Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nahal (Episode 15)

Nahal By Fatima Noor 

اس نے بیگ بینچ پر پٹخا اور سر بھی بینچ پر گرالیا کلاس میں اس وقت اکا دکا لڑکیوں کے علاوہ کوئ نہیں تھا اور اسے پرواہ بھی نہیں تھی ، پورا راستہ دماغ سے صرف وہ لڑکا چپکا رہا تھا ،ماریہ کو اس نے جس طرح مطمئن کیا تھا وہی جانتی تھی

” لیکن ہوسکتا ہے وہ سچ میں تم سے محبت کرتا ہو “

نپے تلے الفاظ میں اسے اپنی اور عیسٰی کی ملاقات کا بتانے کے بعد اس نے آج کی ملاقات کا احوال بھی بتادیا تھا اور اب شدید پچھتارہی تھی ،ماریہ نے پوارا راستہ اس کا سر کھالیا تھا

“ایک بار بات تو کرکے دیکھو ٫وہ دوسرے شہر سے تمہارے لئے یہاں آیا ہے ،ایک بار اس کی بات سننے میں کیا حرج ہے ,, “

” ماریہ خاموش ہوجائو ، میرا سر دکھ رہا ہے “

اس نے بس یہی ایک بات کہی تھی اور وہ خاموش ہوگئ

البتہ اس کا دماغ کچھ اور ہی سوچ رہا تھا ، اس کی باتیں ، وہ نظریں ، ان میں موجود کچھ کہتے جذبات ، اور اس کی تسبیح ، اس کا دل یکدم بھر آیا ، اس تسبیح کیلئے وہ کتنا روئ تھی ، اس نے کتنا صبر کیا تھا ، کیا ہوتا اگر وہ اسے دے دیتا

” قرت۔۔۔۔ “

اس نے چونک کر سر اٹھایا سامنے باجی جان کھڑی تھیں، اسے ڈھیروں شرمندگی نے آن گھیرا ،پوری کلاس بھرچکی تھی

” آپ کی طبیعت ٹھیک ہے ؟”

” جی باجی جان ۔۔بس سر ہلکا سا درد کررہا تھا “

” آپ چھٹی کرلیتیں مدینہ “

وہ اسی نرم آواز میں کہہ رہی تھیں ، وہ ہلکا سا مسکرائ

” میں ٹھیک ہو باجی جان “

بہتر ، اگر زیادہ خراب ہو تو بتائیے گا آپ کے گھر فون کروادیں گے “

اس نے سرہلایا ، باجی وہاں سے چلی گئیں

” چلیں جماعت شروع کرتے ہیں ، اپنی کتاب نکال لیں سب “

اس نے کتاب نکال لی البتہ دماغ مائوف سا ہورہا تھا ،جانے ماریہ کہاں تھی ،حریم آج آئ نہیں تھی ,چند دن بعد پہلا پیپر تھا اور اسے پڑھنا تھا لیکن اب کہاں کی پڑھائ !

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

مسجد کے کونے والی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا عیسٰی خاموشی سے سامنے بیٹھے بچے کو دیکھ رہا تھا ، جو اردگرد سے بے نیاز لہک لہک کر مسلسل قرآن کی تلاوت کررہا تھا ، وہ پچھلے دس منٹ سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔روانی سے ترتیل کے ساتھ قرآن پڑھتے ہوئے وہ ایک بار بھی نہیں اٹکا تھا

” یہ سارہ تو چین ہی نہیں لینے دیتی “

زین اس کے ساتھ آکر بیٹھا تو اس نے نظر گھما کر اسے دیکھا

” تنگ آگئے ہو اس سے ؟”

” بے زار ۔۔۔”

” ایک ہی مطلب ہے “

” مفہوم الگ الگ ہیں “

وہ برجستہ بولا

” چھوڑ دو پھر ۔۔۔۔”

لاپرواہی سے کہتا عیسٰی دوبارہ سامنے دیکھنے لگا

” ایسے ہی چھوڑ دوں ؟ ۔۔۔محبت کرتا ہوں اس سے “

” یہ کہہ کر محبت کی توہین مت کرو “

” تمہاری محبت محبت ہماری محبت توہین ؟ “

” کم از کم میری محبت کے ساتھ اپنے فلرٹ کو کمپیئر مت کرو “

” واہ ۔۔۔یہ ۔۔۔”

” سنو۔۔۔۔ ! “

اس نے زین کی بات کو کاٹتے سامنے آتے لڑکے کو مخاطب کیا تو وہ رک گیا

” جی۔۔۔۔”

” یہاں بیٹھو ۔۔۔۔” کچھ دیر متذبذب رہنے کے بعد وہ ان کے سامنے بیٹھا

” نام کیا ہے تمہارا ؟”

” ابوبکر نعمان ” زین پورا کا پورا چونکا ، عیسٰی البتہ سکون سے بیٹھا رہا

” تم قاری صاحب کے بیٹے ہو ؟”

” جی ۔۔۔۔” زین نے رخ موڑ کر عیسٰی کو دیکھا، اور اسے اندازہ ہوا وہ پہلے سے ہی جانتا تھا

