Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 41
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 41
Tawaif by Hamna Tanveer
“کمبخت دو بار بے ہوش ہو چکی ہے لیکن پھر بھی آنسو بہاےُ جا رہی۔کون سے ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے ہیں تجھ پر؟”
زلیخا بیگم تاؤ کھاتی ہوئی بولیں۔
حرم کے چہرے پر نیل پڑے ہوۓ تھے۔
ناک سے بہنے والا خون جم چکا تھا۔ جو اس بات کی نشانی تھی کہ اس پر ہاتھ اٹھایا گیا ہے۔
“پلیز مجھے جانے دیں میرے بھائی و وہ میرا انتظار کر رہے ہوں گے؟”
حرم اشک بہاتی بول رہی تھی۔
“ٹیپ لگا اس کے منہ پر فضول کی بکواس نہیں سننی مجھے۔اور زنیرہ کے کمرے میں پھینک آ دو دن بھوکی پیاسی رہے گی تو عقل ٹھکانے آ جاےُ گی اس کی۔۔۔”
وہ خونخوار نظروں سے گھورتی ہوئی بولیں۔
“رانی اسے زنیرہ کے کمرے میں پھینک دینا۔۔۔”
وہ حرم کو باہر دھکیلتی ہوئی بولی۔
رانی جو لٹ انگلی پر لپیٹتی جا رہی تھی ناگواری سے حرم کے گرے ہوۓ وجود کو دیکھنے لگی۔
حرم کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا لیکن یہاں رحم کھانے والا کوئی بھی نہیں تھا۔
رانی اس کا بازو پکڑتی اسے گھسیٹنے لگی۔
زنیرہ کے کمرہ کا دروازہ کھول کر اسے اندر پٹخا اور دروازہ بند کر باہر نکل گئی۔
“بیگم صاحبہ میں سوچ رہی ہوں کہ لڑکی کو اعجاز کے حوالے نہ کر دیں؟”
بانی ان کے سامنے بیٹھتی ہوئی بولی۔
“دماغ خراب ہو گیا ہے کیا؟ اس حرائمہ منحوس ماری کو بھول گئی ہے مہینہ بیڈ پر پڑی رہی تھی اور اس میں تو مجھے لگتا ہے جان ہے ہی نہیں اور وہ اعجاز جنگلی۔کچھ ہو گیا تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔۔۔”
وہ نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولیں۔
“جا دفعہ ہو وہ منحوس رو رہی ہے یہ اچھی مصیبت پال لی ہے وہ چڑیل بھی واپس نہیں آ رہی ورنہ بچی کو اس کے حوالے کروں بھئ ہمیں نہیں چائیے۔۔۔”
زلیخا بیگم ہاتھ کھڑے کرتی ہوئی بولیں۔
بانی عجلت میں اندر بھاگی۔
اسے اس بچی سے انسیت ہو گئی تھی۔
اتنی چھوٹی سی بچی پر یہ ظلم نہیں تو اور کیا تھا۔
****/////////****
“زین تو نے نظر رکھی ہوئی ہے نہ ذوناش پر؟”
ازلان اسے تکیہ مارتا ہوا بولا جو ہینڈ فری لگاےُ بیٹھا تھا۔
“ہا ہاں کڑی نظر رکھی ہے فکر مت کر۔۔۔”
زین سیدھا ہوتا ہوا بولا۔
“تجھے لگتا ہے یہ ذوناش کا کام ہے؟”
وکی سیگرٹ سلگاتا ہوا بولا۔
“لگتا نہیں مجھے یقین ہے اس اسی۔۔۔۔۔۔کا کام ہے۔۔۔”
ازلان کش لیتا ہوا بولا۔
“زین اگر وہ ہاتھ سے نکلی نہ تو، تو میرے ہاتھ سے نہیں بچے گا۔۔۔”
ازلان خونخوار نظروں سے گھورتا ہوا بولا۔
“کیا پتہ وہ صبح میں جاےُ؟”
زین آبرو اچکا کر بولا۔
“میں جانتا ہوں وہ بیوقوف رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر نکلے گی۔۔۔”
ازلان سر جھٹکتا ہوا بولا۔
“ازلان یو آر رائٹ۔وہ نکل رہی ہے۔۔۔”
زین ایک ہی جست لگا کر اس کے پاس آیا۔
“میں نے کہا تھا نہ؟”
