577.9K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tawaif Episode 11

Tawaif by Hamna Tanveer

“تو میں کیا کرتی۔۔۔۔”

حرم بمشکل بول پائی۔

ازلان کی گرم سانسیں حرم کو خود پر محسوس ہو رہیں تھیں۔

فاصلہ چند انچز کا تھا۔

“یہ عقل گھاس چرنے گئی ہے کیا۔۔۔۔”

ازلان دو انگلیاں اس کے سر پر رکھتا ہوا بولا۔

حرم گھبرا کر اسے دیکھنے لگی۔

“اب چلیں۔۔۔۔۔”

حرم اس کی آنکھوں میں دیکھتی بولی۔

ازلان دلچسپی سے حرم کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہا تھا۔

آئیندہ اگر تم نے میری اجازت کے بغیر کوئی الٹی سیدھی حرکت کی تو۔۔۔۔۔”

ازلان انگلی اٹھا کر وارن کرنے والے انداز میں بولا‍۔

“نہیں کچھ نہیں کرتی پکا۔۔۔۔۔”

حرم بچوں کی طرح بولی۔

ازلان لب دباےُ مسکراتا ہوا فاصلے بڑھا گیا۔

حرم سانس خارج کرتی اسے دیکھنے لگی۔

ازلان قدم اٹھاتا گاڑی کی جانب چلنے لگا۔

حرم بھی اس کے پیچھے چلنے لگی۔

ساری مسافت خاموشی کی نذر ہوئی۔

ہاسٹل سے کچھ فاصلے پر ازلان نے گاڑی روک دی۔

“میں نے ذوناش کو فون کر کے بول دیا تھا چوکیدار تم سے کچھ نہیں پوچھے گا وہ سمجھ رہا ہے تم کل واپس آ گئی تھی۔۔۔۔۔”

ازلان حرم کی جانب چہرہ موڑتا ہوا بولا۔

“اور اگر اس نے پوچھا کہ میں آج ہاسٹل سے نکلی نہیں تو پھر؟۔۔۔۔۔”

حرم پریشانی کے عالم میں اسے دیکھنے لگی۔

“تم اپنی بات پر قائم رہنا کہ صبح تم یونی گئی تھی ہو سکتا ہے اس دیکھا نہ ہو، سمج رہی ہو نہ۔۔۔۔۔۔”

حرم غائب دماغی سے اسے سن رہی تھی۔

“ہاں ٹھیک ہے میں جاؤں۔۔۔۔۔”

“ہاں جاؤ اور کیا میرے ساتھ چپکی رہو گی۔۔۔۔۔”

وہ پیشانی پر بل ڈالتا ہوا بولا۔

حرم گڑبڑا کر اسے دیکھتی باہر نکل گئ۔

ازلان کے لب دھیرے سے مسکرانے لگے۔

چوکیدار عینی سے بحث کر رہا تھا حرم نے موقع کو غنیمت جانا اور تیز تیز قدم اٹھاتی اندر چلی گئ۔

بنا کسی جرم کے بھی وہ مجرم بن گئی تھی۔

حرم دروازہ کے باہر کھڑی ہو گئی۔

رات کے مناظر پھر سے آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے۔

حرم نے زور سے آنکھیں بند کر لیں۔

گزشتہ رات:-

ازلان پرسوچ دکھائی دے رہا تھا۔

“تم نماز پڑھتی ہو؟۔۔۔۔۔۔”

ازلان اس کی جھکی ہوئی پلکوں کو دیکھتا ہوا بولا۔

حرم نے زبان نہ کھولی۔

“میں کچھ پوچھ رہا ہوں۔۔۔۔۔”

ازلان نے اس کا بازو کھینچا۔

حرم جیسے ہوش میں آئی۔

“پڑھتی ہو نماز؟۔۔۔۔۔”

ازلان پھر سے اپنا سوال دہرایا۔

“ہا ہاں پڑھتی ہوں۔۔۔۔۔”

