577.9K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tawaif Episode 6

Tawaif by Hamna Tanveer

مہر دروازے کی جانب لپکی۔

شاہ مسکراتا ہوا کھڑا ہوا اور اسے بازو سے پکڑ کر سامنے کیا۔

“تمہیں پیار سے سمجھا رہا ہوں سمجھ لو اس سب سے صرف تمہارا نقصان ہو گا۔۔۔۔۔”

وہ مہر کی بازو پر زور ڈالتا ہوا بولا۔

مہر سانس خارج کرتی اردگرد دیکھنے لگی۔

“تمہیں کیوں سمجھ نہیں آ رہا مجھے وہیں رہنا یے۔۔۔۔۔”

مہر نرمی سے بولی۔

“اور تمہیں کیوں سمجھ نہیں آ رہا کہ تمہیں یہیں رہنا ہے۔۔۔۔۔”

شاہ اسی کے انداز میں بولا۔

مہر نفی میں سر ہلاتی چہرہ جھکا گئی۔

شاہ نے اس کی بازو آزاد کر دی جہاں سرخ نشاں رہ گئے تھے شاہ کی انگلیوں کے۔

جا کر بیٹھو میں کھانا لے کر آتا ہوں۔۔۔۔”

مہر تھکے تھکے انداز میں چلتی ہوئی بیڈ پر آ بیٹھی۔

دونوں ہاتھوں سے بال سمیٹنے لگی۔

آنکھیں پھر سے نم ہو گئیں۔

مہر نے خود کو رونے سے باز رکھا۔

شہادت کی انگلی سے آنکھ صاف کی اور لب دباےُ فرش کو دیکھنے لگی۔

****///////****

“ابھی تک اس کا بھوت کا نہیں اترا؟۔۔۔۔۔”

زلیخا بیگم خفگی سے دیکھتی ہوئیں بولیں۔

“نہیں بیگم صاحبہ کل سے بس روےُ جا رہی ہے تو کبھی اپنی ماں کو پکارے جا رہی ہے۔۔۔۔۔”

بانی فکرمندی سے بولی۔

“دیکھنا تھا بخار تو نہیں۔۔۔۔۔”زلیخا بیگم آنکھیں چھوٹی کیے بولیں۔

بانی نے آگے بڑھ کر حرائمہ کا چہرہ اونچا کیا اور پیشانی پر ہاتھ رکھا جو تپ رہی تھی۔

“بیگم صاحبہ اسے بخار ہے۔۔۔۔۔”

“بیوقوف وہ بیہوشی میں بول رہی ہو گی آنکھیں دیکھ اس کی بند ہیں۔۔۔۔۔”

وہ پریشانی سے بولیں۔

“ڈاکٹر کو بلاؤں پھر بیگم صاحبہ؟۔۔۔۔۔”

وہ بوکھلا کر زلیخا بیگم کو دیکھنے لگی۔

“ابھی بھی پوچھے گی جلدی کر اور اسے اٹھا کر بیڈ پر لٹا، مہر کے جانے کا سب پوچھ رہے ہیں اب یہ نیا شکار ملا ہے اسے گنوانا نہیں چاہتی میں۔۔۔۔۔”

وہ گرج دار آواز میں بولیں۔

****////////****

“وکی مجھے نمبر دے ذوناش کا۔۔۔۔۔”

ازلان لبوں سے دھواں آزاد کرتا ہوا بولا۔

“چیک کر میں نے سینڈ کر دیا ہے۔۔۔۔۔”

وکی ٹائپ کرتا ہوا بولا۔

ازلان نمبر ملا کر فون کان سے لگاےُ انتظار کرنے لگا۔

ذوناش سب کے ساتھ بیٹھی تھی۔

“ازلان کا نمبر دیکھ کر پیشانی پر بل پڑ گئے۔

“یہ اس ٹائم کیوں کر رہا ہے فون۔۔۔۔”

وہ اسکرین کو دیکھتی ہوئی سوچنے لگی۔

“کیا ہوا فون کیوں نہیں اٹھا رہی۔۔۔۔۔”

