Nahal By Fatima Noor Readelle50350 Nahal (Episode 26)
No Download Link
Rate this Novel
Nahal (Episode 26)
Nahal By Fatima Noor
” آپ ایک بار سنجیدگی سے سوچ لیں بھائ ، خاندان کا لڑکا ہے،دیکھا بھالاہے ،اچھا خاصا کما بھی رہا ہے ” کھانا کھاتے ہوئے نعمان صاحب نے سامنے بیٹھی شازیہ پھپھو کو دیکھا
” وہ شادی شدہ ہے شازیہ “
” طلاق شدہ کہیں بھائ ، ایک دو ماہ میں طلاق دے دے گا اپنی بیوی کو ، یہ بھی آپ کا مشورہ تھا کہ طلاق رجعی دے ورنہ وہ تو تین لفظ بول کر کل ہی فارغ کردے اسے ،اکلوتا بیٹا ہے ، عیش کرے گی قرت ،بھائ صاحب کے گھر کے حالات سے آپ اچھی طرح واقف ہیں ، خدا کا دیا سب کچھ ہے ،پھر بھی آپ سوچ رہے ہیں “
” مجھے اپنی بیٹی کیلئے ایسے عیش نہیں چاہئیں ، وہ مجھ پر بھاری نہیں ہے “
” یہی کہتے کہتے پچیس کی ہوگئ ہے ، رشتہ کوئ آنہیں رہا اس کے لئے ، اب تو مہر کا بھی سوچنا شروع کردیں آپ ،خیر سے اکیس بائیس کی ہونے والی ہے ، لوگ اس کا کہنا شروع کردیں گی ، قرت کو ساری زندگی گھر پر بٹھائیں گے کیا ؟ ” نعمان صاحب نے کھانا پیچھے کردیا، ان کی بھوک اڑ گئ تھی
” اس کی ڈھائ سال کی بیٹی ہے “
” وہ اپنی ماں کے پاس رہے گی ، یا اگر واپس لے بھی آیا جواد تو بھابھی ہیں اسے سنبھالنے کے لئے ، قرت پر بوجھ تھوڑی ڈالیں گے ، تم ہی سمجھائو سعدیہ ، بچپن سے بات طے تھی ، لے کے منگنی ہی توڑ دی ، برا مت مانیے گا بھائ پھر اسی لڑکے سے بیاہ دیتے جس کے ساتھ باتیں بنی تھیں “
” شازیہ ۔۔۔” نعمان صاحب کی آواز سخت ہوئ
” سچ کہہ رہی ہوں بھائ ، خوش قسمتی سمجھیں کہ یہ ایک ڈھنگ کا ہی رشتہ ملا ہے آپ کو ،ورنہ وہ ناظم صاحب بھی تو کہہ رہے تھے ,ان کی بھی دوسری شادی ہوگی ، فیصلہ آپ کا ہے اب میں تو بھلا ہی چاہ رہی تھی قرت کا ، میری ماہ نور سے تین سال بڑی ہے ، اس کی کل بارات ہے، میں تو کب کا بیاہ دیتی ماہ نور کو بھی ، لیکن فخر کا پاکستان کا ویزہ نہیں لگ رہا تھا، پھر اس کے ماموں کی بیماری کی وجہ سے دیر ہوگئ ، ” وہ کچھ دیر کو رکیں ” ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں بھائ وہاں لڑکیوں کی عمر پچیس ہونا ان کیلئے مسئلے پیدا کردیتا ہے ، آپ کے پاس ایک یہی مناسب رشتہ ہے، سوچ لیں، میں چلتی ہوں “
وہ جوتا پائوں میں گھساتی اٹھ کھڑی ہوئیں ، بیٹی کی مہندی تھی شام کو، اور وہ بڑے بھائ کے کہنے پر یہاں آگئ تھیں،ان کا جو کام تھا وہ انہوں نے کردیا ، سعدیہ انہیں باہر چھوڑنے گئیں اور جب واپس آئیں تو نعمان صاحب کسی سوچ میں گم وہیں بیٹھے تھے
” کھانا تو کھا لیں “
” لے جائو اسے بیگم بھوک ختم گئ ہے میری “
وہ آگے بڑھیں اور برتن سمیٹنے شروع کردیئے
” شازیہ صحیح کہہ رہی ہے ، ایک بار سوچ لیں ” نعمان صاحب نے بے یقنی سے انہیں دیکھا
” سعدیہ ۔۔۔۔۔۔ “
” مجھے ایسے مت دیکھیں ، آج ماہ نور کی بھی مہندی ہے ، تین سال بڑی ہے قرت اس سے ، خاندان میں اس کی ہم عمر سب بیاہ گئی ہیں ، قرت کا کچھ ہوگا تو ہی مہر کا سوچیں گے ، آپ ظالم کہیں یا جو بھی ،میں صرف ایک ماں ہوں ، اسے ساری عمر گھر پر نہیں بٹھا سکتی ، ایک دو رشتے جو ڈھنگ کے ہیں ان میں یہی بہتر ہے “