حرم اٹک اٹک کر بولی۔

“تو پھر یہ بھی جانتی ہو گی کہ خودکشی حرام ہے پھر کیا کرنے جا رہی تھی تم۔۔۔۔۔۔”

ازلان غصے سے گویا ہوا۔

“تم اتنے حق سے کیوں پوچھ رہے ہو۔۔۔۔۔۔”

حرم نم آنکھوں سے اسے دیکھتی ہوئی بولی۔

لمحہ بھر کو ازلان خاموش ہو گیا۔

“تم مجھ سے نکاح کر لو اس کے بعد کوئی تم پر تہمت نہیں لگاےُ گا جو کوئی بولے گا اسے میں چپ کروا لوں گا۔۔۔۔۔”

ازلان خاموش ہوا تو پھر سے دونوں کے بیچ خاموشی گونجنے لگی۔

حرم پھٹی پھٹی نگاہوں سے ازلان کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پر گہرا سکوت تھا۔

“میں تم سے کیسے۔۔۔‍۔”

حرم نے الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔

“دیکھو اگر تم سر اٹھا کر جینا چاہتی ہو تو تمہیں میری بات ماننی پڑے گی کیونکہ اس کے سواء کوئی چارہ نہیں۔۔۔۔۔۔”

ازلان نرمی سے بولا۔

“میں بھائی کی اجازت کے بنا کیسے؟۔۔۔۔۔”

حرم تڑپ کر اسے دیکھنے لگی۔

“تم سوچ لو میں زبردستی نہیں کر رہا صرف ایک حل پیش کیا ہے کیونکہ ایک جان میرے باعث موت کے گھاٹ اتر جاےُ مجھے گوارا نہیں۔۔۔۔۔۔”

ازلان بغور اسے دیکھتا ہوا بول رہا تھا۔

حرم بےبسی سے اسے دیکھتی چہرہ جھکا گئی۔

“میرا ہاتھ۔۔۔۔۔”

بولتے بولتے دو موتی ٹوٹ کر حرم کے رخسار پر آ گرے۔

“پہلے جواب دو مجھے۔۔۔۔۔۔”

ازلان ضدی انداز میں بولا۔

“لیکن۔۔۔۔۔”

حرم کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا بولے۔

“کیا اس طرح کوئی مجھ سے ہتک آمیز سلوک نہیں کرے گا؟۔۔۔۔۔”

حرم معصومیت سے بولی۔

“نہیں۔۔۔۔۔”

ازلان کے لہجے کے مان نے حرم کو حامی بھرنے پر مجبور کر دیا۔

“ٹھیک ہے میں تیار ہوں۔۔۔۔۔”

حرم دل پر پتھر رکھتی ہوئی بولی۔

“ابھی فلحال رات ہمیں گاڑی میں گزارنی پڑے گی کیونکہ اس وقت نکاح کرنا ممکن نہیں صبح ہوتے ہی اس کام کو عملی جامہ پہنا کر میں تمہیں ہاسٹل چھوڑ دوں گا۔۔۔۔۔۔”

ازلان اس کا دائیاں ہاتھ پکڑے چلتا ہوا بول رہا تھا۔

شاید اسے شبہ تھا حرم بھاگ جاےُ گی۔

وہ دونوں اس اندھیری اور خاموش رات کا حصہ لگ رہے تھے۔

خاموش اور تاریک۔

حرم نے آنکھیں کھولیں چہرہ صاف کیا، دروازے پر ہاتھ رکھا اور کھول کر اندر چلی گئی۔

تینوں معمول کے کام کر رہیں تھیں۔

حرم دروازے کے ساتھ ہی کھڑی ہو گئی۔

آمنہ کی نظر حرم سے ٹکرائی تو چلتی ہوئی حرم کے پاس آ گئی۔

حرم کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔

“آئم سوری حرم۔۔۔۔۔”

آمنہ بولتی ہوئی اس کے گلے لگ گئی۔

آمنہ کے بعد انشرح اور آخر میں ذوناش حرم سے ملی۔

“تم نے ہمیں بتایا کیوں نہیں کہ تم ازلان کے نکاح میں ہو؟۔۔۔۔۔۔”

