Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nahal (Episode 9)

Nahal By Fatima Noor 

گاڑی پارک کرتے ہوئے وہ جیسے ہی باہر نکلا تو نظر سامنے کھڑی سپورٹس بائیک پہ پڑی ، حیرانی سے آگے بڑھا اور بائیک کو دیکھا ، بائیک کے پاس وہ چند لمحوں کیلئے رکا ، وہاں حیات ٹھہرے تھے اسے دیکھتے مسکرائے

” سو اس لئے میری گاڑی ورکشاپ گئ ہوئ تھی ؟ “

اس نے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا

” کیا تمہیں پسند آئ ؟”

انہوں نے چابی اس کی طرف بڑھائ

” اچھی ہے لیکن اس گفٹ کی وجہ جان سکتا ہوں ؟”

” اپنا برتھڈے گفٹ سمجھ لو “

” میرا برتھڈے نیکسٹ منتھ ہے “

” نیکسٹ منتھ تم انگلینڈ ہوگے “

” رائٹ۔۔۔۔۔۔ مے آئ ؟” ابرو سے بائیک کی طرف اشارہ کیا

” اس وقت بالکل بھی نہیں ، صبح جہاں جانا ہو چلے جانا “

” اوکے ۔۔”

کندھے اچکا کر آگے بڑھ گیا ، پھر چند لمحے کیلئے رکا اور مڑ کر حیات صاحب کو دیکھا

” ڈیڈ ۔۔”

” ہوووں “

” تھینکس ۔۔”

حیات مسکرادیئے وہ اس وقت تک سو جایا کرتے تھے لیکن اس کی آنکھوں کی چمک دیکھنے کیلئے اب تک جاگ رہے تھے ،اور انہیں احساس ہوا کہ اس چمک کیلئے وہ اپنی ہرشے وار سکتے تھے

کمرے میں آکر اس نے دروازہ بند کیا اور دھڑام سے بیڈ پر اوندھے منہ گرگیا

عجیب بے چینی اور اداسی تھی ، ذہن میں بار بار وہ روتی ہوئ آنکھیں آجاتیں ، تسبیح ڈھونڈتی ہوئ وہ لڑکی ، اس کی چمکتی آنکھیں ، آخری بار کی گفتگو ، وہ جیسے اس ایک شام میں قید ہوگیا تھا ، جانے رہائ ممکن تھی بھی یا نہیں

اس کی آنکھیں بند ہونے لگی تھیں اور تبھی ذہن میں کوئ خیال سا آیا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

“تم لے کیوں نہیں لیتے کوئ تسبیح ؟”

زین کو اب کوفت ہورہی تھی وہ آدھے گھنٹے سے اس کے ساتھ مختلف دکانیں پھر رہا تھا کبھی وہاں کبھی یہاں اور عیسیٰ کو کوئ تسبیح پسند ہی نہیں آرہی تھی

” مجھے تسبیح نہیں ایک” خاص” تسبیح چاہئے “

وہ دکان کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہورہا تھا

“پیچھے ہم نے ہزاروں خاص تسبیحات دیکھی ہیں “

” لیکن وہ نہیں دیکھی جو مجھے چاہئے تھی “

“دیکھ بھائ ۔۔۔۔” زین اس کے سامنے آیا تو وہ چلتے چلتے رکا “تمہیں پڑھنی تو تسبیح ہی ہے نا ، کوئ بھی ہو کیا فرق پڑتا ہے ۔۔اس آدھی ٹوٹی تسبیح کو جوڑ کر کیا کرو گے ؟”

” تمہیں کس نے کہا میں تسبیح پڑھنے کیلئے ڈھونڈ رہا ہوں ؟” ابرو اچکائے سوال کیا

” تو پھر کس لئے ڈھونڈ رہے ہو ؟”اسے حیرت ہوئ

” ویسے ہی۔۔۔ “

اس سوال کا جواب تو وہ خود بھی نہیں جانتا تھا سو کندھے اچکا کر آگے بڑھ گیا اور زین بے زاری سے اس کے پیچھے