” حفظ کررہے ہو ؟” ابو بکر نے اب کے عیسٰی کو دیکھا

” دہرائ۔۔۔حفظ کرچکا ہوں “

” اچھا پڑھتے ہو “

ابوبکر کا چہرہ کھل اٹھا

” آپی سے سیکھا ہے ۔۔۔”

” تمہاری آپی نے حفظ کیا ہوا ہے ؟”

” نہیں۔۔۔۔لیکن وہ قرآت اچھی کرتی ہیں “

” کتنے بہن بھائ ہو تم لوگ ؟”

” تین ۔۔۔۔ ” زین منہ بناتا پیچھے کو ہوا ،اسے اب سمجھ آئ وہ اسی لئے اس بچے کو کب سے دیکھ رہا تھا تاکہ اس سے معلومات نکلواسکے

” ٹھیک ۔۔۔۔”

” آپ لوگ یہاں مہمان ہیں ؟”

” مہمان ہی سمجھ لو ۔۔۔” وہ مسکرایا ” تم روز تلاوت کرنے آتے ہو ؟”

“دہرائ ۔۔۔۔”

تصحیح کی

” وہی ۔۔۔”

” جی ۔۔۔روز “

” کبھی نظر نہیں آئے “

” میں تو ہر نماز کے وقت آتا ہوں تقریباً ، آپ نے نہیں دیکھا ؟ ” زین کھانس کر سیدھا ہوا ، وہ دونوں نماز کے وقت یوں غائب ہوتے تھے جیسے اذان کے وقت شیطان

” نظر نہیں پڑی ہوگی ۔۔۔”

عیسٰی نے گھور کر زین کو دیکھا

” آپ لوگ نماز نہیں پڑھتے باجماعت ؟”

وہ جیسے سمجھ گیا تھا ، اس نے کان کھجایا

باجماعت کیا وہ تو سرے سے نماز ہی نہیں پڑھتے تھے

” ہم لوگ ۔۔۔دراصل۔۔۔۔”

اسے سمجھ نا آئ کیا کہے

” کتنی غلط بات ہے یہ ۔۔۔یہ تو وہی مثال ہوگئ کہ آپ کے گھر میں شفاف پانی کی نہر لگی ہے اور آپ اس سے پینے پر رضامند ہی نہیں “

ان دونوں نے سر ہلادیا ، وہ اس بارہ سالہ لڑکے سے ایسی بات کی امید نہیں رکھتے تھے

” نماز مت چھوڑا کریں ، آپ کو علم ہے ۔۔۔۔”

” کون سی کلاس میں ہو ۔۔۔۔” زین نے اس کی بات کاٹ دی ۔۔وہ اس وقت لیکچر سننے کے موڈ میں نہیں تھا

” سیون میں ۔۔۔”

” اور تمہاری آپی۔۔۔؟”

” وہ مدرسے جاتی ہیں “

” رشتہ ہوچکا ہے ان کا کہیں ؟”

اب کہ اس کے ماتھے پر بل پڑے٫ عیسیٰ نے ضبط کرتے ہونٹ بھینچے ٫ زین !!!!

٫میں جائوں ؟، دیر ہورہی ہے “

عیسیٰ نے سر ہلادیا پھر احساس ہوا اس نے اجازت نہیں لی تھی صرف بتایا تھا ، ابوبکر چلا گیا تو وہ زین کی طرف متوجہ ہوا

” کیا ضرورت تھی اس کی آپی کا پوچھنے کی ؟”

” میں تو تمہارے لئے پوچھ رہا تھا مجھے کیا معلوم تھا بچہ غیرت میں آجائے گا “

وہ کچھ خائف ہوا

” بہت شکریہ، ۔۔”

تڑخ کر کہا ، اچھا خاصا وہ باتوں باتوں میں قرت کے متعلق جاننا چاہ رہا تھا اور اس نے سرے سے سارا معاملہ ہی خراب کردیا ، زین منہ میں بڑبڑاتا اٹھ گیا ٫ اگلے دو دن ابوبکر دہرائی کرنے آتا تو عیسیٰ سے بھی ملتا ٫ زین سے البتہ اس کی جانے کیوں بنتی نہیں تھی

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

اگلی صبح وہ پھر اس کا منتظر تھا ، باغ میں رکھے موٹے پتھر پر بیٹھے وہ اسی طرف دیکھ رہا تھا ، اسے دیکھتے اٹھ کھڑا ہوا ، قرت نے بے اختیار ساتھ چلتی مہر کو دیکھا جو عیسیٰ کو کچھ اچھنبے سے دیکھتی اس کے ساتھ چل رہی تھی

” پلیز میری بات سن لیں ۔۔”

وہ رکی پھر مہر کو دیکھا

” تم یہیں رکو میں آتی ہوں “

” لیکن آپی ۔۔۔”

” مہر۔۔۔۔۔۔”

اس کے سختی سے کہنے پر وہ سر ہلا گئ٫ قرت گہری سانس لیتی تیورا کر پلٹی اور عیسیٰ تک آئ

” دیکھیں ، مجھے تنگ مت کریں ، ورنہ میں ابا کو بتادوں گی “

” آپ ایک بار تسلی سے میری بات سن لیں قرت “

” میرا نام مت لیں ۔۔۔۔”