ذوناش خفگی سے بولی۔

“وہ ازلان نے منع کیا تھا کہ یونی میں ہمارا تعلق ظاہر نہیں کرنا۔۔۔۔۔”

حرم سپاٹ انداز میں بولی۔

“دیکھا ذونی میں نے تمہیں کہا تھا نہ حرم ایسی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔”

آمنہ کہتی ہوئی پھر سے حرم کے ساتھ لگ گئی۔

حرم کے چہرے پر پھیکی سی مسکان تھی۔

****///////****

شاہ ڈرائیو کر رہا تھا جب مہر کا خیال عود آیا۔

“گھر میں کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔”

شاہ متفکر سا بولا۔

شاہ نے بریک لگائی اور آمنہ کے نمبر پر کال کرنے لگا۔

“حرم تمہارے بھائی کا فون آ رہا ہے۔۔۔۔”

آمنہ اسکرین کو دیکھتی ہوئی بولی۔

حرم نے لحاف پرے پھینکا اور سلیپر پہننے لگی۔

“بھائی آےُ ہوں گے۔۔۔۔۔”

حرم بولتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔

“ازلان تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ حرم تمہاری منکوحہ ہے؟۔۔۔۔۔۔”

ذوناش نے پھر سے میسج کیا کل سے ازلان اسے جواب نہیں دے رہا تھا۔

“السلام علیکم بھائی۔۔۔۔۔۔”

حرم شاہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔

“وعلیکم السلام کیسی ہو حرم؟۔۔۔۔۔”

شاہ مسکراتا ہوا بولا۔

“میں ٹھیک ہوں بھائی، آپ کیسے ہیں امی بابا سائیں اور بھائی؟۔۔۔۔۔”

حرم نے ایک ہی سانس میں سب کے نام لے ڈالے۔

“سب ٹھیک ہیں امی یاد کرتی ہیں تمہیں چھٹیاں کب ہو رہیں ہیں؟۔۔۔۔۔۔”

شاہ فون کا ڈبہ اس کی جانب بڑھاتا ہوا بولا۔

“بھائی اگلے ہفتے پیپرز ہیں پھر اس کے بعد چھٹیاں۔۔۔۔۔۔” حرم سنبھل کر بولی۔

شاہ اثبات میں سر ہلانے لگا۔

“کوئی مسئلہ تو نہیں ہے ہاسٹل میں یا یونی میں؟۔۔۔۔۔”

شاہ کا اشارہ حرم سمجھ چکی تھی۔

“نہیں بھائی ایسا کوئی مسئلہ نہیں میری روم میٹ بھی اچھی ہیں۔۔۔۔۔”

دوپٹہ جو سر سے ڈھلک رہا تھا حرم اسے درست کرتی ہوئی بولی۔

“ٹھیک ہے پھر میں چلتا ہوں کچھ چائیے ہو گا تو مجھے کال کر دینا اور امی سے بھی بات کر لو۔۔۔۔۔۔”

شاہ کہتا ہوا گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔

حرم ڈبڈباتی نگاہوں سے اسے اوجھل ہوتے دیکھنے لگی۔

“جب بھائی کو معلوم ہو گا نکاح کا پھر بھی وہ ایسا ہی سلوک کریں گے کیا مجھ سے؟۔۔۔۔۔”