” یہ آپ کو یہاں پاکستان میں نہیں ملیں گی ، اس طرح کی تسبیحات سعودیہ میں ہوتی ہیں، اور جہاں تک میرا خیال ہے وہاں بھی مشکل سے ملے گی یہ ، اسے خالص موتیوں سے بنایا گیا ہے اور اس طرح کی تسبیحات نایاب ہوتی ہیں “

عمر رسیدہ دکان دار نے تسبیح عیسیٰ کو واپس کردی

” تو کیا اب ہم سعودی جائیں ” زین کی زبان پھسلی دکان دار نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر سنجیدگی سے تسبیح واپس جیب میں ڈالتے عیسیٰ کو

” آپ جانا چاہیں تو چلے جائیں ، پاکستان میں ایسی تسبیحات مشکل سے ہی ملیں گے “

” بہت شکریہ ” عیسیٰ سر کو خم دے کر واپس پلٹ گیا

” ڈونٹ ٹیل می کہ تم اب سعودیہ جانے کا سوچ رہے ہو ” وہ دکان سے باہر آکر عیسیٰ کو دیکھتے کہنے لگا

” اس میں کوئ حرج بھی نہیں ہے ویسے ” جیبوں میں ہاتھ ڈال کر چلتے وہ لاپرواہ نظر آتا تھا

” سریسلی ؟ ایک تسبیح کیلئے تم سعودیہ جائو گے ؟” وہ یکدم عیسیٰ کے سامنے آیاعیسیٰ رکا ” یا پھر اتنی تلاش کی وجہ صرف تسبیح نہیں ہے بلکہ کچھ اور ہے ” غور سے گھور کر اسے دیکھا ،عیسیٰ کے گلے میں گلٹی ابھری

” اور کیا وجہ ہوگی ؟”

” وہ تو تمہیں معلوم ہوگا “

” کوئ اور وجہ نہیں ہے اور دماغ مت خراب کرو میرا ” وہ اسے جھڑک کر کہتا سائیڈ سے ہوکر چلنے لگا

” تمہیں یہ ملی کہاں سے ؟ ” زین کے اندر کا جاسوس جاگ چکا تھا

” مارگلہ پہ ” وہ جان چھڑانے کو بولا

” اور کس نے دی ؟”

کسی نے نہیں “

پھر ؟”

” پھر کیا ؟”

“پھر مطلب خود بخود کیسے مل گئ ؟”

” مل گئ بس ۔۔ یوں جیسے سر راہ کوئ بھی مل جاتا ہے جو دماغ سے چپک جاتا ہے ” وہ قدرے دھیمے لہجے میں بولا تھا لیکن زین نے نے پھر بھی سن لیا تھا وہ ایک بار پھر اس کے سامنے رکا

” دل سے یا دماغ سے ؟” بتیسی نکال کر اسے دیکھا عیسیٰ نے اسے گھورا

” بکواس نہ کر “

سوچ لو مجھے تو معاملہ دل کا ہی لگتا ہے ” وہ شرارتی اندار میں کہتا اس کے پیچھے آ رہا تھا عیسیٰ نے کوئ جواب نہیں دیا اور گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گیا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

فیصل مسجد سے مغرب کی اذانوں کی آواز آرہی تھی اندھیرا پھیل رہا تھا اور مارگلہ ہلز پر اب اکادکا لوگ ہی نظر آرہے تھے اور جو وہاں تھے وہ بھی اب واپس لوٹ رہے تھے وہ چلتے چلتے اس پہاڑی کے قریب رکا جہاں اس نے چند دن پہلے اس لڑکی کو دیکھا تھا چند لمحے وہاں کھڑا رہا اور پھر ساتھ رکھے پتھر پر بیٹھ گیا ٫وہ کچھ دیر پہلے زین کو اس کے گھر اتار کر بے مقصد گاڑی اِدھر اُدھر گھماتا رہا تھا اور پھر خود بخود گاڑی کا رخ اس طرف موڑ دیا جیب میں ہاتھ ڈال کر ٹوٹی تسبیح نکالی اور اسے دیکھے گیا