وہ برتن سمیٹتی وہاں سے چلی گئیں ،پیچھے نعمان صاحب تھک کر اٹھ کھڑے ہوئے ، سوچیں مفلوج ہوگئ تھیں
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
میٹنگ روم سے آخری فرد نکلا اور سربراہی کرسی پر بیٹھے حیات عیسیٰ کی طرف متوجہ ہوئے ، وہ سامنے رکھی فائل سمیٹ رہا تھا
” یہ کرسی اب تمہارا حق ہے جس پر تم نے مجھے زبردستی بٹھایا ہے “
” یہ آپ کا حق ہی رہے گا ہمیشہ “
وہ فائل سمیٹتے جھکے سر سے مسکرایا
” سوچ رہا ہوں اس حق کو آفیشلی تمہارے نام کردوں ، کل وکیل کو بلایا ہے میں نے ،پاور آف اٹارنی تمہارے نام کررہا ہوں ، “
عیسیٰ نے فائل سمیٹی اور سر اٹھا کر انہیں دیکھا
” اچانک یہ فیصلہ کیوں ؟”
“میں اب ریٹائر ہونے کا سوچ رہا ہوں ، جانے زندگی کتنی بچی ہے ،جو بچی ہے وہ آرام کرتے ہوئے گزرنا چاہتا ہوں ، میرے بعد ویسے بھی سب تمہارا ہے ، اپنی زندگی میں ہی تمہیں سونپ دوں تو سکون سے مرسکوں گا “
” ڈیڈ۔۔۔۔۔۔”
وہ خفا ہوا ، ان کی ایسی باتیں اسے ہمیشہ تکلیف دیتی تھیں ، جب سے ان کی صحت کے مسائل شروع ہوئے تھے ،انہیں اٹھتے بیٹھتے ایسے ہی خیالات آنے لگتے
” سچ ہے بیٹا ، جانے کتنی عمر بچی ہو اب “
” جتنی بچی ہے اسے سکون سے گزاریں ، کیا معلوم آپ سے پہلے میری زندگی ختم ہوجائے “
” شرم تو نہیں آتی ؟۔۔۔۔” وہ خفا ہوئے
” نہیں۔۔۔۔۔۔ آپ کی ایسی باتیں مجھے بھی ہرٹ کرتی ہیں ‘”
وہ لیپ ٹاپ کھولنے لگا ،حیات کچھ لمحے اسے دیکھتے رہے ، جب سے اس نے بزنس جوائن کیا تھا وہ بزنس کی طرف سے لاپرواہ ہوگئے تھے ، عیسیٰ ان کی ہی طرح بزنس کو لے کر حد سے زیادہ سریس واقع ہوا تھا ، دن رات کی پرواہ کئے بغیر کام کرتے رہنا اس کی عادت بن گئ تھی اور حیات اچھی طرح جانتے تھے وہ ایسا خود کو مصروف رکھنے کے لئے کرتا تھا
” شادی کرلو عیسیٰ ۔۔۔۔۔ “
عیسیٰ کے لیپ ٹاپ کے بٹن دباتے ہاتھ رک گئے ، سر اٹھا کر انہیں دیکھا پھر ہلکا سا مسکرایا
” یہ مام کا جملہ ہے “
” یہ ہم دونوں کی خواہش ہے “
” آپ کو اچانک میری شادی کا خیال کیوں آگیا ؟”
وہ حیران ہوا ، شہوار اسے مجبور کرتی رہتی تھیں شادی کے لئے لیکن حیات نے کبھی کچھ نہیں کہا تھا
” میں اب بوڑھا ہورہا ہوں ، تم شاید اسے ٹیپیکل سوچ کہو لیکن میں تمہیں اپنی زندگی میں آگے بڑھتے دیکھنا چاہتا ہوں ، تمہارے بچوں کو بڑا ہوتے دیکھنا چاہتا ہوں ، ان کے ساتھ وہ وقت گزارنا چاہتا ہوں جو تمہارے ساتھ نہیں گزار سکا “
وہ ہلکا سا ہنس دیا
” میرے بچے ؟ سریسلی ڈیڈ ؟”
” میں سریس ہوں “
وہ واقعی سریس تھے ، اس نے لیپ ٹاپ بند کرتے انہیں دیکھا
” اچھی بات ہے ، گھر چلیں ؟”
” بات مت بدلو ، بھلے ہی میں تمہاری مام کو ٹوک دیا کرتا ہوں لیکن میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ تم اب شادی کرلو ، کب تک اس لڑکی کی یاد کے ساتھ رہو گے ؟”
وہ خاموشی سے انہیں دیکھے گیا ، جس لڑکی کا وہ نام نہیں لے رہے تھے اس لڑکی کا نام عیسیٰ حیات کو حفظ تھا
“ایسا نہیں ہے کہ میں اس کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ پارہا “
” تم جھوٹ بولتے ہو عیسیٰ ، تم اسی کی وجہ سے ہی ایک مقام پر رک گئے ہو ، کب تک اس کا انتظار کروگے ؟”
” جب تک کرسکا “