” اگر میں کہوں کہ مجھے اب صرف آپ ک نام یاد رہ گیا ہے تو ؟ “

” بھول جائیں ، میرا نام بھی، مجھے بھی “

” اس قدر ظالم مت بنیں “

” آپ رحم دل بن جائیں اور مجھے بھول جائیں “

” مجھ سے وہ کرنے کا مت کہیں جس پر میرا اختیار نہیں “

اس نے آنکھیں بند کیں اور جب کھولیں تو ان میں شدید بے بسی تھی

” کیا چاہتے ہیں آپ ؟ “

” صرف آپ سے چند منٹ بات کرنا چاہتا ہوں ۔۔”

وہ اس کے علاوہ ہر شے کو دیکھ رہا تھا

” جو کہنا ہے جلدی کہیں ، اگر یہاں کسی نے دیکھ لیا تو آپ سوچ بھی نہیں سکتے کیا ہوگا “

” یہاں ؟۔۔”

” مجھ سے اس کے علاوہ کوئ توقع مت رکھیں کہ میں آپ سے کہیں ملوں گی “

” اوکے ۔۔۔” اس نے سر ہلایا اور اسے دیکھا ” میں نے اس دن جو بات کہی تھی وہ سچ تھی، مجھے آپ سے محبت ہوگئ ہے قرت العین ” اس نے پہلی بار اپنی نظریں اٹھائ تھیں اور ان آنکھوں میں دیکھا تھا جنہوں نے اسے کئ راتیں بے چین رکھا تھا

” آپ چاہتے ہیں میں اس بات پر یقین کرلوں کہ آپ کو مجھ سے بغیر دیکھے محبت ہوگئ ہے ، وہ بھی ان ملاقاتوں کے بعد جو قطعا خوشگوار نہیں تھیں “

اس نے سینے پر ہاتھ باندھے اسے دیکھا

” میں چاہتا ہوں آپ اس بات پر یقین کرلیں کہ یہ محبت سے زیادہ ہے ، اگر یہ روگ ہے تو مجھے یہ روگ لگ گیا یے ، اگر یہ آسیب ہے تو یہ آسیب مجھ سے چمٹ چکا ہے ، اگر یہ عشق ہے ، تو یہ عشق عیسیٰ حیات کا مقدر ہوا “

” مجھے وہ کہانیاں مت سنائیں جن پر میں یقین نا کرسکوں “

” یہ کہانی نہیں ہے “

” یہ کہانی سے زیادہ بھی نہیں ہے ، آپ مجھے کہہ رہے ہیں کہ آپ کو مجھ سے بغیر دیکھے محبت ہوگئ ، حالانکہ آپ مجھے جانتے تک نہیں ہیں ، بلکہ جاننا تو دور آپ کو میرا نام تک نہیں معلوم تھا ، اور آپ یہاں چلے آئے مجھ سے ملنے ، اس پر یقین کیا جاسکتا ہے ؟ یہ ایک افسانوی قصے سے زیادہ کچھ نہیں ہے “

اس نے استہزائیہ سر جھٹکا ، عیسیٰ چند لمحے اسے دیکھے گیا پھر اس نے دو قدم آگے بڑھائے

” میری آنکھوں میں دیکھیں اور بتائیں کیا آپ کو ان میں جھوٹ نظر آرہا ہے ؟”

اسے نہیں دیکھنا چاہئے تھا لیکن اس نے دیکھ لیا ، وہ آنکھیں صدیوں یاد رکھی جاسکتی تھیں اور ان کا سچ صدیوں بھلانے کی کوشش میں صدیوں یاد رہ جانے والا تھا ، اس نے نظریں چرا لیں

” دیکھیں عیسیٰ آپ ۔۔”

” دوبارہ سے کہیں ۔۔”

” جی ؟”

ناسمجھی سے اسے دیکھا

” میرا نام دوبارہ سے کہیں “

” یا اللہ ۔۔” وہ کراہی۔۔۔۔ ” مجھے ایسے امتحان میں مت ڈالیں جو مجھے برباد کردے “

” میں ایسے امتحان میں پڑچکا ہوں اور قابل حیرت میں برباد بھی ہوچکا ہوں ۔۔”

” مجھے کیوں کرنا چاہتے ہیں برباد ؟”

” آپ وہ آخری انسان ہوں گی جس کیلئے میں یہ خواہش کروں گا “

وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر پلٹ گئ ، عیسیٰ اگلے کئ لمحے وہیں ٹھہرا رہا

” یہ آپ کو تنگ کررہے ہیں ؟”

وہ جب مہر تک آئ تو وہ عیسیٰ کو دیکھتی ناگواری سے پوچھنے لگی

” نہیں۔۔۔۔اور خبردار جو تم نے ابا یا اماں سے اس بات کا زکر کیا ” انگلی اٹھاکر اسے تنبیہہ کی

“وہ آپ کو تنگ کررہے ہیں تو آپ خود ابا کو بتادیں نا “

“میں خود دیکھ لوں گی لیکن مہر تم ابا یا اماں سے زکر نہیں کروگی سمجھیں ؟ ورنہ میں بہت بری طرح پیش آئوں گی تم سے “