ایک تسبیح ہی تو تھی وہ اس کی تلاش میں پورا دن کیوں پھرتا رہا تھا ؟

“کیونکہ میں یہ تسبیح جوڑ کر اس لڑکی کو واپس کرنا چاہتا ہوں “

اس نے بالآخر زین کو اس تسبیح کے پیچھے کی ساری کہانی بتادی تھی وہ چند لمحے عیسیٰ کو دیکھتا رہا

کیوں ۔۔۔؟؟”

وہ اس کیلئے رو رہی تھی “

اس کے رونے سے تمہیں کیا مطلب؟ “

مجھے ہے مطلب ٫وہ روتی ہوئ آنکھیں میرے دماغ سے چپک گئ ہیں “

دماغ سے یا دل سے ۔۔”

اس نے زین کو گھورا

” بکومت ایسا کچھ نہیں ہے ،میں صرف تسبیح اسے واپس کرنا چاہتا ہوں “

اور یہ وہ بہانے تھے جو اس نے زین اور خود کو اس تلاش پہ دیئے تھے لیکن وہ تلاش جو اسے اس مال میں اور پہاڑی پہ لے آئ تھی اس کا کیا بہانہ دیتا ؟، اس نے گہری سانس لیتے اردگرد دیکھا، وہ پچھلے چند دن سے شدید بے چینی الجھن اور اضطراب کا شکار تھا اسے لگتا تھا وہ تسبیح آسیب زدہ ہے لیکن وہ شاید اس تسبیح سے جڑے جذبات تھے جو آسیب زدہ تھے

ڈھلتی شام اور اردگرد پھیلے اندھیرے میں وہاں بیٹھے اس نے بالآخر خود سے سچ بول دیا

اسے وہ تسبیح اس لڑکی کو دینی تھی کیونکہ وہ اس سے ملنا چاہتا تھا اور کیوں ملنا چاہتا تھا اس کیلئے اس نے خود کو کوئ بہانا نہیں دیا

زین صحیح کہتا تھا وہ تسبیح اس کے دماغ سے نہیں دل سے چپک گئ تھی

اس نے تسبیح اپنے ہاتھ پر پھیلائ اور اس کے ٹوٹے حصے پر ہاتھ پھیرا

” چیزیں آسیب زدہ نہیں ہوتیں لوگ آسیب زدہ ہوتے ہیں جیسے وہ اجنبی لڑکی اسے آسیب زدہ کرگئ تھی وہ اپنی ٹوٹی تسبیح کا ایک حصہ وہاں چھوڑ گئ تھی اور ایک حصہ اپنے ساتھ لے گئ تھی لیکن وہ صرف ایک ٹوٹی تسبیح نہیں بلکہ اس کے دل کا ایک حصہ بھی ساتھ لے گئ تھی اور اب ادھورا حصہ اسے بے چین کررہا تھا ،تسبیح جیب میں ڈالتے وہ خود پر ہنسا

” آہ عیسیٰ حیات آہ، کس روگ کو سر لے لیا تم نے کس راستے پر چل پڑے ہو ؟تو کیا یہ بےچینیاں ساری زندگی کا مقدر ٹھہری ہیں ؟”

وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اب کیا کرے گا ،وہ اس کا نام تک نہیں جانتا تھا اس سے ملنا تو بہت دور کی بات تھی

نام ۔۔۔۔۔۔؟

وہ چونکا فورا سے تسبیح نکالی ٫تسبیح کے اختتام پر ایک چوکور سرا تھا جس پر چند حرف گڑھے تھے اسے یہ پہلے بھی نظر آیا تھا لیکن اس نے ڈیزائن سمجھ کے نظرانداز کردیا لیکن اب کی بار وہ اسے نظر انداز نہ کرسکا ، موبائل کی ٹارچ آن کرکے تسبیح پر فوکس کیا