وہ بے ساختہ بولا
” اور اگر اس نے کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرلیا ہوا تو ؟”
اس کے چہرے پر کرب اترا، یہ وہ سوال تھا جو وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا ، اس سوال کا جواب اس کے دل کیلئے موت تھا
” مجھ سے یہ سوال مت پوچھا کریں ڈیڈ ، آپ نہیں جانتے یہ میرے دل کے ساتھ کیا کرتا ہے “
اس نے بہت دھیمے سے کہا تھا ، کچھ تکلیف سے ، بہت اذیت سے ، حیات اگلے کئ لمحے کچھ بول نا سکے ، انہیں احساس ہوا وہ غلط موضوع چھیڑ بیٹھے تھے
” ہاشم والے کیس کی کیا پیش رفت ہے ؟”
اگلے ہی لمحے انہوں نے موضوع بدل دیا ، عیسیٰ کے چہرے کی اذیت ان کا دل بہت بری طرح دکھا گئ تھی
” وہ کچھ بولنے پر راضی نہیں ، اور اب تو کسی نے ضمانت کروادی ہے اس کی ، “
اس نے سر جھٹکتے موبائل اٹھا لیا
” کس نے ؟”
وہ چونکے
” ظاہر ہے ڈیڈ آفندیز نے ہی کروائ ہے ، “
” کامران آفندی سے مجھے یہ امید نہیں تھی کہ وہ ہمارے آفس میں اس طرح جاسوسی کروائے گا ، اس کے علاوہ میں اس سے ہر گھٹیا پن کی امید رکھتا تھا “
” مجھے تھی ۔۔۔۔پچھلے چار سال سے میں نے انہیں بہت اچھی طرح جان لیا ہے “
وہ موبائل رکھتا فائلز سمیٹنے لگا
” تم اس شخص کو نہیں جان سکتے عیسیٰ ، میں کئ سالوں اس کے ساتھ بزنس میں رہا ہوں ، وہ ایک خطرناکی انسان ہے “
” وہ خطرناک نہیں ہے ڈیڈ ، در حقیقت وہ ایک بیوقوف انسان ہے “
” تم پھر بھی محتاط رہو “
انہوں نے تنبیہہ کی ، عیسیٰ نے بس بے نیازی سے شانے اچکاتے لیپ ٹاپ اٹھالیا ، کچھ وقت پہلے کی گفتگو کے آثار اب بھی اس کے چہرے پر تھے
°°°°°°°°°°°°°°°
کمرے کی ابتر ہوتی حالت ، اردگرد بکھری چیزوں اور ہنگامہ خیز جلدی کے ساتھ تیاری کرتی لڑکیوں سے بے نیاز وہ قالین پر نیچے بیٹھی تھی ، سامنے کرن کا ایک سالہ بیٹا بیٹھا تھا جس کے ساتھ وہ کھیلنے میں مصروف تھی ، تھوڑی تھوڑی دیر بعد نظر اٹھا کر اس ہنگامہ خیزی کو بھی دیکھ لیتی ، کمرہ میدان جنگ لگ رہا تھا ، ہر لڑکی اِدھر اُدھر گھومتی تیاری میں مصروف تھی ،بارات تقریباً آچکی تھی کہ تھوڑی دیر پہلے کسی خاتون نے آکر بتایا تھا کہ بس وہ لوگ دس منٹ میں پہنچ جائیں گے اور دس منٹ کا اعلان سب کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کرگیا ، سوائے دو لوگوں کے ، دلہن بنی ماہ نور جس کا میک اپ کب کا ہوچکا تھا اور وہ اس وقت خوبصورتی کی عملی مثال بنی سامنے موجود صوفے پر بیٹھی تھی ، اور دوسری قرت العین جس نے ہلکا سا میک اپ کرکے اوپر نقاب لے لیا تھا ، وہ ویسے بھی اندر ہی رہتی سو وہ ان ہنگامہ خیزیوں کا حصہ نہیں تھی
” بہت شکریہ قرت ، تنگ کردیا تھا اس نے تو “
کرن اپنا فراک سنبھالتی اس تک آئ اور بیٹے کو اٹھایا ، وہ دوسرے کمرے میں تیاری کرنے گئ ہوئ تھی
” کوئ بات نہیں “
وہ ہلکا سا مسکرا کر سامنے دیکھنے لگی جہاں ماہ نور کی چچا زاد مہر کو زبردستی کھینچ رہی تھی
” مریم ، مجھے نہیں بنوانے ابرو”
” کیوں نہیں ، کچھ نہیں ہوتا ، تم چلو بس “
” اچھا رکو ۔۔۔۔ “
وہ دونوں رک گئیں ، مہر اس کا ہاتھ تھامے قرت کے سامنے آئ جو انہیں ہی دیکھ رہی تھی
