Tawaif by Hamna Tanveer NovelR50428 Tawaif Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
Tawaif Episode 22
Tawaif by Hamna Tanveer
عجلت میں بال باندھے، دروازہ لاک کیا اور فون کان سے لگا کر بیٹھ گئی۔
“کب سے فون کر رہا ہوں کہاں تھی تم؟”
ازلان کی خفگی بھری آواز ابھری۔
“وہ میں بال بنا رہی تھی۔۔۔”
حرم سنبھل کر بولی۔
“ازلان ایک بات بتاؤ تم ہمارے گاؤں کیوں آتے تھے؟”
حرم کافی دنوں سے اسی متعلق سوچ رہی تھی۔
“میرے تایا ابو کا گھر ہے تمہارے گاؤں میں لیکن اب نہیں آتے ہم۔۔۔”
“کیوں؟”
بےساختہ حرم کے لبوں سے پھسلا۔
“ہماری بول چال بند ہے۔۔۔”
ازلان بیزاری سے بولا۔
حرم اس کی بات پر ٹھٹھک گئی۔
“تم کیا یہ فضول سی باتیں لے کر بیٹھ گئی ہوں؟”
ازلان اکتا کر بولا۔
“ازلان تم بھی شاہ ہو نہ؟”
“ہاں۔ تم کیوں پوچھ رہی؟”
“ہم خاندان سے باہر شادی نہیں کرتے اس لئے پوچھ رہی تھی۔۔۔”
حرم ہچکچاتی ہوئی بولی۔
ازلان کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ نے احاطہ کر لیا۔
“تمہارے دل میں میرا اکاؤنٹ ہے؟”
ازلان اسے پرکھنے لگا۔
“تمہیں کس نے کہا؟”
حرم گڑبڑا کر بولی۔
“اے بی ایل نے۔۔۔”
ازلان کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔
“مطلب؟”
حرم کے چہرے پر الجھن تھی۔
“اے بی ایل والے کہتے ہیں آپ کے دل میں ہمارا اکاؤنٹ۔۔۔”
ازلان لب دباےُ مسکراتا ہوا بولا۔
حرم بھی دھیرے سے مسکرانے لگی۔
دماغ حرم کا ابھی تک وہیں اٹکا تھا۔
دروازے پر دستک ہوئی تو حرم بوکھلا گئی۔
بنا کچھ کہے فون رکھ دیا۔
ازلان حیرت سے فون کو دیکھنے لگا۔
“شاید کوئی آ گیا ہو۔۔۔”
ازلان بالوں میں ہاتھ پھیرتا باہر نکل آیا۔
“میں سوچ رہی ہوں تم آےُ ہو تو منگنی کر دیں۔۔۔”
ازلان کو دیکھتے ہی شمائلہ بولنے لگیں۔
“کس خوشی میں؟”
ازلان تیکھے تیور لئے بولا۔
“برہان کی شادی کو کتنے سال ہو گئے ہیں اب تمہاری شادی کر کے فارغ ہوجائیں۔ کب تک انتظار کرتے رہیں گے؟”
وہ ازلان کو دیکھتی ہوئی بولیں۔
“امی آپ میری شادی کی ٹینشن مت لیں جب کرنی ہو گی میں بتا دوں گا۔ کہہ تو آپ ایسے رہیں ہیں جیسے فوج تیار کر رکھی ہے بچوں کی جلدی جلدی کریں۔۔۔”
بولتے ہوۓ نظروں کے سامنے حرم کا سراپا گھوم گیا۔
“یہ کیا بات ہوئی بھلا میں نے باجی کو جواب دینا ہے ندا کے لئے وہ کئی بار پوچھ چکی ہیں۔۔۔”
وہ خفا خفا سی بولیں۔
“اس موٹی بھینس کے ساتھ؟ اللہ معاف کرے کیوں میری زندگی تباہ کرنا چاہتی ہیں؟ مجھے اس بلڈوزر کے ساتھ باندھنا چاہتی ہیں؟میں نہیں کرنی اس بلو باندری سے۔۔۔”