مہر نے تیزی سے سر ہلا دیا وہ قرت کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

” آج پھر وہ لڑکا ملاتھا ؟” اس نے سردباتے رک کر ماریہ کو دیکھا

” کون سا لڑکا ؟”

حریم چونکی

” ہے کوئ ۔۔۔ جو قرت سے محبت کربیٹھا ہے “

اس کی آواز معنی خیز ہوئ

” ہیں ؟ کون ؟” حریم کو سمجھ نہیں آئ تھی

” مجھ سے اس بارے میں بات مت کرو ۔۔” وہ بے زاری سے کہتی اٹھ گئ

پیچھے ماریہ نے حریم کو قرت کی سنائ گئ داستاں سنانی شروع کردی ، وہ سینے پر ہاتھ باندھے آگے چلتی گئ

” میں ایسے امتحان میں پڑ چکا ہوں اور قابل حیرت میں برباد بھی ہوچکا ہوں ۔۔”

” مجھےآپ سے محبت ہوگئ ہے قرت العین ۔۔”

وہ مدرسے کی بارہ دریوں میں چلتی جارہی تھی، نظریں نیچے تھیں ، ذہن کہیں اور تھا ، اس نے کلاس میں ایک لفظ بھی نہیں سنا تھا ، بار بار عیسیٰ کے الفاظ یاد آتے ، اس کی آنکھیں یاد آتیں ، اس نے صرف ایک بار اپنی نظریں اٹھا کر قرت کو دیکھا تھا ، غضب ہوا کہ اس لمحے اس کی نگاہیں بھی اٹھیں

، وہ سیاہ آنکھیں ، قصہ گو کی قدیم داستان سنا رہی تھیں ، وہ کسی صوفی کا مزار پر رقص دکھا رہی تھیں ، اس نے پہلی بار کہانی لکھتی آنکھیں دیکھی تھیں ، پہلی بار کہانی سناتی آنکھیں دیکھی تھیں ،

اس نے جانا کہ وہ تاریخ نویس ہوتا تو لکھتا کہ ایک اجنبی کسی شہر میں اترا تھا ، وہ شہر میں مقیم کسی چغہ پوش شہزادی کا پتا پوچھتا تھا ، وہ نگاہیں جھکا کر رکھتا شخص اپنے شہر میں یہ تکلف نہیں کرتا تھا ، وہ قصہ گو ہوتا تو اس چغہ پوش شہزادی کو ملکہ اور خود کو سلطان لکھتا

پر افسوس وقت نے داستاں گو کا عہدہ شہزادی کے ہاتھ میں تھما دیا تھا ، اور شہزادی مٹی کا ڈھیر بننے سے ڈرتی تھی

وہ چلتے چلتے جانے کہاں آگئ جب پیچھے سے حریم اور ماریہ دوڑتی ہوئ آئیں

” کہاں جارہی ہو ، کھونے کا ارادہ ہے ؟”

” معلوم نہیں حریم ، میں شاید واقعی کھو گئ ہوں”

وہ سر ہاتھوں میں تھامے سیڑھیوں پر بیٹھ گئ ، حریم اس کی دائیں طرف اور ماریہ بائیں طرف بیٹھ گئ

” تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا ؟”

” کیا بتاتی ؟ کاش مجھے خود بھی یہ معلوم نا ہوتا “

” ایک بار سن تو لو اسے قرت “

” سنا تھا ، افسوس نا سنا ہوتا “

” کیا کہہ رہا تھا ؟”

اس نے رخ موڑ کر حریم کو دیکھا

” جو وہ زبان سے کہتا ہے وہ جھوٹ لگتا ہے جو وہ آنکھوں سے کہتا ہے وہ سچ سے زیادہ ہے ، اس کی آنکھیں سچی ہیں حریم ، لیکن وہ غلط راستے پر منزل ڈھونڈھ رہا ہے ” اس نے سر گھٹنے پر ٹکادیا

” غلط کیوں ؟ اس سے کہو انکل سے تمہارے رشتے کی بات کرے “

قرت کے لبوں پر بے بس سی مسکراہٹ ابھری

” ابا نہیں مانیں گے ، لیکن جانتی ہو اس کے علاوہ کیا ہوگا ؟ جب خاندان میں پتا چلے گا تو مجھ پر باتیں کی جائیں گی ، وہ اسلام آباد سے یہاں میرے لئے آیا ہے ۔۔۔سچ ہے ۔۔۔لیکن یہ سچ مجھے بدنام کردے گا ۔۔۔ میں اپنے باپ کی عزت مٹی نہیں کرنا چاہتی “

” ممکن ہے ایسا نا ہو ۔۔”

ماریہ پہلی بار بولی

” ایسا ہی ہوگا ۔۔۔ تم لوگ میرے خاندان کو نہیں جانتے ، مجھ پر انگلیاں اٹھیں گی ، تہمت لگے گی اور سنگسار کردیا جائے گا ، میں ذلت سے ڈرتی ہوں ، جس چیز سے ڈرتی ہوں اسے خود کیلئے کیسے چن لوں؟ ، مجھے یہ سب ختم کرنا ہوگا ” اس کا لہجہ فیصلہ کن ہوا