” آپی ۔۔۔۔” مہر نے گلا کھنکھارا ” میں ابرو بنوالو ؟ تھوڑی سی تھریڈنگ بس ؟”
ہچکچا کر اسے دیکھا ، وہ چند لمحے نظر اٹھا کر اسے دیکھتی رہی پھر سر ہلایا
” بنوالو ۔۔۔۔۔۔”
” واقعی ؟”
وہ حیران ہوئ ، اس نے دوبارہ سر ہلایا
” ہاں ۔۔۔۔ بنوالو ، اگر تمہارے اندر اللہ اور اس کے رسول کی لعنت برداشت کرنے کا حوصلہ ہے تو بنوالو “
پل بھر کمرے میں سناٹا چھا گیا ، اس کی آواز اتنی بلند ضروری تھی کہ کمرے میں ہر کسی نے سن لی تھی ، آئینے کے سامنے کھڑئ لڑکی کا بھنوؤں کی طرف جاتا ہاتھ نیچے گرگیا
” جی ۔۔۔۔۔؟”
مریم بھونچکا رہ گئ
” جی مریم ۔۔۔۔ اگر آپ دونوں کے اندر یہ حوصلہ ہے تو بنوالیں ابرو ، “
اگلے کئ لمحے کوئ کچھ بول نا سکا
” تو تمہارا مطلب ہے ہم سب یہاں جو بیٹھے ہیں وہ لعنت کے حقدار ہیں ؟”
آواز سامنے سے آئ تھی اور حد درجہ تلخ تھی ، قرت نے نظر اٹھا کر سامنے صوفے پر بیٹھی ماہ نور کو دیکھا ، وہ تلخی سے اسے دیکھ رہی تھی
” میں نے نہیں کہا ماہ نور ، یہ حدیث میں ہے ، تم لوگ چاہو تو جاکر کتب میں دیکھ لو ، حضرت عبداللہ بن مسعود راوی ہیں حدیث کے ، کہ منہ پر سے بال نوچوانے والی عورتوں پر اللہ نے لعنت فرمائی ہے ، ایک اور حدیث میں اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لعنت کا بھی ذکر کیا گیا ہے ” ( صحیح بخاری ومسلم : حدیث 360 )
اردگرد کی سخت اور ملامت بھری نظروں کو نظر انداز کرتے اس نے رسان سے اپنی بات پوری کی ،
” اس طرح تو عورتیں پھر مرد بن کر گھومتی پھریں گی اگر تھریڈنگ نا کروائ جائے “
کونے سے کوئ کھسیا کر ہنسی ، کمرے میں دبی دبی ہنسی گونجی
” میں نے یہ نہیں کہا کہ پورے چہرے کے بالوں سے منع کیا گیا ہے ، میں نے یہ کہا ہے کہ بھنووں کے بالوں سے منع کیا گیا ہے ، باقی چہرے کے تو صاف کرواسکتی ہیں “
” اوہ بس کردو قرت ۔۔۔۔” ماہ نور اکتائ ” ہر چیز میں اسلام کو مت لے آیا کرو ، اسی وجہ سے تم سب کو بے زار کردیتی ہو ، اتنی چھوٹی سی بات پر سب کا وقت ضائع کردیا ، تم لوگ جلدی کرو سب “
وہ بے زاری سے کہتے پیچھے کو سیدھی ہوکر بیٹھ گئ ، اور قرت لمحے بھر کو تھم گئ
چھوٹی سی بات ؟ چھوٹی بات ؟ چھوٹی ؟
کیا یہ چھوٹی سی بات تھی ؟ خدا کی لعنت ایک چھوٹی بات تھی ؟ خدا کے رسول کی لعنت چھوٹی بات تھی ؟ اللہ آپ پر لعنت کرے یہ چھوٹی چیز تھی ؟ کیا وہ اس لفظ کی سنگینی سے واقف نہیں تھی ؟
” یہ چھوٹی بات نہیں ہے ماہ نور ” اس بار اس کی آواز بھی کچھ سخت ہوگئ ” اگر آپ کا رب آپ پر لعنت کرے تو یہ چھوٹی بات نہیں ہوتی ، انسان کسی دوسرے انسان کی لعنت برداشت نہیں کرسکتا،تو کیا تم یہ تصور کرسکتی ہو کہ خدا کی طرف سے لعنت ملنا کیا ہوتا ہے”
جانے اس کے الفاظ زیادہ سخت ہوگئے یا لہجہ لیکن ماہ نور کا چہرہ سرخ پڑا ، اسے اپنی تذلیل کا احساس ہوا تھا ، وہ دلہن تھی اور ظاہر ہے اس نے بھی بھنوؤں کے بال بنوائے تھے ، قرت کے الفاظ اس کیلئے تازیانہ تھے
” تم ہم سب پر فتویٰ جاری کرنے کا حق نہیں رکھتیں قرت ، کم از کم تم نہیں رکھتیں ، اگر اتنا ہی اسلام پر عمل کرتیں تو چار سال پہلے کسی نامحرم مرد سے بند دروازوں کے پیچھے نا ملتیں ، “
الفاظ نہیں پگھلا سیسہ تھے جو ماہ نور نے اس پر انڈیلا تھا ، اس کا چہرہ دھواں ہوا