ازلان کانوں کو ہاتھ لگاتا منہ بناتا ہوا بولا۔
“ازلان شرم کرو بھانجی ہے وہ میری۔۔۔”
شمائلہ کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
“آپ کی ہے میری تو نہیں۔۔۔”
ازلان محظوظ ہوتا ہوا بولا۔
“اچھا پھر مجھے بتاؤ کون سی لڑکی ہے تمہاری نظر میں خاندان میں اس کے علاوہ تو کوئی بھی نہیں ہے۔۔۔”
وہ ازلان کو دیکھتی ہوئی بولیں۔
“مل جاےُ گی کوئی بھی دنیا میں لڑکیوں کی کمی ہے یا آپ کے بیٹے کو؟”
ازلان بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔
“اپنے ابو سے کہنا بتائیں گے تمہیں؟”
انہوں نے ڈرانا کرنا چاہا۔
“لو ابو کیا کر لیں گے وہ تو خود میری مانتے ہیں۔۔۔”
ازلان بائیں آنکھ دباتا ہوا چلنے لگا۔
“ازلان کبھی تو سنجیدہ ہو جایا کرو۔۔۔”
وہ خفگی سے دیکھتی ہوئی بولیں۔
“ایسے ہی ٹھیک ہو میں۔۔۔”
ازلان مسکراتا ہوا نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
وہ نفی میں سر ہلانے لگیں۔
****////////****
“شاہ ایسے کیسے شاپنگ کریں؟”
مہر سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“ہم لڑکا اور لڑکی دونوں کے لیے کریں گے۔
لڑکا ہوا تو لڑکے کا سامان استعمال کر لینا اور لڑکی ہوئی تو لڑکی کا۔۔۔”
شاہ مسکراتا ہوا بولا۔
مہر مسکراتی ہوئی اس کے ساتھ چلنے لگی۔
“یہ ٹیڈی کیسا ہے؟”
شاہ مہر کے سامنے بڑا سا ٹیڈی لئے کھڑا تھا۔
“بہت اچھا ہے لیکن شاہ ابھی ہمارا بےبی اتنا چھوٹا ہو گا وہ کیسے اتنے بڑے ٹیڈی سے کھیلے گا؟”
مہر اسے دیکھتی ہوئی تاسف سے بولی۔
“کہہ تو ٹھیک رہی ہو لیکن مجھے بہت پسند آیا ہے۔۔۔”
شاہ ٹیڈی کو دیکھتا ہوا بولا۔
“جب بڑے ہو جائیں گے پھر لے لینا۔۔۔”
مہر نے اسے سمجھانا چاہا۔
شاہ خفگی سے اسے دیکھنے لگا۔
“ایسا کرنا تم اسے سنبھال کر رکھ لینا جب ہمارا بےبی بڑا ہو جاےُ پھر اسے دے دینا۔۔۔”
شاہ اس کے قریب آ کر بولا۔
مہر مسکراتی ہوئی نفی میں سر ہلانے لگی۔
“اچھا آپ کو اتنا پسند آیا ہے تو لے لیں میں کیا کہہ سکتی ہوں؟”
مہر شانے اچکاتی کپڑے دیکھنے لگی۔
“اپنے لیے بھی لے لینا جو پسند آےُ۔۔”
شاہ بولتا ہوا آگے چل دیا۔
مہر اس کی پشت دیکھ کر مسکرانے لگی۔
جیسے ہی دونوں گھر میں داخل ہوۓ شاہ نے ملازمہ کے ہاتھ سب کو بلاوا بھیجا۔
شاہ پرجوش انداز میں ایک ایک چیز سب کو دکھا رہا تھا۔
خوشی اس کے چہرے سے چھلک رہی تھی۔