ازلان سیگرٹ ایش ٹرے میں مسلتا گاڑی کی چابی اٹھانے لگا۔
“کہاں؟”
سیفی اس کی تیاری دیکھ کر بولا۔
“بریانی کھانے کی تیاری کر لو تم لوگ۔۔۔”
ازلان کہہ کر باہر نکل گیا۔
اپنے پیچھے اسے قہقہے سنائی دئیے۔
ازلان گاڑی لے کر نکلا اور ہاسٹل کے راستے پر ڈال دی۔
ذوناش فون پر بات کر رہی تھی۔
ازلان آنکھیں چھوٹی کیے اسے دیکھ رہا تھا۔
وہ پیدل چل رہی تھی ازلان اس سے کچھ فاصلے پر تھا۔
اس نے رکشہ روکا اور اندر بیٹھ گئی۔
ازلان نے گئیر لگایا اور گاڑی اس رکشے کے پیچھے لگا دی۔
آدھ گھنٹے کا سفر طے کر کے وہ ایک گھر کے سامنے رکی۔
گھر کافی بڑا اور عجیب ہی طرز کا تھا۔
ازلان محتاط انداز میں گاڑی سے نکلا اور چلنے لگا۔
ذوناش اندر جا چکی تھی ازلان بھی اندر آ گیا۔
اندر کا ماحول دیکھ کر ازلان کا دماغ گھوم گیا۔
“حرم یہاں ہے؟”
وہ سر پر ہاتھ مارتا مجرا کرتی لڑکیوں کو دیکھتا ہوا بولا۔
ازلان اپنے تاثرات نارمل کرتا چلنے لگا۔
ذوناش غائب ہو گئی تھی۔
ازلان دائیں بائیں دیکھتا چل رہا تھا۔
سمجھ نہ آیا تو زینے چڑھنے لگا۔
وہ جگہ ایسی تھی کہ روک ٹوک کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
ازلان راہداری میں چلتا جا رہا تھا دائیں جانب ریلنگ تھی تو بائیں جانب کمرے۔
دروازے بند تھے ازلان نے کسی بھی دروازے کو کھولنا مناسب نہیں سمجھا۔
“آہ چھوڑییے نہ۔۔۔”
ازلان کو ایک کمرے سے آواز سنائی دی۔
ازلان کو کراہیت محسوس ہو رہی تھی۔
“حرم تمہیں وہ اتنی گندی جگہ پر لے آئی؟ ذوناش تمہیں زندہ دفن کر دوں گا میں۔۔۔”
ازلان مٹھی بھینچ کر بولا۔
ایک کمرے سے رانی برآمد ہوئی۔
ازلان کو دیکھ کر وہ اس کے پاس آ گئی۔
“کیا خیال ہے پھر کمرے میں چلیں۔۔۔”
وہ ازلان کے قریب آتی اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی۔
ازلان ضبط کرتا اسے پرے کرنے لگا۔
“آج نہیں کل۔۔۔”
ازلان مسکراتا ہوا بولا۔
“چلیں جناب کل سہی ہم انتظار کریں گے آپ کا۔۔۔”
وہ ادا سے کہتی چلنے لگی۔
ازلان کو اس کی بےباک نظریں اور بےباک لباس سے شرم محسوس ہو رہی تھی۔
“کس قدر گھٹیا جگہ ہے یہ۔۔۔۔”
ازلان بولتا ہوا چلنے لگا۔
بانی ایک کونے میں کھڑی ماناب کو سلانے کی کوشش کر رہی تھی جو مسلسل روےُ جا رہی تھی۔
بچی کے رونے کی آواز سن کر ازلان اس سمت میں قدم بڑھانے لگا۔
وہ تعجب سے دیکھتا چلتا جا رہا تھا۔
بانی ماناب کو کندھے سے لگاےُ تھپک رہی تھی۔
ازلان ماناب کا چہرہ بخوبی دیکھ سکتا تھا اور پہچاننے میں ایک لمحہ نہیں لگایا اس نے۔
“یہ تو ماناب ہے! حرم کی بھتیجی۔۔۔”
ازلان ششدر سا اسے دیکھتا موبائل نکالنے لگا۔
تصویریں کھولیں تو ماناب کی تصویر دیکھنے لگا پھر چہرہ اٹھا کر اس بچی کو دیکھا تو تصدیق کی مزید گنجائش نہیں نکلتی تھی۔
“یہ یہاں کیسے؟”
ازلان سوچتا ہوا بانی کے عین عقب میں کھڑا ہو گیا۔
ماناب کو اس کے شانے سے اٹھایا اور اپنے شانے سے لگا لیا۔
بانی ہکا بکا سی ازلان کو دیکھنے لگی۔