” ماہ نور ۔۔۔۔۔۔ “
اپنے بیٹے کو اٹھائے کرن نے کچھ سختی سے اسے ٹوکا تھا ، اس کا بیٹا جو سونے کی کوشش کررہا تھا وہ اٹھ گیا
” مجھے ٹوکنے کی بجائے قرت کو سمجھائو تم ، ہر وقت ہر بات کا نہیں ہوتا ، شروع اسی نے کیا تھا ، ختم پھر مجھے کرنے دو “
کمرے میں جامد سناٹا اترا ، چھوٹی سی بات جانے کہاں پہنچ گئ تھی
” میں صرف شریعت کا حکم بتارہی تھی ماہ نور “
کچھ ہمت کرتے اس نے بالآخر بات کو روکنا چاہا
” شریعت اور صرف شریعت ، ہم بھی مسلمان ہیں قرت ،ہمیں بھی علم ہے گناہ و ثواب کا ، لیکن تمہارا ہر وقت کا یہ راگ ہمیں بے زار کردیتا ہے ، خاص کر جب تم خود عمل نہیں کرتیں اور دوسروں کو وعظ ونصیحت کرنے لگ جاتی ہو “
کرن کا بچہ کچی نیند سے جاگا تھا ، اسے اپنی نیند کا ٹوٹنا برا لگا تھا ، کمرے میں ان دونوں کی آوازوں کے بیچ چھوٹے بچے کے رونے کی آوازیں بھی شامل ہوگئیں
” میں نے کچھ نہیں کیا تھا ۔۔۔۔۔ “
وہ اپنی بے گناہی میں یہی کہہ پائ
” معصوم مت بنو قرت العین ، تم نے جو کیا پورا خاندان جانتا ہے ، جو اب کررہی ہو اس سے بھی پورا خاندان واقف ہے ، معصوم بننے اور خود کو دو گز لمبی چادروں میں چھپانا بند کردو ، تمہارا یہ پردہ تمہارا کردار نہیں چھپا سکتا “
بچے کا بین بڑھ گیا ، وہ یوں رو رہا تھا جیسے صدیوں سے نا رویا ہو
” میرا کردار صاف ہے ماہ نور “
اسے لگا یہ آخری الفاظ ہیں ، اس کے گلے میں بہت کچھ اٹک رہا تھا ، وہ اس درد کے ساتھ مزید نہیں بول پائے گی ، یہ درد صرف اس کے گلے میں نہیں تھا
” اوہ کم آن قرۃ العین ، سب جانتے ہیں کہ چار سال پہلے کیا ہوا تھا ، اسلام آباد سے یہاں کون کس کیلئے آیا تھا ، سب جانتے ہیں کہ جواد بھائ کیوں ماریہ کو طلاق دے رہے ہیں ، سب جانتے ہیں کہ وہ کیوں اپنے میکے گئ ہے ، سب جانتے ہیں کہ یہ سب کیوں اور کس کیلئے ہورہا ہے “
بچے کی چیخیں بڑھ گئیں ، اسے لگا اگر وہ چپ نا ہوا تو شاید وہ بھی اس کے ساتھ رونا شروع کردے گی ، اس کا گلا آنسو کی شدت سے دکھنے لگا ، کیا آنسو ضبط کرنا ضروری ہے ؟
” بس کرو ماہ نور ، خاموش ہو جائو ، دلہن ہو تم ، کچھ تو لحاظ کرلو “
اپنے بچے کو تھپکتی کرن کی نظر بار بار قرت پر جاتی ، اسے اس پر ترس آیا
” میں۔ ۔۔۔۔۔”
” بس ۔۔۔۔خاموش ۔۔۔اور تم لوگ تیاری کرو ، وہ لوگ آگئے ہیں باہر “
اس کا بچہ چپ نہیں ہورہا تھا ، سو وہ کچھ جھنجھلائ ہوئ تھی ، جو بحث شروع ہوئ وہ سمٹ گئ ، ماہ نور قرت پر کڑی نظر ڈالتی میک اپ آرٹسٹ کو اپنا میک اپ درست کرنے کا کہنے لگی ، آئینے کے سامنے کھڑی لڑکی دوبارہ اپنے ابرو بنانے لگی ، کونے والی لڑکی دوبارہ میک اپ کرنے لگی ، کرن اپنے بچے کو چپ کرارہی تھی ، رک چکا ہنگامہ پھر سے شروع ہوگیا ، سب پہلے جیسا ہوگیا ، سوائے اس کے جو سیاہ برقع میں دیوار کے ساتھ بیٹھی تھی ، جس کا وجود لمحوں میں ریزہ ہوا تھا ، آنکھیں ضبط سے سرخ پڑنے لگیں ، پھر وہ جھٹکے سے اٹھی ، ہنگامے میں کوئ اس کی طرف متوجہ نہیں تھا ، دروازہ کھولتے وہ باہر آئ ، کرن کے بچے کا بین بھی باہر آیا ، اس کی آواز دل کو پھاڑنے لگی ، اس نے نظریں گھماتے اردگرد دیکھا ، آخری کونے میں کسی خاتون کے ساتھ اماں بیٹھی تھیں ، وہ ان تک آئ ،کئ نگاہیں اس پر اٹھیں