حرم آنکھوں کی نمی صاف کرتی چلنے لگی۔

شاہ نے گاڑی حویلی کی بجاےُ گھر جانے والے راستے کی جانب ڈال دی۔

گاڑی ہوا سے باتیں کر رہی تھی۔

گاڑی گھر کے باہر روکی،

سامان نکالا اور اندر کی جانب قدم بڑھانے لگا۔

اندر کا دروازہ کھول کر شاہ گرد و پیش میں نگاہ دوڑانے لگا لیکن مہر دکھائی نہ دی۔

شاہ نے سامان صوفے پر رکھا اور کمرے کی جانب قدم بڑھانے لگا۔

مہر کھڑکی میں بیٹھی انگلیاں مڑور رہی تھی۔

شاہ چلتا ہوا آیا۔

قدموں کی آہٹ پر مہر نے چہرہ موڑ کر دروازے کی جانب دیکھا۔

مہر کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔

آنکھیں بجھی ہوئیں تھیں، مہر نڈھال سی لگ رہی تھی۔

شاہ کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔

وہ مہر کے سامنے براجمان ہو گیا۔

وہ دونوں خاموش تھے اور خاموشی ان کے بیچ گفتگو کر رہی تھی۔

“کھانا لایا ہوں کھا لو؟۔۔۔۔۔”

شاہ کا چہرہ مہر کی مخالف سمت میں تھا۔

“مجھے نہیں کھانا۔۔۔۔۔۔”

مہر کی کمزور سی آواز گونجی۔

“تمہارے نخرے اٹھانے کے لیے نہیں لایا تمہیں یہاں۔۔۔۔۔۔”

شاہ اس کی بازو دبوچتا ہوا بولا۔

شاہ کی گرفت پر مہر کی آنکھوں میں اشک دکھائی دینے لگے۔

دو دن میں وہ لاغر دکھائ دے رہی تھی۔

شاہ کی پیشانی پر شکنیں ابھریں۔

مہر کی بازو تپ رہی تھی۔

بے اختیار شاہ کا ہاتھ مہر کی پیشانی پر گیا۔

مہر تیکھے تیور لئے اسے گھورنے لگی آج ہاتھ جھٹکنے کی سکت اس میں نہ تھی۔

“تمہیں بخار ہے۔۔۔۔۔”

شاہ ہاتھ نیچے کرتا ہوا بولا۔

مہر نے بے رخی سے چہرہ موڑ لیا۔

“اٹھو۔۔۔۔۔”

شاہ کھڑا ہوتا ہوا بولا۔

مہر کی جانب سے کوئی جواب نہ پا کر شاہ نے اس کی بازو پکڑی اور کھڑا کر دیا۔

“تمہیں پیار کی زبان سمجھ نہیں آتی؟۔۔۔۔۔”

شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔

“مجھے کہیں نہیں جانا چھوڑو میرا ہاتھ۔۔۔۔۔”

مہر بائیں ہاتھ سے اس کا ہاتھ ہٹانے کی سعی کرنے لگی۔

“ایک طوائف ہو کر اتنے نخرے۔۔۔۔۔”

شاہ استہزائیہ ہنسا۔

“تو تمہیں کس نے کہا تھا ایک طوائف سے نکاح کرو۔۔۔۔۔”

مہر اسے گھورتی ہوئی بولی۔

“تم جیسی طوائفیں شاہ کے پیروں میں رُلتی ہیں۔۔۔۔۔۔”

غرور سے لبریز شاہ کا انداز جتانے والا تھا۔

اپنی ہتک پر مہر کا دل کٹ رہا تھا۔

“اور ہم جیسوں کو تم جیسے شاہ ہی طائف بناتے ہیں۔۔۔۔۔”

مہر اس کا گریبان پکڑتی ہوئی بولی۔

“تم اپنے حواس میں تو ہو نہ۔۔۔۔۔۔”

شاہ غرایا۔

“تم جیسے حوس پرست مردوں کی خاطر ہم جیسوں کو طوائف بننا پڑتا ہے شر ہمارے اندر نہیں تمہارے اندر ہے تمہارے باعث نجانے کتنی لڑکیوں کو اپنی عزت کا جنازہ نکالنا پڑتا ہے تاکہ تم لطف لے سکو تم جیسے رئیس۔۔۔۔۔۔۔”

شاہ کے تھپڑ نے مہر کے الفاظ کا دم توڑ دیا۔

مہر کا چہرہ دائیں جانب جھک گیا۔

مہر لب بھینچے زمین کو گھورنے لگی۔

“اپنی اس زبان کو لگام دو۔۔۔۔۔۔”