انشرح جو بک پر جھکی تھی رنگ ٹون کے خلل ڈالنے کے باعث بول پڑی۔

“نہیں وہ ایک پرانی دوست کا ہے اس لئے سوچ رہی تھی کہ اٹھاؤں یا نہیں۔۔۔۔۔”

ذونی نے کہتے ہوۓ کال کاٹ دی۔

ازلان آبرو اچکا کر اسکرین کو دیکھنے لگا۔

“اس وقت اٹینڈ نہیں کر سکتی میسج پر بات کرو۔۔۔۔۔”

ذونی کا میسج پڑھ کر اس کے تنے ہوۓ اعصاب ڈھیلے پڑے۔

“رہنے دو کل یونی میں ملنا مجھے۔۔۔۔۔”

میسج بھیج کر ازلان نے فون جیب میں ڈال لیا۔

“یار سیفی چلے گا۔۔۔۔۔”

زین اس کے سامنے آتا ہوا بولا۔

“کہاں؟۔۔۔۔۔”

سیفی پورا منہ کھولے اسے دیکھنے لگا۔

“بھابھی کو لینے۔۔۔۔۔”

زین شرارت سے بولا۔

“صحیح صحیح بتا۔۔۔۔۔”

وہ خفگی سے بولا۔

“یار کومل سے ملنے جا رہا ہے۔۔۔۔۔”

ازلان نے مداخلت کی۔

“تو کومل کو میری گود میں بٹھانا ہے جو مجھے ساتھ لے جا رہا؟۔۔۔۔۔”

سیفی جل کر بولا۔

“ہاہاہاہا نہیں تو بھی اپنی والی کو بلا لے ایک ساتھ چلتے ہیں۔۔۔۔۔” وہ بائیں آنکھ دباتا ہوا بولا۔

“نہ بھائی میں یہیں پر اچھا ہو وہ چڑیل پہلی بات ہی کرے گی بےبی کیا گفٹ لاےُ ہو میرے لئے, نہ بےبی کی تو جیسے گفٹ والی دکان ہے نہ۔۔۔۔۔”

سیفی تپ کر بولا۔

جب کہ باقی سب ہنس رہے تھے۔

“تو تجھے کس نے کہا تھا ایسی جی ایف رکھ۔۔۔۔۔”

زین قہقہ لگاتا ہوا بولا۔

سیفی منہ بسورتا فون کو دیکھنے لگا۔

“یار وکی ایسا کرتے ہیں اس کے والی کو فون کر تجھ سے تو گفٹ نہیں مانگے گی۔۔۔۔۔” زین کی آنکھوں میں شرارت تھی۔

وکی نے فوراً فون نکالا اور نمبر ملانے لگا۔

“میں نے منہ توڑ دینا ہے تم دونوں کا۔۔۔۔۔” سیفی موبائل کھینچ کر خونخوار نظروں سے دیکھنے لگا۔

“بچو پھر چپ چاپ آ جا میرے ساتھ ورنہ ایک دن کے لئے اپنی والی ادھار دے دے۔۔۔۔۔”

زین پرفیوم لگاتا ہوا بولا۔

سیفی نا چاہتے ہوۓ بھی اٹھ گیا۔

ازلان اور وکی اس کی شکل دیکھ کر لطف اندوز ہو رہے تھے۔

“یار مجھے نہ مارکیٹ جانا یے۔۔۔۔۔”

حرم بالوں کی پونی بناتی ہوئی بولی۔

“ابھی کچھ دن پہلے تو گئے تھے اب کیا لینا یے۔۔۔۔۔”

آمنہ حیرت سے بولی۔

“یار ازلان نے کہا ہے کہ شرٹ لا کر دو مجھے۔۔۔۔۔” حرم پریشانی سے کہتی بیڈ پر بیٹھ گئی۔

“تم پاگل ہو کیا اس نے مذاق میں کہا ہو گا۔۔۔۔۔”

ذوناش ششدہ سی بولی۔

“نہیں یار وہ بلکل سنجیدہ تھا اور میرے کون سے پیسے ختم ہو جائیں گے اگر میں اسے ایک شرٹ لا دوں گی۔۔۔۔”