بابا سائیں اسے دیکھ کر مسکرا رہے تھے جس سے اپنی خوشی سنبھالی نہیں جا رہی تھی۔
“برخوردار یہ بڑے بچوں کے کھلونے اٹھا لاےُ ہو؟”
کمال صاحب ہنستے ہوۓ بولے۔
“بابا سائیں میرا تو دل چاہ رہا تھا سب لے آؤں۔۔۔”
شاہ خوشی سے نہال ہو کر بولا۔
“اللہ نصیب میں کرے۔۔۔”
وہ خوشدلی سے بولے۔
“بھئی وارث ہونا چائیے۔۔۔”
ضوفشاں بیگم مہر پر ایک اچٹتی نظر ڈالتی ہوئی بولیں۔
مہر لب کاٹتی شاہ کو دیکھنے لگی۔
“امی لڑکا ہو یا لڑکی اس میں مہر کا کیا عمل دخل آپ بس دعا کریں کہ نیک اور زندگی والی اولاد ہو۔۔۔”
شاہ انہیں دیکھتا ہوا بولا۔
“مجھے تو وارث چائیے بس بیٹی ہوئی تو اسے وہیں چھوڑ آنا جہاں سے اس کی ماں آئی ہے۔۔۔”
شاہ قہر برساتی نظروں سے انہیں دیکھنے لگا۔
“میرا مطلب ہے لڑکی کی کوئی جگہ نہیں ہمارے گھر میں۔۔۔”
وہ سنبھل کر بولیں۔
“بیگم بھولو مت حرم بھی ایک لڑکی ہے اور تم نے پیدا کیا ہے اسے کیا ہم نے اسے باہر پھینکا؟”
کمال صاحب برہمی سے بولے۔
ضوفشاں بیگم لب بھینچے حرم کو دیکھنے لگی۔
ساری خوشی پر اوس پڑ چکی تھی۔
کچھ دیر قبل ان کے چہروں پر جو مسکراہٹ تھی اب اس کی جگہ سنجیدگی نے لے لی۔
شاہ ویز نا چاہتے ہوۓ بھی مہر کو دیکھ رہا تھا۔
اس نے بار ہا اپنے دل کو سمجھایا لیکن نظر گھوم پھر کر اسی پر ٹھر جاتی۔
“شاہ ہمارا بیٹا ہے جب ہم نے بیٹی کی پیدائش پر ایک لفظ نہیں نکالا تو پھر وہ کیوں اپنی اولاد کو پھینک آےُ گا؟”
وہ ضوفشاں بیگم کو دیکھتے افسوس سے بولے۔
بابا سائیں کے بولنے پر شاہ کے چہرے پر کچھ اطمینان دکھائی دیا۔
ماریہ جل بھن کر ایک کونے میں بیٹھی تھی۔
“بھائی میں سوچ رہا تھا کہ ایک بہت بڑی دعوت رکھیں گے چاہے لڑکا ہو یا لڑکی ہو۔۔۔”
شہریار پرجوش سا بولا۔
“لو بھلا لڑکیوں کی پیدائش پر کوئی جشن مناتا ہے؟”
ضوفشاں بیگم منہ بناتی ہوئی بولیں۔
“ہم منائیں گے کیوں بھائی؟”
شہریار انہیں نظرانداز کرتا ہوا بولا۔
“ہاں ضرور لیکن یہ دعوت چاچو کی جانب سے ہو گی۔۔۔”
شاہ اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“بس پھر آپ دیکھیے گا یہ چاچو کیسی شاندار دعوت کا اہتمام کرتا ہے۔۔۔”
شہریار اس کے ہاتھ پر ہاتھ مارتا ہوا بولا۔
“بھابھی کتنا مزہ آےُ گا نہ ہمارے گھر میں بھی ایک چھوٹو سا بےبی آےُ گا۔۔۔”
حرم کو مہر کے ساتھ بیٹھی تھی اس کے کان میں سرگوشی کرنے لگی۔
مہر مسکراتی ہوئی اثبات میں سر ہلانے لگی۔
شاہ ویز اس سب میں خاموش بیٹھا تھا۔
وہ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو رہا تھا۔