شاہ اسے جھنجھوڑتا ہوا بولا۔

” آئینہ دکھا رہی ہوں تو تکلیف ہو رہی ہے۔۔۔۔۔”

مہر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی ہوئی بولی۔

“عورت ہو نہ تو اپنی حد میں رہو مرد کی برابری کرنے کا فتور دماغ سے نکال دو۔۔۔۔۔”

شاہ کرخت لہجے میں بولا۔

“تم پہلے ایک عورت ہونے کے حقوق تو دو میں بھی مرد کی برابری کرنا چھوڑ دوں گی۔۔۔۔۔”

مہر اس کے غصے کا اثر لئے بنا بولی۔

“چلو ڈاکٹر کے پاس۔۔۔۔۔۔”

شاہ اس کی بازو پکڑے چلنے لگا۔

مہر نے اب کوئی مزاحمت نہ کی۔

مہر نے سر سیٹ کی پشت سے لگا رکھا تھا آنکھیں بند تھیں۔

شاہ کی نظریں سامنے سڑک پر تھیں۔

کھانا نکال کر لاؤ۔۔۔۔۔”

شاہ کمرے کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔

مہر خاموشی سے سامان اٹھا کر کچن میں لے آئی۔

مہر نے تھوڑا بہت کھایا اور پلیٹ پرے کھسکا دی۔

شاہ آبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔

“کھا کیوں رہی؟۔۔۔۔۔”

شاہ بغور اسے دیکھتا ہوا بولا۔

“کھا چکی ہوں میں۔۔۔۔۔۔”

مہر سرد مہری سے بولی۔

شاہ نے ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی۔

“میری بات سن لو آج غور سے دوبارہ دہراؤں گا نہیں۔۔۔۔۔”

شاہ اس کی بازو پکڑتا نرمی سے بولا۔

مہر نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔

“میں نے تم سے نکاح کیا ہے تم اپنے فرائض سر انجام دو میں اپنے فرائض ادا کروں گا، کون سی بیوی ایسا کرتی ہے؟۔۔۔۔۔”

شاہ اپنی بازو اس کے سامنے کرتا ہوا بولا۔

مہر شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

“اور کون سا شوہر دو دن بیوی کو بھوکا رکھتا ہے۔۔۔۔۔”

مہر کی زبان پر شکوہ آ ہی گیا۔

“برابر ہو گیا نہ اب تم ایسا کچھ نہیں کرو گی۔۔۔۔۔۔”

شاہ بات ختم کرتا ہوا بولا۔

“میں تمہیں اپنے پاس نہیں آنے دوں گی۔۔۔۔۔‍”

مہر خفگی سے بولی۔

“تم مجھے روک نہیں سکتی۔۔۔۔۔”

شاہ کا انداز جتانے والا تھا۔

“تمہاری سوچ ہے۔۔۔۔۔۔”

مہر ترکی بہ ترکی بولی۔

شاہ نے جھٹکے سے اسے اپنی جانب کھینچا۔

“تم سے نکاح صرف اسی لئے کیا کیونکہ تم تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہوں میں۔۔۔۔۔”

شاہ اس کے چہرے کو بغور دیکھتا ہو بولا۔

مہر پیچھے ہو گئی۔

“مجھ سے کوئی ایسا رشتہ قائم مت کرو کل کو جس کے باعث ہم دونوں شرمسار ہوں۔۔۔۔۔”

مہر سنبھل کر بولی۔

“نکاح کیا ہے تم سے پھر ندامت کیسی۔۔۔۔۔۔”

شاہ اس کے بالوں سے کیچر آزاد کرتا ہوا بولا۔

ہلکے بھورے اور گہرے بھورے لمبے بال کسی آبشار کی مانند مہر کی پشت پر آ گرے۔

مہر کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔

وہ اپنا ہاتھ چھڑوانے کی سعی کر رہی تھی لیکن اس میں ناکام ہو رہی تھی۔

“چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔۔”