حرم سادگی سے بولی۔

“حرم تم بہت بھولی ہو وہ تمہیں تنگ کرنے کے لیے کہ رہا ہو گا۔۔۔۔۔”

اب کی بار انشرح نے اسے سمجھانا چاہا۔

“ٹھیک ہے کرو پھر اپنی مرضی۔۔۔۔۔”

حرم لحاف اوڑھ کر لیٹ گئی۔

“اس میڈم کا پتہ نہیں چلتا کب ناراض ہو جاےُ۔۔۔۔” آمنہ سامان سمیٹتی ہوئی بولی۔

“رہنے دو صبح خود ہی سیٹ ہو جاےُ گی۔۔۔۔”ذوناش اسے اشارہ کرتی ہوئی بولی۔

****//////****

“پتہ ہے تمہیں بہت مس کیا میں نے۔۔۔۔”

شاہ ویز خمار آلود لہجے میں بولا۔

عینی کی زلفیں شاہ ویز کے چہرے پر تھے۔

شاہ ویز اس کی گود میں سر رکھے ہوۓ تھا۔

“جھوٹ بولتے ہو تم۔۔۔۔۔” وہ خفا خفا سی بولی۔

“تمہاری قسم, بھائی نے پابندیاں لگا دیں ہیں ورنہ میں تمہارے بغیر کیسے رہ سکتا ہوں۔۔۔۔۔”

شاہ ویز اٹھ کر بیٹھ گیا۔

“تو تم اپنے بھائی کو بتا دو ہمارے ریلیشن کا۔۔۔۔۔”

وہ شاہ ویز کے سینے پر انگلی چلاتی ہوئی بولی۔

“بھائی کو بھی بتا دوں گا جب ٹائم آےُ گا۔۔۔۔۔” وہ عینی کو اپنی جانب کھینچتا ہوا بولا۔

اور عینی اس میں سمٹ گئی۔

“شاہ ویز۔۔۔۔۔”

عینی کچھ دیر بعد بولی۔

“ہمممم۔۔۔۔۔”شاہ ویز مصروف سے انداز میں بولا۔

“تم صبح گھر جاؤ گے نہ؟۔۔۔۔۔”

عینی نے خدشہ ظاہر کیا۔

شاہ ویز اس سے الگ ہوا اور اس کے بال کام کے پیچھے کرنے لگا۔

“نو بےبی مجھے تھوڑی دیر میں نکلنا ہے۔۔۔۔۔”

“یہ کیا بات ہوئی شاہ ویز میں سارا دن یہاں اکیلی کیا کرتی رہا کروں بار بار ہاسٹل سے نکلنا آسان نہیں ہے۔۔۔۔۔”

وہ خفگی سے بولی۔

“میں سوچ رہا ہوں تمہیں ایک اپارٹمنٹ لے دوں رینٹ پر, تاکہ کوئی مسئلہ نہ ہو پھر بہانے بنانے کی نوبت نہیں آےُ گی۔۔۔۔۔”

“ہاں اور گھر معلوم ہو گا پھر کیا بولوں گی میں کس کے اپارٹمنٹ میں رہ رہی ہوں۔۔۔۔۔”

عینی اس کا ہاتھ جھٹکتی ہوئی بولی۔

“یار کچھ بھی کہ دینا۔۔۔۔۔” شاہ ویز لاپرواہی سے بولا۔

“شاہ ویز تمہارا یہی رویہ مجھے پسند نہیں۔۔۔۔۔۔”

عینی خفگی سے بولی۔

“اوکے بےبی میں کچھ سوچتا ہوں۔۔۔۔۔”

شاہ ویز اس کا منہ تھپتھپاتا ہوا بیڈ سے اتر گیا۔

“اتنی جلدی جا رہے ہو۔۔۔۔۔”

وہ منہ بناتی ہوئی بولی۔

“اگر میں نہ گیا تو بھائی آ جائیں گے۔۔۔۔۔”