” قرت…. “

اس نے زیرلب اردو میں لکھے وہ تین لفظ پڑھے ، اس دن مال میں جس لڑکی نے اسے اٹھایا تھا وہ قرت کے ساتھ شاید کچھ اور بھی کہہ رہی تھی لیکن اسے یاد نہیں تھا ۔۔ تو یعنی وہ اپنے نام کا آدھا حصہ اس کے پاس چھوڑ گئ تھی اور آدھا حصہ ساتھ لے گئ تھی

اس نے وہاں بیٹھے بیٹھے تسبیح کے دانے گنے وہ پچاس دانے تھے ، جب وہ تسبیح اسے ملی تھی تو اس نے ٹوٹے دھاگے پر گرہ لگادی تھی تاکہ دانے مزید نا گریں ، ادھوری ٹوٹی تسبیح اور نامکل نام ۔۔۔سو اگر ادھورا وہ تھا تو مکمل وہ بھی نا تھی ، اس نے کہا تھا کہ وہ دعا کرے گی کہ وہ دونوں دوبارہ کبھی نہ ملیں وہاں اس تسبیح کو تھامے عیسیٰ نے دعا کی کہ کاش اس نے وہ دعا نہ کی ہو اور اگر کی تھی تو وہ قبول نہ ہو ہاں کاش اس کی دعا قبول نہ ہو کاش !

تسبیح جیب میں ڈال کر وہ اٹھ کھڑا ہوا، چند گہرے سانس لئے اور آنکھیں بند کئے سر ہلکا سا پیچھے کیا وہ چند لمحے پہلے ادراک سے گزرا تھا محبت کا ادراک ، وہ ساری بے چینی الجھن اور اضطراب سب کا اختتام ہوا اور ایک نیا سفر اور درد شروع ہوا لاحاصل یا حاصل کے بیچ اٹکتا سفر

” قرت ،،،”! دھیرے سے آہستہ سے اس کا نام لیا یوں جیسے ہواؤں سے بھی اس کا نام چھپانا چاہتا ہو ہونٹوں پہ مدھم سی مسکراہٹ ابھری، سفر کا آغاز تھا محبت سرور دے رہی تھی اور وہ اس سرور میں ہی رہنا چاہتا تھا

اندھیرا پھیل رہا تھا

پنچھی گھروں کو لوٹ رہے تھے

اور پہاڑی کے اوپر کھڑا لڑکا اسی طرح سر ہلکا سا پیچھے کو جھکائے مدھم سا مسکرارہا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

زین کھانے سے ہاتھ روکے منہ کھولے سامنے آرام سے کھانا کھاتے عیسیٰ کو دیکھ رہا تھا اسے چند لمحے لگے شاک سے باہر آنے میں

” تو یعنی ۔۔۔۔یعنی تمہارا مطلب ہے تمہیں محبت ہوگئ ہے ؟”

” میں سپینش میں بات نہیں کررہا یقیناً میرا یہی مطلب ہے “

۔۔اوہ خدایا ۔۔۔۔۔وہ بھی اس تسبیح والی سے ؟”

” تمیز سے… ” اسے گھورا لیکن وہ نہیں سن رہا تھا

” مجھے یقین نہیں آرہا ۔۔۔۔یعنی تم نے اسے دیکھا تک نہیں اور تمہیں اس تسبیح والی سے محبت ہوگئ ؟” وہ ابھی تک بے یقین تھا

” اگر تم ایک مرتبہ اور اس ان کے بارے میں اس طرح بات کی تو میں تمہارا منہ توڑ دوں گا” وہ میز پر ہاتھ رکھتا سخت لہجے میں بولا

” اوکے اوکے ریلیکس “زین نے ہاتھ اٹھا کر احتیاط سے اسے دیکھا ” لیکن مجھے یہ بتائو کہ بنا چہرہ دیکھے کیسے محبت ہوگئ؟”