” کیا کروگی ؟”

حریم کو خوف لاحق ہوا

” کچھ تو کروں گی “

وہ بیگ اٹھاتی جانے لگی جب پیچھے سے ماریہ کی آواز آئ

” اس کا نام عیسیٰ حیات ہے نا ؟”

” ہاں ۔۔۔”

وہ آگے بڑھ گئ ، تھوڑی دور جاکر خیال آیا شاید اسے ماریہ سے پوچھنا چاہئے کہ وہ اس کا نام کیوں پوچھ رہی تھی ، لیکن اب پیچھے جانے کا دل نہیں کیا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

کیا ؟”

اس نے کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے گھورتے زین کو دیکھا

” کب گئے تھے تم ان سے ملنے ؟”

” جب تم اپنے باپ کی ساری جائیداد بیچ کر سورہے تھے “

” مجھے اٹھا بھی سکتے تھے ، لیکن تم چاہتے تھے کہ میں تم دونوں کے بیچ ہڈی نا بنوں “

” بالکل ۔۔۔میں یہی چاہتا تھا “

عیسیٰ کا سکون قابل دید تھا

” چچ ۔۔۔لڑکی ملتے ہی دوست بدل گیا ، بھول گئے کتنی قربانیاں دی ہیں میں نے تمہارے لئے ؟”

” بزرگ کہتے ہیں کہ احسان جتانے سے ضائع ہوجاتے ہیں “

” ان بزرگوں نے یہ تمہارے جیسے دوستوں کے علاوہ سب کیلئے کہا ہوگا “

وہ جلابھنا ارگرد گھوم رہا تھا ، یعنی وہ سوتا رہ گیا اور عیسیٰ دو دن قرت سے مل بھی آیا ، اسے خبر تک نا ہوئ

” کیا فائر کررہا ہے میرے اوپر، ویسے بھی ابھی صرف اظہار محبت ہی کیا ہے ، شادی کیلئے پرپوز تھوڑی کیا ہے “

اس نے اکتا کر کہتے ہوئے موبائل آن کرلیا ، وہ زین کی چخ چخ سے اب تنگ آ گیا تھا

” کرنا بھی مت “

” تمہارے کہنے پر جیسے میں رک جائوں گا “

زین نے گویا ماتھا پیٹا ۔” اس طرح ایک سڑک پر کھڑے ہوکر پرپوز کروگے تو وہ رکھ کر ایک تھپڑ لگائے گی تمہیں “

” تمہیں بہت پتا ہے ان باتوں کا ” وہ مشکوک ہوا

” ہے پڑا تو ؟ “

” تو کچھ نہیں ، اب دفع ہوجائو اور کچھ لے کر آئو کھانے کیلئے ، میں آج سبزی کھانے کے بالکل موڈ میں نہیں ہوں ۔۔”

” بیٹا ہم زبردستی کے مہمان ہیں اور زبردستی کے مہمانوں کو سبزی ہی کھلائ جاتی ہے “

وہ چابی اٹھاتا وہاں سے چلاگیا ، ، زین کے جانے کے بعد عیسیٰ نے انسٹا گرام کھولا کچھ دیر وہ یونہی سکرول کرتا رہا٫ کچھ میسجز چیک کئے ٫ ایک دو سٹوریز دیکھیں ، اور پھر جب انسٹا بند کرنے لگا تو یکدم دماغ میں کچھ چمکا ، فورا سے دوبارہ میسجز کی طرف گیا تو سامنے ہی کسی کا میسج آیا ٹھہرا تھا

” میں قرت العین کی دوست ہوں ، میسج پڑھ لیں تو رابطہ کیجئے گا ۔۔۔سلام “

وہ کچھ دیر اس میسج کو دیکھئے گیا پھر جوابی میسج کیا

” قرت العین ؟”

” جی ۔۔قرت العین مسٹر عیسیٰ حیات “

لڑکی آنلائن تھی سو فورا رپلائے آئے

” آپ مجھے کیسے جانتی ہیں ؟”

“اس دن باغ میں، میں قرت کے ساتھ تھی “

اوہ ، اس نے گہری سانس لی

” یاد ہیں مجھے آپ ” اس نے غور سے نہیں دیکھا تھا لیکن اتنا یاد تھا کہ قرت کے ساتھ کوئ لڑکی تھی ” میسج کرنے کی وجہ پوچھ سکتا ہوں ؟”

” مجھے قرت سے متعلق بات کرنی تھی “

” کہئے ۔۔”

وہ اس کے میسج کا انتظار کرتا رہا لیکن شاید وہ آفلائن ہوگئ تھی ، عیسیٰ نے موبائل سائیڈ پر رکھ دیا ، کیا وہ اسے قرت کے کہنے پر میسج کررہی تھی ؟

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

نظریں نیچے جھکائے وہ دھیمے قدموں سے چل رہی تھی ٫ذہن کہیں اور تھا ٫ قدم کہیں اور پڑرہے تھے ٫اس سے دو قدم آگے ابوبکر چل رہا تھا ٫ بیگ کاندھے پر ڈالے تیزی سے کچھ کہتا ہوا