شاہ ویز صوفے سے شرٹ اٹھا کر پہننے لگا۔

“اب دوبارہ آؤ تو اپنے بھائی سے ٹائم لے کر آنا ورنہ میں واپس ہاسٹل چلی جاؤں گی۔۔۔۔”

شاہ ویز کا فون رنگ کرنے لگا تو ہاتھ ہلاتا تیزی سے باہر نکل گیا۔

“بھائی کیوں میرے پیچھے پڑ گئے ہیں۔۔۔۔”

شاہ ویز کوفت سے بولا۔

شاہ کی نگاہ مہر پر تھی جو چاولوں میں چمچ ہلا رہی تھی۔

فون جیب میں ڈال کر مہر کے سامنے آ بیٹھا۔

“یہ کھیلنے کے لیے نہیں ہیں۔۔۔۔۔” وہ خفگی سے بولا۔

“تمہیں کیا تکلیف ہے۔۔۔۔۔”

مہر تنک کر بولی۔

شاہ نے مہر کے بال دبوچ کر اس کا چہرہ اوپر اٹھایا۔

“یہ جو زبان ہے نہ میرے سامنے استعمال نہ ہی کرو تو بہتر ہو گا ورنہ بولنے کے قابل نہیں رہو گی۔۔۔۔۔”

شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔

مہر دانت پیستی شاہ کو دیکھنے لگی۔

“کچھ بھی کر لو میری زبان بند نہیں ہو گی۔۔۔۔۔”

مہر اس کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی۔

شاہ تلملا کر اسے دیکھنے لگا پھر جھٹکے سے اس کے بال چھوڑ دئیے۔

پلیٹ اٹھا کر زمین پر پٹخ دی۔

مہر لب بھینچے بائیں جانب دیکھنے لگی۔

“اٹھو یہاں سے۔۔۔۔۔”

شاہ اس کی بازو پکڑ کر کھینچتا ہوا بولا۔

مہر اس کے ساتھ گھسیٹتی چلنے لگی۔

“کیا مسئلہ ہے تمہیں۔۔۔۔۔” مہر کوفت سے بولی۔

“کل آؤں گا میں ایک دن کا وقت ہے نکاح یا پھر۔۔۔۔۔”

شاہ بات ادھوری چھوڑ کر اسے دیکھنے لگا۔

یہ چھوٹا سا کمرہ بلکل خالی تھا۔

تاریکی میں کھڑی مہر شاہ کو دیکھنے لگی جو دروازے کے وسط میں کھڑا تھا۔

دروازے کھلنے ہونے کے باعث کمرے میں روشنی آ رہی تھی۔

مہر دائیں بائیں چہرہ موڑتی کمرے کو دیکھنے لگی۔

فرنیچر کے نام پر ایک شے بھی موجود نہ تھی نہ ہی کوئی بلب تھا۔

“تم مجھے یہاں چھوڑ کر جاؤ گے۔۔۔۔۔۔”

مہر دھیمی آواز میں بولی۔

“بلکل۔۔۔۔۔”

شاہ کے چہرے پر بلا کی سختی تھی ضبط کے باعث آنکھیں سرخ ہو رہیں تھیں۔

شاہ نے دروازہ بند کر کے لاک کر دیا۔

مہر اندھیرے میں ڈوب گئی۔

انجان جگہ پھر خوفناک تاریکی کے ساےُ۔

مہر کو خوف محسوس ہونے لگا۔

وہ ہاتھ مسلتی زمین پر بیٹھ گئی۔

“ایک دن میں یہیں پر رہوں گی کیا؟۔۔۔۔”

وہ خودکلامی کرنے لگی۔

“کس مصیبت میں پھنس گئی ہوں میں,

مجھے وہاں سے نہیں آنا تھا پھر کیسے شاہ سے نکاح کر لوں،مجھے کوٹھے پر رہنا ہے۔۔۔۔۔”

مہر اشک بہاتی بول رہی تھی۔

“مہر اچھا ہے نہ شاہ سے نکاح کے بعد اس ذلت بھری زندگی سے نجات مل جاےُ گی۔۔۔۔۔”