“آپ نے بچی کو کیوں اٹھا لیا؟”
بانی ناسمجھی سے اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“تمہاری مالکن کہاں ہے؟”
ازلان پیچ و تاب کھا کر بولا۔
“وہ اس کمرے میں ہیں۔۔۔”
بانی گھبرا کر ہاتھ سے اشارہ کرنے لگی۔
ازلان نے پاؤں سے کمرے کا دروازہ کھولا۔
“یہ بچی کہاں ہے آئی تمہارے پاس؟”
ازلان میز پر ہاتھ مارتا چلایا۔
زلیخا بیگم بھانپ گئیں کہ وہ بچی کا باپ ہے۔
“صاحب میں غریب نہیں جانتی ایک ادھیڑ عمر عورت آئی تھی اور اسے یہاں دے کر چلی گئی قسم لے لیں جو میں نے اغوا کیا ہو۔۔۔”
زلیخا مظلومیت سے بولی۔
کیونکہ وہ ماناب سے جان چھڑانا چاہتی تھی اب اگر کوئی اس کا وارث آ گیا تھا تو اس نے صاف صاف اسے سب بتا دیا۔
ازلان اثبات میں سر ہلانے لگا۔
“شکر کرو تم کہ میں پولیس کو نہیں لایا ورنہ ابھی کہ ابھی سلاخوں کے پیچھے ہوتی۔۔۔”
ازلان گلاس اٹھا کر دیوار پر مارتا ہوا بولا۔
شیشہ ٹوٹنے کی آواز پر زلیخا بیگم نے آنکھیں بند کر کے کھولیں۔
“صاحب میں نے تو آپ کو ایک ایک حرف سچ بتایا ہے اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔۔۔”
وہ معذرت خواہانہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“حرم کہاں ہے؟ اگر خود پوچھا تو کبھی نہیں بتاےُ گی یہ۔ماناب تو بچی ہے اس لئے فوراً قبول کر لیا لیکن حرم جوان ہے۔۔۔”
ازلان سوچتا ہوا دروازے کی جانب قدم بڑھا رہا تھا۔
“شکر ہے جان چھوٹی۔۔۔”
زلیخا بیگم سانس خارج کرتی ہوئی بولی۔
“آئمہ کو فون کر زنیرہ کے ساتھ وہ بھی آ جاےُ۔۔۔”
زلیخا بیگم بانی کو دیکھتی ہوئی بولیں۔
“ذوناش یہی آئی تھی مطلب حرم یہی پر ہے۔۔۔”
ازلان بولتا ہوا باہر نکل آیا تھا۔
ماناب رو رہی تھی اور ازلان کو بچے چپ کروانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔
“ماناب چپ کر جاؤ۔۔۔”
ازلان اس کی پشت تھپتھپاتا ہوا بولا۔
لیکن ماناب خاموش ہونے کی بجاےُ مزید رونے لگی۔
اس کی آواز کافی اونچی تھی۔وہ کسی نیند میں ڈوبے انسان کو جگانے کی بھرپور اہلیت رکھتی تھی۔
“پہلے اسے چھوڑ آتا ہوں پھر حرم کو ڈھونڈوں گا۔بھوک نہ لگی ہو اسے۔۔۔”
ازلان فکرمندی سے کہتا گاڑی کے پاس آ گیا۔
ماناب کو گود میں بٹھایا پھر سیٹ بیلٹ باندھی اور گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔
ماناب اس نئے تجربے سے خاموش ہو چکی تھی۔
ازلان اس کے خاموش ہونے سے کچھ مطمئن ہوا۔
گاڑی ہوا سے باتیں کر رہی تھی وہ جلد از جلد ماناب کو شاہ کے حوالے کرنا چاہتا تھا۔
حویلی کا گیٹ دیکھ کر ازلان کے لب مسکرانے لگے۔
بچپن کی کھٹی مٹھی یادیں وابستہ تھی اس حویلی سے۔
“یہ دیکھو گڑیا ہم آ گئے گھر۔۔۔”
ازلان سیٹ بیلٹ کھولتا ماناب کو دیکھتا ہوا بولا۔
ماناب منہ بسورتی اسے دیکھ رہی تھی۔
“آپ کو ڈرائیونگ کرنی تھی؟”
ازلان اس کے تیور بھانپ کر بولا۔
ماناب رونے کا ارادہ رکھتی تھی ازلان اس کا ارادہ بھانپ کر باہر نکلا اور چوکیدار کے پاس آ گیا۔
“مجھے مصطفیٰ شاہ سے ملنا ہے۔۔۔”