“بس ہوگئ۔۔۔۔ “

“ایسا تو صرف قصے کہانیوں میں ہوتا ہے ” زین بدمزہ سا ہوکر پیچھے کو ہوا ” ۔چند دن کی محبت ، ایڈونچر اور بس ۔۔۔جیسے پہلے ہوتا تھا “

ہاں ٹھیک ہے اسے لگا تھا کہ یہ محبت کا معاملہ ہے لیکن ایسی محبت ؟ ایسی عجیب محبت ؟ بغیر دیکھے کیسے محبت ہوگئ ؟

” میں تمہیں وضاحت نہیں دے سکتا زین “

” کتنے دن کیلئے ہوئ ہے؟ “

” کیا مطلب کتنے دن کیلئے ہوئ ہے ؟”

اس کے ماتھے پر بل پڑے

” مطلب یہ کہ مجھے یہ صرف اٹریکشن لگ رہی ہے یونو ایک پردہ کرنے والی لڑکی جو ہمارے سرکل سے مختلف ہے اس سے اٹریکشن جو چند دن کیلئے ہی ہے “

” یہ اٹریکشن نہیں ہے ، ہوتی تو میں یہاں تمہارے ساتھ بیٹھا اسے ڈھونڈنے کیلئے مر نہ رہا ہوتا “

” میں تو پھر بھی کہتا ہوں چند دن انتظار کرلو، چند دن بعد اگر محبت باقی رہی تو پھر اسے ڈھونڈ لیں گے “

” انہیں۔۔۔۔ ” زور دے کر کہا زین تھوڑی دیر کو خاموش ہوگیا

” کہیں تمہیں سچی والی محبت تو نہیں ہوگئ؟ ” تشویش سے اسے دیکھا

” تو کیا میں اب تک بکواس کررہا تھا “

“معاملہ سریس لگتا ہے اچھا بتائو کیا کرنا ہے ” وہ آگے کو ہوا گویا اپنی جان مال سب پیش کردیا

” انہیں ڈھونڈنا ہے یارر کہیں سے بھی بس ڈھونڈنا ہے “

” کہاں رہتی ہے ۔۔۔۔مطلب کہاں رہتی ہیں “

گڑبڑا کر تصحیح کی

“میں نہیں جانتا “

” اسلام آباد کی ہیں ؟”

” نہیں معلوم “

” کوئ اور شہر ؟؟”

“سیم آنسر “

تجھے کچھ معلوم بھی ہے “

اسے غصہ آیا

” ہاں ۔۔۔یہ کہ وہ کسی مدرسے میں پڑھتی ہیں یا پڑھاتی ہیں “

” وائو ۔۔یعنی اب ہم دونوں پاکستان کے سارے مدرسے گھومیں گے ۔۔تمہیں کیا میں سی آئ ڈی والا لگتا ہوں جو صرف ایک جملے سے پورا انسان ڈھونڈ لے گا ” عیسیٰ نے جیب سے کریڈٹ کارڈ نکالا اور میز پر پٹخا

” میرے خیال سے یہ قیمت کافی ہوگی، نہیں ؟ ” چبا چبا کر کہا

” تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہارے ایک کریڈٹ کارڈ پہ بک جائوں گا ؟” اس نے نے کریڈٹ کارڈ اٹھا کر جیب میں ڈال لیا

” اتنے تو صرف تمہاری محبوبہ کی تلاش میں لگ جائیں گے “

” زین یہ آخری بار تھا ، اب اگر تم نے کوئ ایسی بات یا لفظ استعمال کیا تو میں تمہارا ذرا بھی لحاظ نہیں کروں گا، اپنے الفاظ دھیان سے منتخب کرنا کیونکہ پھر نتیجے کے ذمہ دار تم خود ہوگے ” انگلی اٹھا کر اسے وارن کیا زین نے خود کو ڈھیروں کوسا اسے بھی شہد کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کا شوق تھا

” اچھا بتائو تمہیں کیسے معلوم کہ وہ کسی مدرسے میں پڑھتی یا پڑھاتی ہیں ؟ ” وہ اب مکمل سنجیدہ تھا مزید ایک لفظ ایسا ویسا نہیں ورنہ وہ کریڈٹ کارڈ اور شاید اپنی زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا

” مارگلہ پہ ان کے گلے میں کسی مدرسے کا کارڈ دیکھا تھا، ڈیزائن یاد ہے لیکن نام نہیں پڑھا تھا میں نے “

“سو اب ؟”

” وہ کسی مدرسے کے ریفرنس سے آئ تھیں ، میں اسلام آباد کا ہر مدرسہ چھان ماروں گا زین لیکن کسی طرح انہیں ضرور ڈھونڈوں گا ” وہ ایک عزم سے بولا

” ہم مل کر ڈھونڈ لیں گے ،میرے سارے دوست جو بڑی بڑی پوسٹوں پہ بیٹھے ہیں کس دن کام آئیں گے ” وہ اسے دیکھتے نرمی سے مسکرادیا

” میں جانتا تھا کہ میری مدد اگر کوئ شخص کرسکتا ہے تو وہ تم ہو ، تمہاری سارے شہر کے اونچے اور دو نمبر لوگوں سے دوستی ہے اور تمہارے یہ سارے گھٹیا اور اونچے کونٹیکٹس میرے کام آئیں گے، آخر کو کسی مدرسے میں کسی لڑکی کا پتہ کرانا آسان کام ہے ؟” وہ جو مسکرا کر اس کی تعریف سن رہا تھا اختتام پر مسکراہٹ سمٹی، ماتھے پر بل پڑے

” کہہ لو جو کہنا ہے ،میں بھی دوستی کی وجہ سے مجبور ہوں ،”

ہنہہ کرتے سر جھٹکا اور جیب میں موجود کریڈٹ کارڈ کی موجودگی کی تسلی کی ،عیسیٰ حیات کا بینک بیلنس لامحدود تھا یعنی اس کی قسمت کھل گئ تھی

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

ماہ نور کے ساتھ کچن کی طرف جاتے ہوئے اس نے بس لمحہ بھر کو پلٹ کر دیکھا تھا، جواد پھپھو کے ساتھ ٹھہرا ہوا تھا اس کے ساتھ ایک دو کزن اور بھی تھے

” تم لوگوں نے مردوں کو بھی بلایا تھا ؟ “

مایوں کی رسم خالص لڑکیوں کی تھی تو اسے لڑکوں کا اندر ہونا سمجھ نہیں آیا ٫ پھپھی کی چھوٹی بیٹی کرن کی آج مایوں تھی ، اس کے سسرال والوں کو شادی کی جلدی تھی اس لئے پھپھو اٹھارہ سال کی عمر میں ہی اسے بیاہ رہی تھیں

” اندر کدھر ؟ گھر میں ؟” ماہ نور نے گردن موڑی پھر جواد کو دیکھ کر جیسے اسے سمجھ آگئ ” کیا قرت گھر کے لڑکے ہیں ” خشکی سے کہتے ہوئے اس نے پلیٹوں میں سالن ڈالا

” ویسے ہی پوچھ رہی تھی بس “

وہ کچھ خاموش سی ہوگئ کہ بات پھر اس کے پردے پر آتی اور بحث شروع ہوجاتی ، ماہ نور نے کچھ نہیں کہا، سالن ڈال کر وہ جانے لگی جب قرت پر نظر پڑی وہ وہیں ٹھہری تھی ، ابرو اچکائے تو اس نے گہری سانس لی

” تم چلو نور ، میں آتی ہوں “

” اب تم یہ مت کہنا کہ تم باہر نہیں آرہیں”

وہ اکتا گئ

” میں نہیں آرہی ۔۔۔۔”

” اوہ اللہ جی ، قرت وہ کزن ہیں ، اتنا بھی کیا پردہ ؟”

” تم جائو نور ۔۔۔۔۔” تحمل سے اسے دیکھا تو ماہ نور بڑبڑاتے ہوئے باہر چلی گئ

وہ وہیں ٹھہری رہی ، کم از کم جب تک جواد اور دوسرے لڑکے وہاں پر تھے وہ باہر نہیں جانے والی تھی

ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے جب کچن کے باہر سے باتوں کی آواز آنے لگی ، وہ جھٹکے سے آگے بڑھی اور دروازہ بند کردیا ، اس نے نقاب نہیں لے رکھا تھا کیونکہ کرن نے کہا تھا کہ سب عورتیں ہی ہوں گی،سو یہاں آکر اس نے عبایا اتار کر رکھ دیا تھا ، گو سر پہ حجاب تھا لیکن فلوقت اسے دروازہ بند کرنے کا خیال ہی سب سے پہلے آیا تھا

کھڑاک کی آواز پر جواد اور اس کے ساتھ چلتا جاسم رکا ، دروازہ جالی دار تھا اس لئے اسے گلابی آنچل نظر آگیا تھا ، لبوں پہ مسکراہٹ ابھری ، جاسم کو جانے کا اشارہ کرتا وہ دروازے تک آیا

” ویسے اس پردے کی ضرورت تو نہیں ہے خاص ” دروازے کے پار کھڑی قرت کا دل زور سے دھڑکا ، وہ جانتا تھا کہ دروازے کے پار وہ تھی ؟

” اب بھلا کزنوں سے کیسا پردہ ؟ ، اور کزن بھی وہ جس سے ممکن ہے آپ کی شادی ہوجائے “

وہ جن آوارہ دوستوں کی صحبت میں بیٹھتا تھا شاید انہی کا اثر تھا ،ورنہ ان کے خاندان میں کوئ بھی اتنا بے باک نہیں تھا کہ اپنی کزن سے ایسی بات کرتا ، قرت کا چہرہ دھواں دھواں ہوا

” قرۃ العین ۔۔۔۔”

وہ خاموش رہی

” کیا تم سن رہی ہو ؟” کچھ آگے کو ہوکر جالی سے جھانکا ،وہ فورا بائیں طرف ہوئ

” میں جانتا ہوں یہ تم ہو، لیکن خیر کرلو جتنے پردے کرنے ہیں ، بعد میں دیکھیں گے کیسے خود پر یہ سو گز کی چادریں لپیٹتی ہو ” استہزائیہ انداز میں کہتا ہوا وہ پلٹ گیا ، وہ سینے پر ہاتھ رکھے وہیں بیٹھتی چلی گئ

اور یہ وہ شخص تھا جس کے ساتھ اس کا نصیب جوڑنے کی کوشش کی جارہی تھی ، اس کے حلق میں آنسو اٹکے ، بے اختیار سر اٹھا کر اوپر دیکھا

اللہ !!!

بس ایک لفظ ،ایک آہ ، دل سے پکارا گیا ایک نام ، گہرائیوں سے کی گئ ایک دعا اور معجزے ہوجایا کرتے ہیں

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” اسلام آباد کا سب سے بڑا اور مشہور مدرسہ ہے یہ ، آغاذ یہیں سے کرلیتے ہیں ” گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑے عیسیٰ نے سامنے نظر آتی عمارت کو دیکھا

” اندر جانے دیں گے ؟”

” مدرسے میں تو نہیں ، ایڈمن بلاک میں جانے دیں گے البتہ “

تھوڑی دیر بعد وہ ایڈمن آفس میں بیٹھے تھے سامنے چالیس کے قریب کا شخص سر پر عمامہ باندھے کمپیوٹر میں فائلز کھنگال رہا تھا ، وہ مدرسے میں پڑھنے والی لڑکیوں کے بارے میں بتانے پر راضی نہیں تھا ، صرف تب تک جب تک زین نے اس کی جیب میں ہزار کے کئ نوٹ نہیں رکھے تھے

” یہاں قرت نام کی پانچ لڑکیاں پڑھتی ہیں ، دو پنڈی سے ایک کراچی اور دو اسلام آباد سے ہیں ، آپ کس کا پوچھ رہے ہیں ؟ “