مہر کو اپنے اندر سے آواز سنائی دی۔

“کیا مجھے شاہ سے نکاح کر لینا چائیے؟۔۔۔۔۔”

مہر خود سے استفسار کرنے لگی۔

“کیا کروں کیا نہ کروں کچھ سمجھ نہیں آ رہا شاہ نے مجھے کشمکش ڈال دیا یے۔۔۔۔۔”

مہر نے سر گھٹنوں پر رکھ لیا۔

خاموشی میں مہر کی سسکیاں ارتعاش پیدا کر رہیں تھیں۔

شاہ نے کمرے سے گاڑی کی چابیاں اٹھائیں اور باہر کی جانب چلنے لگا۔

“شکر ہے تم نے بھی شکل دکھائی۔۔۔۔۔”

شاہ کرسی کھینچ کر بیٹھا تو ضوفشاں بیگم خفگی سے بولیں۔

شاہ خاموشی سے پلیٹ میں کھانا ڈالنے لگا۔

“اپنے کام سے نکلو اور کچھ چھوٹے کی بھی خبر لو۔۔۔۔۔”

کمال صاحب اونچی آواز میں بولے۔

“معلوم ہے برہان کے ساتھ ہوتا ہے۔۔۔۔۔”

شاہ نوالہ منہ میں ڈالتا ہوا بولا۔

“برہان کے ساتھ نہیں بے غیرت لڑکیوں کے ساتھ ہوتا ہے؟۔۔۔۔”

وہ ہنکار بھرتے ہوۓ بولے۔

“بابا سائیں میں نے نوید کو بھیجا تھا وہ بتا رہا تھا برہان کے ساتھ ہوٹل میں بیٹھا تھا کسی لڑکی کے ساتھ نہیں۔۔۔۔”

شاہ زور دے کر بولا۔

“جو بھی ہو شاہ تم اسے سیدھا کرو ہماری تو کسی کی نہیں سنتا وہ بد بخت۔۔۔۔۔۔”

ضوفشاں بیگم منہ بناتی ہوئیں بولیں۔

“میں نے فون کیا تھا آتا ہو گا پوچھتا ہوں اس سے۔۔۔۔”

شاہ مصروف سے انداز میں بولا۔

کمال صاحب اثبات میں سر ہلاتے کھانے لگے۔

“شہریار نظر نہیں آ رہا۔۔۔۔”

شاہ ہاتھ صاف کرتا ہوا بولا۔

“وہ ماریہ کو لے کر اس کی امی کی طرف گیا ہے۔۔۔۔۔”

ضوفشاں بیگم شاہ کو دیکھتی ہوئیں بولیں۔

“ہاں عدیل آیا تھا تم آفس سے جلدی چلے گئے تھے کیا؟۔۔۔۔”

وہ حیرت سے بولیں۔

شاہ کے ماتھے پر شکن تک نہیں تھی۔

“میں بات کر لوں گا اس سے۔۔۔۔۔۔”

شاہ موبائل نکالتا ہوا بولا۔

وہ خاموشی سے کھانا کھانے لگیں۔

شاہ ویز محتاط انداز میں چلتا ہوا اندر آیا۔

“چھوٹے اِدھر آؤ۔۔۔۔۔”

شاہ کی نظریں ہنوز اسکرین پر تھیں۔

شاہ ویز دانتوں تلے زبان دیتا اس جانب آ گیا۔

“جی بھائی۔۔۔۔۔”

شاہ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بیٹھنے کا بولا۔

شاہ ویز اس کے ساتھ والی کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔

“تمہیں میری بات سمجھ نہیں آتی جب ایک بار بولا ہے کہ برہان کے ساتھ دکھائی نہ دو تو پھر۔۔۔۔‍”

آہستہ آہستہ شاہ کی آواز بلند ہوتی جا رہی تھی۔

“وہ بھائی کچھ کام۔۔۔۔۔”

شاہ ویز ضوفشاں بیگم کو دیکھتا ہوا بولا۔

نظروں ہی نظروں میں ان سے مدد طلب کر رہا تھا۔

“چھوٹے لاسٹ وارنگ ہے اگر تم دوبارہ مجھے اس برہان کے ساتھ دکھائی دئیے تو اس گھر میں واپس نہیں آنے دوں گا۔۔۔۔۔‍”