ازلان اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“یہ تو شاہ صاحب کی بیٹی ہے۔۔۔”
وہ ماناب کو دیکھتا حیرت سے بولا۔
“میں نے کب کہا میری بیٹی ہے گیٹ کھولو اور مجھے اندر جانے دو۔۔۔”
ازلان خفگی سے بولا۔
چوکیدار نے گیٹ بجایا تو اندر سے دوسرے چوکیدار نے گیٹ کھول دیا۔
ازلان آس پاس نظر ڈالتا چلنے لگا۔
اس حویلی کی در و دیوار سے وہ واقف تھا۔
“مصطفیٰ بھائی کو بلا دیں۔۔۔”
ازلان ملازمہ کو دیکھتا ہوا بولا۔
ملازمہ کے عقب سے عافیہ نمودار ہوئی۔
“ازلان تم؟”
وہ حیران ہوۓ بنا نہ رہ سکی۔
ملازمہ ماناب کو دیکھتی زینے چڑھنے لگی۔
“شاہ صاحب؟”
وہ دروازہ بجاتی ہوئی بولی۔
“اب کیا مصیبت آن پڑی ہے؟”
شاہ دروازے کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔
“آپ یہاں کیسے؟”
ازلان متحیر سا بولا۔
“میری شادی شہریار سے ہوئی ہے اور ماناب تمہارے پاس کیسے؟”
اب وہ مزید حیران ہوئی۔
“فرماؤ؟”
شاہ بیزاری سے بولا۔
“شاہ صاحب کوئی ماناب بی بی کو لے کے آیا ہے آپ کو بلا رہا ہے۔۔۔”
ملازمہ خوشی سے چہکی۔
شاہ بےیقینی سے اسے دیکھنے لگا۔
مہر اس کی آواز سن چکی تھی۔
شاہ بنا کچھ بولے بھاگنے لگا۔
وہ تیزی سے زینے اتر کر نیچے آیا تو نظر ماناب پر پڑی۔
شاہ کو لگا کسی نے اس میں جان ڈال دی۔
روح پرواز کر رہی تھی لیکن پھر سے اسے واپس جسم میں ڈال دیا۔
آنسو ٹپ ٹپ اس کے رخسار پر گرے رہے تھے۔
شاہ نے ماناب کو پکڑا اور اس کے چہرے پر بوسے دینے لگا۔
کبھی سینے سے لگاتا تو کبھی ماتھا چومنے لگتا۔
شاہ رو رہا تھا۔اسے دیکھ کر ازلان اور عافیہ کی آنکھیں بھی بھر آئیں۔
“کیا کہا ہے تم نے؟ تم نے ماناب کا نام لیا ہے؟”
مہر دروازے پر آتی ملازمہ کو جھنجھوڑنے لگی۔
“جی بی بی جی وہ نیچے ہے۔۔۔”
ملازمہ مسکراتی ہوئی بولی۔
“میری ماناب آ گئی ہے؟”
مہر بولتی ہوئی چلنے لگی۔
شاہ کے چومنے کے باعث ماناب رونے لگی۔
شاہ نم آنکھوں سے مسکرانے لگا۔
مہر کی آنکھیں نمکین پانیوں سے لبریز تھیں۔
منظر دھندلا رہا تھا۔مہر اندھا دھند سیڑھیاں اتر رہی تھی۔
“بھابھی دھیان سے۔۔۔”
عافیہ نے آگے بڑھ کر اسے تھام لیا ورنہ شاید وہ گر جاتی۔
مہر اپنا ہاتھ چھڑواتی شاہ کے پاس آ گئی۔
مہر کی حالت ایسی تھی مانو تپتے صحرا میں جھیل نظر آ گئی ہو۔
وہ برستی آنکھوں سے ماناب کو روتے ہوۓ دیکھ رہی تھی۔
شاہ ابھی تک اس کا ماتھا چوم رہا تھا۔
مہر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی شاہ کے عین مقابل آ گئی۔
شاہ نے مسکراتے ہوۓ ماناب کو اس کے آگے کر دیا۔
مہر نے اشک بہاتے اسے پکڑ لیا۔
اس کی مامتا کو سکون مل گیا۔
مہر اسے سینے سے لگاےُ بلک رہی تھی۔
ماناب بھی رو رہی تھی۔
مہر نے اس کے چہرے پر بوسہ دیا۔
پھر اس کا ہاتھ پکڑا،اس پر بوسہ دیا۔
وہ دیوانہ وار ماناب کو چومتی جا رہی تھی۔
ازلان کی آنکھیں بھی برس رہی تھیں۔
“میری بچی۔۔۔”
مہر اسے سینے سے لگاتی ہوئی بولی۔
شاہ مسکرا کر مہر کو دیکھ رہا تھا۔