مہر کو شاہ کے ہمراہ دیکھنا اسے گوارا نہیں تھا۔
“مہر تمہیں میرے پاس آنا ہو گا کسی بھی صورت میں۔۔۔”
شاہ ویز مہر کو دیکھتا ہوا سوچ رہا تھا۔
“حرم ملازمہ سے کہ کر سارا سامان سمیٹ دو پھر کمرے میں بھیج دینا۔۔۔”
شاہ کھڑا ہوتا ہوا بولا۔
“بھائی ملازمہ کو کیوں میں اپنے ہاتھ سے سب سمیٹوں گی۔۔۔”
حرم مسرور سی بولی۔
شاہ مسکراتا ہوا مہر کو دیکھنے لگا۔
مہر کھڑی ہوئی شاہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور چلنے لگا۔
“شاہ کیا سب آپ کی بات مان لیں گے؟”
مہر ضوفشاں بیگم کے رویے کے باعث پریشان تھی۔
شاہ اس بات سے انجان تھا کہ اس کی غیرموجودگی میں مہر کو کیا کیا سننے کو ملتا ہے۔
“تم نے دیکھا بابا سائیں کے ہوتے ہوۓ مجھے بولنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ میں گھر کا لاڈلا ہوں خاص کر بابا سائیں کا۔ اس لئے جو بات سب کو سمجھانی ہو میں بابا سائیں کو سمجھا دیتا ہوں باقی وہ سنبھال لیتے ہیں۔۔۔”
شاہ زینے چڑھتا بول رہا تھا۔
“شاہ اگر بیٹی ہوئی؟”
مہر کمرے میں آتی فکرمندی سے بولی۔
“بیٹی ہوئی تو کیا؟”
شاہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
“کیا میں نے لڑکی کے لئے چیزیں نہیں خریدیں؟ اپنے دماغ سے یہ خیال نکال دو کہ میں بیٹی ہونے پر ناخوش ہوں گا۔ بیٹا ہو یا بیٹی میری خوشی میں کوئی کمی نہیں آےُ گی۔۔۔”
شاہ اس کے سر پر چت لگاتا ہوا بولا۔
“شاہ ایک بات بتائیں؟”
مہر جھجھکتے ہوۓ بولی۔
“ہاں پوچھو؟”
شاہ اس کے ساتھ بیٹھتا ہوا بولا۔
“آپ اتنے اچھے ہیں نماز پڑھتے ہیں اور بھی دوسری باتوں کا خیال رکھتے ہیں تو پھر کوٹھے پر کیوں آتے تھے؟”
مہر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
شاہ سانس خارج کرتا اسے دیکھنے لگا۔
“یونہی غصہ نکالنا چاہتا تھا۔۔۔”
وہ شانے اچکاتا ہوا بولا۔
“مطلب؟”
مہر الجھ کر اسے دیکھنے لگی۔
“جان بوجھ کر جاتا تھا وہاں۔ کسی کی بیوفائی کے باعث۔۔۔”
شاہ کے چہرے پر صدیوں کا کرب دکھائی دے رہا تھا۔
“لیکن اس سب کا کوٹھے سے کیا تعلق؟”
مہر ناسمجھی سے بولی۔
“وجہ جاننے سے میں بھی قاصر ہوں۔ وہ بری جگہ تھی اسی لیے وہاں جاتا تھا ناراض تھا خود سے اس لئے غلط کام کرنا چاہتا تھا۔۔۔”
آہستہ آہستہ شاہ ماضی کی گرہیں کھول رہا تھا۔
مہر خاموش اسے سن رہی تھی۔
“میری بیوی شفا۔ ہماری پسند کی شادی تھی ایک ساتھ پڑھتے تھے ایک ساتھ جوان ہوۓ۔ میری خالہ کی بیٹی تھی۔۔۔”