” آپی۔۔۔” وہ چونکی

” کیا ۔۔؟”

” آپ سن رہی ہیں ؟”

” ہاں سن رہی ہوں “

” اچھا تو میں کیا کہہ رہا ہوں ؟”

وہ ہاتھ کمر پر رکھے اس کے سامنے آیا

” تم۔۔۔۔”

وہ رک گئی ٫ جانے کیا کہہ رہا تھا

” آپ نہیں سن رہیں “

لہجہ خفا ہوا

” اچھا سوری۔۔۔۔اب سنوں گی بتائو کیا کہہ رہے تھے ؟” ابوبکر چند لمحے اسے خفا سا دیکھتا رہا پھر دوبارہ اسی جوش سے کہنا شروع ہوگیا

” میں کہہ رہا تھا اس دن مسجد میں کسی نے میری تلاوت کی تعریف کی وہ۔۔۔۔”

اسے توجہ سے سننے کی کوشش کرتی قرت کا دھیان پھر سے بھٹک گیا ٫ زہن میں بیک وقت مختلف خیالات چل رہے تھے ٫ وہ لوگ ابھی باغ کے درمیان میں تھے جب درختوں کے گرد ہلچل سی ہوئ ٫ قرت کے قدم رک گئے ٫ وہ بنا پلک جھپکے دائیں طرف دیکھے گئ ٫ اور تبھی اسے وہ نظر آیا

ہاتھ میں مالٹا تھامے چند سفید پھول پکڑے ان کی طرف آتا عیسیٰ ٫ وہ کچھ غصے سے اسے دیکھے گئ ٫ ابوبکر ساتھ تھا وہ ابا کو بتاتا ٫ بات پھیلتی اور۔۔۔۔

” عیسیٰ بھائ ۔۔۔” سوچ کا سلسلہ ٹوٹ گیا ٫ ابوبکر جوش سے اس کی طرف بڑھ رہا تھا

“آپ یہاں کیا کررہے ہیں ؟”

” قاری صاحب نے کچھ دن پہلے مالٹے کھانے کی دعوت دی تھی ٫ “

وہ اس کے سامنے رکتا کہہ رہا تھا پیچھے سے کوئ اور لڑکا بھی آرہا تھا ٫ قرت کی نظر پیچھے گئ ٫ جیب میں مالٹے ڈالنے کی کوشش کرتا بھورے بالوں والا لڑکا

” اچھا اچھا ۔۔۔میں توڑ دوں آپ کو ؟”

” نہیں۔۔۔شکریہ ۔۔۔ہم نے توڑ لئے ہیں “

اس نے پہلی بار نظر اٹھا کر قرت کو دیکھا جو غصے سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔مالٹے کھانے ؟ وہ اچھی طرح جانتی تھی وہ وہاں کیوں آیا تھا

” لیکن تم چاہو تو مجھے توڑ کر دے سکتے ہو ” زین فوراً سے آگے ہوا

” آپ نے پہلے ہی جیبیں بھر رکھی ہیں “

عیسیٰ نے بمشکل ہنسی ضبط کی ٫ پھر زین کو دیکھا اس کا چہرہ سرخ ہوا تھا

” یہ ہم دونوں نے مل کر توڑے ہیں ٫ میرا خیال ہے زین کو مالٹے بہت پسند ہیں تو تم اس کی مدد کرنے جاسکتے ہو “

ابوبکر کوئ جواب دیتا اس سے پہلے قرت آگے بڑھی ٫ کھینچ کر اس کا ہاتھ تھاما

” چلو۔۔۔۔”

” میں چھوڑ دوں آپ دونوں کو ؟”

وہ اسے جاتے دیکھ تیزی سے بولا ٫ قرت کے قدم رکے ٫پیچھے مڑ کر اسے دیکھا

” اپنے کام سے کام رکھیں آپ ٫ زہر لگتے ہیں مجھے راستے میں آنے والے مرد اور عورتوں کو ایسی پیشکش دینے والے مرد “

سختی سے کہتی وہ ابوبکر کا ہاتھ تھامے وہاں سے چلی گئ ٫ عیسیٰ کا چہرہ تاریک پڑا پھر اس نے سر جھٹکا

” محترمہ زبان کی خاصی تیز لگتی ہیں “

زین دانت نکالتا اس کے سامنے آیا

” میری آفر غلط تھی ٫ وہ ان عورتوں میں سے نہیں ہے جنہیں کچھ بھی کہہ دیا جائے “

اس نے ہر الزام اپنے سر لے لیا

” اس چھوٹے باڈی گارڈ کے ہوتے ہوئے تم کچھ کہہ بھی نہیں سکتے “

وہ ہنسا

” میرا خیال ہے تم دونوں ایک دوسرے کو ناپسند کرتے ہو “

” اس کا تو مجھے یقین ہے کہ وہ مجھے پسند نہیں کرتا۔۔۔” وہ منہ بناتا پیچھے کی طرف گیا

” کدھر؟”

” دو چار اور مالٹے توڑنے …”