شاہ کہہ کر نکل گیا۔

شاہ ویز لب بھینچے اسے جاتا دیکھنے لگا۔

“مجبور مت کرو اسے کہ وہ کوئی انتہائی قدم اٹھاےُ۔۔۔۔۔”

کمال صاحب غصے سے گویا ہوۓ۔

“آپ لوگوں کی وجہ سے وہ مجھ سے ایسے بات کر رہے ہیں۔۔۔۔۔”

شاہ ویز غصے سے دھاڑتا چلا گیا۔

“دماغ خراب کر دیا ہے اس برہان نے اس کا۔۔۔۔۔”

کمال صاحب نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولے۔

“کھڑی کھڑی کیا دیکھ رہی ہو سالن لے کر آؤ۔۔۔۔۔”

ضوفشاں بیگم ملازمہ پر برس پڑیں۔

“ہاں عدیل بول۔۔۔۔۔”

شاہ فون کان سے لگاےُ کھڑا تھا۔

“یار تو نے بتایا ہی نہیں مہر کو خرید لایا ہے۔۔۔۔۔”

عدیل کے لہجے میں حیرانی کا عنصر تھا۔

“ہاں بس ایسے ہی۔۔۔۔۔”

شاہ سر کھجاتا ہوا بولا۔

“خیر ہے کیوں لے کر آیا اسے۔۔۔۔‍‍”

عدیل تشویش سے بولا۔

“میں نے سوچا روز روز کوٹھے پر جانا نہ پڑے۔۔۔۔۔”

“یہی وجہ ہے یا کچھ اور۔۔۔۔۔”

عدیل مطمئن نہیں ہوا۔

“اور کیا وجہ ہو گی, ابھی کچھ کام کرنے لگا پھر صبح ملتے ہیں۔۔۔۔۔”

شاہ نے بنا کچھ سنے فون بند کر دیا۔

شاہ کھڑکی میں آ کر کھڑا ہو گیا‍۔

خاموش تاریک رات، فلک بھی تاریک ہی دکھائی دے رہا تھا۔

شاہ نے پردے کھڑکی کے آگے گرا دئیے اور چینج کرنے ڈریسنگ میں چلا گیا۔

****/////////****

حرم ٹیسٹ لکھ رہی تھی جب اچانک قلم کی سیاہی ختم ہو گئی۔

اس نے سیاہی دیکھی تو پین چھڑکنے لگی تاکہ لکھ سکے۔

“انک ہے پھر چل کیوں نہیں رہا۔۔۔۔۔”

حرم کی پیشانی پر شکنیں ابھریں۔

حرم مسلسل پین کو جھٹک رہی تھی یہ دیکھنے بنا کہ سیاہی کے قطرے ازلان پر گر رہے ہیں۔

“واٹ دِی ہیل اِز دِس۔۔۔۔۔”

ازلان چلاتا ہوا کھڑا ہو گیا۔

حرم پیشانی پر بل ڈالے اسے دیکھنے لگی۔

“اسے کیا ہو گیا۔۔۔۔۔”

آمنہ اس کے عقب سے بولی۔

“مجھے کیا معلوم۔۔۔۔۔”حرم چہرہ موڑ کر بولی۔

“تمہیں کام کرنے کی تمیز نہیں ہے۔۔۔۔۔”

ازلان اس کے سر پر آن پہنچا۔

“ازلان کیا ہوا۔۔۔۔۔۔”

پروفیسر خفگی سے بولے۔

حرم ششدہ سی ازلان کو دیکھنے لگی جس کے چہرے اور شرٹ پر سیاہی کے قطرے دکھائی دے رہے تھے۔

حرم کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔

“تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟۔۔۔۔۔”

ازلان دانت پیستا ہوا بولا۔

“ازلان آپ اس وقت کلاس میں کھڑے ہیں۔۔۔۔”

پروفیسر اونچی آواز میں بولے….