولا۔
“ہاں بولو تمہید کیوں باندھ رہے ہو؟”
وہ جانچتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولے۔
“میں سوچ رہا تھا حرم کے لئے عدیل مناسب رہے گا۔۔۔”
شاہ رک کر انہیں دیکھنے لگا۔
“مطلب؟”
وہ آبرو اچکا کر بولے۔
“کیوں نہ حرم کی منگنی کر دیں عدیل کے ساتھ؟”
شاہ نے عدیل کی خواہش کا اظہار کیا۔
“تم جانتے ہو نہ اس کی ذات چودھری ہے۔ ہم کیسے کر سکتے ہیں حرم کا رشتہ اس کے ساتھ؟”
وہ کرخت لہجے میں بولے۔
“بابا سائیں خاندان میں تو کوئی بھی نہیں ہے پھر کس کے ساتھ حرم کا کریں گے؟”
شاہ سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھنے لگا۔
“رشتوں کی کمی نہیں ہے تمہاری امی کے ماموں ہیں ان کا بیٹا ہے میری نظر میں۔۔۔”
“بابا سائیں عدیل میں کیا برائی ہے؟ دیکھا بھالا ہے میرا دوست ہے برسوں سے ہم ایک ساتھ کام کر رہے ہیں۔ وہ حرم کو خوش رکھے گا میں ضمانت دیتا ہوں۔۔۔۔”
شاہ سینے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
“بات یہ نہیں ہے شاہ تم بھی جانتے ہو اس لئے ہمیں قائل کرنے کی سعی مت کرو۔۔۔”
“بابا سائیں مہر بھی تو باہر سے آئی ہے نہ مجھے بتائیں کیا برائی ہے اس میں؟ ہم بلاوجہ ان پرانی رسموں کے باعث ایک اچھا رشتہ گنوا دیں۔۔۔”
شاہ تاسف سے بولا۔
“تم کہتے ہو تو ہم سوچیں گے لیکن مثبت جواب ہی ہو گا ایسی توقع مت رکھنا۔ نظر ثانی کریں گے ہم اس پر۔۔۔”
وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولے۔
“مجھے امید ہے جواب مثبت ہی ملے گا۔۔۔”
شاہ مسکراتا ہوا کھڑا ہو گیا۔
****////////****
“کیسے چوٹ لگی تمہارے؟”
آئمہ افسردگی سے بولی۔
“بس لگ گئی۔ تم نے پٹی کر دی بہت شکریہ ورنہ مجھے ڈاکٹر نے پاس جانا پڑتا۔۔۔”
حرم اس کی مشکور تھی۔
“ارے دوستوں میں شکریہ کی ضرورت نہیں یہ بتاؤ درد تو نہیں ہو رہا اب؟”
آئمہ متفکر سی بولی۔
“نہیں اب بہتر یے۔۔۔”
حرم ہلکا سا مسکرائی۔
“میں اب کمرے میں جاتی ہوں۔۔۔۔”
حرم بیگ اٹھاتی ہوئی بولی۔
آئمہ مسکراتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔
“حرم تمہارے ہاتھ پر کیا ہوا؟”
آمنہ حیرت سے بولی۔
“کچھ نہیں بس تھوڑی سی چوٹ لگ گئی تھی۔۔۔”
حرم نے مسکرا کر ٹالنا چاہا۔
“لیکن پھر بھی۔۔۔”
آمنہ مطمئن نہیں ہوئی۔
‘جب وہ نہیں بتانا چاہتی تو تم کیوں کرید رہی ہو؟”
ذوناش تنک کر بولی۔
آمنہ شانے اچکاتی اپنے بیڈ پر آ گئی۔
حرم سانس خارج کرتی چلنے لگی۔
انشرح کبھی حرم کو دیکھتی تو کبھی ذوناش کو۔
“حرم تم نے میری بات کیوں نہیں مانی؟”
ازلان کا میسج دیکھ کر حرم کرسی پر بیٹھ گئی۔
“ازلان اگر میں تمہارے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جاتی تو مجھے دیر ہو جاتی اور جانتے ہو بھائی نے چوکیدار کو خاص تاکید کر رکھی ہے۔۔۔”