پردے میں موجود قرۃ العین ، سیاہ عبایا پہنے اجنبی لڑکی
وہ ان نظروں سے نہیں ڈرتی تھی ، وہ ان نظروں میں موجود تمسخر سے بھی نہیں ڈرتی تھی۔ لیکن آج اسے لگا ہر کوئ اسے اسی ایک حوالے سے دیکھ رہا ہے، مدرسے میں پڑھنے والی قرۃ العین جو خود پر دو گز کا برقع لیپٹ کر کسی مرد سے اکیلے میں ملی تھی
” اماں ۔۔۔میں گھر جارہی ہوں “
سعدیہ نے چونک کر اسے دیکھا
” کیا ہوا ؟ , گھر کس لئے ؟”
” سر میں درد ہے “
” زیادہ ہے کیا ؟”
وہ پرشان ہوگئیں
” بہت زیادہ ۔۔۔۔۔ مجھے لگ رہا ہے سر درد سے پھٹ جائے گا “
” میں چلتی ہوں ساتھ “
وہ اٹھنے لگیں
” نہیں اماں ۔۔۔۔ میں چلی جائوں گی ، پھپھو ناراض ہوں گی آپ گئیں تو “
سعدیہ رک گئیں
” اچھا میں تمہارے ابا کو کہتی ہوں فون کرواکے ، وہ آجائیں گے لینے ، تم رکو “
” وہ گھر ہوں گے ، میں ابوبکر کو کہتی ہوں وہ چھوڑ آئے گا “
“چلو ٹھیک ہے ، وہ باہر ہوگا ، دوائ لے لینا گھر جا کر ۔۔۔۔”
وہ اسے تاکید کرنے لگیں ، قرت سر ہلاتی پلٹ گئ ، ارگرد دیکھا ، منظر دھندلا گیا ،پلکیں جھپکیں ،درد بڑھ گیا ،ابوبکر مردوں کی طرف تھا ، اسے کیسے بلائے ؟
” آپی۔۔۔۔۔”
پیچھے سے کسی کی آواز آئ ، وہ بھاری قدموں اور مسخ ہوتے دل سے آگے بڑھنے لگی، گھر کا مرکزی گیٹ کھلا تھا ، وہاں بچے ٹھہرے تھے , وہ کسی کو بلانا چاہتی تھی جب دروازے سے جواد اندر آیا ، اسے وہاں دیکھتے وہ ٹھٹکا ، پھر مسکراتے ہوئے اس تک آیا ، قرت کے وجود پہ تھکن اترنے لگی ، وہ اس شخص کا اس وقت نام بھی نہیں سننا چاہتی تھی
” کیسی ہو ڈیئر کزن “
شوخی سے مسکراتے اسے دیکھا
” راستے سے ہٹ جائو جواد “
اس کی آواز میں بھی تھکن اتر آئ ، پیچھے سے دوبارہ کسی نے بلایا
” آپی۔۔۔۔۔۔ “
” اگر میں کہوں کہ اب تمہارے راستے مجھ تک آنے والے ہیں پھر ؟”
اس کے وجود کی تھکن گھٹن میں بدلی
” یہ خواب دیکھنا چھوڑ دو جواد ، قرت العین مر جائے گی اس سے پہلے “
جواد کی مسکراہٹ غائب ہوئ پھر وہ ایک قدم آگے ہوا
” تمہارا یہی غرور اور تکبر مجھے اکساتا ہے قرت ،اسی کو خاک میں ملانا ہے مجھے ،ایک بار شادی ہونے دو اپنے پائوں کی جوتی بنا کر رکھوں گا تمہیں “
وہ پھنکارا ،اس کے اندر پہلی بار کوئ طیش سا ابھرا ، وہ شاید جواد کے چہرے کو نوچ ڈالتی اگر پیچھے سے اسے کسی کی آواز نا آتی
” آپی ۔۔۔۔ ” مہر پیچھے کھڑی تھی ، سانس ہلکا سا پھولا ہوا تھا ” کب سے بلارہی ہوں “
اس نے رخ موڑ کر مہر کو دیکھا ، اس کے آس پاس صرف دو آوازیں تھیں ، زور سے بین ڈالتے بچے کی آواز اور دوسری ۔۔۔۔۔
” تمہاری آپی مجھے سن رہی تھیں “
وہ آواز ۔۔۔۔ اس شخص کی آواز
” گھر چلیں ؟ اماں سے پوچھ آئ ہوں میں بھی “
مہر نے جواد کو نظر انداز کیا ، اگر وہ پہلے کہتی تو وہ منع کردیتی ، لیکن ابھی اس نے سر ہلادیا ، جواد پر ایک قہر بار نظر ڈالتے وہ مہر کا ہاتھ تھامتی دروازے کی طرف بڑھ گئ ، جواد کے لبوں پہ تمسخر بھری مسکراہٹ ابھری
” آپی ۔۔۔۔۔۔۔ “
” ہوں۔۔۔۔۔۔۔”
وہ تیزی سے چلتی جارہی تھی ، جلدی فاصلہ طے ہو ، گھر نزدیک تھا ، چند قدموں کے فاصلے پر ، پر آج مسافت لمبی ہوگئ تھی