” ہم یہاں قرت سے بات کرنے آئے تھے”

” چل بھائ چل۔۔۔۔ تم بھلے قرت سے بات کرنے آئے تھے میں لیکن مالٹے ہی کھانے آیا تھا “

“انہوں نے مروت میں آفر کی تھی یہ نہیں کہا تھا کہ ان کا باغ ہی خالی کردو”

عیسیٰ نے اسے گھورا

” میرے ایک دو مالٹوں سے ان کا باغ ختم ہوہی نا جائے ۔۔۔تم نے نہیں کھانے تو چپ کرکے ٹھہرے رہو ۔۔۔” وہ اندر غائب ہوگیا تو عیسیٰ کی نظر دوبارہ اس راستے کی طرف گئ جہاں قرت اور ابوبکر گئے تھے

ان سے تھوڑے سے فاصلے پر وہ اس کا ہاتھ تھامے تیزی سے آگے جارہی تھی

” آپی۔۔۔ہاتھ تو چھوڑیں “

ابوبکر کا ہاتھ درد کرنے لگا تو وہ کراہا

” ہاتھ چھوڑیں کے بچے کتنی مرتبہ کہا ہے راستے میں کھڑے ہوکر بات نہیں کرتے خاص کر جب کوئ لڑکی ساتھ ہو ” وہ اس کا ہاتھ چھوڑتی اس کی طرف پلٹی

” وہ تو عیسیٰ بھائ سے بس۔۔۔” وہ منمنایا

” اس لڑکے کو کیسے جانتے ہو تم ؟”

اور یہ وہ سوال تھا جو وہ اس سے کب سے پوچھنا چاہ رہی تھی

” آپ کو نہیں پتا یہ وہی مہمان تو ہیں جو مسجد میں رکے ہوئے ہیں “

قرت کا سانس لمحہ بھر کو تھم گیا

” ۔یہ ہیں وہ ؟” بدترین خدشات تھے جو اس کے ذہن میں آئے تھے

” جی یہی ہیں۔۔۔ عیسیٰ بھائ اور زین بھائ “

وہ جہاں تھی وہیں رہ گئ ٫ اگر وہ مسجد میں رکا ہوا تھا تو ابا سے ملا ہوگا ٫ جانے ان سے کیا کہا ہوگا ٫ ان کی اسلام آباد کی ملاقات کا تذکرہ ٫ یا جو کچھ وہ اس سے کہتا آرہا تھا ٫ اگر ایسا تھا تو ابا جانتے ہوں گے کہ اس کی وجہ سے یہاں آیا تھا؟٫ دل رکنے لگا

” وہ میرے دوست بن گئے ہیں ٫ مجھ سے میری کلاس کا پوچھا ٫ قرآن بھی سنا تھا اور تعریف بھی کی تھی “

” میرا ۔۔۔میرا پوچھا تھا ؟” اس کے سامنے کھڑے لڑکھڑاتے لہجے میں پوچھا

” آاااا۔۔۔جی ۔۔۔میرا مطلب وہ ویسے ہی گھر والوں کا پوچھ رہے تھے تو آپ کا زکر آیا تھا “

” کیسا زکر ؟”

” زیادہ نہیں۔۔۔۔ ویسے ہی ” وہ بات گول کرگیا ٫ اسے دیکھتی قرت روہانسا ہوئ ٫ یا خدایا !

” میری بات سنو ابوبکر ٫ تم نے اس لڑکے کے سامنے میرا نام بھی لیا تو میں تم سے شدید ناراض ہوجائوں گی، سمجھے ؟” سختی سے اس کا بازو تھاما ٫ وہ تیزی سے سر ہلاگیا

” جی ۔۔۔جی “

وہ اس کا ہاتھ چھوڑتی آگے بڑھ گئ ٫ زہن میں دھماکے سے ہونے لگے

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

وہ اس کے بعد اگلے ایک ہفتے تک اسے کئ بار نظر آیا ٫ ان کے مدرسے کے باہر ٫ گھر کے باہر ٫ باغ میں ٫ اس نے اکیلے آنا جانا چھوڑ دیا ٫ ابوبکر اور مہر کے ساتھ ہی مدرسے آتی جاتی رہی ٫ اگلے ہفتے سے ویسے بھی امتحان شروع ہونے والے تھے تو کم از کم اس اذیت سے تو جان چھوٹ جاتی کہ وہ اس کے راستے میں آئے گا

” یہ لڑکے مزید کب تک رکیں گے ؟”

وہ ابا کیلئے پانی بھر کر برآمدے میں آئ تو اماں ابا سے پوچھ رہی تھیں

” دیکھیں ۔۔۔ان کا کام نہیں ہوپارہا اسی وجہ سے رکے ہوئے ہیں “

قرت پانی رکھ کر وہیں کتاب لے کر بیٹھ گئ ٫ دل دھک دھک کرنے لگا ٫اگر ابا جانتے ہوئے تو ؟

” مجھے تو صحیح نہیں لگ رہا “

” کیا صحیح نہیں لگ رہا سعدیہ بیگم ؟”