مہر انہماک سے اسے سن رہی تھی۔
شاہ کی آنکھیں برسنے لگیں تھیں۔
“معلوم نہیں کیا ہوا وہ مجھے دھوکہ دینے لگی اور میں اس بات سے انجان تھا۔ سب سہی چل رہا تھا ہماری شادی کو ایک سال ہونے کو تھا پتہ نہیں ایسی کیا بات ہوئی جو اس نے مجھ سے بے وفائی کی۔
جب مجھے معلوم ہوا تو میں شہر جا رہا تھا اسے ساتھ لے کر لیکن ہماری گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا اس کے ساتھ ساتھ ہمارا بچہ بھی مر گیا۔اچھا ہوا وہ مر گئی ورنہ شاید میں اسے مار دیتا۔۔۔”
شاہ کے لہجے میں چٹانوں کی سی سختی تھی۔
شاہ نے چہرہ صاف کیا اور مہر کو دیکھنے لگا۔
“اسی باعث میں کوٹھے پر جاتا تھا۔نجانے وہ کب سے مجھے بیوقوف بنا رہی تھی اور میں بنتا جا رہا تھا۔۔۔”
شاہ تلخی سے مسکرایا۔
“شاہ آپ۔۔۔”
مہر نے بولتے ہوۓ اس کے ہاتھ تھام لیے۔
“میں ٹھیک ہوں مہر۔۔۔”
شاہ اس کی بات مکمل ہونے سے قبل بول پڑا۔
مہر نے نم آنکھوں سے مسکرانے ہوۓ سر شاہ کے شانے پر رکھ دیا۔
شاہ نے آنکھیں بند کر لیں۔
ماضی کسی فلم کی مانند اس کے سامنے چل رہا تھا۔
وہ کرب ناک پل پھر سے دکھائی دینے لگے تھے۔
وہ اذیت ناک یادیں آج پھر سے شاہ کے سامنے آن کھڑی ہوئیں تھیں۔
****///////****
“شاہ ہم کہاں جا رہے ہیں؟”
مہر آئینے کے سامنے سے ہٹتی اس کے مقابل آ گئی۔
“پھوپھو کی طرف جانا ہے۔ان کے بیٹے کی مہندی ہے آج۔۔۔”
وہ شانے پر چادر رکھتا ہوا بولا۔
مہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔
مہندی کلر کا لباس زیب تن کئے، بھورے بالوں کی چڑیا بناےُ، ماتھا پٹی لگاےُ، پنکھڑی مانند ہونٹوں کو پنک کلر کی لپ اسٹک سے پوشیدہ کئے وہ دلنشیں لگ رہی تھی۔
شاہ چند لمحے بنا پلک جھپکے اسے دیکھتا رہا۔
“کیا ہوا؟”
مہر پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی بولی۔
“اتنی پیاری لگ رہی ہو میرا جانے کو دل ہی نہیں کر رہا۔۔۔”
شاہ اس کے گرد بازو حمائل کر کے اپنے قریب کرتا ہوا بولا۔
مہر کے چہرے پر حیا کے رنگ بکھر گئے۔
“دن بہ دن تم خوبصورت ہوتی جا رہی ہو یا مجھے ایسا گمان ہو رہا ہے؟”
شاہ اس کے کان میں سرگوشی کرنے لگا تھا۔
“مجھے کیسے معلوم ہو سکتا ہے؟”
مہر اس کی گرفت میں کسمسائی۔
شاہ کے لب مسکرانے لگے۔
اس سے قبل کہ شاہ بولتا دروازے پر دستک سنائی دی۔
“تھوڑی دیر بھی سکون سے نہیں رہنے دیتے۔۔۔”
شاہ منہ بناتا دروازے کی جانب چلنے لگا۔
“بھائی امی کہہ رہی ہیں آ جائیں دیر ہو رہی ہے۔۔۔”
شاہ ویز اندر جھانکتا ہوا بولا۔