حرم پیشانی پر بل ڈالے لکھنے لگی۔
“لیکن یار بینڈیج لازمی کروانی تھی نہ۔۔۔”
ازلان تاسف سے بولا۔
“میری دوست نے کر دی ہے بینڈیج تم فکر مت کرو میں ٹھیک ہوں۔۔۔”
حرم نے اسے مطمئن کرنا چاہا۔
ازلان اسکرین کو دیکھتا نفی میں سر ہلانے لگا۔
“لعنت ہو ازلان تمہارے باعث وہ تکلیف میں ہے۔۔۔”
ازلان خود کلامی کرنے لگا۔
چہرے پر الجھن اور پریشانی نمایاں تھی۔
“ازلان تو ہمیں فون کر دیتا۔۔۔”
زین اسے مخاطب کرتا ہوا بولا۔
“یار وہ ٹائم ایسا نہیں تھا کہ میں فون کرتا تم لوگوں کو سب کچھ اچانک سے ہوا۔۔۔”
ازلان آہ بھرتا ہوا بولا۔
“بھابھی ٹھیک ہے؟”
وکی موبائل سے نظریں ہٹا کر بولا۔
“ہاں کہہ تو رہی ہے۔۔۔”
ازلان مایوسی سے بولا۔
“زین میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ تو مجھے چھوڑ اور ازلان کے چنو منو کی گود بھرائی کا سوچ۔۔۔۔”
سیفی آنکھوں میں شرارت لئے بولا۔
“لعنت ہو تجھ پر وہ ایسی نہیں ہے۔۔۔”
ازلان اس پر تکیہ پھینکتا ہوا بولا۔
سیفی سمیت باقی سب بھی ہنسنے لگے۔
ازلان گھورتا ہوا باہر نکل آیا۔
****//////****
ازلان جونہی یونی میں داخل ہوا نظر سامنے کھڑی ذوناش سے ٹکرائی۔
چہرے پر ناگواری در آئی۔
ازلان اسے نظرانداز کرتا دوسری جانب چل دیا۔
ذوناش اس کے عقب میں چلنے لگی۔
“ازلان اب ایسی بھی کیا ناراضگی؟ تم دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے؟۔۔۔”
ذوناش اس کا ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی۔
ازلان کا چہرہ غیظ کے باعث سرخ ہو گیا۔
“تمہیں اپنی عزت سے بلکل پیار نہیں؟”
ازلان اسے بازوؤں سے پکڑ کر جھنجھوڑتا ہوا بولا۔
ذوناش تڑپ کر اسے دیکھنے لگی۔
“ازلان تم کیسے یہ سب کر سکتے ہو؟ میں وہی ذوناش ہوں جس سے تم محبت کرتے ہو۔۔۔”
ذوناش آنسو بہاتی بولنے لگی۔
ازلان نے جھٹکے سے اسے دور کیا۔
ذوناش لڑکھڑا گئی۔
“آخری بار تمہیں کہہ رہا ہوں دوبارہ میرے سامنے مت آنا۔ اور یہ فضول کی بکواس جا کر کسی اور کے سامنے کرنا مجھے تم میں کوئی انٹرسٹ نہیں سمجھی؟”
ازلان اس کی آنکھوں میں دیکھتا چبا چبا کر بولا۔
“ازلان؟ ازلان میری بات تو سنو۔۔۔”
ذوناش اس کے پیچھے لپکی لیکن وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اس سے دور ہو گیا۔
ذوناش نم آنکھوں سے اسے جاتا دیکھنے لگی۔
****///////****
“مہر تم بھی آ جاؤ ہمارے ساتھ۔۔۔”
ضوفشاں بیگم نا چاہتے ہوۓ بولیں۔
“امی شاہ آ جائیں تو میں ان کے ساتھ آ جاؤں گی۔۔۔”
مہر نے سہولت سے انکار کر دیا۔
“ہم تمہیں کھانے کو دوڑتے ہیں کیا جو ہمارے ساتھ جانے میں تکلیف ہو رہی ہے؟”