“کتنا تنگ کیا آپ نے ماما کو؟”
مہر اسے خفگی سے دیکھتی ہوئی بولی۔
ماناب بھی جیسے مامتا کی چھاؤں کو ترس رہی تھی مہر کے پاس آتی ہی خاموش ہو گئی۔
ازلان پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے اس فیملی سین کو دیکھ رہا تھا۔
شہریار اور شاہ ویز بھی آ گئے۔
“ماناب مل گئی؟”
شہریار خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو کر بولا۔
“ہاں شہریار شکر ہے اللہ پاک کا اس نے ہماری دعا قبول کر لی۔۔۔”
شاہ اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“ازلان تم بیٹھو۔۔۔”
شاہ اس کی جانب متوجہ ہوتا ہوا بولا۔
“نہیں میں اب چلوں گا۔۔۔”
ازلان ہچکچاتا ہوا بولا۔
“بیٹھو مجھے بات کرنی ہے تم سے۔۔۔”
شاہ سنجیدگی سے بولا۔
“ازلان تمہارا بہت بہت شکریہ! تم میری بیٹی کو صحیح سلامت لے آےُ۔۔۔”
مہر اس کی مشکور تھی۔
“نہیں بھا! بھابھی آپ مجھے شرمندہ کر رہی ہیں۔۔۔”
ازلان مسکراتا ہوا بولا۔
شاہ اس کے بھابھی کہنے پر ترچھی نظروں سے اسے دیکھنے لگا لیکن ازلان کے اطمینان میں زرہ برابر کمی نہ آئی۔
شاہ صوفے پر بیٹھا تو ازلان بھی بیٹھ گیا۔
“مہر تم ماناب کو کمرے میں لے جاؤ۔۔۔”
شاہ مہر کو دیکھتا ہوا بولا جو کھڑی تھی۔
مہر اثبات میں گردن ہلاتی عافیہ کے ہمراہ زینے چڑھنے لگی۔
“چاچی بھی آپ سے ناراض ہیں۔۔۔”
عافیہ ماناب کو دیکھ کر بولی۔
ماناب منہ بسورتی مہر کے شانے پر سر رکھے ہوۓ تھی۔
“ابھی یہ سب سے ناراض ہے۔۔۔”
مہر مسکراتی ہوئی بولی۔
عافیہ بھی مسکرانے لگی۔
“میرے بےبی کو بھوک لگی ہے؟”
مہر اسے سامنے کرتی ہوئی بولی۔
ماناب کی آنکھوں میں نیند انگڑائی لے رہی تھی۔
مہر نے اس کے رخسار پر بوسہ دیا اور دروازہ کھول کر کمرے میں آ گئی۔
لائٹ آن کی اور بیڈ کی جانب بڑھنے لگی۔
“ماناب کہاں سے ملی تمہیں؟”
شاہ آبرو اچکا کر بولا۔
شہریار اور شاہ ویز بھی وہیں بیٹھے تھے۔
“کوٹھے سے لایا ہوں۔۔۔”
ازلان بنا پس و پیش میں مبتلا ہوۓ بولا۔
“کوٹھے سے؟”
شاہ سوالیہ نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔
“جی ہاں۔اگر آپ کو ایسا لگ رہا ہے کہ میں ماناب کو۔۔۔”
“ایسی احمقانہ سوچ کی توقع مجھ سے مت رکھو کہ میں یہ کہوں گا کہ تم ہی ماناب کو لے کر گئے تھے۔۔۔”
شاہ اس کی بات کاٹتا سختی سے بولا۔
ازلان اثبات میں گردن ہلانے لگا۔
ازلان کو ایسا محسوس ہو رہا تھا تین بھائیوں کی عدالت میں کسی نے لا کھڑا کیا ہو۔
“تم ماناب کو کیسے جانتے ہو؟کیسے ہماری حویلی میں لے کر آےُ؟”
شہریار نے سوال داغا۔
ازلان شاہ کو دیکھنے لگا۔
“یہ بتاؤ ماناب کوٹھے پر کیسے گئی؟”
شاہ شہریار کے سوال کو نظرانداز کرتا ہوا بولا۔
“کوئی عورت لے کر آئی تھی مجھے تو یہی بتایا ہے۔۔۔”
ازلان شانے اچکاتا ہوا بولا۔
“تم وہاں کیا کر رہے تھے؟”
شاہ تیوری چڑھا کر بولا۔
“میرا خیال ہے اس سوال کا آپ کی بیٹی سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔”
ازلان صوفے سے پشت لگاتا ہوا بولا۔