ناسمجھی سے انہیں دیکھا

” یہی لڑکے …اتنے دن کوئ کام کیسے ملتوی رہ سکتا ہے ؟” وہ ناگواری سے کہنے لگیں

“آپ ان کی مہمان نوازی سے تھک رہی ہیں ؟”

ابا مسکرائے

” استغفر اللہ ۔۔۔۔ میں کیوں تھکنے لگی ” وہ برا مان گئیں ” میں تو ویسے ہی کہہ رہی تھی ٫ اب آپ خود سوچیں اتنے دن سے یہاں ہیں کسی کام کا زکر بھی کیا آپ سے ؟”

” بھی ہوگا کوئ کام ٫ آپ جانتی ہیں مجھے تجسس پالنے کی عادت نہیں ہے “

” آپ کو بس خدمت خلق کی عادت ہے ٫ کچھ اتا پتا بھی ہے ان کا یا یونہی رکھا ہوا ہے مسجد میں ؟ کوئ چور ڈاکو نکل آئے تو ؟” قرت کا کتاب کھرچتا ہاتھ رکا ٫ اور اگر اماں کو پتا چل جائے کہ وہ یہاں کیوں آیا تھا ؟

” آپ بھی کمال کرتی ہیں ٫اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانے سے ہیں ٫ مہنگی گاڑی ہے ان کے پاس ٫ ایسی گاڑی لے کر وہ چوری کرنے تھوڑی آئیں گے ؟” وہ ہلکا سا ہنسے

“آپ بھی بات کو سمجھتے نہیں ہیں ٫ کل کلاں کو کوئ اونچ نیچ ہوگئ علاقے میں ان کی وجہ سے تو الزام تو ہم پر ہی آئے گا کہ ہمارے مہمان تھے “

” ہمارے نہیں اللہ کے گھر کے مہمان ہیں٫ ہم بس میزبانی کر رہے ہیں ٫ جس کے گھر رکے ہوئے ہیں وہی سب بہتر جانتا ہے آپ فکر مند نا ہوں “

” تھوڑی سی فکر آپ بھی کرلیں ٫ ابوبکر بتارہا تھا کہ دو تین دن پہلے یہیں باغ میں تھے وہ دونوں ٫ بچیاں آتی جاتی ہیں اس طرح مناسب نہیں لگتا “

انہیں جیسے ان دونوں کی وہاں موجودگی پر کئی اعتراضات تھے ٫ قرت کا سانس تھمنے لگا ٫ ابوبکر پہ شدید غصہ آیا یہ لڑکا کوئ بات راز نہیں رکھ سکتا تھا

” میں نے خود کہا تھا مالٹوں کا نیک بخت٫ دو چار ہی توڑے ہوں گے “

“مجھے اعتراض مالٹوں پر نہیں ان کی یہاں موجودگی پر ہے ٫ابوبکر کے ساتھ قرت بھی تھی ٫ وہ روز آتی جاتی ہے ٫ ایسے کیسے ان لڑکوں کو ہر جگہ آنے کی اجازت دے دیں “

اس کا چہرہ تاریک پڑا ٫ یوں لگا جیسے اب وہ راز عیاں ہونے کو ہے جس کا خوف اسے کئ دن سے لاحق ہے

” تم تھیں ابوبکر کے ساتھ ٫ کچھ کہا تو نہیں ان دونوں نے ؟”

ابا نے چونک کر براہ راست اسے مخاطب کیا تو وہ بمشکل نفی میں سر ہلا پائ ٫ کچھ کہنے کی فی الحال ہمت نہیں تھی

” تو کیا ہم انتظار کریں کہ وہ کچھ کہیں گے ؟ آپ بھی کمال کرتے ہیں “سعدیہ کو شدید ناراضگی نے آن گھیرا

” جب انہوں نے کچھ کہا ہی نہیں تو آپ ڈریں بھی مت ٫ شریف لڑکے ہیں ٫ میں نے خواہمخواہ تو اجازت نہیں دی نا ” ابا اٹھ کھڑے ہوئے تو اماں بھی ان کی تقلید میں اٹھیں

” باہر سے سب شریف ہی ہیں ٫ اندر کا حال کوئ نہیں جانتا ٫ بہتر ہے ان سے کہیں اپنا انتظام کہیں اور کرلیں ٫ کھانا ہم پہنچا دیا کریں گے ٫ مہمان کا رزق جتنا لکھا ہے وہ انہیں مل جائے گا لیکن میں ان کی یہاں موجودگی کے حق میں نہیں ہوں “

انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا تھا

“اچھا اچھا آپ فکر مت کریں ٫ میں کرتا ہوں بات ٫ اب چلوں دیر ہورہی ہے مجھے “

وہ بائک کی چابی اٹھاتے باہر کی طرف بڑھ گئے اور اماں کچن کی طرف

ایک وہی تھی جو ساکت سی بیٹھی رہ گئ ٫ دل تھما ہوا تھا ٫ بے بسی اور غصہ عود کر آرہا تھا ٫ اس سے پہلے کہ ابا کو عیسیٰ کی یہاں موجودگی کی وجہ کا علم ہوتا اسے یہ سب ختم کرنا ہوگا

کوئ فیصلہ تھا جو اس نے کیا تھا