” آپ بہت مضبوط ہیں “
مہر کہہ رہی تھی ، وہ سن رہی تھی ، قدم تیز ہوگئے ، اس نے مہر کو جواب نہیں دیا ، وہ کچھ کہتی تو رو دیتی ، وہ اس کے سامنے نہیں رونا چاہتی تھی ، وہ مضبوطی کا بھرم قائم رہنے دینا چاہتی تھی ، لیکن اب شاید اسے ٹوٹ جانا چاہئے تھا ، اسے مہر کے سامنے رولینا چاہئے ، اسے اس کمرے میں بچے کے ساتھ اس سے زیادہ اونچی آواز میں رونا چاہئے تھا ، لیکن وہ نا تب رو سکی نا اب رو سکتی تھی ، کبھی کبھی اس کا دل چاہتا تھا کہ اس کے اردگرد کے لوگ اسے مضبوط سمجھنا چھوڑ دیں تاکہ وہ سب کے سامنے کھل کے رو سکے
گھر آگیا تھا ، دروازہ کھلا تھا ، وہ بنا اِدھر اُدھر دیکھے اندر بڑھ گئ ، سامنے برآمدے سے ابا باہر آرہے تھے
” تم لوگ جلدی آگئے ؟”
وہ انہیں دیکھتے حیران ہوئے
” جی ۔۔۔ میرے سر میں درد تھا “
وہ وہیں رک گئ
” زیادہ درد ہے کیا ، ڈاکٹر کے پاس چلیں ؟”
وہ چند سیکنڈ میں پریشان ہوگئے
” نہیں ابا ،، زیادہ نہیں ہے ، آرام کروں گی تو ٹھیک ہوجائے گا ، آپ جارہے ہیں ؟”
” ہاں ۔۔بس ابھی جارہا تھا”
” مہر کو لیتے جائیں ٫ مجھے چھوڑنے آئ تھی “
اس نے آگے نا کچھ کہا نا کسی کا چہرہ دیکھا ، مزید ضبط مشکل تھا، کمرے میں آتے اس نے دروازہ بند کیا ، نقاب اتارا ، سیاہ حجاب بیڈ پر رکھا ، عبایا اتارنے کی ہمت نہیں تھی ،اور وہیں نیچے بیٹھتی چلی گئ ، آنکھوں میں روک رکھے آنسو بہہ نکلے ، ضبط ٹوٹ گیا ، گھٹن بڑھ گئ ، لبوں سے سسکی نکلی ، اس نے ہاتھ منہ پر رکھ لیا
” اللہ ۔۔۔۔۔۔”
” اللہ میرا دل ۔۔۔۔۔”
اس کے دل میں درد بڑھنے لگا، اذیت ہر طرف پھیل گئ
” یہ سب کب ختم ہوگا اللہ ، کب مجھے معافی ملے گی ؟ کب اذیت ختم ہوگئ ، معافی نا صحیح موت دے دیں ، “
اس کا وجود ہچکیاں کھانے لگا
” کیا اچھا ہوتا کہ میں مر جاتی ۔۔۔۔۔ جب نروس بریک ڈاؤن ہوا تھا ۔۔۔۔تب ہی۔۔۔۔ تب ہی مر جاتی “
اس نے سر گھٹنوں میں رکھ دیا ، سیاہ ریشمی بال ارگرد پھیل گئے
خدا کی زمین پر خدا کے بندوں نے اس کیلئے زندگی مشکل بنادی تھی ، خدا کی زمین پر رہنے والوں نے خدا کی زمین اس پر تنگ کردی تھی
” جو گناہ ہوا وہ مجھ پر بہت بھاری ہے ، لیکن اب معاف کردیں ،میری اذیت ختم کردیں ، مجھے معاف کردیں ، “
الفاظ ختم ہوتے گئے ، سسکیاں بڑھتی گئیں ، وہ گھٹوں میں سر دیئے روئے گئ ، اور اس کے کمرے کے دروازے کے باہر کھڑے نعمان صاحب پھٹتے دل سے واپس پلٹے ، برآمدے تک وہ بمشکل چلے
” مہر ۔۔۔۔۔ “
مہر برآمدے میں بیٹھی تھی ، زمین کو گھورتی ہوئ ، نعمان صاحب کی آواز پر چونک کر انہیں دیکھا
” جی۔۔۔۔۔ “
وہ تھکن سے اس کے ساتھ آبیٹھے
” قرت کو کیا ہوا ہے ؟”
مہر چہرہ موڑ کر انہیں دیکھنے لگی
” ان کی ماہ نور سے بحث ہوئ تھی “
” کیا وہ اسی وجہ سے پریشان ہے ؟”
وہ چند لمحے خاموش رہی ، جو کچھ وہاں ہوا تھا وہ انہیں نہیں بتانا چاہتی تھی لیکن وہ انہیں کچھ اور بتانا چاہتی تھی
” وہ جواد بھائ کی وجہ سے پریشان ہیں “
نعمان صاحب پورے کے پورے تھم گئے
” کیوں ؟”
” جب ہم آرہے تھے تو انہوں نے آپی سے کہا کہ ایک بار آپی کی ان سے شادی ہو جائے وہ انہیں اپنے پائوں کی جوتی بنا کر رکھیں گے “