“تم چلو میں مہر کو لے کر آتا ہوں۔۔۔”
شاہ مسکراتا ہوا بولا۔
شاہ ویز سر ہلاتا مایوسی سے چلا گیا۔
“آؤ چلیں ورنہ سارے گھر والے آ جائیں گے۔۔۔”
شاہ اسے دیکھتا ہوا بولا۔
مہر بیگ اٹھا کر اس کے ہمراہ چلنے لگی۔
شاہ ویز کی نظریں مہر کے گرد گردش کر رہی تھیں۔
مہر کو لے کر چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں لیکن شاہ کے باعث سب کی آواز مدھم تھی۔
مہر کی خوبصورتی کے چرچے پورے فنکشن میں ہو رہے تھے۔
ایسے میں ماریہ تلملا کر مہر کو دیکھ رہی تھی۔
حرم اپنی آستین سے دوپٹہ آزاد کروانے کی سعی کرتی چل رہی تھی جب وہ سامنے سے آتے نفس سے ٹکرا گئی۔
حرم منہ کھولے اس انسان کو دیکھنے لگی۔
ازلان مسکراتا ہوا اسے دیکھ رہا تھا۔
حرم پلکیں چھپکاتی اسے دیکھ رہی تھی۔
حرم کو اپنی بینائی پر شبہ ہوا۔
ازلان دونوں آبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔
حرم نفی میں سر ہلانے لگی۔
ہوا سے حرم کے بال منتشر ہو رہے تھے۔
جگہ کا خیال آیا تو سر جھکاتی آگے چل دی۔
ازلان خوشگوار حیرت میں مبتلا تھا۔
“حرم یہاں کیسے؟”
وہ سوچتا ہوا حرم کو دیکھنے لگا جو دوپٹہ کی جانب اشارہ کرتی کسی سے بات کر رہی تھی۔
“ایک منٹ حرم۔۔۔”
ازلان دماغ پر زور دیتا زیر لب دہرانے لگا۔
“اوہ مائی گاڈ کہیں یہ تایا ابو کی بیٹی حرم تو نہیں؟”
ازلان منہ پر ہاتھ رکھے حرم کو دیکھنے لگا۔
حرم ترچھی نظروں سے ازلان کو دیکھ رہی تھی۔
ازلان کو اپنے سامنے دیکھ کر وہ ابھی تک بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا تھی۔
“بھابھی یہ کڑھائی سے الگ ہی نہیں ہو رہا۔۔۔”
حرم بےبسی سے بولی۔
“دکھاؤ میں کر دیتی ہوں۔۔۔”
مہر اس کی بازو پکڑتی ہوئی بولی۔
مہر کی نظریں اس کی آستین پر تھیں اور حرم کو موقع مل گیا ازلان کو دیکھنے کا۔
ازلان ابھی تک حرم کو ہی دیکھ رہا تھا۔
حرم نے اس کی جانب رخ موڑ تو ازلان کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی۔
نجانے ایسا کیا تھا اس ایک مسکراہٹ میں؟
حرم کو لگا زندگی کی بشارت سنا دی گئی ہو۔
موت کے پاس لے جا کر پھر سے نئی زندگی بخش دی گئی ہو۔
اس چہرے کو دیکھنے کے لیے اسکی آنکھیں ترس رہیں تھیں۔
آنکھوں کی پیاس بجھ گئی۔
وہ دونوں ایک ہی صحرا کے مسافر تھے اور ایک دوسرے کو دیکھ کر اپنی آنکھوں کو سیراب کر رہے تھے۔
حرم نے جھجھکتے ہوۓ چہرہ جھکا لیا۔
چہرے پر ڈھیروں رنگ بکھر گئے تھے۔
ازلان نفی میں سر ہلاتا مسکرانے لگا۔