وہ عیسیٰ کو دیکھنے لگا

” بدقسمتی سے ہم خود نہیں جانتے کہ ہم کس کا پوچھ رہے ہیں “

جواب زین نے دیا تھا

” آپ لوگوں کے پاس پکس نہیں ہیں ان لڑکیوں کی ؟”

زین نے بے اختیار عیسیٰ کو اور پھر سامنے بیٹھے آدمی کو دیکھا جس کی آنکھوں میں ہلکی ناگواری آئ تھی

” مدارس میں صرف طالبات کا ڈیٹا رکھا جاتا ہے تصاویر بنانے کی یا رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی ، اگر ہوتی بھی تب بھی میں نا دکھاتا آپ کو “

” ایمانداری ، رائٹ ؟” اس کے ہونٹوں پہ طنزیہ مسکراہٹ ابھری ، زین نے بے اختیار خود کو کوسا ، اکیلا آجاتا تو بہتر تھا

” ویل ، قریشی صاحب ہمیں تصاویر دیکھنی بھی نہیں تھیں، آپ ہمیں اپنے مدرسے کا کارڈ دکھا سکتے ہیں جو سٹوڈنٹس کو دیا جاتا ہے ؟” عیسیٰ نے آنکھں پر موجود سیاہ گلاسسز گلے میں اٹکائے وہ زین کی گھوریوں کو مسلسل نظر انداز کررہا تھا

” جی ضرور ۔۔۔۔” قریشی صاحب نے دراز میں سے ایک سرخ رنگ کے کور والا کارڈ اٹھا کر ان کے سامنے رکھا

” یہی ہے ؟” زین نے سرگوشی کی

” نہیں ۔۔” عیسیٰ کے چہرے پر مایوسی ابھری ” بہت شکریہ تعاون کا ” وہ کارڈ رکھ کر اٹھ کھڑا ہوا، زین سامنے رکھا پانی کا گلاس اٹھا کر پانی پی رہا تھا

” آپ کا بھی شکریہ ، اگر آپ چاہیں تو یہ کارڈ رکھ سکتے ہیں ، ممکن ہے آپ کے رشے داروں میں سے کوئ داخلہ لینے کا خواہش مند ہو “

پانی پیتے زین کو اچھوو لگا ، کھانس کر بمشکل اس نے اپنی ہنسی پر قابو پایا

” میرے رشے داروں میں سے تو کسی کا ایسا ارادہ نہیں ہے البتہ مولانا عیسیٰ حیات کے خاندان میں سے مستقبل میں کسی کا ارادہ بن سکتا ہے ” وہ کھانسی کے دوران بولا

” آپ عالم ہیں ؟”

وہ عیسیٰ کو دیکھ کر تعجب سے بولے جو اکھڑا اکھڑا سا کھڑا تھا ان کے سوال پر کچھ کہنے لگا اس سے قبل زین بول اٹھا

” کیوں ایسے جان لیوا مذاق کرتے ہیں قریشی صاحب، اس کو تو یہ بھی علم نہیں ہوگا کہ رمضان کے روزے اکتیس ہوتے ہیں یا بتیس “

” رمضان کے روزے تیس سے زیادہ نہیں ہوتے جناب “

” اوہ ہاں رائٹ۔۔۔ “

وہ ایک دم کھسیا گیا جبکہ عیسیٰ نے گھور کر اسے دیکھا اور اس کا بازو پکڑے باہر کو نکل گیا

” مولانا عیسیٰ حیات ، واللہ کیا مذاق تھا ” وہ گاڑی میں بیٹھ کر گویا لوٹ پھوٹ ہوگیا

” تجھے بہت مزے آ رہے تھے ” عیسیٰ نے ضبط سے اسے دیکھا

” بات ہی ایسی تھی ،عیسیٰ حیات اور عالم ؟ “

زین کو سوچ سوچ کر ہنسی آرہی تھی ،اس نے مزید اس سے بحث کی بجائے گاڑی سٹارٹ کردی