وہ بگڑ کر بولیں۔
ماریہ نفی میں سر ہلاتی مہر کو دیکھ رہی تھی۔
“ایسی کوئی بات نہیں ہے میں نے دوائی بھی لینی ہے گھنٹے تک اس لئے کہ رہی ہوں۔۔۔”
مہر نے بہانہ بنایا۔
“دفعہ کریں آپ اس کو۔ اس کے تو نخرے ہی ختم نہیں ہوتے خاوند اٹھاتا رہے نخرے آپ کیوں زور ڈال رہیں ہیں؟”
ماریہ خفگی سے بولی۔
ضوفشاں بیگم مہر پر قہر آلود نظر ڈالتی باہر کو چل دیں۔ ماریہ بھی ان کے عقب میں چل دی۔
مہر سانس خارج کرتی انہیں دیکھنے لگی۔
مہر کا چہرہ اترا ہوا تھا۔
ہر لمحے خوف طاری رہتا۔
نہ وہ محفوظ تھی نہ اس کا بچہ۔
“اللہ پاک میرے بچے کی حفاظت کرنا۔۔۔”
مہر نم آنکھوں سے دعا کرتی زینے چڑھنے لگی۔
“شاہ آپ کب آئیں گے؟”
مہر فون کان سے لگاےُ بیٹھی تھی۔
“میں آ جاؤں گا ٹائم سے۔ کیوں خیریت؟”
شاہ سیدھا ہو گیا۔
“جی خیریت ہی ہے امی خالہ کی طرف جا رہیں تھیں تو مجھے بھی ساتھ لے جانا چاہتی تھیں میں نے کہہ دیا کہ آپ کے ساتھ آؤں گی۔۔۔”
مہر افسردگی سے اسے بتا رہی تھی۔
“اچھا کیا میں سوچوں گا پھر تمہیں کال کر کے بتا دوں گا۔۔۔”
شاہ دو انگلیوں سے پیشانی مسلتا ہوا بولا۔
“شاہ جب سے وہ سیڑھیوں والا واقعہ ہوا ہے میرا تو دل ہی گھبراتا رہتا ہے۔۔۔”
مہر آہستہ آہستہ بول رہی تھی۔
“مہر میں سوچ رہا ہوں کوئی مناسب عذر ملے تو تمہیں واپس اسی گھر لے جاؤں۔۔۔”
شاہ فکرمندی سے بولا۔
“ٹھیک ہے آپ کام کریں۔۔۔”
مہر اسے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔
شاہ نے بنا کچھ کہے فون بند کر دیا۔
“شاہ آپ کی محبت اور آپ سے جڑے رشتوں نے مجھے کمزور کر دیا ہے ورنہ مہر کبھی اتنی بےبس نہ تھی۔۔۔”
بولتے بولتے مہر کی آنکھوں سے دو موتی ٹوٹ کر دامن میں آ گرے۔
وہ صبر کا دامن تھامے چل رہی تھی کیونکہ ہر تنگی کے بعد آسانی ہے۔
مہر یہ مشکل وقت صبر کے ساتھ گزارنا چاہتی تھی کیونکہ وہ ایک پرسکون زندگی کی خواہشمند تھی۔
“بس میرے بچے کو کچھ نہ ہوں۔۔۔”
مہر تڑپ کر بولی۔
“سب کہاں ہیں؟”
شاہ ویز ملازمہ کو دیکھ کر بولا۔
“صاحب بیگم صاحبہ اپنی بہن کے گھر گئیں ہیں مہر بی بی گھر پر ہیں بس۔۔۔”
وہ سر جھکا کر بولی۔
مہر کے نام پر شاہ ویز کے لب مسکرانے لگی۔
“ٹھیک ہے جاؤ تم۔۔۔”
ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا ہوا بولا۔
کمرے میں آیا اور شاور لے کر تیار ہونے لگا۔
“آج تو یہ چیپٹر بند کر ہی دوں گا میں۔ اس سے زیادہ میں برداشت نہیں کر سکتا۔
برہان والا آئیڈیا اچھا ہے سب سیٹ ہو جاےُ گا اس پر عمل درآمد کرنے سے۔۔۔”
شاہ ویز پر حیوانیت سوار تھی۔
مہر شاہ کی منتظر تھی۔
کمرے کے باہر راہداری میں وہ ٹہل رہی تھی۔
شاہ ویز کمرے سے نکلا اور مہر کی جانب بڑھنے لگا۔