مہر کو اپنا آپ کمزور لگ رہا تھا۔

شاہ نے مہر کے منہ پر ہاتھ رکھا اور مہر کی تمام تر مزاحمت رائیگاں گئی۔

****//////****

“یہ پین خراب ہو گیا ہے۔۔۔۔۔”

حرم چلتی ہوئی منہ بنا کر بولی۔

“تو پھینک دینا۔۔۔۔۔”

آمنہ بیگ ٹٹولتی ہوئی بولی۔

حرم پھر سے پین کو دیکھنے لگی۔

دونوں کیفے کی جانب چلتی جا رہیں تھیں۔

حرم نے پین عقب میں اچھال دیا یہ دیکھے بنا کہ گھاس پر نفوس براجمان ہیں۔

“حرم کوڑے دان میں پھینکنا ایسے کون کرتا ہے؟۔۔۔۔۔”

آمنہ خفگی سے دیکھتی ابھی بول ہی رہی تھی کہ ان کی سماعتوں سے ازلان کی آواز ٹکرائی۔

“حرم۔۔۔۔۔۔”

ازلان پیچ و تاب کھا کر چلایا۔

حرم پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی چہرہ موڑ کر اسے دیکھنے لگی۔

“تم اپنی حرکتوں سے کب باز آؤ گی۔۔۔۔۔”

وہ خطرناک تیور لئے آگے بڑھا۔

حرم خطرہ بھانپ کر آمنہ کو دیکھنے لگی۔

آمنہ نے بھاگنے کا اشارہ کیا۔

حرم پہلے آہستہ آہستہ سے الٹے قدم اٹھانے لگی پھر تیز تیز قدم اٹھاتی ازلان کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔

ازلان کلس کر اسے جاتا دیکھنے لگا۔

“تم میرے سامنے آؤ پھر پوچھوں گا۔۔۔۔۔”

ازلان ہنکار بھرتا واپس آ گیا۔

“واہ ازلان بھابھی نے گفٹ دیا۔۔۔۔۔”سیفی پین ہاتھ میں پکڑتا ہوا بولا جو ازلان کے منہ پر آ لگا تھا۔

وکی اور زین قہقہے لگاتے ازلان کی شکل دیکھ رہے تھے۔

“میں بلاتا ہوں ابرش کو۔۔۔۔۔”ازلان سیفی کو گھورتا ہوا بولا۔

“یار خدا کا خوف کر میری جیب کاٹ کر لے جاےُ گی وہ۔۔۔۔۔”

سیفی ہاتھ جوڑتا ہوا بولا۔

“ازلان بلا اسے میں اور وکی چلے جائیں گے اس کے ساتھ ڈیٹ پر۔۔۔۔۔”

زین نے ہانک لگائی۔

“یار اسے تو کوئی بھی لا دے چاہے اندھی بہری لا دے یہ میری والی پر نظر رکھے ہوۓ ہے۔۔۔۔۔”

سیفی ازلان کو دیکھتا پھر زین کو گھورنے لگا۔

“تو ہمارا دل نہیں کرتا تو اکیلا مزے لیتا ہے۔۔۔۔۔” وکی بھی شرارت سے بولا۔

“تو تم بھی رکھ لو جب جوتیاں پڑے گیں نہ پھر معلوم ہو گا۔۔۔۔۔۔”

سیفی منہ بناتا ہوا بولا۔

“سیفی کہاں کہاں مارتی ہے ابرش۔۔۔۔”

زین سنجیدگی سے بولا۔

ازلان قہقہ لگاتا بیٹھ گیا۔

سیفی کھا جانے والی نظروں سے گھورتا فون کو دیکھنے لگا۔

“ذوناش مجھ سے مل کر جانا ہاسٹل۔۔۔۔۔”

ازلان فون کان سے لگاےُ بولا۔

“اسے دیکھ دو دو جگہ ہاتھ مار رہا ہے۔۔۔۔۔”

سیفی جل کر بولا۔