اس کی آواز دھیمی ہوگئ ، نعمان صاحب ساکت نظروں سے اسے دیکھے گئ
” اس نے یہ کہا ؟’ “
مہر نے بس سر ہلادیا ، اگلے کئ لمحے وہ دونوں خاموش رہے
” آپی کی شادی جواد بھائ سے مت کیجئے گا ابا ، وہ بہت اچھی ہیں ، آپ ان کیلئے کسی ایسے کو چنئے گا جو انہیں کبھی نا رلائے “
وہ بہت دھیرے سے بولی ، نعمان صاحب نے رخ موڑ لیا ، کانوں میں کئ سال پہلے کسی کا کہا گیا جملہ گونجا
” میں دنیا کا آخری شخص ہوں گا جو انہیں رلائے گا “
وہ اگلے کئ لمحے چپ رہے
” تم نے جانا ہے شادی پر ؟”
وہ بلآخر کچھ دیر بعد بولے
” دل نہیں ہے ابا “
” چلی جائو بیٹے ۔۔۔ پھپھو ناراض ہوں گی ، میں چھوڑ آتا ہوں ” وہ اٹھ کھڑے ہوئے
” اور آپی ۔۔۔۔؟”
” اس کی طبیعت خراب ہے ، میں تمہیں چھوڑ کر واپس آجائوں گا “
وہ آگے بڑھ گئے ، اس لمحے مہر کو احساس ہوا ابا قرت کے لئے ڈر گئے تھے ، چار سال پہلے اسے نروس بریک ڈاؤن ہوا تھا ، انہیں ڈر تھا وہ درد آج بھی ویسا نا ہو ، قرت کے کمرے کی طرف ایک نظر ڈال کر نعمان صاحب کے پیچھے بڑھ گئ ، اس کا دل نہیں تھا جانے کا
اور دروازے سے باہر نکلتے نعمان صاحب نے اس لمحے ایک فیصلہ لیا تھا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
صبح صبح کی نوخیزی قصبے میں بہار کی طرح چھائ تھی ، موسم ٹھنڈا ہورہا تھا ، گرمیاں جانے والی تھیں ، دور کہیں سے کسی ٹیوب ویل کے چلنے کی آواز وہاں تک آتی تھی جہاں برآمدے میں دستر خوان بچھا تھا ، سعدیہ روٹیاں رکھ رہی تھیں ، قرت مہر کے ساتھ بیٹھی تھی ، زمین کو گھورتے ہوئے ، ابوبکر ابھی ابھی دسترخوان پر آیا تھا ، سب بیٹھ گئے تو انہوں نے سب کو روٹیاں دینا شروع کردیں
” طبیعت ٹھیک ہے قرت ؟”
اس نے سر اٹھا کر نعمان صاحب کو دیکھا پھر سر ہلادیا
” تمہاری کل ماہ نور سے لڑائ ہوئ تھی ؟”
سعدیہ اس کی آنکھوں کو بغور دیکھتی پوچھنے لگیں
” بحث ہوئ تھی “
” ایسی بھی کیا بات ہوگئ کہ اس کی شادی والے دن ہی لڑائ کردی اس سے ؟”
” آپ نے ماہ نور کو سنا تھا ؟ شادی ہے تو کیا جو منہ میں آیا بولتی رہیں گی ، اور آپی نے تو کچھ بھی نہیں بولا تھا ، ماہ نور نے ہی بحث شروع کی تھی “
جواب مہر کی طرف سے آیا تھا ، سعدیہ نے اسے گھورا
” جو بھی تھا کم ازکم اس طرح لڑائ تو شروع نا کرتیں دونوں “
” ارے اماں آپ جانتی تو ہیں ماہ نور آپی کی زبان کے آگے خندق ہے ، مجھے یقین ہے ان کا ہی سارا قصور ہوگا “
قرت نے خاموشی سے بس ابوبکر کو دیکھا ، وہ بہت چپ تھی ہوں جیسے بولنے کو کچھ باقی نا رہا ہو
” میں کل شہر سے باہر جارہا ہوں “
اس سے پہلے کہ کوئ مزید اس معاملے پر تبصرہ کرتا نعمان صاحب کی بات نے سب کو خاموش کرادیا
” کس لئے ؟”
“کچھ اہم کام ہے بیگم ، آجائوں گا ایک دو دن تک “
انہوں نے قرت کو دیکھا ، وہ سر جھکائے خاموشی سے کھانا کھا رہی تھی ، آنکھیں سرخ تھیں
” وہ تو ٹھیک ہے لیکن جا کیوں رہے ہیں ؟”
سعدیہ کو ان کا جواب ٹالنا ہضم نہیں ہوا تھا
” ہے ایک کام ، کسی پرانے شناسا سے ملنا ہے “
انہوں نے رخ موڑ لیا، سعدیہ نے اس بار کچھ نہیں کہا ، سب کھانے کی طرف متوجہ ہوگئے ، سوائے نعمان صاحب کے جو کچھ سوچ رہے تھے اور جن کے کپڑوں کی جیب میں ایک مڑا تڑا کاغذ رکھا تھا
